سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

مکمل شمارہ

 منہج<< قتال

Download in PDF format

فقہ الواقع

 

عراق کی سنی قیادت کے نام

شیخ سفر الحوالی کا پیغام

ترجمہ: محمد زکریا

بلاشبہ ایمان کے بعد سب سے بڑی نعمت اہل سنت میں سے ہونا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی پیروی کرنا ہے۔ من مانی تاویلات اور تفسیرات کرنے، سلف صالحین سے بے گانہ رہ کر کوئی طرز عمل اپنانے سے ناکامی اور نامرادی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ سلف صالحین کے ٹھیٹھ راستے پر ہونا اور اس پر مطمئن ہونا صرف اُن لوگوں کے نصیب میں ہوتا ہے جو اِس عظمت کے قدر داں ہیں، پیروی میں فخر کرتے ہیں، پہلوں کیلئے دُعاگو رہتے ہیں، اللہ کا شکر ادا کرتے اور اس کی تعریف کرتے رہتے ہیں جس نے انہیں ایسے راستے پر چلنے کی توفیق دی۔ جادہ سلف نہ صرف اللہ کا اہل زمین پر ایک بڑا احسان ہے بلکہ اس کیلئے حد درجے محتاط رہنا اور اس کی حفاظت کرنا، اصولِ اہل سنت کا علم رکھنا، اس کی سرحدوں سے شناسا ہونا، اس بات کا خوف رہنا کے کہیں اہل سنت کا سِرا ہاتھ سے نہ چھوٹ جائے اور اس کے بجائے اہل اھواءکے راستے پر قدم نہ اٹھنے لگ جائیں، یا سرکشی اور گناہوں کی وجہ سے وہ بصیرت ہی نہ جاتی رہے جو اہل سنت کے راستے کو پہچاننے کیلئے اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نیک بندوں کو ودیعت کرتے ہیں۔ بخدا اہل سنت کے راستے کی ہر قیمت اداکرنا چاہیے۔

یہ بات آپ کیلئے خوش آئند ہے کہ عراق میں اہل سنت ایک مدت دراز کے بعد میدان کو سنبھالنے کی اہلیت پا رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ سنت سے لگاؤ اور اس کی پیروی کے جذبے کے ساتھ ساتھ قدیم اور جدید بدعات اور ملحدانہ افکار بھی ’تحریک مزاحمتِ عراق‘ میں پائے جاتے ہیں اور ابلیس کا یہ طریقہ ہے کہ وہ اگر لوگوں سے اپنی عبادت نہ کروا سکے تو اُن میں تفرقہ پیداکرنے کی کوشش کرتا ہے۔ عراق کے مسلمانوں کا سب سے بڑا حق یہ ہے کہ علمائے اُمت اور صلحائے کار ان کی برابر رہنمائی کرتے رہیں، اہل سنت کا منہاج حالات کے مطابق ان کے سامنے پیش کریں۔ خاص طور پر اہل سنت میں اہل قبلہ (جن لوگوں کی نسبت اسلام سے ہے اور اسلام کے علاوہ وہ اپنے لیے کسی اور دین سے منسوب ہونے سے نفرت کرتے ہیں مترجم) سے کس طرح پیش آیا جاتا ہے۔ یہ ایک وقیع اور دقیق منہاج ہے اور راسخون فی العلم ہی اِس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہو سکتے ہیں۔

یاد رکھیں، اہل سنت کا راستہ ہی ہر دور میں مسلمانوں کو بچاتا رہا ہے۔ یہ راستہ جہاں محکم ہے وہاں یہ وسیع تر بھی ہے اور لچک دار بھی ہے۔ شیخ سفر کے الفاظ میں: اوسعھا وارحمھا۔ ہم سے پہلے ہم سے بہتر لوگوں نے اپنے طرزِ عمل سے ہمارے لئے یہی نمونہ چھوڑا ہے کہ اہل سنت کا طریقہ ایک دائرے میں رہتے ہوئے لچکدار ہے۔ یہ وسعت نظری آپ کو مہاجرین میں بھی ملے گی اور انصار میں بھی ملے گی۔ ایمان کے اعلیٰ اور ادنیٰ مراتب کے درمیان بہت سی منزلیں ہیں جن کا اصل علم تو اللہ ہی کو ہے لیکن سلف صالحین کے حصے میں اس علم کا بڑا ذخیرہ پایا جاتا ہے۔ وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں اُن کی درجہ بندی کو اللہ تبارک وتعالیٰ خود بیان کرتے ہیں۔ سورہ فاطر آیت 32 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ (1)

”پھر ہم نے اِس کتاب کا وارث بنا دیا اِن لوگوں کو جنہیں ہم نے (اس وراثت کیلئے) اپنے بندوں میں سے چن لیا۔ اب کوئی تو اُن میں سے اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے اور کوئی بیج کی راس ہے، اور کوئی اللہ کے اذن سے نیکیوں میں سبقت کرنے والا ہے۔ اگر تم سمجھو تو یہ ایک (تمہارے رب کا تم پر) بڑا ہی فضل (وسعت) ہے“۔

اِس آیت مبارکہ کا مقصود یہ ہے کہ اہل سنت کے دائرے میں رہنے والا فرد کبھی گھاٹے میں رہنے والا نہیں ہے خواہ وہ اُن کے ساتھ چلنے میں حد درجے سستی کا مظاہرہ کرے اور ساتھ گناہ بھی کر لیتا ہو وہ سب ایک دوسرے کو تھام کر بڑھتے رہتے ہیں، سست پڑ جانے والوں کی با عمل مومن حوصلہ افزائی کرتے ہیں، انہیں اپنے قافلے سے نکال باہر کرنے کا نہیں سوچتے، سب کے سب اپنے اپنے رتبے اور درجے کے مطابق اچھا انجام پانے والے ہوتے ہیں۔ پس کسی کو بہشت کے آٹھوں در خوش آمدید کہتے ہوں گے اور کسی کیلئے صرف ایک ہی دریچہ وا کیا جائے گا اور بہت سے اِس اعلیٰ مرتبے اور ادنیٰ مرتبے کے درمیان درجات کے مستحق ٹھہریں گے۔ سب سے اعلیٰ مرتبے کے اصحاب فضل ؛انبیاءکرام کے ہمراہ ہوں گے۔ کوئی اس لئے بہشت کا مستحق ٹھہرا ہوگا کہ اُس نے قبولیت کی گھڑی میں صدقِ دِل سے خواہ ایک ہی مرتبہ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ کہہ دیا ہوگا، یا رات کے پچھلے پہراُس کی آنکھ نم ہو گئی تھی اور ایک ہی آنسو ٹپک پڑا تھا مگر رب العالمین کے ہاں وہ گوہر نایاب ہو گیا، کوئی تو محض اس بات پر بھی بخش دیا جائے گا کہ اُس نے ایک درہم کسی مسکین کو تھما دیا تھا اور کیا بعید کہ کسی کیلئے فیضان رحمت اس قدر برسے کہ اُس نے اہل اسلام کے راستے سے ایک دن کانٹے ہٹا دیے تھے اور اُس کا یہ عمل اُس کی نجات کا باعث ہوا۔

بلاشبہ اہل سنت کے دائرے میں رہنے والے سب ہی ایک ہی منہاج پر رہتے ہیں مگر نیکیاں کمانے میں وہ برابر نہیں ہوتے بلکہ ہر ایک اپنی اپنی صلاحیت اور لیاقت اور محنت کے موافق اپنا مول پاتا ہے البتہ سب کے پیش نظر ایک ہی منزل اللہ کی رضا ہوتی ہے۔ بس اُس کے راستے پر چلنے والے بلند پایہ نفوس تو وہ مجاہد ہوتے ہیں جو اپنا تن، من، دھن سب اپنے رب کیلئے لٹا دیتے ہیں، یا وہ نفوس جو نیکی پر اُکساتے رہتے ہیں اور بدی کے کاموں کے آڑے آتے ہیں۔ کوئی قرآن کا مفسر بن کر مراتب پاتا ہے تو کوئی احادیث کا ذخیرہ جمع کرنے میں اپنی صلاحتیں کھپا کر مرتبہ پاتا ہے۔ کوئی عربی زبان پر عبور حاصل کرتا ہے تو کوئی شاعری سے اسلام کا نام بلند کرتا ہے اور بہت سے ان پڑھ اہل اسلام تو صرف اتنا جانتے ہیں کہ اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرنا ہے۔

بنا بریں ہر وہ مسلمان کہ جس کو اہل بدعت نے گمراہ کرکے اپنا حامی نہیں بنا لیا ہوتا، اُسے فطرت یعنی اسلام پر سمجھا جائے گا۔ جیسا کہ آپ فرماتے ہیں کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر ہوتا ہے، جب تک اُسے اُس کے ماں باپ یہودی، نصرانی یا مجوسی نہیں بنا لیتے۔

اہل سنت ہی متبع سنت اور فرماں بردار ہوتے ہیں اور اُمت کی تمام تر ذمہ داری اِن پر ہوتی ہے۔ شریعت کے تابع رہتے ہوئے یہ گروہ شہادتِ حق کا فریضہ انجام دیتا رہتا ہے۔ شریعت مطہرہ نے اللہ اور اُس کے حقوق اور اللہ کی متعین کردہ حددود کے معاملے میں ایمان کو کامیابی کامعیار ٹھہرایا ہے جبکہ افراد کے حقوق اور متعین کردہ حدود میں معیار یہ ہے کہ مسلمانوں کا مال آبرو اور اُن کی جانیں محفوظ ہوں۔ اول الذکر پر تو کتاب اللہ میں بیشمار نصوص پائی جاتی ہیں اور آخر ا لذکر جو اہل اسلام کے حقوق سے متعلق امور ہیں اُن کے بارے آپ نے حکم دیا: کُلّ السملم علی المسلم، حرام دَمَہ ومالہ وعِرضُہ ”ہر ایک مسلمان کیلئے یہ بات لازم کر دی گئی ہے کہ وہ دوسرے مسلمان کی جان، عزت اور مال سے کوئی تعرض نہ کرے“۔

کبھی آپ یوں فرماتے ہیں کہ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے چھ حق تو ہوتے ہی ہیں اور کبھی ایک ہی جملے میں مسلمانوں کے حقوق کی ضمانت، یہ کہہ کر طلب کرتے ہیں: المُسلمُ من سَلِمَ المسلمون مِن لِسانِہ ویدہ مسلمان تو صرف وہ ہے کہ جس کی زبان درازی اور ہاتھوں سے سب مسلمان اطمینان میں ہوں۔

بنا بریں ہر وہ شخص جو صاحب اسلام ہے وہ آپ کے ارشادات کے مطابق اُن تمام ضمانتوں کا مستحق ہے جو آپ نے متعدد بار اپنے اصحاب کو یاد دلائیں۔ آپ نے ایک مسلمان کیلئے جو جو ضمانتیں طلب کی ہیں وہ چند مخصوص حالات میں ساقط ہوتی ہیں جبکہ اُس میں دین کی مصلحت ہو۔ اگر مسلمانوں کے دو گروہ باہم برسرپیکار ہو جائیں تو پھر بھی وہ دونوں گروہ ایمان پر ہی ہوتے ہیں اور اُن کی باہمی اخوت بھی برقرار رہتی ہے۔

مسلم معاشرے میں ایسی ناگہانی صورت پیدا ہو سکتی ہے، ہمارا دِین جہاں روزمرہ کی زندگی گزارنے میں رہنمائی کرتا ہے وہاں ہنگامی حالات سے باحسن طریقے سے نبردآزما ہونے کا ادب بھی سکھلاتا ہے۔ سورت حجرات میں ایسی ہنگامی حالت کے رونما ہوجانے میں سب سے پہلے یہ ادب سکھلایا جاتا ہے کہ دونوں فریق ایمان پر ہیں۔ (جبکہ نزاع کی وجہ خود اسلام سے مخاصمت نہ ہو مترجم)

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ  

”مومنوں کے مابین (ہر حالت میں) اخوت کا رشتہ قائم رہتا ہے، (تم مل کر) دونوں بھائیوں میں صلح کرا دیا کرو“۔

اہل سنت کے اصول میں سے ایک ثابت شدہ کلیہ اور قاعدہ یہ ہے کہ وہ جزوی مسائل کو ثابت شدہ کلی قواعد پر پیش کرکے حکم نکالتے ہیں۔

اہل سنت کے کلی قواعد شریعت کی واضح اور دوٹوک نصوص سے ثابت ہوتے ہیں۔ منجملہ ان کلی قواعد کے ایک قاعدہ یہ ہے کہ: وُجوب اجتماعِ کلِمۃ المسلمین (مسلمانوں کا باہم متحد رہنا شریعت کا مطلوب و مقصود ہے)

شریعت مطہرہ کے قواعد میں یہ ایک کلی قاعدہ ہے، اِس کلی قاعدے کے برخلاف ایک جزوی حالت ایسی پیدا ہوتی ہے کہ اہل بدعت اور اہل فسق معاشرے میں وجود پا جاتے ہیں، شریعت حسب مصلحت ان سے لاتعلقی کو درست قرار دیتی ہے مگر اس شرط پر کہ اِس لاتعلقی سے کلی قواعد محفوظ ہوتے ہوں۔ اگر اس لاتعلقی کے نتیجے میں کلی قواعد ہی داؤ پر لگ جائیں تو پھر اس عارضی حالت یعنی ھجر المبتدع او الفاسق (2)کو مؤخر کردیاجائے گا۔ ایسی ہنگامی حالت کہ جس میں جزوی قواعد پر عملدرآمد مؤخر ہو جائے گا وقت اور مقام کے لحاظ سے اہل علم کے ہاں متعدد آراءکے سامنے آنے کا باعث بن سکتی ہے۔

اہل سنت کے اصول میں سے ایک قاعدہ یہ ہے کہ کُلُّ من صلیَّ صلاتھم واستقبل قبلتھم واَکل ذبیحتھم فھو منہم ہر وہ شخص اہل اسلام میں شمار ہوگا جو مسلمانوں کی طرح نماز پڑھے، قبلہ رو ہوتا ہو اور مسلمانوں کا ذبیحہ کھا لیتا ہو، اُس کے حقوق دوسرے مسلمانوں کی طرح ہیں اور اُس پر واجبات بھی اُس قدر ہیں جس قدر دوسرے مسلمانوں پر ہیں۔ بلاشبہ اُمت کے بہترین لوگ مہاجر تھے اور انصار مگر پھر بھی انہیں دوسرے مسلمانوں سے زیادہ حقوق حاصل نہیں ہو گئے تھے۔ کوئی شخص خاندانی حسب نسب یا کسی اعلیٰ لقب کی وجہ سے اعلیٰ حقوق کا مستحق نہیں ٹھہرتا۔ گمراہ فرقوں میں سے معتزلہ نے اپنے لئے اہل توحید اور عدل کا خوبصورت لقب چنا تھا اور گمراہ صوفیہ نے اپنے لئے ’صاحب ولایت اور قربت‘ کا لقب اختیار کیا تھا، اِن القابات سے وہ ان کے مدلول کے مستحق تھوڑی مان لئے گئے تھے۔ بنا بریں تمام نیک وبد مسلمان دُنیاوی مفوضہ حقوق وفرائض کے لحاظ سے اسلام میں مساوی حیثیت رکھتے ہیں۔

اہل سنت اس بات کو سلف کے ممانعت کردہ محدثات میں شمارکرتے ہیں کہ عام لوگوں کواس بنیاد پر جانچا جائے کہ آیا وہ کسی خاص گروہ یا شخص کی حمایت میں یا مخالفت میں انسانوں سے ولاءاور براءاختیار کرنے لگتے ہیں یا نہیں۔اٰس کی وجہ یہ ہے کہ سلف ولاءاور براءیعنی دوستی اور دشمنی کو حقائق کی بنیاد پر دیکھتے ہیں؛ محض کسی پر کوئی نام یا لیبل چسپاں کر کے اس کا فیصلہ نہیں کیا جاتا۔ بسا اوقات ایک چھوٹی نمائندہ جماعت ہی دیگر بڑی جماعتوں کیلئے قیادت کیلئے جگہ بنا لیتی ہے۔ جیسے نماز میں آپ کے طریقے کی پیروی کرنا اور آپ کے خلفاءراشدین کی پیروی کرنا واجب ہے اُسی طرح یہ بھی واجب ہے کہ اُمت کے مہتم بالشان اُمور کی قیادت اہل سنت والجماعت کے قائدین کے ہاتھ میں ہو۔ پھر اِس قیادت کو نماز کی امامت پر قیاس کریں، نماز کی اِمامت جب متبعین سنت کے ہاتھ میں ہو جائے تو اُس کے بعد مقتدیوں میں منافقین اور فاسقین کی شمولیت سے نماز کے فریضے کی ادائیگی میں فرق نہیں آتا، اُسی طرح اُمت کے مہتم بالشان امور میں قیادت پیروان رسل اور خلفاءراشدین کرتے ہوں تو اِس قیادت تلے عام مسلمان، یا اُن کے کم علم گنوار لوگ یا جو اہل فسق میں سے ہیں یا جنہیں اہل بدعت میں سے سمجھا جاتا ہے۔ جب وہ اہل سنت کے وسیع تر مفہوم کی قیادت تلے اپنی خدمات دین کی نصرت اور اسلام کی سربلندی کیلئے دینے پر آمادہ ہو جائیں تو اہل سنت کی بیدار قیادت ایسی خدمات لے لیا کرتی ہیں۔ مسلمانوں کے قائدین کے ساتھ وہ اپنی توانائیاں دِین کی نصرت کیلئے صرف کر رہے ہوتے ہیں اور ساتھ ساتھ وہ قیادت انہیں سنت سے تمسک اور بدعات سے اجتناب کا درس بھی دیتے رہتے ہیں بالکل اُسی طرح جیسے امام مسجد نادان نمازی کی سرزنش کرکے یا حسب موقع عمدہ اسلوب سے اُس کی صف درست کرا دیتا ہے یا اُس کی غلطی پر اُسے متنبہ کر دیتا ہے۔ اہل سنت کا یہ وصف کہ اُن کی قیادت بدکردار یا بدعتی گروہ سے نسبت رکھنے والوں کو اپنی قیادت میں لے لیتی ہے اِس سے بہتر ہے کہ اہل معصیت اور اہل بدعت اپنی قیادت اپنے ہاتھ میں لے لیں، یقینا اِس طرح فریقین میں ٹھن سکتی ہے اور اسلام کیلئے ایک شدید خطرے کی صورت بن سکتی ہے۔

اہل سنت حق پر ثابت قدم بھی رہتے ہیں اور ثابت قدمی کیلئے افراط اور غلو سے بھی اجتناب کرتے ہیں، خلق خدا کیلئے اہل سنت رحمت ہوتے ہیں اور اُن سے نرم روی سے پیش آتے ہیں لیکن نرم روی کرتے ہوئے وہ اپنے اصولوں سے ہاتھ نہیں دھو بیٹھتے۔ وہ اہل بدعت گمراہ اور سرکش باغیوں پر بجلی بن کر ٹوٹتے ہیں مگر یہاں بھی وہ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ظلم اور زیادتی کے مرتکب نہیں ہوتے، وہ نیکی کا حکم اور ترغیب خوش اسلوبی سے دیتے ہیں، وہ بدی کے آڑے تو آتے ہیں لیکن اس کیلئے بدی کا راستہ اختیار نہیںکرتے، وہ لوگوں سے پورا انصاف کرتے ہیں خواہ ناپ تول کامعاملہ ہو یا معاشرتی قدروں کامعاملہ ہو، وہ دو میں سے جو کم نقصان دہ راہ ہو اُس پرچلتے ہیں اور مفسدت کی صورت میں کم فساد والے راستے پر چلتے ہیں، مزید برآں وہ کم تر شر سے آگے نہیں بڑھتے، جو کام آسان راستے سے تکمیل پا سکتا ہو اُس کیلئے لوگوں کو مشکل گھاٹیوں میں نہیں اتارتے، وہ اتنے فراخ دِل اور کشادہ رو ہوتے ہیں کہ پوری دُنیا کے مظلوم اور پسے ہوئے طبقے اُن سے آس لگا لیتے ہیں، سچا متلاشی حق اُن تک پہنچ کر سیر ہو جاتا ہے۔ اہل سنت سرتاپا عدل وانصاف کے پیکر ہوتے ہیں، اُن کا انصاف عام ہوتا ہے خواہ مدمقابل اہل کفر ہی کیوں نہ ہوں۔ اُن کی یہ صفت خود قرآن بتاتا ہے:

وَلاَ يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ أَن صَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَن تَعْتَدُواْ

اُن کی یہ انصاف پسندی کی خوبی تو اپنے دشمنوں کے ساتھ ہے، آپس کے معاملات میں وہ کس قدر محتاط ہوتے ہوں گے اس کا تصور کیا جا سکتا ہے۔

اہل سنت کا یہ بھی وصف ہے کہ وہ سنت کی پیروی کرنے والے اماموں کیلئے کلمہ خیر کہتے رہتے ہیں اور جتلاتے رہتے ہیں کہ اُمت میں اِن بزرگوں کا احترام اِس وجہ سے پایا جاتا ہے کہ وہ اللہ اور اُس کے رسول کی اتباع میں اپنی ساری صلاحتیں کھپا دیاکرتے تھے۔ اُمت میں جن ائمہ کرام کو سنت کی پیروی کی وجہ سے احترام ملا ہوتا ہے اور اُنکے چھوڑے ہوئے علمی ترکہ سے بعد والے فائدہ اٹھاتے ہیں اور اُن کے راستے پر چلتے رہتے ہیں، مگر اپنے شیوخ سے محبت رکھنے کے باوجود دوسرے شیوخ سے نفرت نہیں رکھتے۔ اگر ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت پر غور کیا جائے تو آپ دیکھیں گے کہ وہ چاروں ائمہ کرام کیلئے نہایت اچھے جذبات رکھتے تھے اور جن نامور علماءکرام سے انہوں نے شدید علمی اختلاف کیا ہے اُن کا ذکر بھی کلمہ خیر سے کرتے ہیں جیسے اشعری رحمۃ اللہ علیہ اور عدی بن مسافررحمۃ اللہ علیہ۔

سب لوگوں میں اہل سنت ہی اللہ کے سامنے اپنے آپ کو حقیر سمجھنے والے ہیں اور پھر بھی وہ غالی صوفیہ کی طرح یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ وہ کمال کے کسی درجے میں پہنچ گئے ہیں۔ اُن کے ہاں یہ ریت نہیں ہے کہ اپنے لئے اعلیٰ سے اعلیٰ القاب چنتے پھریں اور اپنا تزکیہ نفس خود پیش کریں۔ وہ کسی حال میں بھی اتباع رسالت کو نہیں چھوڑتے، بلاعمل امیدیں نہیں لگاتے اور عمل کرکے اتراتے نہیں۔ عمر بھر وہ اللہ کے راستے میں جہاد اور جدوجہد کرتے رہتے ہیں، نہ وہ اپنے عمل کو نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور نہ عمل کو ترک ہی کرتے ہیں، اُنکی زندگی پیہم اللہ کی رضا جوئی سے عبارت ہوتی ہے اور پھر بھی اللہ کی بخشش اور رحمت سے مستغنی نہیں ہوتے۔ شرعی دلیل سے آگے نہیں بڑھتے اور مصلحت دِین کو بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، اللہ، اللہ کے رسول اور تمام مسلمانوں کیلئے خیر خواہی چاہنا، اُن کی ازلی صفت ہے۔ وہ انتقامی جذبے سے دین کی تشریح نہیں کرتے، دین کی زد میں اُن کا جتنا عزیز بھی آجائے، وہاں محبت کے جذبے کو غالب نہیں آنے دیتے اور شریعت نے اس کی جو سزا اور عقاب بتائی ہو اُسے نافذ کرتے ہیں اور اگر مصلحت دین بد سے بدتر دشمن کیلئے بھی رعایت چاہتی ہو تو وہاں وہ انتقام سے نہیں شرعی مصلحت سے کام لیتے ہیں اور اپنے جذبات پر شریعت کو مقدم رکھتے ہیں۔

اُن کی خدا ترسی کا یہ حال ہے کہ بڑے سے بڑا پاپی جب توبہ کرلیتا ہے تو اہل سنت اُس کی توبہ پر خوش ہوتے ہیں، کسی کو کوئی فی الواقع مغالطہ لگ گیا ہو تو اُس کا اعتبار کرتے ہیں، گناہ گاروں کیلئے ہدایت کی دُعا کرتے رہتے ہیں۔ یہ اعلیٰ صفات اہل سنت کا اس وجہ سے وصف بن گئی ہیں کہ وہ اللہ اور اُس کے رسول کیلئے دِل کشادہ رکھتے ہیں اور اپنے نفس کی خواہش کو مقدم نہیں کرتے۔ وہ مسلمانوںکے عیب نہیں نکالتے نہ جاسوسی کرتے ہیں کہ کسی مسلمان کی کمزوری اُن کے ہاتھ آجائے۔ اُن کا عام وصف یہ نہیں ہے کہ اپنے علماءاور ائمہ کی علمی غلطیوںکو جگہ جگہ بیان کرتے پھریں، جہاں علمی دیانت اِس کا تقاضا کرے وہاں حق بتانے سے چوکتے بھی نہیں اور ائمہ کرام، محدثین عظام کے حق کو مارتے بھی نہیں۔ اُن کی دعوت کا اسلوب یہ نہیں ہے کہ اپنے مخالفین سے ایسا برتاؤ کریں کہ وہ اپنی بدعت پر ضد کی وجہ سے سخت ہو جائےں۔ اگر وہ اپنے اسلوب سے اپنے مخالف کو اُس کی معصیت پر پکا کردیں تو انہوں نے گویا یہ چاہا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر لوگوںکو پختہ کردیں۔ وہ ایسے مواقع ڈھونڈتے رہتے ہیں جب اُنکی بات پر مخالف ٹھنڈے دِل سے غور کرنے پر آمادہ ہو اور اہل سنت کیلئے نرم گوشہ پیدا ہو چکا ہو۔ اُن کا وصف یہ ہے کہ وہ مسلمانوںکے چھپے عیوب کو بیان نہیں کرتے اور پردہ پوشی سے کام لیتے ہیں۔ سلف صالحین خطباءحضرات اور مبلغین کو یہ نصیحت کیا کرتے تھے کہ وہ مسلمانوں کے گناہ کے کاموں کو کھول کھول کر بیان کرنے سے اجتناب کیا کریں، منبر ومحراب پر مسلمانوں کی کمزوریاں بیان نہ کیا کریں، اگر انہوں نے برسرعام مسلمانوں کو کمزور یا بے عمل بتایا تو انہوں نے اللہ اور اُس کے رسول کے دشمنوں کو خوش کرنے کا کام کیا ہے جیسے اہل کتاب اور اہل شرک مسلمانوں کے عیوب دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ اِسی طرح وہ دِین سے باغی لوگوں کی مجلس میں اسلامی جماعتوں کے وہ عیب بھی نہیں بیان کرتے جو اُن میں فی الواقع پائے جاتے ہیں۔

مسلمانوں کے عوام الناس اور بعض خواص کے اذہان میں سلفی، سنی یا اہل سنت والجماعت سے وابستہ افراد کے بارے میں یہ تصور عام پایا جاتا ہے کہ وہ بہت پارسا ہونا چاہیے اور اُس سے اول تو گناہ ہو نہ اور اگر ہو تو لاعلمی یا بشری تقاضے کے تحت یا معمولی قسم کے گناہ ہی کبھی ہوئے تو سرزد ہو گئے، نہ کسی سنی کو مغالطہ لگ سکتا ہے، نہ اُس سے علمی غلطی ظاہر ہو اور نہ اُس کی کوئی تاویل برداشت کی جائے۔ دوسری طرف اُن کے اذہان میں بدعتی کے متعلق بھی غلط تصور بیٹھا ہوا ہے کہ لازماً اُس نے بدعتی فرقوں کے کلی اصول اپنائے ہوں یا اپنے آپ کو اُن فرقوں میں شامل کرتا ہو جن فرقوں کے گمراہ ہونے پر اُمت کا اجماع ہے۔ یہ دونوں تصورات غیر حقیقی اور غیر واقعاتی ہیں۔ اہل سنت کے ہاں گناہگار بھی پائے جاتے ہیں، اُنہیں مغالطے بھی لگتے ہیں، اُن سے علمی چوک بھی ہوتی ہے، البتہ وہ اللہ اور اُس کے رسول اور سلف صالحین کے طریقے کو پسند کرنے والے ہوتے ہیں، صرف اُسے نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور ایک دوسرے کی اصلاح کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح بدعتی بہت نیکوکار ہو سکتا ہے، اُس کی نمازوں اور ریاضتوں سے دوسرے متاثر بھی ہو سکتے ہیں، وہ اپنے لئے عمدہ عمدہ لقب اختیار کرسکتا ہے۔

دراصل بدعت بھی گناہ کی طرح ہے، صغیرہ بدعت اور کبیرہ بدعت کا یہاں بھی اعتبار ہے،بالکل اُسی طرح جس طرح کبیرہ اور صغیرہ گناہ ہوتے ہیں اور گناہ کے تصور کی بنیاد پر ہی اہل سنت فرقہ خوارج اور فرقہ معتزلہ سے ممتاز ہیں۔ علاوہ بڑی اور چھوٹی بدعت کے، بدعت صریح اور بدعت خفی کا بھی اہل سنت اعتبار کرتے ہیں اور حق یہ ہے کہ بدعت خفی کے وقوع سے بچے رہنا بہت نادر امر ہے اور بعض دفعہ تو بدعت صریح بھی کسی سنی شخصیت میں پائی جا سکتی ہے اور اہل سنت کے کسی گروہ اور جماعت میں بھی ہو سکتی ہے، لیکن محض اس بات سے کوئی شخص یا گروہ اہل سنت سے خارج نہیں ہوجاتا، کبھی ایسا کسی تاویل، غلطی، جہل اور ماحول کی وجہ سے ہو جاتا ہے۔ اِس کے باجود جو وصف انہیں اہل سنت میں ہی داخل رکھتا ہے وہ سنت پر رہنے کی شدید دِلی خواہش اور مجموعی طور پر سلف صالحین کے طریقے پر ہونا ہے۔ اسی طرح بدعتی شخص یا بدعتی گروہ یا جماعت سے بھی یہ مراد نہیں ہے کہ اُس میں اہل بدعت کے تمام اوصاف پائے جائیں اور اپنی عبادتوں اور اعمال میں وہ سنیوں سے بالکل مختلف طریقہ اپناتا ہو، یہاں بھی امر واقع یہ ہے کہ جب ایک شخص یا گروہ اہل بدعت کے اصولوں پر ہو اور پھر اُس شخص یا گروہ سے بہت سے اُمور سنیوںکی طرح ظاہر ہوں تو وہ پھر بھی اہل بدعت میں شمار ہوگا کیونکہ اصل اعتبار مجموعی طور پر اس بات پر ہے کہ کوئی شخص یا گروہ اپنی اصل کے اعتبار سے اہل سنت میں سے ہے یا اہل بدعت میں سے۔ صراط مستقیم پر ہونے کی اصل توفیق تو بس اللہ ہی کی عنایت ہے۔

جن حالات سے اہل سنت گزر رہے ہوں، اُن کے تقاضے کے پیش نظر وہ اعلیٰ ترین مثالی حکمت عملی کو اپنے ذہن میں رکھتے ہیں اور اُسے حتی المقدور اپنانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ مثالیت پسند بھی نہیں ہیں کہ اگر اعلیٰ کردار کے حامل افراد نہ ملتے ہوں تو وہ دستیاب افراد سے بھی ناراضی مول لے لیں اور دِین کے کام میں جو پیش رفت ہو سکتی تھی اُس سے ہی دستبردار ہو جائیں۔

عام آدمی کیلئے یہ ممکن نہیںکہ وہ اصولِ سنت کو بھی ہاتھ سے نہ جانے دے اور اپنے گردوپیش سے بھی عمدہ طریقے سے پیش آجائے، خصوصاً اُن لوگوں کے معاملہ میں کیا رویہ اپنایا جائے گا جو اہل سنت کے مخالف فرقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ بیشتر لوگ بس یہ کہیں گے کہ اہل سنت کے مخالفین کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہوتے اور شریعت میں اُن کیلئے کوئی حقوق نہیں رکھے گئے ہیں اور اگر کوئی ان کیلئے نرم گوشہ رکھتا ہے تو دراصل وہ دین میں سستی اور مداہنت کا مرتکب ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ اِس دِین کی نصرت کرنے کا حق صرف اُن لوگوں کو حاصل ہے جو اہل سنت میں ہیں اور دِین میں پختہ کار ہیں۔

بخدا یہ تصور اِس دِین کی ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ نہ جاننے کا سبب ہے اور سنت مطہرہ اور سلف صالحین کی سیرت طیبہ سے جہالت، بلاشبہ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے دین کی مدد کسی فاجر اور عاصی سے بھی لے لیا کرتا ہے۔ ایسی اقوام بھی اس دِین کیلئے بھلائی کا باعث بن جایاکرتی ہیں جنہیں خود ثواب میں سے ایک ماشہ بھی نہیں ملنا ہوتاور جنگ وجدال میں تو ایسا بارہا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سلف کے اصول میں سے ایک بڑا اصول ہے۔ الجہاد مع کلّ بَرّ و فَاجِرٍ

یعنی روا ہے ہمارے اصول میں ہمہ قسم کا جہاد کرنا خواہ قائد نیک وکار ہو یا بدکار۔

جہاد میں قتال بھی آتا ہے اور ڈپلومیسی بھی پروپینگڈہ بھی اور دعوت ونصیحت بھی، ہر وہ فرد جو اہل سنت سے مل کر مسلم اُمہ کے خلاف چڑھ آنے والے دشمن کو زک پہچانے کے ارادے سے آگے بڑھتا ہے۔ اِس بنا پر کہ اگر کافر اور ظالم دشمن کے خلاف مشترکہ مزاحمت نہ کی گئی تو وہ برسراقتدار آکر اُس حکومت سے زیادہ ضرر رساں ثابت ہوگا جو اس سے کم درجے میں ظالم ہے۔

حجاج بن یوسف جیسے درندہ صفت قائد کی قیادت میں کتنے ہی سلف معرکوں میں داد شجاعت دیتے تھے۔ اسی طرح ائمہ کرام کس قدر اطمینان کا اظہار کرتے تھے جب حکمران کسی بدعتی فرقے کی خبر لیا کرتے تھے حالانکہ حجاج کی سیرت سے وہ غافل تھے اور نہ ہی حکمران اہل سنت کی مکمل نمائندگی کر رہا ہوتا تھا۔ اصل مطلوب یہ ہے کہ اُس مشترکہ جدوجہد کے نتیجے میں اقامت دِین کی طرف کتنا سفر ہوتا ہے۔ یا اللہ کے دین کو کتنا فائدہ پہنچتا ہے۔

مندرجہ بالا اصول اہل سنت کو پیش کرنے کا مقصود میرے نزدیک یہ تھا کہ میں عراق میں پیش آنے والی موجودہ صورتحال میں اہل سنت کے کردار اور خارج اہل سنت سے تعاون لینے کی شرعی حدود کیلئے تمہید فراہم کر سکوں۔

محترم قارئین، آپ کو یہ فرق ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا کہ وہ لوگ کون ہیں جو عمومی طور پر سنت کا نام لیتے ہیں اور سنتوں کا احیاءچاہتے ہیں خواہ وہ خود کسی حد تک بدعت میں مبتلا بھی ہوں اور اُن لوگوں کو الگ کرنا ہوگا جو بدعت کی طرف دعوت دینے والے ہیں۔

یہ دونوں گروہ اس وقت عراق میں دشمن کے خلاف مزاحمت میں پیش پیش ہیں۔ ایک گروہ خود بھی بدعت میں مبتلا ہے اور اپنی تنظیم اور گروہ اور کوششوں کو بھی اسی بدعت کے فروغ کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ بدعت سے وابستہ گروہ میں ایسے لوگ بکثرت پائے جاتے ہیں جن کامقصود وہ نہیںجو اس گروہ کے سرکردہ شخصیات کا مطمح نظر ہے۔ وہ اِن کے تصور دِین کے مخالف ہیں اور صرف اُس اسلام کیلئے لڑنا چاہتے ہیں جو عموماً اسلام سمجھا جاتا ہے۔ بسا اوقات یہ اپنے طور پر بھی دشمن سے بھڑتے ہیں اور وہ اسلام کا نام لینے والے دوسرے برسرپیکار جتھوں میںبھی شریک ہو کر لڑنے میں مضائقہ نہیں سمجھتے۔ ایسے بھی لوگ وہاں ملیں گے جو ابتدءمیں بدعتی گروہ سے ہمدردی رکھتے تھے لیکن پھر کسی وجہ سے اُن پر، اُن کا گروہ قابل بھروسہ نہیں رہا، وہ اُن سے متنفر ہیں، عین ممکن ہے کہ اُن پر ابھی تک علمی طور پر اہل سنت کی صفات عیاں نہ ہو پائی ہوں۔ ہمیں ایسے گروہ کو بھی خالص بدعتی گروہ سے الگ رکھنا ہوگا۔

ہماری طویل تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ اس دِین کو خود اُس سے لڑنے والے دشمن فائدہ پہنچا دیتے ہیں، جیسے صلیبی جنگوں کے واقعات ہیں یا باطنی فرقے کے افراد نے اِس دین کو فائدہ پہنچایا اور تاتاری جو اسلام سے سرسری طور پرمتاثر ہوئے تھے لیکن اُن کی طاقت اسلام کا پرچم بلند کرنے میں کھپ جاتی رہی تھی۔ مخالف فرقوں کے وہ لوگ جو نصرت دِین کیلئے اپنی توانائیاں فراہم کرتے ہیں اور وہ لوگ جو اہل سنت سے ہی لڑتے ہیں اس بنا پر کہ وہ ان کے تصور دین کے مخالف کیوں ہیں یا پھر ان کی ساری سرگرمیوں کا محور اپنی بدعتوں کو قبول عام بنانا ہوتاہے؛ ان دونوں سے ایک سا برتاﺅ کرنادرست نہیں۔

بنا بریں عراق میں سابق سوشلسٹ، یا قوم پرست یا شیعہ جب عمومی طور پر اہل اسلام کے ساتھ مل کر مشترکہ دشمن کے خلاف لڑتے ہیں تو یہ صنف مخالفین اہل سنت کی وہ صنف ہوگی جس کا تعاون اہل اسلام ہمیشہ لیتے رہے ہیں۔ جن علماءکو اللہ تعالیٰ نے تفقہ میں یدطولیٰ دیا ہے انہیں اس قسم کے تعامل میں کچھ بھی اہل سنت کے اصول کی مخالفت نظر نہیں آتی اور وہ تحریک مزاحمت کے ساتھ ساتھ انہیں اپنے قریب بھی کرتے رہیں اور علمی طور پر ان کی تربیت بھی کرتے ہیں؛ ان دونوں باتوں میںذرا بھی تضاد نہیں۔ اب یہ طرز عمل درست نہیںہوگا کہ ہم اپنی توانائیاں اس گروہ کی مخالفت میں کھپا دیں اور اس سے بڑا اور عظیم تر گناہ یہ ہوگاکہ اُن کی مخالفت میںہمارا وزن اُن لوگوں کے پلڑے میں پڑ جائے جو پکے ملحد ہیں اور اللہ کے اتارے ہوئے میزان سے سروکار نہیں رکھتے۔ ایسی حماقت کا مرتکب ایک ایسا منافق ہو سکتا ہے کہ جس کے نفاق میں ذرا بھی شک نہیںکیا جا سکتا۔ اُس کا یہ عمل ایسے ہے گویا وہ مسجد کو تو تالا لگا دیتا ہے اور دَیر کو تعمیر کرکے یہودیوںکے حوالے کر دیتا ہے، اِس دلیل کو بنیاد بنا کرکہ نمازی مسجد میں آکر سنت طریقے کے مطابق نماز نہیں پڑھتے۔ یا اس کی مثال ایسے ہے جو حرام ہو جانے والے جانور کے گوشت کو تو مباح سمجھے اور بے عمل قصاب کے ذبیحے کو حرام قرار دے، یا پھر قرآن پڑھنے سے اس لئے منع کرتا پھرے کہ وہ تجوید کے اصول کو توڑ موڑ کر تلاوت کر رہا ہے یا ناپاک پانی سے وضو کرتا ہو اور جس پانی میں نجاست پڑ جانے سے اہل علم کے ہاں اختلاف ہو کہ پانی اتنی نجاست سے پلید ہو جاتا ہے یا نہیں اس سے وضو کرنے کو حرام کہتا ہو؛اور بے شک اصل ہدایت کا نور تو اللہ کی طرف سے ملتا ہے۔

اہل سنت سے وابستہ افراد کو خوارج کے طرز عمل سے آگاہ رہنا چاہیے۔ فرقہ خوارج کے پرہیز گاروں نے عبداللہ بن خباب رضی اللہ عنہ کو قتل کر ڈالنے میں ذرا بھی دَمِ مسلم کا پاس نہ رکھا اور ایک نصرانی کو اس لئے چھوڑ دیا کہ شریعت نے اہل ذمہ سے اچھا برتاؤ کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس فرقے کے مجاہدین عمر بھر مسلمانوں سے ہی برسرپیکار رہے اورپڑوس میں بیٹھے اہل نصاریٰ اُن سے بالکل محفوظ رہے۔ بت پرستوں کو وہ عمدہ اخلاق سے اسلام کی دعوت دیتے تھے اور اپنے تئیں مخالف سنت اہل اسلام کو بدترین اذیت دیتے تھے۔تابعی کیا صحابہ بھی اُن کی تلوار سے محفوظ نہ رہے۔

درست، صائب اور اہل سنت کا اسوہ یہ ہے کہ اہل قبلہ کے ساتھ متحد ہو کر دشمن کی طاقت کا شیرازہ بکھیرا جائے۔ قارئین کرام یہ اصول کچھ میرے اپنے ذہن کی کارستانی نہیں ہےں یا اسے کوئی مصلحت پسندی کا نام بھی نہ دے، جیسا کہ عام طور پر شریعت سے لاعلم اہل دانش کے ہاں مصلحت کا نادرست اور غیر فقہی استعمال ہوتا ہے۔ اہل قبلہ کے ساتھ تعامل کے یہ احکام کتاب وسنت اور سلف کے فہم کا ثمر ہیں۔ اے اُمت اسلام کے فرزندو، اللہ کے دشمن عراق میں اہل سنت کے خلاف بدترین عزائم رکھتے ہیں، اہل باطل کا اگلا معرکہ اہل سنت کے خلاف پہلے سے بھی زیادہ منظم ہوگا، تمام وابستگان اسلام ایک بند مٹھی کی طرح متحدہ محاذ بنا لیں، دشمن سے خواہ کتنا ہی ڈراؤنہ بن کر آئے ہرگز خوفزدہ نہ ہوں، اُن کی طرف جھکیں نہیں، اُن سے خیر کی اُمید نہ لگائیں، میدان میں اترنے کا اپنے آپ کو اہل ثابت کریں اور یقین رکھیں کہ تقویٰ کے بعد سب سے بڑی طاقت اہل قبلہ کا اتحاد ہے۔ اہل اسلام کا متحد ہو جانا بذات خود ایک بڑی کامیابی ہے۔ دراصل اللہ تو اُن اہل اسلام کو حد درجے عزیز رکھتا ہے جو يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنيَانٌ مَّرْصُوصٌ  

”اللہ کو تو پسندیدہ وہ لوگ ہیں جو اُس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کرلڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں“۔

*******

(1) اصل ترجمہ تفہیم القران سے لیا گیا ہے مگر چند اضافے مترجم نے سیاق کی مناسبت سے کیے ہیں۔

(2) بدعت پر کاربند رہنے والے اور فسق پر چلنے والے سے لاتعلق ہوجانا