مکمل شمارہ

عقیدہ<<بیداری<< تحریک

یہ مضمون مطبوعات ایقاظ کی کتاب مؤحد تحریک کا حصہ ہے۔ مضمون کو براہ راست کتاب سے مطالعہ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

Download in PDF format

ابتدائیہ

حامد کمالدین

"توحید".. تحریک تا معاشرہ

 "توحید" کو اسلام، ایمان، احسان اور جملہ امورِ دین کا ایک مستقل مدخل بنا دینا اور دین کے کسی بھی گوشے تک پہنچنے کیلئے ہر بار اسی راستے سے گزرنا ایک خاص منہج ہے جو رسولوں اور کتابوں کے اسلوب سے تو عیاں ہے ہی، خصوصاً خدا کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم  اور خدا کی آخری کتاب سے، اس منہج پر خدا کے وہ خاص اولیا بھی ہر دور میں پائے گئے جن کو ورثہء نبوت سے ایک حظِ وافر نصیب ہوا اور جو  ہر دور میں مسلم معاشروں کو پستیوں سے بلندیوں کی سمت کھینچتے اور یوں عملِ تجدید کا حق ادا کرتے رہے۔

حکمت کا یہی اصل سِرا ہے اور وہ جسے چاہتا ہے بخشتا ہے۔

اسلام کے کئی ایک خطے آج پھر سے اس تجدیدی احیاء کی نعمت پانے لگے ہیں جس میں "عقیدہ" زمانے کی صدا بنا دیا جاتا ہے۔ ہم بھی اپنے اور اپنی آج کی تحریکوں اور اپنے معاشروں کیلئے خدا سے اُس کی ِاسی نعمتِ خاص کے سوالی ہیں..

اللهم اهدنا فيمن هديت وعافنا فيمن عافيت وتولنا فيمن توليت وبارک لنا فيما أعطيت وقنا شر ما قضيت.

**************

"توحید" کی دعوت کبھی کسی دور میں بھی آسان نہیں رہی۔ آج بھی آسان نہیں۔ یہ اس راستے کا اعزاز ہے۔ یہی کیا کم ہے کہ اس راہ پر انبیا چلتے رہے! ہر دور اسکے لئے کچھ اپنے ہی انداز کے چیلنج لے کر آتا ہے۔ آج اِسے جو خاص چیلنج درپیش ہیں، ضروری ہے کہ توحید کی کسی بھی خدمت سے پہلے ان کا کچھ ادراک کر لیا جائے۔

موحد معاشرے کی ایک از سرِ نو بحالی بھاری کام ہے۔ اس کا یہ بھار اٹھانے سے ہی اٹھے گا مگر اس سے بھی پہلے ضروری ہے کہ اس کو ایک بار نظر میں کرلیا جائے۔ ہو سکتا ہے یہ اتنا بھاری نہ ہو جتنا کہ سمجھ لیا جاتا ہے اور اس تاثر کے باعث اِس وادی کا رخ کرنے سے ہی گریز کیا جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ اتنا آسان اور مختصر نہ ہو جتنا کہ ہمارے کچھ اصحاب ’فرضِ توحید‘ کو معاشرے کے اندر سمجھ لیتے ہیں اور معمول کے چند امور کی انجام دہی کو ہی اس سے عہدہ برآ ہوجانے کیلئے کافی خیال کر تے ہیں! 

کسی معاملے کی وسعت اور گہرائی کا پیشگی اندازہ ہو جانا اور اس سے متعلقہ امکانات و مؤیدات کا نگاہ میں آجانا اس کے باحسن اسلوب سرے لگ جانے میں ممد رہتا ہے۔ یہ سلسلہء مضامین اپنے دور میں دعوتِ توحید کے راستے کی مشکلات اور کامیابی کے امکانات ہر دو کو نگاہ میں لانے کی ہی ایک کوشش ہے۔

**************

شیطان کو سب سے زیادہ بغض اِس بات سے ہے کہ زمین میں اللہ کی بلا شرکتِ غیرے بندگی ہونے لگے اور زمین کے کسی خطے میں شرک پر دائرۂ حیات تنگ کر دیا جائے۔ شیطان کی سب سے بڑھ کر کوشش ہو گی کہ توحید کو کہیں پر سکہء رائج الوقت نہ بننے دے۔

شیطان کا بس چلے تو وہ پوری دنیا سے شرک کروالے مگر ہر بات پر اسے طاقت دی نہیں گئی۔ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں اللہ کا شکر ہے ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرتے۔ البتہ ایسے لوگوں کی تعداد _ آج اس دور میں _ یہاں خاصی کم ہے جو معاشرے میں شرک کی راہ روک کر کھڑے ہوں۔ جو لوگ شرک نہیں کرتے ان کا اصل کام تو یہ ہے کہ وہ حتی الامکان شرک ہونے بھی نہ دیں اور معاشرے کے اندر شرک کے راستے مسدود کر دیں۔ کیونکہ یہ مسئلہ ہے ہی اس قدر برگزیدہ۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امت میں ہوتے تو وہ اسی کام کو ترجیح دیتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج ہم میں بنفسِ نفیس موجود نہیں البتہ یہ معلوم امر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن یہی ہے۔

ہم ظلم کریں گے اگر یہاں موجود کسی خیر کو کمتر جانیں۔ بلا شبہہ یہاں شرک سے دستکش رہنے والوں کی تعداد کم نہیں، جوکہ نماز و روزہ حتی کہ دعوت، تبلیغ اور جہاد ایسے فرائض کو بھی مقدور بھر قائم کرتے ہیں۔ البتہ توحید کو اس عمل کی باقاعدہ بنیاد بنا دیا جانا کہ یہ اُن کی دعوت، تبلیغ، تعلیم، اصلاح، جہاد اور تبدیلی کی سب کوششوں کا اساسی محور بن جائے، ایک اور چیز ہے جو کہ الگ سے ایک محنت مانگتی ہے۔ ان دو باتوں میں کیا فرق ہے، یہ سلسلہء مضامین اسی سوال پر روشنی ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔

**************

بہت سے لوگ آج اگر کھلا کھلا شرک نہیں کرتے اور دوسری طرف ایک بڑی تعداد اگر ایسی ہے جو شرک کی متعدد نئی اور پرانی صورتوں کا شکار ہے.. تو شیطان کم از کم بھی یہ چاہے گا، بلکہ اسی کو غنیمت جانے گا، کہ یہ مسئلہ معاشرے میں ’باعثِ نزاع‘ نہ ہو جائے!

دو گروہوں میں اس بات پر صاف صاف ٹھن جائے کہ بندگی اور پرستش کا _ ہر معنیٰ میں _ حق کسے ہے اور اطاعت کروانا اور اپنا قانون چلانا کس کو سزاوار ہے، اللہ کو یا اسکے ماسوا ہستیوں کو؟ تو اس میں جاہلیت سراسر خسارے میں رہے گی۔ پس اس ایک بات پر جس قدر مٹی ڈال دی جائے اس کی نظر میں کم ہے۔ اس مسئلہ کو جتنا حاشیائی اور متروک الرواج کردیا جائے اس کی نگاہ میں اچھا ہے۔ اس کیلئے جاہلیت کا طریقہ یہ ہو گا کہ لوگوں کو اس ’اختلاف‘ پر آنے ہی نہ دیا جائے! بندگی اور عبادت کو اِس کی سب اشکال سمیت زمانے کا موضوع نہ بننے دیا جائے اور ہو سکے تو اس کو ایک ’اختلافی‘ اور ’فرقہ وارانہ‘ مسئلہ بنا کر رکھ دیا جائے۔ بلکہ آدمی کے پڑھا لکھا اور ’معقول‘ ہونے کی یہ علامت ٹھہرا دی جائے کہ وہ ’اختلافی مسائل‘ کے ذکر تک سے دور بھاگے اور اس پر معاشرے میں تنازعہ برپا کردینا فساد جانے۔ انبیا کی دعوت میں وہ مسئلہ کس قدر مرکزی تھا، اس کیلئے سب غیر متعلقہ ہو!

یہ ایک تاثر ہے اور اسکو قائم کردینے میں جاہلیت جس قدر کامیاب ہے آج آپ کے سامنے ہے۔ بڑے بڑے اچھے اور موحد گروہ بھی اگر معاشرے میں کسی بڑی سطح پر مقبولیت کے طلبگار ہوں، جس میں کہ اصولاً کوئی برائی نہیں، تو ان کو ایسے اپنے ہر امتیاز سے دستبردار ہونا پڑے گا جو شرک سے برہنہ دشمنی اور غیر اللہ کی خدائی سے  کھلا بیر ایسی پہنچان رکھ کر ہی قائم ہوتا ہے۔ ’قومی دھارے‘ میں شریک ہونے کیلئے ہر مذہبی گروہ اور ہر دینی جماعت پر یکساں لازم ہے کہ وہ یہاں ’رواداری‘ کا کچھ ایسا مظاہرہ کرے جس سے واضح ہو کہ وہ کسی ایسے بنیادی مسئلے کو اٹھانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی جس کا کھڑا کیا جانا جاہلیت کیلئے سوہانِ روح ہو، چاہے وہ شرک اور توحید کا نزاع کیوں نہ ہو اور بے شک وہ "ان اعبدوا الله واجتنبوا الطاغوت"[1] کی صدائے پیغمبرانہ کیوں نہ ہو۔ زیادہ ہوا تو یہ اسکا ایک ’ذاتی‘ یا پھر ’جماعتی‘ اعتقاد رہ جائے جس کو معاشرے کا باقاعدہ مسئلہ بنانے کی کوئی خاص ضرورت باقی نہ رہے!

شیطان زور بھی لگا لے تو وہ اس ساری کی ساری امت کو شرک میں نہیں دھکیل سکتا۔ اس کو سارا زور اب اسی بات پر لگا دینا ہے کہ جو کوئی یہاں شرک کرتا ہے ’شرک نہ کرنے والے‘ اس کے منہ نہ آئیں اور نہ ہی اس شرک کی گندگی اور پلیدی کا یہاں کہیں ذکر ہو، خواہ وہ دعا اور سجدے کا شرک ہو اور خواہ وہ تہذیب اور حاکمیت کا شرک۔ شرک کے ساتھ اس ’رواداری‘ کا مظاہرہ ہو جانے لگے تو یوں سمجھیے شیطان کا کام ہو جاتا ہے۔ اس سے بڑھ کر اسے معلوم ہے امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں اسے کچھ ملنے والا نہیں۔

اسے جاہلیت کی ایک چال کہیے یا ایک مجبوری، ہر دو صورت اس کا نگاہ میں رہنا البتہ ضروری ہے۔ جس کا تقاضا ہے کہ ’رواداری‘ کی بابت بعض مفہومات درست کر لئے جائیں۔ پس اس کا آپ ہمارے ان مضامین میں جا بجا ذکر پائیں گے۔

**************

توحید کی دعوت دنیا میں سب سے مشکل اسی وقت تھی جب اللہ نے اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہاں مبعوث فرمایا۔ ایک ایسی اڑیل اور ہٹ دھرم قوم جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو واسطہ پڑا کسی اور کے قابو میں آنے والی نہ تھی:

ہم نے اس قرآن کو تیری زبان میں بہت ہی آسان کر دیا کہ تو اس کے ذریعے سے پرہیزگاروں کو خوشخبری دے اور جھگڑالو قوم کا ڈرادے

 

فَإِنَّمَا يسَّرْنَاهُ بِلِسَانِک لِتُبَشِّرَ

 بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْمًا

 لُدًّا (97)[2]

دنیا کے اس قدر بڑے بڑے دیوہیکل بت خانے، اس قدر مضبوط کافرانہ تہذیبیں جو صدیوں سے انسانی ضمیر پر مسلط اور انسانی شعور پر کنڈلی مار کر بیٹھی تھیں.. پھر اہلِ کتاب کی ہی اتنی بڑی بڑی دکانیں جن کا نبیوں اور صحیفوں کے نام پر سکہ چلتا تھا.. اور پھر جہان میں پائے جانے والے اتنے پیچیدہ فلسفے کہ جن کا کوئی اول اور نہ آخر.. اور پھر ایسی پُر ہیبت متجبرانہ سلطنتیں جن کا جہان میں ڈنکا بجتا تھا.. ان سب کا یوں خاک میں مل جانا سوائے اس کے کسی صورت ممکن نہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنفسِ نفیس اس امت کی تربیت اور تعلیم کا بیڑا اٹھائیں اور بنفسِ نفیس اس عمل کی قیادت کرتے ہوئے یہاں جاہلیت کے خلاف علمِ جہاد بلند کریں اور ازالہ باطل میں اس پیشرفت کو ایک خاص نقطے تک پہنچا کر جائیں:

"اہلِ کتاب کے کافر اور مشرک جب تک کہ ان کے پاس ظاہر دلیل نہ آجائے باز رہنے والے نہ تھے (وہ دلیل یہ تھی کہ) اللہ تعالی کا ایک رسول جو پاک صحیفے پڑھے جن میں صحیح اور درست احکام ہوں"[3]

 

لَمْ يکنِ الَّذِينَ کفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْکتَابِ وَالْمُشْرِکينَ مُنْفَکينَ حَتَّى تَأْتِيهُمُ الْبَينَةُ (1) رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً (2) فِيهَا کتُبٌ قَيمَةٌ (3)[4]

 

"وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پورے کے پورے دین پر غالب کردے، خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو"[5]

 

هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ کلِّهِ وَلَوْ کرِهَ الْمُشْرِکونَ (9)[6]

جو کام صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کرنے کا تھا اور کسی اور کے بس میں نہ ہو سکتا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدست خود انجام دیا۔ امت کیلئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی کام چھوڑا جو امت کر سکتی تھی۔ امت کو ایک راہ پہ ڈال دینا اور اسے اس کیلئے ایک پختہ راستہ بنا جانا تا آنکہ وہ کسی بھی دیکھنے والے کی نگاہ سے اوجھل نہ ہو پائے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا کام تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر جس طرح اس راستے کا سراغ ملنا دشوار تھا اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب کسی کو اس راستے کا سراغ نہ ملنا انہونا ٹھہرا۔ یہ وہ فرق تھا جو انسانی دنیا میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ رونما ہو گیا اور آج تک بلکہ قیامت تک برقرار ہے۔

جہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہوگا وہاں توحید اور آخرت کے تذکرے ساتھ ہوں گے۔ اللہ کی وحدانیت و کبریائی وہاں موضوعِ اولین بنے گی۔ بتوں کا توڑا جانا.. شرک سے مخاصمت اور باطل سے عداوت اور اس کے خلاف جہادِ مسلسل کا تصور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت اور جدوجہد کے بیان میں خودبخود نمایاں ہوگا۔ جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیئیس سالہ سیرت کے مطالعہ میں بندگی کی حقیقت نکھر کر آئے گی اور اللہ کی طلب اور چاہت کی ایک خوبصورت تصویر ابھر کر سامنے آئے گی وہاں طاغوتوں سے براءت، غیر اللہ کی عبادت کا مسلسل اور کھلا کھلا انکار اور جھوٹے خداؤں کی خدائی کا واضح ترین رد بھی اتنا ہی نمایاں ہو کر سامنے آئے گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا مضمون کچھ اس حد تک واضح ہے کہ اس پر دو رایوں کا پایا جانا ممکن ہی نہیں۔ مسئلہ صرف تب کھڑا ہوتا ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتی و تحریکی ترجیحات ذہن سے محو ہو جائیں یا کہیں پسِ منظر میں چلی جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی دعوت کا اصل الاصول جس پر آپ کی برسوں محنت ہوئی اور جس کو منوانے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے زیادہ زور صرف ہوا، ذہنوں سے روپوش ہو جائے اور دین کی وہ جزئیات جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے اس اصل الاصول کو پیشِ نظر رکھ کر ہی درست طور پر سمجھ آ سکتی ہیں اور جن کی اصل افادیت اور معنویت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے اس اصل الاصول سے جڑنے بلکہ اسی سے پھوٹ کر برآمد ہونے میں ہے.. وہ جزئیات ہی انسان کی دعوت اور جدوجہد کا عنوان بن جائیں تب واقعی مسئلہ ایک لمبی چوڑی بحث کا ضرورت مند ہو جاتا ہے۔

البتہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت اور جدوجہد کی کچھ بنیادی منزلیں ذہن سے روپوش نہ ہونے دی جائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمی اور تحریکی مساعی کے کچھ بنیادی ترین مرحلے ’مطالعہء سیرت‘ میں مختصر نہ کروادیۓ جائیں اور قرآن کا کوئی ایک تہائی حصہ محض ’مشرکینِ مکہ‘ کے ساتھ خاص نہ سمجھ لیا جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تمام تر عرصہء نبوت ایک ہی حقیقت کا تسلسل ہو جاتا ہے اور وہی حقیقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدوجہد میں پھر اول تا آخر بولتی ہے۔ یہ لا الہ الا اللہ کی حقیقت تھی اور یہی اسلام کا جامع ترین عنوان۔ تعلیم، تربیت، تزکیہ، دعوت، ہجرت، جہاد، قتال، معاشرت، ریاست، نماز، ذکر، دعا. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب کچھ اسی لا الہ الا اللہ کی لڑی میں پرویا ہوا تھا۔ عبادت کی ہزاروں صورتیں جن کی غیر اللہ سے نفی کی گئی تھی اور جن کا صرف اللہ رب العزت کیلئے اثبات کیا گیا تھا . ان کی اصل خوبصورتی یہی تھی کہ ان سب عبادات کو لا الہ الا اللہ کی لڑی میں پرویا گیا تھا۔ یہ خوبصورتی بعد والوں میں سے بہت سوں کی عبادت و ریاضت اور دعوت و جدوجہد کو حاصل نہ ہوسکی۔

یہ راہ بنا دینا سب سے مشکل تھا۔ یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنفسِ نفیس کیا۔ اس راستے کو اس حد تک پختہ اور روشن کر دیا کہ اس سے بھٹکنا کسی کیلئے ممکن ہی نہ رہے سوائے ایک ایسے شخص کے جو خود بھٹک جانا چاہے:

" میں نے تمہیں ایک جگ مگ راہ پر چھوڑا ہے کہ جس کی رات بھی ویسی ہی (روشن) جیسا اس کا دن۔ میرے بعد کوئی اس سے نہ بھٹکے گا سوائے وہ جس کو ہلاک ہی ہونا ہو"

 

قَدْ تَرَکتُکمْ عَلَى الْبَيضَاءِ لَيلُهَا کنَهَارِهَا لَا ‏ ‏يزِيغُ ‏ ‏عَنْهَا بَعْدِي إِلَّا هَالِک[7]

یہ محض ذکر اذکار کی دعوت نہ تھی۔ محض حسنِ اَخلاق کا درس نہ تھا۔ محض نماز روزہ کی تاکید نہ تھی۔ یہ محض کوئی نفس کو مارنے کا عمل نہ تھا۔ یہ محض کافروں سے الجھنے اور لڑنے لڑانے کی مہم نہ تھی۔ بس ’تبدیلی حکومت‘ کا مطالبہ نہ تھا۔ یہ محض دعا اور مناجات کا لطف نہ تھا جو کہ پاکیزہ نفوس کی ایک بے حد بڑی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ یہ در اصل عبادت کا ایک جامع اور متوازن تصور تھا اور بندگی کا ایک منظم اور ہمہ گیر عمل۔ اس میں سب کچھ تھا اور بڑی بات یہ کہ اپنی اپنی جگہ پر تھا۔ ایک درخت کی ہر ہر شاخ اور ہر ہر پتے کی طرح اس کی ہر ہر چیز توحید سے پھوٹ رہی تھی۔ بنیادی طور پر یہ توحید کا درخت تھا اور اس کا ہر پھل، بے پناہ تنوع کے باوجود، توحید کا مزہ دیتا تھا۔

لا الہ الا اللہ کی اس حقیقت کو ایک مضبوط  تناور پودے کی صورت دلوں کی سرزمین پر اور معاشرے کی فضا میں قائم و راسخ کردینا اور پھر اس کو تاریخ کا ایک ایسا دھارا بنا دینا کہ کسی کیلئے لا الہ الا اللہ کی اس حقیقت سے اور اس حقیقت کی اہمیت و اولویت سے صرفِ نظر کر رکھنا ممکن نہ رہے.. وہ کام تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اللہ کی مدد سے انجام دے سکتے تھے۔ چنانچہ یہ کام سب سے زیادہ اسی وقت اور اسی ماحول میں مشکل تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو انجام دینے کیلئے دنیا میں مبعوث ہوئے۔ ایک چلے ہوئے راستے پر چلنا کبھی اتنا مشکل نہیں ہوتا جتنا کہ ابتدا سے اس راستے کو بنانا۔

ہم سب کو اس لحاظ سے ایک چلے ہوئے راستے پر چلنا ہے۔ لہذا اس کو ہرگز اس قدر مشکل نہ جاننا چاہیۓ جتنا کہ یہ اس وقت تھا جب یہ راستہ ہی دنیا میں کہیں موجود نہیں تھا۔ صحابہ کو اس امت کی تاریخ میں ایک بہت خاص کام انجام دینا تھا اور وہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی معیت میں اور کمال محنت اور جانفشانی سے انجام دیا۔ ہمارا کام ہمارے اپنے لحاظ سے بے شک دشوار ہو مگر اس کام سے اس کی دشواری کا موازنہ تک نہ ہونا چاہیۓ جو اس امت کی تاسیس کے وقت اس کے مؤسس صلی اللہ علیہ وسلم  اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے رفقائے کار کو کرنا پڑا۔

ہم بعد والوں میں اور اس امت کے مؤسسین (صحابہ) میں ایک دوسرا بڑا فرق یہ ہے کہ صحابہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیرِ سرکردگی اپنی جدوجہد کو لازماً ایک خاص مرحلے تک پہنچانا تھا تاکہ بعد والوں کیلئے چلنے کا راستہ اپنے تمام تر مرحلوں سمیت پوری طرح صاف ہو جائے اور صحابہ کا سارا دور ہی ہر ہر معاملے میں ایک مثالی نمونہ بن جائے جسے بعد والے اپنا نصب العین بنا لینے میں پھر کوئی دقت نہ پائیں۔ البتہ ہم بعد والوں پر اس معنیٰ میں اپنی کسی اجتماعی جدوجہد کو پایہء تکمیل تک ہر حال میں پہنچا دینا لازم نہیں۔ نہ ہی ہم میں سے کوئی شخص خود کو اس بات کا مکلف جانے کہ وہ یا اس کے رفقائے کار   _ اجتماعی جدوجہد میں _ کسی خاص کام کو ضرور ہی مکمل کریں ِ۔ نہ کسی کیلئے درست ہو گا کہ وہ کوئی ایسا تاثر ہی قائم کرے کہ _ اجتماعی زندگی کے اندر اور امت کی زندگی کے کسی مرحلے میں _ اس کو یا اس کے اصحاب یا اس کی جماعت کو کوئی خاص مشن پایۂ تکمیل کو پہنچانے کے بعد ہی اس دنیا سے رخصت ہونا ہے۔

ہمیں ایک چلے ہوئے راستے پر چلنا ہے اور جہاں تک قدرت اور ہمت پائیں بس وہاں تک پہنچنا ہے۔ اس کے سوا اس معاملہ میں ہمارا کوئی فرض نہیں۔

ہمیں پریشان ہونا ہے تو صرف اس ایک بات پر کہ عین اسی راستے پر ہو لیں جس کو وجود اور رخ دینے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی تمام تر محنت ہوئی۔ ہماری وہی ترجیحات ہوں جو ان کی تھیں۔ ہمارا زور عین اسی بات پر ہو جس پر ان کا زور رہا۔ ’دین‘ کی بابت ہمارا وہی تصور ہو جو ان کا تھا۔ بندگی کی وہی حقیقت ہم میں وجود پائے جو ان میں وجود پا چکی تھی۔ ہماری دعوت عین اسی بات کی ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی دعوت کا عنوان تھا۔ ہماری وابستگی عین انہی بنیادوں سے ہو جن پر ان کا اجماع تھا۔ ہماری براءت، ہماری عداوت اور ہماری مخاصمت اسی باطل، اسی طاغوت اور اسی غیر اللہ کی خدائی سے ہو جس سے براءت اور عداوت اور مخاصمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے اختیار کی تھی۔

البتہ کامیابی کی وہ حدیں جن کو صحابہ نے چھویا تھا ہم بھی ضرور چھوئیں، ہمیں اس بات کا مکلف نہیں کیا گیا۔ نہ یہ ہمارے لیۓ ممکن ہے۔ ہم اس راستے میں کہاں تک پہنچ پاتے ہیں، یہ ہماری ذمہ داری کی بنیاد نہیں بشرطیکہ ہم اسی راستے میں رہتے ہیں اور اس کو مختصر یا تبدیل کردینے کی کوئی خواہش دلوں میں نہیں پالتے۔ اصل غلطی اور اصل انحراف یہ ہوگا کہ اپنی دعوتی اور تحریکی جدوجہد میں کامیابی کے اس نقطے تک پہنچنے کیلئے جس تک صحابہ پہنچ گئے تھے ہم صحابہ کے راستے میں کوئی ترمیم ضروری سمجھیں یا اس کے کچھ اہم اور بنیادی حصوں کو درمیان سے حذف کردیں یا پھر اس کے کچھ مسلمات کو اپنے عمل کا محور نہ رہنے دیں:

"پس ثابت رہو جیسا تمہیں حکم دیا گیا، تم بھی اور تمہارے ساتھ (باطل سے) توبہ کرآنے والے بھی۔ خبردار، تجاوز نہ کر بیٹھنا، وہ تم جو کچھ کرو دیکھتا ہے۔ خبردار، ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آجاؤ گے اور کوئی ولی و سرپرست اللہ کے سوا تمہیں نہ ملے گا اور نہ تمہیں کہیں سے مدد پہنچے گی"

 

فَاستَقِمْ کمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَک وَلَا تَطْغَوْا إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (112) وَلَا تَرْکنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّکمُ النَّارُ وَمَا لَکمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِياءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ (113) [8]

پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مامور تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت بھی مامور ہے[9]۔ اس امت کی سب سے بڑی اچھائی یہ ہے کہ یہ وہی کام کرے جسے کرنے کا اس کو کہا گیا ہے۔ یہ اپنا کام خود تجویز نہ کرے بلکہ اس کو اس کے کرنے کا کام خدا کی طرف سے بتایا جائے۔ ہمیں جو ’بتادیا گیا‘ ہے ہمیں بس وہی کرنا ہے اور خدا کا کام _ پورے اعتماد کے ساتھ _ خدا پر چھوڑ دینا ہے۔ پوری دنیا اس راہ پر آجائے یا کوئی ایک شخص بھی ساتھ دینے کو آگے نہ بڑھے، اس بات کا علم اور اختیار خدا کو ہے۔ ہم اس کے بندے ہیں اور ہمارا کام ہے زندگی زندگی اس کی بندگی کرنا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی چلی ہوئی راہ پر پائے جانا۔ اپنا کام خدا پر چھوڑ دینا توکل ہے اور نہ خدا کا کام اپنے ہاتھ میں لینا رسمِ بندگی۔

صحابہ کا دور اس امت کی تاریخ کا منفرد ترین اور کامیاب ترین دور تھا۔ اس کے بعد اس امت پر عروج اور زوال کے بیسیوں مدوجذر کا آنا ایک شرعی حقیقت بھی ہے اور ایک معلوم تاریخی واقعہ بھی۔ کبھی اس دین کو کافی تعداد میں اور مطلوبہ نوعیت و معیار کے لوگ ملیں گے اور کبھی کسی دور میں نہیں بھی ملیں گے۔ اس دین کی حقیقت کو لے کر چلنے والے کبھی کسی دور میں مقبولیت پائیں گے اور کبھی کسی دور میں ہو سکتا ہے خدا کی مشیئت ان کو ’غُرَباء‘ رہنے دے، جس کی حکمت وہ آپ ہی جانے۔ اُس کی سنت ہے کہ انسانی زندگی میں اُس کی مشیئت بھی عموماً اسباب ہی کے راستے سے ظہور پزیر ہو۔ سو کبھی اس امت کے عروج پانے کے اسباب ہوں گے اور کبھی نہ ہوں گے۔ البتہ اس امت کا کوئی دور بھی خیر سے یکسر خالی نہ ہوگا۔ ہر دور میں لوگوں کا فرض ہو گا کہ وہ اپنے زمانے میں جس قدر خیر پائیں اسی کو ترقی و توانائی دینے پر سرگرم ہوں اور اسی کو بنیاد بنا کر حق کی نصرت اور حق کے احقاق پر اپنا زور صرف کردیں۔ اپنے زمانے میں جس قدر شر پائیں اسی کو کم اور ختم کرنے پر کمر بستہ ہوں اور اسی کو بنیاد بنا کر باطل کے بطلان اور اس کے خلاف جہاد کی سرتوڑ کوشش کریں۔ جہاں تک پہلی نسلیں اس کام کو پہنچا گئی ہوں یا اپنی کسی کوتاہی یا حالات کے جبر کے تحت اس کام کو چھوڑ گئی ہوں وہیں سے اپنے کام کا آغاز کریں اور کرۂ ارض پر اپنی آئندہ نسلوں کے کرنے کا کام زیادہ سے زیادہ آسان بنا کر جائیں۔ کسی زمانےمیں خدا کو کیا منظور ہے، یہ البتہ خدا پر چھوڑ دیں۔

یہ ضرور واضح ہے کہ لا الہ الا اللہ کی حقیقت کو، جو کہ ایک موحدانہ طرز بندگی سے عبارت ہے، دلوں میں گہرا اتارنا اور معاشرے میں قائم وسر بلند کرنا کبھی کسی دور میں بھی اتنا مشکل نہ ہو گا جتنا کہ اس وقت جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو اس کا آغاز کرنا پڑا۔ اب ہمارے دور میں بلکہ کسی بھی دور میں اول تو یہ اتنا مشکل نہیں پھر یہ کہ ہم میں سے ہر ایک کو اپنے ہی حصے کا کام کرنا ہے۔

مزید برآں، استطاعت کی شرط ایک مجموعی طور پر دشوار کام کو بھی کسی خاص شخص یا جماعت کے حق میں نسبتاً آسان کردیتی ہے۔  کسی کو اس کی ہمت سے بڑھ کر خدا مکلف کرتا ہی نہیں خواہ وہ کوئی فرد ہو یا جماعت یا ادراہ۔

یہ دونوں باتیں مدِّ نظر رہیں تو اپنے اس دور میں توحید کی دعوت کا کام ناممکنات میں شمار نہ ہونا چاہیۓ۔ علاوہ ازیں، بہت سے حالات اور اسباب اگر ایسے ہیں جو اس دعوت کے سکہء رائج الوقت ہوجانے کی راہ میں رکاوٹ ہیں تو حالات کے اور بہت سے پہلو اور موجود الوقت بے شمار اسباب ایسے بھی ہیں جو ہمارے لئے اس باب میں نویدِ مسرت کا درجہ رکھتے ہیں اور جن کو مدِّ نگاہ رکھ کر اس دعوت کی نصرت کا ایک زبردست پروگرام اور ایک کامیاب منہج ترتیب دیا جا سکتا ہے۔ نہ یہ مشکلات ہماری نظر سے روپوش ہونی چاہییں اور نہ یہ مبشرات۔ ہماری کوشش ہو گی کہ راستے کے یہ دونوں پہلو ہمارے ان مضامین میں ساتھ ساتھ چلیں۔

*************

جس پہلی چیز کو ہمیں واضح کرنا ہے وہ کچھ پیچیدگیوں کا ذکر ہے۔ اسی کو ہم نے ’تاثرات‘ کہا ہے۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ ان پیچیدگیوں کا پایا جانا اگر مشکلات میں شمار ہوتا ہے تو تاثرات کی یہ گرد جھاڑ دی جانا مبشرات میں گنا جاسکتا ہے۔ توحید پر آج ایک بہت بڑے طبقے کا پایا جانا ایک نہایت پر مسرت واقعہ ہے۔ یہ بحران ہماری نگاہ میں کچھ پیچیدگیوں کا ہی پیدا کردہ ہے وگرنہ اس واقعے کا کہ خدائے واحد کو پوجنے اور شرک نہ کرنے والے یہاں لا تعداد ہیں، نہایت مثبت اور مؤثر اور خوبصورت استعمال ہو سکتا ہے۔ پس ان پیچیدگیوں کا دور کردیا جانا ہی یہاں راستہ بنانے کی ایک صورت ہے..

’تاثرات‘ کی یہاں کچھ ایسی دہشت ہے کہ آج معاشرے میں آپ ہر کسی کے حق میں بات کر سکتے ہیں سوائے ایک خدا کے حق کے ۔ خدا کا تنہا لائقِ بندگی ہونا اور اطاعت و تسلیم پر مطلق حق رکھنا.. خدا کے اس حق پر بات ہونا ایک غیر محسوس انداز میں ’معیوب‘ بنا دیا گیا ہے۔ کوئی آپ کو بزر نہیں روکے گا البتہ خدا کے اس حق کی بات کرنے پر آپ کو ذہنی اذیت سے ایک بڑا حصہ یہاں ضرور ملے گا۔

ہر شخص اور ہر طبقے کا ’حق‘ منوانا آج کے اس دور میں روا ہے۔ پر خدا کے ساتھ معاملہ یہاں اور ہے۔ باوجود اس کے کہ خدا کے فرستادہ نبیوں نے معاشروں میں خدا کا حق منوانے کیلئے ہی ساری محنت اور سارا زور صرف کیا تھا، آج اس کام کو کچھ اس خوبصورتی کے ساتھ ’رواداری‘ کے منافی قرار دے دیا جاتا ہے کہ مہذب اور جدید تعلیم یافتہ نظر آنے کیلئے کیا دیندار کیا بے دین ہر شخص اس بات سے کوسوں دور بھاگے کہ خدا کے ساتھ شرک اور بغاوت ایسے مسئلے پر کوئی اسے لوگوں سے الجھتا اور جھگڑتا پائے یا وہ کبھی غیر اللہ کی عبادت اور غیر اللہ کے قانون کی اطاعت ہونے پر ’جذبات‘ میں آتا دیکھا جائے۔

اس کام کیلئے ’تاثرات‘ ہی کا سہارا لیا جاتا ہے۔ جاہلیت اپنے نظریات بڑی مہارت سے عام کرتی ہے۔ سکول کے چند سالہ بچے سے لے کر ٹی وی سکرین میں گڑے بالغ عمر شہری تک کو یہ ذہنی اور نفسیاتی طور پر جیسے چاہے اپنے رنگ میں رنگتی ہے البتہ جب اِسکے اپنے نظریات اور اِسکے اپنے اختیار کردہ طرزہاۓ حیات پر زد آئے تو پھر رواداری کا سوال لے کر بیٹھ جاتی ہے۔ پس یہ ضروری جانا گیا کہ ’تاثرات‘ کے حوالے سے موحدین کے راستے سے یہاں کی کچھ رکاوٹیں ہٹائی جائیں۔

اس معاملے کی پیچیدگی کا تیسرا بڑا سبب ان بعض طبقوں کی طرف سے پیش آتا ہے جو معاشرے میں توحید کی دعوت دینا چاہتے ہیں مگر وہ اس راستے میں کچھ افراط اور کچھ بے قاعدگیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ چیز پھر بہت سے لوگوں کے ذہن میں ’دعوتِ توحید‘ ہی کی بابت ایک خاص قسم کا ’تاثر‘ پیدا کردیتی ہے۔ یوں اس معاملے کی پیچیدگی دوچند ہو جاتی ہے۔

ان ’تاثرات‘ کا علاج اور سدِّ باب اس لحاظ سے دعوتِ توحید کو معاشرے میں لے کر اترنے کیلئے ایک مقدمہ بن جاتا ہے۔

ہمارے توحید کے بہت اچھے اچھے داعی بھی جب اس ’مقدمہ‘ کو نظر انداز کر بیٹھتے ہیں تو ان کے اور معاشرے کے مابین ’تاثرات‘ کی ایک ایسی دیوار حائل ہو جاتی ہے کہ "طرفین" ایک دوسرے کو سمجھ ہی نہ پائیں۔ زیادہ ہوا تو ایک دوسرے کی بابت ’الجھنوں‘ اور ’غلط فہمیوں‘ میں اضافہ کریں۔

ہمارے بعض نیک طبقوں کی جانب سے معاشرتی رجحانات کا درست تجزیہ نہ کر پانا اور ’تاثرات‘ کے ساتھ پورا اترنے میں چابکدست نہ ہونا معاملے کی پیچیدگی کا ایک اضافی سبب بن جاتا ہے۔ بحران کی ان سب جہتوں پر ہم ان مضامین میں روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے۔

***************

اس بحران کی پھر ایک اور جہت بھی ہے اور وہ ہے ہمارے دیندار جدید طبقے کا کردار۔ ہمارے دیندار جدید طبقے کا ایک حصہ تو تحریکی سرگرمیاں رکھتا ہے جبکہ اس کا کچھ حصہ تحقیق و تالیف، تعلیم اور سماجی شعبے سے منسلک ہے۔ مطالعہ وخدمتِ اسلام اس پورے طبقے کے مابین ایک مشترک امر ہے۔ جس طبقے کی ہم یہاں بات کر رہے ہیں وہ ہے جو اخلاص کے ساتھ اسلام پر عمل پیرا ہونے میں اپنی دنیا کے اندر مقدور بھر کوشاں ہے..

ہمارے دینداروں کا یہ پڑھا لکھا طبقہ سب سے زیادہ اس بات کی اہلیت رکھتا ہے کہ یہ معاشرے کو سمجھے اور معاشرہ اِسے۔ بلا شبہہ یہ طبقہ دین سے آخری درجے کی ایک محبت رکھتا ہے اور اسلام کے بہت سے فرائض ادا کرنے میں حد درجہ سنجیدہ ہے مگر یہ اپنے عمل کا آغاز کہاں سے کرے، اپنے تصورِ دین سے لے کر اپنے منہجِ عمل تک کو یہ کن بنیادوں پر ترتیب دے، اجتماعی زندگی میں دینی کام کے حوالے سے اس کی ترجیحات کیا ہوں اور یہ معاشرے میں اپنے کردار کا تعین کیونکر کرے.. اس پر اس طبقے کے ہاں بھی بہت کچھ کام ہونے کی ضرورت ہے۔

معاشرے کو ایک ’بنیادی تبدیلی‘ کے عمل سے گزارنے کے تعلق سے اس طبقے کی ذمہ داریوں کا بوجوہ ادا نہ ہو پانا اس بحران کی ایک اور جہت ہے۔ لہذا یہ بھی ہمارا موضوع رہے گا۔

***************

مسلم امت پر پچھلی چند صدیوں میں جو زوال آیا اس کے کچھ بہت ہی بنیادی اسباب تھے۔ زیادہ لوگ اس زوال کے "ما بعد" احوال سے نبرد آزما ہونے پر متوجہ ہوئے مگر اس زوال کی سرے سے نوبت ہی کیوں آئی اور اس کا آغاز کیونکر ہوا، اس پر کم لوگوں کی توجہ جا سکی۔ اس زوال کی جڑیں حقیقت میں بہت دور تک جاتی ہیں۔ ابھی جب مسلم امت نصف عالم پر فرماں روا تھی زوال کے اسباب آہستہ آہستہ اس میں سرایت کرنے لگے تھے۔ معاملہ کو از سرِ نو درست کرنے کیلئے، کچھ فوری تدبیروں کے ساتھ ساتھ، در اصل ہمیں بہت پیچھے جانا تھا۔

خدا کے اس جہان میں ہر واقعے کے پیچھے کچھ اسباب ہی کارفرما ہوتے ہیں۔ لہذا ’اسباب‘ کو پوری توجہ دینا ہمارے دین کا اپنا ہی تقاضا ہے..

زوال کے اسباب صدیوں پہلے رونما ہو چکے تھے جو دن بدن زور پکڑتے جا رہے تھے۔ ہر دور کے صالح افراد ان کے سدِ باب کی کوشش بھی کرتے رہے۔ ان کی مزاحمت شدید ہو جانے پر یہ اسباب پسپائی بھی اختیار کر جاتے رہے اور یوں زوال کسی دور میں رک بھی جاتا رہا بلکہ کچھ غیر معمولی کوششوں کے زیرِ تاثیر گراف کسی وقت اوپر بھی جانے لگتا۔ مگر مزاحمت کے کہیں سست پڑتے ہی انحطاط کے یہ اسباب پھر زور پکڑ جاتے رہے۔ جس رفتار سے زوال کے اسباب کے خلاف اس مزاحمت میں کہیں کمی آئی اسی رفتار سے اس ادبار میں تیزی آجاتی رہی۔ تا آنکہ یہ زوال اپنی اس آخری حد کو پہنچا جہاں سب وقتی تدبیریں پھر بے کار اور بے اثر جانے لگیں۔ یہ امت اقوامِ عالم کیلئے ایک ’دستر خوان‘ ثابت ہوئی اور دنیا کی حریص قومیں.. یہ صدیوں کے بھوکے اس کھانے کے تھال پر ٹوٹ پڑے۔ دنیا بھر کے باطل نظریات اور باطل افکار اور کافرانہ تہذیبوں کیلئے ہم ایک کھلی منڈی بنے۔ اپنے پاس پہلے ہی کچھ نہ رہ گیا تھا اب اور بھی خستہ حال ہوئے۔ اس ’زوال‘ کا ’شکست‘ کے نقطے تک پہنچ جانا.. یہ اس انحطاط اور اس ادبار کا بالکل ایک نیا پہلو تھا اور اس قدر تکلیف دہ کہ ہمیں اس زوال کے اور سب پہلو بھول گئے۔ صورتِ حال ہی کچھ اتنی غیر معمولی اور بے بس کن ہو چکی تھی۔ ذہن غلام ہوئے۔ ہمارا فکر و شعور حتیٰ کہ محسوسات تک غیروں کے اسیر ہوئے۔ ہمیں اچھا وہ لگا جو اُن کو اچھا لگتا تھا۔ ہمیں برا وہ لگا جو اُن کو برا لگتا تھا۔ غلامی کی یہ ایک ایسی جدید شکل تھی جس کی پہلے کوئی نظیر نہ ملتی ہو۔ ہمارے ذہین دماغ نطفہء  باطل کے ٹھہرنے اور پالا جانے کیلئے بہترین آماجگاہ جانے گئے، جسے وہ اپنے معاشرے میں جنم دے دے کر جوان کریں اور بڑی محنت سے اپنی قوم میں پزیرائی دلوائیں۔

اس بحران کے اب دو پہلو بنتے تھے۔ اس بحران کا ایک پہلو وہ اسباب تھے جو امت میں صدیوں پہلے رونما ہو چکے تھے اور ہمارے بالآخر یہ دن دیکھنے کا باعث بنے، جس کے بعد اس کا سب کچھ پھر غیروں کے پاس چلا گیا۔ اور دوسرا پہلو اس بحران کا وہ تھا جو اس امت کے مغلوب ہو جانے کے بعد ایک بھونچال کی طرح رونما ہوا اور جس میں ہمیں ایک دم باطل کی نئی نئی صورتیں دیکھنے کو ملیں۔

اب جبکہ ہمیں ایک نئی صف بندی کا مرحلہ درپیش تھا اس بحران کے یہ دونوں ہی رخ ہمیں سامنے رکھنا تھے۔ ایک، وہ اسباب جو ابتداءً امت کے زوال کا سبب بنے اور جو کہ صدیوں پہلے یہاں وجود پانے لگے تھے۔ اور دوسرا، وہ اسباب جو اس سقوط کے بعد ہم پر حملہ آور ہوئے اور پھر ہمیں اور بھی پستی کی جانب لے گئے۔

ہمارے اسلام پسند جدید طبقے کی توجہ زیادہ تر اس بحران کے دوسرے پہلو کی طرف گئی، یعنی اس پہلو کی جانب جو کہ رونما ہی اس پہلے زوال کے مکمل ہو جانے کے بعد ہوا تھا۔ گو یہ سچ ہے کہ اس نئے زوال نے پہلے زوال سے بھی بڑھ کر قوم کی لٹیا ڈبوئی۔ چنانچہ ہمارے اس دین پسند جدید طبقے نے "استعمار کے ما بعد" گمراہیوں اور فکری مغالطوں اور سماجی بیماریوں کے ازالے کی طرف تو کچھ نہ کچھ توجہ دی مگر ان امراض اور گمراہیوں اور فکر و عقیدہ کی ان خرابیوں کی جانب خاص توجہ نہ دی جو اس امت کو اس بلندی سے، جس پر کہ یہ کبھی کسی دور میں تھی، اس پستی کی جانب لے آنے کا ابتداءً باعث بنی تھیں۔ جبکہ واقعہ یہی ہے کہ وہ پہلا زوال جس کا موقعہ پا کر دنیا کی اقوام اس امت کے وجود پر چڑھ دوڑی تھیں انہی اسباب کا مرہونِ منت تھا جنہیں اب ہم ’پرانی‘ گمراہیاں سمجھتے ہیں اور جنہیں بڑی حد تک ناقابلِ توجہ جانتے ہیں اور جو کہ امت کے اک خاصے بڑے حصے میں بدستور پائی جاتی ہیں۔

یہ اسباب جو اس پہلے زوال کا ابتداءً پیشِ خیمہ بنے عقائدی انحرافات بھی تھے۔ سماجی خرابیاں بھی تھیں۔ سیاسی مظالم بھی تھے۔ ترک جہاد، تعمیرِ ارض میں کوتاہی، تسخیرِ مادہ میں کاہلی اور قوانینِ طبیعت کے ساتھ تعامل میں تقصیر بھی تھی۔ ان سب خرابیوں کی یقیناً ایک طویل فہرست بن سکتی ہے مگر یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ فکر و عقیدہ اور شعور و ادراک کی خرابی ایک ایسی خرابی ہے جو پھر ہر خرابی کیلئے راہ ہموار کر دیا کرتی ہے بلکہ ہر اور اچھائی کا آپ سے آپ اثر کم کر دیتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ فکر و عقیدہ کی خرابی ہی خدا کی نصرت میں مانع ہوتی ہے۔ لہذا جب تک اس کو دور نہ کردیا جائے اور اس کی شدید ترین مزاحمت نہ کی جائے تب تک کسی اور چیز کا خاطر خواہ علاج ہونا ممکن نہیں رہتا۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت اور تعلیم کی حکمت عملی میں یہی حقیقت ہمیں جلی طور پر نظر آتی ہے۔

جدید خرابیوں کا سدِ باب کرنا ہمارے پیشِ نظر ہو تو اس کی ابتدا بھی قوم کے فکر و شعور اور فہم و عقیدہ کو درست کرنے سے ہوگی۔ پرانی خرابیوں کو دور کرنا ہو تو اس کا طریقہ بھی فکر و عقیدہ کی اصلاح ہے۔ کام کی ابتدا قلب و ذہن کی تبدیلی سے ہی ہوگی۔ اس کے بعد پھر ہر چیز کا ہی باری باری اور اپنی اپنی جگہ پر نمبر آئے گا۔

جدید خرابیوں کا سد باب جتنا بھی ضروری تھا، اور ہم بھی اس کی ضرورت کے منکر نہیں، مگر یہ اس قیمت پر نہ ہونا چاہیۓ تھا کہ وہ پرانی خرابیاں جو اس امت کے بعض طبقوں میں صدیوں پہلے رواج پا چکی تھیں اور پھر رفتہ رفتہ ترقی کرتی گئیں اور آخرِ کار پوری امت پر ہی اپنا وبال لا کر رہیں، یکسر نظر انداز کردی جائیں۔ پچھلا راستہ صاف کئے بغیر آگے بڑھنا درست حکمتِ عملی نہ ہو سکتا تھا۔ ہمارے دین پسند جدید طبقے میں ’پرانے رواج کی گمراہیوں‘ اور ’دیرینہ انحرافات‘ کی بابت جو ایک ’لا تعلقی‘ اور ’لا پروائی‘ سی پائی جاتی ہے بلکہ بعض کے ہاں اس باب میں ایک قسم کی ’عافیت پسندی‘ دیکھی گئی ہے، اس سے اپنے یہاں ’فکری سہل پسندی‘ کا کچھ ایسا رجحان پرورش پا گیا کہ بہت سے صاحبِ استعداد لوگوں کو یہاں مطلوبہ اصلاحی عمل کی گہرائی ماپنے کی ہمت نہ ہوئی۔ یا پھر اس جانب توجہ ہی نہ گئی۔ چنانچہ وہ گمراہیاں اور وہ شرکیہ انحرافات جو صدیوں پہلے سے اس امت کو زوال کی جانب دھکیل رہی تھیں ان کا سد باب اب بھی کسی نے تو ضروری ہی نہ جانا اور کسی نے اس کو ایک بھاری پتھر جان کر چھوڑ دیا اور محض جدید گمراہیوں یا پھر ان میں سے بھی چند ایک کا ہی تعاقب ضروری جانا۔

مختصر یہ کہ اس صالح طبقے نے یہاں علاج کا آغاز "ما بعد استعمار" منظر نامے سے کیا بغیر اس نقطے کا تعین کئے جب ابتداءً اس مریض کی حالت بگڑنے لگی تھی۔

اتنا ہی نہیں اس نے اس طبقے کا ایک خاص لہجہ بھی بنا دیا جس کے باعث یہ جدید گمراہیوں کے خلاف بھی عداوت اور مخاصمت کا وہ اسلوب نہ اپنا سکا جو کہ باطل کے خلاف اپنایا جانا اصولاً ناگزیر ہوتا ہے اور جس پر کہ انبیا کی زندگی سے ہزاروں شواہد ملتے ہیں۔ یوں جدید باطل کے ساتھ بھی یہ طبقہ ایک ’نکتہء نظر کا اختلاف‘ ہی کر سکا نہ کہ ’عقیدہ کا نزاع‘۔ نتیجتاً، نیا اور نہ پرانا ہمارا یہاں کوئی مقدمہ ہی نہ رہا۔

یہ ایک بڑا رخنہ تھا جو ہمارے اس دین پسند جدید طبقے نے امت کے اس سفرِ نو میں بوجوہ چھوڑ دیا اور پھر خود بھی آگے بڑھنے کا راستہ بند پایا سوائے یہ کہ ہر فکری انحراف اور ہر سماجی رکاوٹ کو جب سامنے پائیں اس کو ایک طرح دے کر گزر جائیں اور اسے راستے سے ’ہٹائے‘ بغیر ’آگے‘ بڑھ جایا کریں! انحراف سے دُو بدُو ہو جانا، گمراہی سے مبارزت اور طاغوت سے عداوت یہاں رواج ہی نہ بن پایا۔ یوں یہ ہونے لگا کہ فکری انحرافات اور سماجی برائیاں یہاں جوں کی توں چھوڑ دی جائیں۔ اصلاح پسندوں کی مساعی زیادہ ہوا تو ایک اخلاقی اپیل یا ایک علمی وتحقیقاتی عمل یا پھر ایک سیاسی اپوزیشن تک محدود رہی۔ پرانے انحرافات تو ’پرانے‘ جان کر چھوڑ ہی دیۓ گئے تھے اس طرزِ عمل کے نتیجے میں ’جدید‘ فتنوں کا بھی سدِّ باب نہ ہو پایا۔

ایک ٹھیٹ توحید  ہماری بے حد بنیادی ضرورت ہے۔ یہ کتاب اس ضرورت کا بیان بھی ہے اور اس منہج کے کچھ خدوخال کا تذکرہ بھی۔

*************

زوال کے پرانے اسباب ہوں یا فساد کے نئے محرکات، ان کو آپ دو پہلوؤں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ایک انکا علمی ونظریاتی پہلو اور ایک عملی و واقعاتی۔ علمی پہلو میں وہ عقائد، نظریات اور افکار آتے ہیں جو کسی واقعاتی صورتحال کی پشت پر ہوں اور پھر وہ رجحانات، اصطلاحات اور تاثرات ہوتے ہیں جو ان افکار کی بنا پر معاشرے میں عام ہو جاتے ہیں اور جن کی بنا پر پھر ایک عام شخص کی عقل اور سوچ اسی کے سانچے میں آپ سے آپ ڈھل جاتی ہے بغیر اس کے کہ اس پر آپ کوئی ’باقاعدہ‘ محنت کریں۔ رہ گیا اس زوال یا اس فساد کا عملی پہلو تو اس میں وہ سماجی، اخلاقی اور معاشرتی انحرافات آتے ہیں جو قوم کو تنزل کی طرف لے جاتے ہیں۔ ان دونوں کا علاج ضروری ہے مگر اولیت فساد اور زوال کے علمی و نظریاتی و شعوری پہلو کو ہی حاصل ہے کیونکہ سماجی تنزل اور اخلاقی بگاڑ بڑی حد تک یا تو جہالت کا نتیجہ ہوتا ہے اور یا ضلالت کا جو کہ ہر دو صورت فکر وعقیدہ کا ہی زوال ہے۔ (گو زوال کا عملی و اخلاقی پہلو کچھ عملی اسباب کا پیدا کردہ بھی ہو سکتا ہے)

ہمارے جدید اسلام پسند طبقے نے پرانے بگاڑ کو ہاتھ ڈالا بھی تو وہ اس کا عملی و اخلاقی پہلو تھا نہ کہ اس کا فکری و عقائدی و نظریاتی پہلو۔ ثانی الذکر پر زیادہ سے زیادہ چند الفاظ کہہ دینا یا سرسری پیراگراف لکھ دینا کافی جان لیا گیا۔ جبکہ یہ کوئی ایسا باطل نہ تھا جو اب کہیں پایا ہی نہ جاتا ہو اور جس کا محض ایک تاریخی واقعہ کے طور پر ذکر کر دینے کیلئے اس پر ناپسندیدگی کے چند جملے بول دیۓ جائیں۔ یہ عقائدی انحراف جس نے ہمیں یہ دن دکھائے، ایک پورے تسلسل کے ساتھ معاشرے میں اب بھی باقاعدہ وجود رکھتا تھا اور اس سے کترا کر گزر جانا داعیوں کو روا نہ تھا۔

باطل اپنے ختم کئے جانے کیلئے ایک باقاعدہ تحریک، ایک کبھی نہ رکنے والا بیان اور ایک خاص درجے کی مزاحمت چاہتا ہے۔ اس پر مسلسل اور پے در پے ضربیں نہ لگائی جائیں اور اس کے خلاف معاشرے میں ایک باقاعدہ محاذ نہ بنایا جائے تو گاہے بگاہے بیان اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑتا۔ یہ جاندار اور زور آور عقائدی اسلوب بہر حال اسلامی ذہن کی تشکیلِ نو کے اس مرحلے میں اختیار کیا جانے سے رہ گیا تھا.. پرانے باطل کے مدِ مقابل ہی نہیں بلکہ اس نئی جاہلیت کے رُوبرُو بھی۔

پس معاملے کے اس پہلو پر بھی ہمارے یہاں آپ کچھ گفتگو پائیں گے۔

*************

اس وادی کا رخ کرنے میں کئی ایک اندیشے واقعتاً ایسے پائے بھی جاتے تھے جن کو بے جواز جاننا انصاف نہیں۔ عدل سے تجاوز کر جانے میں ایک احساسِ بے اطمینانی کا پایا جانا فطری امر ہے۔

یہاں برّ صغیر کے کئی ایک حلقوں میں "اصولِ اہلسنت" تک عام رسائی نہ ہونے کے باعث ایک بڑی خلش اس بات پر پائی جاتی رہی ہے کہ اِفراط اور تفریط کے مابین کوئی نقطہء اعتدال ہاتھ آئے جس سے جادہء حق پر لوگ یہاں پیر جما کر چلیں اور داعیانِ توحید یہاں بار بار کی ٹھوکروں سے بچیں جن کے باعث یہاں توحید سے تمسک اختیار کرنے والے کسی بھی گروہ کی بابت ڈر پیدا ہو جاتا رہا ہے کہ مبادا راستے کی کسی بھی ناہمواری کی نذر ہو جائے اور کسی بھی پیچیدہ اور مشکل مقام پر بہت سوں کو ساتھ لے کر کسی نا معلوم جانب لڑھک جائے۔ پھر جبکہ متعدد حادثات ایسے ہوئے بھی ہیں اور یہ اندیشے نرے مفروضے نہیں رہے۔ سمجھدار یہ دیکھ کر محتاط ہو جائیں تو باعثِ تعجب نہ ہونا چاہیۓ۔ دوسری جانب وہ اندازِ بے اعتنائی ہے جو عقائدی انحرافات کے ساتھ تعامل اختیار کرنے میں کسی وقت احساسِ مردنی اور بے اثر پذیری تک جا پہنچتا ہے بلکہ بسا اوقات تو ایمان کی موت ہو چکنے کا گمان ہوتا ہے۔

ایک بڑا طبقہ پس یہاں ایسا ہے جو بربادی کے ان دونوں ہی گڑھوں میں جا پڑنے سے حد درجہ ڈرا رہتا ہے۔ اس طبقے کی مشکل واقعتاً بے اندازہ ہے۔ کوئی واضح کسوٹی ایسی نہ پائی جانا جس سے اس افراط و تفریط کے مابین نقطہء وسط اور اس غلو و جفا کے مابین جادہء اعتدال کی نشان دہی ہو اور وہ کسوٹی نہ تو نرے وہم اور اندازوں پر مشتمل ہو، نہ ہی ہر شخص کی ’ذاتی‘ تحقیق ہو اور نہ ہی آج کسی کی ایک بالکل نئی علمی اپج.. بلکہ مستند علم پہ بِنا کرتی ہو اور ان ائمہء علم سے لی گئی ہو جو امت کے علمی مراجع کے طور پر اپنی تاریخی حیثیت میں معروف ہوں اور جن کی جانب ایسے معضلات میں امت کا رجوع کرنا ثابت اور معلوم ہو.. کوئی واضح علمی کسوٹی یہاں ایسی نہ پائی جانا یہاں کا ایک بڑا المیہ ہے اور ایک بہت خطرناک اور تباہ کن خلا۔ ایسے میں ایک پورے شدّومد سے لوگ راستہ چلتے نظر نہ آئیں باوجود اس کے کہ ’چلنے‘ کی خواہش حد سے بڑھ کر پائی جاتی ہو تو اس پر صرف افسوس ہونا چاہیۓ نہ کہ تعجب۔

اس خلا کو جس چیز سے پُر کیا جا سکتا ہے اور اس بند راستے کو جس چیز سے کھولا جا سکتا ہے وہ ہے "اصولِ سنت"۔ یہ ایک باقاعدہ علم ہے مگر بدقسمتی سے اس پر کام ہمارے برصغیر میں بہت کم ہوا ہے، خصوصاً یہاں کے تحریکی حلقوں میں۔ اور یہی یہاں ایک بڑی سرگردانی کا باعث ہے۔ وگرنہ جذبہ اور دین سے تمسک جتنا یہاں ہے شاید ہی دنیا میں کہیں پایا جاتا ہو۔ پس یہاں برصغیر میں اسلامی بیداری کی ایک ناقابلِ اندازہ خدمت کوئی ہو سکتی ہے تو یہ کہ یہاں "اصولِ اہلسنت" کا فہم عام کیا جائے اور مختلف سطحوں پہ اس پر کام کیا جائے۔ وہ بہت سے بڑے بڑے سوال اور عاجز کر دینے والے معضلات "اصولِ اہلسنت" کے اندر ایسے تشفی بخش جواب پاتے ہیں جیسے حساب کا کوئی پیچیدہ سوال کسی ماہر استاد سے حل کروا لیا جائے اور پتہ چلے کہ کوئی ایک ہی گھنڈی اس سارے حسابی عمل کو خراب کرتی رہی تھی!

اس محاذ پر _ یعنی "اصولِ اہلسنت" کی شرح و بسط اور تفہیم و اشاعت پر _ مقدور بھر کام کرنے کا ارادہ ہم بھی رکھتے ہیں[10] اور شاید ایک محدود سے طبقے کی یہ کام کچھ خدمت کر سکے مگر توحید کی عمومی دعوت کی طرح یہ کام بھی جب کسی بڑی سطح پر یہاں کے جہابذہء علم ہی کریں گے تو صورتِ حال میں اصل فرق آئے گا۔

بہر حال اپنے دین پسند جدید طبقے کے وہ جائز اندیشے جن کی جانب یہاں اشارہ ہوا ہے اور جو کہ خود ان کے ایک بڑے طبقے کیلئے پریشان کن ہیں کیونکہ ان کی فطری ایمانی حِس ہر دو انتہا سے ہی خوف کھاتی ہے اور ہر دو گمراہی میں جا پڑنے سے بچنا چاہتی ہے.. ان کے وہ جائز اندیشے "اصولِ اہلسنت" کے بیان سے ہی زائل ہو سکتے ہیں۔ اس سلسہء مضامین میں ہم اس کی تفصیل میں تو نہ جائیں گے البتہ کچھ ضروری اشارات اس کی جانب ضرور کریں گے، جو کہ امید ہے "عقیدہ" کو "تحریک" سے جوڑ دینے کی ایک مضبوط اور عملی بنیاد مہیا کر سکے گا۔

**************

               امت میں پائی جانے والی یہ "قبل از استعمار" گمراہیاں جو اساساً ہمیں اس گرداب تک لے آنے کا سبب بنیں.. ان پر کام کرنا دین کی طرف رخ کرنے والے جدید طبقے کے ہاں ’خطرات‘ کا ایک ایسا پنڈورا بکس جانا گیا جس کو ہاتھ لگانے سے بھی ڈرا جائے۔ بہت سے اسباب ایسے ہوئے کہ ان بحثوں میں پڑنا فرقہ واریت جانا گیا اور پسماندگی کی علامت! حالانکہ ہمارا یہ جدید طبقہ اگر ایک علمی اور موضوعی  objective انداز میں اس معاملے کو حل کرنے پر کچھ وقت لگاتا اور معاشرے کو معاشرے کی زبان میں اس باطل کی حقیقت سمجھانے پر اپنی کچھ توانائی صرف کرتا تو یہ معاملہ باحسن انداز انجام پاتا۔ مخالفت تو اِس پڑھے لکھے طبقے کی بھی ہو کر رہتی، کہ یہ خدا کی سنت ہے اور اس کے پیچھے اس کی بے پناہ حکمتیں ہیں، لیکن اس پر کچھ عرصہ اگر محنت ہو لیتی تو قوم کے سمجھداروں پر معاملہ کی پوری تصویر ہی واضح ہو جاتی۔ تب اس تصویر میں محض "ما بعد استعمار" حالات ہی نہ بولتے بلکہ امت کا ایک پورا تاریخی کردار ہی اپنے پورے تسلسل کے ساتھ اس میں نمایاں ہوتا۔ یوں امت کے اس سفرِ نو میں معاملے کو عین اس بنیاد پر لے آیا جاتا جس پر اس امت کی اول اول تاسیس ہوئی تھی۔ اس صورت میں مسلم معاشروں کے یہ دیرینہ روگ بھی دور ہوتے اور ہمارا یہ طبقہ بھی اپنی معاشرہ فہمی کے باعث فرقہ واریت کی چھاپ سے محفوظ رہتا بلکہ فرقہ واریت کے اصل معنی سے بھی لوگوں کو آگاہی ہوتی۔

               تمام تر سمجھداری سے کام لیتے ہوئے اور غایت تن دہی کے ساتھ عقیدہ کے ان جان لیوا انحرافات کو دور کردینا یوں بھی فرقہ واریت کیونکر کہلا سکتا تھا؟ کیا اس نے امت کا ستیاناس کرکے نہیں رکھ دیا؟ کسی ایسے تاثر کے ڈر سے کیا اپنے ہی جسم میں ایک ایسے مہلک مرض کو پلتا اور پھلتا چھوڑ دیا جائے؟

ارجاء، تصوف کی باطل اشکال، تشیع کی گمراہ صورتیں یعنی رافضیت، مزار پرستی، اولیا سے دعاء و التجاء، اکابر پرستی، اعتزال وعقل پرستی، تاویلِ صفات، انکارِ حدیث.. یہ ان فکری اور عقائدی انحرافات کی چند مثالیں ہیں جو کئی صدیوں تک اس امت کے وجود کو گھن کی طرح کھاتے رہے ہیں اور اب بھی وجود سے ختم نہیں ہو گئے ہیں۔ ان گمراہیوں کا سدِ باب ہمارے وجود کا مسئلہ ہے۔ ’فرقہ واریت‘ کے طعنے سے دب کر کیا ہم اپنے وجود کو داؤ پر لگا سکتے ہیں؟

ہمارے اس طبقے کے ایک حصے نے اس مسئلے پر کسی سے کڑوی کسیلی سننا شاید اس لئے بھی ضروری نہ جانا کہ یہ اپنے راستے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ کرنا چاہتا تھا، گو یہ معلوم نہیں ان کا یہ ’راستہ‘ کہاں لے کر جاتا تھا!!

           کئی ایک جماعتیں جو بیک وقت دو مغالطوں کا شکار ہوئی تھیں؛ ایک یہ کہ اسلام کی اِس وقت کی سب سے بڑی ضرورت اسلام کو اقتدار دلوانا ہے، اور دوسرا یہ کہ اسلام کو اقتدار دلوانے کا یہ کام بس انہی کی جماعت کو قائدین کی زندگی زندگی پایہء تکمیل تک پہنچانا ہے.. ایسی کئی ایک جماعتیں نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے آپ کو مجبور پاتی رہیں کہ اس کئی سو سالہ انحراف کو نظروں سے روپوش ہونے دیں جو کہ استعمار کی آمد سے بہت پہلے یہاں موجود تھا بلکہ اس حالتِ استعمار و استعباد کو طاری ہو جانے کیلئے مسلسل دعوت دیتا رہا تھا۔

           یہ اس بحران کی سنگینی اور پیچیدگی کا ایک خاص پہلو ہے۔ کچھ توجہ اس سلسلہء مضامین میں ہم اسے بھی دیں گے۔

**************

قصہ مختصر، ہمارے یہاں پچھلی صدی ڈیڑھ صدی کے دوران اصلاح اور خدمتِ اسلام کی جو بھی عصری کوششیں ہوئیں ان میں اس بگاڑ کو بنیاد سے ہاتھ ڈالنے کا کام بہت کم ہوا۔ اوپر اوپر سے صفائی کی خاصی کوشش کی گئی مگر اس کا فائدہ ظاہر ہے جزوی اور وقتی ہی ہو سکتا تھا۔ جبکہ درحقیقت اس کو جڑ سے لینا ضروری تھا، جو کہ بہت کم لوگ کر پائے۔ زیادہ لوگوں نے اس کو کچھ سیاسی مسائل میں محصور جانا اور یا پھر کچھ سماجی مصائب میں۔ یا پھر انہوں نے اس کو غلبہء کفار کے تناظر میں دیکھا اور یا پھر امت کی سیاسی وتکنیکی پسماندگی میں اور یا پھر کچھ نصابی اور تحقیقاتی قسم کے نقائص میں۔ یہاں تک کہ وہ لوگ بھی جو اس بحران کو "ایمان" کے مسئلہ کی جانب لوٹاتے رہے، اور جوکہ ایک بے حد صالح اعتبار ہے، ان کی محنت بھی "ایمان کے حقائق" کو ذہنوں اور دلوں کے اندر جلی و راسخ کرنے پر نہیں بلکہ "ایمان کی کیفیات" برآمد کرنے پر ہی رہی۔ "کلمہ پر محنت" کی جن لوگوں کو توفیق ہوئی وہ بھی "یقین" کے معنیٰ میں نہ کہ بیک وقت "علم" اور "یقین" کے معنیٰ میں۔ جبکہ یہ تو واضح ہے "یقین" کی محنت تب ہی جا کر ثمر آور ہو سکتی ہے جب لا الہ الا اللہ کے ان جلی مطالب کو اس کلمہ کا عنوان بنا دیا جائے جو کہ "ملتِ ابراہیم" سے عبارت ہیں اور جو کہ انبیا کے جہاد کی مسلسل بنیاد بنے رہے ہیں اور جو کہ اس عظیم کشمکش کے پیچھے واضح ترین انداز میں بولتے رہے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدائے نبوت کے چند ہی سالوں کے اندر پورے جزیرۂ عرب میں کھڑی کر دی تھی۔

*************

اسی کے ساتھ پھر ایک اور جہت شامل ہو جاتی ہے۔ یہ بھی ایک ’تاثر‘ ہے گو یہ اس سلسلہء مضامین کے دوسرے حصے کا موضوع ہے..

           ہماری قوم کا وہ طبقہ جو اپنے تئیں عملیت پسند کہلاتا ہے اور ہر عمل کی قیمت کو اس کے عملی بلکہ یوں کہیۓ اس کے مادی نتائج سے ماپتا ہے.. توحید اور آخرت کو معاشرے کی تربیت و تعمیر کی اساس بنادینے کے سوال پر یہ طبقہ حیرانی و بے یقینی سے دیکھنے لگتا ہے اور اس بات کو فرسودہ و از کار رفتہ جانتا ہے۔ گویا اس بات کا معاشرے کی فلاح وتعمیر سے کیا تعلق؟! اور قوم کی بھوک اور افلاس کا مداوا کرنے سے اس کو کیا رشتہ؟!

           چنانچہ حصہء دوئم میں کچھ روشنی ہم اس بات پر بھی ڈالنے کی کوشش کریں گے کہ قوم کا پیٹ بھرنے سے اس معاملہ کا کیا تعلق ہے اور یہ کہ اس امت کے حق میں وَلَيمَکنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا[11]  کا يعْبُدُونَنِي لَا يشْرِکونَ بِي شَيئًا [12]کے ساتھ کیا تلازم ہے اور أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآَمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ [13]کے ساتھ  فَلْيعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيتِ[14] کی کیا مناسبت ہے۔

           ایمان اور عقیدہ کی تعلیم عام کرنے کے اس محنت طلب کام کو امت کے اندر ایک ’غیر ترقیاتی‘ منصوبہ جاننا ایک مقبولِ عام تاثر ہے جسے نظر انداز کردینا "توحید" کے حق میں ظلم ہے۔ کچھ لوگوں کو خاص اس حوالے سے ہی ایک بات سمجھائی جا سکتی ہے لہذا "معاشرے کی ترقی" سے "توحید" کا رشتہ واضح کرنے پر بھی ہم کچھ وقت صرف کریں گے۔

*************

           تیسرے حصے میں ہم قدرے تفصیل سے "توحید" کی بنیاد پر "تعمیرِ معاشرہ" کا ایک عملی خاکہ زیرِ بحث لائیں گے۔ اس میں جہاں ہم امت کے کچھ روشن دماغ مصلحین سے استفادہ کریں گے وہاں اپنے ماحول میں کئے گئے کچھ تحریکی اور دعوتی تجربات کے قابلِ تصحیح حصوں کی بھی ذرا ایک متعین انداز میں نشاندہی کی کوشش کریں گے۔ اس مرحلے تک پہنچنے کیلئے کتاب کے پہلے دو حصوں کو توجہ دے لی جانا نہایت مستحسن ہوگا۔

***************

           اس بحران کی تمام تر سنگینی اور پیچیدگی کے باوجود ہمیں انکار نہیں کہ حالات کا رخ آہستہ آہستہ سہی مگر ایک اچھی سمت کی جانب ہی ہو رہا ہے۔ لا الہ الا اللہ کی حقیقت معاشرے میں، بلکہ پوری دنیا میں، دھیرے دھیرے سہی مگر لوٹ رہی ہے اور برابر اپنا راستہ بنا رہی ہے۔ حالات شہادت دے رہے ہیں کہ جہانِ نو میں ایک اسٹیج بن رہا ہے اور اسلام کے استقبال کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ اسلام اپنی حقیقت کے ساتھ پوری دنیا کی ضرورت بنتا جارہا ہے۔ بلکہ اس ضرورت کا احساس بھی بڑھتا جا رہا ہے.. نہ صرف مسلمانوں میں بلکہ دنیا بھر کے سمجھداروں کے ایک بڑے طبقے میں۔

           اپنی بہت سی تحریروں میں امید کی ان اٹھتی گھٹاؤں کی ہم نے بھی نشاندہی کی ہے۔ دعوتِ توحید کی راہ میں حائل جس بحران کی ہم نے تشخیص کرنے کی یہاں ایک کوشش کی ہے وہ کوئی اس معاملے کا تاریک پہلو دکھانے کی کوشش نہیں۔ اس بحران کا نگاہوں میں لے آیا جانا در اصل امیدوں کی اسی سمت میں ایک غیر معمولی زور اور بہاؤ لے آنے کی ایک صورت ہے۔ یہ کچھ کمزور سے بند ہیں جو جاہلیت ایک مدت سے فرزندانِ توحید کی راہ میں باندھ کر بیٹھی ہے۔ ذرا حوصلے اور دلجمعی سے ان کو توڑ ڈالا جائے تو توحید کے اس سیلِ رواں کو پورا کرۂ ارض تہِ آب لے آنے سے آج کے اس دور میں کوئی چیز نہ روک سکے گی کہ جہاں دنیا ایک بستی بننے جا رہی ہے۔ دنیا کے ایک ہونے کا وقت ہو تب ہی تو "اذانِ لا الہ الا اللہ" بلند کرنے کا موقعہ ہے! ہمیں اس دور میں رکھا گیا ہے تو اس کی کوئی وجہ ہو سکتی ہے۔ کیا بعید یہ گھڑی دیکھنا ہماری ہی قسمت میں ہو!

*************

           ان گنت اسباب ایسے ہوئے ہیں کہ ایک طرف خرافات کا دور یہاں قصہء ماضی بننے والا ہے تو دوسری طرف لادینیت اور مغرب سے مرعوبیت کے دن ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ ہر دو ضلالت پر اڑے رہنے والے عنقریب یہاں فرسودہ و ناپسندیدہ دیکھے جایا کریں گے۔ سیاست کا اقتدار بے شک کچھ دیر اور ان کے پاس رہے مگر ذہنوں کے اقتدار سے یہ عنقریب سبکدوش کر دیۓ جانے والے ہیں۔ حالات ہمارے تصور سے بھی تیز ہو جانے والے ہیں۔ اسلام کی جانب لوٹ آنا اب ان معاشروں کا مقدر نظر آتا ہے۔ اسلام کی جانب لوٹ آنے کے اس بڑی حد تک لا شعوری عمل کو اب اگر ایک زوردار شعوری عمل میں بدل ڈالا جائے، جس کا مدخل علمِ توحید ہے، تو اپنے ان معاشروں کو ہی نہیں تاریخ انسانی کو اپنے اس دور میں ایک بے انتہا خوبصورت موڑ مڑوایا جا سکتا ہے۔ سب کچھ خدا کے اختیار میں ہے مگر اسباب کی دنیا میں فی الوقت اس کے بے پناہ امکانات ہیں۔

خود ہمیں البتہ کسی بات کی جلدی نہ ہونی چاہیۓ سوائے اس کے کہ ہم اس صحیح راستے پر پائے جائیں جو چودہ صدیاں پہلے سے ہمارے چلنے کیلئے موجود ہے۔ اپنی آئندہ نسلوں کو اگر ہم عین اسی راستے پر چھوڑ جانے کی تسلی کرلیتے ہیں تو زندہ رہنے میں فخر اور موت پانے میں سکون ہمارا حق ہوگا۔ اس سے بڑھ کر کوئی اس دنیا سے بھلا کیا لے جا سکتا ہے؟ جو کام ہم نہیں کر پائیں گے وہ ہماری نسلیں کریں گی۔ جاہلیت سے ہماری جنگ کوئی دو چار  یا دس بیس برس کا قصہ تو ہے نہیں۔ یہ صدیوں سے چلی آتی ہے اور صدیاں شاید اسے ابھی اور چلنا ہے۔ خدا کو ہی یہ منظور نہیں کہ قیامت سے پہلے اس کا ’فیصلہ‘ ہو جائے۔ تاریخ کو ابھی کتنے موڑ اور مڑنے ہیں، ہمیں کیا معلوم۔ ہم اس پر پریشان بھی کیوں ہوں۔ کوئی چیز خدا کو عاجز کر دینے والی نہیں۔ جو ہو رہا ہے جو ہوگا، اس کی حکمت اور اختیار سے ہو گا۔ ہمیں پریشان ہونا ہے تو اس پر کہ وہ کام جو ہمیں اپنی اس دنیا میں کرنا ہے اس کو تو ہم کسی اور پر چھوڑ کر نہیں جا رہے؟

************

بندگی اور پرستش میں اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرنے والے اور حکم و قانون میں ایک اسی کی اطاعت کا دم بھرنے والے آج یہاں لاکھوں کروڑوں کو پہنچتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا اصل زر ہے۔ اس کو صرف ایک جہت چاہیۓ۔ یہ فکر عام کرنے کی ضرورت ہے کہ "توحید" محض ایک عقیدہ نہیں "توحید" راستہ ہے۔ "توحید" کو معاشرے میں ایک فیصلہ کن حقیقت بننا ہے۔ اہلِ حق اور اہلِ باطل میں اصل حدِ فاصل بننا ہے۔ دو فریقوں کے مابین کشمکش کا جلی عنوان ہونا ہے۔ "توحید" کو یہاں ایک "تحریک" میں ڈھلنا اور باقاعدہ طور پر ایک جیتا جاگتا "معاشرہ" کھڑا کرنا ہے۔

’تاثرات‘ و ’رجحانات‘ اور ’غلط فہمیوں‘ اور ’شبہات‘ کا وہ جال جو معاشرے میں "توحید" کی راہ روک کر کھڑا ہے بس اگر نگاہوں کی زد میں لے آیا جائے تو اس سے بے حقیقت چیز کوئی نہیں۔ اس کے بعد راستہ آگے تک صاف ہے۔ اس سے آگے راستہ بہت کھلا ہو جاتا ہے۔ ان رکاوٹوں کو جن کی جانب ہم نے اس بحران کے ضمن میں اشارہ کیا ہٹا دیا جائے تو اسلام کا وہ دھارا تشکیل پا جاتا ہے جو اپنے دور کے ہر صالح فرد کو اپنے ساتھ چلائے گا۔ مشکل ابتدا میں ہے اور اس پر بلا شبہہ زور صرف ہوگا۔ 

ہمارے دور کے معروف اسلامی مفکر سید قطبؒ نے کبھی کہا تھا:

"ناگزیر ہے کہ اسلامی عمل ایک ’پیدائشِ نو‘ کے مرحلہ سے گزرے۔ ناگزیر ہے کہ اس پیدائش کو ’زِہ کے عمل‘ سے واسطہ پڑے۔ ناگزیر ہے کہ زِہ کا یہ عمل ’درد‘ سے آشنا ہو۔ پس ناگزیر ہے کہ اس دور کی تحریکیں یہاں ایک ’درد‘سہیں!"

خوشی کی بات یہ ہے کہ یہ ’پیدائش کا درد‘ ہے نہ کہ ’موت کی تکلیف‘!!!

 

"اے وہ لوگو جو ایمان لائے! لبیک کہو اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آوازپر جب وہ تمہیں اس امر کی طرف دعوت دیں جس میں تمہاری زندگی ہے.."

 

يا أَيهَا الَّذِينَ آَمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاکمْ لِمَا يحْييکمْ[15]

 

*************

یہ سارا سلسلہء مضامین اس فکری، نظریاتی، سماجی اور تہذیبی صورتحال سے بحث کرتا ہے جو برصغیر اور خصوصاً پاکستان میں پائی گئی۔ کچھ اور مسلم ملکوں اور خطوں پر، جزوی فرق ہونے کے  باعث، اس کا پورا انطباق نہ ہوتا ہو تو اس کی یہی وجہ ہو گی کہ ہم نے یہ بحث دراصل خود اپنے ماحول اور معاشرے سے متعلق کی ہے۔ گو اس بحث کا عمومی دائرہ برصغیر کے پس منظر سے زیادہ وسیع ہے۔  

 

 

اللهم أرنا الحق حقا وارزقنا اتباعه، وأرنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه

 

 وصلى الله على النبی وآله

***************


 

کچھ وضاحتیں بعض فنی امور  کی بابت..

قرآنی آیات کا ترجمہ یا ترجمانی جہاں  کسی مصدر سے من وعن لی گئی مثلاً ترجمہ تفہیم القرآن از مولانا ابو الاعلی مودودی یاترجمہ مولانامحمد جونا گڑھی یا ترجمہ شاہ رفیع الدین دہلوی وغیرہ، اس کی وہیں پر یا پھر حاشیہ میں صراحت کردی گئی ہے. جہاں ایسا نہیں ہوا وہاں ہم نے خود آیت کا مفہوم بیان  کیا ہے، گو وہاں بھی معروف اردو تراجم سے ہی زیادہ تر مدد لی گئی ہے. لفظی ترجمہ  کا التزام عموماً نہیں کیا گیا.

احادیث، آثار اور اقوالِ علماء وفقہاء پر مشتمل عربی نصوص کا بھی عموماً مفہوم بیان کیا گیا ہے.

احادیث اگر صحیحین سے ہوں تو ان کا سادہ حوالہ دے دینا کافی جانا گیا ہے.  کسی دوسری کتاب سے ہوں تو ان  کی تصحیح یا تضعیف  کی جانب حاشیہ میں نشاندہی  کر دی گئی.اس چیز کی پابندی عموماً کتاب کے متن میں دی گئی احادیث کی حد تک کی گئی ہے حاشیہ میں شواہد کیلئے اگر کوئی  حدیث یا اثر ہو تو بھی بیشتر  اس کا حکم بیان ہوا ہے مگر کسی وقت  شاید ایسا  نہ بھی ہو پائے. حدیث  کے قابلِ قبول ہونے کے معاملہ میں عموما محدثِ عصر شیخ ناصر الدین البانی  کی تحقیق پر انحصار اور زیادہ تر اسی پر اکتفا  کیا گیا ہے.


 

[1] - سورہ النحل: 36 "بندگي كرو ايك اللہ كي اور دامن كش رہو طاغوت (كي بندگي) سے"

[2] - سورہ مریم

[3] - ترجمہ جونا گڑھي

[4] البینہ

[5] - ترجمہ مودودي

[6] الصف

[7] - مسند احمد 16519 وابن ماجۃ 43 عن العرباض بن ساریہ، قال الالبانی: صحیح (صحیح سنن ابن ماجہ)

[8] - سورہ ہود

[9] - امت كا مامور ہونا اس معني ميں نہيں كہ اس كا ہر اقدام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كي طرح "وحي" ہو گا بلكہ اس معني ميں كہ يہ "ابتداع" كي راہ سے اپنے عمل اور جدوجہد كا تعين خود نہ كرے بلكہ اس كيلئے وحي كي جانب رجوع كرے اور سابقين كے طريقے كي جانب۔

[10] - اس پر قدرے تفصيل سے كام جو كہ ہمارے پيشِ نظر ہے ابھي كيا جانا باقي ہے، پھر بھي اس پر ہماري ترجہ كردہ كتاب "اہلسنت فكر و تحريك" اور ايقاظ كے سن دو ہزار چار تا دو ہزار چھ كے چيدہ چيدہ اداريے ديكھ لئے جانا مفيد ہو سكتا ہے۔

[11] - سورہ النور:55 "اور وہ ان كيلئے (زمين ميں) انكے دين كو تمكين دے گا جسے كہ وہ انكے حق ميں پسند فرما چكا ہے، اور وہ ان كي (موجودہ) حالتِ خوف كو امن وچين سے بدل دے گا"

[12] - حوالہ مذكورہ "وہ ميري عبادت كريں گے ميرے ساتھ كسي كو بھي شريك نہ ٹھہرائيں گے"

[13] - سورہ قريش:4 "جس نے ان كو بھوك سے كھانا ديا اور خوف سے امن"

[14] حوالہ مذكورہ:3 "پس انہيں چاہيۓ اسي گھر كے رب كي عبادت كرتے رہيں"

[15] - سورہ الانفال: 24

**********