سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فھرست مضامین ایقاظ جولائی 2007

بیداری<< تحریک

Download in PDF format

بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الحمد ﷲ والصلوۃ والسلام علی رسول اﷲ
اَما بعد

ایک ڈیڑھ صدی جو بے سمت گزری


    ''سمت'' کا اپنی ایک ''بنیادی ترین ضرورت'' ہونا پچھلی فصل میں واضح کیا جا چکا۔ (1)اس کا کچھ تذکرہ یہاں بھی رہے گا البتہ اس مضمون میں ہم اپنی ایک ڈیڑھ صدی کا کچھ جائزہ لیں گے جو اپنی اس ''بنیادی ضرورت'' کو پورا کئے بغیر ہم نے عمل کی ایک پرزور گرم جوشی میں گزاری۔

******

    قدرتِ خداوندی کے کچھ منصوبے ہماری نگاہ میں رہیں تو یہ ہمارے بہترین مفاد میں ہوگا۔ علم غیب کا دعویٰ ہم میں سے کوئی بھی نہیں کر سکتا۔ اِن امور کے ادراک کیلئے البتہ آپ کو جو شہادت درکار ہے اور جو کہ بالفعل آپ کو آج حاصل ہے وہ ہے قرآنی مقدمہء تاریخ، آسمانی اُمتوں کے مشن کی حقیقت اور اس اُمت کا وہ کردار جو کرہءارض میں یہ صدیوں ادا کرتی آئی اور جس میں گزشتہ کچھ صدیوں کے اندر ایک قدرے تعطل آیا رہا اور جو کہ ایک عرصہ سے اب انسانی دُنیا کے اندر شدت سے اس کا منتظر ہے۔
    حضرات کیا آپ سمجھتے ہیں کسی ذات نے یہ دنیا بنائی ہے اور اس گنجان سیارچے پر کوئی چھ ارب سے زائد مخلوق بسا رکھی ہے، اور جو کہ اس 'کثرتِ اموات' کے علی الرغم مسلسل روبہ اضافہ ہے، تو وہ کچھ اس لئے کہ یہاں یہ 'روٹی' کھائے اور 'مصنوعات' کے اندر ایک دوسرے کا مقابلہ کرے!؟
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُونَ (18) وَلَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ عِندَهُ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَلَا يَسْتَحْسِرُونَ (19) يُسَبِّحُونَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ  (20) أَمِ اتَّخَذُوا آلِهَةً مِّنَ الْأَرْضِ هُمْ يُنشِرُونَ (21) لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا فَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ  (22) لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ  (23) أَمِ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ آلِهَةً قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ هَذَا ذِكْرُ مَن مَّعِيَ وَذِكْرُ مَن قَبْلِي بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ الْحَقَّ فَهُم مُّعْرِضُونَ (24) وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ (25) سورہ انبیاء
''مگر ہم تو باطل پر حق کی ضرب لگاتے ہیں جو اس کی سرتوڑ دیتی ہے اور وہ اسی وقت نابود ہو جاتا ہے تم (اللہ کا) جو وصف کرتے ہو وہ (البتہ) تمہارے لئے باعث بربادی ہے۔ زمین اور آسمانوں میں جو مخلوق بھی ہے وہ جاگیر ہے خدا کی۔ اور وہ ہستیاں جو وہ پاس رکھتا ہے ایسی ہیں جو نہ اُس کی بندگی سے سرتابی کریں اور نہ کبھی تھکنے کا نام لیں۔ رات دِن وہ اس کی تسبیح کرتی ہیں، دم نہیں لیتیں۔ یہ جن کو زمین پہ خدا بنا بیٹھے ہیں کیا وہ (بے جان کو) زندہ کر لیتے ہیں؟ زمین اور آسمانوں میں ایک اللہ کے سوا اگر کہیں اور بھی معبود ہوتے تو یہ درہم برہم ہی ہو جاتے۔ پس پاک ہے اللہ، عرش کا رب، ہر اس وصف سے جو یہ (مشرک) بیان کرتے ہیں! وہ جو کرے جواب دہ نہیں۔ اور سب جواب دہ ہیں۔ کیا اسے چھوڑ کر یہ اور معبود پکڑ بیٹھے ہیں؟ کہو: لاؤ تو اپنی دلیل۔ یہ ہے پیام میرے لوگوں کیلئے اور (تھا یہی) پیام مجھ سے پہلوں کیلئے۔ مگر ان میں کے اکثر حق سے ہی بے خبر ہیں، پس وہ موڑے ہوئے ہیں تجھ سے پہلے ہم نے جو بھی رسول بھیجا وہ یہی وحی دے کہ کہ سوائے میرے کوئی بندگی اور پرستش کے لائق نہیں۔ پس مجھے ہی پوجو''۔
قُلْ فَلِلّهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ شَاء لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ (149) سورہ انعام
کہہ دے اللہ تعالیٰ ہی کی دلیل زبردست ہے۔ پھر اگر وہ چاہتا تو تم سب کو راہ پر لگا دیتا۔  (ترجمہ وحید الزمان)
وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً أَتَصْبِرُونَ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيرًا  (20) سورہ فرقان
اور کیا ہم نے بعضوں تمہاروں کو واسطے بعض کے آزمائش آیا صبر کرتے ہو تم۔ اور ہے پروردگار تیرا دیکھنے والا۔  (شاہ رفیع الدین)
فَلَوْلاَ كَانَ مِنَ الْقُرُونِ مِن قَبْلِكُمْ أُوْلُواْ بَقِيَّةٍ يَنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الأَرْضِ إِلاَّ قَلِيلاً مِّمَّنْ أَنجَيْنَا مِنْهُمْ وَاتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُواْ مَا أُتْرِفُواْ فِيهِ وَكَانُواْ مُجْرِمِينَ(116) وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ (117) وَلَوْ شَاء رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلاَ يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ(118) إِلاَّ مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذَلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لأَمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (119) سورہ ہود
پس کیوں نہ ہوئے ان قوتوں میں سے کہ پہلے تم سے تھے صاحب شعور کے کہ منع کرتے فساد سے بیچ زمین کے، مگر تھوڑے ان لوگوں میں سے کہ نجات دی ہم نے ان میں یعنی گمراہی سے؟ اور پیروی کی ان لوگوں نے کہ ظالم تھے اس چیز کی کہ دولت دیئے گئے تھے بیچ اس کے اور تھے گناہگار۔اور نہ تھا پروردگار تیرا کہ ہلاک کرے بستیوں کو ساتھ ظلم کے اور اہل ان کے نیکوکار ہوں۔اور اگر چاہتا پروردگار تیرا البتہ کرتا لوگوں کو اُمت ایک۔ اور ہمیش رہیں گے اختلاف کرنے والے، مگر جن کو رحم کیا۔ پروردگار تیرے نے، اور واسطے اس کے پیدا ان کو۔ اور پوری ہوئی بات پروردگار تیرے کی: البتہ پھروں گا میں دوزخ کو جنوں سے اور آدمیوں سے سب سے۔ (شاہ رفیع الدین)
    یہ دنیا برقرار ہے تو اس لئے کہ رات اور دن کے فرق کی مانند اس کے اندر دو عقیدوں کا اختلاف ہو۔ دو دینوں کا تنازع ہو۔ دو تہذیبوں میں مقابلہ ہو۔ ایک طرف حق ہو جو کہ ایک ہی قسم کا ہو سکتا ہے اور ایک طرف باطل ہو جو کہ بے شمار قسم کا ہو سکتا ہے۔ اس سیارچے پر انسانی وجود کی بقا اسی بات میں مضمر ہے۔ جس دن یہ جنگ اپنے اختتام کو پہنچے گی اس دن یہ مخلوق بھی یہاں نہیں رہے گی۔ تسلی کے ساتھ روٹی کھانے کیلئے اس نے یہ جہان نہیں رکھا۔ اس کیلئے کوئی اور جہان ہے جہاں البتہ استحقاق کے کچھ اور اصول ہیں اور خوشحالی کا ہدف حاصل کرنے کے لئے کچھ اور انداز کی مصنوعات درکار ہیں۔
وَلاَ يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ  _ إِلاَّ مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذَلِكَ خَلَقَهُمْ
''(انسانیت) برسرِ اختلاف رہے گی، سوائے ان (خوش قسمتوں کے) جن پر تیرا پروردگار اپنی رحمت کرے، اور اسی لئے اُس نے پیدا کیا اُن کو'' ۔ (حوالہء بالا)
    دنیا 'بنی' ہے کہ جن و انس ''خدائے واحد کی عبادت'' کریں۔ مگر دنیا 'کھڑی' ہے تو تب تک جب تک یہاں خدا کی جاری کردہ ''سنتِ تدافع'' (2)عمل پزیر رہتی ہے۔ یہ کہانی ختم ہوگی تو یہ دنیا ہی باقی نہ رہے گی۔
    مقصدِ تخلیق سے بے شک انسانوں کی ایک بڑی تعداد یہاں منہ موڑے رہے مقصدِ تخلیق کو یہاں کا موضوع اور نزاع مگر رہنا ہے۔ یہ بہر طور ضروری ہے کہ خدا کے حق پر یہاں دو فریق آپس میں جگھڑا کریں ایک فریق حق پر اور انبیا کی دی ہوئی بنیاد پر رہتے ہوئے اور دوسرا فریق باطل پر اور دینِ انبیا کے برخلاف رہتے ہوئے:
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَسْجُدُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ وَمَن يُهِنِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِن مُّكْرِمٍ إِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ (18) هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ فَالَّذِينَ كَفَرُوا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّن نَّارٍ يُصَبُّ مِن فَوْقِ رُؤُوسِهِمُ الْحَمِيمُ(19)سورہ حج
کیا تو دیکھ نہیں رہا کہ اللہ کے سامنے سجدے میں ہیں سب آسمانوں والے اور سب زمینوں والے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان بھی۔ ہاں بہت سے وہ بھی ہیں جن پر عذاب کا مقولہ ثابت ہو چکا ہے، جسے رب ذلیل کردے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں، اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ یہ دونوں اپنے رب کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں۔  (ترجمہ: جونا گڑھی)
    ایک لاکھ چوبیس ہزار سے کچھ اوپر نبی آئے مگر باطل کو یہاں وجود سے ختم نہیں ہو جانے دیا گیا۔ خدائی منصوبہ ہی کچھ یوں ہے۔ باطل یہاں وجود سے ہی ختم ہو جائے تو پھر اہل حق کا بھی یہاں کوئی مصرف نہیں۔ محض خدا کی تسبیح وحمد اہل ایمان اگلے جہان میں کریں گے۔ یہاں ان کی سرگرمی کے کچھ اور محور بھی ہیں اور اس منصوبے کا ایک بہت ہی بنیادی اور مرکزی حصہ۔
    کتنی بڑی بڑی سلطنتیں یہاں کفر کی قائم ہوئیں۔ کیسا کیسا طنطنہ اور کیسی کیسی فرماں روائی یہاں طاغوت کی ہوئی۔ مگر حق ہے جو وجود سے ختم نہیں کیا جا سکا۔ حق یہاں قصہ ماضی بن جائے تو اہل باطل کا بھی پھر یہاں کوئی مصرف نہیں رہ جاتا۔ ان کا دائمی ٹھکانہ پھر یہاں نہیں، ایک دوسرا جہان ہے:
وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لأَمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ۔ (سورہ ہود 119) ”اور پوری ہوئی بات پروردگار تیرے کی: البتہ بھروں گا میں دوزخ کو جنوں سے اور آدمیوں سے سب سے“
    چنانچہ حق اور باطل کی یہ کشمکش ہی ہے جو یہاں انسانی وجود کو با معنی بناتی ہے اور جس کے دم سے یہ دنیا قائم ہے۔ اِسی کو اپنے اِس مضمون میں ہم ''سنتِ تدافع'' کے عنوان سے ذکر کریں گے۔
    ہمارے بہت سے نماز روزہ کرنے والے حضرات خدا کی بابت کچھ دل نشین پیرائے کہہ لینے اور خدا کے تعلق سے کچھ ایمان افروز احساسات بڑھاتے چلے جانے کو ہی ایمان کا ما حصل اور دین کا اصل تصور اور وجود کی کل غایت سمجھ لیتے ہیں اور اس سے ما ورا ہر چیز ان کے ہاں 'تعبیرِ دین' کی غلطی شمار ہوتی ہے۔ کچھ دوسرے اس سے آگے جائیں بھی تو وہ حق اور باطل کی اس جنگ اور ہدایت اور ضلالت کی اس کشمکش کو افراد کی سطح پر تسلیم کرنے کو تیار ہوتے ہیں نہ کہ امتوں، تہذیبوں اور معاشروں کی سطح پر۔
    جتنے رسول دنیا میں آئے انہوں نے یہ جنگ محض افراد کی سطح پر کھڑی نہیں کی بلکہ وہ اسے امتوں اور معاشروں کی ہی سطح پر لے جاتے رہے۔ زمینی سیارے پر انسانی وجود کے برقرار رہنے کی یہ دلچسپ کہانی اسی سطح پر چلتی رہنا ضروری ہے۔ بے شک اس میں ہر دو طرف پسپائی اور پیش قدمی کے بے پناہ امکانات ہیں مگر اس کو اپنی اس سطح اور اس جہت سے رو پوش کبھی نہیں کرایا جا سکتا کہ یہ افراد کی سطح پر تو ہو ہی، امتوں اور معاشروں کی سطح پر بھی با قاعدہ طور پر ہو۔
    پس اس پوری کہانی میں جو چیز اصل رنگ بھر دینے کے لئے رکھی گئی ہے وہ ہے یہ امت۔ وقت کی آسمانی امت، اپنے اُس خاص تاریخی کردار کے ساتھ جس کا تسلسل از عہدِ آدم جاری ہے۔ اس کے بغیر یہ کہانی بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس کا یہ کردار اس دلچسپ کہانی سے روپوش کرادیا جائے تو یہ ننھا سیارہ جو کوئی چھ ارب نفوس کو اپنی چھاتی سے چمٹائے اپنے مدار میں پھرکی بنا ہوا فضا میں مسلسل کسی نا معلوم سمت بھاگ رہا ہے عملاً بے کار ہو جاتا ہے اور اتنے سارے انسانوں کا بوجھ اٹھا رکھنا تب اس کے لئے بے معنی ہو جاتا ہے:
وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ هُوَ اجْتَبَاكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ مِّلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمينَ مِن قَبْلُ وَفِي هَذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاء عَلَى النَّاسِ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَاعْتَصِمُوا بِاللَّهِ هُوَ مَوْلَاكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ
''اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔ اس نے تمہیں اپنے (اس) کام کیلئے چن لیا ہے اور اس دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ قائم ہو جاؤ اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر۔ اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام ''مسلم'' رکھا تھا اور اس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے) تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر۔ پس نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ سے وابستہ ہو جاؤ۔ وہ ہے تمہارا مولیٰ۔ بہت ہی اچھا ہے وہ مولیٰ اور بہت ہی اچھا ہے وہ مددگار''۔ (سورہ حج 78 )
    افراد کا معاملہ اور ہو تو ہو یہ امت مجموعی معنی میں البتہ یہی کام لینے کیلئے رکھی گئی ہے۔ تخلیق کا جو کوئی مقصود ہے یعنی ''تنہا خدا کی عبادت''وہ تو ہر مسلم اور کافر سے ہی برابر مطلوب ہے مگر وہ کردار جو اس امت کو یہاں ادا کرنا ہے اس سے علاوہ کوئی چیز ہے۔ پس وہ مقصود جس کیلئے جن وانس وجود دیئے گئے وہ تو اپنے مطلوب ہونے کے معاملے میں اس امت اور دنیا کی دیگر امتوں کے مابین بلکہ امتوں کے تمام افراد ہی کے مابین مشترک ہے لیکن وہ کام جس کیلئے یہ امت یہاں رکھی گئی ہے اسی کے ساتھ خاص ہے۔ یہ کردارصرف اسی کو یہاں ادا کرنا ہے۔ اس کے اس کام کو خود اسی کے ذریعے نہ کہ فرشتوں کے ذریعے تکمیل پانا ہے اور اس کا رو بہ عمل آنا اسی کی ہمت اور ارادے پر موقوف ہے۔
    خدا کو اور خدا کے حق کو دنیا کا موضوع بنا دینا اور اسی ایک مسئلہ پر دنیا کو دو فریقوں میں تقسیم کرا دینا اور پھر اسی تقسیم کو زیادہ سے زیادہ گہرا کرنا اور اسی کی بنیاد پر عالمِ انسان میں خیر اور شر کے ما بین تدافُع کا بہترین اور مؤثر ترین اور صحت مند ترین ذریعہ بنا رہنا جس سے کہ زمین پر ''زندگی'' کو ایک معنی اور ایک بنیاد دستیاب رہے۔۔۔۔۔۔ اس کیلئے تا قیامت بس اب یہی امت ہے۔
    'ھُوَ اجْتَبَاکُمْ' یہ اُمت بطور مجموعی اسی کام کیلئے مختص کی گئی ہے: 'وَ جَاھِدُوا فِي اﷲِ حَقَّ جِھَادِہِ' کہ یہ کرہءارض پر خدائے واحد کے حق میں 'زور لگائے' اور درون میں اپنے نفوس اور بیرون میں باطل کے خلاف اس مسئلہ پر 'جان لڑا دے'۔ یہ ہے وہ 'مجاہدہ' اور وہ 'تدافع' جس کا عنوان ''ملۃ ابراہیم'' ہے اور یہ ہے وہ مشن جس پر پہلی اُمتیں ایک محدود سطح پر اور چھوٹے چھوٹے خطوں کے اندر تعینات رہی ہیں اور جو کہ مطلق طور پر اور پورے روئے زمین پر اب ہمیں سونپ دیا گیا ہے۔
    پس ہمارا وجود یہاں ایک خاص معنی رکھتا ہے ہے اور ہماری نوکری یہاں ایک خاص نوکری ہے اور ہماری بہبود کا کل انحصار ___ بطور قوم ___ اسی نوکری میں ہماری کارکردگی پر ہے۔
    اس دنیا کی کل معنویت پس ایک ہمارے دم سے ہے۔ جس قدر بڑا یہ ایک اعزاز ہے اسی قدر بڑی یہ ایک ذمہ داری ہے۔۔۔۔۔۔ اور اختیار کل خدا کا ہے۔
    تو حضرات اب اس امت کو بھی محض اگر ایک فلاحی ریاست بن رہنا ہے اور یہی اس کا منتہائے سعی و عمل ٹھہرتا ہے تو فلاح کا وہ اصل منصوبہ کیا فرشتے یہاں انجام دیں گے جو کہ اس انسانی دنیا کے اندر دراصل اس امت کو سونپا گیا ہے اور جس کے ساتھ پوری زمین ہی کی عافیت وابستہ ہے۔
    اس امت کو بھی اگر محض یہاں 'رہنا' ہے اور اسی نقشے پہ بسنا ہے جو کہ آج دستورِ جہاں سمجھ لیا گیا ہے تو کیا آپ یہ چاہیں گے کہ یہ کہانی جو خیر اور شر کے تدافُع سے عبارت ہے اپنے اختتام کو پہنچے!؟ یعنی دنیا عملاً بے معنی ہو کر رہ جائے اور اپنے استمرار کا سبب ہی کھو دے!!
    یہ دنیا یہاں روٹی کھانے، فلمیں دیکھنے، فٹ بال کھیلنے اور فنون لطیفہ سے دل بہلانے کیلئے ہمیشہ ہمیشہ تو نہیں رہے گی!!!
إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا (7) وَإِنَّا لَجَاعِلُونَ مَا عَلَيْهَا صَعِيدًا جُرُزًا  (8) سورہ کہف
یہ جو کچھ سروسامان بھی زمین پر ہے اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ اِن لوگوں کو آزمائیں اِن میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔ آخرکار اِس سب کو ہم ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں۔
    وہ کانٹا جو باطل کے قلب میں چبھتا ہے ناکارہ کرکے رکھ دیا جائے اور یوں دُنیا یہاں 'آرام وسکون' سے رہے اور اقوامِ عالم بقیہ عمر اب پورے اطمینان سے اس 'بہشت' میں روٹی کھائیں۔۔۔۔۔۔ یہ ہے وہ خواب جو اِس 'عالمِ نو' کی صورت گری کرنے والے بار بار اِس دُنیا کو دکھا رہے ہیں (اس کا وہ حصہ ابھی ہم نظر انداز کر رہے ہیں جس کی رو سے اس 'بہشت' میں روٹی کا 'انتظام' مستقل طور پر یہاں کے کچھ دجالوں کے ہاتھ میں رہے) اور اپنے اس خواب کے حقیقت بن جانے میں ان کو جو واحد رکاوٹ نظر آتی ہے وہ ہے قرآن۔۔۔۔۔۔ انسانیت کے پاس خدا کی آخری امانت۔۔۔۔۔۔ جو نہ صرف دُنیا کی وہ حقیقت دکھلاتی ہے جس سے انکا یہ خواب سراب دکھتا ہے اور جو نہ صرف شیاطینِ جن وانس کے ہر دجل کو بے اثر کرتی ہے اور جو نہ صرف حقیقت سے برگشتہ کرنے والے ہر دلفریب فلسفے کا طلسم توڑتی ہے بلکہ یہ اس اُمت کو باقاعدہ طور پر اس کا وہ فریضہ سونپ کر آتی ہے جسے قلبِ باطل دُنیا میں اپنے لئے مسلسل ایک کانٹا جانے اور جو خیر اور شر کے اس 'تدافع' کو عین اس جہت میں لے جائے جو اس معرکہءآدم وابلیس کا ایک حقیقی مظہر ہو اور جو کہ درحقیقت اس لڑکھڑاتی انسانیت کو زمین پر ذرا اور چل لینے میں 'اصل' مدد دے۔
    یہاں تک کہ ان کے ہاں صاف اب یہ کہا جانے لگا ہے کہ جب تک ___معاذ اﷲ___ وہ اس قرآن کا کچھ نہیں کر لیتے تب تک امنِ عالم دُنیا کے اندر ایک خواب ہی رہے گا۔ ان کا اصل خواب حالانکہ اگر کوئی ہے تو وہ یہی کہ کسی دن یہ 'قرآن' کا کچھ کر آئیں گے۔
    پس اپنی اس 'روٹی' کا مسئلہ بھی یہاں اپنی اس 'نوکری' کے ساتھ متعلق ہے۔ اپنے لئے جو اسامی خالی ہے وہ ایک ہی ہے جب چاہیں اسے ہم پُر کر لیں۔ اس کی 'تنخواہ' دُنیا میں بھی بہت اچھی ہے اور ہر نوکری سے بڑھ کر ہے۔
وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُواْ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِيلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَيهِم مِّن رَّبِّهِمْ لأكَلُواْ مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِم مِّنْهُمْ أُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ سَاء مَا يَعْمَلُونَ  (3)گو وہ بہشت جس کے دُنیا یہاں خواب دیکھتی ہے اپنے 'اِس' جہان میں نہیں جو کل پچیس ہزار میل گولائی پر مشمل ہے۔ اگرچہ یہ 'بہشت' کہیں ہے ضرور ہے اور ہے بھی صرف ان لوگوں کیلئے جو اس کو اس کی اصل جگہ پر تلاش کرتے ہیں اور اس کے اصل مصدر سے مانگتے ہیں:

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللّهِ الَّتِيَ أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالْطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ قُلْ هِي لِلَّذِينَ آمَنُواْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ َ (32) قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَن تُشْرِكُواْ بِاللّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَن تَقُولُواْ عَلَى اللّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (33) وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ فَإِذَا جَاء أَجَلُهُمْ لاَ يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلاَ يَسْتَقْدِمُونَ  (34) يَا بَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي فَمَنِ اتَّقَى وَأَصْلَحَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ (35) وَالَّذِينَ كَذَّبُواْ بِآيَاتِنَا وَاسْتَكْبَرُواْ عَنْهَا أُوْلَـَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ  (36) سورہ اعراف
کہو، کس نے حرام کردی اللہ کی زینت اور روزگار کی پاکیزہ اشیاء جو کہ اس نے اپنے بندوں کیلئے پیدا کر رکھی ہیں؟ کہو یہ اہل ایمان کیلئے ہیں یہاں دُنیا کی زندگی میں بھی اور قیامت کے روز تو خالصتاً انہی کیلئے ہوں گی۔ اسی طرح ہم اپنی آیتیں صاف صاف بیان کرتے ہیں ان لوگوں کیلئے جو علم رکھنے والے ہیں۔ کہو، میرے رب نے کچھ حرام کیا ہے تو وہ ہے بے شرمی کے علانیہ ہوں یا پوشیدہ، اور گناہ کے کام اور ناحق کسی پر ظلم کرنا اور یہ کہ تم اللہ کے کسی چیز کو شریک ٹھہراؤ جس کی کہ اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی اور یہ کہ تم اللہ کے ذمے ایسی بات لگا دو جس کو تم جانتے نہیں۔ہر قوم کیلئے مہلت کی ایک مدت مقرر ہے، پھر جب کسی قوم کی مدت آن پوری ہوتی ہے تو ایک گھڑی بھر کی تاخیر وتقدیم بھی نہیں ہوتی۔اے بنی آدم! اگر تمہارے پاس پیغمبر آئیں جو تمہی میں سے ہوں جو میرے احکام تم سے بیان کریں تو جو کوئی نافرمانی سے بچے اور راستی اختیار کرے اس کیلئے کوئی خوف اور رنج کا موقعہ نہ ہے۔ البتہ جو لوگ ہمارے ان احکام کو جھٹلائیں اور ان کے آگے سرکش ہو کر رہیں گے وہ لوگ البتہ دوزخ والے ہوں گے، وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
    پس یہ ایک زبردست 'ادارے' کی پیشکش ہے۔ 'دورانِ ملازمت' بھی آسائشوں میں آپ کسی سے کم نہیں رہتے اور جو کہ ویسے ایک چشم زدن عرصہ ہے مگر 'پسِ ملازمت' تو اس سے آپ 'تا زندگی' عیش کرتے ہیں! یہ ایک شاندار افسری ہے جو ورثہ' انبیاء سے ہمارے لئے پس انداز کر رکھی گئی ہے اور یہ کوئی ذرہ بھر مبالغہ نہیں کہ اس میں دونوں جہان ہمارے ہاتھ آتے ہیں۔
    مگر ہمارے لیڈر ہمارے لئے دُنیا کی جن آسامیوں پر درخواستیں دے دے کر آتے رہے وہ دوسروں کیلئے دُنیا کا کچھ عرصہ یہاں عزت وبرتری کا راز ہوں گی مگر ہمارے لئے وہ یہاں دُنیا میں بھی باعث ذلت و ماتحتی ہیں جبکہ آخرت میں تو ہیں ہی سامانِ حسرت۔۔۔۔۔۔
    جس کا کام اسی کو ساجھے۔ وہ تو ہمارا کام کر ہی نہیں سکتے ہم بھی وہ کام دُنیا میں نہ کریں' جبکہ وہ ہمارے ہی کرنے کیلئے رکھ چھوڑا گیا ہے، تو کون پھر اس 'آسامی' کو پُر کرے جس کیلئے انبیاء کی غیر موجودگی میں ہمارے سوا یہاں کوئی ہے ہی نہیں؟!
    کیا قرآن کی دسترس میں ایک بھی قوم نہ ہو جو اس کو تھام کر عمل کی دُنیا میں کھڑی ہو اور اس کے تہذیبی مقدمہ کی صورت دُنیا میں سنی جائے؟ اور کیا اس خلا کو چھوڑ دینے کی کوئی قیمت نہ ہو!؟
    یہ 'خلا' جو اس آسامی کے درست طور پر پُر نہ ہونے کے باعث پچھلی کچھ صدیوں میں پوری انسانی دُنیا کے اندر پیدا ہو گیا ہے اور جس سے دُنیا کا توازن ہر معنی میں بگڑ چکا ہے اس کی قیمت یوں تو پوری دُنیا دے رہی ہے اور دُنیا کے سب مظلوم اور محروم دے رہے ہیں مگر طبعی بات تھی کہ سب سے بڑھ کر اس کی قیمت ہم دیں کیونکہ یہ 'خلا' جس چیز کا پیدا کردہ ہے وہ ہے ہمارا اس کام کو باحسن طریق انجام دینے میں ناکام رہنا جس کے دم سے اس پوری دُنیا کی معنویت قائم ہے۔
    ''حق کا احقاق اور باطل کا ابطال'' اپنے نفوس سے لے کر اپنے معاشرے اور اپنی دُنیا تک، جس سے کہ زمین نزول برکات کا محل بنتی ہے اور نوع انسانی کو یہاں برقرار رکھنے کیلئے ایک صحیح بنیاد مہیا ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔ یہ ہے وہ 'پوزیشن' جو اس کارخانہءحیات میں بطور امتیاز ہمارے لئے مختص کر رکھی گی ہے اور جو کہ اس عمل گاہ میں دستیاب بہترین پوزیشن ہے۔ ہم اس حق ہی کے دست وپا بئیں جس کے ذریعے خدا دُنیا کے اندر خیر کو برتری دلوایا کرتا ہے جبکہ 'خیر کی برتری' کا 'شرکی سرنگونی' کے ساتھ جو ایک تعلقِ لزوم ہے بدیہی طور پر معلوم ہے، ہماری محنت اور ہمارے تخصص specialization کا اصل میدان یہ تھا اور ہماری اصل کھپت یہاں تھی۔۔۔۔۔۔
    شہداء ﷲ قوامین بالقسط (4)خدا کیلئے گواہ بن رہنے، ترازوئے حق کو تھام کر کھڑے ہونے والے۔۔۔۔۔۔ وہ کہ بقول حسن بصری خدا کا ذکر آئے تو دُنیا میں 'وہ' ذکر ہونے لگیں اور 'ان' کا ذکر آئے تو خدا ذکر ہونے لگے۔۔۔۔۔۔ حق جو خدا کی جانب سے نازل ہوا ہماری پہچان ہوتا اور ہم حق کی پہچان۔۔۔۔۔۔ اپنا اصل 'منصب' اس جہانِ نو میں دراصل یہ تھا! باقی سب کچھ اس 'امتیاز' کا قدرتی تتمہ ہے۔ 'دانوں' کے ساتھ 'بھوسہ' خود بخود آتا ہے!
    یہ منصب اپنے تمام تر عروج کے ساتھ اب بھی ہمیں مل سکتا ہے۔
    ہمارے خیال میں دُنیا کے اندر اس کی 'مانگ' نہیں تھی مگر یہ بے انتہا ایک سطحی نظر تھی جو ہمارے 'داناؤں' کو دُنیا کی 'منڈی' پر ڈالنا نصیب ہوئی۔ اس میں تو ہمارے لئے دو جہان پوشیدہ ہیں۔ بطور اُمت ہماری عمر کے ہزار سال اسی ایک حقیقت پر تو گواہ ہیں۔
    اس کی 'مانگ' دُنیا میں اب بھی بہت ہے بشرطیکہ کچھ 'گنجائش' اس کیلئے اپنے ہی نفوس کے اندر پیدا کر لی جائے۔ ہمارے نفوس میں اس کی 'بڑائی' قائم ہو جائے تو دُنیا پھر اس کو نظرانداز کر رکھنے پر قدرت نہیں پاتی۔ ہمارے ہاں البتہ یہ 'بے وقعت' رہے اور دُنیا سے اس کی 'تعظیم' کی آس کریں، دُنیا کو کتنا ہی بے علم سمجھ لیں پھر بھی اس کے ساتھ یہ زیادتی ہے!
    اس کو 'نظرانداز' ہم نے کیا ہے نہ کہ دُنیا نے! دُنیا نے کب اس کی دھاک نہیں مانی!؟ اس توحید کا اور خدا کے حق میں بولنے کا اور خدا کے ماسوا پوجی جانے والی ہستیوں کو ٹھکرا دینے کا ایک بڑا ہی رعب ہے اور ایک بڑی ہی برکت۔
سَنُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُواْ الرُّعْبَ بِمَا أَشْرَكُواْ بِاللّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا

ہم ان کفر کرنے والوں کے دِلوں میں رعب بٹھا دیں گے، اس لئے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ ان کو خدائی میں شریک ٹھہرایا ہے جن کے شریک ہونے پر اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ سورہ آل عمران 151

أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ اللّهَ إِنَّنِي لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ   وَأَنِ اسْتَغْفِرُواْ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُواْ إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُم مَّتَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ

یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی۔ میں ہوں اُس کی جانب سے تمہیں خبردار کردینے والا اور خوشخبری پہنچا دینے والا۔ اور یہ کہ بخشش کے خواستگار ہو تم اپنے پروردگار سے پھر اسی کی جانب ہی پلٹ بھی آؤ، وہ تمہیں ایک بہترین سامانِ زیست دے گا ایک مدت معین تک، اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل (مقام) عطا کرے گا۔سورہ ہود 2-3
    قلب وذہن سے لے کر ارض و وطن تک، خدا کا نام لینے سے ___ اس ادب کے ساتھ جو انبیاء معاشروں کو سکھا گئے___ روشنی ہی روشنی ہو جاتی ہے اور جب کہیں ایک جگہ 'روشنی' ہو جائے تو پھر 'اندھیروں' کی حقیقت بھی دُنیا کو معلوم ہوتی ہے۔ تب جو اندھیروں میں رہتے ہیں پھر وہ بڑے ہی اندھیروں میں رہتے ہیں۔ جس سے روشنی پھر اور بھی کھِل آتی ہے۔ اندھیرے اُجالے کی دوڑ دُنیا میں کبھی 'پرانی' ہونے والی نہیں۔

الْحَمْدُ لِلّهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ بِرَبِّهِم يَعْدِلُونَ.

حمد اللہ وحدہ لاشریک کی جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور جس نے بنائیں تاریکیاں اور نور۔ پھر بھی کافر لوگ اللہ کے ہم سر بناتے ہیں۔ سورہ انعام-1
    ہم جو روشنی کے سوداگر بن سکتے ہیں تاریکیوں کے 'صارف' رہے اور ظلمتوں کے 'درآمد کنندہ'۔
    ہم جو 'روشنی' میں دوسروں کے 'امام' بن سکتے تھے 'اندھیروں' میں اچھے پائے کے 'پیروکار' تک نہ بن سکے! ہر ایک کو اپنا ہی تخصص زیب دیتا ہے!!!
    بخدا ہمیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے ذریعے واقعتا ایک چیز دے دی گئی ہے۔ وہ تب بھی بولتی ہے جب ہم اپنی راہ پر ہوتے ہیں اور وہ تب بھی بولتی ہے جب ہم اپنی راہ پر نہیں ہوتے! چودہ سو سال سے یہ کسی ایک لمحے کیلئے بھی تو سنی جانے سے رکی! اس سے بڑھ کر کیا کسی پر خدا کا فضل ہو سکتا ہے!
    محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ہم جتنا درود بھیجیں کم ہے!

********

    آخر کوئی تو بات ہے جو خدا نے ایک لاکھ چوبیس ہزار سے زائد نبی بھیجے۔ آج ایک بھی 'معاشرہ' نہ ہو جس نے دُنیا کے اندر خدا کی شریعت کا علم اٹھا رکھا ہو!؟ ایک بھی 'قوم' نہ ہو جو خدا کے حق میں بولتی ہو!؟ ایک بھی 'خطہ' نہ ہو جو خدا کے ماسوا پوجی جانے ہستیوں، طاغوتوں اور چھوٹے خداؤں کے خلاف نبوی صدا بلند کرتا ہو!؟ ایک بھی 'اُمت' نہ رہے جس کی پہچان باطل کے خلاف صف آرا ہونا اور جس کی اولین ترجیح اپنی دُنیا میں حق کا قیام ہو!؟
    وہ 'ایک' بخدا ہم ہیں بشرطیکہ اس بھری دُنیا کے اندر 'پائے' جائیں اور انبیاء کے سکھائے ہوئے موحدانہ لہجے میں 'سنے' جائیں!
    ہمارے ایک عرصہ سے یہاں نہ 'پائے' جانے کی قیمت دُنیا بھی دے رہی ہے اور ہم بھی۔ کمال یہ ہے کہ دُنیا بھی اس پر خوشی سے بے حال ہے اور خود ہم بھی! وہ ہمارے اس 'پائے' جانے کا آج امکان تک ختم کردینے کے درپے ہیں جبکہ ان کا یہ منصوبہ پایہئ تکمیل کو پہنچانا ہمارے کچھ 'داناؤں' کے نزدیک خود یہاں کی 'قومی ضرورت' ہے اور اس میں ہونے والی 'تاخیر' ہمارے ترقی و کمال پانے کی راہ میں ایک بڑی 'رکاوٹ'!
    حضرات اب اگر ہم مسلم معاشرے اس ڈگر پر چل پڑتے ہیں جس پر ہمیں چلانے کیلئے ہمارے ان 'داناؤں' کی ڈیڑھ صدی سے سر توڑ کوشش ہو رہی ہے اور ہماری وہ اصیل ساخت جو اس نادان کوشش کے خلاف ڈیڑھ صدی سے ہی برسرِ مزاحمت ہے واقعتاً اس کوشش کے نتیجے میں مسخ ہو کر 'خبرِ ماضی' بن جاتی ہے اور ہمارے اس خدوخال بدل جانے کے نتیجے میں پوری انسانی دُنیا ایک ہی جل تھل کا نقشہ پیش کرنے لگتی ہے۔۔۔۔۔۔ اور یوں ہر طرف وہی سڑاند آخری حد تک یہاں پھیل جاتی ہے جس کیلئے عرصہ سے یہاں کا ٹی وی بے چین ہے اور جس کیلئے آج کا سینما ودیگر ذرائع ابلاغ اور یہاں کا جاھلی ادب بے صبرا ہوا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔ اب اگر ہم سب کے سب اپنی موحدانہ قدروں کو خیرباد کہہ کر اور صدیوں کی اپنی یہ تہذیب کی چار دیواری ڈھا کر، بچے کھچے دواعیِ شرف وناموس کو اپنے ہی پاؤں میں روندتے ہوئے، 'مستورات' کو پیچھے چھوڑے بغیر اس 'میراتھون' پہ نکل پڑتے ہیں جو شیاطینِ جن وانس ہمیں بڑی دیر سے دوڑانا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔ غرض ہمارے ان 'داناؤں' کے یہ سب خواب فرض کیجئے یہاں پورے ہو جاتے ہیں تو کیا ہم اس کہانی کا دُنیا میں آپ اپنے ہاتھوں اختتام کرنا چاہیں گے جس کے 'کرداروں' میں ایک لاکھ چوبیس ہزار سے زائد تو صرف نبیوں کا ذکر ہوتا ہے اور جس کا آخری 'کردار' رسولوں کی غیر موجودگی میں اس وقت 'ہم' ہی ہیں اور 'ہمارے' بعد یہاں صرف قیامت باقی ہے!؟
    کیا ہمیں اپنی اس عظمت کا اندازہ ہے جو اپنی ایک خاص حیثیت کے باعث 'ہم' سے وابستہ ہے اور 'ہم' اس سے!؟
    کیا ہمیں اندازہ ہے کہ 'ہم' اپنی اس حیثیت میں انسانیت کی کتنی بڑی ضرورت ہیں اور زمین پر عافیت وسالمیت کی کتنی بڑی ضمانت!؟
    ہمارا عین اسی بدبو کا جل تھل بن جانا جس کے اندر شیاطین پورے عالمِ انسان کو غرق کرا دینا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔ کیا کسی کو معلوم بھی ہے کہ خود ہمارے ہی نہیں پوری انسانیت کے حق میں کس قدر بڑا خسارہ ہے؟
    ہمارے پاس جو چیز انبیا کے ترکے سے باقی رہ گئی ہے اور جو کہ دُنیا کی سلامتی کا راز ہے اور جو کہ، واقع کی بات ہے نہ کہ فخر کی، کہ مستند طور پر صرف آج ہمارے ہی پاس رہ گئی ہے، اس چراغ کا جلا رہنا اور اس روشنی کا برقرار رہنا۔۔۔۔۔۔ کیا کسی کو معلوم بھی ہے کہ یہ نہ صرف دُنیا کے بیناؤں کی ضرورت ہے بلکہ اندھوں تک کو اس سے استغنا نہیں؟!
    ہمارے کرنے کا کوئی کام تھا اور ہے تو وہ یہ کہ اسی چراغ کی لو بڑھائیں جو زمین کی تاریکی کا اصل علاج ہے اور اس کی درماندگی کا اصل مداوار اور اس کی سلامتی کا اصل راز۔ ہم دُنیا کی وہ واحد قوم ہیں جس کی دُنیا کا راستہ عین اسی منبعِ نور سے روشن ہو سکتا ہے جس سے کہ اس کی آخرت کی شاہراہ روشن ہوتی ہے۔ اس کے بجھنے کی صورت میں البتہ اس کی دُنیا بھی اندھیر ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔۔ اور چونکہ روشنی کا امکان یہیں رہ گیا ہے لہٰذا یہاں کا اندھیرا پھر عالمِ انسان کا اندھیرا ہے۔
    ہمارا بجھنا واللہ عالم انسان کا حقیقی اندھیرا ہے۔
    اپنے یہاں 'روٹی' کے عوض اس 'روشنی' کا سودا کر آنے والے پس اگر کامیاب ہو جاتے ہیں تو آپ اندازہ کر سکتے ہیں وہ کرہءارض پر کتنے بڑے حادثے کی راہ ہموار کر آنے میں کامیاب ہوتے ہیں! بعض نادان خواہشیں کبھی پوری ہو جانے لگیں تو دُنیا نہ جانے کیا سے کیا ہو جائے، مگر وہ جس کے ہاتھ میں جہان کی زمام ہے بڑا مہربان ہے اور نہایت حکمت کا مالک۔

وَلَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ أَهْوَاءهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ بَلْ أَتَيْنَاهُم بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَن ذِكْرِهِم مُّعْرِضُونَ

اور اگر حق کبھی ان کی خواہشوں کے پیچھے چلنے لگتا تو آسمان کیا زمین درہم برہم ہو جاتے اور وہ بھی جو کچھ ان میں ہے۔ حق یہ ہے کہ ہم نے انہیں ان کی نصیحت پہنچا دی ہے لیکن وہ اپنی نصیحت سے منہ موڑنے والے ہیں۔ سورہ مؤمنون 71

 مگر سوال تو یہ ہے کہ انہی کا کردار اپنے یہاں زیر بحث کیوں آئے؟ ہمارے وہ دانشور کہاں ہیں جو اپنے وجود سے اس روشنی کی لو بنیں؟ اندھیرے پھیلانے والے تو کب نہیں رہے سوال تو یہ ہے کہ اپنے یہاں کے 'مشتعل برادر' کہاں ہیں؟ کیا کوئی ایسی جمعیت یہاں میسر آسکتی ہے جو اس قوم کو اس کے اصل پہ واپس لانے پر آخری حد تک کمر بستہ ہو جائے اور تاریخ کا دھارا اس اہم ترین موقع پہ ایک مثبت ترین سمت کو موڑ دے، کہ جس میں درحقیقت ہمارا ہی نہیں سب کا بھلا ہے اور جس کا کسی کو 'چبھنا' کتنا بھی تکلیف دہ ہو سب کی موت ہو جانے سے پھر بہتر ہے؟!

*********

    یہ بیک وقت لمحہء فکریہ ہے تو شدید حد تک باعثِ حوصلہ افزائی کہ ہم آج بھی اسی دوراہے پر کھڑے ہیں جو ہمارے سامنے آج سے ڈیڑھ صدی پیشتر لایا گیا تھا۔ درست سمت میں کچھ بہت زیادہ نہ چل پانا اگر ہماری ناکامی شمار ہوگا تو غلط سمت میں ہمارا بہت آگے نہ بڑھ پانا ہماری ایک غیر معمولی کامیابی گنا جائے گا اور ہمارے حق میں خدا کا ایک بڑا فضل۔ پس ہمیں اگر ایک بہت کامیاب قوم نہیں کہا جا سکتا تو ایک ناکام قوم بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہم اب بھی اس نقطے سے بہت دور نہیں گئے جہاں سے بآسانی درست سمت پکڑی جا سکے۔
    غور کریں تو یہ ہمارے انحطاط کی وہ حالت تھی جہاں ہم قوت فیصلہ تک سے محروم کر دیئے گئے تھے اور جس سے بڑھ کر جاہلیت نے ہم پر کبھی قوت نہ پائی تھی اور نہ اس سے بڑھ کر باطل کبھی ہم پر دست دراز ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
    جس قدر لیس ہو کر فکری اور تہذیبی طور پر وہ اس بار آئے تھے بلکہ ابھی تک ہمارے سر پر سوار ہیں اور جس قدر بے سروسامانی علم وشعور اور فہم وادراک کے معاملے میں اس بار ہم پہ طاری تھی بلکہ ابھی تک ہے، لگتا تھا اس بار اپنا کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔۔۔۔۔۔
    انحطاط کی اس بدترین حالت میں بھی عنایتِ خداوندی دیکھئے باطل کے رنگ میں رنگے جانے کے خلاف ہمارا مزاحمت کرلینا اور اس مزاحمت میں اس حد تک کامیاب رہنا کہ جاہلیت کے دیئے ہوئے راستوں پر بطور قوم اس زور وشور سے رواں دواں نہیں جو ہماری سماجی قیادتوں کا یہاں منتہائے تخیل رہا ہے۔۔۔۔۔۔ انحطاط کے اس نقطے کو چھو لینے کے باوجود ہمارا یہاں اپنی اصل کو خیرباد نہ کہہ پانا اور پرائے راستوں پر چلتے یا چلائے جاتے ہوئے بھی مڑ مڑ کر پیچھے دیکھنا اور پیر پیر پر بیزار ہو کر بیٹھنا کچھ ہے تو بطور قوم ہمارے راہ پا جانے کے قوی ترین امکان کی دلیل ہے۔

چار پانچ صدیاں ہمارا مسلسل رو بہ زوال اور بالآخر کفر کے نرغے میں ہی آرہنا پھر بھی ڈیڑھ صدی تک اس کے 'وعدہء  بہشت' کو مسلسل 'ناں' کرنا کہ جس کے آگے عالم اسلام کے سوا قریب قریب پوری دُنیا تہذیبی طور پر ہتھیار گرا چکی، ہماری ایک بڑی اصیل خاصیت پر دلالت کرتا ہے۔ کامیابی کی یہ جہت ناقابل بیان حد تک حوصلہ افزا ہے اور پچھلی ایک صدی کا نقشہ ہمارے ذہن میں رہے تو ناقابلِ یقین حد تک غیر معمولی۔
    بطورِ قوم بڑی حد تک ہمارا یہ ایک لاشعوری عمل تھا۔ آپ تصور کر سکتے ہیں یہ اگر ایک باقاعدہ شعوری عمل ہوتا تو کیا ہوتا!!!
    شیاطین آج جس بات سے ڈر رہے ہیں وہ یہ کہ ان کو ٹھکرائے جانے کا وہ عمل جو یہاں ڈیڑھ صدی تک 'بے سوچے سمجھے' ہوتا رہا اب وہ یہاں ایک 'سوچ سمجھ' اور 'عقیدہ' اور 'علم' کے نتیجے میں سامنے آنے والا ہے۔ یہ ایک ڈراؤنا خواب ہے جو استعمار کے ناخدا یہاں عالم اسلام کی بابت ایک عرصے سے اب دیکھ رہے ہیں۔ ہمارے بچوں کے ہاتھ میں قرآن دیکھ کر ان کے اوسان خطا ہوتے ہیں۔ خدایا ڈیڑھ صدی بعد بھی قرآن!َ اور قرآن کی وہ آیات جو شیطانی اثر زائل کرنے کیلئے 'موحدین' کے ہاں بکثرت تلاوت ہوتی ہیں! یہ 'تعویذ' جو اُمت کے قلب وذہن میں 'باندھا' جا رہا ہے ان کیلئے سوہان روح ہے۔
    پس وہ جنگ جو ڈیڑھ صدی تک ہم بڑی حد تک لاشعوری طور پر لڑے اور خدا کے فضل سے کچھ ایسے برے نہیں رہے اب اگر ایک باقاعدہ شعوری فیصلہ کرکے لڑیں اور اس میں علم اور عقیدہ اور فکر اور تہذیب کے وہ سب ہتھیار اٹھا لیں جو انبیا پیچھے ہمارے ہی لئے چھوڑ گئے ہیں تو پھر یہ بیت العنکبوت بھلا کب تک ہمیں عاجز کر رکھ سکتا ہے؟ ہم چاہیں تو بخدا صدیوں کو عشروں میں سمیٹ سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔ یہ 'دوراہا' ہم نے ڈیڑھ صدی گزار کر بھی نہیں چھوڑا تو اس سے کیا آپ 'تاریخ' کیلئے اور 'تہذیب' کیلئے اور اس زمینی سیارے کی آئندہ 'سمت' کیلئے ہرگز کوئی پیغام نہیں پاتے!؟
    ہمیں یہ 'دوراہا' نہیں چاہیے کیونکہ ہماری ایک ہی راہ ہے اور وہ وہی ہے جو آسمان کی روشنی میں نظر آتی ہے اور جس پر انبیاء کے چلے ہوئے قدموں کے نشان پھر نابیناؤں سے بھی اوجھل نہیں رہتے اور جبکہ انبیاء کا یہ راستہ، جب تک دُنیا باقی ہے، کسی نہ کسی قوم کو بہرحال چلنا ہے۔۔۔۔۔۔

یہ دوراہا 'ان' کو بھی نہیں چاہیے کیونکہ ان کی راہ وہی ہے جس میں فطرت کی روشنی اور آسمان کی روشنی دونوں بجھا دی جائیں اور پھر اس گھپ اندھیرے میں شیاطین بنی نوع انسان کے ساتھ ہر واردات کر جانے کیلے کھلا موقعہ پائیں۔۔۔۔۔۔
    گو دُنیا کے ایک حصہ میں کر دی گئی روشنی دُنیا کے باقی ماندہ حصوں کو بھی مکمل اندھیرے میں جا رہنے سے بچا لیتی ہے۔۔۔۔۔۔
    پھر بھی ہمارا ڈیڑھ صدی تک اس دوراہے پر کھڑا رہنا ایک غور طلب واقعہ ہے اور نہایت بامعنی۔ اس میں جو پیغام ہے وہ آپ سے آپ بولتا ہے:
    ہمارے پاس جو روشنی ہے اور جو ڈیڑھ صدی کی ان طوفانی آندھیوں سے بھی بجھنے نہیں پائی، جبکہ ایسے زورآور جھکڑ تاریخ میں شاید ہی کبھی آئے ہوں، اس روشنی کو ابھی اور جلنا ہے۔ یہ روشنی مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ کوئی رخ بھانپنے والا اب یہ دشواری تک نہیں پاتا کہ 'اذان کی صدا' آنے والے عشروں میں دُنیا کے اندر کہاں کہاں تک سنی جانے والی ہے!
    یہ نوشتہءدیوار تو ہے مگر شکایت ہمیں 'خواندگی' کی اس صنف سے ہے جو اس نوشتہ کے پڑھنے میں ابھی تک رکاوٹ بنی رہی ہے اور جس کے باعث ڈیڑھ صدی سے ہم اسی دوراہے پر ہی کھڑے آگے بڑھنے کیلئے پر تول رہے ہیں۔ اسی نقطہ نگاہ کا علاج ہوجانا ہی اس وقت ہماری ضرورت ہے اور یہاں ہمارے پیش نظر۔ تاکہ ہماری رفتار میں وہ زور اور وہ دلجمعی اور وہ بہاؤ آئے جو پھر سے ہمیں ایک ''سیلِ رواں'' بنائے اور جو کہ ہمیں کسی منزل پر جا لگنے کیلئے فی الواقع درکار ہے۔

*********

    غلط سمت میں ہمیں کھینچنے والوں سے یہ سارا خطاب جو یہاں ہو رہا ہے یہ مطلب بہرحال نہیں رکھتا کہ درست سمت میں لے جانے کی جن طبقوں سے امیدیں رکھی گئیں وہ یہاں رہبری کا حق ادا کرتے رہے۔ ایسا ہوتا تو پھر رونا ہی کیا تھا۔ یہ اس کہانی کا دوسرا المناک پہلو ہے مگر اس پر ہم کہیں آگے چل کر باتیں کریں گے۔

***********

    اب اگر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اپنے لئے زندگی اور بیداری کا منبع کہاں ہے، اور جو کہ اس وقت ہمارا موضوع ہے، تو تین کام ہم سے فی الفور مطلوب ہیں:
(1    ان تاثرات اور الجھنوں سے چھٹکارا پانا جن کی گرد سے یہ راستہ بُری طرح اٹا پڑا ہے۔ نہ صرف خود چھٹکارا پانا بلکہ اپنے گرد وپیش میں اس گرد کو بٹھا دینے کیلئے آخری درجے کی محنت اور زور صرف کردینا اور ایک ٹھیٹ موحد معاشرہ کھڑا کر دینے کی ضرورت اُجاگر کرنے میں کسی 'ملامت کرنے والوں کی ملامت' کی پروا نہ کرنا۔ عموماً یہ اس کتاب کے پچھلے باب (حصہ اول) کا موضوع رہا ہے۔
(2    غلط راستوں سے اُمت کے سمجھدار طبقوں کو اس حد تک برگشتہ وبیزار کر دینا کہ ذہنوں کی دُنیا میں یہ کوئی 'چناؤ' ہی نہ رہے۔ اس کیلئے عقیدہ سے انحراف کی سب نئی پرانی صورتوں کو وحی کے عدسے تلے لانا اور پھر معاشرے میں ان کو مسترد کرا دینے پر ایڑی چوٹی کا زور لگا دینا۔ شرک وابتداع کی سب قدیم وجدید صورتوں پر پوری بے رحمی سے تیشے برسانا۔ اس کیلئے علمائے سلف کی ان اصطلاحات وتعبیرات کو باقاعدہ اور برسرِ عام استعمال کرنا بلکہ انہیں بچے بچے کی زبان پر لے آنا جو قرنِ اول سے لے کر اسلام میں باطل کا چلن ہو جانے کے خلاف فکری مزاحمت کے عمل میں اور عقائدی انحراف کی راہوں کو مسدود کر دینے میں ائمہءسنت کے ہاں آج تک مستعمل ہیں۔ شرک (اصغر و اکبر)، کفر (اصغر و اکبر) الحاد، زندقہ، نفاق (اصغر واکبر)، بدعت (مکفرہ وغیر مفکرہ)۔۔۔۔۔۔ طاغوت، باطل، جاہلیت، ارتداد، خروج از ملت، فسق، کبائر، صغائر، معصیت۔۔۔۔۔۔ کوئی اصطلاح ایسی نہ رہے جس کے ذکر پر اپنے دانشور ناک بھوں چڑھائیں۔ (5) اور وہ جو اس معاملہ میں 'تحفظات' رکھیں ان کو کم از کم بھی اتنا پسماندہ ضرور جانا جائے جتنے آج سے کچھ عرصہ پہلے یہاں کے وہ لکھاری جانے جاتے تھے جن کی تحریروں میں جگہ جگہ بورزوائیت، پرولتاری، امپریلزم، غریب دشمنی، سرمایہ داری اور طبقاتی ظلم ایسی اصطلاحات بکثرت دیکھنے میں نہ آتی تھیں۔۔۔۔۔۔ یا جتنے ازکار رفتہ یہاں کے آج وہ تجزیہ کار جانے جاتے ہیں جو آمریت، استبداد، عوام دشمنی، غیر جمہوری رویوں علاوہ ازیں بد انتظامی، خردبرد، لوٹ کھسوٹ اور بجٹ خسارے کو موضوع تنقید بناتے کم دیکھے جاتے ہیں۔
    یہاں آج بھی اخبارات میں لکھنے اور الیکٹرانک میڈیا پر آنے والوں سے لے کر نامور ادیبوں اور دانشوروں تک بہت سے مخلص صاف فطرت لوگ ہمیں مل جاتے ہیں کہ جو اس 'بندوق' کے حق میں بولتے سنے جائیں جو ہم پر حملہ آور افواج کے روبرو اٹھائی جاتی ہے اور جس کو کہ پچھلی ڈیڑھ صدی سے ہی کبھی دھر دینے کی نوبت نہیں آئی۔ خدا ان کو جزائے خیر دے۔ مگر وہ 'بندوق' جو ہم پر حملہ آور افکار ونظریات کے خلاف اٹھائی جاتی ہے یا اٹھائی جانا ہے اور جس کو کہ سب سے پہلے یہاں ذہنوں کی مقبوضہ زمین ہی واگزار کرانا ہے ہمارے ان دانشوروں کو بہت زیادہ غیر ضروری لگتی ہے اور خوامخواہ کی شدت! کبھی یہ ان کو 'وہابیت' نظر آتی ہے اور کبھی 'سلفیت' اور کبھی 'بنیاد پرستی' اور کبھی 'شدت پسندی' (6)عقیدہ کی یہ تفنگ جو ہم پر یورش کر آنے والے افکار کو پسپا کر دینے کیلئے ناگزیر ہے اور جو کہ ڈیڑھ صدی سے اپنے یہاں معطل پڑی ہے بلکہ اس سے پہلے کی تین چار صدیاں بھی وہ بڑی حد تک زنگ آلود ہی رہی اور اسی باعث ہی دشمن کیلئے ہم لقمہءتر ہوئے، اصل میں تو خود ان دانشوروں کے ہی چلانے کی تھی! آخر ڈیڑھ صدی تک ہم کرتے کیا رہے؟
    وہ 'بندوق' جو ہمارے دانشوروں کے اٹھانے کی تھی، جائے نہ دارد۔ یہ کیا کسی قوم کے حق میں چھوٹا سانحہ ہے؟ دھڑ کا آدھا حصہ اور جو کہ اہم تر ہو عین کارزار میں جواب دے جائے تو کس بات کی توقع کی جائے؟! پھر جب لاچار 'یہ' بندوق بھی اپنے نوجوان نے ہی اٹھانا چاہی تو ان اناڑی ہاتھوں میں ہمیں وہ معیوب نظر آئی۔ اس میں بے شمار نقائص سامنے آئے۔ یقینا وہ نقائص ہیں بھی اور ہمیں بھی تسلیم ہیں مگر سوال یہ ہے کہ آخر اس کی نوبت کیونکر آئی؟؟ ہمارے دین پسند دانشور خود اپنا اور اپنے کام کا تجزیہ کرنا بھی کیا پسند فرمائیں گے؟ (7)
(3    پہلی دو باتیں جن میں کہ ہر کسی کو شریک عمل ہونا ہے اپنی تاثیر میں معاشرے کے اندر ایک خاص سطح کو پہنچ لیں تو پھر وہ کام آتا ہے جو ابتدا میں شاید ہر کسی کے کرنے کا نہیں اور وہ ہے معاشرے کے ایک موثر طبقے کی تیاری اور صف بندی، جس پر محنت تو کسی وقت رکنی ہی نہیں چاہئے اور کرنے والے شاید کر بھی رہے ہوں مگر ایک بڑی سطح پر اس کا وقت تبھی ہے جب پہلے دو کام معاشرے میں تکمیل کے ایک خاص نقطے تک پہنچا لئے جائیں۔ بہرحال اس پر الگ سے بات ہونے کی ضرورت ہے اور کچھ کوشش اس پر بات کی، کتاب کے آخر میں، ہم بھی کریں گے۔ (2)
    یہاں فی الحال ان رحجانات پر جو ہمیں بے راہ رکھنے کیلئے 'چناؤ' کے طور پر وقفے وقفے سے مگر ایک پورے تسلسل کے ساتھ سامنے لائے جاتے ہیں کچھ مزید گفتگو ہونا باقی ہے۔

********

    سب جانتے ہیں یہ پراپیگنڈے کا دور ہے۔ ایک چیز کو بلیک لسٹ کر دیجئے پھر وہ کبھی سر اٹھا ہی نہ سکے گی۔ بس اس کے بارے میں ایک بُرا تاثر بنا دیجئے اس کی ترقی کرنے کے امکانات آپ سے آپ ختم ہو جائیں گے۔ میڈیا آج کے دور کا خدا اسی وجہ سے تو بن بیٹھا ہے کہ یہ لوگوں کو فکر وعمل کے فیشن دتا ہے۔ لوگوں کو رجحانات دیتا ہے۔ ایک معنی میں، اس کے پاس بڑا اختیار ہے کہ یہ صحیح کو غلط اور حرام کو حلال کردے۔ کوئی رجحان بننے کی دیر ہے سب لوگ پھر اسی سمت میں چلتے ہیں۔ بلکہ تو بھاگتے دیکھے گئے ہیں۔
    زیادہ آبادی کے دور میں یہی تدبیر عملی ہے! یہاں لوگوں کو تھوک کے حساب سے ہانکا جانا ہے! جاہلیت کا خیال ہے یہاں بہت بڑے بڑے انسانی باڑے تیار کئے جائیں۔ وسیع پیمانے پر پیداوار mass production اور وہ بھی ارزاں نرخوں پر وقت کی اہم ضرورت سمجھی گئی ہے۔ 'مشینی عمل' ناگزیر ہے۔ زیادہ تر فرق 'پیکنگ' کے ذریعے ہی پیدا کیا جاتا ہے اور تنوع لانے کی یہی ایک سستی صورت ہے!
    پس یہ اصطلاحات اور الفاظ سے کھیلنے کا دور ہے۔ کسی لفظ یا تعبیر کے بارے میں ایک تاثر قائم ہو جائے تو پھر اس سے بڑے بڑے مقاصد بڑے آرام سے حاصل کر لئے جاتے ہیں۔ میڈیا کی 'پھونکیں' جو وہ 'گرہیں' باندھ باندھ کر مارتا ہے بہت کارگر دیکھی گئی ہیں۔
    دین ِتوحید سے آج جاہلیت نے جو جنگ شروع کر رکھی ہے یہ تاریخ کی ایک بھیانک ترین جنگ ہے۔ توحید کو جاہلیت سے یہ جنگ بہرحال لڑنی ہے۔ اس میں ٹینکوں اور طیاروں سے پہلے رحجانات اور تاثرات کے ہی ہتھیار برتے جاتے ہیں۔ یہ جنگ ہمارے شروع کرنے سے شروع ہوگی اور نہ ہمارے ختم کرنے پر ختم۔ یہ جنگ ہو رہی ہے۔ یہ کبھی رکی ہی نہیں۔ ہم اس میں شامل نہیں تو پھر بھی یہ جنگ جاری ہے۔ یہ عقائد اور افکار کی جنگ ہے۔ وہ خود مان رہے ہیں یہ تہذیبوں کا تصادم ہے۔ وہ ڈر ہی اس بات سے رہے ہیں کہ یہ تہذیبوں کا تصادم ہے اور عقائد ونظریات کی جنگ۔ اگر کہیں ہم اس جنگ کی حقیقت اور نوعیت سمجھ لیں تو یہ جنگ لڑ لینا عین ہمارے حق میں ہے۔ یہ جنگ لڑنا ان کے بس کی بات نہیں۔ یہ ہمارے ہی جیتنے کی ہے اس وجہ سے کہ حقائق کے امین ہم ہیں۔
    یہ پیکار ہمیں زندہ کر دے گی اگر ہم اپنے ہتھیاروں کا تعین کرلیں اور ان کے استعمال کا سلیقہ جان لیں۔ عقائد اور نظریات کی جنگ میں الفاظ اور تعبیرات کا ایک بڑا کردار ہوتا ہے۔ اصطلاحات کی بے حد اہمیت ہے۔ عنوانات تک کی حیثیت مسلم ہے۔
    وہ بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ عقائد اور افکار کی اس دُوبدوئی میں ان کی پوزشین کتنی نازک ہے اور ہماری بنیاد کتنی مضبوط۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہمارا دشمن ہمیں ہماری اپنی بنیاد پر نہ رہنے دے۔ اس کا دوسرا حربہ یہ ہے کہ وہ ہمیں 'تاثرات' اور 'رحجانات' کی پھسلن پر پھسلاتا ہے۔ وہ اس پھسلن کو اس قدر چکنا کردے کہ پوری پوری اقوام کا رخ جدھر کو چاہے پھیر دے۔ اقوام اپنے اہل علم اور اصحاب دانش سمیت جدھر کو گھمائی جائیں اُدھر کو گھوم جائیں اور پھر گھومتی ہی رہیں ___الا من رحم ربک___ کوئی قوم کہیں پر رک کر کھڑی ہو اس کی زندگی میں کسی موقف پر جم کر کھڑا ہونے کی نوبت آئے اور افکار و نظریات کی اس گولہ باری میں قوم کوئی مضبوط پوزیشن لے سکتی ہو تو تب ہی کہیں جا کر اس جنگ میں کچھ کرنے قابل ہو۔ ایک قوم کی اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہو سکتی ہے کہ کچھ کوشش کرکے کسی محاذ پر جنگ میں وہ ایک بہترین پوزیشن لے سکتی ہو مگر وہ اس بات پر آمادہ ہی نہ ہو اور جو جگہ دشمن اس کیلئے تجویز کرے وہیں پر کھڑے ہونے کیلئے ضد کرے اور وہیں کھڑی ہو کر مسلسل اور بدستور مار کھائے اور اس کی وجہ محض یہ ہو کہ اس جگہ کو جہاں اس کو بری طرح مار پڑ رہی ہے، دشمن کی طرف سے بہت اچھے اچھے نام دے دیئے گئے ہیں اور وہ جگہ جہاں کھڑی ہو کر نہ صرف وہ اپنا تحفظ کر سکتی ہے بلکہ وہاںجم کر وہ دشمن کو منہ کی کھانے پر مجبور بھی کر سکتی ہے اس جگہ کو اس کے ہاں پرانے زمانے کی یادگار جانا جاتا ہے! اس 'پرانے زمانے کی یادگار' سے اس دشمن کے چاہے ابھی تک اوسان خطا ہوتے ہوں اور اس کو سارا خوف ہی اس بات سے ہو کہ 'پرانے زمانے کی یادگار' اس اُمت کی تاریخ میں کہیں پھر سے تازہ نہ ہو جائے!
    اندازہ کیجئے دشمن جس بات سے خوف کھائے وہی ہمیں بھی خوف میں مبتلا کرے۔ اور دشمن جس جگہ کھڑا کرکے ہمیں مارنا چاہے ہم وہاں سے ہلنے تک کیلئے تیار نہ ہوں۔ سعادت مندی کی انتہاء ہے!
    کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ جہاں خدا ہمیں کھڑا کردے اور جس پوزیشن پر اس کا رسول ہمیں متعین کردے ہم ___قومی سطح پر___ وہیں جم کر کھڑا ہونے پر اتفاق کرلیں اور ہر اس بات کو نظرانداز کر دیں جو ہمارے وہاں جم کر کھڑا ہونے میں رکاوٹ بنے خواہ وہ بات بظاہر کتنی خوبصوت ہو اور خواہ وہ بات کہنے والا کوئی ہو!؟
    حقیقت یہ ہے کہ جب تک ہم وہاں کھڑے رہے جہاں ہمیں ہمارے دِین نے کھڑا کیا تھا، ہم نے کبھی مار نہیں کھائی۔ اِس اُمت کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اپنے دین پر چل کر اور اپنے عقیدہ کو پہچان بنا کر اس نے کبھی زک اٹھائی ہو۔ البتہ اس مقام کو چھوڑ کر ہم نے جتنی کوششیں کیں، ہم نے جتنے منصوبے بنائے، ہم نے جتنے تجربے کئے، ہم نے جتنے ملک لئے، ہم نے جتنی نسلیں پا لیں، ہم نے ترقی کے جتنے خواب دیکھے، دُنیا کی باعزت اقوام میں پیر رکھنے کے ہم نے جتنے جتن کئے، اللہ کی طرف اور اس کے دین کی طرف اور اس کی شریعت کی طرف دیکھنے کے بجائے ہم نے جدھر جدھر کو جھانکا اور جہاں جہاں سے کوئی اُمید رکھی۔۔۔۔۔۔ مایوسیاں اور ناکامیاں ہی ہمارا نصیب بنیں۔
    ایک سچے دین کی اور ایک خالص عیدے کی ہمیشہ یہی خاصیت ہوا کرتی ہے۔ اس پر آجانے سے عزت اور تمکنت ملتی ہے چاہے پوری دُنیا دشمن ہو جائے۔ اس کو چھوڑ دینے سے وہ دھکا پڑتا ہے کہ آدمی کا پھر نہ دین اور نہ دُنیا۔
    ہاں جھوٹے دین کا معاملہ اور ہے بلکہ اس کے بالکل اُلٹ۔ یورپ کو جو دین ملا تھا وہ ایک باطل دین تھا۔ ایک تحریف شدہ عقیدہ تھا۔ وہ جب تک اس پر رہا تب تک دین میں اس کے کچھ ہاتھ آیا اور نہ دُنیا کا اسے کچھ حاصل ہوا مگر جب اس نے اُس نے دِین سے جان چھڑا لی اور صاف بے دینی کی راہ اپنا لی تو کم از کم دُنیا ضرور اس کے ہاتھ آگئی۔
    ہماری قومی قیادتیں بھی بے شک کھل کر یہ بات نہیں کہتی رہیں مگر دراصل وہ یورپ کے چربے کے پیچھے بھاگ رہی تھیں۔ لشتم پشتم ہم نے بھی کوئی صدی بھر ان کا ساتھ دیا بے شک کہیں کہیں اس میں اِسلام کا نام بھی استعمال ہوا کہ جذبات کو مہیز دینے کا اچھا طریقہ تھا، مگر اجتماعی زندگی کا وہ نقشہ جس کے پیچھے ہماری یہ ولایت پلٹ قیادتیں بھاگ رہی تھیں نئے دور کے عیسائی یورپ کا ہی بڑی حد تک 'اِسلامی' چربہ تھا۔ البتہ 'مذہب' کو ایوان ہائے حکومت سے بے دخل کرکے اور سرکاری محکموں اور عدالتوں سے برخواست کرکے یورپ نے دراصل ایک باطل دین سے جان چھڑائی تھی۔ اب وہ ان بھاری بھر کم رسوم سے آزاد اور خرافات سے رہائی پا کر آسودہ اور عقل اور سائنس کی راہ میں آگے بڑھنے کیلئے ہلکا پھلکا ہو چکا تھا تو اس لئے کہ اس نے پیرانِ کلیسا کی عبادت کا طوق گلے سے اتارا تھا لیکن ہم نے جب اپنے دِین کو ابو انہائے ریاست سے بے دخل کیا اور اپنے سپریم و ہائی کورٹوں میں شریعتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے انگریز کے قانون کی وہ کتابیں سند اور مرجع کے طور پر دھر دیں جن کا سبق ہمارے یہ ولایت پلٹ یورپ کی مادر ہائے علمی سے بڑھ پڑھ کر آتے رہے تھے تو دراصل ہم نے کسی اور کا نہیں خدائے واحد قہار کی عبادت کا طوق گلے سے اتارا تھا۔ 'دین اور دُنیا کی تقسیم' کی زد ان کے یہاں احبار و رہبان کی بندگی پر پڑتی تھی اور اپنے یہاں 'خالقِ حقیقی'' کی بندگی پر!
    کس قدر فرق ہے، اور ہونا چاہئے، ایک ایسی قوم میں جو احبار و رہبان کی عبادت کا طوق گلے سے اتارے اور ایک ایسی قوم میں جو خدائے وحدہ لاشریک کی عبادت کا طوق گلے سے اتارے! واقعہ ایک تھا۔ یہاں بھی اور وہاں بھی نظام وقانون ایک تھا۔ مگر ان کو یہ بے حد راس آیا اور ہمارا دِین اور دُنیا سب کچھ اڑا گیا!
    پوپ اور پاردیوں کو نظامِ سلطنت سے فارغ کر دینے اور ان کی جگہ سائنس اور پارلیمنٹ کو اپنا دِین بنا لینے سے یورپ کو دراصل کچھ احمق اور جاہل خداؤں سے چھٹکارا ملا تھا اور نسبتاً سمجھدار خداؤں سے واسطہ پڑا تھا۔ ان کو یہ راس آیا تو تعجب نہیں۔ مگر ہمارا معاملہ کیا تھا؟ ہمارے ہاتھ سے 'کیا' گیا اور ہمارے ہاتھ 'کیا' آیا، یہ پوچھنے کی بات نہیں۔ خدائے واحد قوی و برتر کا سہارا، کہ اس سے بہتر سہارا کوئی ہو ہی نہیں سکتا تھا، ہاتھ سے چھوٹا اور غیر اللہ کی پجاری کچھ اقوام کا دست نگر ہونا نصیب میں آیا۔ یہ وہ سوغات تھی جو ہماری قومی قیادتوں نے صدی بھر کی محنت سے اور ہمارا بہت سا خون پسینہ لگوانے کے بعد ہمیں کما کر دی۔ اب بھی ان کے پاس ہمارے لئے بڑے بڑے کمال کے منصوبے ہیں بس آپ ان کے پیچھے پیچھے چلتے جائیے اور اُمید رکھیئے ان کی ژورف نگاہی کسی دِن رنگ لائے گی!
    ایک سچے دِین اور خالص عقیدے کی یہی خاصیت ہوتی ہے۔ اس پر چلتے رہیئے دین اور دُنیا دونوں ملتے ہیں۔ اس کو چھوڑ دیجئے دِین اور دُنیا دونوں جاتے ہیں۔
    دِین کا خدا کی جانب سے ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ یہ 'خدا کا دستور' ہے جس کی 'معیاد' ابھی پوری طرح باقی ہے۔ یا پھر اس کے درست یا نا درست معاملہ کرنے کے کوئی 'نتائج' ہی نہ ہوں؟! 'اُمتِ وقت' ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ آپ بطورِ قوم خدا کے اِس خاص دستور پہ چلنے کیلئے یہاں رکھے گئے ہیں۔ کیا پھر اس منصوبے کے روپذیر ہونے کا ذریعہ بننا اور نہ بننا ایک برابر ہو؟!
    قومی سطح پر اپنے پچھلے سو سال کا تجزیہ کیا جائے تو آپ کو کہنا پڑتا ہے کہ یہ خدا سے دوری کی صدی تھی اور اپنے یہاں دھڑا دھڑ اجنبی نظریات اور ثقافتی تلچھٹ کی درآمد کا ایک بھیانک دور۔ خدا سے دوری اس معنی میں نہیں کہ یہاں ورد وظیفے کم ہوئے بلکہ اس معنی میں کہ قوم اپنے اجتماعی اہداف میں خدا سے دور کی گئی۔ آخر میں دیکھ لیجئے ہاتھ کیا آیا۔ اس ایک صدی کا جو ہم گزار آئے درست تجزیہ ہو جانا ہمارے آئندہ کیلئے ایک درست منہج عمل مرتب کرنے میں بہترین بنیاد بن سکتا ہے۔
    گزشتہ اور اس سے پیوستہ صدی کا تجزیہ کرنے کا جو ایک عام طریقہ یہاں رائج ہے وہ یہ کہ ''انیسویں صدی میں ہم نے کھویا اور بیسوی صدی میں ہم نے پایا''۔ بلاشبہہ قومی اور اجتماعی سطح پر بیسویں صدی اپنے یہاں ایک عمل اور اقدام کی صدی ہے۔ یہ بات درست ہے۔ مگر یہ بھی درست ہے کہ اس عمل اور اقدام اور جدوجہد کی سمت ''خدا'' نہیں تھا۔ خدا کی بلاشرکت غیرے بندگی و فرمانبرداری نہیں تھی۔ یہ عمل اور یہ جدوجہد جو ایک صدی بھر ہوتی رہی اس کا عنوان 'مسلم حقوق' کی جنگ تھا نہ کہ ''اللہ کے حق' کی جنگ۔ اللہ کے حق کی جنگ کھڑی کر دی جاتی تو ہمارا حق ساتھ میں آجانے سے کبھی رہ ہی نہ سکتا تھا۔ البتہ 'اپنے' حق کی جنگ میں نہ یہ ہاتھ آیا نہ وہ۔
    کیا ہی زبردست بات ہوتی کہ بیسویں صدی کے آغاز میں اس قوم نے اپنی جدوجہد کا عنوان ''اللہ کے حق'' کو بنا لیا ہوتا تو اب اکیسویں صدی کا نقشہ برصغیر میں نہیں پوری دُنیا میں کچھ اور ہوتا!
    بیسویں صدی ایک اٹھان کی صدی تھی۔ ایک طویل عرصے کے بعد لوگوں کو 'مسلمان' نظر آیا مگر اس بار بڑی حد تک 'اِسلام' کے بغیر! کئی صدیاں دُنیا 'مسلمان' کو خوابِ غفلت میں دیکھنے کی تو عادی رہی تھی تاہم ''ہدایت'' اور ''روشنی'' کیلئے غیر اقوام کے پیچھے 'بھاگتا' البتہ یہ اس صدی میں دیکھا گیا!
    یہ قوم اپنا ایک تاریخی مقدمہ رکھتی ہے اور اس کو جب بھی 'عمل' کے میدان میں اترنا ہو اِسے اپنے اس خاص مقدمے کے ساتھ اترنا ہوتا ہے۔ یہی اس کا ''چہرہ'' ہوتا ہے اور یہی اس کا ''منشور'' اور یہی اس کی ''منزل'' اور اس کا ''منتہائے سعی''۔ اب کی بار یہ 'عمل' کے اندر تو بڑوں بڑوں کی ٹکر کی ہو جانے کا شوق رکھتے ہوئے تھی مگر اقوام کے مابین سرے سے یہ اپنا کوئی 'مقدمہ' ہی نہ رکھتی تھی۔ یا آپ کے پاس اپنی کوئی چیز ہو ورنہ پھر مانگے تانگے کی نوبت تو آئے گی ہی؟ خصوصاً جبکہ آپ 'غفلت' کو خیرباد کہہ کر 'عمل' اور 'اقدام' کے مشن پر بھی روانہ ہو رہے ہوں؟
    اس بڑی سطح پر یہ پہلی صدی تھی جب مسلمان دوسری اقوام کی اترن پہنے ہوئے دیکھا گیا بلکہ اس پر فخر کرتا بھی۔
    اب جب بہت دیر بعد مسلمان 'متحرک' دیکھا گیا تو کیا خوب ہوتا اب بھی اگر اس کی زبان پر، ابتدائے اسلام کی طرح، ''اللہ کے حق'' کی بات سنی جاتی!
    اللہ کا حق کیا ہے؟ توحید۔ انسانی وجود کو اس میں پائی جانے والی تمام تر عقیدت اور بندگی اور گرویدگی سمیت خدائے وحد کی طرف متوجہ کردینا۔ انسانی شعور میں اسی کی کبریائی اور اسی کی سلطنت قائم کردینا۔ انسان کے شعور کی دُینا میں اس ایک کے سوا سب کی حکومتیں گرا دینا اور سب کے دیئے بجھا دینا۔ ہدایت کیلئے انسان کو صرف اور صرف خدائے برحق کی طرف متوجہ کردینا اور اس کے سوا ہر طرف سے اس کی توجہ ختم کرا دینا۔ اس زمینی سیارے پر ''انسان'' زندگی کیسے گزارے؟ کس قانون پر چلے؟ کس نظام کی پیروی کرے؟ یہ سوال صرف اسی ذات سے کرنا اور اسی سے پوچھنے کو روا رکھنا جس نے اپنی رحمت سے انسان کو یہاں بسا رکھا ہے اور اس کی خدمت کیلئے زمین اور آسمان کو لگا رکھا ہے۔ اس کے سوا کسی اور کو اس قابل ماننے سے انکار کرا دینا کہ کوئی اس انسان کیلئے انفرادی یا اجتماعی زندگی میں قانون صادر کرے یا انسان کیلئے تہذیبی قدروں کا تعین کرے۔
    ''انسان'' کو عبادتِ غیر اللہ سے واگزار کرانا۔۔۔۔۔۔ انسانی ذہن اور انسانی شعور سے اور انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی سے بطورِ معبود، بطورِ مرجع وسند اور شریعت دہندہ ہر کسی کو بے دخل کردینا اور اس مقام کو صرف خدائے وحدہ لاشریک کیلئے سزاوار جاننا۔۔۔۔۔۔ یہ وہ صدا تھی جو منتظر تھی کہ اس قوم کے ہاتھوں بیسویں صدی کے اندر بلند ہو اور تہذیبوں کا وہ 'تصادم' اور نظریات کا وہ 'آمنا سامنا' جس کی 'پیشینگوئی' آج اکیسویں صدی میں جا کر سننے میں آرہی ہے بیسویں صدی میں ہی لڑ کر جیت لی جاتی کہ اس میدان میں سرخرو ہونا صرف اس نظریے کے بس میں ہے جس کے پاس حق کی قوت ہو بشرطیکہ ''سنجیدگی'' اور ''ہوشمندی'' کی مطلوبہ سطح کو پہنچ لیا گیا ہو۔ مگر ہم نے ہی اس کو 'حقوق' کی جنگ رہنے دینا۔ ''عقیدہ'' کو، جو کہ ہماری پہچان تھی اور ہماری قوت اور ہمارے وجود کا اصل راز، پیچھے کر دیا اور ''خود'' آگے ہو گئے۔ اب 'اِس' حیثیت میں ہمیں کون مان کردیتا؟ ہم پر غفلت طاری رہی، اور بات ہے۔ مگر ہم اپنی وہ پہچان بدل دیں؟! ہم نے ہزار سال ایک پہچان رکھی ہے۔ یہ ایک بت شکن قوم تھی۔ یہ ابراہیم علیہ السلام کی ملت تھی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت۔ دُنیا ہزار سال تک اس سے دبی رہی اور انسانیت کی قیادت کیلئے اس کی راہ سے ہٹی رہی تو اس لئے کہ یہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسول تھی اور اِس کے دیار میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی شریعت علمدار تھی۔ یہ دُنیا کی واحد قوم تھی جو خدا کے حق میں بولتی تھی۔ کوئی 'ملک' اس کی پہچان تھا اور نہ کوئی 'قومیت'۔ ''عقیدہ'' کے سوا کوئی چیز نہ تھی جو اس کا ''حوالہ'' بنے۔ اس کی بلندی واقعتاً اس قدر ہے اور اس کو حاصل رہنے والے ''حوالے'' واقعتاً اس قدر عظیم الشان ہیں کہ 'ملک' اور 'حکومتیں' اس کی زندگی میں آنے جانے والی چیز رہی ہیں۔ خطے اور علاقے، امارت اور ریاست اس کے ہاتھ میں آتے بھی ہیں اور کبھی کبھار ہاتھ سے چلے بھی جاتے ہیں مگر جس چیز کا جانا یا حتی کہ پسِ منظر میں ہو جانا اس کی زندگی میں ناقابلِ تصور ہے وہ اس کا 'عقیدہ' ہے اور اس کی موحدانہ پہچان جو اس عقیدے کے دم سے ہے۔ اپنی یہ پہچان گنوا کر اور اپنی اس پہچان پر آخری درجے کا اصرار نہ کرکے ہم نے اپنا وہ نقصان کیا جو پھر ایک صدی تک ہمارے کسی ہدف کے بغیر اس دشت میں بھاگتے رہنے کا سبب بنا۔
    ''خدا'' کے حق میں بولنا اور ''اپنے'' حق میں بولنا۔۔۔۔۔۔ یہ وہ فرق تھا جو ایک صدی بھر ہماری نظر سے روپوش رہا اور اس کی قیمت ہم نے جو دی اب وہ ہمارے سامنے ہے۔
    حضرات اپنے حق میں بولیں گے تو ہم ایک 'قوم' ہیں اور وہ بھی 'تیسری دُنیا' کی ایک قوم جو اس عالمِ جدید کے اندر بار برداری اور قرضے لینے کیلئے رکھی گئی ہے اور اگر باربرداری کا شرف نہ پائے تو بے روزگار رہ کر مرتی ہے۔ چنانچہ اپنے حق میں بولیں گے تو ہم ایک قابل ترس قوم ہیں، ایک ایسی دُنیا کے اندر جہاں 'ترس' نہیں کھایا جاتا اور اگر خدا کے حق میں بولیں گے تو ہم ایک ''اُمت'' ہیں بلکہ ''خیر اُمہ اخرجت للناس'' جس کا خدا کو بڑا پاس ہے اور جس کا حال سدھرنا اور بیڑی پار لگنا پھر خدا کے ذمہ ہو جاتا ہے۔ کتنا فرق ہے ایک ایسی قوم میں جو اپنا معاملہ ___حق کی اتباع کرکے___ خدا کے سپرد کردے اور ایک ایسی قوم میں جس کا معاملہ ___حق کی اتباع نہ کرنے کے سبب___ خدا اس کے اپنے ہی سپرد کردے۔ کوئی تو وجہ ہوگی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے خدا کی پناہ مانگا کرتے تھے:
اللَّہُمَّ رَحْمَتَکَ ارْجُو فَلَا تَکِلْنِی اِلَی نَفْسِی طَرْفَۃَ عَیْنٍ واصْلِحْ لِی شَانِی کُلَّہُ لَا الَہَ الَّا انْتَ
خدایا بس تیری رحمت کی آس ہے۔ پس کبھی ایک لمحے کیلئے بھی مجھے میرے اپنے حال پر مت چھوڑیو اور آپ ہی میرا سب معاملہ سنوار دیجؤ۔ ایک تیری ذات کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں۔ (8)
    کیا کوئی ہمیں بتائے گا کہ وہ اجتماعی اہداف جو ایک صدی تک ہماری جدوجہد کا عنوان رہے ہمارے اصل ہدف نہ تھے اور وہ قیادتیں جن سے ہماری کل امیدیں وابستہ رہیں وہ خود اس دِین کی حقیقت سے بے خبر تھیں اور اِس اُمت کے اصل اور حقیقی اہداف سے ہی ناواقف؟
    کیا کوئی ہمیں بتائے گا کہ اس توحید کے امین رہ کر ہم دُنیا میں وہ 'سیلِ رواں' تھے جو کسی سے تھمتا نہ تھا اور آج وہ 'خس وخاشاک' ہیں جو کروڑوں میں ہونے کے باوجود ہرگز کوئی وزن نہیں رکھتے اور 'وقت' کے دھارے پر بھاگے پھر رہے ہیں؟
    آج پہلی بار یہ ہوا کہ ''تشخص'' کیلئے ہمیں یعنی اس ''اصیل اُمت'' کو پیرائے باہر سے مستعار لینا پڑے۔۔۔۔۔۔ ایسی بے چارگی!
    آج ہمارے ہاں اس سے دُنیا کیلئے کوئی پیغام نشر نہیں ہو رہا البتہ ساری دُنیا کے پیغام اپنے یہاں نشر ہو رہے ہیں! آج ہم صرف ملٹی نیشنلز کیلئے ہی نہیں دُنیا بھر کے افکار و نظریات اور سوچ کے نئے نئے فیشنوں اور تہذیب کی جدید مصنوعات کیلئے کھلی منڈی ہیں اور دُنیا ہمیں 'منڈی' کے طور پر ہی دیکھتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں اپنی جڑیں اپنی تاریخ کے اندر تلاش کرنے میں اب کوئی دلچسپی نہیں۔
    کیا کوئی ہمیں بتائے گا کہ یہ دِین جس کا ہم دم بھرتے ہیں اس حقیقت کا نام ہے جس نے ان سب مادہ پرست اور بت پرست تہذیبوں کا کچومر نکالا تھا اور یہ عقیدہ جو ہمیں حاصل ہے فطرت کی وہ روشنی ہے جس نے ان سب ادیان اور ان سب نظریات کے دیئے گل کر دیئے تھے جن کو کبھی یہ زعم رہا ہو کہ وہ انسان کی درماندگی کا مداوا ہو سکتے ہیں؟
    کیا کوئی ہمیں بتائے گا کہ بیسویں صدی میں ہم نے جن قیادتوں کا دامن تھام کر اس بحرِ ظلمات کے پار لگنا چاہا تھا، معاشرت کے جس نقشے کو بیسویں صدی کے آغاز میں ہم نے اپنے برصغیر کے اندر خوش آمدید کہا تھا، جس ڈھب سے ہم نے اپنی نسلوں کی پرورش کرنا قبول کرلیا تھا اور جس تہذیب اور جن اجتماعی مقاصد کی اپنے یہاں ہم نے درآمد شروع کردی تھی وہ سب اس بات کی دِلیل تھی کہ اب ہم 'ابن الوقت' ہیں یعنی 'تیسری دُنیا'۔ ''ابو الوقت'' ہونے کیلئے ہمیں توحید کی وہی ٹھیٹ حقیقت چاہئے تھی جو اب ہمارے اپنے معاشروں کے اندر اجنبی ہو رہی تھی، اور جن پر ہمارے پڑھے لکھے حیران ومتعجب ہونے لگے ہیں!
    آج ہمارے اقتصادی ماہرین ہمیں بتا رہے ہیں کہ بیرون سے لئے گئے قرضوں نے ہمارا بیڑا غرق کر دیا ہے اور اُدھار کھا کھا کر اور اپنے حکمرانوں کے اللے تللے کے سبب 'خود کفالت' اور 'خود کفایت' سے ہم بے حد دور ہیں۔ اقتصادی ماہرین اتنا ہی بتا سکتے ہیں گو کہ سچ بتاتے ہیں۔ مگر ہمارے 'سماجیات' کے وہ ماہرین کہاں ہیں جو ہمیں بتائیں کہ اس قوم نے صرف قرضوں کا ادھار نہیں کھایا اس کا سب معاملہ 'اُدھار' پر ہے۔ افکار، نظریات، طرز ہائے معاشرت، تہذیبی اقدار، برتری وکمتری کے معیار، نظام ہائے حکومت، بنیاد ہائے ریاست۔۔۔۔۔۔ کونسی چیز اس کی 'اپنی' ہے؟ کونسی چیز اس نے خدا اور رسول سے لی ہے؟ کون ہے جو اسے بتائے کہ یہ سب کچھ خدا سے لینا ہے او یہ کہ خدا نے جو ایک ''رسول'' بھیجا ہے وہ خاص اسی مقصد کیلئے ہی بھیجا ہے نہ کہ محض اس کی 'نعتیں' پڑھی جانے کیلئے، اور یہ کہ ان سب معاملات میں ہدایت ''رسول صلی اللہ علیہ وسلم'' کے سوا کہیں اور سے لینا اسلام سے براہِ راست تصادم ہے اور اللہ کے ساتھ کھلا کھلا شرک؟
فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّىَ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُواْ فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسْلِيمًا (النساء: 65)
نہیں (اے نبی) تیرے رب کی قسم یہ ہرگز مومن نہیں جب تک کہ یہ تجھے اپنے سب اختلافات میں فیصل نہ مان لیں پھر اس پر اپنے نفس میں حرج تک نہ محسوس کریں بلکہ سر بسر تسلیم نہ ہو جائیں۔

********

    کاش کہ قوم یہ فیصلہ کرے مگر قوم کو اس حیثیت میں چھوڑا نہیں گیا کہ وہ اپنے حق میں کوئی فیصلہ کرلے۔ یہ ایک الگ محنت ہے جو ہم دینی طبقوں کو اپنی اس قوم پر کرنا ہے۔ قوم اس حیثیت میں ہوتی کہ وہ اپنے حق میں صحیح فیصلہ کرے تو بہت امکان ہے کہ اس کو یہ 'جمہوریت' دی ہی نہ جاتی جس کے کسی وقت نہ دیئے جانے پر آپ کی کا منولتھ آپ سے روٹھ جاتی ہے اور جس کا روڈ میپ آپ سے اس طرح طلب کیا جاتا ہے جس طرح مالک مکان کرایہ تقاضا کرتا ہے!
    قوم نہیں تو قوم کے وہ طبقے جو گہری سوچ کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ کوئی فیصلہ کرلیں بلکہ فیصلہ کرنے میں دیر نہ کریں اور پھر قوم کو اس پر لے آنے میں دن رات ایک کر دیں ورنہ ہم سب کو اس تاخیر کی قیمت دینا ہوگی جو کہ ہم پہلے ہی بہت مہنگے 'ایکسچینج ریٹ' سے دے رہے ہیں۔۔۔۔۔۔
    سرمایہ داری بلاک کے زمین بوس ہوجانے سے، جو کہ اب بہت دور نہیں رہا، بلاشبہہ امیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں لیکن تاریخ کے اس زبردست موڑ پر اگر خود آپ اپنے اندر ہی برتری کے عوامل پیدا کر چکے ہوں تو کیا واقعتاً تاریخ کو اس موقعہ پر ایک منفرد ترین موڑ نہیں مڑوایا جا سکتا؟ اور پھر اگر دریوزہ گری کے اس عالمی نظام کو کسی طرح اور ذرا دیر سنبھالا مل جائے تو؟! زندگی اور برتری کے اصل عوامل تو اپنی ہی ذات میں ہونے چاہییں!
    دیکھنا یہ ہے کہ یہ قوم اپنے لئے، یا قوم کے سمجھدار اپنی اس قوم کیلئے، کیسا مستقبل دیکھتے ہیں۔ کیا یہ اس پوری قوم کو آئندہ پچاس سال میں 'میکڈانلڈ' اور 'کینٹکی چکن' اور 'شیل' اور 'پیپسی' کی تاحد نگاہ منڈی دیکھنا چاہتے ہیں یا اس سے بہتر اور آبرو مندانہ مستقبل کی تصویر وہ اپنی قوم کیلئے ذہن میں رکھتے ہیں؟ کیا یہ قوم کے سب ذہین دماغوں کو آئندہ پچاس سال کے دوران نیلامی کیلئے پیش کردینا چاہیں گے کہ اس کے اپنے پاس وہی بچیں جن کی 'باہر' کھپت نہ ہو یا اپنا یہ قیمتی ترین سرمایہ بچا رکھنے کیلئے واقعتاً فکر مند ہیں؟ جو قوم اپنا ذہن اور فکر وشعور دوسری قوموں کے سپرد کر چکی ہو اس کا سب کچھ پھر کرائے پر اٹھ جاتا ہے۔ یقین کیجئے آپ کی قومی قیادتیں اس سے آگے دیکھ ہی نہیں سکتیں کہ کسی طرح یہ اگر مناسب داموں پر پوری قوم کو اور پورے ملک کو کرائے پر چڑھا دیں۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ گاہک دام کم دیتے ہیں۔ کیا آپ قیامت تک دُنیا سے فارن انوسٹمنٹ کی بھیک مانگتے رہیں گے؟
    دِین اپنے پاس پہلے ہی نہیں رہ گیا۔ عقیدہ تھا سو وہ سو سال پہلے اس بت کے چرنوں میں قربان کردیا گیا جوہندو کے مقابلے میں ہمیں 'امدادیں' دینے میں ہمیشہ بخل کرتا ہے۔ ''بت شکن'' تشخص کا اب کبھی سوال بھی نہیں اٹھا۔ تاریخ سے رشتہ خود توڑ لیا گیا۔ شرک کا نظام قبول اور خدا ناآشنا تہذیب درآمد کر لی گئی ہو تو اس قوم سے کیا رشتہ رہ جاتا ہے جو دُنیا میں بتکدے گرانے اٹھی تھی۔ اپنا جو تھا قریب قریب سب دے لیا گیا۔ اس کے بدلے میں جو ملا وہ یہی ہے جس سے نہ بھوک جائے اور نہ پیاس بجھے۔ اب اس گھر کی کونسی چیز بچی ہے جو بیچ لی جائے؟ یہ 'ہنگامی حالات' نہ ہوں تو ہمیں تو شاید کوئی 'خریدار' بھی نہ ملے! ایٹمی پروگرام، مجاہدین، کشمیر، مدرسے، ایسی چند چیزیں اونے پونے بیچ بھی لی جائیں تو اس کا بہت کچھ تو نہ آجائے گا! پھر کیا کرنا ہوگا؟ کب تک گزارا چلے گا؟؟؟
    ملت کے ہزاروں مفادات بیچ کر تھوڑی سی 'معاشی بہتری' لے کر آتے ہیں تو تب جا کر کچھ دیر کیلئے 'بیمار' کے منہ پر رونق آتی ہے۔ اتنے میں اگلی 'قسط' کا وقت آکھڑا ہوتا ہے۔ اپنی حیثیت وآبرو اور اپنے تشخص میں جو کچھ پڑا ملے اسی میں سے ہر بار 'ادائیگی' کر لیتے ہیں۔ لادینیت کا رنگ ہر بار کچھ اور گہرا کرنا پڑتا ہے۔ عرصے سے اب یونہی گزارا ہو رہا ہے۔ 'مجبوری' کی دلیل پر ایسا اطمینان اور ایسا شرح صدر شاید ہی کبھی کسی کے ہاں پایا گیا ہو!
    ''گھر کا اثاثہ'' بیچ بیچ کر 'خوشحالی' لانے کا یہ پروگرام ہمیں یاد ہو تو اپنے یہاں ڈیڑھ صدی پہلے شروع ہوا تھا۔ ابتدا میں ہمارا خیال تھا کہ ہم نے اپنا وہ ٹھیٹ تشخص نہ چھوڑا، جو کہ ہماری قیمتی ترین متاع تھی، تو ہمیں 'انگریزی' نہ آئے گی!
    وہ دِن اور آج کا دِن، ہم اسی ڈھلوان پر لڑھکتے جا رہے ہیں۔ رفتار بڑھنے کو اب پیشرفت جانتے ہیں اور اترائی کو ترقی!
    یہ دُنیا کے علوم اتنا بڑا ہوّا نہ تھا جتنا کہ ہمارے لئے اس کو بنا دیا گیا۔۔۔۔۔۔ یہاں تک کہ اپنے سب اصیل خدوخال بدل ڈالنے کیلئے اور اپنی حالت ترکیبی کو مسخ کر لینے کیلئے یہ ایک ایسی 'بدیہی' دلیل ٹھہری جس کا رد کوئی کر ہی نہ سکتا ہو!
    روم اور ایران کی ترقی یافتہ اقوام کے ہاں پائے جانے والے فائدہ مند علوم عرب کے ان صحرا نشینوں نے بھی لئے تھے جنہوں نے 'تعلیمی اداروں' کی مسجد نبوی سے پہلے شکل بھی نہ دیکھی تھی۔ بلکہ یہ سب علوم انہوں نے چند برس میں سمیٹ لئے تھے باوجود اس کے کہ وہ اپنے جہاد کے باعث بے حد عدیم الفرصت تھے۔ ان علوم کے استیعاب کیلئے ان کو اپنا وہ باطل بیزار بت شکن موحدانہ تشخص چھوڑ دینے کی ضرورت تو پیش ہی کیونکر آتی خود اس موحدانہ بصیرت اور تشخص نے ہی ان علوم کے صالح عنصر کو لینے اور اس کے فضلات کو مسترد کر دینے میں ان کی بے انتہا مدد کی تھی۔ دوسروں سے کچھ سیکھتے ہوئے بھی ان کی عظمت اور عزتِ نفس اور ان کے تشخص میں کچھ فرق نہ آیا۔ وہ ان سے ایک ادنی چیز لے رہے تھے تو ایک اعلیٰ چیز ان کو دینے کیلئے پاس بھی رکھتے تھے۔۔۔۔۔۔
    اپنے پاس ''دینے'' کیلئے ٹیکس کے سوا کیا تھا؟
    اِس دُنیا میں ''دینے والا ہاتھ'' ہی معزز مانا جاتا ہے الید العلیا خیر من الید السفلی صحرا نشینوں کے ہاتھ میں ان کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی چیز تھما دی تھی جو پڑھی سے پڑھی قوم پر ان کو فضیلت وبرتری دلا دے اور جس کی بدولت دُنیا کی ہر صالح اور نفع بخش شے انہی کی ''گشمدہ چیز'' باور ہو۔ ایمانی احساس برتری اور عزتِ نفس کے باعث اور ایک خاص موحدانہ شان اور رعب رکھنے کی بدولت وہ تہی دست ہو کر معزز تھے۔ آخرت پہ نگاہ رکھنے والوں کی نظر میں دُنیا بہت چھوٹی ہو جاتی ہے اور خدا کی عظمت اور کبریائی کرنے والوں کی نگاہ میں انسانی عظمت کے شاہکار ہیچ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ یہ عزت و وقار اور یہ شان اور ہیبت ان کو خدا کے حق میں بولنے کی بدولت نصیب ہوئی تھی۔ سیماھم فی وجوھھم من اثر السجود۔ یہ خودداری کا وہ حسن تھا جو خدا کے سوا پوجی جانے والی ہستیوں کو ٹھکرا دینے سے ان کے تشخص کا جزولاینفک بن چکا تھا اور جس کی بدولت وہ دُنیا کی ترقی یافتہ اقوام سے دُنیا کے علوم پڑھتے ہوئے بھی، اور کرّوفر سے دور ایمانی تواضع کا مظہر بنے ہوئے، ان متکبر اقوام سے اعلیٰ وارفع تھے، سو یہ بندگی کا نور تھا اور وحدانیتِ معبود کی ہیبت جس کی دھاک سیدھی دِلوں پر بٹیھتی تھی۔۔۔۔۔۔ نہ کہ وہ جھوٹا کرّوفر جو ان آخری صدیوں میں قابض استعمار نے یہاں کے غلام ذہنوں پر اپنی ٹیکنالوجی اور اپنی توپوں اور ٹینکوں کے زور پر اور اپنے سائنسی شعبدوں کے بل بوتے پر اور پھر تعیش کی ریل پیل سے اور ضمیر فروشوں کی خرید وفروخت کی راہ سے یہاں کی اقوام پر قائم کیا تھا اور پھر شہوت پرستی، عبادتِ نفس اور بے حیائی کے ذریعے اس میں 'حُسن' اور 'کشش' اور 'سحر' پیدا کیا تھا۔
    اپنے اسلاف کے ساتھ ہماری یہ بہت بڑی زیادتی ہوگی اگر ہم ان کی ہیبت و رعب کی تفسیر ان کی 'فتوحات' میں کریں۔ اپنی یہ پہچان، جو خدا کے ہاں پسندیدہ جانی گئی، بنانے پر ہمارے اسلاف نے بھوکے ننگے رہ کر محنت کی تھی اور ایک عرصہ ان کا یہ حال رہا کہ اپنی اس متاع کے مقابلے میں وہ اس زینتِ دُنیا کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھنے کے روادار نہ تھے۔ انہوں نے جب یہ کام کرلیا تو خدا نے ان کی اس پہچان کو ہی پھر ان کا وہ انعام بنا دیا اور ان کے اس تشخص کو ہی اس بے ساختہ نظام میں بدل ڈالا کہ دُنیا کے پاس جو کوئی بھی کارآمد چیز ہو وہ بلا تکلف ان کے زیراستعمال آئے اور اس سے ان کی عظمت میں ذرہ بھر فرق نہ آئے۔۔۔۔۔۔ بلکہ تو ان کی رفعت کو چار چاند لگیں اور خود اس چیز کی شان دوبالا ہو!
    ایک اصیل تشخص کے بغیر آپ کسی سے 'چیز' لیں وہ آپ پر صاف پہچانی جاتی ہے اور نسلیں اس پر شرمسار اور 'مالکوں' کے آگے دبی رہتی ہے۔ بلکہ تو 'چیز' آپ کی ہونے کی بجائے عملاً 'آپ' چیز کے ہو جاتے ہیں۔ کھوکھلی شخصیت کی مالک قومیں کیا بھلا 'تہذیب' کی پیدائش کریں گی؟!
    خدا کے حق کو ___جو کہ اس کا تنہا لائقِ بندگی ہونا ہے اور اس کے ہمسروں سے بیزاری اختیار کی جانا___ اپنی پہچان بنا لینے پر ہمارے اسلاف آخری حد تک ڈٹ گئے تھے ''ان الذین قالوا ربنا اﷲ ثم استقاموا'' تو پھر آخرت میں تو ان سے جو وعدہ تھا سو تھا دُنیا کے منفعت بخش علوم اور فنون سے بھی خدا نے ان کو بھر بھر کر دیا۔ سب اقوام نے اپنے علم کے خزانے حتی کہ اپنے ذہین دماغ ان کے آگے ڈھیر کر دیئے اور دنوں کے اندر یہ تمدن بھی اوروں کے استاد بن گئے۔ شہر بسانے اور آبادیوں کا انصرام کرنے میں بھی پھر کوئی ان کا ثانی نہ رہا۔
    اُدھر اپنا معاملہ کیا تھا؟ 'تشخص' جانے میں چند برس لگے اور 'خوشحالی وترقی' کا اب بھی، ڈیڑھ صدی بعد بھی، کہیں نام ونشان نہیں! ٹیکنالوجی اور خودکفیلی کو اب بھی ہمیں آوازیں ہی دینا پڑتی ہیں! (9)
    کس سادگی سے ہمارے یہ لیڈر ہم پر 'انکشاف' کرتے ہیں کہ 'ہماری اس زبوں حالی کا سبب یہ ہے کہ دراصل ہم سائنس اور ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ گئے ہیں'!!!
    ظالمو تم نے ڈیڑھ صدی تک آخر کیا کیا ہے؟ کیا یہ ڈیڑھ سو سال تم 'دینی علوم' پڑھتے رہے ہو؟ ایک دُنیا ہی کے پیچھے تو بھاگے ہو! تو پھر دُنیا کا ہی کچھ بنا لیا ہوتا! دین کو 'ترقی' اور 'روشن خیالی' کے جس صنم پر قربان کرنے کی تم ڈیڑھ صدی تک 'دلیلیں' دیتے رہے اس نے تمہیں 'ترقی' بھی نہ دی!؟ مغرب کے پیچھے چل کر آخر تم نے قوم کو لے کر کیا دیا؟ ایک محتاجی اور مسلسل لاچاری؟ اتنا اجاڑا اگر خدا کی اطاعت و بندگی کی راہ میں کہیں ہوا ہوتا تو یقین کیجئے ان لوگوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا ہوتا اور جن اسلامی قیادتوں کے ہاتھوں یہ زیاں ہوا ہوتا یہ ان کا یہاں جینا دوبھر کر چکے ہوتے۔ مگر اب یہی ہیں جو قوم کو 'صبر' کی تلقین کرتے ہیں! یہاں تک کہ 'تلقینِ صبر' کے باب میں کبھی کبھار 'آیات واحادیث' کی ضرورت بھی پڑ جاتی ہے! کاش کہ صبر اور استقامت کی یہ تلقینیں قوم کو خدا کی راہ میں کرائی جاتیں۔ کوئی اس کی راہ میں اپنا نقصان کرے یا تکلیف جھیلے وہ پاس تو کرتا ہے! کسی وقت دُنیا میں اس کا صلہ نہ دے آخرت میں تو دیتا ہے! مگر اس کی راہ کو چھوڑ کر کہیں سے کیا ملے گا؟ دُنیا یا آخرت؟؟؟
    سچے دین کو اور وقت کی آسمانی شریعت کو پسِ پشت ڈال دینا دُنیا کا کوئی چھوٹا موٹا اور معمولی واقعہ نہ ہونا چاہئے۔ کیا یہ بات ہم اپنی قوم کو ازبرکرا سکتے ہیں؟ کیا بعید اب ہی توبہ و انابت کی فکر پیدا ہو۔ اس مہربان کی جانب واپس آنے کا راستہ جب تک کھلا ہے ہم اُمید کا دامن کیوں چھوڑیں؟! کیوں نہ اجتماعی سطح پر ''استغفار'' اور ''لوٹ آنے'' اور ''اپنے نادانوں کے کئے سے بیزار ہونے'' کی ایک تحریک اٹھائی جائے۔
   
أَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَاء مِنَّا إِنْ هِيَ إِلاَّ فِتْنَتُكَ تُضِلُّ بِهَا مَن تَشَاء وَتَهْدِي مَن تَشَاء أَنتَ وَلِيُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الْغَافِرِينَ  (155) وَاكْتُبْ لَنَا فِي هَـذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ إِنَّا هُدْنَـا إِلَيْكَ ۔۔ سورہ اعراف

الاعراف ”کیا ہلاک کرتا ہے تو ہم کو ساتھ اس چیز کے کہ کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں یہ مگ فتنہ تیرا یعنی آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے ساتھ اس کے جس کو چاہے اور راہ دکھاتا ہے جس کو چاہے۔ تو ہے دوست ہمارا پس بخش ہم کو اور رحم کر ہم کو اور تو بہتر بخشنے والا ہے۔ اور لکھ واسطے ہمارے بیچ اس دُنیا کے نیکی اور بیچ آخرت کے، تحقیق ہم نے تو یہ کی طرف تیری“۔ (ترجمہ شاہ رفیع الدین)

**********

    مختصراً، یہ تین باتیں ہیں جو ہمیں اپنی قوم پر ازحد واضح کر دینا ہیں:
(1    ڈیڑھ صدی اپنے یہاں دین اور دنیا دونوں کا اجاڑا ہوا باوجود اس کے کہ 'محنت' اور 'جدوجہد' خوب ہوئی۔ ہمیں چلنے کیلئے جو پٹڑی فراہم کی گئی اس میں اور ہماری ساخت میں کوئی ایسی بات تھی کہ نہ وہ ہمارے چلنے کیلئے تھی اور نہ ہم اس پر چلنے کے۔ ہمیں بار بار اس پٹڑی پر چڑھایا گیا اور ہم بار بار اس سے اترتے رہے۔ ہمارا بہت سارا زور اور عمل اسی میں صرف ہوا۔ اب یہ فیصلہ ہو جانا چاہئے کہ یہ راستہ ہمارے لئے ہے اور نہ ہم اس کیلئے۔ اپنی اس خاصیت کے باعث جو وقت کی آسمانی اُمت سے وابستہ ہونے کے ناطے ہوا کرتی ہے اور اپنے اس وصف کی بدولت جو شریعتِ وقت کی براہِ است مخاطب قوم ہونے کی حیثیت میں ہمیں حاصل ہے ہماری پٹڑی دراصل چودہ صدیاں پیچھے سے چلی آتی ہے جو نہ معروف معنوں میں 'مذہبی' ہے اور نہ معروف معنوں میں 'دنیاوی'۔ یہ ایک منفرد شاہراہ ہے جہاں دُنیا اور آخرت، مادہ اور روح، عقل اور وحی سب ہم آہنگ ہو جاتے ہیں اور جس پر ہمیں دیکھ کر دُنیا کے عقلا دم بخود رہ جاتے ہیں اور جہاں ہمارے قدم انبیاء کے قدموں کے نشانات پر آپ سے آپ پڑنے لگتے ہیں اور جہاں ہم اس پوری کائنات کے ساتھ مل کر خدا کی ''تسبیح'' بھی کرتے ہیں اور اُس کے سونپے ہوئے کچھ 'کارہائے جہاں'' بھی بہ حسن وخوبی انجام دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔ جبکہ اس دوگانہ عمل کے دوران ہی ہمارا آخرت کا گھر بھی تیار ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔
    پس ہماری فلاح کی ایک ہی راہ ہے اور خلاصی کا ایک ہی سہارا اور وہ ہے خدائے واحد کی بندگی کا علم اٹھانا۔۔۔۔۔۔ ویسی بندگی جو اُس نے اپنی کتابوں اور رسولوں کی زبان سے ہمارے لئے مقرر ٹھہرا دی ہے نہ کہ وہ بندگی جس کا سبق ہمیں یہاں درسی کتابوں اور میڈیا خطبوں میں بہ تکرار دیا جاتا ہے کہ آدمی بس 'نماز روزہ' کرے، اچھا سعادت مند 'شہری' بن کر رہے اور 'حسنِ اخلاق' اور 'حقوق العباد' کو قریب قریب 'حق اللہ' سے بڑا فرض جانے! یہ بندگی کا وہ ٹھیٹ طریقہ ہے جو غیر اللہ کی عبادت وبندگی کے انکار سے شروع ہوتا ہے اور دُنیا کے اندر شرک سے دشمنی مول لے آنے کا سبق دیتا ہے۔ باطل معبودوں کی نفی پہلے اور خدائے برحق کی بندگی کا دم بھرنا اس کے بعد۔ خدا کے دین کی خدمت میں کوئی کمی رہ جانا یہاں قابل فہم ہو سکتا ہے مگر باطل دین ونظام وتہذیب اور باطل کی خدائی کو قبول کر لینا اور غیر اللہ کی عبادت واطاعت کا چلن ہونے دینا ایک ناقابلِ معافی وناقابل تلافی جرم ہے سوائے یہ کہ اس سے توبہ کر لی جائے۔
    یہ بات اپنی قوم پر واضح کرنا آج کے اجتماعی فرائض میں سب سے بڑا فرض ہے۔ اللہ کی توحید سے بڑھ کر اللہ کو خوش کر دینے والی کوئی چیز نہیں۔ اس کی بڑائی کی لاج رکھنے والی قوم کی لاج ضرور رکھ لی جاتی ہے اور اس امر پر بے شمار شرعی حقائق اور تاریخ نظائر خصوصاً اس اُمت کی تو پوری تاریخ شاہد ہے۔ ہمارا خدا کے راستے پر آجانا دراصل 'پٹڑی' پر چڑھ آنا ہے۔ 'چلنا' ہمیں پھر بھی ہے۔ یہ جہان ہے ہی ''چلنے'' کیلئے۔ یہ زندگی ہے ہی دارالعمل۔ محنت اور جدوجہد دُنیا اور آخرت ہر دور کیلئے پھر بھی کرنا ہوگی۔ یہ کوئی 'صوفیت' کا درس بہرحال نہیں۔ توحید پر آنے کا مطلب 'ہاتھ پر ہاتھ' دھر کر بیٹھ رہنا نہیں۔ اِس اُمت کے حق میں البتہ یہ وہ راہ ہے جس پر آکر ''عمل'' اور ''محنت'' دُنیا اور آخرت ہر دو جہان میں ثمر بار ہونے لگتے ہیں۔ پس یہ محنت سے بھاگنے کا راستہ نہیں بلکہ محنت کو منزل دکھانے کا راستہ ہے۔ یہ ''عمل'' کی ایک بھرپور دعوت ہے۔ جان لڑا دینے کا اصل یہیں لطف ہے۔ دُنیا کی قوت اور دُنیا کے علوم ہاتھ میں کرنا اُمتِ توحید کا شرعی فریضہ ہے۔ پس یہ ایک زبردست جہت ہے اور ایک مضبوط سہارا۔
    ''خدا کا سہارا'' پکڑنے کا طریقہ وہی ہے جو رسولوں نے ہمیں سکھایا ہے۔ اُس کے رسول دُنیا میں آتے ہی اس لئے ہیں کہ وہ لوگوں کو بتائیں کہ اُس کا سہارا کیونکر تھاما جائے۔ ضروری ہے کہ دُنیا کی کسی بھی 'امدادیں' دینے والی ایجنسی سے بڑھ کر ہم خدا سے ہی کچھ ''یقین دہانیاں'' حاصل کرلیں اور ''امداد'' کا کوئی وعدہ خود اسی سے لے آئیں۔ یہ ''وعدہ'' دراصل اُس نے اپنی جانب سے کردیا ہے اب ''ہاں'' اُس کو نہیں ہمیں ہی کرنی ہے:
    
وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا  (2) وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا  (3) سورہ طلاق

اور جو کوئی ڈرے اللہ سے کرے گا واسطے اس کے راہ نکلنے کی (ہر مشکل سے) اور رزق دے گا اس کو اس جگہ سے کہ نہیں گمان کرتا اور جو کوئی توکل کرے اوپر اللہ کے پس وہ کفایت ہے اس کو۔ تحقیق اللہ تعالیٰ پہنچنے والا ہے ارادے اپنے کو۔ تحقیق مقرر کیا ہے اللہ نے واسطے ہر چیز کے اندازہ“۔ (شاہ رفیع الدین)

    'پٹڑی' پر چڑھ آئیں تو محنت اور جدوجہد اپنا مول دیئے بغیر ہرگز نہ رہے گی۔ اصل درمانگی ___دُنیا کی حد تک___ یہ ہے کہ 'پسینہ' بہے اور پھر بھی 'دہقاں کو میسر نہ ہو روزی' بلکہ تو 'پسینہ' بہانے کیلئے 'کھیت' ہی میسر نہ ہو چاہے وہ اپنے 'آزاد ملک' کے کھیت کیوں نہ ہوں۔۔۔۔۔۔ جب تک 'پٹڑی' اور ''سمت'' درست نہ کر لی جائے اور زمین کے اور اس سے پہلے خود اپنی جان کے ''اصل مالک'' کا تعین نہ کرلیا جائے!
    جبکہ آخرت کی درماندگی کا تو تصور بھی رونگٹے کھڑے کرتا ہے۔
    عمل کو ایک جہت ملی ہونا اور عمل کو بے برکت رہنے سے بچانا اور اس کو 'توفیقِ خداوندی' سے محروم نہ رہنے دینا۔۔۔۔۔۔ اجتماعی سطح پر اپنا اصل مسئلہ یہ ہے۔ جیسا کہ ہم نے مکرر واضح کرنے کی کوشش کی، اس اُمت کے حق میں 'اجتماعی توفیق'' ملی ہونے کا راز ''توحیدِ خدواندی'' ہے۔ ''توحید'' کا مطلب ہے انسانی دُنیا کے اندر ''خدا کے مقام'' کا ٹھیک ٹھیک تعین۔ ''خدا کی حیثیت'' انسانی معاشروں اور انسانی بستیوں کے اندر کیا ہو، اس بات کا درست جواب۔ قریب کی اِس دُنیا میں جہاں اس کا مالک کہیں 'نظر' نہیں آتا، نگاہِ اعتراف اس کے مالک پر ہی جما رکھنا اور اپنے معاشروں میں اسی کا نام بلند رکھنا، اسی کی شریعت کو اپنا قانون بنا رکھنا اور اپنی بستیوں کے اندر ہر طرف اپنے شرورِ انفس اور سیئاتِ اعمال سے اس کی پناہ میں آنے کی تحریک برپا رکھنا۔ ''توحید'' کسی قوم کے حق میں اس کا اپنی یہ پہچان کرا رکھنا ہے کہ اس جہان میں وہ خدا کے مقامِ عظمت و وحدانیت کی پاسبان ہے۔ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ ہم اُس کے پاسباں ہوں اور وہ ہمارا پاسباں نہ ہو؟ ایسی بدظنی تو ایک عاجز مخلوق اپنے ساتھ کی جانا پسند نہ کرے!!!
    
مَن كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ ۔ ( فاطر10 ) ”جو شخص عزت چاہتا ہو تو عزت ساری اللہ ہی کی ہے۔ پاکیزہ کلمہ (لا الہ الا اﷲ) اس تک چڑھ جاتا ہے اور نیک کام اس کو چڑھاتا ہے“۔ (وحید الزمان)۔
(2    جن اقوام کیلئے صرف یہ دُنیا ہے اور وہ صرف اِس دُنیا کیلئے ہیں ان کو ___ایک خاص مدتِ مہلت کے دوران___ صرف یہاں کے مادی و طبعی قوانین کی ہی پابندی کرنا ہوتی ہے۔ البتہ ہم دُنیا اور آخرت دونوں کیلئے ہیں اور دونوں کے کسب کیلئے ہمیں نہ صرف یہی ایک موقعہ حاصل ہے بلکہ بطورِ قوم ہمارے حق میں یہ دونوں علیحدہ علیحدہ بھی ہرگز نہیں ہونے دیئے جاتے۔ بطور اُمت پس ہمارے پاس نہ یہ گنجائش ہے کہ ہم خدا کے مادی قوانین کے علم وتطبیق سے صرفِ نظر کریں جس طرح کہ ہمارے بعض 'مذہبی' طبقے کرتے ہیں اور نہ ہمارے لئے اس بات کی گنجائش ہے کہ ہم خدا کے شرعی قوانین سے صرفِ نظر کریں جیسا کہ ہمارے 'غیر مذہبی' طبقے کرتے ہیں۔ ہم صرف اُس وقت قابلِ رشک ہوتے ہیں جب ہم خدا کے طبعی و شرعی قوانین کو ایک ساتھ لے کر چلیں کیونکہ ایسا کرنا اور دُنیا کو خدائی منصوبے کی یہ خاص جہت دکھانا صرف ایک ہمارے ہی بس میں ہے کہ خدا کی طبعی وشرعی سنتیں ہمارے ہاں ایک دوسرے سے ہم آہنگ اور ایک دوسری کو مکمل کرتی نظر آئیں نہ کہ ایک دوسری سے الجھتی۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں نفسِ انسانی سینکڑوں ہزاروں سال سے دو 'متحارب' سمتوں میں کھینچ کھینچ کر دو لخت کی جاتی رہی ہے اور دین ِانبیاء اسے اس دردناک اذیت سے چھٹکارا دلانے آتا رہا ہے۔
    پس جب ہم خدا کی طبعی و شرعی سنتوں کے عین اس سنگم پر آجاتے ہیں، جبکہ خوش نصیبی کے اس نایاب ترین مقام کا سراغ اس دشت ناپیدا کنار کے اندر انبیاء کے چھوڑے ہوئے مستند 'نقشوں' سے ہی مل پاتا ہے بشرطیکہ اپنی اقوام میں انہیں پڑھنے کا سلیقہ پیدا کرلیا جائے۔۔۔۔۔۔ تو پھر ہم اِن اقوام پر برتری لے جاتے ہیں جو صرف طبعی قوانین کی پابند ہوتی ہیں۔ البتہ جب ہم ایسا نہیں کرتے تو پھر ہم اس مقام سے بھی محروم رہتے ہیں جو مادہ اور طبیعت کی پجاری اقوام کو ایک مادی اور عقلی جدوجہد کے نتیجے میں حاصل ہو اکرتا ہے۔
    اب وہ جدوجہد جو قومی سطح پر یہاں علمی، فکری اور سماجی میدانوں میں ہم نے کی وہ بڑی حد تک 'مادہ' و 'طبیعت' ہی کی کاشت تھی۔۔۔۔۔۔ اپنی زمین میں خیر سے یہ درخت اگتا ہی نہیں! کیونکہ یہاں پہلے سے ایک اصیل درخت پایا جاتا ہے جو اپنی اس ضرورت کو بھی بدرجہئ اتم پورا کرنے کیلئے رکھا گیا ہے اور اس سے پہلے ایک اور اہم تر ضرورت کو بھی۔۔۔۔۔۔ بے شک ہمارے دین گریز طبقوں کو ہمارا اس
كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاء  (24)تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا  (10) کے اندر اور صرف اسی کے اندر اپنی دُنیا وآخرت کی سب عافیت وترقی دیکھنا کتنا ہی ناپسند ہو۔
(3    پھر ہم نے ایک بڑی سطح پر توبہ وانابت کی فکر پیدا کرنے کی بات کی ہے۔ اس وجہ سے نہیں کہ معاذ اللہ ہم قوم کو مشرک مانتے ہیں اذَا قَالَ الرَّجُلُ ھَلَکَ النَّاسُ فَھُوَ اھْلُکُھُمْ ۔ (11) بلکہ یہ توبہ کی صدا اس لئے کہ شرک کی ان نئی و پرانی اور انفرادی واجتماعی اشکال کے مدمقابل اجتماعی سطح پر یہاں وہ فرض ادا نہیں ہو پایا جو کہ بطورِ قوم ہم سے مطلوب تھا۔
    ہمیں وہ سب کچھ کرنا ہے جو ہمیں معیتِ خداوندی سے محروم ہونے سے بچا رکھے۔ ہمارے معاملات دراصل یہاں سے بگڑتے ہیں اور ہماری تدبیریں الٹی ہونے کا اصل نقطہئ ابتدا یہ ہے۔ یہاں شرک یعنی عبادت غیر اللہ کی کچھ پرانی اشکال رائج ہیں جن کے خلاف ہمارا ردِعمل رفتہ رفتہ دم توڑتا گیا اور رفتہ رفتہ وہ ہمارے معاشروں میں ایک معمول کی چیز بننے لگا۔ یہاں تک کہ آخری صدیوں میں وہ ہمارے یہاں حیران وپریشان کر دینے والا واقعہ تک نہ جانا گیا۔ بلکہ الٹا اس پر ردعمل ظاہر کرنا ہمارے بہت سے طبقوں کے ہاں ایک 'حیران پریشان' کر دینے والا واقعہ بن کر رہ گیا! تب ہمارے معاملات بگڑنا شروع ہوئے اور ان کو سلجھانے کی ہماری سب تدبیریں ناکام ہو گئیں۔ یہاں تک کہ ہمیں اعدا کے ہاتھوں میں دے دیا گیا جہاں ہمارے ذہین اور محنتی اور فرض شناس افسر ہمارے منہ کا نوالہ چھین کر اعدا کے تعیش کا سامان کیا کریں۔ پھر اس نوبت کو پہنچنے کے بعد شرک کی نئی اشکال کو یہاں رواج دیا گیا جو پہلے ایک معاشرتی صورت دھار کر رہیں اور پھر ایک نظام کی۔ اور اب صورتحال یہ ہے کہ پرانا شرک اگر ایک انفرادی حیثیت میں ہوتا ہے تو یہ جدید شرک ہم پر اجتماعی طور پر مسلط ہے۔
    شرک کی ان سب جدید وقدیم صورتوں کے خلاف اگر ہماری بستیوں میں ایک ایسی آواز اٹھائی جانے لگتی ہے جو یہاں کا ایک معلوم اور محسوس اور توانا واقعہ بنے اور جو کہ یہاں معاشرتی رحجانات پر حاوی ہونے لگے اور جو کہ ایک بھرپور 'دھارے' کی صورت میں عقیدہئ اسلام کی ایک صحیح تصویر اپنے فکر اور عمل سے پیش کرنے لگے تو وہ کام ہو جاتا ہے جو ہمارے ان معاشروں کیلئے خدا کی مدد بحال کروا لائے۔
    ہماری بات کا مقصود یہ ہرگز نہیں کہ جب تک یہاں شرک یا باطل کا چلن کرنے والا ایک بھی شخص پایا جاتا ہے تب تک ہم خدا کی مدد کی بابت پُرامید نہیں ہو سکتے۔ جو مطلوب ہے وہ ہے ''عبادت غیر اللہ کی نفی اور اللہ کی یکتا وتنہا بندگی'' کی صدا کا یہاں فکری وتہذیبی جہتوں سے معاشرتی رحجانات پر غالب آجانا۔۔۔۔۔۔ جوکہ اس بات تک سے مشروط نہیں کہ اس صدا کو یہاں 'اکثریت' حاصل ہو۔ یہ ''سنجیدگی'' اور ''ہوشمندی'' کی پیدا کردہ ایک خاص معاشرتی کیفیت ہوگی جو بہت تھوڑے مگر بے حد پرعزم اور زیرک اور ''اثر انداز ہونے کی صلاحیت سے لیس انسانوں'' کے ہاتھوں پیدا ہو سکتی ہے جبکہ یہ دو وصف مطلوبہ حد تک نہ پائے جائیں تو ایک خلقِ کثیر بھی اس کیلئے ناکافی پڑ سکتی ہے۔
    ابتدائے مدینہ کے ایام کو دیکھیں تو اہلِ ایمان وہاں بھی ابھی مٹھی بھر تھے مگر وہ اپنی اثر پزیری سے معاشرتی رجحانات پر غالب آچکے تھے اور اپنی صلاحیتوں اور اپنے اثر ورسوخ اور جرات وفاعلیت اور شدتِ اقدام کو بروئے کار لاکر معاشرے کی 'ڈرائیونگ سیٹ' پر آچکے تھے۔
    چنانچہ جو 'مطلوب' ہے وہ اُس سے بہت کم ہے جو عام طور پر ایک 'طویل المیعاد عمل' سے لوگوں کے ذہنوں میں آنے لگتا ہے۔ (اس بات کی تفصیل کتاب کے جزوِ سوئم کا موضوع ہے)
    تنہا یہی بات یہاں کے دردمندوں اور باصلاحیت طبقوں کیلئے نوید کا درجہ رکھتی ہے۔ گو اِس سے بڑی نوید یہ ہے کہ اس سمت میں قدم اٹھا لینے سے ہی، پھر چاہے اس راہ میں آپ جہاں تک بھی پہنچ پائیں، وہ ''فرض'' پورا ہو جاتا ہے جو دُنیا اور آخرت میں سرخروئی کا اصل عنوان ہے۔
    بنی اسرائیل میں ___جب وہ اپنے وقت کے مسلمان اُمت تھے___ کچھ لوگ بچھڑے کو پوج بیٹھے تو اِس پر شدید ترین ردِعمل سامنے لایا گیا، خصوصاً وہ تو اس لئے بھی کہ نبی کے جیتے جی یہ کام ہوا تھا۔ بہرحال اِس بت کو نذر آتش اور پھر دریا برد کیا گیا اور اس شرک کے علمبردار کو معاشرہ میں اچھوت بنا کر رکھ دیا گیا۔
    
قَالَ فَاذْهَبْ فَإِنَّ لَكَ فِي الْحَيَاةِ أَن تَقُولَ لَا مِسَاسَ وَإِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهُ وَانظُرْ إِلَى إِلَهِكَ الَّذِي ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِفًا لَّنُحَرِّقَنَّهُ ثُمَّ لَنَنسِفَنَّهُ فِي الْيَمِّ نَسْفًا(97) إِنَّمَا إِلَهُكُمُ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَسِعَ كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا (98)۔  طہ ”کہا پس جا، پس تحقیق واسطے تیرے ہے بیچ زندگانی کے یہ کہ کہا کرے تو نہیں ہاتھ لگانا اور واسطے تیرے ایک جگہ ہے وعدے کی ہرگز نہ پیچھے چھوڑا جاویگا اس سے۔ اور دیکھ طرف معبود اپنے کی وہ جو ہو گیا تھا تو اوپر اس کے معتکف / ابھی جلا دیں گے ہم اس کو پھر اڑا دیں گے ہم اس کے بیچ دریا کے اڑا دینا کر۔ سوائے اس کے نہیں معبود تمہارا اللہ ہے وہ جو نہیں کوئی معبود مگر وہ“۔ (شاہ رفیع الدین)
    اس صدا کو کہ یہاں عقیدہ و نظام وتہذیب کے اندر پائے جانے والے شرک کی ہر صورت دریا برد کر دی جائے اور شرک پر مصر رہنے والے خصوصاً اس شرک کے علمبردار طبقے معاشرے کے اندر مبغوض و بے اثر بنا کر رکھ دیئے جائیں۔۔۔۔۔۔ اس کو معاشرے کی معروف ترین صدا بنایا جانا البتہ لازم ہے۔ اس عمل کو معاشرتی رحجانات پر حاوی کر رکھنا ضرور وہ فرض ہے جس میں ___ بطورِ قوم___ ہم ناکام اور کوتاہ رہے بلکہ تو شاید اس سے غافل، اور بلکہ تو شاید نابلد۔۔۔۔۔۔ اور قصور وار تو بہرحال۔
    ''توبہ وانابت'' کی فضا پیدا کی جانے کی ضرورت یہاں دراصل اس پہلو سے بیان ہوئی ہے۔
    بھائیو! ''خدا کی جانب لوٹنا'' ہماری ہر پہلو سے ضرورت ہے۔ 'پٹڑی' پر چڑھ آنا 'تشکیلِ قافلہ'' کے مضامین میں اہم ترین مضمون ہونا چاہئے۔ یہیں سے ہم اپنی اس راہ کی جانب لوٹ آنے میں کامیاب ہوں گے جو کچھ صدیوں سے ہماری قوم کے جوش وخروش اور ہمارے جذبہئ عمل کا نظارہ کرنے کی دراصل منتظر ہے:
    آیِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبَّنَا حَامِدُوْنَ۔ (12)

1. پچھلا اداریہ

2. ”تَدَافع“ سے مراد ہے خیر اور شر کا ایک دوسرے کو دفع وزائل کرنے کیلئے برسر عمل ہونا

3.(سورۃ المائدہ: 66) ”اور اگر وہ قائم رکھتے توریت کو اور انجیل کو اور جو کچھ اتارا گیا ہے طرف ان کی پروردگار ان کے سے البتہ کھانے اوپر اپنے سے اور نیچے پاؤں اپنے کے سے“۔ (ترجمہ شاہ رفیع الدین)

4. (المائدہ: 8) ”قائم ہو رہنے والے اللہ کی خاطر، گواہ رہنے والے ساتھ انصاف کے“۔

5. ان اصطلاحات کی ترویج سے مقصود ’افراد‘ کے معاملہ میں ’فتوی بازی‘ نہیں۔ تفصیل کیلئے دیکھئے حصہ اول کی دو فصول: ’توحید اور فرقہ واریت‘ اور ’تاثرات کی مار‘۔

6. ملاحظہ فرمائیے حصہ اول کی فصل:تاثرات کی مار

7. ملاحظہ فرمائیے حصہ اول فصل: ’شرک سے بیر اور باطل سے تعرض کیا رواداری کے خلاف ہے؟‘ علاوہ ازیں ’رواداری اور خود داری‘

8. سنن ابی داؤد رقم 4426 کتاب الادب باب ما یقول اذا اصبح، مسند احمد: 19535 عن ابی بکرہ نفیع بن الحارث۔ البانی نے اسے صحیح کہا ہے دیکھئے صحیح ابی داؤد رقم 4246

9.  کچھ تھوڑی سی سائنسی وتکنیکی ترقی، جو کچھ بہت لمبے چکر کاٹ لینے کے بعد ہمیں حاصل ہوئی ہے، اور جس کا حاصل ہو جانا ویسے ہمارے لئے حد درجہ باعث مسرت ہے۔ یہ اول تو کوئی ایسی چیز نہیں جو دین دے کر ہی آتی۔ بدیشی تشخص کے ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی کا ربط بنانا جہالتِ محض ہے۔ پھر مزید یہ کہ اگر کچھ ترقی اب جا کر ’ہم‘ نے کرلی ہے اور اب ہم ’ڈیڑھ صدی پہلے‘ والی پوزیشن پر نہیں تو ’وہ‘ بھی وہاں نہیں جہاں ’ڈیڑھ صدی پہلے‘ تھے! ترقی یافتہ ملکوں سے اس دوڑ میں اب بھی ہمارا فاصلہ کچھ اتنا کم نہیں، پھر جیسا کہ ہم نے کہا، ایسی کسی پیشرفت کا ’دیں ہاتھ سے دینے  کے ساتھ تعلق ہی کیا؟

10. بات پاکیزہ کی مانند درخت پاکیزہ کی۔ جڑ اس کی محکم ہے اور ڈالیاں اس کی بیچ آسمان کے۔ دیتا ہے میوہ اپنا ہر وقت ساتھ حکم پروردگار اپنے کے“۔ (رفیع الدین)

11. ”آدمی جب یہ کہے ”لوگ“ تباہی میں جا پڑے تو وہ خود سب سے زیادہ تباہی میں جا پڑنے والا ہوا“ صحیح مسلم: 4755 کتاب البر والصلہ والآداب باب النہی عن قول ہلک الناس

12.(ہم پلٹ آنے والے، ہم تائب ہو رہنے والے، ہم عبادت کرنے والے، ہم اپنے رب کی تعریفیں کرنے والے“.... ”گھر لوٹنے“ کی دُعا کا ایک حصہ جو بخاری میں مروی ہوا رقم۔ 5717 کتاب الادب باب قول الرجل جعلنی اﷲ فداک