|
|
||||||||||||
دین میں غلوکی ایک مثال ملاحظہ فرمائیے۔ایک صاحب جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے، بڑے متبع سنّت تھے، لیکن انہوں نے نادانستہ طور پر بائیں ہاتھ سے اشارہ کر دیا۔ سنّت تو دائیں ہاتھ سے اشارہ کرنا ہے۔ مگر ان سے نادانستہ غلطی ہو گئی۔ حاضرین میں سے ایک صاحب اس نادانستہ غلطی پر ناراض ہو کر یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ”خطیب صاحب خلاف سنّت کام کر رہے ہیں۔ ان کے پیچھے نماز جائز نہیں۔“ ایک اور مثال ملاحظہ ہو، اردو کے ایک ادیب اورشاعر ایک عالم دین کے پاس آئے۔ اتفاق سے ان کا پاجامہ ٹخنوں سے نیچے تھا۔ وہ عالمِ دین، ان کے قدموں کے قریب بیٹھ گئے اور ان کے پاجامے کو اپنے ہاتھ سے اونچا کرنے لگے۔ ادیب نے جب دیکھا کہ اتنے بڑے بزرگ اور عالم دین میرے قدموں میں بیٹھ کر یہ کام کر رہے ہیں تو وہ مارے شرم کے پانی پانی ہو گیا اور اس کے بعد وہ کبھی ان کی خدمت میں حاضر نہ ہوا۔ حکیمانہ طریقہ یہ تھا کہ محبت، خوش اخلاقی اور اچھے انداز سے اس کی توجہ اس طرف مبذول کرا دی جاتی۔ یہ بھی غلو کی ایک مثال ہے۔ انہی عالم دین کے غلو کی ایک اور مثال ملاحظہ فرمائیے۔ ملکی انتخابات کے زمانے میں ایک تاجر ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ ”میرا عزیز فلاں حلقے سے امیدوار ہے۔ تو کیا میں اس کی خاطر کنویسنگ کے لیے طوائفوں کے پاس جا سکتا ہوں؟ تاجر خود بھی بڑا متبع سنت تھا۔ اس نے یہ سوال کرنے کے بعد کہا: ”مولانا بات یہ ہے کہ میرے عزیز کے مقابلے میں جو امیدوار ہے وہ بڑا ہی فاسق و فاجر اور شراب و کباب کا رسیا ہے، اگر وہ کامیاب ہو گیا تو بڑی خرابی پیدا ہو جائے گی“ اس پر عالم دین نے جواب دیا تم طوائفوں کے پاس کنویسنگ کے لیے جا سکتے ہو۔ دیکھا آپ نے؟ وہاں پاجامہ ذرا ٹخنے سے نیچے دیکھا تو فوراً اپنے دستِ مبارک سے اونچا کر دیا اور یہاں طوائفوں کے گھر جانے کی اجازت دی جارہی ہے۔ ایک طرف اس قدر افراط اور دوسری طرف یہاں تک تفریط۔ جب تک افراط و تفریط کو ختم کرکے اعتدال کا راستہ اختیار نہ کیا جائے گا ، ہمارا معاشرہ صحیح معنوں میں اسلامی معاشرہ نہیں بن سکتا۔ اسی لیے قرآن مجید میں ارشاد ہو اکہ: لاَ تَغْلُواْ فِي دِينِكُمْ ”یعنی اپنے دین میں غلو مت کرو“ (از: ”دین میں غلو“ مؤلفہ عبد الغفار حسنؒ، ص 32 تا 34، 38 تا 39)
|
||||||||||||