
|
|
|
|
بسم اﷲ الرحمن الرحیم الحمد ﷲ والصلوۃ والسلام علی رسول اﷲ اَما بعد موحد معاشرہ نہ کہ ’تیسری دُنیا‘
”توحید“ اِس اُمت پر خدا کی بے پایاں نعمت ہے۔ کوئی اس کا اندازہ کر ہی نہیں سکتا۔ اس کا حق یہ ہے کہ اس سے خدا کا چہرہ پایا جائے۔ اس سے کمتر کوئی بات نہ صرف اس کے لائق نہیں بلکہ اس کے ساتھ ظلم ہے۔ خدا کی پناہ کہ آخرت سے کم کوئی چیز اس سے کبھی ہمارا مطمح نظر ہو۔ دُنیا کا کوئی عقلمند ایسا نہ ہو گا جو بھوسے کیلئے گندم کی کاشت گوارا کرے، باوجود اس حقیقت کے کہ گندم سے بھوسہ ’بھی‘ پیدا ہوتا ہے اور باوجود اس حقیقت کے کہ بھوسہ ایک ’ضرورت‘ کی چیز ہے! مگر کیا کریں ہمارے بہت سے اصحاب بلکہ کچھ دینی اور تحریکی حلقے تک اور ہمارے صحافی اور دانشور تو کثیر ایسے ہیں جن کی کل دلچسپی اس وقت ’بھوسے‘ سے ہے۔ اس کے علاوہ وہ کچھ سننے کیلئے تیار ہیں اور نہ کسی چیز پہ توجہ کرنے پر تیار۔ نبوتوں کا اصل موضوع، کتابوں کی اصل تاکید، صحیفوں کا اصل پیغام، زندگی کی اصل غایت، وجود کا اصل راز جو کچھ بھی ہے ان کی نگاہ میں قوم کی یہ اصل ضرورت فی الوقت نہیں بلکہ ان باتوں کے تذکرے ایک انداز کی عیاشی ہے۔ قوم کا یہ ’موضوع‘ بن جائے، ان کی سمجھ سے بالاتر ہے! دین کو مسیحائی دکھانی ہے تو قوم کی ’اصل ضرورت ‘ برلائے.... یعنی اس کو روٹی اور ترقی سے ہمکنار کرے! اس فرمائش کو درخور اعتنا جاننا ابتدائً ظلم عظیم ہے۔ ”توحید“ کی یہ فصل اگائی ہی آخرت کیلئے جاسکتی ہے۔ بے شک اس سے دُنیا کیلئے بھی وہ سب کچھ حاصل ہو جاتا ہے جس کی کہ دُنیا کی کسی آرزو مند ترین قوم کو کبھی ضرورت ہو سکتی، آخرت کا عنوان دئیے بغیر البتہ یہ فصل اُگ آنے کی نہیں۔ پھر بھی یہ بات اس امر کے ابلاغ واشاعت میں مانع نہیں کہ رسولوں کی دعوت کے اندر آخرت ہی نہیں دُنیا کی سب خیر بھی باقاعدہ طور پر رکھ دی گئی ہے خصوصاً اس امر کے ابلاغ میں کہ کسی وقت کی آسمانی اُمت کیلئے تو خیر کا ایک ہی دروازہ کھلا رکھا جاتا ہے، آخرت تو کیا دُنیا کی خیر کا بھی بس ایک ہی دروازہ.... جو کہ وہ صدا ہے جو انبیاءاس جہان میں اٹھاتے رہے ہیں یعنی خدائے وحدہ لاشریک کی جانب انسانی معاشروں کا یک رخ ویک سو ہو جانا اور اپنا چہرہ ایک اسی کو سونپ دینا اور انفرادی واجتماعی سطح پر اس کے سوا ہر کسی کی عبادت واطاعت سے بری وبیزار ہو جانا۔ چنانچہ آگے بڑھنے سے پہلے ہم نے ضروری جانا کہ اس باب کے اندر ہم عقیدہ کی اس مخفی قوت Potential کی جانب بھی کچھ اشارہ کردیں جس کی کہ ہمارے ’روٹی‘ اور ’ترقی‘ کے متلاشیوں کو طلب رہتی ہے اور وہ قوم کی ہمدردی کا اپنے ہاں بس یہی ایک معیار پاتے ہیں۔ علاوہ ازیں.... ان نقصانات کی جانب بھی کچھ اشارہ کر دیا جائے جو مقصد وجود کو ہمارے دانشور طبقوں کے ہاں معاشرے کا عام موضوع سخن نہ بنایا جانے کے باعث بطور قوم ہمیں لاحق ہوئے ہیں بلکہ جو دور رس طور پر ہماری ’روٹی‘ کے حق میں بھی اچھے ثابت نہیں ہوئے۔ اس سلسلہ کے آئندہ چند مضامین عمومی طور پر اس موضوع پر مرکوز رہیں گے۔
فصل اول ’سمت‘ کا بحران قوم کی ایک انمٹ پہچان ہونا اور قوم کو ایک متعین سمت ملی ہونا اس کی بنیادی ترین ضرورت ہے۔ اس سے بڑھ کر البتہ یہ ضروری ہے کہ ’پہچان‘ اور ’سمت‘ کے حوالے سے قوم کی زندگی میں جو کوئی عوامل ہوں وہ ایک دوسرے کی نفی نہ کر رہے ہوں۔ بصورت دیگر نہ صرف اس میں یکسوئی نہیں لائی جا سکتی بلکہ اس کے اپنے ہی عناصر ایک دوسرے کے خلاف برسرجنگ ہوں گے اور ایک دوسرے کو ختم کردینے کے درپے۔ اس کے درون میں ٹھوٹ پھوٹ کا ایک عمل پھر مسلسل جاری رہے گا۔ کوئی زمانہ تھا کہ دُنیا میں صرف ’قبیلے‘ پائے جاتے تھے۔ مگر جب سے ’قومیں‘ وجود میں آئی ہیں تب سے ’پہچان‘ اور ’ہستی‘ (entity) دُنیا کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ کوئی بہت زبردست قسم کا نسلی اشتراک قوم کو حاصل ہو تو اس کیلئے ’ہستی‘ کا مسئلہ آسان ہو جاتا ہے مگر اس کے وجود میں آنے کو صدیاں یا پھر ہزاروں سال درکار ہوتے ہیں۔ اس کے بعد ہی کہیں جا کر ’جاپان‘ وجود میں آتا ہے۔ ’چین‘ بنتا ہے۔ ’فرانس‘، ’جرمنی‘، ’اٹلی‘، ’روس‘ .... سب کے پیچھے صدیوں کا عمل کارفرما ہے۔ ’صدیوں کا نسلی اشتراک‘ کسی قوم کو حاصل نہ ہو یا یہ کہ نسلی اشتراک کو قوم کا مضبوط حوالہ نہ بنایا جا سکتا ہو یا یہ کہ چیلنج کچھ اس سے بڑا ہو تو یہ ضرورت اس کو پھر کسی اور چیز سے پوری کرنا ہوتی ہے۔ ’نظریاتی حوالہ‘ بھی کسی قوم کی یہ ضرورت پوری کر دیتا ہے۔ بلکہ یورپی اقوام جو دُنیا میں ایک آندھی کی طرح چھا گئیں محض نسلی تفاخر اور قومی جذبے کی بنا پر ایسا نہیں کر پائیں بلکہ یورپی اقوام کے نقشہءعالم پہ چھا جانے کے پیچھے دراصل وہ نظریاتی انقلاب تھا جو ان کے مفکروں اور دانشوروں نے ایک بڑی محنت اور قربانیوں کے بعد بلکہ ایک بڑی جنگ لڑ لینے کے بعد اپنے ہاں برپا کیا تھا۔ یہی معاملہ کمیونسٹ روس اور چین اور کچھ دیگر اقوام کا رہا۔ ہمارے مفکر اور دانشور البتہ ضرورت سے کچھ زیادہ خوش فہم واقع ہوئے ہیں! اپنے پاس نہ تو ”نسلی تفاخر“ ہے۔ ’سندھی‘ اور ’بلوچ‘کو آخر میں جا کر ’اسلام‘ ہی کا واسطہ دینا پڑتا ہے! نہ ہی ہم کسی ”نظریاتی انقلاب“ کا نتیجہ ہیں، نہ ہم اپنے ”جغرافیے“ کی پرستش کر سکیں اور نہ اپنی تاریخ کی۔ اپنا چند سالہ جغرافیہ ہم نے خود پیدا کیا اور یا پھر حالات نے۔ بطور قوم یہ ہمارا ’خالق‘ بہرحال نہیں۔ ’الہ‘ کے اندر ’پروردگاری‘ کی کچھ نہ کچھ صفت مانی جانا ضروری ہے۔ اس ’دھرتی‘ نے فی الحال ہمیں ’وجود‘ نہیں دیا۔ ’وجود‘ اسے ہمیں نے دیا ہے۔ لہٰذا اپنے جغرافیے میں تاحال اتنی جان نہیں کہ ہم اسے پوجنے لگیں۔ رہ گئی اپنی تاریخ تو اس میں جان ضرور ہے۔ بلکہ جتنی جان اپنی تاریخ میں ہے اتنی کسی قوم کی تاریخ میں ہے ہی نہیں۔ ’پہچان‘، ’حوالہ‘، ’سمت‘ اور ’ہستی‘ کا وہ بحران جو کسی قوم کا ایک بہت ہی بنیادی مسئلہ ہے یہاں سے بآسانی حل ہو سکتا ہے مگر اس تاریخ کو بھی، دوسری قوموں کی ریس میں، ہم پوج نہیں سکتے کیونکہ یہ ہم سے کسی اور ’ہستی‘ کی پوجا کرواتی ہے! وہ ”تاریخ“ جس پر ہمیں بجا طور پر فخر ہو سکتا ہے اور جس میں بطور قوم ہم اپنی جڑیں تلاش کر سکتے ہیں ’تاریخ اقوام‘ سے یکسر جدا ہے۔ اس میں جنگوں، لڑائیوں، ملکوں اور قوموں کا بھی ذکر آجاتا ہے مگر دراصل یہ ایک دین، ایک عقیدے اور ایک تہذیب کی تاریخ ہے۔ یہ تاریخ کا ایک منفرد ترین اور زوردار ترین ریلا تھا جس کی کچھ ٹھاٹھیں ہمارے بت پرست برصغیر کو بھی غرقاب کر گئیں اور ہمیشہ کیلئے اس کی صورت بدل ڈالی۔ اس تاریخ میں ہم اپنی وہ متاع گم گشتہ تو یقینا تلاش کر سکتے ہیں جس سے ہم زندگی کی رمق پائیں اور زمان نو میں اپنی صفیں ایک بھرپور ترتیب سے درست کرلیں مگر یہ اپنی فطرت اور مزاج میں ہماری اس ’پہچان‘ سے متصادم ہے جو پچھلی ایک صدی سے ہماری قومی قیادتیں ہمارے لئے تجویز کرتی آئی ہیں۔ ’دُنیا کی کسی بھی قوم کی طرح بس ایک قوم‘.... یہ حوالہ اس ’تاریخ‘ پر فٹ ہی نہیں بیٹھتا جو ہمارے لیئے ’پہچان‘ کا یہ بحران حل کر دے۔ اُس ’تاریخ‘ پر یہ ’پہچان‘ ایسے ہی ہے جیسے آپ شیر کو بکری کی کھال پہنا دیں۔ یہ تو بذات خود ایک ’بحران‘ ہوا! ’ہستی‘ اور ’پہچان‘ کے اس ادھیڑبن میں ہم نے ایک صدی پار کردی مگر ہمیں اپنے تضادات کا اندازہ بھی شاید مشکل ہو پایا ہو۔ ’جذبہ‘ جگانے کی جب بھی ضرورت پیش آئی ’لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ‘ کے سوا یہاں ہمیں کچھ بھی تو نہیں ملا! مگر ’نعروں‘ سے قومیں کیا کبھی چلی ہیں!؟ مسئلہ تو ’سمت‘ کا ہے اور ’پہچان‘ کا ہے اور ’ہستی‘ کا۔ قوم کی سمت اور پہچان اور ہستی میں ہی ’لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ‘ کو سمونے کی کہاں تک کوشش ہوئی ہے اور قوم کی تعمیر میں ہی ’لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ‘ کا مواد کہاں تک استعمال ہوا ہے حتی کہ قوم کے دانشوروں کا سرے سے یہ موضوع ہی کہاں تک بنا ہے اور تو اور سیاست اور سماج سے منسلک ہمارے دینی اصحاب کا بھی یہ ’لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ‘ کہاں تک ’موضوع‘ بن پایا، سوال تو اصل میں یہ ہے۔ ہماری قومی قیادتوں اور ہمارے دین گریز دانشوروں کو متعدد موقعوں پر یہ بھی سوجھتی رہی کہ اس قوم کے عقیدے اور اس کی تاریخ سے ایک ’بیگار‘ لیا جاتا رہے۔ اس میں زندگی کی جوت جگانے کیلئے، دشمن سے نمٹنے کیلئے، ملک بنانے اور ملک چلانے ایسے بعض بحرانوں سے گزرنے کیلئے وقتاً فوقتاً یہاں ’مذہبی جذبات‘ سے کام لیا جاتا رہا اور کسی سیکولر سے سیکولر قیادت نے بھی کبھی اس کو ’گناہ‘ نہیں جانا۔ بلکہ جتنا بڑا کوئی چیلنج آیا اتنا ہی کھلے دِل سے ’اسلام‘ کا استعمال ہوا۔ فَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ لِيَكْفُرُوا بِمَا آتَيْنَاهُمْ وَلِيَتَمَتَّعُوا فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ(1) آج کے کچھ سیکولر اب جا کر ضرور اپنے بڑوں کی اس غلطی کا اعتراف کرنے لگے ہیں اور اس کو اپنی قومی پہچان کی اس پیچیدگی کا سبب ماننے لگے ہیں۔ ان کے خیال میں لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ کا نعرہ یہاں کی قومی زندگی میں کتنا ہی نفع بخش کیوں نہ رہا ہو مگر یہاں کے قومی اہداف ومقاصد کے اندر ایک ایسی گنجلک پیدا کر گیا ہے کہ اس سے ’اِن‘ لوگوں کا ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے اور یہ کہ اس سے ’دین‘ کے حوالے سے لوگ یہاں کے نظام سے خواہ مخواہ کی کچھ ’خوش فہمیاں‘ وابستہ کر بیٹھے ہیں۔ مگر یہ بڑی حد تک ایک ایسے ’تماشائی کا تبصرہ‘ ہیں جو باہر ’نشست گاہ‘ سے ہی ’اکھاڑے‘ کے اندر پسینے میں شرابور کھلاڑی کو کچھ ’غلطیوں‘ کی نشاندہی کرکے دے سکتا ہے! اس بات کا جواب شاید یہ بہت مشکل سے دے پائیں کہ اس اتنی سی ’ہل جل‘ کیلئے بھی جو یہاں کی قومی زندگی میں کچھ دشوار مواقع پر ہو پائی ’لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ‘ کا سہارا نہ لیا جاتا تو آخر کس بات کا سہارا لیا جاتا؟ البتہ اس تناقض کی نشاندہی کر دینے پر ہم ان سیکولر حضرات کے شکر گزار ضرور ہیں۔ کسی کو تو یہ تناقض نظر آیا !!! ورنہ تو ابھی تک ہم اسی ابہام میں صدی بھر زمانہ پار کر آئے۔ یہ تناقض یا تو اِس پار کے لوگوں کو نظر آئے گا یا اُس پار کے لوگوں کو۔ بیچ والوں کی نظر سے روپوش رہے گا۔ یا تو ایک نظریاتی سیکولر اس کا تعین کر پائے گا یا ایک صحیح موحد۔ بیچ والے چاہیں تو ابھی اور ایک صدی اسی ابہام اور غموض میں گزار سکتے ہیں جس کی اسلام پسند لوگ اپنے انداز سے تفسیر کر لیا کریں اور اسلام گریز لوگ اپنے انداز سے۔ چلتے اس نظام مشقت وبار برداری کے اندر البتہ دونوں رہیں! اس اونٹ کو کسی کروٹ بیٹھنا ہوگا۔ ہمارے حق میں یا ان کے حق میں، اس تناقض کو آخر تو دور ہونا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہر دو صورت یہ ہمارے ہی حق میں ہے۔ حق اور باطل کا ملغوبہ بنا رہنا حق کے کبھی حق میں نہیں رہا۔ باطل کا عریاں ہو جانا، خصوصاً ایک مسلم معاشرے میں، حق کے نقطہءنگاہ سے ایک بڑی پیشرفت ہے۔ البتہ جو لوگ کسی قوم کی زندگی میں یکسوئی اور دلجمعی کی اہمیت سے واقف ہیں ان کو چاہیے کہ اس قوم کی زندگی کے کچھ اہم ترین سوالوں پر یوں مٹی نہ ڈالتے جائیں۔ یہ ہرگز اس قوم کی خیر خواہی نہیں۔ ان پر لازم ہے کہ وہ اس گنجلک کا عرصہ دراز نہ ہونے دیں۔ یکسوئی اور یکجہتی حاصل ہوئے بغیر قومیں کیا کبھی پنپ سکی ہیں؟۔ ’ہستی‘ اور ’پہچان‘ کا کوئی زبردست حوالہ نہ پایا جانا بھی قوم کے حق میں ضرور ایک بحران ہو سکتا ہے مگر اس سے بڑا بحران یہ ہے کہ ہستی (Entity) کے حوالے سے اس کے یہاں پائے جانے والے عوامل ہی اپنی فطرت اور مزاج میں ایک دوسرے سے متصادم ہوں۔ پروں کے مابین ہم آہنگی آنے کی راہ میں کوئی بڑی رکاوٹ ہو تو پرواز نہیں ہو سکتی اور دوران پرواز حادثہ تو جان لیوا ہو سکتا ہے۔ بنیادی عناصر کا یہ اصل تعارض قوم کے حق میں ناقابل اندازہ نقصان کا باعث ہوگا اور اس کا وجود کبھی بھی اس ’جہان نو‘ میں کسی بھاری بھر کم حرکت کا متحمل نہ ہوگا۔ معاملہ تھوڑا سا آگے بڑھتا دکھائی دے گا تو بہت سا پیچھے جاتا نظر آئے گا۔ کبھی ’امیدیں‘ لگنے لگیں گی تو کچھ دیر بعد ’مایوسیاں‘ آگھیریں گی۔ ایک طویل المیعاد مہم عملاً خارج از سوال رہے گی جب تک ’سمت‘ کے معاملہ میں قومی زندگی کے اندر ایک سے زائد رائے پائی جانا خارج از سوال نہ کردیا جائے۔ ہمارے دانشور کیا اس حقیقت پر ذرا غور فرمائیں گے؟ جذبہ ’اسلام‘ سے لیا جائے اور سمت ’غیر اسلام‘ سے! وجود کے وجہ جواز Justification کیلئے ہندو اور مسلمان کے ’فرق‘ کی نشاندہی ضروری ہو اور پھر ’جہت‘ کے معاملے میں اسی ’فرق‘ کو مٹا دینا یا ممکنہ حد تک غیر مرئی کر دینا! اپنی پیدائش کا حوالہ ’دین‘ میں پانا اور دین بھی وہ جو دین توحید ہے اور خاتم المرسلین کی منفرد ترین شریعت۔ مگر معاشرتی رخ کیلئے پھر اسی چیز پر مرنا جو دُنیا کی کسی بھی قوم کیلئے حوالہ بن سکتی ہے.... یہ آپ کا اصل مخمصہ ہے۔ اس سے نکلنے کی کوئی صورت جب تک آپ نہیں پاتے تب تک آپ کا یہ بحران جوں کا توں برقرار ہے گا۔ وہ دور جس میں زمانہ ’قیامت کی چال‘ چل گیا ہو کوئی قوم کیا عشروں اور صدیوں کے حساب سے وقت ضائع کرنے کی متحمل ہے؟ ******* ’بائبل‘ میں ضرور کوئی ایسی بات ہو سکتی ہے کہ یہ قوم کی اجتماعی سمت سے بے دخل کر دی جائے تو بھی قوم اور ’بائبل‘ کا ساتھ نبھا رہے اور کسی بڑے ’تعارض‘ کا سوال نہ اٹھے۔ مگر قرآن کتاب محکم ہے۔ اس میں خدا نے کئی سارے قفل ایسے لگا دیئے ہیں کہ باطل یہاں راہ نہیں پاتا لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ(2) اس کی بڑی سیدھی سیدھی باتیں ہیں اور بڑی ہی دو ٹوک، جو کسی ادنی ترین سمجھ رکھنے والے سے بھی اوجھل نہیں رہتیں: وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ (المائدۃ: 44) ”اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں“۔ (ترجمہ تفہیم لقرآن) أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُواْ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُواْ إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُواْ أَن يَكْفُرُواْ بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلاَلاً بَعِيدًا (النساء: 60) ”اے نبی، تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو دعوی تو کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اس کتاب پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور ان کتابوں پر جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں مگر چاہتے یہ ہیں کہ اپنے معاملات کا فیصلہ کرانے کیلئے طاغوت کی طرف رجوع کریں، حالانکہ انہیں طاغوت سے کفر کرنے کا حکم دیا گیا تھا .... شیطان انہیں بھٹکا کر راہ راست سے بہت دور لے جانا چاہتا ہے۔ (تفہیم) وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلاَّ لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللّهِ (النساء: 64) ”ہم نے ہر ہر رسول کو صرف اسی لئے بھیجا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی فرمانبرداری کی جائے“۔ (ترجمہ جونا گڑھی) فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّىَ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُواْ فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسْلِيمًا (النساء: 65) ”نہیں اے محمد، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سربسر تسلیم کرلیں“۔ (تفہیم) أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللّهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ (المائدۃ: 50) ”تو کیا پھر یہ جاہلیت کا فیصلہ وقانون چاہتے ہیں؟ اللہ پر یقین رکھنے والوں کیلئے تو اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا بھلا کون ہو سکتا ہے؟ وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلاَمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ كَيْفَ يَهْدِي اللّهُ قَوْمًا كَفَرُواْ بَعْدَ إِيمَانِهِمْ وَشَهِدُواْ أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ وَجَاءهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَاللّهُ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ (آل عمران: 86، 85) ”اور اسلام کے سوا جو شخص کوئی طریقہءبندگی وطرز زندگی اختیار کرنا چاہے تو اس سے وہ ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں وہ ناکام ونامراد رہے گا۔ ”کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ ان لوگوں کو ہدایت بخشے جنہوں نے نعمت ایمان پالینے کے بعد پر کفر اختیار کیا جبکہ وہ خود اس بات پر گواہی دے چکے ہیں کہ رسول سچا ہے اور ان کے پاس روشن نشانیاں بھی آچکی ہیں۔ اللہ ظالموں کو تو ہدایت نہیں دیا کرتا“۔ قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَسْتُمْ عَلَى شَيْءٍ حَتَّىَ تُقِيمُواْ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِيلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًا مِّنْهُم مَّا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَكُفْرًا فَلاَ تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ(المائدۃ:68) ”صاف کہہ دو کہ ”اے اہل کتاب، تم ہرگز کسی اصل پر نہیں ہو جب تک کہ توراۃ اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم نہ کرو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہیں“۔ (تفہیم) لَقَدْ أَنزَلْنَا آيَاتٍ مُّبَيِّنَاتٍ وَاللَّهُ يَهْدِي مَن يَشَاء إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ --- وَيَقُولُونَ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالرَّسُولِ وَأَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِّنْهُم مِّن بَعْدِ ذَلِكَ وَمَا أُوْلَئِكَ بِالْمُؤْمِنِينَ---وَإِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُم مُّعْرِضُونَ---وَإِن يَكُن لَّهُمُ الْحَقُّ يَأْتُوا إِلَيْهِ مُذْعِنِينَ---أَفِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ أَمِ ارْتَابُوا أَمْ يَخَافُونَ أَن يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَرَسُولُهُ بَلْ أُوْلَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ---إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَن يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ---وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّقْهِ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ (النور: 52۔ 46) ہم نے صاف صاف حقیقت بتانے والی آیات نازل کر دی ہیں۔ آگے صراط مستقیم کی طرف ہدات اللہ ہی جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ اور رسول پر اور ہم نے اطاعت قبول کی، مگر اس کے بعد ان میں سے ایک گروہ (اطاعت سے) منہ موڑ جاتا ہے۔ ایسے لوگ ہرگز مومن نہیں ہوسکتے۔ جب ان کو بلایا جاتا ہے اللہ اور رسول کی طرف، تاکہ رسول ان کے آپس کے معاملوں کا فیصلہ کرے تو ان میں سے ایک فریق کترا جاتا ہے۔ البتہ اگر حق ان کی موافقت میں ہو تو رسول کے پاس برائے اطاعت کیش بن کر آجاتے ہیں۔ کیا ان کے دِلوں کو روگ لگا ہوا ہے؟ یا ان کا یقین اٹھ گیا ہے؟ یا ان کو یہ خوف ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان پر ظلم کرے گا؟ اصل بات یہ ہے کہ ظالم تو یہ لوگ خود ہیں۔ ایمان لانے والوں کا کام تو یہ ہے کہ جب وہ اللہ اور رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ رسول ان کے معاملات کا فیصلہ کرے تو وہ کہیں ہم نے سنا اور مان لیا۔ ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کریں، اللہ کا خوف کریں اور اس کے عذابوں سے ڈرتے رہیں، کامیاب رہنے والے وہی ہیں۔ إِنِ الْحُكْمُ إِلاَّ لِلّهِ أَمَرَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّاهُ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ(یوسف: 40) ”فرمانروائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کیلئے نہیں ہے۔ اس کا حکم ہے خود اس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو۔ یہی ٹھیٹھ سیدھا طریق زندگی ہے، مگر اکثر لوگ جانتے ہی نہیں“۔ (تفہیم) إِنَّ اللّهَ لاَ يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَن يَشَاء وَمَن يُشْرِكْ بِاللّهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا(النساء: 48) ”یقینا اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہیں بخش دیتا ہے اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرے اس نے بہت بڑا گناہ اور بہتان باندھا“۔ وَلَن تَرْضَى عَنكَ الْيَهُودُ وَلاَ النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ قُلْ إِنَّ هُدَى اللّهِ هُوَ الْهُدَى وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءهُم بَعْدَ الَّذِي جَاءكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللّهِ مِن وَلِيٍّ وَلاَ نَصِيرٍ---الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلاَوَتِهِ أُوْلَـئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَمن يَكْفُرْ بِهِ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ (البقرہ: 121، 120) ”یہودی اور عیسائی تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو۔ صاف کہہ دو کہ بس راستہ وہی ہے جو اللہ نے بتایا ہے۔ ورنہ اگر اس علم کے بعد، جو تمہارے پاس آچکا ہے، تم نے ان کی خواہشات کی پیروی کی، تو اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی دوست اور مدد گار تمہارے لئے نہیں ہے۔ جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اسے اس طرح پڑھتے ہیں جس طرح کہ پڑھنے کا حق ہے۔ وہ اس (قرآن) پر سچے دِل سے ایمان لے آتے ہیں اور جو اس کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کریں، وہی اصل میں نقصان اٹھانے والے ہیں“۔ (تفہیم) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوَاْ إِن تُطِيعُواْ فَرِيقًا مِّنَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ يَرُدُّوكُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ كَافِرِينَ --- وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ وَأَنتُمْ تُتْلَى عَلَيْكُمْ آيَاتُ اللّهِ وَفِيكُمْ رَسُولُهُ وَمَن يَعْتَصِم بِاللّهِ فَقَدْ هُدِيَ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (آل عمران:101-100) ”اے ایمان والو! اگر تم اہل کتاب کی کسی جماعت کی باتیں مانو گے تو وہ تمہیں تمہارے ایمان لانے کے بعد مرتد کافر بنا دیں گے (گو یہ ظاہر ہے کہ) تم کیسے کفر کر سکتے ہو؟ باوجودیکہ تم پر اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھی جاتی ہیں اور تم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں۔ جو شخص اللہ تعالیٰ (کے دین) کو مضبوط تھام لے تو بلاشبہ اسے راہ راست دکھا دی گئی“۔ (جونا گڑھی) أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا ---إِنَّ الَّذِينَ ارْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِهِم مِّن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَى الشَّيْطَانُ سَوَّلَ لَهُمْ وَأَمْلَى لَهُمْ---ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لِلَّذِينَ كَرِهُوا مَا نَزَّلَ اللَّهُ سَنُطِيعُكُمْ فِي بَعْضِ الْأَمْرِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِسْرَارَهُمْ---فَكَيْفَ إِذَا تَوَفَّتْهُمْ الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ---ذَلِكَ بِأَنَّهُمُ اتَّبَعُوا مَا أَسْخَطَ اللَّهَ وَكَرِهُوا رِضْوَانَهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ (محمد 28-24) کیا ان لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا، یا دِلوں پر ان کے قفل چڑھے ہوئے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہدایت واضح ہو جانے کے بعد اس سے پھر گئے ان کیلئے شیطان نے اس روش کو سہل بنا دیا ہے اور جھوٹی توقعات کا سلسلہ ان کیلئے دراز کر رکھا ہے ”اسی لئے انہوں نے اللہ کے نازل کردہ دین کو ناپسند کرنے والوں سے کہہ دیا کہ بعض معاملات میں ہم تمہاری مانیں گے۔ اللہ ان کی یہ خفیہ باتیں خوب جانتا ہے۔ ”پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی روحیں قبض کریں گے اور ان کے منہ اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے انہیں لے جائیں گے؟ یہ اسی لئے تو ہوگا کہ انہوں نے اس طریقے کی پیروی کی جو اللہ کو ناراض کرنے والا ہے اور اس کی رضا کا راستہ اختیار کرنا پسند نہ کیا۔ اسی بنا پراس نے ان کے سب اعمال ضائع کردیئے۔ (تفہیم) الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا (المائدۃ: 3) آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کردیا ہے اور اپنی نعمت تم پر ظاہر کردی ہے اور اسلام ہی کو بطور طریق بندگی و زندگی تمہارے لئے پسندیدہ ٹھہرا لیا ہے۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ ادْخُلُواْ فِي السِّلْمِ كَآفَّةً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ(البقرۃ: 208) ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں کی تابعداری نہ کرو۔ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔اگر تم باوجود تمہارے پاس دلیلیں آجانے کے بھی پھسل جاؤ تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ غلبہ والا اور حکمت والا ہے۔ (جونا گڑھی) أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ فَمَا جَزَاء مَن يَفْعَلُ ذَلِكَ مِنكُمْ إِلاَّ خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا(البقرۃ:85) ”تو کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو؟ پھر تم میں سے جو لوگ ایسا کریں، ان کی سزا اس کے سوا کیا ہے کہ دُنیا کی زندگی میں ذلیل وخوار ہو کر رہیں.... (تفہیم) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الَّذِينَ اتَّخَذُواْ دِينَكُمْ هُزُوًا وَلَعِبًا مِّنَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ أَوْلِيَاء وَاتَّقُواْ اللّهَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ (المائدۃ: 57) ”مسلمانو! ان لوگوں کو دوست نہ بناؤ جو تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنائے ہوئے ہیں (خواہ) وہ ان میں سے ہوں جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے یا کفار ہوں۔ اگر تم مومن ہو تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو“۔ (جونا گڑھی)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ مَن يَرْتَدَّ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَلاَ يَخَافُونَ لَوْمَةَ لآئِمٍ ذَلِكَ فَضْلُ اللّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاء وَاللّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ---إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ---وَمَن يَتَوَلَّ اللّهَ وَرَسُولَهُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ فَإِنَّ حِزْبَ اللّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ (المائدۃ:56-54) ”اے ایمان والو! تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ تعالیٰ بہت جلد ایسی قوم کو لائے گا جو اللہ کی محبوب ہوگی اور وہ بھی اللہ سے محبت رکھتی ہوگی۔ وہ نرم دل ہوں گے مسلمانوں پر اور سخت اور تیز ہوں گے کفار پر، اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ بھی نہ کریں گے۔ یہ ہے اللہ تعالیٰ کا فضل جسے چاہے دے، اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا اور زبردست علم والا ہے۔ (مسلمانو!) تمہارا دوست خود اللہ ہے اور اس کا رسول ہے اور ایمان والے ہیں جو نمازوں کی پابندی کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور رکوع (خشوع وخضوع) کرنے والے ہیں۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے اور مسلمانوں سے دوستی کرے۔ وہ یقین مانے کہ اللہ تعالیٰ کی جماعت ہی غالب رہے گی“۔ لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءهُمْ أَوْ أَبْنَاءهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُوْلَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُوْلَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (المجادلۃ: 22) ”تم کبھی یہ نہ پاؤ گے کہ جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہوں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے، خواہ وہ ان کے باپ ہوں، یا ان کے بیٹے، یا ان کے بھائی یا ان کے اہل خاندان۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دِلوں میں اللہ نے ایمان ثبت کردیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح عطا کرکے ان کو قوت بخشی ہے۔ وہ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ وہ اللہ کی پارٹی کے لوگ ہیں۔ خبردار رہو اللہ کی پارٹی والے ہی فلاح پانے والے ہیں۔ (تفہیم) بَشِّرِ الْمُنَافِقِينَ بِأَنَّ لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا---الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاء مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَيَبْتَغُونَ عِندَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ العِزَّةَ لِلّهِ جَمِيعًا---وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللّهِ يُكَفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلاَ تَقْعُدُواْ مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُواْ فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِّثْلُهُمْ إِنَّ اللّهَ جَامِعُ الْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا (النساع: 140-138) ”اور جو منافق اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق بناتے ہیں انہیں یہ مژدہ سنا دو کہ ان کیلئے دردناک سزا تیار ہے۔ کیا یہ لوگ عزت کی طلب میں ان کے پاس جاتے ہیں؟ حالانکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کیلئے ہے۔ اللہ اس کتاب میں تم کو پہلے ہی حکم دے چکا ہے کہ جہاں تم سنو کہ اللہ کی آیات کے خلاف کفر بکا جارہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہاں نہ بیٹھو جب تک کہ لوگ کسی دوسری بات میں نہ لگ جائیں۔ اب اگر تم ایسا کرتے ہو تو تم بھی انہی کی طرح ہو۔ یقین جانو کہ اللہ منافقوں اور کافروں کو جہنم میں ایک جگہ جمع کرنے والا ہے“۔ (تفہیم) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاء مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَتُرِيدُونَ أَن تَجْعَلُواْ لِلّهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا مُّبِينًا(النساء: 144) ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق نہ بناؤ۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ کو اپنے خلاف صریح حجت دے دو؟“ (تفہیم) وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلّه (الانفال: 39) ”اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورا کا پورا اللہ کیلئے ہو جائے“۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الأَمْرِ مِنكُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً (النساع: 59) ”اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اور تم میں سے اختیار والو کی۔ پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دِن پر اعتماد ہے۔ یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے“۔ (جونا گڑھی) وَمِنَ النَّاسِ مَن يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَى حَرْفٍ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ اطْمَأَنَّ بِهِ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انقَلَبَ عَلَى وَجْهِهِ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ ذَلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ (الحج: 11) ”بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ ایک کنارے پر (کھڑے) ہو کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ اگر کوئی نفع مل گیا تو دلچسپی لینے لگتے ہیں اور اگر کوئی آفت آگئی تو اسی وقت منہ پھیر لیتے ہیں، انہوں نے دونوں جہان کا نقصان اٹھا لیا۔ واقعی یہ کھلا نقصان ہے“۔ (جونا گڑھی) وَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ آمَنَّا بِاللّهِ وَبِالْيَوْمِ الآخِرِ وَمَا هُم بِمُؤْمِنِينَ---يُخَادِعُونَ اللّهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلاَّ أَنفُسَهُم وَمَا يَشْعُرُونَ (البقرۃ:10-8) ”بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دِن پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن درحقیقت وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ ”وہ اللہ تعالیٰ کو اور ایمان والوں کو دھوکہ دیتے ہیں، لیکن دراصل وہ خود اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں، مگر سمجھتے نہیں۔”ان کے دِلوں میں بیماری تھی اللہ تعالیٰ نے انہیں بیماری میں مزید بڑھا دیا اور ان کے جھوٹ کی وجہ سے ان کیلئے دردناک عذاب ہے“۔ (جونا گڑھی)
کیا ایسی بول بول کر حق بتانے والی کتاب کو ’رسومات‘ تک محدود رکھا جا سکتا ہے؟ کتنا بھی اس کو آپ ریڈیو اور ٹی وی تک محدود رکھیں جلد یا بدیر اس کی ’تلاوت‘ آپ کو مہنگی پڑ کر رہتی ہے۔ اس کی قیمت ادا کئے بغیر چارہ نہیں رہتا۔ اس کو ’مقدس‘ مان کر آپ پھنس جاتے ہیں اور آخرکار یہ آپ کو گھیر لیتی ہے۔ آپ اس کے حصار میں آکر رہتے ہیں۔ اس سے ’جان چھڑانے‘ کا ایک ہی طریقہ ہے۔ اس کو ’رسماً‘ بھی مقدس مت مانیے۔ اس کو سچا ماننے سے ہی گریز کیجئے۔ ’مذہب‘ کا شوق ہے ہی تو وہ کسی اور ’دھرم‘ سے پورا کرلیجئے جس کی ’کتاب‘ میں آپ کے اختیار کردہ شرک اور عصیاں کیلئے یوں جگہ جگہ وعیدیں نہ لکھی ہوں اور جس میں آپ کے ہر انحراف کو طشت از بام نہ کر دیا گیا ہو! اس کتاب نے تو کوئی بات چھوڑی ہے اور نہ غیر واضح رہنے دی ہے۔ اس میں باطل کا چلن ہو جانے کے سب راستے مسدود کر دیئے گئے ہیں۔ ہر وہ شخص جو اس کے ساتھ ہاتھ کرنا چاہے، بے شک کچھ دیر وہ اپنے لیئے راستہ کھلا پائے مگر بالآخر اس کے اپنے ہی ساتھ ’ہاتھ‘ ہو جاتا ہے۔ اس کی گرفت میں آنے سے کوئی شخص نہیں بچتا، سوائے یہ کہ اس کی گرفت میں آنے سے آدمی اس لئے ڈرے کہ اس کو خدا کا ڈر ہو۔ یہ کتاب اپنے ساتھ مذاق ہونے ہی نہیں دیتی۔ اس کے ساتھ کفر بھی کریں تو سنجیدہ ہو کر اور نتائج ومضمرات سے آگاہ رہتے ہوئے! دُنیا کے اند راس وقت صرف ایک ہی تو کتاب ہے جس کو مسترد کرکے آدمی خدا کا کافر ہو! ایک ہی تو دین ہے جس میں فریق معاملہ براہ راست خدا کی ذات ہے! مغرب کے اندر نظام وقانون اور تہذیب وثقافت کے باب میں انسانوں کی ربوبیت قبول کر لی گئی بغیر اس کے کہ بائبل کے ساتھ ’کفر‘ لازم آئے یا ہندوؤں اور بدھوں کو کچھ اسی انداز کی ’سہولت‘ میسر ہے تو یہ کچھ انہونی بات نہیں۔ مگر قرآن کو ’مان‘ کر آپ ایسی ’سہولت‘ سے یکسر محروم ہو جاتے ہیں۔ ہماری قومی قیادتوں کی خوش قسمتی یا بدقسمتی کہ ان کو جس کتاب سے واسطہ پڑا وہ تورات اور انجیل کے برعکس نہ تو منسوخ ہے اور نہ تحریف شدہ اور نہ مبہم! یہ انسانوں سے خدا کا براہ راست، شدید واضح اور عین وقت کا تقاضا ہے! ہماری ان قیادتوں کو جس شریعت سے سابقہ پڑا یہ خدائے علیم وخبیر مالک ارض و سماءکی وہ شریعت ہے جس کی میعاد ابھی پوری طرح باقی ہے اور جس کے ساتھ معاملہ کرنا براہِ راست خدا کے ساتھ معاملہ کرنا ہے! ’بڑی طاقتوں‘ کے ساتھ معاملہ کرنے کی نزاکتوں سے واقف لوگ کیا خدا کے ساتھ معاملہ کرنے میں بھی ’محتاط‘ رہنا ضروری سمجھیں گے!؟ یہ کتاب مہیمن ہے۔ چھا کر رہتی ہے اور چڑھ کر بولتی ہے۔ یہ فرمانروائے ہستی کا وہ قانون ہے جو اس نے عین ہمارے اس وقت کیلئے اور حرفاً حرفاً لاگو کررکھا ہے۔ اس کو ہٹانے یا حاشیائی کردینے والوں کے ساتھ خدا کا برتاؤ ہرگز ویسا نہ ہوگا جیسا وہ ’بائبل‘ کو ہٹانے اور یا حاشیائی کر دینے والوں کے ساتھ کرے گا کیونکہ ’بائبل‘ اس زمانے کیلئے نہ تو اس کا قانون ہے اور نہ وقت کے انسان سے اس کا اپنا تقاضا۔ کچھ شک ہے تو اسی بات کی توثیق کر لیجئے اور یہ توثیق کرنا آپ کا حق ہے کہ کیا اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کتاب دے کر اس دور کیلئے مبعوث کیا ہے یا نہیں؟ تحفظات‘ کا جتنا بھی اظہار ضروری ہو بس یہیں پر کرلیجئے! پس یہ ایک ایسی واضح کتاب ہے اور خدا کا ایسا صاف صاف تقاضا کہ اس کو رسمی اور سرسری انداز میں بھی اگر آپ ’مان‘ لیتے ہیں تو اس کے گھیرے میں پھر آپ خودبخود آجاتے ہیں۔ یا تو آپ اس کے ساتھ سچے رہیں بصورت دیگر یہ آپ کو جھوٹا ثابت کرکے رہے گی۔ تصور کیجئے جس کتاب کو آپ ’سچ‘ مان رہے ہوں وہ کتاب بے انتہا واضح لفظوں میں آپ کو ’جھوٹا‘ کہہ رہی ہو! تصور کیجئے ایک ایسی کتاب پر ’ایمان‘ ظاہر کرنا آپ کی ’سماجی مجبوری‘ ہو جو پیر پیر پر اور برہنہ لفظوں میں آپ کو جھوٹا قرار دیتی ہو! کیا آپ یقین کریں گے کہ تقریبات‘ کے اندر ’رسماً‘ پڑھا جانے والا بظاہر ’بے ضرر‘ قرآن ان لوگوں کو کس قدر مہنگا پڑنے والا ہے!؟ کیا یہ ممکن ہے کہ مطالب قرآن کی کوئی بات لوگوں کے کان میں پڑے ہی نہ!؟
******* یہ ہے وہ اصل تناقض جو پھر اس مخمصے کا سبب بنتا ہے جس میں بطور قوم آپ ایک عرصے سے گرفتار ہیں.... یہ بحثیں جو آپ کو روز چھیڑ لینا پڑتی ہیں اس مخمصے میں گرفتار رہ کر آپ کو قیامت تک کرنا پڑیں گی اور پہنچیں گے پھر بھی آپ کہیں نہیں! اس کتاب کو جتنی بار آپ ’مسجد‘ میں محصور کرکے اپنے تئیں فارغ البال سمجھیں گے یہ کتاب اتنی ہی بار آپ کے ساتھ ’ایوان‘ میں پہنچے گی۔ کیونکہ جتنی یہ مسجد کیلئے ہے اتنی ہی یہ ’ایوان‘ کیلئے ہے۔ اب یہ آپ پر ہے کہ یہ مشقت بے ثمر آپ کتنی دیر کرنا چاہیں گے! وہ ’فرق‘ جو ہندو اور مسلمان کے مابین دیوار اٹھانے کیلئے ایک بار آپ نے تسلیم کیا تھا، چاہے لاکھ آپ یہ کہیں کہ وہ ایک سماجی معنی میں تھا نہ کہ سچ مچ کسی نظریاتی معنی میں، وہ ’فرق‘ اب آپ کے پاؤں کی زنجیر ہے تاآنکہ واقعتاً آپ اس کو خدا کی مدد کا ذریعہ نہیں بنا لیتے اور تاآنکہ آپ اس کو سچ مچ اختیار نہیں کر لیتے! خدا کے ساتھ ہاتھ کون کر سکتا ہے؟ اس ملک کی تقدیر ان شاءاللہ اب اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہاں کی مساجد ہی نہیں یہاں کے ایوان، یہاں کی مادر ہائے علمی اور یہاں کی تہذیب بھی ایک خدائے مالک الملک ہی کو روز سجدہ کیا کرے اور اس ’سجدے‘ میں قرآن کے بیان کردہ سب آداب ملحوظ رہیں۔ یہ تناقض جو آپ چھیڑ بیٹھے ہیں اسی ’سجدہ‘ کردینے پہ ختم ہو گا۔ اس سے بڑے عرصے تک آپ گریز کر ہی نہیں سکتے۔ دیر ہے تو اس اسی ’سجدے‘ کی۔ جونہی اس کا فیصلہ ہو جاتا ہے برصغیر میں تاریخ کا وہ عمل جو کچھ صدیوں سے رک گیا ہے پھر سے جاری وساری ہو جائے گا۔ تاریخ کے وہ خوبصورت موڑ پھر آنے لگیں گے جن کا تذکرہ مورخین ماضی کے کچھ ناقابل یقین و ناقابل اعادہ واقعات کے طور پر ہی کرنے کے عادی ہو گئے ہیں اور جن کو پڑھ کر دُنیا مبہوت رہ جاتی ہے کہ آخر فرق کیا آگیا ہے جو مٹھی بھر مسلمان پورے ہند کو صدیوں دارالاسلام بنا کر رکھ سکے تھے تو آج کروڑوں مسلمان ایک چھوٹے سے خطے کو بھی اسلام کی قلمرو بنانے سے عاجز ہیں بلکہ تو اس ’چھوٹے سے خطے‘ کو سنبھالنے سے ہی بڑی حد تک قاصر!؟
******* مختصراً، ہمارے پاس واضح کرنے کیلئے اس حوالے سے تین باتیں ہیں: پہلی بات: قوم کو سمت دینے کا جو معاملہ ہے اس کی تہہ میں پائے جانے والے عوامل کے اندر یکسوئی لانے کی ضرورت۔ حق یہ ہے کہ اس معاملہ کو یہاں کے ’آزاد خیال‘ ہی نہیں ’اسلام پسند‘ بھی ایک بہت ہی سطحی نظر سے دیکھ پاتے ہیں۔ الا من شاءربک قوم کو ایک ’سمت‘ اور ’پہچان‘ ملنا جس بات کا طبعی نتیجہ ہو سکتا ہے وہ ہے قوم کی ’تعمیر‘۔ بغور دیکھیں تو ’قوم کی تعمیر‘ یہاں کسی کا مسئلہ نہیں۔ پچھلی ڈیڑھ صدی سے آپ یہاں جو چیز دیکھ رہے ہیں مجموعی طور پر وہ ایک خود رو فصل ہے اور آپ اسی کی سیاست، معیشت اور دفاع وغیرہ سے وابستہ ہو رہنا کل کام سمجھتے ہیں۔ اس کی سیاست اور معیشت اور دفاع وغیرہ ایسے مسائل وقتی طو رپر بھی موقوف نہیں ٹھہرائے جا سکتے اور نہ ہم اس بات کے داعی ہیں البتہ اصل، بنیادی اور دور رس کام کوئی ہو سکتا ہے تو وہ یہ کہ یہاں دستیاب ’انسانی زمین‘ کے زیادہ سے زیادہ حصوں پر خصوصاً اس کے زرخیز تر حصوں پر ایک ’خود رو‘ کی بجائے ایک ’‘خود کاشت‘ فصل اگائی جائے۔ اگر یہ طے ہو جاتا ہے تو اس کام کا ابتدائی مرحلہ آپ سے آپ یہ ٹھہرے گا کہ وہ جھاڑ جھنکاڑ بھی جو عرصہءدراز تک ایک منظم کاشت کا کا م نظرانداز کیا رہنے کے باعث یہاں ہر طرف پھیل چکا ہے کوئی ترس کھائے بغیر اکھاڑ پھینکا جائے اور وہ زہریلی بوٹیاں تو اس مہم کے دوران خاص طور پر تلف کر دی جائیں جس کے بیج یہاں دشمن کے ہاتھوں بوئے گئے یا ابھی تک بوئے جا رہے ہیں۔ اس کے بعد پھر یہ سوال آئے گا کہ زمین میں ’بیج‘ کیا ڈالا جائے؟ دُنیا کا صالح ترین بیج رکھنے والی قوم کا اس سوال پر پریشان ہونا بنتا ہی نہیں۔ پھر بھی بیج کا تعین ایک بنیادی سوال ہے اور اس پر اتفاق رائے بے انتہا اہم۔ یہ تعین ہو جانے کے بعد بھی ، اس بیج کو مٹی اور موسم اور آب وہوا کی مناسبت سے قابل کاشت بنانا ایک انسانی فنکشن ہے اور ایک محنت طلب کام۔ سچ پوچھیں تو کسی قوم کے دانشوروں کا اصل مصرف تو یہ ہے۔ تحریکی اور دعوتی محنت اصولی طور پر اس سے مابعد کے مرحلے ہیں۔ ’تعمیر قوم‘ کے معاملہ میں کچھ غلط فہمیاں ہمارے ’آزاد خیالوں‘ کو لاحق ہیں تو کچھ خوش فہمیاں ہمارے ’اسلام پسندوں‘ کو.... ہمارے لبرلوں پر جو بات واضح نہیں وہ یہ کہ جس قوم کیلئے یہ حضرات پچھلی ڈیڑھ صدی سے راستے ’تجویز‘ کرنے کی تکلیف جھیل رہے ہیں وہ وقت کی آسمانی اُمت ہے۔ یعنی اس کا راستہ طے شدہ ہے اور خدا کا واضح کردہ ۔ایک ’طے شدہ بات‘ کو ’موضوع اختلاف‘ بنا کر، خواہ وہ جہل بسیط کے باعث ہو یا جہل مرکب کے زیراثر، آپ کچھ کرتے ہیں تو وہ یہ کہ اپنا اور دوسروں کا وقت برباد کریں۔ بے شک اس بحث میں آپ کتنی ہی دلچسپی اور گرمجوشی کیوں نہ لے آئیں، آپ زیادہ سے زیادہ کسی بات میں کامیاب رہ سکتے ہیں تو وہ یہ کہ وہ اصل کام جس پر قوم کو مجتمع ہونا ہے بعض نسلوں تک مؤخر کر دیں اور ایک عام سطح کے شخص کیلئے اس کے گرد الجھنوں کے جال بن دیں اور اگر حالات نامساعد ہوں تو پھر اس کا کام اور بھی خراب ہو جائے۔ کسی قوم کے ذہین اور باصلاحیت لوگوں کا ایک غلط بات کے حق میں دلائل دینے لگ جانا اس قوم کے حق میں ایک بہت ہی بڑا سانحہ ہے۔ مغرب نے ایک خاص نمونے پر اپنی قوم کی تعمیر کرلی اور اس کے ہاں ’تناقض‘ کا یہ سوال نہیں رہنے دیا حتی کہ تیسری دُنیا کی کچھ اقوام نے بھی اسی طرز پر اپنے آپ کو ایک جہت دے لی تو اس کے پیچھے کچھ خاص متعین اسباب ہیں۔ یہ اسباب آپ چاہیں تو بھی اپنے ہاں پیدا نہیں کر سکتے، اسباب میں فرق آجانے سے نتائج میں فرق آپ سے آپ آتا ہے۔ مگر چونکہ آپ کا ’مطالعہ‘ مانوس ہی ایک خاص قسم کے ’نتائج‘ سے ہے اور بے صبری کے ساتھ آپ کو انتظار ہی ان ’نتائج‘ کا ہے لہٰذا آپ توقع کرنے لگتے ہیں کہ ’اسباب‘ کے اس بعد المشرقین کے باوجود ویسے ہی نتائج آپ کے ہاں برآمد ہو جائیں! یہ لوگ جس بات سے واقف نہیں یا واقف ہونا نہیں چاہتے وہ یہ کہ جن قوموں کے تجربات سے یہ لوگ تنائج کشید کرکے ہمیں ’راہ‘ دکھاتے ہیں ان قوموں کے ’دھرم‘ کی کتاب قرآن جیسی کبھی تھی ہی نہیں۔ ’تعمیر قوم‘ اور ’طرز حیات‘ کے حوالے سے ان کے ’مذہب‘ کی کتابیں ایسی تھیں ہی نہیں کہ جو ان کے من مانے راستوں میں رکاوٹ بن کر کھڑی ہوجائیں اور ان کو گزرنے کی راہ تک نہ دیں۔ مگر قرآن کو نظروں سے روپوش کرا دینا یا راستے سے ہٹا دینا کسی کیلئے ممکن ہی نہیں۔ قرآن کو ’مذہبی تقدس‘ پر قناعت کروا دینا کسی کے بس کی بات ہی نہیں.... پھر جن قوموں پر یہ اپنی قوم کو قیاس کرنا چاہتے ہیں ان کو توحید اور صالح عقیدے کی کبھی ہوا ہی نہ لگی تھی۔ مگر یہ اُمت ہزار سال تک سنسار میں توحید کے ڈنکے بجاتی رہی ہے اور ان بے شمار قوموں کو جو آج ہمیں ’متاثر‘ کرنے لگی ہیں ’تہذیب‘ سکھاتی رہی ہے۔ بے شک اس کی زندگی میں توحید کی اس حقیقت سے اب بہت سی پسپائی آچکی ہے اور توحید سے اس کی یہ پسپائی ہی اس کے اس زوال کی اصل تفسیر ہے مگر پھر بھی کیا یہ ممکن ہے کہ اس توحید، اس عقیدے اور اس ’خودی‘ کو آپ اس کے لاشعور سے ہی محو کر دیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اس اُمت کے فاسق سے فاسق لوگ بھی ذہن و فکر کی وہ ساخت اختیار کرنے سے قاصر ہیں جس کے ہمارے یہ لبرل صبح شام خواب دیکھتے ہیں۔ یہاں دین اور عقیدہ پر چلنے والوں کی تعداد بھی یوں تو کچھ ایسی کم نہیں بلکہ روز بروز وہ بھی بڑھ ہی رہی ہے، جو کہ الگ سے آپ لوگوں کے غور کرنے کی بات ہے، مگر دین سے دور اور دین سے غافل رہنے والے طبقے بھی حتی کہ مغرب کی نقالی کرنے والے عام طبقے بھی نظریاتی طور پر اس حد تک جانے کیلئے تیار نہیں جس حد تک چلا جانے میں ماڈرن ’انڈیا‘ یا ’تھائی لینڈ‘ یا ’کمبوڈیا‘ یا ’وینزویلا‘ کا ایک ’پڑھا لکھا‘ اور ’باشعور‘ شخص کوئی بھی رکاوٹ نہ پائے گا! ایک قدرتی سی شرم ا ور ایک طبعی سی جھجک اس اُمت کے بے دین سے بے دین (لادین نہیں بے دین) شخص کے راستے میں آکھڑی ہو جاتی ہے اور اس کیلئے یہ بات دل میں بٹھانا دشوار ہو جاتا ہے کہ خدا کی پرستش اور رسول کی اطاعت کا دائرہ مسجد کی چار دیواری ہے یا پھر بیاہ زچگی اور فوتگی وغیرہ ایسے بعض مراسم 'occasions' یہاں بے عمل سے بے عمل کو بھی یہ بات ہضم نہیں ہو پاتی کہ ’مذہب‘ اور ’عام زندگی‘ کو دو خداؤں کے بیچ تقسیم کردیا جائے۔ آخرت اور جنت وجہنم کی باتیں کوئی شخص کتنا بھی کیوں نہ بھول گیا ہو پھر بھی یہ باتیں آنکھ بچا کر کسی نہ کسی وقت اس کو ضرور پریشان کر جاتی ہیں۔ حقیقی معنوں میں مشرک اور لادین ہوجانے والے ___ جاہلیت کی اتنی محنت کے باوجود ___ تعداد میں یہاں بہت زیادہ نہیں۔ اپنی حسین سہانی مٹی کے آپ جتنے بھی نغمے گائیں اور یہاں کے بے شعور جمگھٹوں سے ان کے سُروں پر تالیاں بھی آپ جتنی چاہیں بجوا لیں، آسمان سے ان کا رشتہ پھر بھی آپ نہیں کاٹ سکتے۔ یہ تو آپ کر سکتے ہیں بلکہ کر رہے ہیں کہ آسمان سے اپنی قوم کا وہ رشتہ نہ رہنے دیں جو اسے دُنیا کی یکسوئی اور دین کی سرخروئی دے۔ یہ البتہ آپ کیلئے ممکن نہیں کہ اُمت محمد سے سیدھی سیدھی آپ دھرتی کی پوجا کروانے لگیں۔ اِس اُمت کو خدا بہت کافی ہے۔ ایک ہی تو اُمت ہے جس کو خدا کفایت کرنے والا ہے بشرطیکہ یہ اپنے رسول کی شریعت کی وساطت اس سے یہ کفایت چاہے۔ ’مٹی‘ سے اس برگزیدہ اُمت کی ’تشفی‘ کیونکر ہو سکتی ہے۔ پہچان کیلئے اس کو اسلام کافی ہے۔ اسلام کے ساتھ یوں تو کسی اور چیز کا ملغوبہ ہی نہ تو درست ہے اور نہ ہماری ضرورت۔ خواہ وہ وطن ہو یا قوم، ملک اور سلطنت۔ کیونکہ ’پہچان‘ کے یہ عوامل نہ صرف زائد ہیں جبکہ ہماری وہ اصل تاریخی پہچان اپنے وجود میں آنے کیلئے بڑی دیر تک ایک مختصر ترین اور مرکوز ترین حوالہ the most focused reference ہی چاہتی ہے.... پہچان کے یہ عوامل نہ صرف زائد ہیں بلکہ اپنی فطرت میں اس اصل پہچان سے صاف متعارض بھی ہیں۔ وہی بات جسے ہم نے یہاں کے قومی اہداف کا مخمصہ قرار دیا ہے.... مگر اِدھر رفتہ رفتہ یوں ہوا کہ اس ملغوبے میں ’پاکستان‘ کا آہنگ اونچا کیا جانے لگا اور ’اسلام‘ کی آواز آہستہ کر دی جانے لگی۔ کوئی بہت بڑا اعتراض ہوا یا کسی ’بحران‘ ہی نے آگھیرا تو اسلام کا ’والیم‘ ذرا بڑھا دیا ورنہ پاپ میوزک میں گایا ہوا ’پاکستان‘ ہی اس باب میں بہت کافی اور شافی جانا گیا۔ اس کا ’جیوے‘ اپنے ایما میں آپ کو اس قدر واضح نظر آئے گا کہ اس میں ’مرے‘ کا پیغام بھی ساتھ ہی اپنی سب موحدانہ قدروں کیلئے آپ صاف پڑھ سکتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے کہا قوم جب تک ان لوگوں کو سنتی ہے زیادہ سے زیادہ یہ اس کو الجھنیں پیدا کرکے دے سکتے ہیں اور اس کے کام کو مؤخر کر دینے میں مؤثر ہو سکتے ہیں۔ رہ گیا یہ کہ قوم کو لے کر یہ کسی سمت میں چل لیں اور کہیں پہنچ لیں اس کی نہ تو طاقت ہی ان لوگوں کو دی گئی ہے اور نہ اس کی گنجائش ہی اس اُمت کی ساخت میں رکھی گئی ہے۔ ******* اس اُمت کی ’ساخت‘ کے موضوع پر آئیے چند مثالیں دیکھتے ہیں.... خدا کے سامنے ایسی جرات آپ کا کوئی بڑے سے بڑا لبرل بھی شاید نہیں کر سکتا جتنی کہ مصطفی کمال اور اس کے حواریوں کو ترکی میں ایک عرصہ تک ’نصیب‘ ہوئی رہی۔ ’مذہب‘ کو معاشرے سے بے دخل اور ’خدا‘ کو قومی واجتماعی اہداف سے خارج کر دینے میں کوئی بھی تو کسر چھوڑ نہیں رکھی گئی۔ ’عام زندگی‘ کی بات چھوڑیے لوگوں کو خدا سے دور رکھنے کیلئے ’عبادت خانوں‘ میں بھی ’مذہب‘ کا وہی ایڈیشن رہنے دیا گیا جو کہ صوفیت کی بدترین صورت تھی اور جو کہ ’دین‘ سے زیادہ کلاسیکی رقص اور فنون لطیفہ کہلانے کے لائق ہے اور جس کی بعض نمائشیں اب یہاں کے اونچے ہوٹلوں میں بھی کبھی کبھی ہونے لگی ہیں۔ اتنا ہی نہیں کہ اجتماعی سطح پر خدا کے ساتھ اس درجہ کا سیدھا سیدھا کفر کیا گیا بلکہ پوری قوم کو اس کفر کا بزور پابند کیا گیا۔ دانشوروں کی اس پر شبانہ روز محنت کا تو ذکر ہی کیا ایک بہت بڑی سرکاری مشنری اس کام کیلئے مختص کر دی گئی۔ فوج، پولیس، عدلیہ سب اس مشن پر سرگرم رہے اور آج تک ہیں۔ سکول، کالج، ٹی وی، ریڈیو، اخبار حتی کہ ’مساجد‘ ہر فورم کو عملاً اس تبدیلی کی صدا بنایا گیا۔ ہمارا نہیں خیال آپ لوگ چاہیں بھی تو کبھی اس سطح تک جا سکتے ہیں.... مگر ’اسلام‘ ہے جو ترکی میں پھر آرہا ہے! ’اتا ترک‘ کا ترکی قصہءپارینہ بنا چاہتا ہے۔ ’اربکان‘ اور ’اردگان‘ سب درمیان کے مرحلے ہیں۔ ترکی اپنے اس مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے جو ایک صحیح اسلامی پہچان سے عبارت ہے۔ ہر تجزیہ نگار ترک مستقبل کے افق پر آج ’اسلام ہی اسلام‘ دیکھ رہا ہے۔ کچھ ایسی ہی مثال تیونس اور الجزائر کی ہے! یہ ہے قرآن کی وہ مخفی قوت اور اس امت کی وہ ناقابل تبدیل ساخت جو ہمارے لبرلوں کی نگاہ سے عموماً اوجھل رہتی ہے.... خصوصاً ان لبرلوں کی نگاہ سے جو اپنی قوم کا بھلا کرنے اور اس کو ترقی کی خواہش رکھنے میں واقعتا مخلص ہیں۔ اب ایک اور مثال کی طرف آئیے.... بطور ’دھرتی‘ آپ کی تو عمر ہی ابھی چند عشروں سے متجاوز نہیں۔ یہاں کثیر تعداد ابھی ایسی ہے جن کی جنم بھومی یہاں نہیں۔ ایک کثیر تعداد ایسی ہے جن کے فوت شدہ والدین اور اعزاءواقارب سرحد پار قبرستانوں میں دفن ہیں اور جنہیں ان کی تربت پہ کھڑا ہو کر دُعائے خیرکرنا تک میسر نہیں۔ بہت سے ترسے ہوئے ’ویزہ‘ لے کر ہی اپنے عزیزوں کی صورت کبھی دیکھ پاتے ہیں۔ ’ارحام کی کھینچ‘ اور ’خون کی محبت‘ ۔ایمبیسیوں کے آگے قطاریں لگا کر کھڑی عام دیکھی جا سکتی ہے۔ خوشی غمی ’ٹیلیفونوں‘ پر ہی ہو جاتی ہے۔ بہت سے لوگ ہیں جو زمینی رشتوں کے حساب سے دو یا پھر دو سے زائد ملکوں میں بٹے ہوئے ہیں اور جو کہ یہاں ’دھرتی‘ کی کشش میں کبھی نہیں آئے اور جن کے یہاں چلے آنے کا محرک صرف ’دین‘ تھا۔ اس کے باوجود آپ کا خیال ہے آپ اپنی جڑیں ’دھرتی‘ میں تلاش کر لیں گے اور وہ ایسی مضبوط جڑیں ہوں گی کہ دین، عقیدہ، نظریہ، تاریخ، تہذیب سب کچھ اس کے آگے بے وقعت ہو رہے گا! اس دین، اس عقیدے اور تہذیب کو دراصل آپ نے پہچانا ہی نہیں۔ اس کے ہوتے ہوئے کسی اور پہچان کا بنیاد سے وجود میں آنا اور پھر اس کو پچھاڑ دینا.... یہ تو خیر بہت ہی دور کی بات ہے اور نرا خیال اور محال ہے۔ کوئی پہچان جو صدیوں سے باقاعدہ قوم کا حوالہ چلی آرہی ہو اس کے آجانے پر بے وقعت ہو کر رہ جاتی ہے اور اس کے آگے کبھی بھی سر نہیں اٹھا سکتی۔ آئیے دو مثالیں اس پہلو سے دیکھتے ہیں! صدیوں کا ’نسلی اشتراک‘ اور ’دھرتی‘ جو کسی قوم کیلئے ایک پختہ حوالہ بن چکی ہو اور جس کے نتیجے میں دنیا کے اندر ’جاپان‘ اور ’چین‘ اور ’اٹلی‘ اور ’جرمنی‘ وغیرہ وجود میں آتا ہے.... عالم اسلام کے اندر مکمل معنی میں کسی کو حاصل ہو یا نہ ہو ’عراق‘ اور ’مصر‘ کو ضرور حاصل ہے۔ دنیا کی قدیم ترین تہذیبیں، ہزاروں سال سے یہ دونوں ’ملک‘ بھی ہیں اور ’قوم‘ بھی۔اسلام آیا تو البتہ یہاں کی اقوام نے فخر واعزاز کے سب حوالے پھر اسلام ہی میں تلاش کئے اور دور جاہلیت سے اپنا قومی ناطہ توڑ کر آباءکے شرک سے بری وبیزار ہو گئیں۔ عراق مشرق کی جانب اسلام کی پیش قدمی کا مرکز بنا اور مصر مغرب کی جانب۔ (3) البتہ استعمار کے آنے کے بعد یہاں کے تہذیبی خدوخال مسخ ہوئے اور یورپی اقوام کا پھیلایا ہوا نیشنلزم کا زہر ذہنوں کے اندر گھولا گیا تو پچھلی صدی کے بیس اور تیس کے عشرے میں مصر کے اندر ’مصر قدیم‘ کو زندہ کرنے کے نعرے بلند ہوئے۔ ابوالہول اور اہرام کے قصیدے گائے گئے اور دور فراعنہ کی عظمتوں کو سلامیاں پیش کی گئیں۔ شاعروں اور ادیبوں کی ایک بڑی تعداد ’مصر کی بحالی‘ کے نغمے الاپتی رہی۔ کچھ یہی حال عراق میں قدیم بابل، اور نینویٰ کے اندر اپنی جڑیں تلاش کرنے کے معاملہ میں رہا۔ ان رجحانات کے پھیلانے پر یہاں کے صاحب طرز ادیبوں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقوں کی بے حد محنت صرف ہوئی مگر یہاں کے ’ان پڑھوں‘ کو ان کی بات گویا سمجھ تک نہ آئی۔ دو تین عشروں بعد یہ صدائے بازگشت خودبخود فضاءمیں تحلیل ہو گئی اور اب اس کا ذکر کچھ بوسیدہ جریدوں میں ہی باقی رہ گیا ہے۔ پچاس اور ساٹھ کے عشروں میں مصر اور عراق کی سڑکیں مسلم فلسطین پر یہودی قبضہ کے خلاف غم وغصہ کا نقشہ پیش کر رہی تھیں اور یہاں کے نوجوان جہاد کیلئے رضاکار بھرتی ہونے کیلئے شدید بے تاب ہو رہے تھے! جو باتیں دوسرے بڑی دیر پہلے آزما چکے اور اس میں منہ کی کھا چکے ہمارے کچھ نابغوں کو آج جا کر سوجھ رہی ہیں! ان کو بلاشبہہ ایک بڑا چیلنج درپیش ہے اور ان کی مشکل ایک غیر معمولی مشکل ہے۔ قوموں کو ساتھ چلانا گویا کوئی مذاق نہیں اس عمل کی کچھ بنیادی ضرورتیں ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ اس معاملہ میں یہ کس قدر تہی دست ہیں.... یہاں کے کچھ عبقری ٹی وی مذاکروں میں اب اظہار خیال کرتے ہیں کہ یہ علاقے تو ہمیشہ سے ہی باقی ہندوستان سے الگ تھلگ چلے آئے ہیں لہٰذا محض اتنے سے واقعے کا تعلق ’مذہب‘ سے جوڑ دینا حقیقت سے کچھ علاقہ نہیں رکھتا (کاش وہ یہ بھی بتا سکیں کہ کروڑوں نفوس کی اس خوں فشاں نقل مکانی کے پیچھے کیا چیز کارفرما تھی!) مزید فرماتے ہیں کہ اس قوم کو ٹیکسلا، ہڑپہ اور موہنجو داڑو وغیرہ کی صورت میں ایک ایسا اعلیٰ اثاثہ دستیاب ہے جو دُنیا کی کسی اور قوم کو دستیاب ہی نہیں اور جس کی بدولت یہ اپنی جڑیں ہزاروں سال پیچھے تک تلاش کرسکتی ہے اور بڑے فخر کے ساتھ دنیا کی کچھ قدیم ترین اقوام سے بھی زیادہ قدیم کہلا سکتی ہے مگر، ان کے خیال میں، قوم کو اس پر بہت محنت اور توجہ کرنے کی ضرورت ہے اور اسے اپنے ان آثار قدیمہ کو دیگر اقوام کے مقابلے میں بہت زیادہ نمایاں کرنا ہوگا، جس پر کہ ان کے خیال میں تاحال یہاں بہت کم کام ہوا ہے۔ قوم کی ’محنت اور توجہ‘ کیلئے بس یہی چیز باقی تھی! بدبختی کی انتہا دیکھیے قرآن ایسا سرچشمہءحیات اور حیّ وقیومّ کا پتہ پاس رکھتے ہوئے قوم کیلئے زندگی اور وجود کی تلاش یہ اب ان ویران کھنڈروں میں کرتے پھریں گے! خدا سے بھاگے ہوئے دیکھیں اب کہاں پہنچ کر دم لیتے ہیں! مٹی میں دفن یہ بت پرست تہذیبیں جو کچھ کھدائیوں کے نتیجے میں ہزاروں سال بعد کہیں سے برآمد ہو گئی ہیں وادی نیل میں ہوں یا وادی فرات میں یا وادی سندھ میں یا دیار توحید کے کسی بھی اور گوشے میں، ان کا مصرف آپ کے ہاں ہو سکتا ہے تو وہی جو آپ ایک عرصہ سے کر رہے ہیں، ان پر آپ ’ٹکٹ‘ لگا سکتے ہیں اور ’ٹورزم‘ کیلئے اس کو ایک پرکشش بنا کر کچھ ’زرمبادلہ‘ کما سکتے ہیں۔ یہ بھی اس لئے کہ یہ مغرب کی ریس ہے۔ وگرنہ ہم موحدین کیلئے ان کھنڈروں کا کوئی صحیح مصرف ہے تو وہ یہی کہ ہم انہیں دیکھ کر خدا کی عظمت اور خدا کی ہیبت دلوں پر طاری کریں اور اگر ہو سکے تو ان پر عبرت کے کچھ آنسو بہا کر آئیں۔ وہ دین جو قبر پر ایک پکی اینٹ صرف کرنے کا روادار نہیں ’زندگی‘ کو دراصل کسی اور انداز میں دیکھتا ہے! ’میسیو پوٹیمیا‘ اور ’ارض قبط‘ کی بحالی وہاں کی اقوام میں کوئی پذیرائی نہ پا سکی تو پھر ’پہچان‘ کا دائرہ ذرا بڑا کرکے ’عرب قومیت‘ تک لایا گیا۔ یہ دعوت بھی بنیادی طور پر ان دو سرزمینوں سے ہی اٹھائی گئی.... یعنی مصر اور عراق۔ یمن سے لے کر لبنان تک اور عراق سے لے کر مراکش تک ’عربی وطن‘ مانا گیا اور زندگی اور نشاط کے سوتے اب یہاں تلاش کئے گئے۔ اسلام سے پہلے عرب بنیادی طور پر جزیرہءعرب میں محصور رہے ہیں۔ ’عربوں‘ کو لبنان، شام، مصر، سوڈان، الجزائر اور مراکش تک لے جانے اور ان خطوں کو ہمیشہ کیلئے ’عرب‘ بنا ڈالنے والا دراصل ’اسلام‘ ہی تھا۔ اس عروبہ Arabism کی تہہ میں اسلام آپ سے آپ بولتا ہے۔ چنانچہ عرب قومیت کے نعرے کو پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں میں نسبتاً خاص پذیرائی ملی۔ گو یہ ایجنڈا لے کر چلنے والے اپنی ایک خاص مار پر تھے اور درحقیقت ’ہستی‘ اور ’پہچان‘ کے معاملہ میں ’دین‘ کے نعم البدل کی تلاش میں تھے۔ مصر میں جمال عبدالناصر کو اسی کی بدولت ہیرو بننا نصیب ہوا بلکہ کچھ دیر کیلئے ’عرب وطن‘ کی شیرازہ بندی کے پہلے مرحلے کے طور پر عبدالناصر کی سرکردگی میں مصر اور شام کی کنفڈریشن رہی جو ہمارے ’مشرقی پاکستان‘ کی طرح قائم نہ رہ سکی! بعد ازاں اسی عرب قومیت کے زور پر حافظ الاسد کی بعث پارٹی شام میں اور صدام حسین کی بعث پارٹی عراق میں انقلاب لے کر آئی۔ ’اسلام‘ کے خلاف ان سب نے آہنی ہاتھ برتا۔ یاسرعرفات کی پی ایل او اسی نعرے کو لے کر چلی۔ کچھ دیر کیلئے ان نعروں کے اندربے حد جان نظر آئی مگر عرب قومیت کی حامل یہ تحریکیں اپنے اپنے معاشروں پر کوئی دیرپا اثر نہ چھوڑ سکیں۔ جتنا زور یہ لگا سکتی تھیں اسلام کا معاشرے میں راستہ روکنے کیلئے انہوں نے شاید اس سے بڑھ کر زور لگانے کی کوشش کی مگر اسلام اور وہ بھی تحریکی اسلام یہاں مسلسل بڑھتا رہا اور بڑھتا آرہا ہے۔ اسلام کے ماسوا ’تشخص‘ اور ’وجود‘ رکھنے کی یہ سب آوازیں آپ سے آپ مرتی چلی گئیں اور مرتی جا رہی ہیں اور اب اکثر جگہوں پر اپنی زندگی کے آخری آیام گزار رہی ہیں! عراق پر غیر ملکی قبضہ ہوا، اس کے مدمقابل کون میدان میں اترا؟ کہاں ہے بعث پارٹی اور اس کی ’عرب قومیت؟؟ آپ نے دیکھا کونسی چیز ہے جو ’لڑا دے ممولے کو شہباز سے‘؟ زندگی کی رمق آخر کہاں ہے؟ شام پر یا مصر پر خدانخواستہ کسی کافر فوج کا قبضہ ہو جاتا ہے کونسا جذبہ اور کونسا محرک قوم کو اس کے مقابلے میں اتار پائے گا؟ فلسطین میں ’پی ایل او‘ اب کہاں ہے؟ کونسی چیز حماس اور الجہاد الاسلامی دنیا کی سفاک ترین طاقت سے آنکھیں چار کرنے پر تیار کرتی ہے؟ کشمیر میں ’لبریشن فرنٹ‘ اب کہاں ہے؟ آپ پر خدانخواستہ کوئی دشمن چڑھ آئے قوت اور زندگی کے سوتے آپ کہاں تلاش کریں گے؟ خدا بُرے وقت سے بچائے غاصب کے ساتھ ’مصافحہ‘ کیلئے سب سے پہلے ہاتھ کس کا بڑھے گا اور کون آخر تک جان مار کر لڑے گا؟ اور کون پنجہ آزمائے گا۔ مصیبت تو یہ ہے کہ اس پوٹینشل کا تجربہ تک آپ کو اس وقت ہوتا ہے جب کوئی مسلم قوم کفار کے نرغے میں آتی ہے۔ کاش کہ اس زبردست پوٹینشل کا استعمال آپ قوم کی بنیادی تعمیر اور ترقی ہی میں کر سکیں، بشرطیکہ اس منصوبے کو آپ اپنی محنت کا باقاعدہ محل مان لینے پر اتفاق کرلیں۔ اس بات کو ہماری دعوت کا ایک اہم مقدمہ سمجھیے۔ ******* ہمارے لبرلوں کی نگاہ سے پس جو چیز روپوش ہے وہ ہے اس دین کی کاٹ جس کو یہ بیچارے ’چرچ‘ ایسی بے ضرر چیز پر قیاس کر بیٹھتے ہیں اور پھر اس بنیاد پر کئے ہوئے ان کے سب حساب غلط بیٹھتے ہیں۔ جو چیز ان کی نگاہ سے اوجھل رہتی ہے وہ ہے وقت کی آسمانی اُمت کی طبعی ساخت جس کو یہ تیسری دنیا کی کسی بھی ’ترقی پذیر قوم‘ کے آداب اختیار کرکے زمانے میں آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ اب اگر اس ’تناقض‘ کو آپ سامنے رکھتے ہیں تو پھر وہ چیز جسے ہم ’قومی یکسوئی‘ کہتے ہیں اور جس کی ضرورت جہاں میں قوموں کے پنپنے اور ترقی کرنے کیلئے سب کے نزدیک مسلم ہے کیا ان کے راستے پر رہ کر پیدا کی جا سکتی ہے؟ یعنی کیا کوئی دن ایسا آنے والا ہے جب یہ اسلام کو مسجد میں قید کر آئیں گے!؟ جب یہ ’دین‘ کو ’طہارت‘ اور ’حیض ونفاس‘ اور ’نماز روزہ‘ اور ’نکاح وجنازہ‘ ایسے چند ’مذہبی‘ مسائل میں محصور کر دیں گے اور معاشرتی طور پر اپنا رخِ زندگی متعین کرنے کے معاملہ میں قرآن سے ’آزادی‘ پالیں گے!؟ جب اپنی ’پہچان‘ کیلئے یہ قوم ’آسمان‘ کی بجائے کلیتاً ’دھرتی‘ کی طرف دیکھنے لگے گی!؟ یا تو یہ لوگ ’خدا‘ کو اور ’قرآن‘ کو اس اُمت کی راہ سے ہٹا لیں، بشرطیکہ اس کی ہمت اور طاقت رکھیں، وگرنہ یہ اپنے ان بدیشی نظریات کو اس کی راہ سے ہٹا دیں.... مگر قوم کو خدارا کسی ایک راہ میں یکسوئی پا لینے دیں۔ وہ تعارض جو اس اُمت کے عقیدے میں اور یہاں کے کرتا دھرتا حلقوں کے نظریات میں پایا جاتا ہے ایک بہت ہی اصیل اور بنیادی تعارض ہے۔ یہ دراصل دو تہذیبوں اور حقیقت یہ کہ دو دینوں کی جنگ ہے۔ یہ ایک بنیادی اختلاف ہے۔ دونوں کی اس کھینچا تانی میں قوم کے ذہنی وشعور کی بری چیر پھاڑ ہوتی ہے۔ بلاشبہہ ان میں سے بہت سے قوم کے خیر خواہ ہیں۔ کیا یہ اس قوم پر کچھ ترس کھائیں گے جو بیچاری ڈیڑھ صدی سے دو مخالف سمتوں میں دھکیلی جا رہی ہے اور جس کے باعث بے پناہ صلاحیتیں اور آرزوئیں رکھنے والی اس حوصلہ مند قوم کا ستیاناس ہو رہا ہے؟ کسی ایک کو آخرکار یہاں ہتھیار گرانا ہوں گے.... قرآن جب تک یہاں پڑھا جاتا ہے اس طرف سے تو آپ یہ اُمید مت رکھیے جیسا کہ پیچھے ہم واضح کر آئے۔ مسئلہ ’اسلام پسندوں‘ کی ضد کا ہوتا تو ضرور اس کا کچھ حل تھا مگر قرآن ہی اس قدر واضح ہے اور اپنی صدا آپ ہے کہ کوئی چاہے بھی تو آپ کی کیا مدد کر سکتا ہے۔ رہ گیا قرآن تو اس پر کس کا زور ہے: وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ لاَ يَرْجُونَ لِقَاءنَا ائْتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هَـذَا أَوْ بَدِّلْهُ قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِن تِلْقَاء نَفْسِي إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ مَا يُوحَى إِلَيَّ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ---قُل لَّوْ شَاء اللّهُ مَا تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلاَ أَدْرَاكُم بِهِ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِّن قَبْلِهِ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ(یونس: 16، 15) ”اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں جو بالکل صاف صاف ہیں تو یہ لوگ جن کو ہمارے پاس آنے کی اُمید نہیں ہے یوں کہتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی دوسرا قرآن لائیے یا اس میں کچھ ترمیم کر دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں کہہ دیجئے کہ مجھے یہ حق نہیں کہ میں اپنی طرف سے اس میں ترمیم کر دوں بس میں تو اسی کا اتباع کروں گا جو میرے پاس وحی کے ذریعے سے پہنچا ہے، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں۔ ”آپ یوں کہہ دیجئے کہ اگر اللہ کو منظور ہوتا تو نہ تو میں تم کو وہ پڑھ کر سناتا اور نہ اللہ تعالیٰ تم کو اس کی اطلاع دیتا کیونکہ میں اس سے پہلے تو ایک بڑے عرصہ تک تم میں رہ چکا ہوں۔ پھر کیا تم عقل نہیں رکھتے“۔ (ترجمہ جونا گڑھی) البتہ آپ کو کیا مجبوری ہے؟؟؟ اپنے اور قرآن کے مابین تنافض دور کرکے آپ اپنی قوم کو ایک یکسوئی فراہم کر سکتے ہیں، جس سے بڑا کوئی تحفہ اس قوم کو دیا ہی نہیں جا سکتا، اور خود آپ کی بھی اس میں عاقبت سنورتی ہے ، جو کہ کچھ ایسی غلط بات نہیں، تو اس پر سوچ لینے میں آخر حرج کیا ہے؟ آپ کا مقابلہ کسی ’انسان‘ کے ساتھ تھوڑا ہے۔ حضرات کیا یہاں کمیونسٹوں نے ہتھیار گرا نہیں دیے؟ مشرقی بلاک کے سقوط کے ساتھ ہی کیا وہ سب نظریات یہاں سے رخصت نہیں ہو گئے؟ اب اگر مغربی سرمایہ داری بلاک بھی کسی بڑے عالمی کردار کے قابل نہیں رہتا اور جس کا کہ اب امکان نظر آنے لگ گیا ہے تو ہمارے یہ ’آزاد خیال‘ کہاں جائیں گے؟ خود زاد تو نہ یہاں کے کمیونسٹ تھے اور نہ یہاں کے لبرل ہیں۔ اشراق inspiration کیلئے دونوں کا منبع source کہیں باہر ہی پایا جاتا رہا ہے۔ اسی وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ ان کی جڑیں کہیں بیرون میں پائی جاتی ہیں اور اس قدر بودی ہیں کہ کل سوویت یونین مرتا ہے اور آج ہمارے ہاں ’سرخے‘ ناپید دیکھے جاتے ہیں۔ کمیونسٹوں میں تو پھر کچھ جان تھی۔ قربانی کا جذبہ تھا۔ عزم اور جفاکشی تھی۔ حالات کی مار سہنے کا برتہ تھا۔ مگر ہمارے یہ ’اتاترک‘ اور ’بورقیبہ‘ (4)کے آئیڈیل پہ چلنے والے طبقے تو بے حد آسودہ جاں ہیں۔ ’مدد‘ رکی یا ’سہارا‘ چھوٹا تو مشکل کا تصور کرنا بھی شاید مشکل ہو۔ ’بیچ کے لوگ‘ بھی ’استقامت‘ سے واقف نہیں، جو کہ قوموں کے اٹھ کھڑا ہونے کیلئے ریڑھ کی ہڈی کا کام دیتی ہے۔ کیا واقعتا یہ لوگ قوم کو اس کے ’سرچشمہ حیات‘ کی نشاندہی کرکے دے سکتے ہیں؟! ******* دوسری جانب، ہمارے اسلام پسندوں پر عموماً جو بات واضح نہیں وہ یہ کہ ’تعمیر قوم‘ سیاست یا معیشت یا جہاد کے باب میں اسلامی خدمات انجام دینے لینے سے ایک کہیں بڑھ کر بنیادی کام ہے۔ اس کو نظرانداز کردینے کے باعث شدید سطحیت کی ایک اپروچ آپ سے آپ نمایاں ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ قوم کا ایک بڑا سمجھدار طبقہ ہمارے اسلام پسندوں کے خطاب میں وہ بات تک نہیں پاتا جو اس تمام تر تبدیلی کی اصل بنیاد بننے والی ہے۔ ’نفاذ شریعت‘ اور ’جہاد فی سبیل اللہ‘ اسلام کے نہایت برگزیدہ ابواب ہیں۔ مگر قوم کی تعمیر میں جو مواد بنیاد سے استعمال ہوتا ہے وہ اس اُمت کا ’عقیدہ‘ ہے۔ اسی سے آپ کا وہ تہذیبی مقدمہ وجود میں آئے گا جو یہاں قوم کے خیر خواہ باشعور طبقے کو شدید حد تک متاثر کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ خدائی تنزیل میں ’عقیدہ‘ بہت پہلے نازل کردیا گیا اور ’شریعت‘ اور ’جہاد‘ اس کے بہت بعد۔ کیونکہ جس قوم پر ’شریعت‘ اور ’جہاد‘ کا فرض ڈالا جانا ہے اس کو پہلے ’عقیدہ‘ پر کھڑا کیا جانا ہے۔ اس بات کے نظر انداز کردیا جانے کے باعث ’بنیاد پرستی‘ کے حوالے سے یہاں کچھ ایسا خلط مبحث پیدا ہو گیا ہے جو اگر پیدا نہ ہونے دیا جاتا تو آج کے بہت سے ’لبرل‘ شاید ہمارے ہی ساتھ کھڑے ہوتے۔ یہ بھی نہ بھولنا چاہئے کہ جاہلیت اپنے تمام تر ذرائع ابلاغ کے ساتھ ہماری ہر کمزوری کا آخری حد تک فائدہ اٹھانے کیلئے ہماری ہر لغزش کی تاک میں رہتی ہے اور ہماری ہر ’غلطی‘ کو ’مغالطہ‘ میں بدل دینے کے درپے ۔ بہرحال تعمیر قوم کا موضوع اس کتاب کے آخری باب میں ہمارے زیر بحث آئے گا۔ ******* دوسری بات: اس سمت کے زوردار dynamic ہونے سے متعلق ہے.... ’سمت‘ اور ’پہچان‘ کے باب میں یکسوئی میسر آجانا بھی یوں تو کسی قوم کے ترقی وکمال پانے کیلے کچھ کم اہم نہیں بلکہ اس قدر موثر ہے کہ ایک بیہودہ اور فرسودہ بنیاد پر بھی قوم کو یکسوئی دلا دی جائے تو وہ کچھ کمال کے کارنامے کر دکھاتی ہے اور یہ بات اقوام کی تاریخ میں ایک معلوم حقیقت ہے.... لیکن وہ بنیاد جس پر آپ نے قوم کو یکجہت کیا ہو اگر اُس بنیاد کے اپنے ہی اندر حد درجہ زور اور قوت ہو اور وہ کھولتا ہوا ایک آتش فشاں ہو پھر تو کیا ہی بات ہے۔ یہ عقیدہ جو ہمیں اپنے نبی کی وساطت ملا اور آج بھی اپنی شفاف ترین حالت میں ہمیں دستیاب ہے خدا کے فضل سے اس شرط پر بھی ناقابل یقین حد تک پورا اترتا ہے.... انسانی دُنیا کے اندر یہ عقیدہ ایک ایسا سیل رواں برآمد کرتا ہے جو پھر کسی سے تھمنے والا نہیں.... عقیدہ کی اس خاصیت کے صدیوں کامیاب تجربات ہوئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اعداءکا سارا خوف ہی اس بات سے ہے کہ یہ عقیدہ اس اُمت میں کہیں پھر نہ جاگ اُٹھے۔ اس خاکستر کی یہی چنگاری اس کا سب سے زیادہ دل دہلاتی ہے۔ انبیا نے جس بنیاد پر اپنی اُمتوں کو یکسوئی فراہم کی تھی وہ یہی ’عقیدہ‘ ہے۔ یہی خدا کی پہچان۔ خالق کی تعظیم۔ ’پرستش‘ کے اصل محل کی نشاندہی۔ اس کیلئے جان لڑا دینے کی اُمنگ۔ اس کے انعام پر نظر۔ اس کے ہمسروں سے زمین کو صاف کردینے اور ایک اسی کے ہاں سے نازل ہونے والی پاکیزہ قدروں کو قائم کر دینے کیلئے آخری درجے کی سرگرمی اور آخرت سے کم ہر چیز کا نگاہ میں ہیچ و بے وقعت ہو رہنا.... یہ نشاط اور سرگرمی کا ایک ایسا منبع ہے اور قوموں کے اٹھ کھڑا ہونے کی بابت اس میں کوئی ایسا راز پوشیدہ ہے جس کا مقابلہ شیاطین ارض مل کر بھی نہیں کر سکتے۔ یہ رخنہ قوموں کے ہاں ہمارے اس دور میں ’نظریات‘ سے پُر کیا جاتا ہے! ’نسلی تفاخر‘ ایک قوم کو کفایت تو کر جاتا ہے مگر دُنیا کے اندر کچھ زیادہ بڑا کردار رکھنے کیلئے قوموں کو کوئی ’نظریہ‘ گھڑنا پڑتا ہے۔ ’نسب‘ کی بجائے ’نظریے‘ میں کہیں بڑھ کر جان دیکھی گئی ہے۔ ’نظریہ‘ (بمعنی Ideology نہ کہ بمعنی theory) جدید دنیا کی ایک اصطلاح ہے۔ چرچ سے بھاگ کر ان کو یہ نئی اصطلاحات گھڑنا پڑی ہیں۔ ’آئیڈیالوجی‘ قریب قریب وہی چیز ہے جس کیلئے پرانے زمانے کا انسان ’عقیدہ‘ کا لفظ استعمال کرتا تھا اور ’سسٹم‘ کسی حد تک وہ چیز جو کسی زمانے میں ’دین‘ یا ’شریعت‘ کہلاتی تھی۔ آئیڈیالوجی ’عقیدہ‘ اور سسٹم ’شریعت‘ کے مقابلے میں ہیچ ہے تو اس لئے کہ آج کا انسان ’مادی‘ ہوتا ہوتا کچھ اسی قدر بونا ہوچکا ہے اور پھر اس لئے بھی کہ عقیدہ صحیح نہ ملے تو بیچارہ کرے کیا۔ خرافات کا کب تک ساتھ دے، اس رخنہ کو کسی طرح تو پُر کیا جانا ہے! اقوام مغرب کی جو اٹھان پس ہمیں پچھلی چند صدیوں میں نظر آتی ہے اس کے پیچھے وہ نظریاتی انقلاب ہی ہے جو ان کے مفکروں نے اپنی اقوام کے اندر برپا کردیا تھا۔ اس کے جو دور رس نتائج برآمد ہوئے، اچھے بھی اور بُرے بھی، وہ کچھ محتاج بیان نہیں۔ سوشلسٹ اور کمیونسٹ کوئی آدھی دنیا کو تاراج کر گئے تو وہ اسی وجہ سے کہ وہ ایک نظریے کے چلائے ہوئے لوگ تھے۔ نازیوں کو بھی فاشزم وغیرہ ایسے کچھ نظریات ہی چلا رہے تھے۔ یہ اگر ایک حقیقت ہے کہ بعض اقتدار پرست قیادتیں ’ذاتی اغراض‘ کیلئے ’نظریات‘ کا استعمال کرتی رہی ہیں بلکہ بیشتر ایسا ہوتا آیا ہے تو بھی یہ اس بات کی دلیل ضرور ہے کہ ’نظریات‘ ایک غیر معمولی قوت کے حامل ہوا کرتے ہیں ورنہ کوئی ان کا سہارا کیوں لے، اور یہ کہ اخلاص کے ساتھ قوم کو ’نظریات‘ کے ساتھ وابستہ کیا جائے تو یہ اس کی اٹھان کی البتہ ایک قوی بنیاد بن سکتی ہے۔ کہاں وہ باطل نظریات جو دنیا کو ایک جہنم میں بدل دیتے رہے ہیں اور کہاں یہ فطرت پر مبنی صاف شفاف متوازن عقیدہ جو آخرت سے پہلے اسی دنیا کو ایک بہشت بنا دیتا ہے! آپ اندازہ کر سکتے ہیں امکانی طور پر potentially ہم دنیا کی کس قدر ثروت مند قوم ہیں: یعنی نہ صرف ہمیں یکسوئی کی ایک ’بنیاد‘ حاصل ہے بلکہ یکسوئی کی ایک بہت ہی ’زبردست اور انمول‘ بنیاد حاصل ہے بلکہ یہ اتنی عظیم الشان ہے کہ کسی کے پاس اس کا توڑ تک نہیں۔ ہم ایک ایسی دولت سے مالا مال ہیں جس کی صرف افزودگی نہ کر سکنے کے باعث دنیا کے اندر بھکاری بنے ہوئے ہیں! مگر اس کی وہ قیمت جس کا دینا کچھ ہمارے چاہنے پر نہیں، یہ ہے کہ اس کے سوا ہم یکسوئی کی ہر بنیاد سے محروم کر دیئے گئے ہیں۔ صرف ایک راستہ کھلا ہے اور وہ خدا کی طرف جاتا ہے۔ ہماری کچھ ساخت ایسی رکھ دی گئی ہے کہ اس کے سوا ہمیں کوئی اور بنیاد ہی حاصل نہیں۔ ’گزارا‘ کرنے کی اس اُمت کے پاس کوئی گنجائش ہی نہیں۔ یا تو اس ایک بنیاد کو جو ہمیں دی گئی ہے بروئے کار لائیں اور دُنیا کا عظیم ترین واقعہ بنیں ورنہ پھر پسماندہ ترین رہیں اور اپنی ہی قوم کا تیل نکالیں، اپنے ہی ایک دوسرے پر روز برسیں ، ہر روز ایک ذلت سہیں اور جگ ہنسائی کا سامان بنیں۔فیصلہ البتہ ہمیں ہی کرنا ہے، خدا نے یہ اختیار ہمیں بہرحال دیا ہے! حضرات نسلی اشتراک ہے تو وہ ہمیں کچھ خاص حاصل نہیں۔ وجہ تسمیہ اور عنوان پیدائش ہے تو وہ ’مذہب‘ لکھا ہے اور ’تبدیلی نام‘ اپنی جگہ اب ایک بے حد بھاری پتھر ہے۔ دھرتی ہے تو اس کی ولادت ہوئے ابھی کتنا عرصہ ہوا جس کے دوران یہ ایک بار ہمارے ہاتھ سے چھوٹ کر دولخت بھی ہو چکی ہے جو کہ ایک کافی تنبیہ تھی کہ اس قوم کو کچھ غیر معمولی جھٹکوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ کسی نظریاتی انقلاب کا ہم نتیجہ نہیں۔ کوئی اور مضبوط لڑی ایسی ہے نہیں جو ہمیں مضبوطی کے ساتھ پرو کر اور گوندھ کر رکھے اور مضبوط سے مضبوط جھٹکے کو غیر مؤثر کردے۔ ایک آدھی دُنیا ویسے ہماری دشمن ہے اور ہمیں بُری طرح گھورتی ہے۔ ہمارا کوئی ’قصور‘ نہیں مگر وہ پھر بھی ہمیں معاف کر دینے پر تیار نہیں۔ ہمارا ماضی ہمیں بھول گیا ہے تو ان کو خوب یاد ہے۔ پھر ہماری خاکستر میں ’مستقبل‘ کیلئے جو چنگاری ہے پورا زور لگا کر بھی ہم اسے نہ تو بجھا پائے اور نہ ’ان‘ کو اس سے تحفظ کا یقین دلاپائے۔ بلکہ جتنا ہم نے اسے بجھانے کی کوشش کی اور جس تندہی سے اس کو فرو کرنے میں ہم ’ان‘ کے دست وپا بنے، اتنا ہی اس نے اور سے اور ہوا پائی اور اب قریب ہے کہ کسی دن یہ شعلہ آگ بنے اور ’ان‘ کے سب خدشے سچ کر دکھائے۔ یہ ہمارا وہ اسلامی ماضی ہے اور اسلامی مستقبل ہے جسے ہم نہیں تو ’وہ‘ ہمارے حال کے اندر بھی دیکھ لیتے ہیں۔ وہ ہماری ان سبھی دین گریز قیادتوں کو محض ایک ’درمیانی مرحلہ‘ دیکھتے ہیں۔ ان کو معلوم ہے یہ ایک وقتی انتظام ہے یا تو ان معاشروں کے خدوخال ان کے دیے ہوئے نقشے پر ہمیشہ کیلئے بدل جائیں تب وہ حقیقی دوستی کا ہاتھ بھی بڑھا لیں گے (ولن ترضی عنک الیہود ولاالنصاریٰ حتی تتبع ملتہم (5) ورنہ ان معاشروں کو اگر اپنے اصل کی جانب ہی واپس جانا ہے تو اس ’باغی‘ کے توانا ہو جانے میں انہیں کیا دلچسپی ہو سکتی ہے؟ جبکہ حالات کی زبان اگر کچھ بتاتی ہے تو وہ یہی کہ دھیرے دھیرے سہی معاملہ اول الذکر کی بجائے ثانی الذکر صورت ہی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ دنیا کی کوئی قوم بھی خواہ وہ بھارت ہو یا مغربی اقوام آپ کی صرف قیادت کے ساتھ معاملہ نہیں کرے گی چاہے وہ کتنی ہی اس کی آنکھ کا تارا کیوں نہ ہو۔ ’ثقافتی طائفوں‘ کے تبادلے اور ’فلمی ستاروں کا آنا جانا محض پانیوں کی گہرائی ماپنے کا ذریعہ ہیں خیرسگالی اور دو طرفہ دلچسپی کے معاملات اور آتے جاتے کی امدادیں اور گاہے بگاہے کی خیرات محض اس وقتی انتظام کو برقرار رکھنے کی ایک صورت ہیں۔ وگرنہ قومیں ہمیشہ قوموں کے ساتھ ہی معاملہ کرتی ہیں۔ اس پہلو سے آپ غور کریں گے تو آپ اس معاملہ کو حد درجہ سنگین اور خطرناک پائیں گے اور ’سب اچھا‘ کی یقین دہانیوں پر کبھی بھی مطمئن ہو کرنہ بیٹھیں گے۔ چونکہ وہ سمجھدار قومیں ہیں جس پر سچ یہ ہے کہ داد پانا ان کا حق ہے، ان کے مطلوبہ نتائج یہاں پیدا نہیں ہو رہے اور اس معاملہ میں شاید اب وہ کسی بڑی خوش فہمی میں مبتلا بھی نہیں، تو بھی وہ یہ کوشش تو کر سکتی ہیں کہ معاملہ اگر ان کے رخ پر نہیں آتا تو معاملہ ہمارے رخ پر بھی نہ آنے پائے۔ یہ بھی ان کے حق میں کوئی چھوٹی کامیابی تو نہیں؟ یہ ہے وہ مصرف جس کیلئے آپ کی یہ سماجی وسیاسی قیادتیں رکھی گئی ہیں اور یہ ہے وہ فائدہ جو اس عبوری انتظام سے حاصل کیا جا رہا ہے۔ کچھ خیر سگالی اور کچھ امدادیں اور کچھ امیدیں جن سے ہماری یہ قیادتیں ہم ’اپاہجوں‘ کا پیٹ پالتی یا پیٹ بھرنے کے دلاسے دیتی رہیں اور ہم اس کے عوض ان روز بدلتے چہروں سے اپنی دلچسپیاں برقرار رکھیں کچھ ایسی مہنگی تو نہیں! ہمارے تالیاں پیٹنے اور ’زندہ باد‘ و ’مردہ باد‘ کا شغل کرنے سے حقیقت یہ ہے ان کی بڑی ہی امیدیں وابستہ ہیں! آپ دشمن کو نظریاتی طور پر ’ما ر دینے‘ کی طاقت نہیں رکھتے تو کم از کم اس کو ’اٹھنے‘ تو نہ دیں! ’عبوری دور‘ دراصل یہی ہے! اس دوران وہ کچھ سستا لیں اور دو جنگ ہائے عظیم اور سرد جنگ کی تھکن دور کرلیں تو پھر سے اپنی خونخواری کی صلاحیت آزمانے اور ہم پر چڑھ دوڑنے کی ایک کوشش کر دیکھیں۔ یہ نئے پھریرے جو ہمیں ’میراتھون‘ کی گرمجوشی میں فی الوقت اپنے اصل رنگ میں نظر نہیں آرہے کیا ایک نئے سلسلہءجنگ وخونریزی کا ہی آغاز نہیں؟ یہ بہرحال ایک حقیقت ہے کہ قومیں دراصل قیادتوں کے ساتھ نہیں قوموں ہی کے ساتھ معاملہ کرتی ہیں۔ یہاں قوموں کی تاریخ، قوموں کا حاضر اور امکانی مستقبل سب کچھ دیکھا جاتا ہے۔ اس معاملہ کی سطحی تفسیریں کرنا ضرر رساں ہوگا.... ’متحدہ ہندوستان‘ میں مسلم نوکریوں سے لے کر تقسیم بنگال تک اور ریڈکلف ایوارڈ سے لے کر عملاً تقسیم ہند تک آپ کو واقعات کا ایک خاص رخ pattern نظر آتا ہے اور پچھلے چھ عشروں سے ہر ہر موقعہ پر ’بھارت‘ اور ’پاکستان‘ کے ساتھ معاملہ کرنے میں ’بڑی طاقتوں‘ کے ہاں آپ دہرے معیار دیکھتے ہیں، کسی وقت ان پر ’صبر‘ کرتے ہیں اور کسی وقت احتجاج کرنے لگتے ہیں اور ’احتجاج‘ کر لینے کے بعد پھر ’صبر‘ کرتے ہیں اور بالآخر ’صبر‘ ہی کرتے ہیں.... تو کیا یہ بات آپ کو کسی نتیجے پر نہیں پہنچاتی؟ معاملہ قیادت کی ’روشن خیالی‘ سے حل ہونے کا ہوتا تو آخر کیوں نہ حل ہو گیا؟ انگریز ہندوستان سے جاتے ہوئے ’اپنا‘ سارا خزانہ اور اسلحہ اور نہ جانے کیا کیا کچھ ہندوؤں کو دے گئے اور آپ کو تہی دست کرکے حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ گئے بلکہ آپ کے ساتھ سکھوں اور گورکھوں کے نیزوں اور بھالوں کے دلچسپ کرتب دیکھتے ہوئے گئے جبکہ آپ کو دونوں نومولودوں کے ساتھ برابری کے سلوک کی توقع تھی تو کیا یہ محض کوئی ’انتظامی غلطی‘ تھی یا ہماری قیادتیں ہندو قیادتوں کی نسبت ’انگریزی‘ کم اچھی بولتی تھی جو وہ انہیں اپنی ضرورت اور اپنا ’حق‘ بتانے میں کامیاب رہیں اور ہم ناکام رہے!؟ ان چشم کشا واقعات کو چند شخصی مواقف میں محصور کر دینا چاہے وہ کتنے ہی حکیمانہ یا کتنے ہی خود غرض کیوں نہ باور کر لیئے جائیں حد درجہ کی سطح بینی ہوگا، جس کی کہ قومیں متحمل نہیں ہوسکتیں۔ کچھ باتوں کے جواب ’قیادتوں‘ میں نہیں ’قوموں‘ میں تلاش کرنا پڑتے ہیں.... کشمیر پر قراردادوں سے لے کر پاک بھارت جنگوں اور پھر جہازوں اور میزائلوں سے لے کر جوہری پالیسیوں اور خلائی پروگراموں تک ہر روز آپ کو آنکھیں کھولنے کی دعوت دی جاتی ہے مگر آپ کے تجزیہ کار ہیں جو ہر واقعے کی تفسیر ’اسی‘ واقعے کی حد تک کرکے آپ کا تعجب دور کر دیتے ہیں! ******* اس شکوہءعام کا بھی تجزیہ کیا جانا ضروری ہے کہ بیک وقت آزادی پانے والے دو ملکوں میں سے ایک ترقی میں کہاں سے کہاں چلا گیا اور دوسرا کس قدر پیچھے رہ گیا۔ اس کے ساتھ ہی لوگ پھر یہاں کی قیادتوں پر برسنا شروع ہو جاتے ہیں اور ان کی خوردبرد، اقربا پروری اور غیر جمہوری رویوں کے نالے بلند ہونے لگتے ہیں۔ ’واقعات‘ کی حد تک یہ سب سچ ہوگا مگر واقعات کو دیکھنے کا یہ ’انداز‘ ہمیں کسی لائحہءعمل پہ پہنچانے والا نہیں.... ایک تو حقیقت یہی ہے کہ وہ چیلنج جو استعمار کے اس ’عبوری دور‘ میں آج کی کسی بھی مسلم قوم کو درپیش ہیں، اپنی ان تمام جہتوں سمیت جو چودہ صدیاں پیچھے تک جاتی ہیں اور ان تمام جہتوں سمیت جو آئندہ کے اندیشہ ہائے دور دراز کی جانب اشارہ کرتی ہیں اور جن سے زور لگا کر بھی ہم اپنا رشتہ نہیں کاٹ سکے.... ان جہتوں کا عشر عشیر بھی اس ترقی پذیر دُنیا کے کسی ’غیر مسلم‘ ملک کو لاحق ہوتا، تو پھر ہم دیکھتے کہ اس کا حال کیونکر ہم سے بہتر ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ آپ غور کریں تو ہمارے ساتھ دشمنی رکھنا ترقی پانے کیلئے کئی ایک قوموں کے حق میں ایک ’اضافی سفارش‘ بن جاتا ہے۔ کوئی ایک صدی پہلے اقبال نے آپ کو جس ’گردوں‘ کی نشاندہی کرکے دی تھی اس کا ’اک ٹوٹا ہوا‘ تارا ہونے کے اپنے نقصانات بھی تو ہیں! ’جڑنے‘ میں جو ایک سود وزیاں ہوتا وہ اپنی ایک شان رکھتا، البتہ ’ٹوٹا ہوا‘ رہنے میں تو یہی جہان آتا جسے آپ ”تیسری دُنیا“ کہتے ہیں! آپ کی تو اپوزیشن میں اچھی قیادت نہیں رہنے دی جاتی۔ ’عبوری دور‘ ہے تو پھر کیا ہے! دوسری حقیقت وہی ہے جو ہم نے اس مضمون کے شروع میں بیان کی اور جو کہ پہلی کی نسبت کہیں زیادہ بنیادی ہے اور جس کا تعلق بیرون سے نہیں بلکہ اندرون سے ہے یعنی ’سمت‘ کا وہ تعارض جو ہمیں مسلسل ایک داخلی اضطراب میں مبتلا اور یکسوئی واستحکام سے کوسوں دور رکھے ہوئے ہے۔ تیسری حقیقت وہی ہے جو ہم عموماً ہی بیان کرتے ہیں اور وہ یہ کہ اس اُمت پر سوفیصد مادی قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اس کے معاملات سدھرنے یا بگڑنے کا براہ راست انحصار اس کے خدا سے معاملہ کرنے کی نوعیت پر ہے۔ یہ بات نہ ہو تو آپ سچے ہیں ”ایک ہی وقت میں دونوں آزاد ہوئے ان کو ایک سے بڑھ کر ایک مخلص اور محنتی اور باصلاحیت قیادت ملتی رہی اور ہمارے یہاں روز تختے الٹتے رہے اور ناکارہ قیادتیں اور اقتدار پرست طبقے آگے آتے رہے“۔ قیادتوں کا کردار قوموں کی قسمت بدلنے میں ایک درجہ مسلّم ہے ”ہمیں قیادتیں نہیں ملیں اور ان کو مل گئیں“......... اس کے مادی تجزیے بھی آپ ضرور کیجئے مگر ان تجزیوں کے دوران کچھ اہم کڑیاں جو آپ کو مفقود نظر آئیں اور جن کی آپ کے کالم نویس بھی ہزارہا صفحے سیاہ کر دینے کے باوجود آپ کو نشاندہی کرکے نہ دے پائیں کچھ ایسی محیر العقول کڑیاں آپ قرآن کھولیں تو ہو سکتا ہے آپ کو سامنے ہی پڑی نظر آئیں۔ حل رموز کے معاملے میں کچھ کنجیاں وقت کی آسمانی اُمت کی بابت ہمیشہ کیلئے قرآن ہی میں رکھ دی گئی ہیں۔ اس باب میں سب کی سب ’معلومات‘ آپ کو ’ریسرچ پیپروں‘ میں نہیں ملیں گی! اس اُمت کی بگڑی بن جانے اور اس کے معاملات سدھر جانے کا تعلق قرآن کے اندر اس کے تقویٰ اور قول سدید (جس میں سرفہرست قول توحید ہے۔ (6)) کی روش اختیار کرنے کے ساتھ بیان کیا گیا ہے (7) اور یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ خدا ہی اس اُمت کی مدد کرے تو کرے اور اس صورت میں کوئی اس پر برتری نہیں پا سکتا البتہ وہ اگر اسے بے مدد چھوڑ دے (جس کا سبب ظاہر ہے خود اِسی کی جانب سے ہوگا نہ کہ خدا کی جانب سے) تو پھر کون ہے جو اُس کے اِسے چھوڑ دینے کے بعد اِس کی مدد کو آئے اور یہ کہ اپنے معاملات ہمیشہ یہ خدا کو ہی سونپ کر رکھے اور ایک اسی کا سہارا تھام رکھنے میں یہ ہرگز کسی تفریط سے کام نہ لے۔ (8)۔ ******* بہرحال یہاں جو نکتہ واضح کرنا ہمارے پیش نظر ہے وہ یہ کہ اپنی اس نئی صف بندی کی بنیاد ’توحید کی امانت سینوں میں‘ ازسرنو جاگزیں کرانا ہمارے مابین اگر طے پا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف ہماری قوم کو یکسو اور یک جہت ہوجانے کی ایک بنیاد ہاتھ آئے گی اور جو کہ بوجوہ اس کیلئے یکسوئی کی واحد بنیاد ہے، بلکہ یہ ایک عظیم الشان بنیاد ہوگی اور قوم اس سے ایک حددرجہ زور دار dynamic جہت پائے گی۔ اس ’حد درجہ زوردار‘ ہونے کی ضرورت اس لئے کہ وہ چیلنج جو آپ کو اس وقت گھیرے ہوئے ہیں وہ کچھ بڑے ہی گہرے، بڑے ہی دیرینہ، بڑے ہی پیچیدہ اور بڑے ہی بھیانک قسم کے چیلنج ہیں بلکہ ایسے غیر معمولی چیلنج تاریخ میں شاید ہی کبھی ہمیں پیش آئے ہوں۔ یہ کچھ ایسے چیلنج ہیں کہ کسی چھوٹی موٹی صف بندی سے ہم ان چیلنجوں کا سامنا کرنے سے ہی قاصر رہیں گے یا پھر بڑی دیر تک ہم ان کے ساتھ الجھے رہیں گے۔ ہمیں اس وقت ایک بہت بڑی اور غیر معمولی اٹھان کی ضرورت ہے۔ خدا کا فضل ہے اس کے وہ شایان شان بنیاد ہمیں بالفعل حاصل ہے جو ہمارے نوجوانوں کو ’کسی طوفاں سے آشنا کردے‘۔ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ کچھ بہت ہی تنگ راستے ہیں بلکہ تو بڑی حد تک بند راستے ہیں جنہیں کھولے بغیر آگے بڑھنے کی کوئی صورت نہیں۔ اس کیلئے قوت کی ’کوئی سی بھی‘ مقدار ہرگز کافی نہیں تاآنکہ یہ شدت اور ترکیز کے ایک خاص درجے کو پہنچی ہوئی نہ ہو۔ یہ قوت صرف ہمارے عقیدے میں ہے۔ توحید کی اس صلاحیت پر آئندہ فصلوں میں ہم کچھ روشنی ڈالیں گے۔ گو فی الوقت ہم کسی نظریاتی انقلاب کا نتیجہ نہیں مگر کچھ مخلص سمجھدار محنتی انسانوں کی ایک جمعیت اگر میسر آجاتی ہے اور وہ اس میں پرعزم ہو جاتی ہے تو کچھ عشرے لگا کر قوم کے ایک معتدبہ طبقے کو اس عمل سے بخوبی گزارا جا سکتا ہے جو ‘نظریاتی انقلاب‘ سے بھی کہیں بڑھ کر بنیادی اور فطری اور ڈائنامک ہو اور جو کہ درحقیقت وہ کام ہے جو انبیاءنے اپنے معاشروں کو کرکے دیا اور جس تک آج صرف ہم موحدین ہی کو رسائی ہے۔ یہ بھی بنیادی طور پر ہماری اس کتاب کے آخری باب ہی کا موضوع ہے۔ ******* تیسری بات: یہ کہ اپنے لئے ’پہچان‘ اور ’سمت‘ کی جو بنیاد آپ اختیار کریں وہ نہ صرف زبردست ہو بلکہ اس پر آپ آخری درجے کی شدت اور کڑا پن اختیار کرسکیں۔ قوموں کی ایک بڑی ضرورت ہے کہ جس لڑی کو وہ اپنے پروئے جانے کیلئے ایک بار منتخب کرلیں اس کو پھر روز تاؤ دیں اور مضبوط سے مضبوط کریں۔ جس چیز کو وہ اپنے وجود کا عنوان بنائیں کسی جھجک کے بغیر روز پھر اس کا نام جپیں۔ بچہ بچہ اس کی گردان کرے یہاں تک کہ واقعتا وہ اس کی پہچان اور اس کی جہت ہو جائے۔ اس معاملہ میں کثرت تکرار اتنی اہم نہیں جتنی کہ شدت اور قطعیت۔ اصل بات ہے اس کا واشگاف ہونا اور ڈنکے کی چوٹ ہونا.... جس چیز کو آپ اپنے لئے اصل مانیں گے اور اسی کیلئے جینا اور اسی کیلے مرنا قبول کرلیں گے اس کے حق میں آپ بے لحاظ ہو جانے کی حد تک دو ٹوک ہوں گے۔ قوموں کو چلانا پہاڑ ہلانے سے زیادہ دشوار کام ہے۔ جو دعوتیں ’افراد‘ پیدا کرتی ہیں ان کا کام آسان ہے مگر جس دعوت کو ایک قوم پیدا کرنی ہو اس کی مشکل سوا ہے۔ قوموں کا نسل درنسل کیلئے جہت پا رکھنا آشوب ناک چیلنج ہے.... علاوہ کچھ دیگر امور، لہجے کی کاٹ اور اسلوب کی صراحت یہاں ناگزیر ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو ایک نظریے کو تحریک میں اور تحریک کو معاشرے میں بدل کر رکھ دیتی ہے۔ انبیاءکو برسوں ایک ہی بات پر اصرار کرتا اور اس سے متصادم بات پر تپشے برساتا دیکھ کر آپ حیران رہ جاتے ہیں۔ سطح بین جب تک اس کے ’نتائج‘ نہیں دیکھ لیتے تب تک مسئلے کی نزاکت اور معاملے کی تہہ کو نہیں پاتے۔ بلکہ کئی سطح بین نتائج دیکھ لینے کے بعد بھی اس طویل اصرار اور اس ’انا النذیر العریان‘۔ (9) ایسی مہم کی تہہ کو نہیں پاتے۔ ان کی نظر ہی سیدھی ’نتائج‘ پر جاتی ہے اور وہ انہی امور کو دیکھ پاتے ہیں جو انبیاءنے اپنا اصل بنیادی کام شروع کرلینے کے خاصا بعد جا کر اختیار کئے۔ یہ ایک انداز فکر ہے جو درخت کو صرف پھل لگے دیکھ سکتا ہے! قطعیت اور ناقابل مفاہمت فیصلہ کن اسلوب خطاب ہی یہاں معاملے کی اصل جان ہے۔ ’جہت‘ اس کے بغیر ممکن ہی نہیں.... بعض ’علیحدگی پسندوں‘ اور ’قوم پرستوں‘ میں آپ دیکھتے ہیں کہ وہ اپنی اس ایک خاص پہچان کے ماسوا جسے وہ اپنے لئے زندگی مو ت کا مسئلہ بنا چکے ہوتے ہیں باقی ہر پہچان اور ہر وابستگی کو اس شدت سے نفی کرتے ہیں اور اس کے سوا ہر نام کو اپنے لئے ایسی ذلت قرار دیتے ہیں کہ مخالف کا خون تک کھول اٹھے مگر وہ اسی میں لطف لیتے اور اسی میں تسکین پاتے ہیں تو اس کی ایک طبعی وجہ ہے۔ ایک پہچان دوسری پہچان کی قیمت پر ہوتی ہے اور ایک سمت دوسری سمت کو چھوڑ کر ہی اختیار ہوتی ہے۔ کم از کم ابتدا میں معاملے کو پٹڑی پر چڑھانے کیلئے اس کی ضرورت رہتی ہے۔ قوموں اور گروہوں کا بنایا جانا ایک خاص نوعیت کے صریح وشدید رویوں کا متقاضی ہے۔ اس عمل میں جو چیز ریڑھ کی ہڈی کا کام دیتی ہے وہ ہے ابن خلدون کے بقول عصبیت۔ اس سے کوئی بھی مفر نہیں۔ یہ ضرورت آپ عقیدہ سے پوری کروا لیجئے تب دُنیا بھی ہاتھ آتی ہے اور آخرت بھی۔ نیز آپ میں پائے جانے والے سب نفیس وبرگزیدہ انسانی خصائص اس سے جلا پاتے ہیں۔ بصورت دیگر یہ ضرورت آپ کو کسی باطل نظریے سے پوری کرنا ہوتی ہے جس میں دُنیا اور آخرت کی بدبختی ہے اور آپ میں پائے جانے والے اعلی انسانی خصائص کا مسخ۔ کچھ بھی میسر نہ ہو تو یہ ضرورت آپ کو ’مٹی‘ سے پوری کرنا ہوتی ہے اور جو کہ درحقیقت اپنے اندر پائے جانے والے بہترین انسانی جوہر کو خاک میں ملا دینا ہے...... البتہ کسی نہ کسی چیز پر صبح شام مرنا آپ کی مجبوری ہے! قوم یا جماعت یوں سمجھیے اینٹوں اور روڑوں کا مجموعہ ہے ان کے جوڑنے کیلئے آپ کو لازماً کوئی ’سیمنٹ‘ چاہیے۔ اس کیلئے ایک چیز وہ ہے جو آپ کو انبیاءسے ملتی ہے اور انبیا سے آپ کو وہی ملتا ہے جو ’انسان‘ کے شایان شان ہو۔ یہ نہ ہو تو آپ کو کوئی اور نسخہ بروئے کار لانا ہوتا ہے۔ مگر یہ ممکن نہیں کہ بیٹھے بٹھائے ایک بنی بنائی ’قوم‘ آپ کیلئے لا حاضر کی جائے۔ کچھ ٹیکنوکریٹ آرڈر پر آپ کو یہ ’مال‘ تیار کرکے نہیں دے سکتے! ایک اجتماعی حوالہ جو ’عصبیت‘ کی حد کو پہنچ گیا ہو، نفوس میں گہرا اتر گیا اور باقی سب حوالوں کو کالعدم کر گیا ہو آپ کی مستقل ضرورت ہے۔ ایک خدا اور ایک حق کے سوا کسی بھی بات پر ’جذبات‘ میں آتا بے حد معیوب لگتا ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ اس کی نظر آسمان کی طرف اٹھوا دی جائے اور اس کو آخرت کا افق دکھا دیا جائے۔ یہ وہ نعمت ہے جو خدا نے انبیا کی وساطت موحدین پر بدرجہ اتم کر رکھی ہے۔ اس کے سوا جس چیز پر بھی آدمی مرنے مرانے پر اتر آتا ہے وہ اشرف المخلوقات کے درجہ سے فروتر ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ جس چیز کیلئے بھی آدمی جان ومال یا عزت وآبرو قربان کر دینے پہ مصمم ہو خواہ وہ زمین ہو یا پرچم یا قیادت یا کچھ اور، پہلے وہ اس کا ٹھیک ٹھیک رشتہ خدا کے ساتھ اور حق کے ساتھ قائم ہو چکا ہونے کا اطمینان کرلے۔ کیونکہ ’انسان‘ اور ’انسان کی ہر چیز‘ اس سے کہیں زیادہ قیمتی ہے کہ وہ خدا کے سوا اور حق کے سوا کسی چیز پر ’قربان‘ ہو۔ کوئی بھی چیز انسان سے افضل ہو تو ’انسان‘ اس پر وارا جائے! یہ تو خیر وہ خاص برگزیدہ بات ہے جو اسلامی تربیت ہی کے نتیجے میں ’انسان‘ کے اندر اتاری جا سکتی ہے۔ مگر ’انسان‘ جب اپنے اس مقام سے گرتا ہے تو وہ اپنے ’اجتماع کی بنیاد کسی ایسی چیز کو بنا بیٹھتا ہے جو انسان کے مرتبے سے فروتر ہو۔ پھر چونکہ انسانی اجتماع ایک خاص درجے کی چپک اور پیوستگی مانگتا ہے اور قومی شیرازہ بندی ایک خاص نوعیت کی شدت اور صلابت چاہتی ہے لہٰذا اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا کہ وہ ہر اجتماعی رشتے کو اپنے اسی ایک رشتے کی ذیل میں لائے اور ایک اسی کی ملت میں گم کردے۔ کم از کم زبان اور بیان کی حد تک کسی قوم کی زندگی میں ایسا ہی ہو۔ نہ صرف یہ بلکہ صبح شام، اسی کی بزرگی کے تذکرے ہوں اور اسی کی برتری کے گیت۔ یوں جتنا انسان اپنے سے چھوٹی چیز کو ’بڑا‘ کرتا ہے اتنا ہی خود ’چھوٹا‘ ہوتا چلا جاتا ہے۔ خدا کی عظمت و وحدانیت کے سوا اجتماعی گرمجوشی کی ہر اختیاری بنیاد انسان کیلئے دنیا کی ذلت ہے اور آخرت کی حسرت۔ الْأَخِلَّاء يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِينَ (10) ******* بوجوہ معاملہ اب یوں ہے کہ کسی بھی باطل کو اپنے یہاں آپ اختیار تو کر سکتے ہیں مگر اس پر خم ٹھونک کر کھڑے ہو جانا اول تو خود آپ کیلئے آسان نہیں۔ مگر یہ کہ قوم بھی اسی پر آپ کے ساتھ خم ٹھونک کر کھڑی ہو جائے، ناممکنات میں ہے۔ کوئی باطل بھی صاف نکھر کر اس کا نعرہ بنے اور اس کیلئے نسلوں کی جہت ٹھہرے، قابل تصور نہیں۔ ’عصبیت‘ کے وجود میں آنے کیلئے البتہ یہی ضروری ہے کہ آپ کو کوئی ایسی چیز حاصل ہو کہ قوم کا ایک معتدبہ طبقہ اپنا سب کچھ مٹا کر اسی کی ملت میں گم ہو جانے پر نہ صرف تیار ہو بلکہ اس پر فخر کرتا ہو۔ ایک چیز سے وابستگی میں اس حد تک جائے بغیر معاملہ بنتا ہی نہیں۔ اسلام کے سوا اول تو آپ کو کوئی چیز ایسی میسر نہیں جو اپنی ذات میں اس بات کی ضمانت ہو کہ صدیوں سے غفلت و ادبار کی ماری ہوئی ایک قوم میں داعیہ عمل پیدا کرلے اور کسی غیر معمولی تبدیلی کیلئے اس میں نشاط کی روح کوٹ کوٹ کر بھردے۔ اور اگر بفرض محال ایسی کوئی چیز ایجاد کر بھی لی جائے تو بوجوہ آپ کیلئے یہ ممکن نہیں کہ اجتماعی سطح پر ’عصبیت‘ میں اس کے اندر آپ تعظیم کے اس خاص نقطے کو چھو لیں جہاں پہ آپ کی قومی زندگی کی ایک اٹل حقیقت بن جائے کہ اس کو پھر نہ تو کوئی بڑا سے بڑا جھٹکا متاثر کرے اور نہ صدیوں اس پر بحث کی گنجائش رہے۔ جس چیز کو بھی آپ ’پوجیں‘ گے صبح شام آپ کو اس کی تسبیح اور تعظیم کرنا ہوگی۔ اس کی تکبیرات کہنا ہوں گی۔ اس کی ہمسری کرنے والی کسی بھی چیز کو ہیج جاننا ہوگا۔ تسبیح اور تکبیر کے اس عمل میں البتہ اگر آپ جھینپ جانے لگیں یا آپ کی قوم اس پر ڈانواں ڈول رہے تو آپ کا وہ معبود آپ کیلئے ’اجتماع‘ اور ’شیرازہ بندی‘ کی مضبوط بنیاد بنے گا اور نہ آپ کے اندر اجتماعی امنگوں اور قومی ولولوں کے طوفان اٹھانے کی ضمانت دے پائے گا۔ باطل معبود آخرت میں تو آپ کو مروائے گا ہی دنیا میں بھی زندگی نہ دے پائے تو اس کا فائدہ؟ یہاں پھر اُمت محمد ہونا آپ کے راستے میں آکھڑا ہوتا ہے! ڈاکٹر جعفر شیخ ادریس ایک جگہ لکھتے ہیں: مغرب کے لبرلوں اور ہمارے یہاں کے لبرلوں میں جو ایک فرق ہے وہ یہ کہ اُن کو آپ دین کا انکاری کہیں تو وہ اسے طعنہ نہیں سمجھتے بلکہ سینہ تان کر اس پر فخر بھی کرتے ہیں۔ مگر ہمارے یہاں کے لبرل اپنے بارے میں ایسی بات سن کر ناراض ہو جاتے ہیں! وہی طبعی جھجک جو خدا نے اس اُمت میں وافر رکھی ہے! یہاں تو ’مرتد‘ ہونا ہی آسان نہیں! صرف ’جلسے جلوسوں‘ کے ڈر سے نہیں جن کے پیش نظر مغرب کا کوئی سفارت خانہ لمحہ بھر تاخیر کئے بغیر آپ کو ویزہ سٹیمپ کرکے گھر میں بھیج دیتا ہے، بلکہ ایک طبعی حیا ہے کہ ایک باطل اعتقاد اگر دل میں گھر کر گیا ہے تو بھی وہ زبان پر آنا اس پر بے حد بھاری ہو جاتا ہے اور برسرمجلس تو زبان ہکلانے لگتی ہے! فحمداً لرب العالمین۔ ایک خیر کو حقیر جان کر آدمی اپنے ہی ساتھ ظلم کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے وہ بہت سے طبقے جن کو نہ جانے کسی وقت ہم کتنا ہی برا سمجھ لیتے ہوں گے حتی کہ وہ لوگ جن کو یہاں ہم مغربی مفادات کے رکھوالے باور کرتے ہیں اول تو شاید اعتقاداً اس حد تک نہیں گئے ہوتے بلکہ ماحول اور حالات کا دھارا ہوتا ہے جو انہیں کچھ اس سمت کو دھکیل دیتا ہے، خصوصاً جبکہ حق کی تعلیم دینے والی وہ اسوہ اور نمونہ شخصیات جو ان کے گرد پائے جانے والے تاریک ہالوں کا پردہ چاک کرکے ان کیلئے روشنی کا زندہ منبع بن سکیں خصوصاً اصحاب فیض جو بدعت سے پاک صاف منہج پر رہتے ہوئے دِلوں کی دنیا تبدیل کرنے میں یہاں مرجع خلائق ہوں، ایک بڑی حد تک اس وقت ناپید ہیں.... اور ثانیاً ان میں سے کئی ایک اگر اعتقاد کے کسی انحراف کا شکار ہیں بھی۔ (11) تو وہ اسے زبان پرلاتے ہوئے اچھا خاصا ہچکچاتے ہیں، جو کہ طبعی طور پر ہے نہ کہ کسی شاطرانہ چال کے باعث۔ یہی بات ان کے کسی نہ کسی وقت ہدایت پا جانے کیلئے ایک بڑی امید کا درجہ رکھتی ہے۔ یہ البتہ واضح ہے کہ باطل کا کھلم کھلا پرچار کرنا یہاں بوجوہ دشوار ہے.... توحید کے پرچار سے بھی کہیں زیادہ دشوار! ایک سنجیدہ دعوتی عمل کو جو ”ذرا نم“ کا بندوبست کرلے یہاں سے بے پناہ امیدیں ہو سکتی ہیں۔ بہرحال.... اب نہ آپ باطل پر ہی صاف صاف قوم کو لے آسکیں اور نہ اسلام پر ہی سیدھا سیدھا قوم کو لے آنے پر تیار ہوں۔ سمت کے بغیر آپ چلیں گے کیسے؟ کئی سمتوں میں چلنے کے نتائج سے کیا آپ آگاہ بھی ہیں؟ اور پھر ’قوم‘ ہونے پر بھی ابھی آپ مصر ہیں! آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ یہاں کے کئی ایک لادین اور زندیق بھی جن کے ساتھ حسن ظن تک کوئی گنجائش آپ نہیں پاتے جس وقت کبھی ٹی وی یا عوامی سیمینار یا کسی پبلک فورم پر آتے ہیں تو اس قدر گھما پھرا کر بات کرتے ہیں اور اپنی اس ’بات‘ کیلئے ان کو اس قدر لمبی تمہید باندھنا پڑتی ہے اور بسا اوقات بیچارے ’برسر مطلب‘ آنے سے پھر رہ جاتے ہیں اور شاید دل کی بات دل ہی میں لے کر چلے جاتے ہیں.... کہ انہیں دیکھ کر آپ سوچ میں پڑ جاتے ہیں کیا واقعتا یہ لوگ دل سے سمجھتے ہیں کہ ان کی باطل راہوں پر یہ قوم کسی دن ان کے ساتھ رواں دواں ہوگی.... یا یہ محض قوم کا وقت برباد کرنے کیلئے یہاں رکھے گئے ہیں!؟ ******* یہ وہ تین اعتبارات ہیں جو اس بات کا فیصلہ کرنے کیلئے کہ سمت کا بحران جو اس قوم کو درپیش ہے کیونکر حل ہو، اس قوم کے کسی بھی خیر خواہ کے پیش نظر رہنا ہمارے خیال میں ضروری ہیں۔ بلکہ یہ تینوں گزارشات اگر آپ کی توجہ پا لیتی ہیں تو یہ یقین کرنے میں، جو کہ اہم تر ہے، آپ کی مددگار ہوں گی کہ بطور قوم ہمیں اس سنگین نوعیت کا کوئی بحران یا کوئی بنیادی روگ سرے سے لاحق ہے بھی یا نہیں۔ یہاں اس فصل میں ہمارے پیش نظر اس بحران کو ہی واضح اور اس سے مخرج کا ہی تعین کرنا تھا رہ گیا لائحہءعمل تو اس کی جانب کچھ اشارات آئندہ فصلوں میں کئے جائیں گے اور اس کی کچھ تفصیلی صورت اس سلسلہ مضامین کے آئندہ حصہ میں۔ وصلی اﷲ علی النبی ************ (1) (العنکبوت: 66، 65) ”جب یہ لوگ کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو اپنے دین کو اللہ کیلئے خالص کرکے اس سے دُعا مانگتے ہیں، پھر جب وہ انہیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو یکایک یہ شرک کرنے لگتے ہیں تاکہ اللہ کی دی ہوئی نعمت پر اس کا کفران نعمت کریں اور (حیات دُنیا کے) مزے لوٹیں اچھا عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا۔ (تفہیم القرآن) (2) (حم السجدۃ: 42): ”جس کے پاس باطل پھٹک بھی نہیں سکتا نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے۔ یہ ہے نازل کردہ حکمتوں والے خوبیوں والے (اللہ) کی طرف سے“۔ (جونا گڑھی) (3) صحیح بخاری میں تین جگہوں پر حدیث معراج کے ضمن میں مذکور ہے کہ رسول اللہ نے وقائع معراج میں بیان فرمایا کہ مجھے دو دریا عطا فرمائے گئے ایک نیل اور ایک فرات (کتاب الاشربہ باب شرب اللبن، کتاب التوحید باب قولہ وکلم اﷲ موسی تکلیما، کتاب بدءالخلق باب ذکر الملائکۃ) (4) حبیب بورقیبہ Bourguiba 2000-1903 تونس کا صدر (5) (البقرہ: 120) ”یہودی اور عیسائی تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک کہ تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو“۔ (6) یعنی عام معاملات میں بھی صاف درست پائے مگر سب سے بڑھ کر قول سدید کچھ ہے تو وہ توحید ہے اور شرک کی نفی۔ ہمارے اس دور کے ایک بڑے عالم شیخ عبدالرحمن السعدی نے اپنی شرح کتاب التوحید کا نام ہی القول السدید رکھا ہے۔ (7) سورۃ الاحزاب، آیت 71، 70 (8) سورۃ آل عمران، آیت 161 (9) حدیث متفق علیہ عن ابی موسی الاشعری انا النذیر العریان یعنی ”میں ہوں برہنہ طور پر خبردار وانذار کردینے والا“ (10) (الزخرف:67) ”بڑے جگری دوست اس روز آپس کے دشمن ہوں گے سوائے ان کے جو (یہاں) تقویٰ اختیار کئے رہے“۔ (11) شرک، کفر اور نفاق اہلسنت کے نزدیک قولی بھی ہو سکتا ہے، عملی بھی اور اعتقادی بھی، گو اس کی بدترین صورت اعتقادی ہے
|