
|
|
|
|
آراء وتنقید
ایقاظ کے شمارہ (اکتوبر تا مارچ 2006) پر ایقاظ کیلئے کلمہ خیر کہنے والے بھائیوں نے ایقاظ کی پالیسی پر اعتراضات کئے ہیں، ان سوالات اور اعتراضات کا خلاصہ بیان کرنے کے بعد مدیر ایقاظ کا جواب قارئین ایقاظ کیلئے پیش خدمت ہے۔ بخدمت مدیر ایقاظ: السلام علیکم ورحمۃ اﷲ گزشتہ ایقاظ کے اداریے میں مدیر ایقاظ نے جہادی فریق اور ان کے مخالفین دونوں کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے۔ جس طرح مدیر ایقاظ نے جہاد کیلئے غیر ضروری بلکہ ناممکن شروط کا رد کیا ہے اس کے بعد آپ نے کس قاعدے سے اس فریق کیلئے اجتہاد کا حق رہنے دیا ہے۔ جس طرح آپ نے اس فریق کے سطحی پن کو ثابت کیا ہے اس کے بعد حق یہ تھا کہ سیدھے طریقے سے انہیں اہل سنت کے دائرے سے فارغ خطی دے دی جاتی۔ آپ نے یہاں چالاکی دکھائی اور بعد المشرقین کے باوجود انہیں صاحب اجتہاد رکھا ہے۔ اگر اسے مداہنت نہ کہا جائے تو پھر یہ مدیر ایقاظ کے اہل سنت کے دائرے سے عدم واقفیت پر ضرور دلالت کرتا ہے۔ مدیر ایقاظ کی سابقہ تحریروں (ایقاظ کے اجراءسے پہلے) سے عام طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ کشمیر کی مزاحمت ایک قومی اور خطے کی مزاحمت ہے۔ اس اداریے میں واضح طور پر کشمیر کی مزاحمت کو من جملہ دوسرے مسلم اکثریت والے خطوں میں قابض حکومتوں کے خلاف جاری مزاحمت کی طرح بلاشروط مطلق طور پر سب کو جہاد اسلامی کہہ دیا گیا ہے۔ آپ کا پہلا موقف درست تھا یا اب جو آپ پیش کر رہے ہیں وہ درست ہے یا آئندہ جو موقف آپ پیش کریں گے وہ درست ہوگا۔ کیا ہمارے دین دار طبقہ کو ہمیشہ اپنا موقف بدلنے کیلئے تیار رہنا چاہئے!؟؟؟ ایقاظ پڑھ کر بعض اُردو ادب پڑھنے والے پرامید تھے کہ اہل سنت کے اصولوں کو درست طور پر بیان کرنے والوں میں سہ ماہی ایقاظ ایک اچھا اضافہ ہے۔ مدیر ایقاظ اور مجلس ایقاظ سے درخواست ہے کہ اُردو خواں طبقے کو الجھنوں سے بچائیں۔ یہ بات اذیت ناک ہے کہ ایقاظ بھی اسی روش پر چلے جس پر پہلے ہی ہمارے ہاں خودکفالت سے بھی زیادہ برآمد کرنے تک کیلئے سامان موجود ہے۔ (تحریر ایقاظ) ***** (1) پہلی بات یہ کہ موضوع زیربحث پر ’ایقاظ‘ سے پہلے ہماری کوئی تحریریں نہیں پائی جاتیں۔ اس موضوع پر ہمارے ہاں جو بھی لکھا گیا وہ سب ایقاظ میں ہی شامل ہے۔ (2) کشمیر سمیت تمام مسلم اقوام کے حق مزاحمت کا ہمارے یہاں کبھی انکار نہیں کیا گیا۔ مضمونِ مذکورہ کا بنیادی موضوع مسلم مزاحمت کے کچھ اصولی مباحث ہی ہیں۔ (3) ’اجتہاد‘ کا حق دینے یا نہ دینے سے متعلق، پہلے ہمارے وہ جملے ذکر ہو جائیں جو اس اعتراض کا موجب بنے ہیں تو ہماری گزارشات کے سمجھے جانے میں ممد ہوگا: اُمت کے اہل علم کی ایک بہت بڑی تعداد، ہم دیکھتے ہیں کہ ایسی حالت میں بھی اُمت کو بعض محاذوں پر کفار کے خلاف ہتھیار اٹھوانے کا اجتہاد کرتی ہے، اور بعض محاذوں کی بابت ان کے اجتہادات ایک دوسرے سے مختلف ہو جاتے ہیں تو بھی ایک دوسرے پر تشنیع نہیں کرتی بلکہ آپس میں، مختلف اجتہاد رکھنے کے باوجود ایک دوسرے کیلئے توفیق اور غلبہ ونصرت کیلئے متمنی و دُعاگو رہتی ہے۔ یعنی علما نے اُمت کا اختلاف بعض محاذوں کی بابت ہو سکتا ہے، اصولی طور پر اُن میں اُس پر کوئی اختلاف نہیں کہ اقتضائے مصالح کے پیش نظر آج جب خلیفہ یا امام موجود نہیں، یہ اُمت قتال کی مجاز ہے۔ البتہ ہمارے یہ معدودے چند اصحاب جن کے علمی رسوخ کی بابت اہل علم کی کوئی شہادت بھی ہمارے علم میں نہیں اس مسئلے کو اجتہادی مسئلہ ماننے پر تقریباً تیار نہیں۔ چنانچہ یہ اس مسئلے پر اپنے ہی اختیار کردہ موقف کو بلکہ شاید ہر مسئلہ میں اپنے ہی اختیار کردہ موقف کو دین کی قطعیات میں شمار کرتے ہوئے اس کے سوا سب مواقف کو دین، قرآن، عقل، منطق سب سے متعارض اور بسا اوقت تو نظر کا افلاس قرار دیتے ہیں۔ بہرحال ان کے بارے میں ہمارا علم کوئی حجت نہیں اگر وہ اجتہاد کی اہلیت رکھتے ہیں تو بھی اسے ایک اجتہادی رائے کے طور پر پر پیش کریں اور دوسروں کو اپنے اپنے اجتہاد پر چلنے دیں بغیر اس کے کہ ان پر اس شدت سے تشنیع کریں اور ہر ہر موقعہ پر ان کو ہدف تنقید بنائیں بلکہ سب سے بڑا محاذ انہی کے خلاف کھڑا کرلیں۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ اگر یہ اپنے تئیں مجتہد ہیں تو بھی یہ اپنے اجتہاد پر عمل کریں اور دوسروں کو اپنے اجتہاد پر عمل کرنے دیں؟ کیا اس سے واقعتاً ہمارا کسی کو ’اجتہاد‘ کا حق دینا ثابت ہو جاتا ہے؟ یعنی ہم صاف کہہ رہے ہیں کہ ایک فریق کے علمی رسوخ کی بابت اہل علم کی کوئی شہادت ہمارے علم میں نہیں، مگر اس سے یہ مطلب نکال لیا گیا کہ ہم انہیں ’اجتہاد کا حق دے رہے ہیں! یہ ایک الزامی طریقہ ہوتا ہے کہ آپ ایک دُور کا مفروضہ لا کر اس کو بھی پھر رد کردیں۔ مثلاً آپ اعلامِ اہلسنت کی کثیر علمی بحثوں میں دیکھیں گے کہ کسی ضعیف حتی کہ واہی حدیث پر گفتگو کرتے ہوئے، جو کہ کسی منحرف گروہ کی جانب سے اپنے کسی انحراف پر دلیل کے طور پیش کی جاتی ہے، اول تو اس کو سند کے لحاظ سے رد کرتے ہیں، پھر وہ اس کا اس انداز سے بھی رد کرتے ہیں کہ ’اچھا کچھ دیر کیلئے یہ فرض کربھی لیا جائے کہ یہ حدیث ضعیف نہیں تو اس کا جواب یہ اور یہ اور یہ ہے‘، مذکورہ بالا اقتباس میں ہمارا یہ الزامی انداز بے حد واضح ہے۔ ہمارے الفاظ ’اگر یہ اپنے تئیں مجتہد ہیں‘ سے کیا یہ واضح نہیں؟ یہ ’مطلب‘ کشید فرما کر کہ ہم اس فریق کو ’اجتہاد‘ کا حق تفویض کر دیا ہے، ویسے آپ نے ہمارے اس سارے مضمون کا مول ہی کیا لگایا؟ حق تو یہ ہے کہ ہمارے اس مضمون کا بڑا حصہ، ہماری دوسری بیشتر تحریروں کی طرح اہلسنت کے منہج تلقی سے ہی بحث کرتا ہے اور اس کے اندر ہم نے ’اصولِ استدلال‘ کی بابت کچھ ’تاصیلات‘ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ’مزاحمت‘ کا جواز اور عدمِ جواز اس بنیادی مسئلہ کی نسبت ہماری نگاہ میں ثانوی ہے، آپ اس سے اختلاف نہ کریں گے کہ مضمون کا سارا زور ہی ان انحرافات سے متنبہ کرنے پر ہے جو اجتہاد اور تجدید کے نام پر اُمت کے تاریخی تسلسل سے ہٹ کر آج ایک نئی راہ نکالنے کی فکر پر مبنی ہیں، پورا مضمون پڑھ لیجئے آپ کو اس کے اندر اسی انحراف کی بیخ کنی نظر آئے گی، آپ اس سارے مدعا کو تو یکسر چھوڑ دیں البتہ کسی ایک جملے کو پکڑ کر، جس سے آپ کا کشید کردہ، ’وہ‘ مطلب پھر بھی ثابت نہیں ہوتا، آپ یہ مفہوم نکالیں کہ ہم نے ایک فریق کیلئے ’اجتہاد‘ کا حق تسلیم کرلیا ہے! یعنی جس انحراف کا اس پورے مضمون کے اندر ہم رونا روتے آئے ہیں آپ کے نزدیک ہم ان اصحاب کی ’اجتہادی اہلیت‘ ثابت کرتے رہے ہیں! ’منہج تلقی‘ تو اپنی جگہ خیر بے اہم مضمون ہے! ہمارے کچھ نوجوانوں کو ’مطالعہ کا اسلوب‘ بھی شاید تبدیل کرنا ہوگا۔ ذرا کچھ اور پیرے بھی ملحوظِ خاطر رہیں تو ہماری گفتگو کا مضمون واضح ہو سکتا ہے کہ آیا واقعی ہم اس فریق کو ’اجتہاد کا حق‘ دے رہے ہیں یا اس کی ’بنیاد‘ کو ہی نادرست قرار دیتے ہیں؟ ملاحظہ فرمائیے! ’اجتہاد‘ برحق ہے اور ہمیشہ کی طرح آج بھی مطلوب۔ مگر اس کی صدا جب ان طبقوں کی جانب سے آئے جن کا اصولِ سنت سے تمسک تاحال ایک سوالیہ نشان ہو تو وہ وقت خدا سے عافیت کے سوال کا ہوتا ہے۔ آج یا پہلے کسی زمانے میں، اُمت کی تاریخ میں جتنے بھی ’نئے‘ افکار بظاہر ’جمہود‘ اور ’حشویت‘ کے خلاف برپا ہوئے اور دین کی ایک تفسیر نو کی کوشش کرتے رہے وہ اپنے زمانے کے .... خصوصاً بیرون سے آئے.... بعض فکری رجحانات اور ثقافتی ونظریاتی فشینوں سے ہی متاثر ہونے کا نتیجہ تھے“، خواہ وہ پرانے زمانے میں فلسفہ ہائے یونان سے متاثر ہونے والا علم کلام اور فکر اعتزال ہو یا موجودہ دور میں مغرب کی فکری یلغار سے متاثرہ رجحانات جدت پسندی۔ جہاد کو نہ صرف قومی ریاستوں کے فلسفہ میں مدغم بلکہ اب تو نئے عالمی منظر نامے سے بھی ہم آہنگ کر دینے کی فکری کوششیں خاص ہمارے اس دور استعمار ہی میں جا کر ہوتی ہیں اور یوں جہاد ’کے مفہوم‘ سے لے کر جہاد کے ’وقت‘ تک پر ایسی ایسی ’تحقیقات‘ سامنے آتی ہیں جن کی رُو سے استعمار کے جیتے جی مسلمانوں کے گھر میں وہ نو من تیل کبھی اکٹھا ہونے ہی نہ پائے جب استعمار کے خلاف جہاد کے ’شرعی‘ ہونے پر یہ لوگ صادر کر دیں گے، عملاً تب بھی کوئی ’خنجر اٹھے گا یا تلوار ان سے‘ خدا ہی جانے.... یوں جہاد کے موضوع پر استدلال واستنباط کی ایسی ایسی جہتیں برآمد ہوتی ہیں کہ اُمت کی سب نسلوں کو ان ’انکشافات‘ کے حوالے سے نصوصِ شریعت کے کچھ ’جلی ترین‘ مفہومات سے نابلد مانے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا.... تو اس بات کا ’زمانے کی ریت‘ سے کیا ہرگز کوئی تعلق نہیں!؟ ہر دور کی اہل اسلام سے کچھ اپنی فکری اور نظریاتی اور ثقافتی فرمائشیں ہوتی ہیں وَاحْذَرْهُمْ أَن يَفْتِنُوكَ عَن بَعْضِ مَا أَنزَلَ اللّهُ إِلَيْكَ(1) ہر دور کا ایک خاص مزاج اور فکری پس منظر ہوتا ہے جو خودبخود اس دور کے پڑھے لکھوں کی ایک ذہنی ساخت کر دیتا ہے۔ کچھ ذہین اور مخلص اور اسلام سے ہمدرد لوگ اپنے زمانے سے متاثر ہونے کے بعد جب قرآن وسنت کو ’براہ راست‘ اور بڑی مصیبت یہ کہ خود ’اپنے ہی اخذ کردہ مبادی فہم‘ کی بنیاد پر اور خصوصاً اتباع سنت کے ایک تاریخی تسلسل کا حصہ بنے بغیر سمجھنا چاہتے ہیں تو لاشعوری طور پر ان کے مطالعہ دِین اور ان کی تحقیق میں ان کے دور کی وہ فکری فرمائشیں آپ سے آپ ایک خاموش انداز میں بولنا شروع کردیتی ہیں جن سے بچا رہنا شجر سلف سے پیوستہ رہے بغیر ناممکن ہوتا ہے۔ اس کام کو گو ’اجتہاد‘ اور ’تحقیق‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ مگر دراصل یہ ان لوگوں کی، جو اپنے دور کی جاہلیت کے آگے فکری طور پر ہتھیار ڈال بیٹھے ہوتے ہیں اور لاشعوری طور پر اس سے ایک سازگاری چاہ رہے ہوتے ہیں، اپنی اس پسپائی کے شرعی دلائل لے آنے کی ایک بے ساختہ ذہین کوشش ہوتی ہے۔ ان کے اخلاص کو مشکوک ٹھہرانا ہم درست نہیں سمجھتے.... حالات اور زمانے کے پس منظر سے نکل آنا ایک بے حد مشکل کام ہے۔ فہم دین کے ایک تاریخی تسلسل کا حصہ بن رہنا البتہ اس خطرے سے بچاؤ کی ایک بہترین ضمانت ہو سکتی ہے اور اصل بچانے والا تو بہرحال رب العالمین ہے۔ کیا واقعتاً ان پیروں کو پڑھنے کے بعد یہ مفہوم لیا جانے کی گنجائش رہ جاتی ہے؟ ***** دو باتیں ہیں جن میں فرق ضروری ہے: ایک یہ مسئلہ کہ امام کی غیر موجودگی میں مسلم حقوق کا مسلح تحفظ کیونکر ہو، جس پر اگر ایک سے زیادہ رائے پائی جاتی ہیں تو حرج کی بات نہیں، یہ مختلف اجتہادات ہوں گے اور ہر فریق اپنے اپنے اجتہاد پر عمل کا مجاز ہوگا، مگر دوسرے کے حق اجتہاد کا پورا پورا احترام کرتے ہوئے اور اس کی کامیابی کیلئے دُعاگو رہتے اور تالیف کلمہ کے سب سنی آداب اختیار کر رکھتے ہوئے”اب اس حد تک ہم اس معاملہ کو.... اگر ہم منہج اہلنست سے واقف ہیں.... رزم حق وباطل نہیں بنائیں گے۔ اور دوسری یہ کہ ایک مسئلہ پر اگر اجتہاد ہو سکتا ہے تو بھی اس کا مجاز کون ہے؟ کیا ایک مسئلہ کا ’اجتہادی‘ ہونے کا یہ مطلب ہے کہ جو بھی اس پر کلام کرے وہ ’مجتہد‘ مانا جائے؟ ظاہر ہے کہ نہیں، اس کی جو کئی ایک شروط ہیں، ’اصول اہلسنت‘ سے تمسک بہرحال ان میں شامل ہے، ہمارا خیال ہے ہمارے مضمون میں ’اجتہادی اہلیت‘ کے اس پہلو پر زور دینے میں کمی نہیں برتی گئی، بلکہ تو سارا زور اسی پر رہا، اب کسی شخص یا فریق کا ’اصولِ سنت‘ سے تمسک نہیں تو معاملے کا یہ پہلو البتہ ضرور ہمارے نزدیک ’حق وباطل‘ کا مسئلہ ہے۔ چنانچہ ایک پہلو اس معاملے کا وہ ہے جو بنیادی اور اصولی ہے اور ’حق وباطل‘ کا مسئلہ ہے نہ کہ ’اجتہادی اختلاف‘ کا، اس کا دوسرا پہلو وہ ہے جو ایک فقہی مسئلہ ہے اور جو کہ سمجھنے سمجھانے، تبادلہء علم اور مناقشہء آرا سے متعلق ہے نہ کہ محاذ آرائی کا، مؤخر الذکر پر ہم ایک فقہی اسلوب میں ہی بات کریں گے اور اول الذکر پر ایک اصولی اور عقائدی اسلوب میں ہی، ہمارا خیال ہے ہم نے ان دو باتوں کا یہ منہجی امتیاز روپوش نہیں ہونے دیا ہے۔ فالحمد ﷲ علی ذلک۔ ***** (1) (مائدہ 49) ہشیار رہیو یہ تجھے (کسی فتنہ میں ڈال کر) اس ہدایت سے جو خدا نے تم پر نازل کی، ذرہ بھر منحرف نہ کرپائیں“۔
|