سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فھرست مضامین ایقاظ جولائی 2007

وقائع

Download in PDF format

کیا واقعتا کچھ نہ کیا جاسکتا تھا؟
 

حامد کمال الدین


    لال مسجد کے مسئلہ پر چپ رہنا کس کے بس کی بات ہے؟۔۔۔۔۔۔
    کیا ہم اس مسئلہ پر اُس وقت بات کررہے ہیں جب یہ ختم ہو چکا ہے یا پھر ایک مسئلہ ابھی شروع ہوا ہے؟ ہمارے خیال میں یہ ایک نیا سلسلہ ہوگا جو ہمارے اسلامی برصغیر کی الجھنوں میں کچھ اور اضافہ کر جائے گا، البتہ اس کا تفصیلی ذکر ہم کسی اور وقت ہی کرپائیں گے۔ الجھنوں کو ختم کرنے کے معاملے میں اپنی اہلیت ہمیں پہلے سے معلوم ہے۔ بحرانوں سے نکلنے کا راستہ بنا لینا قیادتوں کا ایک کٹھن امتحان ہوا کرتا ہے بلکہ بحرانوں سے نکلنے کا راستہ بنا پانا دراصل اِس سوال کا جواب ہو اکرتا ہے آیا یہاں سرے سے قیادتیں پائی بھی جاتی ہیں یا نہیں؟
     تو اِس وقت ہمیں اپنے اِس سوال کا کیا جواب ملتا ہے، خدا کرے آنے والے دن ہمارے لئے اچھے جواب لے کر آئیں۔
    سوال تو یہ بھی ہے کہ یہ بحران سرے سے پایا ہی کیونکر گیا؟ بحران سے نکلنا اگر ایک سوال ہے تو بحران کو پیدا ہونے کیلئے چھوڑ دیا گیا ہونااس سے پہلے ایک جواب چاہتا ہے۔
    ہو سکتا ہے اپنے اِس مضمون میں کئی مقامات پر ہم بہت صریح ہو جائیں، جوکہ ماضی میں بہت کم ہوا ہے۔ بخدا شہیدوں کے لہو کا ہم اپنے آپ پر یہ کم از کم حق جانتے ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم ابھی اور کتنا لہو ہے جو پیشگی ہم سے اپنے سب حقوق مانگ رہا ہے۔ اب بھی ہم صراحت اختیار نہ کریں گے تو پھر کب کریں گے؟
    اِ س موضوع پر ہمیں کئی پہلوؤں سے نگاہ ڈالنی ہے۔۔۔۔۔۔

**************

    اِس اتنے بڑے سانحے پراظہار افسوس ہم سمیت یہاں کا ہر شخص کررہا ہے۔ ہر مسلمان کا کلیجہ زخمی ہے اور وہ سفاک قاتلوں کیلئے اللہ تعالی کی عدالت لگنے کا منتظر ہے، جس کا کہ ایک وقت طے ہے۔ دنیا کی عدالتیں کبھی منصفی کرنے بھی لگ جائیں خدائی عدالت پھر باقی ہے۔ مگر خدا کی کچہری کیلئے خاص طور پر لوگ اُس وقت بے صبر و بے چین ہوتے ہیں جب دنیا میں اِنصاف کی صورت ناپید ہو۔ آدمی تصور کرکے ہی کانپ جاتا ہے ایک ایسی عدالت کا جو زمین کی سب عدالتوں کے دروازے بند ہو جانے کے بعد برپا ہوگی اور مظلوم کے ہر جانب سے مایوس ہو جانے کے بعد منعقد ہوگی۔۔۔۔۔۔ جہاں ظالموں کی چرب زبانوں کو تالے لگا دیے جائیں گے اور اُن کے کرتوت خود بول کر دکھائیں گے اور جہاں انکے خون آلود ہاتھوں کو ہی زبان دے دی جائے گی اور مظلوم کے بدن کے چیتھڑے خود اپنی روداد کہیں گے، اور جہاں مخلوق کا مالک یوم الدین کے ساتھ پہلی بار آمنا سامنا ہوگا اور خدا کا خدا ہونا مومن اور بے ایمان سب دیکھیں گے۔۔۔۔۔۔ ذلک یوم مشہود۔ وہ دن بھی دیکھنے کا ہوگا۔
    آج انصاف کے سب چیمپین خون کی اِس ہولی کو انسانیت کی فتح قرار دے رہے ہیں اور سفاک قاتلوں کو شاباش کے قابل۔ جس کا مطلب ہے کہ ایسے واقعات کی اِن قاتلوں کے ہاں ابھی اور بڑی گنجائش ہے اور کیا معلوم طلب بھی ہو۔ خون کے سودے کر کر کے ہمارے طاغوت اپنے تئیں قوم کا پیٹ پال رہے ہیں۔ یہ نہ ہو تو اِن کے خیال میں قوم بھوکی مر جائے اور بھری دنیا میں اِس کا کوئی پرسانِ حال نہ ہو۔ بلکہ یہ نہ کریں تو اِن کو دھمکی دی گئی تھی ___ جس پر کہ اِن کا خدا کی وعید سے بڑھ کر ایمان ہے ___ کہ اِنہیں پتھر کے دور میں واپس بھیج دیا جائے گا جو کہ اِن کو جہنم سے بڑھ کر ڈراتا ہے پس لازم ہے کہ دجالوں کی پیش کردہ روٹی اور جنت پر ہی ایمان رکھا جائے اور اُن کی وعیدوں سے ہی ڈر کر رہا جائے۔ خدا کا وعدہ و وعید صرف ٹی وی اور ریڈیو پر خوش الحان تلاوت کے لئے ہے اور اخباروں میں 'فرمانِ الہی' کے خوبصورتی سے جڑے گئے چوکٹوں کیلئے!
    بلاشبہہ لال مسجد میں جن بچوں عورتوں اور مردوں کا خون بہا وہ مظلوم مارے گئے ۔ اِن کا مظلوم ہونا شاید اُس سے کہیں بڑھ کر ہے جس کی ہر شخص اِس وقت گواہی دے رہا ہے اور جس سے انکار کے یہاں کے لادین بھی متحمل نہیں۔۔۔۔۔۔
     یہ کہ اِ س معاملے کو اِس سے کہیں بڑھ کر دانشمندی کے ساتھ سنبھالا جاسکتا تھا ___ یہ کہ اِس معاملے میں بہت سے اطراف کو شریکِ حل کیا جاسکتا تھا___ یہ کہ اِس مسئلہ کو کچھ دیر مزید وقت دیا جاسکتا تھا کہ آخر محصورینِ لال مسجد کوئی سالوں کی خوراک اور اسلحہ کا ذخیرہ کرکے نہ بیٹھے تھے جبکہ چنگیز اور ہلاکو ایسے 'فاتحین' تک قلعوں کے محاصروں پہ مہینوں کے مہینے صبر کر لیتے تھے اور یہاں بھی 'سائلنس' کی ایسی فوری جلدی کی جانے کی کوئی خاص وجہ نہ تھی۔۔۔۔۔۔ یہ کہ علما کو معاملے میں ایک بار ڈال لینے کے بعد پھر بے عزت کرکے ہٹایا گیااور ان سے قول وقرار کرلینے کے بعد پھر اُس سے پھِرا گیابلکہ اُن سے چند منٹوں کے اندر من پسند حل نکال لانے کے کرتب دکھانے کے مطالبے ہوئے۔۔۔۔۔۔ یہ کہ اِ س قتل و خونریزی پر پوری دنیا کو گمراہ کیا گیا اور جھوٹ کے پلندے سامنے لائے گئے۔۔۔۔۔۔ یہ کہ سب کے سب مقتولین کو موت کی نیند سلا دیے جانے کے بعد قبریں تک نصیب نہ ہوئیں جو کہ مرنے والے انسان کا 'زندوں' پر کم از کم حق ہے، ادھر کئی ہفتے تک عمارتوں کے اندر سے جگہ جگہ انسانی اعضا ملتے رہے جبکہ بڑے ہی خوش قسمت وہ رہے ہوں گے جن کو سرکار کی مہربانی سے کم از کم اجتماعی قبریں الاٹ ہو گئیں۔۔۔۔۔۔ یہ کہ محصورین کے بار بار بتانے کے باوجود کہ وہ اپنے پاس صرف درجن سے کچھ زائد کلاشنکوفیں رکھتے ہیں اسلحے کے حیرت انگیز ڈھیر 'برآمد ' کرلئے گئے جن کو استعمال کرنے کی حسرت دل کی دل میں ہی لے کر محصور مقتولین دنیا سے گئے ہوں گے اور جو کہ انہوں نے صرف اسی لئے رکھے ہوں گے کہ پسِ مرگ ان کی تصویریں عالمی میڈیا کے اندر دی جاتی رہیں!۔۔۔۔۔۔ یہ کہ اِس تمام واقعے کے دوران اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے کے خوب خوب مواقع حاصل کئے گئے اور اسلامی مظاہر کے حامل طبقوں کو بھیانک اور نا پسندیدہ بنا کر پیش کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا گیا۔۔۔۔۔۔ یہ کہ اِس 'فتح' پر ہر طرف سے داد پانے کی خوب خوب کوشش کی گئی اور مسجدوں اور مدرسوں کو اب اپنی خیر منانے کے بے شمار انداز میں پیغام نشر کرائے گئے بلکہ کرائے جارہے ہیں۔۔۔۔۔۔
    لال مسجد میں جن بچوں عورتوں اور مردوں کا خون بہا اُن کا مظلوم ہونا مگر شاید اِن سب باتوں سے کہیں بڑھ کر ہے۔۔۔۔۔۔
    سوال تو یہ ہے کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے لوگوں کو اس صورتِ حال کی جانب دھکیلا کیسے گیا؟ امر بالمعروف کی بات کرنے والوں کو توپوں کے نشانے پر لایا کس طرح گیا؟ قرآن پڑھنے پڑھانے والوں کو فوجوں کے اِس گھیرے میں گھیر کیسے لیا گیا؟ کچھ نیک جذبات رکھنے والوں کو جذبے کی یہ قیمت جلد از جلد دے دینے پر اُکسایا کس کس طرح گیا؟ میڈیا نے کیونکر ایندھن پہ ایندھن انڈیلا؟ زندگی اور موت ایسے چیلنج کی کیفیت دنوں میں اس چابکدستی کے ساتھ کیونکر پیدا کر لی گئی؟ تماشے کا یہ سٹیج کس تجسس آمیز انداز میں بنایا گیا اور اِس پر 'اشتہار' کس طرح لئے گئے؟
    کیا کبھی یہ پول کھلیں گے کہ اندر گھیرے جانے والوں کو کیا کیا یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں؟ کن کن فریب کن تاثرات کے تحت شروع سے رکھا گیا تھا؟ معاملے کی زیادہ سے زیادہ سنگینی اُن کے خیال میں کیا ہو سکتی تھی؟ کیا واقعتاً وہ جانتے تھے کہ ایسی بعض عوامی سرگرمیوں کے نتیجے میں، جن سے ہزاروں گنا سنگین سرگرمیاں کراچی میں حکومتی اعتماد یافتہ جیالوں کا معمول رہی ہیں اور ان کو اس پر کبھی بھی کچھ نہیں کہا گیا سوائے وقتاً فوقتاً سیاسی اتحاد اور سیٹوں پر مفاہمت کرنے کے،۔۔۔۔۔۔ ایسی چند ناقابلِ ذکر سرگرمیوں پر جو 'جاگیرداروں کے پاکستان' میں کچھ بہت خلافِ معمول نہیں، دینی طالبعلموں پر توپوں کے دھانے کھول دیے جائیں گے اور 'یا علی مدد' کہتے ہوئے کمانڈو اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا تمام تر مظاہرہ بس یہیں پر کر گزریں گے؟ یا پھر یہ ڈراپ سین یکایک ہوا اور ایک بے خبر دینی گروہ نے یکدم اپنے آپ کو اِس صورتِ حال کے اندر پایا جس سے بھاگ جانا پھر اس نے اپنے دین اور ایمان کے شایانِ شان نہ سمجھا جبکہ میڈیا کے چوکس وفرض شناس کیمرے اسی مقصد کیلئے مرکوز کرا رکھے گئے تھے کہ معاملے کی گرمجوشی کہیں سرد نہ پڑ جائے یوں بنا بنایا سٹیج کہیں اپنی ساری دلچسپی نہ کھو دے ؟ معاملے میں بڑی مشکل سے پیدا کرلیے گئے تناؤ کے کسی 'رفع دفع' کی نذر ہو جانے کی کوئی گنجائش ہی نہ چھوڑی گئی تھی، جب بھی اِس کی کوئی صورت پیدا ہوتی نظر آئی معاملے میں ایک او ر ڈرامائی موڑ لے آیا گیا۔ گویا یہ طے تھا کہ مسئلے کا طبعی انجام وہی ہے جو کہ بالآخر ہوا۔
    اسدٌ علیَّ وفی الحروب نعامۃٌ 'مجھ پر شیرہوتے ہو او ر باہر لڑائیوں میںشتر مرغ'!!! [حاشیہ:بھاگ اٹھنے میں عربی ادب کے اندرشتر مرغ کی تیر رفتاری ضربِ مثال ہے، جو کہ بھاگنے کے دوران ٹانگوں اور پروں سے بیک وقت کام لیتاہے]بہادری کی یہ سب دھاک گھر والوں پر ہی بٹھائی جاسکتی ہے۔ 'باہر' تو لوگ بڑے بے لحاظ ہوتے ہیںاور پھر' امن پسندی' اور 'افہام وتفہیم سے مسائل حل کرنے' کا عالمی سلوگن اٹھانے کی ضرورت الگ رہتی ہے!!! کارگل سے لے کر افغان پالیسی تک 'جی سر' کے سوا کیا چارہ ہے۔اب مستوراتِ جامعہ حفصہ پر بھی 'فتح' نہ پائی جائے توپھر اور کونسا محاذ ہے جہاں فاتحانہ شان رکھ کر دکھائی جائے!!؟ مردانگی کا آخر کبھی تو مظاہرہ ہو، ورنہ کمزور سمجھ کر تو لوگ سر پر ہی سوار ہو جاتے ہیں!!!

***********

    بہت بار کی طرح یہ ایک اور موقعہ تھا جس نے ثابت کردیا کہ ہماری اسلامی قیادتیںاُس نقطے سے بہت پیچھے ہیںجہاں یہ بحرانوں پہ قابو پانے کی اپنی صلاحیت ثابت کرسکیں۔ قوم کو بحرانوں سے نکالنا تو خیر ایک بڑا کام ہے یہ تو دینی طبقوں کی اپنی ہی دنیا کا ایک مسئلہ تھا۔ آپ خود ہی بحرانوں سے نہیں نکل سکتے تو قوم آپ سے کیا امید رکھے؟ کیا دینی طبقوں کے اندر کہیں کوئی بڑے نہیں؟ اگر ہیں تو انہوں نے کِیا کیا؟ اپنے بڑے ہونے کا کیا ثبوت دیا؟ ایک بار پھر ہم یہاں اپنی اِس صراحت پر معذرت خواہ ہیںمگر خاموش رہیں تو یہ سوال پھر کِس سے کئے جائیں؟کیا اِس مسئلہ میں پڑنے اور بیانات دینے یا مصالحت کیلئے آگے بڑھنے کا مناسب ترین وقت وہی تھا جب لال مسجد پر بارود کی گولہ باری شروع ہوئے کوئی ایک تہائی ماہ گزر چکا تھا اور جب فوجی قیادتوں کی طرف سے الٹی میٹم کو 'منٹوں' میں کردیا گیا تھا؟
    سوال تو یہ ہے صورتِ حال کو ابتدا سے اس جانب رخ ہی کیوں کرنے دیا گیا؟ بیچ پڑنے والے پہلے ہی بیچ کیوں نہ پڑ گئے؟
     جگہ جگہ سنتے ہیں 'لال مسجد والوں کا مقصد نیک تھا مگر طریقہ کار غلط تھا'!ہمیں یہ بات اہلِ علم سے سننے کو ملتی ہے۔ اہلِ دانش سے یہی گردان نشر ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے یہ جملہ کیا اخباری بیانات کیلئے ہے؟ 'اپنا موقف ریکارڈ پر لے آنا'۔۔۔۔۔۔ کیا واقعتاً قوم کے بڑوں کا صرف اتنا ہی فرض ہے؟

************

    اصحابِ فضیلت کے علاوہ بھی۔۔۔۔۔۔ ہمارے وہ دینی طبقے اور دھڑے جو لال مسجد والوں کے 'مقصد کو درست مگر طریقِ کار کو غلط' سمجھتے ہیں وہ برائیوں کے خاتمے کے اِس سوال پر اپنا درست طریقِ کار سامنے کیوں نہ لائے؟ ایسی برائیاںآخر کس شہر اور کس علاقے میں نہیں پائی جاتیں؟ کہیں پر ان برائیوں کو ختم کرنے کے درست طریقے کا بھی تو مظاہرہ کیا گیا ہوتا! چند طبقوں کو چھوڑ کر جن کا منہج ایسے سب فرائض کو بعد از انقلاب مرحلہ کیلئے ہی موخر رکھتا ہے (جوکہ اپنے اختیار کردہ منہج پر چلنے کے بہر حال مجاز ہیں، گو ہم اُن کے اِس منہج سے اختلاف رکھتے ہیں) اور ان طبقوں کو چھوڑ کر جن کیلئے بیرونِ ملک جہادی عمل میں سرگرم ہونے کے باعث اندرونِ ملک برائیوں کے آڑے آنے میں ایک حد سے آگے جانا درست نہیں کیونکہ بہت سے ظالم یہاں بہت بری طرح اُن کی گھات میں بیٹھے ہیں اور اُن کا یہاں سے اپنا پہلو بچا کر گزر جانا ہی ایک مناسب حکمتِ عملی ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔۔ ان چند طبقوں کو چھوڑ کر باقی سب کے سب دینی طبقے اور ان کی قیادتیں آخر کیا عذر رکھتی ہیں کہ ان برائیوں کو اپنے سامنے ہوتا دیکھ کر لال مسجد کے طریقِ کار کو صرف 'غلط' ہی کہیں مگر اپنا 'درست' طریقِ کار کبھی سامنے نہ لائیں؟ یا پھر 'درست طریقِ کار' سے ان کی مراد وہی ہے جو یہاں کے کچھ طاغوتی طبقوں کی جانب سے پہلے ہی تجویز کردی گئی ہے، یعنی غلاظت کی جگہوں سے گزرتے وقت آنکھیں نیچی اور ناک بند کرلیا کریں! یہ بات ہے تو پھر لال مسجد والوں کا صرف 'طریقِ کار' غلط نہیں 'مقصد' بھی باطل قرار پائے گا اور خدا کے فضل سے ہمارے یہاں ایسے نکتہ وروں کی اب کمی نہیں جو جہاد سے لے کر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر تک دین کے ہر مسلمہ پر ہاتھ صاف کر چکے ہیں اور ایسے سب فرائض کے اب تا قیامت ساقط ہو جانے پر اچھے خاصے علمی دلائل دے سکتے ہیں!

************

    برائیوں کے خاتمہ کے سوال کو چلئے جانے بھی دیں۔۔۔۔۔۔ کیا واقعتا صورتِ حال ایسی ہے کہ اس طرح کے روح فرسا واقعات کو اپنے سامنے ہوتا صرف بے بسی سے دیکھا ہی جائے؟ آخر کتنے مسئلے ایسے ہیں جن پرکچھ نہ کچھ آپ بہر حال کرتے ہیں؟ کتنے ہی مرنے والے ایسے ہیں جن کو گھر والوں کی کوئی تدبیر نہ بچا سکی مگر جان بچانے کیلئے جو جو جتن کئے جا سکتے تھے وہ بہر حال کئے گئے اور 'جو بس میں ہے' وہ کرچکے ہونے کا احساس رکھنے کی آسودگی ہی میت کو دفناتے وقت اہلِ خانہ کیلئے بہترین تعزیت کا درجہ رکھتی ہے؟
    اِس صراحت پر ہم تیسری بار معذرت خواہ ہیں، مگر کیا یہ ضروری تھا کہ عین ان دنوں میں سیاسی پارٹیوں کا الائنس بنانے کا مسئلہ ہی ہماری بھاگ دوڑ کا اصل مصرف رہتا؟ کیا اس وقت دینی قوتوں کا ایک گرینڈ الائنس کہیں ضروری نہ تھا؟ کتنے مسئلے ہیں جن پر ہم حکمران طبقوں کے ساتھ، خواہ وہ باوردی فوجی کیوں نہ ہوں، مذاکرات کی میز پر بیٹھ جانے میں مضایقہ نہیں پاتے؟ کتنے مسئلے ایسے ہیںجن کو منوانے کیلئے ہم لابنگ کرتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ اتحادی پیدا کرتے ہیں؟ کتنے ہی مسئلے ایسے ہیں جن پر ہم حکمران طبقوں پر دباؤ کے بے شمار اندرونی و بیرونی ذرائع استعمال کرتے ہیں؟
    کیا واقعتا لال مسجد کی چند شخصیات کو سیف پیسیج دلوانے کے مسئلہ پر کچھ نہیں کیا جا سکتا تھا اور تمام دینی قوتوں کا مل کر بیچ میں پڑنااور کچھ شخصی ضمانتیں دینا اور دلوانا اور اندرونی و بیرونی سطح پر لابنگ کی تمام تر کوششیں کر گزرنا معاملہ میں ہرگز ہرگز کوئی فرق نہ لا سکتا تھا؟ یا کم از کم دینی قوتوں کا امیج تک بہترنہ بنا سکتا تھا کہ دینی قوتیں کس قدر ایک دوسرے کیلئے مرتی ہیں اور اختلافِ کار کے باوجود اِن میں کس قدر اتفاق و اتحاد ہے اور یہ کہ اپنے وجود اور بقا کے سوال پر اِن کے اندر ہرگز دو رائے نہیں پائی جاتیں اور اِن کے ہوتے ہوئے بھیڑیے کیلئے ہرگز یہ آسان نہیں کہ کسی ایک بھیڑ کو الگ کرکے اچک لے اور سب کو باری باری کھانے کے منصوبے بنائے؟
    حضرات! دینی قوتوں کے اتحاد و یکجہتی کا اس بڑھ کر کونسا موقعہ تھا؟ اور کیا اسلامی اخوت و شیرازہ بندی وقتا فوقتا اسٹیج پر ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر تصویریں اتروانے یا اخبارات میں بیان دینے کی چیز ہے؟ کیا اِس کے جوش میں آنے کا بہترین وقت وہ نہ تھا جب دین پڑھنے اور پڑھانے والے دو ہزار کے لگ بھگ نفوس بھرے شہر میں نصف ماہ تک زندگی موت کی کشمکش سے گزر رہے تھے۔۔۔۔۔۔ زندگی موت کی کشمکش جو ایک لمحے کیلئے ہو تو جان لیوا ہوتی ہے؟

************

    در حقیقت 'لال مسجد' دینی طبقوں کے اتحاد و یگانگت کو آزمانے کیلئے ایک ٹیسٹ کیس تھا۔ آپ دیکھیں گے اب کئی ایسے بحران ایک ایک کر کے سامنے آئیں گے اورظلم کی اندرونی وبیرونی طاقتیںایسے ہر بحران کا منصوبہ بناتے وقت جس فیکٹر کو سب سے زیادہ مدِ نظر رکھیں گی وہ بحرانوں کے اندر دینی قوتوں کی قوتِ فیصلہ ہے اور دانشمندانہ اقدام کرنے کی صلاحیت اور ان کی باہمی یگانگت و شیرازہ بندی۔ یہ ٹیسٹ جس میں اِس بار ہم کامیاب نظر نہیں آسکے ہو سکتا ہے آنے والے دنوں میں ظالموں کو اِس سے بڑے اور اس سے زیادہ گھناؤنے منصوبے بنانے کیلئے حوصلہ و امید دلائے۔بلکہ خود کش بم دھماکوں کی ایک نئی سیریز کی صورت میں، جس کو بعض جذباتی دینی نوجوانوں کا جنونی ردِ عمل باور کرایا جارہا ہے اور جس کے قالب میں چینی انجینئروں کے خلاف کارروائیاں تک چسپاں کروائی جارہی ہیں، ہو سکتا ہے اِس عمل کا آغاز کر بھی دیا گیا ہو اور آنے والے دنوں میں ہمیں دیکھنے کو اور بہت کچھ ملے۔
    'اسلام' کا ہوّا بہت سی عالمی و علاقائی و مقامی قوتوں کو اِس وقت بری طرح پریشان کررہا ہے۔ ہر ایک اپنی اپنی مار پر ہے مگر سب کے سب اسلامی قوتوں کو اپنا ہدف مانتے ہیں۔ اس وقت ایسا ایسا ابہام پیدا کیا جائے گا جو اسلامی قوتوں کو گردن زدنی اور اسلامی معاشرے کے وجود میں آنے کو ایک ڈراؤنا خواب بنا کر دکھائے۔ کسی اسلامی عنصر کو ایک انداز سے مارا جائے گا اور کسی دوسرے کو کسی دوسرے انداز سے اور کسی دوسرے موقعہ پر۔ کیا ایک دوسرے کے 'طریقِ کار' سے اختلاف کر لینا اِس موقعہ پر ہمارے لئے کافی ہے؟ ایک دوسرے کے طریقِ کار سے اختلاف تو ہمیں ظاہر ہے رہے گا ہی اور جس میں کہ حرج کی کوئی بات نہیں۔ تو کیا اب جب کسی دوسری جماعت پر ہاتھ پڑے گا تو ہم اُس کے طریقِ کار کے ساتھ اپنے اختلاف پر مبنی نکتے بیان کرنے لگ جائیں گے بلکہ اپنے اپنے منہج کی حقانیت بیان کرنے کیلئے بھی وہی موقعہ مناسب پائیں گے کہ 'دیکھا ہم نہ کہتے تھے فلاں کا منہج درست نہیں'!
    ہمارا یہ مقصد نہیں کہ جس عمل سے آپ متفق نہیں اتحاد و یگانگت کے نام پر لازماً آپ اُس کا حصہ بنیں۔ اُس عمل سے الگ تھلگ رہتے ہوئے بھی آپ دراصل ایک دوسرے کیلئے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ بہت سے نقصانات کو کم کرسکتے ہیں۔ بہت سی آفتوں کے آڑے آ سکتے ہیں۔ بہت سے مشترک اہداف کے معاملے میں مشترکہ حکمت عملی اپنا سکتے ہیں۔ کوئی کسی چیز کو اہم سمجھتا ہے تو بھی اُس سے اہم تر کی جانب اسے توجہ کرائی جاسکتی ہے۔ کوئی کسی کو اپنا بڑا یا اپنے اکابر سمجھتا ہے تو اُن بڑوں کو معاملے میں ڈال کر بہت سی چیزوں کو مقدم اور موخر کرایا جا سکتا ہے۔ بہت سے معاملات کو رفع دفع کرایا جا سکتا ہے۔ کچھ ایسے امور پر، جو نہایت دور رس مضمرات کے حامل ہو سکتے ہیں اور جو اسلامی قوتوں کے اجتماعی مستقبل سے متعلقہ ہو سکتے ہیں ، اتفاقِ رائے پیدا کرانے کیلئے بے شمار راہیں اور بے شمار چینل اختیار کئے جا سکتے ہیں۔ ضرورت اِس بات کی ہے کہ 'تنظیمی' یا 'جماعتی' کی بجائے ایک 'اجتماعی' فکر پیدا کی جائے۔ لال مسجد کے واقعہ سے دینی قوتوں کے اندر ایک ایسی اجتماعی تحریک کی ضرورت محسوس کی جانے لگے تو ہم کہیں گے یہ افسوسناک واقعہ مستقبل کیلئے اپنی کچھ قیمت دے گیا ہے۔
    اہلسنت قوتوں کا ایک مشترکہ محاذ وقت کی ایک بہت بڑی ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔ ایک ایسا محاذ جو آج تک بنائے جانے والے سیاسی نوعیت کے محاذوں سے یکسر مختلف ہو اور جس کے اندر کسی ایک جماعت کا اپنا ایجنڈا نہ ہو، جس طرح کہ آج تک قریب قریب ہر جماعت کی کوشش ہوتی آئی ہے کہ کسی اتحاد کے ثمرات کو بلکہ اتحاد کے پورے مومینٹم کو وہ اکیلی ہی کسی صورت لے اڑے اور جس کے باعث ایسا ہر اتحاد بے برکت رہا ہے۔۔۔۔۔۔ ایک ایسا محاذ جو کسی سیاسی ہدف کے حصول کیلئے نہ ہو اور جو، اپنی اجتماعی حیثیت میں، صرف اور صرف یہاں ان مشترک اہداف پر مرکوز رہے جو مسلم وجود سے متعلق ہیں یا پھر مسلم مفادات کے ساتھ اور جس کے حصول کا وہی طریقہ اپنایا جائے جس کی اجازت محاذ میں شریک سبھی جماعتوں کا منہج اور طریقِ کار دے سکے، بے شک اپنی ذاتی حیثیت میں کوئی جماعت اپنے عمل میں جونسا بھی طریقِ کار اپنا کر رکھے۔

*****************


    آخری بات ہمیں امر بالمعروف یا نفاذِ شریعت کے اُس طریقِ کار پر کرنی ہے جو اِس تمام تر واقعے کا حوالہ بنا رہا ہے، اور جس میں ہمارے نزدیک بلا شبہہ بہت کچھ درست کیا جانے کا ضرورتمند ہے اور جس سے بہت سے خطرناک مباحث کو چھانٹا جانا ابھی باقی ہے۔ یہ چونکہ ایک بہت بڑا موضوع ہے اور اِس وقت وہ رنج وغم ہی جو یہ اندوہناک واقعہ اپنے پیچھے کلیجوں میں چھوڑ گیا ہے ہمارا یا کسی بھی خیر خواہ کا موضوع ہو سکتا تھا لہٰذا اِس منہج پرایک موضوعی گفتگو کسی اور موقعہ پر ہوگی۔