شرح رسائل توحید
توحید کی ضد شرک ہے
توحید کے بیان کے ضمن میں یوں تو شرک کی بابت پیچھے ہم بہت کچھ پڑھ
آئے مگر یہاں شرک پر کچھ مزید گفتگو کی جائے گی۔
شرک کے بارے میں جاننا بھائیو! اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ راستے میں
چلتے ہوئے آپ کا کسی گہرے کھڈ سے خبردار ہونا یا گھر کی چیزوں میں پڑے
ہوئے کسی زہر کا پتہ رکھنا اور گھر کے سب چھوٹوں بڑوں کو بار بار اس سے
خبردار کرتے رہنا بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ شرک کے بارے میں جاننا اور
دوسروں کو آگاہ کرنا راستے کے کسی کھڈ یا گھر میں پڑے کسی زہر سے بھی
کہیں زیادہ ضروری ہے۔
اسلام میں شرک سے دستبرداری مطلوب ہے اور توحید کی بجا آوری۔ جس
چیز سے دستبرداری کرنا مطلوب ہو اس کا چھوٹے سے چھوٹا حصہ بھی مسترد
کردینا لازم ہوا کرتا ہے البتہ جس چیز کی بجا آوری مطلوب ہو اس کا پورے
کا پورا پایا جانا ضروری ہوتا ہے۔ پس شرک ذرہ بھر بھی ہو تو روا نہیں۔
''شرک کا مرتکب'' ہونے کیلئے یہ لازمی نہیں کہ آدمی میں شرک کے تمام
شعبے اور تمام اقسام پائی جائیں۔ ایسا نہیں کہ شرک کا کوئی شعبہ آدمی
میں پایا جانے سے رہ جائے تو وہ مشرک نہ کہلائے گا۔ شرک تھوڑا بھی ہو
تو وہ آدمی کو برباد کردینے کو کافی ہے۔ البتہ موحد بننے کیلئے یہ
ضروری ہے کہ آدمی میں توحید کے تمام شعبے اپنی کم از کم حد تک پائے
جائیں۔ چنانچہ شرک کی نفی و ممانعت کا نصوصِ شریعت میں جہاں ذکر آتا ہے
وہاں عموماً ''واعبدوا اﷲ ولا تشرکوا بہ شیئا'' کے الفاظ آتے ہیں یعنی
خدائے ذوالجلال کے ساتھ شرک 'تھوڑا سا' بھی نہیں البتہ توحید پوری کی
پوری۔
اب یہاں اس باب میں ہم اس شرک سے کچھ آگاہی حاصل کریں گے جو خدائے
مالک الملک کو 'تھوڑا سا' بھی برداشت نہیں۔
شرک کے مفہوم اور اس کی شناعت کا بیان:
شرک، شراکت یا اشتراک کا مطلب ہے سانجھ یا حصہ داری۔ شریک حصہ دار
کو کہا جاتا ہے۔ خدا کے ساتھ شرک کا مطلب ہے کسی غیر خدا کو خدا کے
ساتھ ملانا۔ خدا کے ساتھ کسی کا حصہ رکھنا اور خدائی کے منصب میں کسی
کو اس کا شریک کردینا۔ جس چیز پرخدا کا حق ہے اس پر کسی دوسرے کا حق
بھی، کم یا زیادہ، تسلیم کرلینا۔ خدا کے سوا کسی اور ہستی کی عبادت
کرنا، خدا کو مخلوق سے تشبیہ دینا یا مخلوق کو خدا سے۔
یہ تو ہوا شرک کا اجمالی مطلب۔ اس کی تفصیل ہم یہاں شرک کی اقسام
میں پڑھیں گے۔ شرک کی اقسام ہی دراصل اس رسالہ کا موضوع ہے۔
دُنیا میں سب سے بڑی برائی کبھی کوئی ہوئی ہے یا ہو سکتی ہے تو وہ
شرک ہے۔ یہ سب سے بری بلا ہے۔ اس کی قباحت اور شناعت اور مذمت جتنی بھی
ہو سکے کم ہے۔ اس سے برأت وبیزاری ہر وقت ضروری ہے۔ اس سے عداوت
ومخاصمت انبیاء کی سنت ہے اور اولیاء وصالحین کا وتیرہ۔ اس سے دشمنی
کرنا خدا سے وفاداری رکھنا ہے اور خدا کے تقرب کا بہترین ذریعہ۔ خدا سے
اس حالت میں ملنا کہ آدمی کے دامن پر شرک کا کوئی داغ دھبہ نہ ہو اور
خدا کے سوا پوجے جانے اور پوجنے والوں سے آدمی کو زندگی میں کوئی
سروکار نہ رہا ہو تو یہ خدا سے ایک بہترین حالت میں ملنا ہے۔
صحیح مسلم کی ایک روایت ہے: حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ
قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
یَقُولُ: مَنْ لَقِیَ اللَّہَ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا دَخَلَ
الْجَنَّۃَ وَمَنْ لَقِیَہُ یُشْرِکُ بِہِ دَخَلَ النَّارَ
(صحیح مسلم باب الایمان: من مات لا یشرک باﷲ شیئاً دخل الجنۃ و من مات
مشرکاً) حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہبن عبد اللہ سے روایت ہے، فرماتے
ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اِس حال
میں اللہ سے ملتاہے کہ وہ شرک نہیں کیا کرتا تھا تو وہ جنت میں جائے گا
اور جو اِس حال میں اُس سے ملتا ہے کہ وہ اُس کے ساتھ شرک کرتا رہا ہو
گا تو وہ دوزخ میں جائے گا۔
شرک ایک ایسی برائی ہے کہ اس کے کرنے والے پر ہی اس سے دستبردار
ہونا فرض نہیں بلکہ شرک نہ کرنے والوں پر بھی یہ لازم ہے کہ زندگی بھر
وہ اس سے براءت وبیزاری کرتے رہیں اور اس کے خلاف سرگرم رہیں۔ ہر دم اس
سے خدا کی پناہ مانگیں اور جتنا ہو سکے اس سے دور رہنے کی کوشش کریں۔
شرک کی مثال یوں سمجھئے ایک ایسی پلیدی کی ہے جس سے صرف یہی نہیں کہ
آدمی کا اپنا دامن پاک ہونا چاہیے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ آس پاس میں
یہ کہیں پائی جائے تو آدمی اس کی سڑانڈ کو محسوس کئے بغیر نہ رہے۔ اس
سے حد درجہ گھن کھائے اور اس سے آدمی کا جی خراب ہونا اس کے رویے سے
بھی ظاہر ہو اور یہ کہ اپنے ماحول اور گردوپیش کو اس سے پاک کردینے کا
آدمی شدید حد تک متمنی بھی ہو اور کوشاں بھی۔
شرک کی شناعت اور خباثت کی بابت مندرجہ ذیل باتیں بطور خاص مدنظر رہنا
ضروری ہیں:
(١) شرک کا مطلب ہے یا تو خالق کو اس کے مقام سے نیچے لے آکر مخلوق
کے ہم مرتبہ کر دینا اور یا پھر مخلوق کو اوپر اٹھا کر خالق کے مقام پر
فائز کردینا۔ پس یہ سب سے کریہہ فعل ہے اور کائنات کا سب سے بڑا ظلم۔
چنانچہ فرمایا گیا: اِنَّ الشِّرکَ لَظُلْمٌ عَظیمٌ (لقمان: ١٣) 'ظلم'
کا لغوی مطلب ہے کسی چیز کو ایسی جگہ پر رکھنا جو کہ اس کیلئے ہے نہیں۔
پس سب سے بڑا ظلم یہ ہوا کہ معاذ اللہ خالق کو مخلوق کے مقام پر اتار
لایا جائے یا مخلوق کو خالق کے مقام پر چڑھا دیا جائے۔ اس سے بڑھ کر
ظلم کی بات کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔
(٢) چنانچہ شرک سب سے بڑا ظلم ہے اور توحید سب سے بڑا عدل اور سب سے
بڑھ کر انصاف کی بات۔ خدا کا واضح طور پر یہ فرما دینا کہ جب تک کوئی
شخص صاف صاف توبہ نہ کرلے شرک کبھی معاف ہونے کا نہیں گناہوں کے پہاڑ
بھی ہوں تو وہ مہربان ذات چاہے تو معاف کردے اور آدمی کو عذاب بھگتنے
سے چھوٹ دے کر اپنے فضل سے بہشت میں بھیج دے۔ مگر شرک معاف ہو جانے کا
اس کے ہاں سوال ہی نہیں: انَّ اللّہَ لاَ یَغْفِرُاََنْ یُشْرَکَ بِہِ
وَیَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِکَ لِمَن یَشَاء وَمَن یُشْرِکْ بِاللّہِ
فَقَدِ افْتَرَی اثْمًا عَظِیمًا (النسائ: ٤٨) اللہ بس شرک ہی کو معاف
نہیں کرتا، اس کے ما سوا دوسرے جس قدر گناہ ہیں وہ جس کے لیے چاہتا ہے
معاف کر دیتا ہے۔ اللہ کے ساتھ جس نے کسی اور کو شریک ٹھہرایا اُس نے
بہت ہی بڑا جھوٹ تصنیف کیا اور بڑے سخت گناہ کی بات کی۔
(٣) کوئی بڑے سے بڑا گناہ بھی ہو اور اس کی پاداش میں آدمی کو دوزخ
میں ڈال دیا جائے (خدا ہم سب کو بچا کر رکھے) تو بھی کبھی نہ کبھی نکل
آنے کی امید بہرحال ہے۔ ایسے آدمی پر بھی ضرور کسی نہ کسی دن خدا
مہربان ہو جائے گا اور اپنے فضل سے اس کی جان بخشی کردے گا بلکہ اس کو
پاک کردینے کے بعد جنت کے اندر اپنے نیک بندوں میں بھی شامل کردے گا۔
مگر شرک کم بخت وہ گناہ ہے جو نہ کبھی معاف ہو اور نہ عذاب سہنے سے
آدمی کی جان چھوٹے۔ مقصد یہ کہ شرک جہنم کے اندر خلود یعنی ہمیشگی کا
مستوجب ہے۔ خدا اپنی امان میں رکھے، اس سے بڑھ کر ہولناک بات کیا کوئی
ہو سکتی ہے کہ آدمی جہنم کے اندر خدا کے غضب کی آگ میں جلے اور پھر اس
سے نکل آنے کی کبھی کوئی امید بھی نہ ہو۔ وہ زندگی بھلا کوئی ختم ہونے
والی تھوڑی ہے۔ انَّہُ مَن یُشْرِکْ بِاللّہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّہُ
عَلَیہِ الْجَنَّۃَ وَمَاْوَاہُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِینَ مِنْ
اَنصَارٍ(المائدۃ: ٧٢) جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا اُس پر
اللہ نے جنت حرام کر دی اور اُس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ایسے ظالموں کا
کوئی مدد گار نہیں۔
(٤) شرک دراصل خدا کو دشنام دینا ہے۔ خدائے مالک الملک کی شان میں
سب سے بڑی کوئی گستاخی ہو سکتی ہے تو وہ آدمی کا خدا کے ساتھ شرک کرنا
ہے ویسے چاہے آدمی خدا سے جتنی مرضی عقیدت جتاتا ہو۔
عن ابی ھریرۃ قال: قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم، اراہ قال
اﷲ تعالی: ''شتمنی ابن آدم وما ینبغی لہ وکذبنی وما ینبغی لہ، اما شتمہ
فقولہ: ان لی ولداً واما تکذیبہ فقولہ: لیس یعیدنی کما بدانی'' (رواہ
البخاری)
''ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ''ابن آدم میری برائی
کرتا ہے جبکہ اسے یہ روا نہیںاور مجھے جھٹلاتا ہے جبکہ اسے یہ روا
نہیں، میری برائی کرنا یہ ہے کہ وہ کہے کہ میری کوئی اولاد ہے اور مجھے
جھٹلانا یہ ہے کہ وہ کہے کہ خدا نے جیسے مجھے پہلی بار پیدا کرلیا اس
طرح دوبارہ وجود میں لے آنے والا نہیں''۔
(٥) نبوتوں، رسالتوں اور آسمانی کتابوں اور شریعتوں کے ساتھ کوئی سب
سے بڑا تعارض اور تصادم آدمی روا رکھ سکتا ہے تو وہ یہ کہ وہ خدا کے
ساتھ شرک کرے۔ نبوتوں اور شریعتوں کی کوئی اور بات آدمی کی نگاہ سے
اوجھل ہو تو ہو مگر شرک کی شناعت کا آدمی کی نگاہ سے روپوش رہنا اور اس
مسئلہ کو چھوٹا جاننا خارج از سوال ہے۔ چنانچہ شرک بنیادی طور پر
رسولوں اور کتابوں کے ساتھ بھی سب سے بڑا کفر ہے۔ ایک محمد صلی
اللہ علیہ وسلم اور قرآن کے ساتھ ہی نہیں بلکہ سب رسولوں اور سب کتابوں
اور سب شریعتوں کے ساتھ۔ ولقد بعثنا فی کل امّۃٍ رسولاً انِ اعبدواﷲ
واجتنبوا الطاغوت (النحل: ٣٦) ''ہم نے ہر اُمت میں ایک رسول بھیج دیا
اور اس کے ذریعہ سے سب کو خبردار کر دیا کہ ''اللہ کی بندگی کرو اور
طاغوت (باطل معبودوں) کی بندگی سے بچو''۔
(٦) شرک دراصل انسان کی فطرت کے مسخ ہوجانے کا دوسرا نام ہے۔ یہ نفس
کے گھٹیا ہوجانے کی انتہا ہے۔ اپنے باپ کو چھوڑ کر کسی کو اپنا باپ
کہنا اس سے کہیں چھوٹا جرم ہے کہ آدمی رب العالمین کے بجائے کسی کی
بندگی کرے اور اپنے خالق کو چھوڑ کر کسی کو معبود بنا آئے۔ آدمی کی
عقل، آدمی کی فطرت، آدمی کی آبرو اور اس کی خود داری اور خودشناسی سب
کچھ توحید سے مشروط ہے اور شرک کرکے آدمی اپنی یہ سب سے بڑی انسانی
خصوصیت اور اپنی یہ قیمتی متاع کھو دیتا ہے۔ تب آپ دیکھیں گے کہ ایسا
آدمی خدا کے معاملے میں ذرہ بھر غیرت محسوس نہیں کرتا البتہ غیروں کی
برائی ہو اور چھوٹی چھوٹی ہستیوں کی شان میں کوئی 'گستاخی' ہو تو آپے
سے باہر ہونے لگتا ہے۔ آدمی واقعتا اتنا چھوٹا ہو جاتا ہے۔ خدا کی عظمت
کی بات ہو تو ٹس سے مس نہیں ہوتا البتہ غیروں کے تذکرے پر خوشی سے
باچھیں کھلتی ہیں اور آدمی کو ایک وجد اور سرور آتا ہے۔ یہ وہ دھکا ہے
جو ایک مشرک کو اس دُنیا میں پڑتا ہے۔ یہ نفس کے نیچ ہونے کی ایک واضح
علامت ہے۔ بدبختی کا یہ کریہہ نشان انسان کی شخصیت میں رفتہ رفتہ عیاں
ہونے لگتا ہے، خود اپنی نظر میں اس بات پر وہ بہت جچتا ہے مگر اہلِ نظر
کو اس پر متلی آتی ہے۔ ایک صاف ذلت انسان کے چہرے پر بولنے لگتی ہے۔ وہ
اپنے حق میں اس کو 'قدرت کی توفیق اور عنایت' جانتا ہے مگر بصیرت رکھنے
والوں کیلئے وہ سامانِ عبرت ہوتا ہے۔ خدا کے سوا ولی و کارساز پکڑنے کا
دُنیا میں یہ انجام ہے کہ اس ذلت کو آدمی اپنے لئے فخر کی بات جانے۔
واذا ذکر اﷲ وحدہ اشمازت قلوب الذین لا یؤمنون بالآخرۃ واذا ذکر
الذین من دونہ اذا ھم یستبشرون (الزمر:٤٥) ''جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا
جاتا ہے توآخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل کڑھنے لگتے ہیں اور جب
اُ س کے سوا دوسروں کا ذکر ہوتا ہے تو یکا یک وہ خوشی سے کھل اٹھتے
ہیں''۔
(٧) اس ذلت کے باعث پھر آدمی کی شخصیت میں ایک کھوکھلا پن آجاتا ہے۔
شخصیت کا یہ ہلکا پن صرف موحد بننے سے جاتا ہے۔ سوچ، فکر، خیالات،
اعمال اور رویوں میں ایک اعتماد، ایک مضبوطی اور پختگی اور ایک ٹھوس پن
صرف توحید کی دین ہے۔ عمل تھوڑا بھی ہو تو اس میں ایک رنگ اور ایک حسن
ہوتا ہے۔ دِل میں اطمینان اور شخصیت میں ایک جان ہوتی ہے۔ کردار میں
ایک وزن محسوس ہوتا ہے۔ البتہ مشرک اس سے محروم رہتا ہے خواہ جتنے بھی
عمل کرلے۔ دِل کا اطمینان اور شخصیت کا بارعب ہونا مشرک کو کبھی نصیب
نہیں ہوتا۔ طرح طرح کے اندیشوں اور وسوسوں میں مبتلا رہتا ہے۔ توحید کے
باعث خدا کی جانب سے آدمی کا ایک رعب قائم ہو جاتا ہے اور شرک کے باعث
نہ صرف شخصیت کا رعب چلا جاتا ہے بلکہ الٹا اس پر رعب ڈال دیا جاتا ہے
پھر وہ دُنیا کی ہر چیز سے ڈرتا ہے اور موحدین سے تو جیسے اس کی جان
جاتی ہے۔ توحید بنیادی طور پر عزتِ نفس کا نام ہے۔ موحد کو دُنیا کے
اندر بھی ایک خاص شان نصیب ہوتی ہے۔
یہ اشخاص کی بات ہی نہیں مسلم معاشروں کے اندر توحید کے معاملے میں
ایک یکسوئی پیدا کر لی جائے اور خدائے واحد کی عظمت اور صرف ایک اسی کی
عظمت کی دھاک دلوں پر بیٹھ جائے تو کفار ومشرکین کے دِل، اپنی تمام تر
مادی قوت کے باوجود، اِن کے آگے ہوا ہونے لگتے ہیں۔
سنلقی فی قلوب الذین کفروا الرعب بما اشرکوا باﷲ مالم ینزل بہ
سلطانا (آل عمران: ١٥١) ''عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ جب ہم منکرینِ
حق کے دِلوں میں رعب بٹھا دیں گے، اس لئے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ ان
ہستیوں کو خدائی میں شریک ٹھہرایا ہے جن کے شریک ہونے پر اللہ نے کوئی
سند نازل نہیں کر رکھی ہے''۔
(٨) شرک انحطاط اور زوال کا باعث ہے۔ اشخاص کی بات ہو یا معاشروں
کی، توحید کے بعد شرک کی روش ہونا بلندی سے پستی میں جاگرنا ہے اور ان
سب خطرات کا سامنا کرنا جو عظیم ترین اونچائی سے خوفناک گہرائی میں جا
گرنے کے عمل میں لاحق ہوا کرتے ہیں۔ 'زوال' کا یہ قانون ازروئے قرآن
ثابت ہے: حنفاء ﷲ غیر مشرکین بہ ومن یشرک باﷲ فکانّما خَرّمِن السَّماء
فَتَخْطِفُہُ الطَّیرُا وتَھْوِي بہِ الرِّیحُ فی مکانِ سحیقٍ (الحج:
٣١) یک سو ہو کر اللہ کے بندے بنوں، اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔
اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے تو گویا وہ آسمان سے گر گیا، اب یا
تو اُسے پرندے اچک لے جائیں گے یا ہوا ہی اُس کو ایسی جگہ لے جا کر
پھینک دے گی جہاں اُس کے چھیتڑے اڑ جائیں گے۔
(٩) شرک کو قرآن میں خدا کے ساتھ بدظنی قرار دیا گیا ہے۔ شرک خدا کے
ساتھ بدترین بدگمانی ہے۔
ویعذب المنافقین والمنافقات والمشرکین والمشرکات الظانین باﷲ ظن
السوء علیہم دائرۃ السوء وغضب اﷲ علیہم ولعنہم واعدّ لھم جھنم وساء ت
مصیرا(الفتح: ٢) ''اور تاکہ ان منافق مردوں اور عورتوں اور مشرک مردوں
اور عورتوں کو عذاب دے جو اللہ کے متعلق برے گمان رکھتے ہیں۔ برائی کا
پھیر ان ہی پر ہے۔ اللہ کا غصب ان پر ہوا۔ اللہ نے انہیں لعنت کی اور
ان کیلئے دوزخ تیار کی جو بہت ہی برا ٹھکانہ ہے''۔
اس آیت کے حوالے سے امام ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں:
''وعید اور سزا کی جتنی باتیں یہاں (اس ایک آیت میں) اللہ تعالیٰ نے
اہل شرک کیلئے اکٹھی کر دی ہیں اتنی کسی اور کیلئے نہیں کیں۔ کیونکہ یہ
خدائے ذوالجلال کے ساتھ بدگمانی کے مرتکب ہوئے تاآنکہ اس کے ساتھ شرک
کرنے لگے۔ خدا کی بابت یہ اپنا گمان درست رکھتے تو موحد ہوتے اور اس کی
توحید کا دم بھرتے''۔
مزید کہتے ہیں: ''شرک خدا کی نقص جوئی کا لازمہ ہے اور خدا کی نقص
جوئی شرک کا لازمہ۔ چنانچہ خدا کی حمد وتسبیح اور اس کی خدائی کا کمال
اسی بات کا متقاضی ہوا کہ شرک ناقابل معافی جرم ٹھہرے اور اس کا رسیا
ہمیشہ کیلئے دردناک سزا پائے اور مخلوق میں سب سے بدبخت کہلائے۔ پس تم
کوئی مشرک ایسا نہ پاؤ گے جو خدا کا عیب جو نہ ہو۔۔۔۔۔۔ سبحان اللہ اس
ذات کا عیب جُو ہونا جو ہر نقص سے پاک ہے''۔ (اغاثۃ اللھفان ١: ٩٨۔٩٩)
چنانچہ جب کوئی شخص شرک کرتا ہے تو وہ زبان حال سے دراصل یہی کہتا
ہے کہ خدائے احکم الحاکمین میں ___ معاذ اللہ ___ اس کو کچھ کمی نظر
آئی تو وہ اس کا تدارک کرنے کیلئے کہیں اور خاک چھانتا ہے۔
(١٠) مشرک کیلئے قرآن نے ایک ایسا لفظ استعمال کیا ہے جو کسی اور
انسان کیلئے بولا ہی نہیں جا سکتا۔ انسان کیلئے تو کیا بیشتر جانوروں
کیلئے یہ لفظ بولنا درست نہیں۔ فرمایا: یا أیھا الذین آمنوا انما
المشرکون نجس فلا یقربوا المسجد الحرام بعد عامھم ھذا (التوبۃ) ''اے
ایمان لانے والو، مشرک ناپاک ہیں لہٰذا اس سال کے بعد یہ مسجد حرام کے
قریب نہ پھٹکنے پائیں''۔
(١١) شرک کی ایک اپنی زد ہی انسان پر پڑے تو اس کو برباد کردینے
کیلئے کافی ہے۔ مگر یہ ایک ایسا فعل ہے کہ انسان کے سب کے سب نیک اعمال
بھی ساتھ میں اکارت ہو جاتے ہیں اور اس کی کوئی نیکی خدا کے ہاں معتبر
ہی نہیں رہتی۔ ذلک ھدی اﷲ یھدی بہ من یشاء من عبادہ ولو أشرکوا لحبط
عنہم ما کانوا یعملون (الانعام: ٨٨) ''یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ
وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے لیکن اگر کہیں ان
لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہو جاتا''۔ ولقد
أوحي الیک والی الذین من قبلک لئن أشرکت لیحبطن عملک ولتکونن من
الخاسرین (الزمر: ٦٥) ''تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے تمام
انبیاء کی طرف یہ وحی بھیجی جا چکی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا
عمل ضائع ہو جائے گا اور تم یقینا خسارے میں رہو گے''۔
(١٢) شرک کی شناعت اس بات سے بھی ظاہر ہے کہ اسلامی ریاست کے اندر
___ خاص حالات اور خاص شروط کے تحت ___ مشرک کو جان اور مال کی امان
حاصل نہیں ہوتی تاآنکہ کچھ خاص شروط اس کے حق میں پوری نہ ہو جائیں۔
فشذا انسلخ الاشہر الحرم فاقتلوا
المشرکین حیث وجدتموھم وخذوھم واحصروھم واقعدوا لھم کل مرصد (التوبۃ:
٥) ''پس جب حرام مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو قتل کرو جہاں پاؤ اور
انہیں پکڑو اور گھیرو اور ہر گھات میں ان کی خبر لینے کیلئے بیٹھو''۔
عن جابر قال قال رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم: امرت ان اقاتل
الناس حتی یقولوا لا الہ الا اﷲ فاذا قالوھا عصموا منی دماء ھم
واموالھم الا یحقھا وحسابھم علی اﷲ (رواہ الترمذی)
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''مجھے مامور کیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے
ساتھ برسرجنگ رہوں تاآنکہ وہ اس بات کا اقرار نہ کر لیں کہ اللہ کے سوا
کوئی عبادت وبندگی کے لائق نہیں۔ پھر جب وہ یہ اقرار کرلیں تو اپنی جان
اور مال پر وہ مجھ سے امان پالیتے ہیں سوائے یہ کہ جو بات (شریعت اسلام
ہی کی رو سے) ان پر لاگو ہو۔ ان کا حساب کرنا پھر خدا کا کام ہے''۔
(١٣) شرک کو حدیث میں اکبر الکبائر کہا گیا ہے۔ یعنی ایک تو گناہ۔
پھر گناہوں میں بڑے بڑے گناہ (کبائر) پھر بڑے گناہوں میں بھی سب سے بڑا
گناہ۔ وہ بھی کس کے حق میں؟ ''فی جنب اﷲ'' یعنی اللہ رب العزت کے حق
میں اور اگر سمجھے تو دراصل آدمی کے اپنے حق میں۔ کیونکہ اس کی آفت کسی
اور پر نہیں آدمی کے اپنے ہی اوپر آکر پڑتی ہے۔ چنانچہ یہ سب سے بڑا
جرم ہے اور سب سے بڑی نادانی۔ شرک سے بڑی کوئی جہالت نہیں۔
ألا أنبئکم
بأکبر الکبائر، ثلاثا؟ الاشراک باﷲ وعقوق الوالدین وشھادۃ الزور أو قول
الزور۔ وکان رسول اﷲ صلی اﷲ متکأا فجلس فما زال یکررھا حتی قلنا لیتہ
سکت(رواہ
مسلم) ''کیا میں تمہیں اکبر الکبائر کا بتاؤں؟ تین بار کہا۔ خدا کے
ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کا عاق ہونا اور جھوٹی شہادت (یا یہ کہ جھوٹ
گھڑنا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے (یہ
کہتے ہوئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھ بیٹھے۔ اور پھر یہ بات دہراتے
ہی رہے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غضب کی اس حالت میں
دیکھ کر) یہاں تک کہ ہم نے (دِل میں) کہا کاش آپ صلی اللہ علیہ وسلم اب
بس کر جائیں''۔
یہ ہیں بھائیو شرک کی قباحت کے بارے میں چند باتیں جو ہم قرآن اور
احادیث میں صاف موجود پاتے ہیں۔ یہ سب قبیح باتیں شرک اکبر کے ارتکاب
سے لازم آتی ہیں۔ شرک اکبر ہے کیا؟ اس کی قدرے تفصیل سے وضاحت آگے چل
کر ہم شرک کی اقسام میں پڑھیں گے۔
'شرک' اور 'کفر'
میں کیا تعلق ہے؟
لفظ کفر کی وضاحت آگے چل کر (کفر کی اقسام کے مبحث میں) آئے گی۔
یہاں ہمارے پیش نظر صرف یہ ہے کہ لفظ 'کفر' اور لفظ 'شرک' میں جو تعلق
ہے وہ ذرا واضح ہو جائے۔
'کفر' کا لغوی مطلب ہے چھپانا، سینہ زوری کرنا، مکر جانا، بے دید
اور ناشکرا ہونا، رد کرنا اور مان کر نہ دینا۔ اصطلاحاً: خدا یا اس کے
فرشتوں یا اس کی کتابوں یا اس کے رسولوں یا یومِ آخرت یا تقدیر وغیرہ
ایسے اسلامی مسلمات کی بابت آدمی کا قول یا فعل یا اعتقاد کی صورت میں
کوئی ایسا رویہ رکھنا جو عدم تسلیم سے عبارت ہو، کفر کہلاتا ہے۔
شرک کا تعلق اسلام کے مسلمہئ اولیٰ (ایمان باللہ) سے ہے۔ شرک
بنیادی طور پر خدا کی وحدانیت کا انکار ہے۔ اس لحاظ سے 'شرک' کفر کی
نسبت اخص ہے۔ یعنی اس کا تعلق ایمان کے رکنِ اول سے ہے جبکہ کفر کا
تعلق ایمان کے سب ارکان سے۔ مگر ایک دوسرے لحاظ سے شرک ایمان کے رکن
اول کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ اسلام کے دیگر مسلمات کے ساتھ کفر کا
مرتکب ہونا بھی شرک ہی بنتا ہے۔ دراصل ایمان کے رکنِ اول اور دیگر
ارکان میں کچھ تعلق ہی ایسا ہے۔ سورۃ الانعام میں بتایا گیا ہے کہ
مسلمان اگر (مردار کی حرمت یا عدم حرمت کے معاملے میں) خدا کی بتائی
ہوئی بات چھوڑ کر کفار کی بات تسلیم کرلیتے ہیں تو وہ مشرک ہیں۔
وان الشیاطین لیوحون الی اسولیائہم لیجادلوکم وان اطعتموھم انکم
لمشرکون (الانعام: ١٢١) ''شیاطین اپنے ساتھیوں کے دِلوں میں (شکوک
واعتراضات) القا کرتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں۔ لیکن اگر تم نے ان
کی بات تسلیم کرلی تو پھر یقینا تم مشرک ہو''۔
چنانچہ ایک مردار کی حرمت وحلت کے معاملہ میں خدا کے سوا کسی اور
ہستی کی بات تسلیم کرلینا اگر شرک ہے خواہ وہ ہستی آدمی کا اپنا نفس ہو
یا خارج میں کوئی وجود تو پھر کفر کی ہر بات اس لحاظ سے دراصل شرک ہی
کہلائے گی۔ کیونکہ کفر کرتے ہوئے آدمی اللہ کی بات کو مسترد کرتے ہوئے
کسی اور کی بات تسلیم کرتا ہے۔ چنانچہ ہر کفر شرک ہی شمار ہوگا چاہے وہ
فرشتوں یا رسولوں یا کتابوں یا آخرت وغیرہ کے ساتھ انسان کا کفر کرنا
ہو یا دین کے کسی اور مسلمہ کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کرنا۔
اب اس دوسرے لحاظ سے کفر اور شرک عملاً ہم معنی ہو جاتے ہیں۔ اس
دوسرے اعتبار کی رو سے ایک کافر، جب اس کا کافر ہونا ثابت ہو جائے،
خودبخود مشرک بھی ہوتا ہے (کیونکہ وہ خدا کے سوا کسی اور ہستی کی بات
تسلیم کرتا ہے) اسی طرح ایک مشرک، جب اس کا مشرک ہونا ثابت ہو جائے، آپ
سے آپ کافر بھی ہوتا ہے (کیونکہ اس نے اسلام کے سب سے بڑے مسلمہ یعنی
خدا کی وحدانیت کا کفر کیا ہوتا ہے) ۔
یہی وجہ ہے کہ نواقضِ اسلام میں پیچھے ہم پڑھ آئے ہیں کہ جو آدمی
مشرکین کو کافر نہ جانے وہ خود بھی کفر کا مرتکب ہو جاتا ہے۔ کیونکہ
''کفر'' اور ''شرک'' میں نتیجہ اور حکم کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔
بنا بریں ان دونوں اصطلاحوں (کفر اور شرک) کا معاملہ بھی قریب قریب
وہی ہو جاتا ہے جو کہ لفظ 'اسلام' اور 'ایمان' کی بابت اہل علم نے بیان
کیا ہے۔ ایک لحاظ سے 'اسلام' اور 'ایمان' الگ الگ مفہوم رکھتے ہیں اور
ایک دوسرے لحاظ سے یہ ہم معنی ہیں۔ یہی حال 'کفر' اور 'شرک' کا ہے۔ یہ
ایک دوسرے کے بالمقابل استعمال ہوں تو نسبتاً مختلف المعنی ہوسکتے ہیں
البتہ اگر برسبیل موازنہ نہ آئیں تو ہم معنی یا ہم محل سمجھے جائیں گے۔
اسلام کے بنیادی مسائل اور مفہومات کی بابت چونکہ ہمارا منہج ہے کہ
ہم ائمہ اہلسنت کا حوالہ دیے بغیر بات کرنا درست نہیں سمجھتے لہٰذا
اپنی اس بات کی تائید میں ہم یہاں امام نووی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک قول
پیش کریں گے اور اس کے بعد کچھ دیگر علماء ومفسرین کے استدلالات۔
صحیح مسلم کی ایک حدیث کے الفاظ ہیں: بین الرجل وبین الشرک والکفر
ترک الصلوۃ یعنی ''آدمی کے مابین اور شرک اور کفر کے مابین (حدِ فاصل)
ترک نماز ہے''۔ جبکہ ترمذی میں یہی حدیث بین الشرک او الکفر کے الفاظ
سے آتی ہے۔ یعنی مسلم میں 'شرک اور کفر' کا لفظ ہے تو ترمذی میں 'شرک
یا کفر'۔۔۔۔۔۔ جبکہ مراد دونوں کی ایک ہے۔ چنانچہ مسلم کی حدیث کی شرح
میں امام نووی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: الشرک والکفر قد یطلقان بمعنی
واحد وھو الکفر باﷲ تعالی، وقد یفرق بینھما فیخص الشرک بعبادۃ الاوثان
وغیر ھا من المخلوقات مع اعترافھم باﷲ تعالیٰ ککفار قریش، فیکون الکفر
اعم من الشرک (شرح صحیح مسلم للنووی: کتاب الایمان: بیان اطلاق اسم
الکفر علی من ترک الصلوۃ حدیث ١١٦) ''شرک اور کفر کسی وقت ایک ہی معنی
میں بولے جاتے ہیں اور اس سے مراد ہوتی ہے خدا کے ساتھ کفر کا ارتکاب
کرنا اور کسی وقت یہ الگ الگ معنی میں آتے ہیں۔ اس (موخر الذکر) صورت
میں شرک سے مراد خاص بتوں اور دیگر مخلوقات کی عبادت ہوتی ہے اگرچہ
ایسا کرنے والے خدا کو ویسے مانتے ہی ہوں جیسا کہ کفار قریش کا معاملہ
تھا۔ اس (دوسرے) لحاظ سے کفر کا لفظ شرک کی نسبت زیادہ عموم رکھتا
ہے''۔
نووی رحمۃ اللہ علیہ کی اسی بات کی تائید عبدالرحمن مبارکپوری رحمۃ
اللہ علیہ ترمذی کی شرح تحفۃ الاحوذی کے اندر کرتے ہیں (دیکھیے تحفۃ
الاحوذی شرح الترمذی: الایمان عن رسول اﷲ: ماجاء فی ترک الصلوۃ حدیث
٢٥٤٣)
شرک اور کفر کا ایک لحاظ سے ہم معنی استعمال ہونا ہم تفسیر طبری
اور تفسیر قرطبی میں بھی دیکھتے ہیں۔ قرآنی آیات ] قال لہ صاحبہ وھو
یحاورہ اکفرت بالذي خلقک من تراب ثم من نطفۃ ثم سواک رجلاً لکن ھو اﷲ
ربي ولا اشرک بربي احداً (الکہف: ٣٧۔٣٨) ''اس کے ہمسایے نے گفتگو کرتے
ہوئے اس سے کہا: کیا تو کفر کرتا ہے اس ذات سے جس نے تجھے مٹی سے اور
پھر نطفے سے پیدا کیا اور تجھے ایک پورا آدمی بنا کھڑا کیا۔ رہا میں تو
میرا رب تو وہی اللہ ہے اور میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں
کرتا''[ کی تفسیر میں امام ابن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
]لکنا ھو اﷲ ربی[ یقول: اما انا فلا اکفر بربي ۔۔۔۔۔۔ ''مگر میرا رب تو
وہی اللہ ہے اورمیں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا'' ۔۔۔۔۔۔
''مگر میرا رب تو وہ اللہ ہے''یعنی مراد ہے کہ جہاں تک میرا معاملہ
ہے تو میں البتہ اپنے رب کے ساتھ کفر نہیں کرتا''۔ (دیکھیے محولہ بالا
سورۃ کہف کی آیت کے تحت تفسیر طبری)
امام قرطبی اس آیت کی تفسیر کے تحت لکھتے ہیں: ولا أشرک بربی احداً
''اور میں اپنے رب کے ساتھ شرک نہیں کرتا''۔
اس کا مفہوم دلالت کرتا ہے کہ وہ دوسرا شخص خدا کے ساتھ شرک کرتا
تھا اور کسی غیر کو پوجتا تھا گو اس سے یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ
''امیری اور فقیری کا معاملہ میں تو خدا کی طرف سے ہی سمجھتا ہوں اور
یہ یقین رکھتا ہوں کہ خدا چاہتا تو تجھ سے دُنیا کی یہ دولت چھین لیتا
اور جبکہ مجھے فقر وفاقہ دینے والا بھی وہی ہے''۔ اور یہ مراد بھی
ہوسکتی ہے کہ ''تیرے بعث ونشور کے انکار کی غایت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ
تجھے دوبارہ زندہ کردینے پر طاقت نہیں رکھتا''۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو
کسی بات سے عاجز جاننا۔ اب خدا کے ساتھ عجز کی نسبت کرنا دراصل خدا کو
مخلوق سے تشبیہ دینا ہے۔ یوں اس کی یہ بات شرک بنتی ہے''۔ (دیکھیے
مذکورہ بالا سورہ کہف کی آیات ٣٧- ٣٨کے تحت تفسیر قرطبی)
پھر اس سے بعد کی آیت: و احیط بثمرہ فاصبح یقلب کفیہ علی ما انفق فیھا
وھي خاویۃ علی عروشھا ویقول یالیتنی لم اشرک بربي احدا (الکہف: ٤٢)
''آخرکار یہ ہوا کہ اس کا سارا ثمرہ مارا گیا۔ پس وہ اپنی لگائی ہوئی
لاگت پر ہاتھ ملتا رہ گیا اور وہ باغ تو اپنے چھپروں پر اوندھا پڑا تھا
اور (وہ شخص) یہ کہہ رہا تھا: ''اے کاش میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو
شریک نہ ٹھہرایا ہوتا''۔
اس آیت کی تفسیر کے تحت امام طبری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
''یقول یالیتنی لم اشرک بربی احداً ۔۔۔۔۔۔ مراد یہ کہ اس کافر کا جب
نقصان ہوا اور اس کی دُنیا اس سے منہ پھیر گئی اب تن تنہا وہ خود رہ
گیا تھا اور اس کا کرتوت تو اب وہ خواہش کرتا تھا کہ کاش اس نے خدا کے
ساتھ کفر یا شرک نہ کیا ہوتا''۔ (دیکھیے تفسیر طبری، آیت ٤٢ سورت
الکہف)
جبکہ امام قرطبی لکھتے ہیں: ''ویقول یالیتنی لم اشرک بربی احداً
''اور وہ یہ کہہ رہا تھا اے کاش میں نے خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ
ٹھہرایا ہوتا'' یعنی اے کاش میں نے خدا کی نعمتوں کا اعتراف کرلیا ہوتا
اور یہ جان لیا ہوتا کہ یہ (سب) خدا کی قدرت سے تھیں اور میں نے اس کے
ساتھ کفر نہ کیا ہوتا''۔ (دیکھیے تفسیر قرطبی۔ در بارہ سورت الکہف آیت
٤٢)
چنانچہ جیسا کہ ہم پیچھے یہ بات مکرر ذکر کر آئے ہیں: شرک اور کفر
نتیجہ اور حکم کے لحاظ سے درحقیقت کوئی فرق نہیں رکھتے۔ جہاں تک کسی کے
بارے میں حکم لگاتے ہوئے احتیاط کرنے کی بات ہے تو وہ یہ نہیں کہ کسی
کو مشرک تو بڑے آرام سے کہہ دیا مگر اس کو کافر جاننے کے معاملے میں
آدمی کو احتیاط دامن گیر ہو جائے: کسی پر حکم لگاتے وقت جس قدر احتیاط
ضروری ہے وہ یہی ہے کہ اس کو مشرک کہتے وقت ہی پوری احتیاط برتی جائے۔
کسی کلمہ گو سے شرک کے زمرے میں آنے والا کوئی فعل سرزد ہوتا ہے تو
لازمی نہیں کہ جھٹ سے اس کو مشرک قرار دے دیا جائے۔ مشرک کہنے کی کچھ
باقاعدہ شروط ہیں بے شک وہ شخص کسی شرکیہ امر کا بظاہر قائل یا فاعل ہی
کیوں نہ ہو۔ یہ شروط پیچھے ہم رسالہ نواقض الاسلام کی شرح میں اختصار
سے ذکر کر آئے ہیں۔
چنانچہ کسی کلمہ گو شخص کو شرک سے مربوط کسی فعل میں پڑا دیکھ کر
بھی ضروری نہیں کہ اس پر مشرک ہونے کا فتویٰ دے دیا جائے۔ خصوصاً ایک
کم علم شخص کیلئے تو ایسا کرنا ہرگز درست نہیں۔ اس بات کا فیصلہ کرنا
اہل علم کا کام ہے کہ کسی شخص پر پہلے حجت قائم کر دی گئی ہے یا نہیں۔
البتہ جب کسی شخص کو علمی شروط کو مدنظر رکھتے ہوئے باقاعدہ طور پر
'مشرک' ہی کہہ دیا جائے تو اس کو کافر کہنے میں بھی کوئی کمی نہیں رہ
جاتی۔
یہ بات ہرگز باعث تعجب نہیں ہونی چاہیے۔ یہ بات بطورِ خاص ذہن نشین
ہونے کے قابل ہے ۔ شرکِ اکبر کی علماء کے ہاں تعریف کیا کی جاتی ہے؟
یہی کہ'' یہ وہ شرک ہے جو انسان کو ملت سے یعنی دائرہئ اسلام سے خارج
کر دیتا ہے''۔ دائرہئ اسلام سے خارج ہونا کفر کے سوا آخر اور کیا ہے؟
کسی شخص کو مشرک کہتے وقت تو ذرہ احتیاط کی ضرورت نہ سمجھنا مگر اس
کو دائرہئ اسلام سے خارج سمجھنے کے معاملے میں پھر بھی احتیاط لاحق
ہوجانا ایک غلط طرز عمل ہے اور دراصل لفظِ 'مشرک' کے کی سنگینی سے
لاعلمی ۔ اس طرزِ فکر کا لازمہ یہ ہے کہ شرکِ اکبر کا فاعل ملت سے خارج
نہیں ہوتا!
ہم بھی دراصل یہی کہتے ہیں بلکہ زور ہی اِس بات پر دیتے ہیں کہ کسی
پر حکم لگاتے وقت احتیاط بے حد ضروری ہے مگر ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ
احتیاط کسی کو 'مشرک' کہتے وقت بھی اتنی ہی ضروری اور ناگزیر ہے جتنی
کہ 'کافر' کہتے وقت۔ دونوں باتوں کیلئے درحقیقت ایک ہی درجہ کی احتیاط
لازم ہے۔
شرک
کی اقسام:
شرک کی تین قسمیں ہیں۔
شرک اکبر، شرک
اصغر اور شرک خفی
شرک کا لفظ جب کبھی استعمال ہوتا ہے تو اس سے مراد دراصل شرک اکبر
ہی ہوتا ہے۔ یہی وہ اصل شرک ہے جو آدمی کو ملت سے یعنی دائرہ اسلام سے
خارج کر دیتا ہے۔ یہی وہ شرک ہے جو جہنم میں ہمیشگی کا مستوجب ہے۔ یہی
وہ شرک ہے جس کی بنیاد پر کسی شخص کو باقاعدہ 'مشرک' کہا جاتا ہے۔ یہی
وہ شرک ہے جس کے مرتکب 'مشرک' کیلئے نہ تو زندگی بھر استغفار یعنی
دُعائے مغفرت جائز ہے اور نہ مرنے پر نماز جنازہ۔
چنانچہ مطلق شرک سے مراد عموماً شرک اکبر ہی ہوتا ہے۔ بولنے والے
کی مراد شرک اصغر ہو تو عموماً وہ اس کی الگ سے وضاحت کرتا ہے اور کلام
میں اس کیلئے کوئی قرینہ مذکور ہوتا ہے۔
شرک کی ان اقسام سے بعض لوگوں کا یہ سمجھ لینا جہالتِ محض ہے کہ
کلمہ گو مسلمان جو شرک کریں وہ تو ہے شرکِ اصغر البتہ ایک غیر کلمہ گو
شرک کرے تو وہ ہے شرکِ اکبر۔ شرک کی کوئی ایسی تقسیم کسی عالم نے آج تک
نہیں کی۔ شرک کی یہ تقسیم (شرکِ اکبر اور شرکِ اصغر) دراصل'' فعل کی
نوعیت'' کے اعتبار سے ہے نہ کہ ''فاعل کی قومیت'' کے اعتبار سے!
چنانچہ شرک کی اقسام (اصغر و اکبر)کا یہ بیان مسلم معاشروں میں
پھیلے ہوئے شرکیہ مظاہر کی سنگینی کو کم کرنے کیلئے کسی حجت کے طور پر
استعمال نہیں ہوسکتا۔ ایسا کرنا جہالت کا شاخسانہ ہوگا۔ بلکہ حقیقت تو
یہ ہے کہ اقسامِ شرک کے بیان سے اپنے مسلم معاشرے کے اندر ان برسرعام
دیکھے جانے والے شرکِ اکبر کے مظاہر کی سنگینی اور بھی واضح ہو جاتی
ہے۔ پس اقسامِ شرک کا بیان مسلم معاشروں کے اندر بہت ضروری ہے۔ شرک کی
اقسام کو جان کر ہی یہ بات واضح ہوسکتی ہے کہ شرک کے یہ مظاہر جو
معاشرے میں اِس وقت عام ہیں شرکِ اکبر ہیں جو کہ آدمی کو دائرہ اسلام
سے خارج اور ابدی جہنم کامستحق بنانے کا موجب ہے۔
شرک اکبر:
شرک اکبر تو وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نہ کسی حال میں معاف کرتا ہے
اور نہ اس کے ہوتے ہوئے کوئی نیک عمل قبول کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ خود ارشاد فرماتا ہے:
ان اﷲ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء ومن یشرک باﷲ
فقد ضل ضلالاً بعیداً (النسائ: ١١٦) ''اللہ کے ہاں بس شرک ہی کی بخشش
نہیں ہے، اس کے سوا اور سب کچھ معاف ہو سکتا ہے جسے وہ معاف کرنا چاہے۔
جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا وہ تو گمراہی میں بہت دور نکل
گیا''۔ مزید ارشاد ہوتا ہے: وقال المسیح یا بنی اسرائیل اعبدوا اﷲ ربی
وربکم انہ من یشرک باﷲ فقد حرم اﷲ علیہ الجنۃ وماواہ النار وما
للظالمین من انصار (المائدہ: ٧٢) ''حالانکہ مسیحؑ نے کہا تھا کہ اے بنی
اسرائیل! اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب ہے اور تمہارا بھی (رب ہے)۔ جس
نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا اس پر اللہ نے جنت حرام کردی اور
اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں''۔ اسی طرح
یہ آیت بھی: وقدمنا الی ما عملوا من عمل فجعلناہ ھبائً منثوراً
(الفرقان: ٢٣) ''اور جو کچھ بھی ان کا کیا دھرا ہے اسے لے کر ہم غبار
کی طرح اڑا دیں گے''۔ اور یہ آیت بھی: لئن اشرکت لیحبطن عملک ولتکونن
من الخاسرین (الزمر: ٢٥) ''اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا عمل ضائع ہو
جائے گا اور تم خسارے میں رہو گے''۔
ولو اشرکوا لحبط عنھم ما کانوا یعملون (الانعام: ١٨٨) ''لیکن اگر
کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہو جاتا''۔
اوپر کی عبارت سے واضح ہوا کہ رسالہ کی تمہید میں ہم شرک کی جو
قباحت اور شناعت بیان کر آئے ہیں اور شرک کے بارے میں عموماً قرآن اور
حدیث میں جو خوفناک وعیدیں اور عذاب کے تذکرے ملتے ہیں وہ سب کے سب
شرکِ اکبر کے ساتھ ہی خاص ہیں۔ غیر اللہ کی عبادت چاہے وہ دُعا وپکار
کی صورت میں ہو یا سجدہ ورکوع کی صورت میں یا طواف اور نیاز کی صورت
میں یا اطاعت وفرمانبرداری کی صورت میں، جیسا کہ ہم آگے شرکِ اکبر کی
اقسام میں پڑھ لیں گے۔۔۔۔۔۔ تو یہ شرکِ اکبر ہے۔ غیر اللہ کی بندگی اور
پرستش جس شکل میں ہو اور اس کا کرنے والا خواہ کوئی ہو، شرکِ اکبر
کہلائے گی اور یہ ظاہر ہے وہ جرم ہے جو کبھی معاف ہوگا اور نہ جہنم سے
کبھی چھٹکارا پانے دے گا اور نہ آدمی کی کسی نیکی کا کوئی اعتبار رہنے
دے گا۔
خدا ہمیں اس سے بچا کر رکھے۔
اب ہم اس (اصل) شرک یعنی شرکِ اکبر کی اقسام کے بارے میں پڑھیں گے۔
شرک اکبر کس کس
صورت میں پایا جا سکتا ہے:
شرکِ اکبر چار قسم کا ہے۔
شرکِ دُعا۔ شرکِ ارادت
شرکِ اطاعت۔ شرکِ محبت
یہاں مصنف (محمد بن عبد الوہاب رحمۃ اللہ علیہ) نے قدرے اختصار سے
کام لیا ہے۔ مصنف کی غالباً مراد یہ ہے کہ وہ شرک جو عام طور پر دیکھنے
میں آتا ہے چار قسم کا ہے۔ وگرنہ شرکِ اکبر کی صورتیں ان چار اقسام کے
سوا اور بھی ہو سکتی ہیں۔
چنانچہ یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ مصنف نے شرکِ اکبر کی جن چار اقسام
کا ذکر کیا ہے وہ سب کی سب شرکِ عبادت یعنی شرکِ الوہیت کی ہی اقسام
ہیں۔ کیونکہ عبادت کا شرک ہی لوگوں میں سب سے زیادہ عام ہوا ہے اور
زیادہ لوگوں کے بھٹکنے کا یہی اصل باعث رہا ہے۔ تاہم شرکِ اکبر کا
دائرہ اس سے وسیع تر ہے۔ ربوبیت یا ذات و صفات کے اندر شرک ہو تو وہ
بھی شرک اکبر ہی کہلاتا ہے۔ مصنف کی ذکر کردہ اصنافِ شرک (شرکِ الوہیت)
کی تفصیل میں جانے سے پہلے یہاں اسی کی کچھ وضاحت کی جاتی ہے:
ربوبیت کے باب میں شرک یہ ہوگا کہ آدمی کائنات پر یا کائنات کے کسی
واقعے پر خدا کے سوا کسی ہستی کا کم یا زیادہ تصرف مانے۔ کسی زندہ یا
مردہ کے بارے میں یہ سمجھنا کہ ___ معاذ اللہ ___ خدا نے اس کو اپنا
ہاتھ بٹانے کیلئے رکھا ہوا ہے یا یہ کہ مافوق الفطرت انداز میں مخلوق
کے کچھ معاملے اس نے سنبھال رکھے ہیں شرک اکبر ہے۔
اسی طرح عالَم کو قدیم ماننے کا عقیدہ ربوبیت کا شرک ہے۔ گو ایک
لحاظ سے یہ ذات کا شرک بھی ہے۔ ذات کا شرک اس لحاظ سے کہ جس طرح خدا کی
ذات کی کوئی ابتدا نہیں وہی خصوصیت یہ مشرک مادہ کے اندر تسلیم کرتا
ہے۔ شرکِ ربوبیت یہ اس طرح بنتا ہے کہ یہ مشرک سمجھتا ہے کہ مادہ کا
وجود آپ اپنی قوت سے ہے۔ خدا کے سوا کسی اور کی قوت تسلیم کرنا ربوبیت
کا شرک ہے اور شرک اکبر ہے۔
چنانچہ یہ کہنا کہ مادہ نہ پیدا کیا جا سکتا ہے اور نہ فنا کیا جا
سکتا ہے۔ یہ کہتے وقت مقصد اگر یہ ہو کہ مخلوق یہ کام نہیں کر سکتی تو
ایسا کہنے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ اگر اس سے مراد مطلق ہو، جیسا کہ
ملحد سائنسدان کہتے ہیں کہ مادہ کی نہ تو پیدائش ممکن ہے اور نہ فنا،
تو یہ ربوبیت کا شرک ہے۔ جو چیز نہ پیدا ہو سکتی ہو اور نہ فنا، دوسرے
لفظوں میں اس کی کوئی ابتدا ہے اور نہ انتہا۔ یہ یقینا شرکِ اکبر ہے۔
اسی طرح 'نیچر' سے واقعات کو منسوب کرنے والے لوگ بھی شرکِ اکبر کے
مرتکب ہوتے ہیں، اور یہ بات ہمارے معاشروں میں اب بہت عام ہوگئی ہے۔
'کلیسا' سے جان چھڑانے کے بعد مغرب کے ذہین دماغوں کو کئی سارے خدا
گھڑنے پڑے۔ پرانے بت اب کام دینے والے نہ تھے۔ معاشرتی اور سماجی زندگی
میں اب اور طرح کے خدا بنائے گئے جبکہ مافوق الفطرت mata physical
مسائل میں اور طرح کے خدا۔ 'نیچر' اِن میں کا ایک بہت بڑا خدا تھا۔
کائنات کے حسین واقع اور اس محیر العقول تناسق کو کسی نہ کسی ذات
کا فعل قرار دینا گویا انسان کی فطرت میں سمو دیا گیا ہے۔ آج کے ملحد
بھی اس فطری ضرورت سے جان نہیں چھڑا سکتے۔ اسی لئے آپ سائنس کی کتابوں
کے اندر کائنات کے دلچسپ وحیران کن وقائع کی تفسیر میںلکھا دیکھتے ہیں
'قدرت نے یہ کیا اور قدرت نے وہ کیا'۔ اب اِس 'قدرت' سے کیا مراد ہے؟
کائنات کے عجائب کو اب یہ لوگ 'نیچر' یا mother nature سے منسوب کرتے
ہیں۔ 'نیچر' ایک ایسا موہوم خدا ہے جو صرف وہی صفات رکھتا ہے جو ملحد
سائنسدان اس کو دینے پر رضامند ہوں!
موجودہ دور میں انسانی ذہن کی تشکیل زیادہ تر اسی مغرب کے نقشے پر
ہوئی ہے۔ خود مسلم معاشروں کی ایک بڑی تعداد اس شرک سے متاثر ہوئے بغیر
نہیں رہی ہے۔ مسلم معاشروں میں گو کھل کر خدا کی ربوبیت کا انکار نہیں
بھی کیا گیا مگر 'نیچر' کا مغربی ڈیزائن بھی واضح طور پر مسترد نہیں
کیا گیا۔ پس یہ ایک ملغوبہ ہے جو ہمیں یہاں کی درسی کتابوں اور تعلیمی
نصابوں کے اندر اور یہاں کی فکری قیادت کے ہاں پایا گیا ملتا ہے۔ 'خدا'
کی ربوبیت کا بھی ذکر نظر آتا ہے اور 'نیچر' کی صلاحیت کا بھی!
اُردو زبان میں نیچر کیلئے 'طبیعت' کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے،
'قدرت' کا بھی اور 'فطرت' کا بھی۔ 'قدرت' اس معنی میں نہیں کہ اللہ
تعالیٰ کا امورِ کائنات پر قادر ہونا، نہ ہی فطرت اس معنی میں جس فطرت
کا لفظ قرآن اور احادیث کے اندر وارد ہوا ہے، اور جس سے مراد ہوتی ہے
خدا کی بخشی ہوئی وہ ساخت جو ہر چیز کو اُس کی جانب سے عطا ہوئی ہے،
بلکہ 'طبیعت'، 'قدرت' اور 'فطرت' کے لفظ ہمارے ان درسی نصابوں کے اندر
اسی معنی میں وارد ہوتے ہیں جس میں 'نیچر' کا لفظ مغرب کے تعلیمی
نصابوں کے اندر مستعمل ہے اور جو کہ شرکِ اکبر ہے۔
کائنات کے واقعات کو 'قدرت' یعنی نیچر کا فعل قرار دینا بلاشبہ
شرکِ ربوبیت ہے اور موجودہ دور کے اندر بہت عام۔
اسی سے متصل مختلف کائناتی واقعات کو مستقل بالذات انداز میں لینا
ہے۔ زلزلہ، طوفان، موت، حادثات وغیرہ ایسے وقائع کا ذکر 'نیچر' پر
ایمان رکھنے والے معاشرے اور میڈیا کے اندر ایک خاص انداز سے ہوتا ہے
جس کے پیچھے دراصل وہی ذہنیت کام کرتی ہے کہ یہ واقعات بغیر کسی حکیم
کی تدبیر کے اور یونہی آپ سے آپ ہو جاتے ہیں اور صرف اور صرف 'طبعی'
اسباب کے محتاج ہیں۔ یہ مذہب بلاشبہ ربوبیت کے باب میں شرک ہے اور شرکِ
اکبر ہے۔
جہنم میں جلنے کی جو وعید لات اور عزی کو پوجنے پر ہے وہی وعید
'نیچر' کو پوجنے پر ہے۔
دورِ حاضر میں سائنس کے جتنے انکشافات ہوئے، مسلم معاشروں میں
توحید کو ایک عصری انداز میں پڑھایا گیا ہوتا تو حقائقِ کائنات کا یہ
اتنا بڑا ذخیرہ سارے کا سارا توحیدِ ربوبیت کی تعلیم کا ذریعہ بن جاتا
ہے جس پر حمد اور تسبیح اور تکبیر کا اندازِ اعتراف مسلم معاشروں میں
توحیدِ بندگی کی بنیاد پختہ کر سکتا ہے۔ مگر یہ کام ایک خاطر خواہ
انداز میں نہ تو یہاں کا 'دنیا دار' طبقہ کر سکا اور نہ 'دیندار' طبقہ۔
یہ منہج درست کر لیا جائے تو 'سائنس' دراصل 'توحید' کا علم ہے اور
خدا کی 'آیات' کا مطالعہ۔ (1)
یہ تو رہا لادین طبقے کا شرک۔ رہا ربوبیت کے باب میں بعض مذہبی
طوائف کا شرک تو خدا کے ماسوا ہستیوں کا تکوینی اختیار تسلیم کرنے کے
بھی بہت سے مظاہر یہاں دیکھے گئے ہیں۔ جس طرح عیسائیوں کے ہاں رائج ہے
کہ 'یسوع' نے کسی کو یہ دیا یا 'یسوع' نے یہ نہیں دیا۔ اسی طرح ہمارے
یہاں بھی عوام الناس بعض صالحین اور نیک ہستیوں کی بابت ایسے الفاظ
استعمال کرتے ہیں۔ 'فلاں سرکار نے فلاں شخص کو یہ دیا' ایسی تعبیرات
مستعمل ہیں۔ پیر نے کسی کا کچھ بنا دیا یا بگاڑ دیا، یہ سب ربوبیت کا
شرک ہے، 'پیراں دتہ' ایسا نام رکھنا یا خدا کے سوا کسی ہستی کو داتا
اور مشکل کشا یا حاجت روا کا نام دینا یا کسی کے بارے میں ایسا اعتقاد
رکھنا شرکِ ربوبیت ہے اور جہنم کا سامان۔
جہاں تک شرکِ ذات کا تعلق ہے تو اس کی ایک مثال وحدۃ الوجود کا
عقیدہ ہے۔ یعنی خالق اور مخلوق کو یکجا کر دینا۔ اسی طرح خدا کیلئے
بیٹا یا بیٹی کا وصف بیان کرنا شرک فی الذات ہے۔ کسی کو خدا کا جزو
ماننا یا خدا کے نور میں سے نور ماننا (اس معنی میں کہ وہ خدا کا حصہ
ہے) بھی ذات کا شرک ہے۔
رہا صفات کا شرک تو وہ یہ کہ خداکی کسی صفت کا کسی مخلوق کیلئے
اثبات کیا جائے، مثلاً کسی مخلوق کے بارے میں یہ اعتقاد رکھنا کہ وہ
غیب کا علم جان سکتا ہے یا وہ سینوں میں چھپے راز پا سکتا ہے۔ وغیرہ۔
خدا کی صفات کو مخلوق سے تشبیہ دینا بھی شرک فی الصفات ہے۔
خدا کا کوئی نقص بیان کرنا، خدا کیلئے معاذ اللہ کسی مجبوری یا بے
بسی کا اثبات کرنا یا خدا کیلئے کسی کام کو بڑا جاننا بھی صفات کا شرک
ہے۔ کیونکہ یہ دراصل خدا کو مخلوق کی صفات سے متصف کرنا ہے۔
یہ سب شرکِ اکبر ہی ہے۔
رہ گیا الوہیت کا شرک تو اس کی وضاحت شرکِ اکبر کی ان چار اقسام
میں آرہی ہے جو آپ آئندہ صفحات کے اندر دیکھیں گے۔
شرک اکبر
پہلی قسم: دُعا کا شرک
پہلی قسم: دُعا ومناجات میں شریک کرنا۔ اس کے شرک ہونے کی دلیل
قرآن کی یہ آیت ہے۔
فاذا رکبوا فی الفلک دعوا اﷲ مخلصین لہ الدین فلما نجاھم الی البر
اذاھم یشرکون (العنکبوت: ٦٥) ''جب یہ لوگ کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو
اپنے دین کو اللہ کیلئے خاص کرکے اس سے دُعا مانگتے ہیں پھر جب وہ
انہیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو یکایک یہ شرک کرنے لگتے ہیں''۔
دُعا عبادت کی ایک بہترین صورت ہے۔
وقال ربکم ادعونی استجب لکم ان الذین یستکبرون عن عبادتی سیدخلون
جھنم داخرین (المؤمن: ٦٠) ''تمہارا رب کہتا ہے ''مجھے پکارو میں تمہاری
دُعائیں قبول کروں گا، جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں ضرور وہ
ذلیل وخوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے''۔
عن النعمان بن بشیر قال: سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم
یقول: ''الدعاء ھو العبادۃ ثم قرأ ''وقال ربکم ادعوني استجب لکم ان
الذین یستکبرون عن عبادتی سیدخلون جھنم داخرین (الترمذی، مسند احمد،
ابن ماجۃ) ''نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، کہا: میں
نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا: ''دُعا ہی تو اصل
عبادت ہے اور تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی وقال ربکم
ادعونی۔۔۔۔۔۔ ''تمہارا رب کہتا ہے: مجھے پکارو۔ میں تمہاری دُعائیں
قبول کروں گا، جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں ضرور وہ ذلیل
وخوار ہو کرجہنم میں داخل ہوں گے''۔
دُعا جب عبادت کی جان ہے تو پھر اس کو غیر اللہ کیلئے روا رکھنا
غیر اللہ کی عبادت ہے جو کہ شرکِ اکبر ہے۔
ومن اضل ممن یدعو من دون اﷲ من لا یستجیب لہ الی یوم القیامۃ وھم
عن دعائہم غافلون واذا حشر الناس کانوا لہم اعداءوکانوا بعبادتہم
کافرین (الاحقاف: ٥٠٤) ''آخر اس شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون
ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر ایسوں کو پکارے جو قیامت تک اس کی دُعا قبول
نہ کرسکیں بلکہ اس سے بھی بے خبر ہیں کہ پکارنے والے ان کو پکار رہے
ہیں اور جب تمام انسان جمع کئے جائیں گے، اس وقت وہ اپنے پکارنے والوں
کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی عبادت سے صاف انکار کر جائیں گے''۔
اس آیت سے واضح ہوا کہ ''وکانوا بعبادتھم کافرین'' کہ اللہ کے سوا
پکاری جانے والی ہستیاں قیامت کے روز اپنی عبادت کی جانے کے اس فعل سے
براءت کریں گی۔ چنانچہ ان کو پکارا جانے کو قرآن میں ان کی عبادت کی
جانا قرار دیا گیا ہے۔
بنا بریں عیسائیوں کا 'یسوع' کو پکارنا شرک ہے۔ گو 'یسوع' سے مراد
عیسیٰ علیہ السلام ہیں جو کہ اللہ کے ایک رسول ہیں۔ ان کو پکار کر وہ
مشرک ہو جاتے ہیں اور یہ شرک بھی شرکِ اکبر ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کو
پکارنا شرک اکبر ہے تو یاعلی مدد کہنا بھی شرک اکبر ہے۔ یا غوث کہہ کر
پکارنے اور مدد طلب کرنے کا بھی یہی حکم ہے۔ کوئی 'پنجتن پاک' کو
پکارے، کوئی 'داتا' کو یا کسی اور قبر والے کو شرکِ اکبر کا مرتکب ہوتا
ہے ایسے واقعات کے خلاف اُمت کا وہی ردعمل ہونا چاہیے جو کہ کاٹھ یا
پتھر کے بتوں کو پوجنے کے خلاف۔ کیونکہ وہ بھی شرکِ اکبر ہے اور یہ
بھی۔
شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ اس دور
کے بعض مشرک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے مشرکوں سے
بھی بدتر ہیں اور وہ اس طرح کہ قرآن میں ان کی بابت ذکر ہوا ہے کہ وہ
عام حالات میں بعض مخلوق ہستیوں کو پکارتے مگر جب بیڑی ڈولنے لگتی تو
ایک خدا کو ہی خالصتاً مدد کیلئے پکارتے۔ مگر آج کے مشرک سخت سے سخت
وقت میں بھی پکاریں گے تو اپنے خاص معبودوں کو ہی۔
شرکِ اکبر کی اس پہلی قسم میں غیر اللہ سے' دُعا کرنا' ہی نہیں
بلکہ 'جوارح کے ساتھ کی گئی عبادت کی دیگر اشکال' بھی آجاتی ہیں۔
شرک اکبر کی چار اقسام: دُعا کا شرک، مقصود ومراد کا شرک، اطاعت کا
شرک اور محبت کا شرک ذکر کردینے سے یہ مراد نہیں کہ عبادت کی دیگر
اشکال مانند سجدہ ورکوع، نذر اور طواف، ذبیحہ وغیرہ کو غیر اللہ کیلئے
روا رکھنا شرک اکبر نہیں۔
چنانچہ کوئی شخص غیر اللہ کو سجدہ یا رکوع وغیرہ کرے۔ غیر اللہ کے
نام کی نذر کرے۔ کسی 'سرکار' کے در کا طواف کرے۔ اللہ کے سوا کسی کیلئے
ذبیحہ دے یا جوارح کی عبادات میں سے کسی بھی عبادت کو غیر اللہ کیلئے
روا رکھے تو وہ شرک اکبر کا ہی مرتکب ہے۔
شرکِ اکبر آدمی کو دائرہئ اسلام سے خارج کر دیتا ہے اور وہ ابدی
جہنم کا مستحق بنتا ہے۔
شرک اکبر
دوسری قسم: شرکِ ارادہ
دوسری قسم: مقصود اور مراد میں شرک کا پایا جانا
اس کی دلیل یہ آیت ہے:
من کان یرید الحیاۃ الدنیا وزینتھا نوف الیھم اعمالھم فیھا وھم
فیھا لا یبخسون اولئک الذین لیس لھم فی الاآخرۃ الا النار وحبط ما
صنعوا فیھا وباطل ما کانوا یعملون (ھود: ١٥۔ ١٦) ''جو لوگ بس اسی دُنیا
کی زندگی اور اس کی خوش نمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ان کی کارگزاری کا
سارا پھل ہم ان کو یہیں دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی
نہیں کی جاتی۔ مگر آخرت میں ایسے لوگوں کیلئے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے
(وہاں معلوم ہو جائے گا کہ) جو کچھ انہوں نے دُنیا میں بنایا وہ سب
ملیامیٹ ہو گیا اور اب ان کا سب کیا دھرا محض باطل ہے''۔
مقصد اور نیت و ارادہ کا شرک بعض حالات میں شرک اکبر ہوتا ہے اور
بعض حالات میں شرک اصغر۔ نیت اور مقصد کے باب میں شرکِ اصغر کا بیان
آگے چل کر آئے گا۔ یہاں چونکہ شرکِ اکبر کی اقسام بتائی جا رہی ہیں
لہٰذا یہاں ہم 'مقصد اور نیت و ارادہ' کے حوالے سے جن خطرناک امور کو
بیان کریں گے ان کا تعلق شرک اکبر سے ہی ہے۔ ان سے آدمی کو بہت ہی
متنبہ رہنا چاہیے۔
مصنف نے مذکورہ بالا آیت شرکِ اکبر کے حوالے سے یہاں جو آیت درج کی
ہے، فتح المجید (کتاب التوحید کی شرح) میں خود مصنف ہی کی بیان کردہ اس
کی جو تفسیر نقل کی گئی ہے اس سے ہمیں اس شرک کی نوعیت کا پتہ چلتا ہے۔
نیت اور مقصد کے حوالہ سے اس شرکِ اکبر کا خلاصہ یہ بنتا ہے:
آدمی کا صدقہ وخیرات کرنا۔ لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔ صلہ رحمی
کرنا۔ ظلم وزیادتی سے اجتناب کرنا۔ رفاہ عامہ کے کام کرنا اس طرح کہ ان
کاموں سے آدمی کا مقصود دور دور تک اللہ اور یوم آخرت نہ ہو۔ یا مثلاً
آدمی نماز وغیرہ کی ادائیگی کرے تو وہ ہرگز آخرت کے کسی ثواب کیلئے
نہیں بلکہ محض اور محض اس لئے ہو کہ اس کو دُنیا کی زندگی میں ترقی ملے
اور رِزق میں فراخی نصیب ہو۔ جنت کی طلب یا جہنم سے نجات کا دور دور تک
اس کی عبادت یا ریاضت سے کوئی واسطہ ہی نہ ہو۔ پس یہ وہ شخص ہے جس کو
اس کے کئے کا نیک بدلہ جس قدر ملنا ہو دنیا ہی میں مل جائے گا اور آخرت
میں اس کا کوئی ذرہ بھر حصہ نہیں۔
آخرت میں ذرہ بھر حصہ نہ ہونا بنیادی طور پر صرف ایک مشرک کا ہی
نصیب ہے۔ چنانچہ یہ شخص مشرکین کے زمرے میں شمار ہوگا۔ یوں بھی آیت کا
سیاق واضح ہے کہ یہ ایک کفریہ یاشرکیہ رویہ کا ہی ذکر ہے۔
موجودہ دور میں بنیادی طور پر یہ ایک باقاعدہ نظریہئ حیات ہے۔
غریبوں اور ناداروں کے کام آنا، رفاہ عامہ کے اعمال کرنا۔ مگر اس عمل
سے مقصد دور دور تک خدا اور آخرت کا نہ ہونا بلکہ آدمی کے پیشِ نظر یا
تو دُنیا کی حد تک 'کربھلا ہو بھلا' ایسا انداز فکر ہو، یعنی آدمی کسی
کے ساتھ بھلا کرے گا تو کوئی دوسرا اس کے ساتھ اسی دُنیا میں بھلا کرے
گا۔ آخرت کا بھلا مقصود ہو تو اور بات ہے جو کہ صرف خدا ہی کرے گا نہ
کہ مخلوق) ۔۔۔۔۔۔ یا پھر مقصد لوگوں میں مقبولیت پانا اور مخلوق کو
متاثر کرنا ہو۔۔۔۔۔۔ یا پھر مقصد صرف اپنے 'ضمیر' کی تسکین ہو۔ بہرحال
خدا اور زندگانیِ آخرت آدمی کا بالکل ہی مطلوب نہ ہو۔ 'نیکی' کا یہ
اندازِ فکر بلاشبہ شرکِ اکبر ہے۔
اس شرک سے نجات آدمی صرف اسی وقت پائے گا جب مخلوق کے ساتھ نیکی
کرتے ہوئے یا کسی بھی قسم کی نیکی کرتے ہوئے اس کا مقصد یہ ہو کہ اس کا
یہ عمل خدا کو پسند آئے اور اُس کے ہاں قبول ہو جائے۔
ہاں آدمی کا مقصد بیک وقت خدا اور آخرت پر یقین بھی ہو اور دُنیا
کی شہرت اور مقبولیت بھی ہو۔۔۔۔۔۔ تو تب یہ شرک اصغر ہوگا نہ کہ شرک
اکبر۔ البتہ یہ کہ خدا اور آخرت سرے سے انسان کی نیکی یا نیک نامی ونیک
سیرتی یا خدمتِ خلق کا مقصود نہ ہو، اور جوکہ دورِ حاضر کا ایک باقاعدہ
مذہب ہے، تو تب یہ شرکِ اکبر ہوگا۔ مغرب سے ہمیں جو ایک سماجی اور
رفاہی خدمت یا ایک 'اچھا انسان' ہونے کا تصور ملا ہے وہ بنیادی طور پر
اسی شرک پر قائم ہے۔ یعنی ایک ایسی نیکی جو نہ تو خدا کے کہنے پر کی
گئی، نہ خدا کی خاطر اور نہ ہی خدا کے ہاں قبول ہونے کیلئے۔ یعنی
'نیکی' اور 'احسان' کا تصور تو ہو مگر 'خدا' سے اُس کا کوئی رشتہ نہ
رہنے دیا گیا ہو،ویسے بے شک آدمی خدا کو 'مانتا' ہی ہو! یہ خاص طور پر
اِس لئے بھی کہ انسان اپنی مستقل بالذات حیثیت کا ادراک کرے جو ایک
ذہنی وفکری ترقی کرتے کرتے یہاں پہنچ چکا ہے کہ خدمتِ خلق کیلئے بڑی
بڑی این جو اوز کھڑی کردینے کیلئے کسی مافوق الفطرت ہستی کو بیچ میں لے
آنے کا اب کچھ ایسا ضرورت مند نہیں رہا۔ یہ طرز حیات آج ایک کثیر خلقت
میں رائج ہوا ہے اور اس کے داعی 'انسان پرستی' کے لبادے میں آپ کو عام
ملیں گے۔
توحید یہ ہے کہ آدمی کے عمل کی غایت خدائے رب العالمین ہو اور اس
میں کوئی اس کا شریک نہ رہے۔
وَانَّ اِلیٰ رَبِّکَ الْمُنتَھیٰ (النجم: ٤٢) اور یہ کہ آخر کار
پہنچنا تیرے ربّ ہی کے پاس ہے۔
جس عمل یا جس نیکی یا جس خوبی کو خدا کے آگے پیش کیا جانے کیلئے نہ
کیا گیا وہ صرف ضائع ہی نہیں بلکہ بلائے جان بھی ہوگی۔
لا الہ الا ہو، کل شيء ھالک الا وجھہ (القصص: ٨٨) ''اُس کے سوا
کوئی معبود نہیں، باقی ہر شی ہلاک ہونے والی ہے سوائے اُس (ذات کے)چہرے
کے''۔
اس آیت ایک تفسیر، جو کہ امام ابن کثیر، مجاہد اور ثوری سے نقل
کرتے ہیں اور جس کی کہ امام بخاری اور امام ابن القیم بھی توثیق کرتے
ہیں یہ ہے کہ ''کُلُّ شيء ھالک الا وجھہ: ای الا ما ارید بہ وجھہ یعنی
''ہر چیز برباد ہوجانے والی ہے سوائے اس چیز کے جس کے ذریعے خدا کا
چہرہ پانے کی طلب کی گئی ہو''۔ (دیکھیے تفسیر ابن کثیر بہ ذیل آیت ٨٨،
سورۃ القصص)
یہاں ہم شیخ سفر الحوالی کی ایک عبارت کا اختصار کرنا بھی مفید
پاتے ہیں: ''خدا رحمت کرے شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ پر جو
اپنی مبارک کتاب: کتاب التوحید میں بطور خاص ایک باب باندھتے ہیں: باب
من الشرک ارادۃ الانسان بعملہ الدنیا یعنی ''اس بات کا بیان کہ انسان
کا اپنے عمل کے ذریعے محض دُنیا کا طالب ہونا بھی شرک ہی ہے''۔ اور پھر
اس پر یہ آیت لے کر آتے ہیں: من کان یرید الحیوۃ الدنیا و زینتھا نوف
الیہم أعمالہم فیہا وھم فیھا لا یبخسون (ھود: ١٥) ''جو لوگ بس اسی دنیا
کی زندگی اور اس کی خوش نمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ان کی کارگزاری کا
سارا پھل ہم ان کو یہیں دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی
نہیں کی جاتی''۔
اور پھر یہ حدیث مبارکہ نقل کرتے ہیں، جو کہ صحیح ہے: تعس
عبدالدینار، تعس عبدالدرھم، تعس عبدالخمیصۃ، تعس عبدالخمیلۃ، ان أعطی
رضی، وان لم یعط سخط۔۔۔۔۔۔ ''تباہ ہو دینار کا عبد۔ تباہ ہو درہم کا
عبد۔ تباہ ہو اعلیٰ پوشاک کا عبد۔ تباہ ہو جو ٹھاٹھ کی وردی کا پجاری
ہوا، تباہ ہو پوشاک کا بندہ جب اس کو (یہ) ملے تو راضی نہ ملے تو
برہم۔۔۔۔۔۔''
''حقیقت یہ ہے کہ اس کی مراد اس سے کہیں وسیع تر اور عمیق تر ہے
جوکہ محمد بن عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے علامہ سلیمان بن
عبداللہ اس کی شرح ''تیسیر العزیز'' میں بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
''اس باب سے مراد ہے کہ انسان کوئی نیک عمل کرتے ہوئے دُنیا کی طلب
کرے۔ مثلاً وہ شخص جو قطیفہ اور خمیلہ (اعلیٰ پوشاک) پانے کے لئے جہاد
کرے''۔
چنانچہ (شیخ سلیمان بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ کی بیان کردہ) یہ
بات گو (محمد بن عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ کے بیان کی) مراد میں ایک
طرح سے آتی ہے مگر اس سے صرف اور صرف یہی مراد لے لینا ایک بہت وسیع
مفہوم کو تنگ کر دینا ہے اور میرا گمان ہے کہ مؤلف (شیخ محمد عبدالوہاب
رحمۃ اللہ علیہ) نے اس باب کے اندر اسی کو واضح کرنا چاہا ہے۔ اور وہ
یہ کہ آج انسانوں کی اکثریت نے ___ جن میں کہ مسلمان بھی شامل ہیں اور
غیر مسلم بھی ___ اپنا سب کا سب ہمّ وغم، اپنی محنت اور کوشش اور اپنا
منتہائے زیست بس دُنیا کو بنا لیا ہے۔ دِلوں میں کوئی تمنا وآرزو یا
کوئی ہلچل ہوتی ہے تو بس وہ دُنیا کیلئے اور دُنیا کے بل پر۔ یہاں تک
کہ خدا کو بھی پکاریں گے یا عبادت کریں گے تو وہ اس لئے کہ صحت
وتندرستی یا رزق میں برکت وفراوانی آئے۔ اب یہ جو باب ہے یہ اس باب سے
کہیں وسیع تر ہے جس میں کہ ایک مومن بندہ بھی نیک عمل کرنے کے دوران
نیت کی کسی خرابی کا شکار ہو جاتا ہے اور جس میں کہ بعض نیک لوگ بھی
کبھی کبھی گر جاتے ہیں اور جس کا کہ مخلصین کو بھی روز ہی خطرہ رہتا
ہے۔
اسی طرح (محمد بن عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ کی ذکر کردہ) حدیث کا
مفہومِ ظاہر بھی شارح (سلیمان بن عبداللہ) کی بات کا مؤید نہیں۔ حدیث
سے جو مراد ہے وہ ہے 'دِل کا غیر اللہ کی بندگی اور قصد کرنا' نہ کہ
'محض نیک عمل کے دوران نیت میں فرق کا آجانا'۔ آپ دیکھتے نہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دُنیا کا بندہ بننے کو اور دِل کے
عمل کو یکجا کردیا ہے، چنانچہ فرمایا: ان اعطي رضي، وان لم یعط سخط
''اس کو مل جائے تو وہ راضی، نہ ملے تو برہم'' اب یہ عین وہی بات ہے جو
قرآن مجید میں منافقین کی بابت کی گئی ومنھم من یلمزک فی الصدقات فان
اعطوا منھا رضوا وان لم یعطوا منھا اذا ھم یسخطون (التوبۃ: ٥٨) ''اے
نبی ان میں سے بعض لوگ صدقات کی تقسیم کے بارے میں آپ پر عیب رکھتے
ہیں۔ اگر اس مال میں سے ان کو کچھ مل جائے راضی اور اگر اس میں نہ ملا
تو فوراً ہی بگڑ کھڑے ہوئے''۔ جبکہ یہ سارا سیاق نفاقِ اکبر کا ہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ آفت اس بات سے کہیں بڑی ہے کہ ایک آدمی کسی
معاوضہ یا غنیمت کی رغبت دِل میں رکھتے ہوئے جہاد کرے جو کہ زیادہ سے
زیادہ ایک گناہ ہوگا اور جس سے کہ توبہ بھی آدمی کر ہی لیتا ہے۔ یہ وہ
پیچیدہ مرض نہیں (جس کی ہم بات کرر ہے ہیں) عین ممکن ہے آدمی کسی مال
یا دولت کی چاہت بھی کرتا ہو اور جہاد میں شریک بھی ہو مگر جب وہ مال
حاصل کرلے تو مال اس کے ہاتھ میں ہی رہے نہ کہ دِل میں برخلاف اس شخص
کے جس کو دُنیا کی طلب نے مکمل طور پر اپنا اسیر بنا رکھا ہے، اور جس
کے عقل وذہن پر دُنیا، مکمل طور پر حاوی ہو چکی ہو۔ یہی وہ شخص ہے جس
پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان کردہ یہ لفظ سب سے
زیادہ فٹ آتا ہے کہ وہ عبدالدرہم اور عبدالدینار ہے اور اسی پر اللہ
تعالیٰ کا یہ فرمان منطبق ہوتا ہے:
فأعرض عمن تولی عن ذکرنا
ولم یرد الا الحیاۃ الدنیا ذلک مبلغہم من العلم ان ربک ھو أعلم بمن ضل
عن سبیلہ وھو أعلم بمن اھتدی
(النجم: ٢٩، ٣٠) ''پس اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! اس شخص سے رخ موڑ
لیجئے جو ہماری یاد سے منہ موڑے اور جس کا ارادہ بجز زندگانیِ دُنیا کے
اور کچھ نہ ہو۔ یہی ان کے علم کی انتہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا
رب اس سے خوب واقف ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا ہے اور وہی خوب واقف ہے
اس سے بھی جو راہ یافتہ ہے''۔
شرک اکبر
تیسری قسم: شرک اطاعت
تیسری قسم: اطاعت کی مختلف صورتوں میں اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔
اس کے شرک ہونے کی دلیل قرآن کی اس آیت سے ملتی ہے۔
اتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اﷲ والمسیح ابن مریم وما
امروا الا لیعبدوا الھا واحداً لا الہ الا ھو سبحانہ عما یشرکون
(التوبہ: ٣١) ''انہوں نے اپنے علماء اور دریشوں کو اللہ کے سوا رب بنا
لیا ہے اور اسی طرح مسیح ابن مریم کو بھی۔ حالانکہ ان کو ایک معبود کے
سوا کسی کی بندگی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا، وہ جس کے سوا کوئی
مستحق عبادت نہیں۔ پاک ہے وہ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے
ہیں''۔
اس آیت کی تفسیر، جس میں کوئی شبہ یا اشکال کی گنجائش نہیں، یہ ہے
کہ ان علماء اور نیک بندوں کو پکار کر یا ان سے دُعا کرکے ان کو الہ نہ
بنایا جاتا تھا بلکہ بات صرف اتنی تھی کہ ان کی اطاعت کی جاتی تھی جیسا
کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عدی بن حاتم کے سامنے
خود اس کی تفسیر کی جب انہوں نے آپ سے دریافت کیا کہ ہم تو ان کی عبادت
نہ کرتے تھے تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی عبادت دراصل
یہ تھی کہ باطل میں ان کی اطاعت کی جاتی تھی۔
'عبادت' کا تصور اسلام میں بہت وسیع ہے اور بہت واضح۔ عبادت محض
'پوجا پاٹ' نہیں جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں۔ عبادت محض نذر اور چڑھاوا
نہیں۔ رب العالمین کے مقابلے میں کسی کی بات یا کسی کا حکم تسلیم کرنا
دراصل اس ہستی کی عبادت ہے۔ معبود صرف وہی نہیں جس کو حاجت روا یا مشکل
کشا مانا جائے بلکہ جس ہستی کی آپ اطاعت کا دم بھرتے ہوں یوں کہ خدا کے
ہاں سے اتری ہوئی کسی بالاتر سند سے مطلق آزاد وہ آپ کا مطاع وپیشوا ہو
اور آپ اس کے حکم وقانون کو تسلیم کرتے ہوں تو دراصل وہ آپ کا رب اور
معبود ہے چاہے آپ اس کیلئے 'رب' یا 'خدا' یا 'معبود' ایسے الفاظ
استعمال نہ بھی کرتے ہوں اور چاہے اپنے اس فعل کو آپ 'عبادت' نہ کہتے
ہوں۔
'عبادت' کے بارے میں یہ غلط فہمی جو آج مسلمانوں کی کثیر تعداد کو
ہو چکی ہے عین یہی غلط فہمی صحابیِ رسول عدی رضی اللہ تعالی عنہ بن
حاتم کو بھی اس وقت لاحق تھی جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
کے پاس اسلام قبول کرنے آئے تھے:
عن عدي بن حاتم أنہ سمع
النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقرأ ھذہ الآیۃ (اتخذوا أحبارھم
ورھبانہم أربابا من دون اﷲ) الأیۃ فقلت لہ: إنا لسنا نعبدھم قال: ألیس
یحرمون ما أحل اﷲ فتحرمونہ، ویحلون ما حرم اﷲ فتحلونہ؟ فقلت: بلی، قال:
''فتلک عبادتہم'' رواہ احمد والترمذی وحَسَّنہ۔
''عدی رضی اللہ تعالی عنہ بن حاتم سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی
صلی اللہ علیہ وسلم کو (سورہ توبہ کی) یہ آیت (٣١) پڑھتے ہوئے سنا
''انہوں نے اپنے احبار اور رہبان کو اللہ کے سوا رب بنا لیا ہے'' (عدی
کہتے ہیں) تو میں نے کہا: ہم ان کی عبادت تو نہیں کرتے۔ آپ نے فرمایا:
جب وہ خدا کے حلال ٹھہرائے ہوئے کو حرام ٹھہراتے تو تم اس کو حرام نہیں
ٹھہراتے اور جب وہ خدا کے حرام کردہ کو حلال کر لیتے ہیں تو تم ان
کوحلال نہیں ٹھہراتے؟ میں نے کہا: یہ تو ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: تو پھر یہی تو ان کی عبادت ہے''۔
چنانچہ کسی کو حلال اور حرام کا تعین کرنے کا حق دینا دراصل اس کو
خدا بنانا ہے اور اس کے حکم وقانون کو تسلیم کرنا درحقیقت اس کی عبادت
کرنا۔ انسان کا انسان پر خدا بن بیٹھنا دراصل یہی ہے۔
ولا یتخذ بعضنا بعضا
أرباباً من دون اﷲ
(آل
عمران:٦٤) یہ وہ دعوت تھی جس کو ازروئے قرآن رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم اہل کتاب کو دینے پر مامور تھے یعنی ''ہم ایک دوسرے کو اپنا
خدا نہ بنا لیں'' جبکہ ظاہر ہے اہل کتاب اس انداز سے اپنے بڑوں کی
عبادت نہ کرتے تھے جو بادیئ النظر عدی رضی اللہ تعالی عنہ بن حاتم نے
قرآن کے الفاظ سے سمجھا۔ انسانوں کا ایک دوسرے پر خدا بن بیٹھنے سے
یہاں مراد یہ ہے کہ کوئی انسان دوسرے پر اپنا حکم چلائے اور یہ کہ سب
کے سب اطاعت وبندگی کی صورت میں ایک خدائے رب العالمین کی عبادت نہ
کریں۔
اس آیت اور حدیث کے ضمن میں امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے
ہیں: ''ابو البختری کہتے ہیں: وہ (اہل کتاب) ان (احبار ورُہبان) کے
حضور میں کھڑے ہو کر کوئی نماز نہیں پڑھتے تھے۔ اس انداز سے اگر وہ ان
کو اپنی عبادت کا حکم دیتے بھی تو وہ تسلیم نہ کرتے۔ البتہ وہ ان کیلئے
حکم صادر کرتے تھے یوں کہ خدا کے ٹھہرائے ہوئے حلال کو حرام کرتے اور
حرام کو حلال، اس میں وہ ان کی اطاعت کرتے تھے اور یہی ان کا رب بننا
تھا۔
ربیع بن انس کہتے ہیں میں نے امام ابوالعالیہ سے دریافت کیا: یہ
بنی اسرائیل میں (انسانوں کا) رب بننا کیا تھا؟ ابوالعالیہ نے کہا: یہ
رب بننا یہ تھا کہ انہوں نے خدا کی کتاب میں اپنے لئے اوامر اور نواہی
کو پایا تو کہنے لگے ہم اپنے احبار سے آگے نہیں گزریں گے لہٰذا وہ ہمیں
جس بات پر لگائیں ہم لگ جائیں گے اور جس بات سے روکیں ہم رک جائیں گے۔
تب وہ انسانوں سے ہی احکام لینے لگے اور کتاب اللہ کو پس پشت ڈال دیا۔
چنانچہ رسول اللہ نے یہ واضح کردیا کہ ان کا اپنے احبار کی عبادت کرنا
دراصل ان کا حرام کو حلال کر لینا تھا اور حلال کو حرام۔ نہ کہ وہ ان
کے حضور میں نماز پڑھتے تھے یا ان کیلئے روزہ رکھتے یا خدا کو چھوڑ کر
ان کو پکارتے تھے (ایسا نہیں تھا)۔ سو یہ ہوئی رجال کی عبادت۔ اور
دوسری اموال کی عبادت تھی۔ اسی بات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان
فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان میں یہ واضح کردیا کہ یہ شرک
ہے۔
اتخذوا
أحبارھم و ربانہم أربابا من دون اﷲ والمسیح بن مریم وما أمروا إلا
لیعبدوا الھا واحداً لا الہ الا ھو سبحانہ عما یشرکون
(التوبۃ: ٣١) ''انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا
لیا اور اسی طرح مسیح بن مریم کو بھی۔ حالانکہ ان کو ایک معبود کے سوا
کسی کی بندگی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ وہ جس کے سوا کوئی مستحق
عبادت نہیں۔ پاک ہے وہ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں''۔
چنانچہ یہ ہے وہ ظلم جو خدا کے اس فرمان میں بطور مفہوم مراد ہے:
احشروا الذین
ظلموا وأزواجھم وماکانوا یعبدون من دون اﷲ فاھدوھم الی صراط الجحیم
(الصافات: ٢٢، ٢٣) ''گھیر لاؤ سب ظالموں اور ان کے ہمراہیوں اور ان
معبودوں کو جن کی وہ خدا کو چھوڑ کر بندگی کیا کرتے تھے۔ ان سب کو (جمع
کرکے) پھر انہیں دوزخ کی راہ دکھاؤ''۔
پس یہ اور وہ جو ان کو اس بات کا حکم دیتے تھے، سب کے سب عذاب
پائیں گے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی:
انکم وما تعبدون من دون
اﷲ حصب جھنم أنتم لھا واردون
(الانبیاء: ٩٨) ''بے شک تم اور تمہارے وہ معبود جنہیں تم پوجتے ہو،
جہنم کا ایندھن ہیں۔ تم سب دوزخ میں جانے والے ہو''۔
اس آیت کی زد سے صرف وہی شخص بچے گا جو اپنی عبادت کئے جانے کو یا
خدا کی معصیت میں اپنی اطاعت کئے جانے کو ناپسند کرتا تھا۔ ایسے شخص
کیلئے البتہ سبقت لھم منا الحسنی کے الفاظ میں بچاؤ کی ضمانت ہے۔ مثلاً
مسیح ؑیا عزیرؑ
وغیرہ فأولئِکَ عَنْھا مُبْعَدُونَ
رہا وہ شخص جو اس بات پر راضی ہو کہ اس کی عبادت ہو اور خدا کی
معصیت میں اس کی اطاعت ہو، تو وہ یقینا وعید کا مستحق ہے، بے شک اس نے
لوگوں کو اس بات کیلئے نہ بھی کہا ہو۔ اب اگر اس نے خود ہی لوگوں کو یہ
کہا ہو تو پھر سوچئے! اس کا کیا حشر ہو؟؟ یہی حکم ان کا ہوگا جو لوگوں
کو غیر اللہ کی عبادت وبندگی کا حکم دیں۔
(ایسوں ہی کے بارے میں) خدا کا ارشاد ہے:
واذ یتحاجون فی النار
فیقول الضعفاء للذین استکبروا انا کنا لکم تبعاً فھل أنتم مغنون عنا
نصیباً من النار۔ قال الذین استکبروا انا کل فیھا ان اﷲ قد حکم بین
العباد
(غافر: ٤٧، ٤٨) ''پھر ذرا خیال کرو اس وقت کا جب یہ لوگ دوزخ میں ایک
دوسرے سے جھگڑ رہے ہوں گے۔ دُنیا میں جو لوگ کمزور تھے وہ بڑے بننے
والوں سے کہیں گے ''ہم تمہارے تابع تھے، اب کیا یہاں تم نار جہنم کی
تکلیف کے کچھ حصے سے ہم کو بچا لو گے؟'' وہ بڑے بننے والے جواب دیں گے:
''ہم سب یہاں ایک حال میں ہیں، اور اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر چکا
ہے''۔ (ملاحظہ ہو مجموع فتاوی ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ، ج ٧، ص ٢١۔
٢٣)
یہودی اور عیسائی معاشروں میں 'مذہبی طبقہ' کا یہ حق کہ وہ لوگوں
کے معاملاتِ زندگی میں جائز اور ناجائز کا تعین کریں، ایک تاریخی واقعہ
بھی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ ایک عرصہئ دراز تک مغرب کے عیسائی معاشروں میں
کلیسا کو حکم وقانون کے معاملے میں اندھے اختیارات حاصل تھے۔ پوپ اور
پادری جو کہہ دیں وہی حرف آخر تھا۔ وہ جس بات کو چاہیں روا کر دیں اور
جس بات کو چاہیں ناروا۔ مذہبی طبقے کے اس قانونی اور آئینی اختیار کو
یورپ کی تاریخ میں 'تھیو کریسی' Theocracy یا 'حُکْمُ رِجالِ الدِّین'
کے عنوان سے ذکر کیا جاتا ہے۔ یہ تاریخِ انسانی کا ایک بدترین شرک تھا
جس نے کہ یورپ کے ایک عام انسان کی زندگی اجیرن کر رکھی تھی۔ قرآن نے
بہت پہلے اس کا بطلان کردیا تھا مگر مغربی جہالت بہت صدیوں تک اس سے
خلاصی پانے کی متحمل نہ ہوئی۔ (2)
تاآنکہ وہ وقت آیا جب اس کے خلاف یورپ میں ایک طوفان ابل پڑا۔ یہ
تھیو کریسی کے شرک کے خلاف یورپی معاشروں میں تاریخ کا ایک یادگار
ردعمل تھا۔ مگر چونکہ یہ کوئی 'عمل' نہ تھا بلکہ محض 'ردعمل' تھا لہٰذا
ایک شرک کو ہٹا کر دوسرا شرک لایا گیا۔ اب 'کلیسا' Church کا اختیار
ختم کردیا گیا اور اس کی جگہ 'ریاست' State کا اختیار تسلیم کیا گیا۔
انسانی زندگی میں جائز وناجائز کے پیمانے صادر کرنے کا اختیار اب پوپ
اور پادریوں کے بجائے ریاست کی مقننہ یا نمائندگانِ عوام کو منتقل ہو
گیا۔ تھیوکریسی کی جگہ اب ڈیموکریسی کا شرک آیا۔ البتہ اس سے فرق یہ
پڑا کہ اطاعت کا شرک اب 'مذہبی' کی بجائے 'غیر مذہبی' رنگ پکڑ گیا۔ مگر
'شرک اور توحید' بہتوں کے نزدیک چونکہ ایک 'مذہبی' مسئلہ سمجھا گیا
لہٰذا اس شرک کو شرک کہنا لوگوں کو حتی کہ کثیر مسلمانوں کو بہت ہی
اوپرا لگا!
آج کے جدید معاشرے اور جدید ریاستیں بنیادی طور پر اور بڑی حد تک
مغرب کے نقشے پر ہی بنائی گئی ہیں۔ چاہے وہ عالم اسلام میں ہوں یا کہیں
اور۔ جدید معاشروں کی بابت جن لوگوں کی نظر سے یہ بات روپوش ہے وہ اس
دور میں دراصل نہیں رہتے۔ حقیقت یہ ہے کہ اطاعت کا مسئلہ آج بڑی حد تک
'آئین' اور 'قانون' اور 'ریاست' اور 'جمہور' اور 'میڈیا' سے منسلک ہے۔
معاشرے کے اہم تر معاملات کے اندر 'مذہبی' تقدس کو 'آئینی' اور
'قانونی' تقدس سے تبدیل کرلیا گیا ہے۔ 'قانون کا تقدس' آج ہر ہر شخص کی
زبان پر ہے اور اس پر کسی کو اپنی عاقبت کی فکر نہیں ہوتی۔
بنا بریں 'قانون' کا شرک دراصل 'اطاعت' ہی کا شرک ہے اور جو کہ
شرکِ اکبر ہے۔ ہاں یہ درست ہے کہ اطاعت کے شرک کی اور بڑی صورتیں ہیں۔
غیر اللہ کا قانون چلانا یا تسلیم کرنا، جو کہ شرک ہے اور خدا کے
ساتھ کفر اور جو کہ دور حاضر کا ایک بڑا فتنہ ہے، شرکِ اطاعت کا ایک
اہم موضوع ہے۔ انسانوں کے خود ساختہ قوانین کے کفر کی بابت اس دور کے
ایک بڑے عالم، مفتیِ عرب شیخ محمد بن ابراہیم بن عبداللطیف آل الشیخ کے
مشہور رسالہ ''تحکیم القوانین'' سے ایک اقتباس دینا یہاں مناسب معلوم
ہوتا ہے: ''ناممکن ہے کہ شریعت کے ماسوا قانون چلانے والے کو اللہ کافر
کہے اور وہ کافر نہ ہو۔ لازماً وہ کافر ہے چاہے وہ کفر عملی کی بنا پر
کافر ہو، چاہے کفر اعتقادی کی بنا پر۔ اور جو عبداللہ ابن عباس رضی
اللہ تعالی عنہ کا قول اس آیت کی تفسیر میں بروایت طاؤس وغیرہ وارد ہوا
ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حاکم بغیر ما انزل اﷲ کفر کا مرتکب تو
ہوتا ہے چاہے یہ وہ اعتقادی کفر ہو جو ملت سے خارج کر دیتا ہے اور چاہے
وہ عملی کفر ہو جو ملت سے خارج نہیں کرتا۔ جہاں تک پہلی قسم یعنی کفر
اعتقادی کا تعلق ہے تو اس کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں:
کفر اعتقادی کی پہلی صورت:
یہ کہ حاکم بغیر ما انزل اﷲ اس بات کا انکار کرے کہ اللہ اور رسول
صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہی برحق ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی
عنہ کی روایت کا بھی یہی مفہوم ہے، اسی مفہوم کو امام ابن جریر رحمۃ
اللہ علیہ نے اختیار کیا ہے، اور وہ یہ کہ کوئی شخص اللہ کے نازل کردہ
شریعت کے ایک حکم کا سرے سے انکار ہی کر دے، اس مسئلے پر اہل علم میں
کوئی بھی نزاع نہیں۔ چنانچہ اہل علم کے ہاں متفق علیہ اصول ہے کہ جو
شخص اصولِ دین میں سے کسی چیز کا انکار کرتا ہے، یا حتی کہ فروعِ دین
میں سے بھی کسی اجماعی مسئلہ کا انکار کر دیتا ہے، یا رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کے کسی ایک حرف کا بھی انکار کر
دیتا ہے تو ایسا شخص کافر ہے اور اس کا کفر وہ ہے جس سے وہ ملت سے خارج
ہو جائے۔
کفر اعتقادی کی دوسری صورت:
یہ کہ وہ شخص جو اللہ کی شریعت کے ماسوا قانون چلاتا ہے اس بات کا
انکار تو نہ کرے کہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم وقانون ہی برحق ہے، مگر
یہ اعتقاد رکھے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ماسوا کسی کا حکم وقانون
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم وقانون سے بہتر یامکمل تر یا لوگوں کے
معاملات ومسائل اور وقت کی ضروریات پوری کرنے کے لحاظ سے مناسب اور
جامع تر ہے۔ خواہ وہ (شریعت کے ماسوا قانون کو شریعت سے بہتر) مطلق طور
پر سمجھے یا جدید حالات اور دور حاضر کے نئے مسائل کے حوالے سے، ایسے
شخص کے بارے میں بھی کوئی شک وشبہ نہیں کہ وہ کافر ہے کیونکہ یہ مخلوق
کے بنائے ہوئے احکام کو جو محض ذہن وفکر کی پراگندگی ہے خدائے دانا
وقابل صد ستائش پر ترجیح دیتا ہے۔ زمانہ کتنا بھی تبدیل ہوجائے اور
حالات واقعات میں کتنا بھی ارتقاء آجائے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ
وسلم کا حکم فی ذاتہ تبدیل نہیں ہوتا، جبکہ انسانی زندگی کا کسی دور
میں کوئی چھوٹے سے چھوٹا مسئلہ بھی ایسا نہیں جس کا بہترین حل کتاب
اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود نہ ہو، خواہ نص
ظاہری کی صورت میں ہو یا استنباط کی صورت میں یا کسی اور شکل میں، یہ
الگ بات کہ کوئی اس کا علم پالیتا ہے اور کوئی نہیں پاتا۔۔۔۔۔۔
کفر اعتقادی کی تیسری صورت:
کہ وہ یہ تو اعتقاد نہ رکھے کہ کوئی اور قانون اللہ اور رسول صلی
اللہ علیہ وسلم کی شریعت سے بہتر ہے، البتہ یہ اعتقاد رکھے کہ وہ اور
شریعت یکساں ہیں۔ کفرِ اعتقادی کی پچھلی دونوں صورتوں کی طرح یہ شخص
بھی کافر ہے اور ملت سے خارج۔ کیونکہ یہ اپنے اس اعتقاد کی رو سے مخلوق
اور خالق کو ایک مرتبے پر رکھتا ہے اور اللہ کے اس فرمان سے تعارض اور
عناد کا مرتکب ہوتا ہے کہ لیس کمثلہ شیء کہ ''اس کی مثل کوئی چیز
نہیں'' بلکہ وہ ان اور آیات سے بھی عناد برتتا ہے جن سے اللہ رب العزت
کا کمالِ حکمت میں یکتا ہونا اور مخلوق کی مماثلت سے مبرا ہونا ثابت ہے
خواہ اس کا اپنی ذات میں یکتا ہونا ہو یا صفات میں یا افعال میں ہو یا
مخلوق کے معاملات ومسائل کے فیصلے کرنے میں۔
کفر اعتقادی کی چوتھی صورت:
کہ وہ یہ اعتقاد تو نہ رکھے کہ کوئی دوسرا قانون اللہ اور رسول صلی
اللہ علیہ وسلم کی شریعت سے بہتر ہے حتی کہ یہ اعتقاد بھی نہ رکھے کہ
یہ دونوں یکساں ہیں البتہ یہ اعتقاد رکھے کہ اللہ اور رسول صلی اللہ
علیہ وسلم کی شریعت کے برخلاف قانون چلانے کی گنجائش ہے۔ اس کا بھی وہی
حکم ہے جو پچھلی تینوں صورتوں کا ہے۔ کیونکہ یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ
اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے خلاف فیصلہ کر دینا جائز
ہے جبکہ اس کا حرام ہونا دین کی صحیح اور صریح اور قطعی نصوص سے ثابت
ہے۔
کفر اعتقادی کی پانچویں صورت:
جو کہ کفر اعتقادی کی باقی سب صورتوں سے زیادہ سنگین اور زیادہ عام
ہے اور جو کہ شریعت سے تصادم اور شرعی قوانین کو نظر انداز کرنے میں سب
سے بڑھ کر ہے اور جو کہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مقابلہ
اور شرعی قوانین کی ہمسری کرنے میں سب سے نمایاں ہے۔ شرعی نظامِ عدل کے
بالکل متوازی اس کی اپنی قانون سازی، اپنی تحقیق وآرائ، اپنے اصول،
اپنے فروع، اپنے قانونی قیاس، اپنے استنباطات، اپنے استدلالات، اپنا
نفاذ، اپنے دلائل، اپنے مراجع اور اپنے وثائق اور کتب ہیں۔ چنانچہ جس
طرح شرعی عدالتوں کے قانونی مراجع اور علمی حوالے اور وثائق ہوتے ہیں
جن کا سب کے سب کا ماخذ کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ
وسلم ہوتا ہے، اسی طرح ان عدالتوں کے بھی اپنے قانونی مراجع اور اپنے
علمی حوالے اور وثائق ہیں جن کا، سب کے سب کا، ماخذ 'قانون' ہے جو کہ
مختلف شریعتوں اور متعدد قانونی نظاموں کا ایک ملغوبہ ہے مثلاً
فرانسیسی قانون، امریکی قانون، برطانوی قانون اور شریعت سے منسوب بعض
جدت پسند بدعتیوں کے مذاہب وافکار وغیرہ۔
کفر اعتقادی کی چھٹی صورت:
وہ روایتی رسوم جنہیں قبائلی سردار اور علاقائی جرگوں کے بڑے اپنے
فیصلوں کی بنیاد بناتے ہیں جو کہ آباء واجداد سے چلی آئی روایات اور
رسومات ہوتی ہیں جنہیں یہ لوگ علاقائی یا قبائلی رواج بھی کہتے ہیں۔
رہی کفر کی دوسری قسم:
جس کا ایک حاکم بغیر ماانزل اﷲ شخص مرتکب ہو سکتا ہے تو یہ وہ قسم
ہے جو انسان کو ملت سے خارج نہیں کرتی۔ پیچھے یہ بات گزر چکی کہ آیت
ومن لم یحکم بما انزل اﷲ فاولئک ھم الکافرون ''جو لوگ اللہ کی اتاری
ہوئی شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں'' کی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے جو تفسیر کی ہے اس میں کفر کی
یہی قسم آتی ہے جیسا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ اس آیت کی
تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ کفردون کفر یعنی ''کفر ہے مگر بڑے کفر سے
کمتر قسم کا کفر ہے''۔ اسی طرح عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کا
یہ قول لیس بالکفر الذین تذھبون الیہ ''یہ وہ کفر نہیں جو تم مراد لیتے
ہو''۔۔۔۔۔۔ تو وہ یہی ہے کہ قاضی اپنی کسی خواہشِ نفس کی بنا پر کسی
مقدمے میں اللہ کی شریعت سے ہٹ کر فیصلہ کر دے جبکہ اس کا اعتقاد
بدستور یہی رہے کہ حق تو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہی
ہے اور یہ تسلیم بھی کرے کہ اُس نے غلط کیا ہے اور حق سے پہلو تہی کر
بیٹھا ہے۔ چنانچہ اس فعل کی بنا پر وہ جس کفر کا مرتکب ہوتا ہے گو وہ
ملت سے خارج نہیں ہوتا، پھر بھی اس کا یہ گناہ ایک عظیم ترین معصیت ہے
اور زنا، شراب نوشی، چوری اور جھوٹی قسم اٹھانے ایسے کبائر سے زیادہ
بڑا گناہ۔ کیونکہ ایک ایسی نافرمانی جسے اللہ اپنی کتاب میں کفر کہہ دے
کسی بھی ایسی نافرمانی سے سنگین تر ہے جسے اللہ نے کفر نہیں کہا۔
اللہ سے دُعا ہے کہ وہ مسلمانوں کو اس بات پر مجتمع کر دے کہ وہ
برضا وتسلیم کتاب اللہ سے اپنے فیصلے کروائیں۔ وہی کارساز مطلق ہے اور
وہی اس بات پر قادر''۔ (ترجمہ از رسالہ تحکیم القوانین مولفہ مفتی محمد
ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ)
رہ گیا یہ مسئلہ کہ قانونی فیصلوں یا اقدامات کے اندر شریعت کی
خلاف ورزی کسی وقت کفر دون کفر بھی ہوتی ہے یعنی وہ کفر جس سے آدمی،
مشرک یا کافر قرار پا کر دائرہئ اسلام سے خارج نہیں ہوتا اور جس کا ذکر
اوپر مفتی محمد ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ کے فتوی کے اندر بھی ہوا ہے،
اور جس کو کہ کفرِ اصغر بھی کہا گیا ہے، تو اس کا تعلق بعض حالات میں
'شریعت کی خلاف ورزی' سے تو ہو سکتا ہے مگر 'غیر اللہ کے حکم وقانون کی
اطاعت' سے نہیں۔ غیر اللہ کے حکم و قانون کی اطاعت بہرحال شرک ہے اور
رب العالمین کے ساتھ کفر۔
اللہ کی شریعت پر عملدرآمد کے معاملہ میں کفردون کفر (کفر اصغر، جس
سے کہ آدمی دائرہئ اسلام سے خارج نہیں ہوتا) کب ہوتا ہے گو اس کا ذکر
اوپر مفتی محمد ابراہیم کی عبارت میں ہو چکا ہے مگر اس معاملہ میں محمد
قطب کا ایک اقتباس بھی ذکر کرنے کے لائق ہیں:
جس چیز کے بارے میں عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا ہے
کہ یہ کفردون کفر ہے (یعنی کفر تو ہے مگر وہ کفر نہیں جس سے آدمی دائرہ
اسلام سے خارج ہو جاتا ہے) وہ قانون سازی کا عمل نہیں۔ وہ اللہ کی
شریعت کو چھوڑ کر کوئی اور قانون چلانا نہیں۔ عبداللہ ابن عباس رضی
اللہ تعالی عنہ کی مراد بالکل کچھ اور ہے اور وہ یہ کہ کوئی قاضی یا
حاکم صرف کسی ایک خاص مقدمے میں شریعت کے خلاف فیصلہ صادر کر دیتا ہے،
چاہے وہ جہالت سے ایسا کرے، یا کسی تاویل کی وجہ سے، یا کسی مفاد کی
ترغیب میں آکر، یا رشوت لے کر یا ہوائے نفس کی بنا پر، تو ایسا شخص کفر
کا ارتکاب تو کرتا ہے مگر اس کفر کا ارتکاب نہیں جو اسے دائرہ اسلام سے
خارج کر دے۔ ایسا شخص تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کی مراد
ہی نہیں جو اپنے اس خلاف شریعت فیصلے کو ملک کے طول وعرض میں ایک حکمِ
عام اور ایک واجب الاتباع قانون کا درجہ بھی دے ڈالے۔
ایک ایسا قاضی یا جج جس کے پاس ایک رنگے ہاتھوں شراب پیتے شخص کو
پکڑ کر لایا گیا ہو، اس کا جرم ثابت ہوتا ہو، منہ سے شراب کی بدبو آرہی
ہو مگر پھر بھی وہ اُس پر حد نہیں لگاتا کیونکہ وہ اس کے اہل خانہ سے
رشوت کھائے بیٹھا ہے، اور اس وجہ سے وہ اس کیس میں کوئی باریکیاں اور
نکتے نکال کر بیٹھ جاتا ہے اور یوں کوئی نہ کوئی حجت کرکے مجرم پر
شریعت کا حکم لاگو کرنے سے راہ فرار اختیار کر جاتا ہے تو وہ ایک فاسق
قاضی تو ہو گا مگر وہ اس فسق کی بنا پر کافر نہیں ہو گا۔۔۔۔۔۔ ہاں
البتہ جس دن وہ یہ کہنے لگے کہ شراب پینا کوئی جرم ہی نہیں یا یہ کہ
جرم تو ہے مگر اس پر یہ کوڑوں کی حد نہیں لگے گی بلکہ اسے کوئی اور سزا
دی جائیگی تو تب وہ شخص کافر ہی کہلائے گا اور اس کا کفر بھی وہ ہوگا
جو اسے ملت سے خارج کر دے۔ کیونکہ اس نے اس فیصلے کی رو سے ایک حکم عام
اور ایک قانون صادر کیا ہے جو کہ شریعت سے براہ راست متصادم ہے۔ ایسے
شخص کے کافر ہونے پر سب کے سب فقہا کا اتفاق ہے۔ (از کتاب دعوت کا منہج
کیا ہو)
الغرض اطاعت عبادت کا حصہ ہے۔ اللہ رب العالمین کی بات کے بالمقابل
غیر اللہ کی بات تسلیم کرنا اور اس کا حکم وفیصلہ یا قانون ماننا اللہ
رب العالمین کے ساتھ شرک ہے۔
وإن أطعتموھم
إنکم لمشرکون
(الانعام: ١٢١) ''اگر تم نے ان کی بات تسلیم کی تو یقینا تم مشرک ہو''۔
أم لھم شرکاء
شرعوا لھم من الدین مالم یأذن بہ اﷲ (الشوری:
٢١) ''کیا ان
لوگوں نے ایسے (اللہ کے) شریک (مقرر کر) رکھے ہیں جنہوں نے ایسے احکام
اور ضابطے مقرر کردیے ہیں جو اللہ کے فرمائے ہوئے نہیں ہیں؟''۔
ألا لہ الخلق والأمر تبارک اﷲ رب العالمین
(الاعراف: ٥٤) ''خبردار رہو! اسی کی خلق ہے اور اسی کا امر ہے، بابرکت
ہوا اللہ رب العالمین''۔
الم تر الی
الذین یزعمون أنہم آمنوا بما أنزل الیک وما أنزل من قبلک یریدون أن
یتحاکموا الی الطاغوت وقد أمروا أن یکفروا بہ ویرید الشیطان أن یضلہم
ضلالا بعیداً
(النساء: ٢٠) ''اے نبی! تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو دعویٰ تو کرتے
ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اس کتاب پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور
ان کتابوں پر جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھی، مگر چاہتے یہ ہیں کہ اپنے
معاملات کا فیصلہ کرانے کیلئے طاغوت کی طرف رجوع کریں، حالانکہ انہیں
طاغوت سے کفر کرنے کا حکم دیا گیا تھا ۔ شیطان انہیں بھٹکا کر راہِ
راست سے بہت دور لے جانا چاہتا ہے''۔
بنا بریں وہ باطنی فرقے مشرک قرار پاتے ہیں جو اپنے 'ائمہئ
معصومین' کو تحلیل اور تحریم کا مطلق حق دیتے ہیں۔ اسی طرح ان لوگوں کا
شرک بھی لازم آتا ہے جو 'طریقت' کو 'شریعت' پر مقدم کرتے ہوئے حلال
وحرام ودیگر احکامِ زندگی کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی بجائے اپنے
پیروں اور درویشوں سے لیتے ہیں۔ بلکہ وہ لوگ تو جو یہ کہیں کہ شریعت
عام لوگوں کیلئے ہے نہ کہ 'پہنچے ہوئے' اور معرفت یافتہ لوگوں کیلئے،
بدترین انداز کے مشرک ہیں۔ ان کے کفر پر کچھ بات پیچھے ہم رسالہ نواقض
الاسلام کی شرح میں کر آئے ہیں۔
یہی حکم آج کے اس ماڈرن شرک کا ہے۔ 'پارلیمنٹ' یا 'نمائندگانِ
عوام' یا 'مقننہ' ایسے نام کی حامل کسی ہستی کو یہ حق ہونا کہ وہ
انسانوں کی زندگی کے سیاسی، معاشی، فوجداری، دیوانی اور بین الاقوامی
امور میں ضابطے اور قانون صادر کرے، بغیر اس بات کے کہ شریعت سے متصادم
ان کی ہر بات آپ سے آپ باطل اور کالعدم ٹھہرے، تو یہ بھی اللہ رب
العالمین کے ساتھ شرک ہے اور دراصل ان ہستیوں کی عبادت ہے۔ غرض کسی کو
اپنا مطاع وپیشوا ٹھہرانا، بایں طور کہ اُس کے فرمائے ہوئے کو ما انزل
اللہ کے تابع نہ رکھا گیا ہو، چاہے وہ محدود 'مذہبی' معنی میں ہو یا
'سیاسی' اور 'قانونی' معنی میں، دراصل اس کو معبود بنانا ہے۔
قرآن پڑھنے کے بعد اس میں کوئی اشکال باقی نہیں رہتا کہ اللہ کے
قانون پر چلنا اللہ کی عبادت ہے اور غیر اللہ کے قانون پر چلنا غیر
اللہ کی بندگی۔
شرک اکبر
چوتھی قسم: شرکِ محبت
چوتھی قسم: محبت اور گرویدگی میں اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
ومن الناس من یتخذ من دون اﷲ انداداً یحبونھم کحب اﷲ (البقرۃ: ١٢٥)
''کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا ہم سر اور
مدمقابل بناتے ہیں اور ان کے ایسے گرویدہ ہیں جیسے اللہ کے ساتھ
گرویدگی ہونی چاہئے''۔
محبت اور گرویدگی اللہ وحدہ لاشریک کا حق ہے۔
وہ 'محبت'' جس میں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا شرک اکبر ہے، کیا
ہے؟ شارحِ کتاب التوحید شیخ سلیمان بن عبداللہ لکھتے ہیں:
''محبت یا چاہت دو قسم کی ہے۔ ایک عام قسم کی محبت اور ایک خاص
محبت۔
جہاں تک عام قسم کی محبت یا چاہت کا تعلق ہے تو وہ تین طرح کی ہو
سکتی ہے۔ ایک طبعی محبت۔ جیسا کہ بھوکے کو کھانے کی حاجت ہوتی ہے یا
پیاسے کو پانی کی وغیرہ وغیرہ۔ اس چاہت میں تعظیم نہیں ہوتی۔ دوسری وہ
محبت جس میں ترس اور شفقت کا پہلو پایا جاتا ہے مثلاً باپ کو اپنے بیٹے
سے محبت اور الفت ہونا۔ اس میں بھی تعظیم نہیں ہوتی۔ تیسری وہ محبت جس
میں دوستی اور دل لگی پائی جائے۔ یہ وہ محبت ہے جو آدمی کو اپنے کسی
شریکِ عمل سے ہو جاتی ہے۔ ہم جماعت سے ہوتی ہے۔ اپنے رفیقِ سفر، یا کسی
ہمدم یا شریکِ تجارت وغیرہ سے ہوتی ہے۔ بھائیوں کے درمیان پائی جاتی
ہے۔
محبت کی یہ تینوں شکلیں مخلوق کیلئے اور مخلوق کے مابین ایک دوسرے
کیلئے جائز ہیں۔ ایسی محبت کا مخلوق کے مابین ایک دوسرے کیلئے پایا
جانا اللہ وحدہ لاشریک کی محبت میں شرک شمار نہیں ہوتا۔ چنانچہ ہم سیرت
میں دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مثلاً میٹھا
پسند تھا۔ شہد کی چاہت تھی اپنی بیویوں سے محبت تھی۔ عائشہ رضی اللہ
تعالی عنہ بطور خاص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی منظورِ نظر تھیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب رضی اللہ تعالی عنہ سے بے حد محبت
کرتے تھے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ صحابہ میں سے آپ کو بطور خاص
عزیز تھے۔
البتہ جو دوسری قسم ہے یعنی خاص محبت اور جو کہ اللہ وحدہ لاشریک
کے سوا کسی اور سے رکھنا جائز نہیں، اور اگر آدمی اس انداز کی محبت کو
اللہ کے سوا کسی اور ہستی کیلئے روا رکھ لے تو وہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے
جو کہ کبھی معاف ہونے والا نہیں۔۔۔۔۔۔ تو وہ محبتِ عبودیت ہے۔ یہ وہ
محبت ہے جس میں حد درجہ ذلت اور انکساری پائی جائے۔ یہ وہ محبت ہے جس
میں آدمی کا خضوع لازم آتا ہے۔ جس میں حد درجہ تعظیم ہو۔ یہ وہ محبت ہے
جس سے اطاعت لازم آتی ہو اور جس میں محبوب کو ہر دوسری ہستی پر ترجیح
دے دینا لازم ٹھہرتا ہو''۔
چنانچہ وہ محبت جو گرویدگی کی قسم سے ہو اور جس میں بندگی، ذلت،
فرمانبرداری اور حد درجہ کی تعظیم پائی جاتی ہو اس کو خدا کے سوا کسی
اور ذات کیلئے روا رکھنا شرکِ اکبر ہے۔
محبت اور گرویدگی 'عبادت' کی اصل بنیاد ہے۔ کسی کی عظمت کا ہر لمحہ
دم بھرنا، اس کے احسانات کے آگے بچھے جانا، اس کی خوبیوں کے ہر دم گن
گانا، اس کی خوشنودی کو دِل وجان سے عزیز رکھنا، اس کا تقرب پانے کیلئے
بے چین رہنا، اس کی عقیدت میں جان مال لگا دینے کو ہیچ جاننا، اس کیلئے
غصے اور غیرت میں آنا، اس کی شان پہ قربان ہو جانے پر تیار ہونا، اس کے
نام کا ہر دم ذکر کرنا، اس کیلئے دِل میں بندگی اور ذلت اور عاجزی
وانکساری اور ایک خشوع محسوس کرنا اور اس کی بڑائی کی دِل پر ایک دھاک
سی بیٹھ جانا۔۔۔۔۔۔ یہ دراصل عبادت کی روح ہے۔
محبت 'عبادت' کا قوی ترین جذبہ ہے۔ محبت عبادت کا لازمی ترین جزو
ہے۔ محبت عبادت کی بہترین صورت ہے۔ پس غیر اللہ کیلئے اس کا روا ہونا
شرک ہے خواہ وہ کوئی زندہ ہو یا مردہ۔ ولی ہو یا فقیر۔ بادشاہ ہو یا
دیوی۔ وطن ہو یا کوئی اور انداز کی عصبیت۔ ایک والہانہ انداز کی
گرویدگی جس میں تعظیم اور تکبیر پائی جاتی ہو۔ ذلت وانکساری اور بندگی
کا انداز پایا جاتا ہو اور اس کا آدمی اپنی جان ومال اور اپنی ہستی پر
ایک حق اور مِلک جانتا ہو وہ آدمی کا معبود ہے اور اپنے اس فعل سے وہ
اس کو خدائے رب العالمین کا ہم سر بنا دیتا ہے جو کہ کمینگی اور گھٹیا
پن کی انتہا تو ہے ہی رب العزت کے آگے ایک بہت بڑی جسارت بھی ہے۔۔۔۔۔۔
جو کہ کبھی معاف ہونے والی نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جہنمی بار بار اپنا سر پیٹیں گے اور اس وقت پر کفِ
افسوس ملیں گے جب وہ مخلوق ہستیوں کو محبت اور تعظیم اور گرویدگی
واحسان مندی کے معاملہ میں اور اطاعت وبندگی کے مسئلہ میں، خالق کے
برابر کر دیتے تھے۔
تاﷲ ان کنا
لفي ضلال مبین، إذ نسویکم برب العالمین، وما أضلنا إلا المجرمون، فما
لنا من شٰفعین، ولا صدیق حمیم، فلو ان لنا کرۃ فنکون من المؤمنین
(الشعراء: ٩٧۔١٠٠)
''بخدا ہم تو گمراہی میں ہی پڑے رہے، جبکہ ہم تمہیں ہمسر ٹھہراتے
تھے جہانوں کے رب کے، اور ہمیں نہیں گمراہ کیا مگر وہ جو پکے مجرم تھے،
اب ہمارے لئے کوئی ایک بھی سفارشی نہیں، نہ پکے دوست ہی (مدد) کو ہیں،
اب کاش اگر ہم دوبارہ لوٹائیں جائیں تو (اِس بار) ہم پکے مومن بن کے
رہیں گے''۔
امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس آیت کا اطلاق حسین صورتوں کی
محبت اور عشق میں گرفتار لوگوں پر بھی کیا ہے۔ (قاعدۃ فی المحبۃ، ص ٧٨)
سب سے پہلا شرک محبت اور گرویدگی کا شرک تھا:
شیخ سفر الحوالی لکھتے ہیں: ''سب سے پہلی قوم جس نے شرک کا یہ ظلمِ
عظیم کیا نوح علیہ السلام کی قوم تھی۔ اس قوم کا قصہ اللہ تعالیٰ نے
خود بیان فرمایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی
حقیقت بیان کی ہے۔ چنانچہ اس شرک کا پیش خیمہ اس قوم کا محبت وگرویدگی
میں گم گشتگی کا شکار ہونا تھا۔ یہ لوگ کچھ صالحین (اولیاء) کی گرویدگی
میں گمراہ ہوئے۔ یہ پانچ تن تھے۔ ود۔ سواع۔ یغوث۔ یعوق اور نسر۔ جیسا
کہ آیت میں ہے (وقالوا
لا تذرن ألھتکم ولا تذرن ودا ولا سواعا ویغوث ویعوق ونسرا۔
سورۃ نوح: ٢٣) یہ پانچ نام، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے وضاحت فرمائی کچھ نیک لوگوں کے تھے جو قومِ نوح میں پائے جاتے
تھے۔ قوم کے لوگ ان سے گرویدگی رکھتے تھے اور خدا کی محبت اور تعظیم
میں آکر ان کی محبت اور تعظیم کرتے تھے۔ یہ عقیدہ رکھتے کہ یہ صالحین
خدا کے عبادت گزار اور خدا کے ولی ہیں اور دوسروں کی نسبت خدا کے ہاں
خاص تقرب رکھتے ہیں۔ ابتداء میں ان کی محبت وتعظیم کی بنیاد بس یہی
تھی۔ پھر جب وہ (نیک لوگ) مر گئے تو قوم کے لوگ کہنے لگے: کہیں ایسا نہ
ہو کہ ان کے مرنے کے ساتھ ان کی یاد بھی (قوم کے ذہن سے) محو ہو جائے۔
تب یہ کہنے لگے کہ ہم پر لازم ہے کہ ہم ان کی یاد زندہ رکھیں اور ان کی
محبت میں خدا سے محبت کریں اور خدا کی ویسے ہی عبادت کریں جیسے کہ وہ
کرتے رہے تھے۔ تب انہوں نے ان کی مورتیں بنائیں۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ
ساتھ علم اٹھتا گیا۔ اب وہ مورتیاں خود ہی پوجی جانے لگیں اور باقاعدہ
بت بن گئیں۔ یہ مورتیں اور یہ بت اب سیدھے سادھے لوگوں کے معبود بن
گئے۔ جن کو وہ خدا کے سوا پوجتے تھے۔ یہاں تک کہ جب نبی صلی اللہ
علیہ وسلم مبعوث ہوئے عربوں کے ایک ایک قبیلے کے پاس اس نام کا ایک بت
تھا جیسا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے اسی حدیث میں ذکر
کیا ہے۔ (ماخوذ از محاضرہ: ابلاع الامۃ بکیفیۃ محبۃ الرسول)
یہی وجہ ہے کہ غلو کی قرآن مجید میں اور احادیث میں بے حد مذمت اور
ممانعت کی گئی ہے۔ امام محمد بن عبدالوہاب کتاب التوحید میں باب
باندھتے ہیں: ''باب
ماجاء أن سبب کفر بنی آدم وترکھم دینھم ھوالغلو فی الصالحین''
''ان نصوص کا بیان کہ بنی آدم میں کفر اور دین (توحید) کے متروک ہونے
کا سبب نیک انسانوں کی بابت لوگوں کا غلو کرنا تھا''۔
اس کے بعد وہ قومِ نوح سے متعلق کچھ احادیث لے کر آتے ہیں جن کی
جانب اوپر اشارہ گزر چکا ہے پھر یہ احادیث لے کر آتے ہیں۔
وعن عمر أن
رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ''لا تطرونی کما أطرت النصاری
ابن مریم۔ انما أنا عبد۔ فقولوا: عبداﷲ ورسولہ''
اخرجاہ
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: ''مجھے بڑھا چڑھا کر ذکر نہ کیا کرو جیسا کہ
نصاریٰ نے ابن مریم کو بڑھا چڑھا دیا۔ (3)
میں تو عبد ہوں پس کہا کرو خدا کا بندہ اور خدا کا رسول۔ (یہ روایت
صحیحین میں آئی ہے)
(عن ابن عباس)
قال: قال رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم: ایاکم والغلو، فإنما أھلک
من کان قبلکم الغلو'' (رواہ أحمد والترمذن وابن ماجۃ)
''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غلو سے خبردار رہو۔
تم سے پہلوں کو غلو نے ہی برباد کیا تھا''۔
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ محبت وعقیدت اور گرویدگی کے اندر کیا جانے
والا غلو ہی بالآخر اس گرویدگی کو شرک کی نوبت تک پہنچا دیتا ہے اور
پھر ہر انداز کا شرک ہونے لگتا ہے۔ جن لوگوں نے اہل بیت اور 'پنجتن
پاک' کے معاملے میںغلو کیا بالآخر وہ شرک کی نوبت کو پہنچے۔ یہی معاملہ
بعض اولیاء کی شان میں غلو کا ہے۔ شاہ عبدالقادر جیلانی کو 'غوث' بنا
دینا بھی اسی ذہنیت کا شاخسانہ تھا۔ ہمارے ہاں بیشتر مزاروں اور
درگاہوں کا قیام بھی کچھ نیک لوگوں کی بزرگی اور ان کی گرویدگی کے اندر
کئے جانے والے غلو کا ہی عملی نتیجہ ہے۔ پھر تو ان لوگوں کے بھی مزار
اور بت بنے جن کو بزرگی سے دور کی بھی کوئی نسبت نہ تھی۔
بنیادی طور پر کوئی ذات، انسان کے ذہن میں اسی وقت بڑی ہوتی ہے جب
اس ذہن میں معاذ اللہ خدا کی ذات چھوٹی ہو جائے۔ یہ تعلقِ معکوس ہے۔
شرک اسی لئے سب سے کریہہ فعل ہے۔ کسی اور ہستی کی گرویدگی دراصل خدا کی
عدم گرویدگی کی قیمت پر ہوتی ہے چاہے بظاہر یہ سب کچھ آدمی خدا کی ہی
محبت میں کر رہا ہو۔ غیر سے بندگانہ لو نہیں لگتی مگر اس سے پہلے اللہ
کے ساتھ وابستگی میں اسی قدر کمی آچکی ہوتی ہے۔ اللہ کے ساتھ وابستگی
دراصل آدمی کا 'پورا' ہونا اور 'پورا' رہنا ہے کسی اور سے وابستہ ہونا
دراصل انسان کا خود اپنے حصے بخرے کرلینا ہے۔ ایک لنگڑا لولہا انسان تو
خدا کو پسند آسکتا ہے مگر ایک منقسم انسان خدا کو قبول نہیں۔ خدا پاک
ہے اور پاک کو ہی قبول کرتا ہے۔ وہ شریکوں میں سب سے بے نیاز اور
خوددار ہے۔ (أنا
أغنی الشرکاء عن الشرک)
گرویدگی، محبت اور وابستگی میں خدا کو سب سے پہلے ایک دلجمعی ہی مطلوب
ہے۔ بندے کو اپنا آپ سارے کا سارا خدا پر نچھاور کرنا ہے۔
والذین آمنوا أشد حباً ﷲ۔
قلبِ سلیم لے کر خدا کے پاس جانا دراصل یہی ہے۔ ایک ایسا دل جو صرف خدا
کی محبت اور گرویدگی میں دھڑکتا ہو۔ صرف خدا کی تعظیم اور کبریائی کرتا
ہو۔ ایک ایسا دِل جو صرف خدا کے در کا مجاور ہو اور غیروں کے در سے اس
کو کچھ سروکار ہی نہ رہے بلکہ غیروں کی گرویدگی سے اس کو وحشت ہوتی ہو۔
غیروں سے وابستگی اس کیلئے ویسے ہی خوفناک اور جان لیوا ہو جیسے مچھلی
کا پانی سے باہر آنا۔ خدا کے پاس جانے کیلئے جس شخص کے پاس یہ پاکیزہ
دل اور یہ قلب سلیم ہوا وہ اس دن اپنا مطلوب پالے گا جس دن انسان سے اس
کے من کی مراد پوچھی جائے گی۔ قیامت کا روز اسی لئے تو ہے کہ ایک بلند
ذوق کو اس کا مطلوب دے دیا جائے۔ وہاں تو جزائے عمل بھی ہے اور فضل
بھی۔
ولا تخزني یوم
یبعثون یوم لا ینفع مال ولا بنون الا من أتی اﷲ بقلب سلیم
(الشعراء: ٨٧۔ ٨٩) ''خدایا! اس دِن مجھ کو رسوا نہ ہونے دیجؤ جب مرے
ہوئے زندہ کئے جائیں گے۔ وہ روز کہ جب مال نہ اولاد کچھ کام نہ آئے گی،
بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو''۔
کسی دِل کو خدا کی چاہت نصیب ہو جائے۔۔۔۔۔۔ اس سے بڑی کوئی نعمت
نہیں۔ یہی وہ نعمت ہے جو قیامت کے روز رب العالمین کے دیدار میں آپ سے
آپ بدل جائے گی۔ جو لوگ یہاں اِس نعمت سے محروم رہے وہ لوگ وہاں اُس
نعمت سے محروم رہیں گے۔ یہ ذوق کی بدبختی ہے اور بخت کی بے نوری۔ دِل
کا زنگ ہی سب سے بڑا زنگ ہے۔
کلا بل تحبون
العاجلۃ وتذرون الآخرۃ وجوہ یومئذ ناضرۃ الی ربھا ناظرۃ۔ ووجوہ یومئذ
باسرۃ تظن أن یفعل بہا فاقرۃ
(القیامۃ: ٢٠ - ٢٥) ''نہیں نہیں۔ تم جلدی مل جانے والی (دنیا) کی محبت
رکھتے ہو اور آخرت کو چھوڑ بیٹھتے ہو۔ اس روز بہت سے چہرے تروتازہ اور
بارونق ہوں گے۔ یہ اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے اور کتنے چہرے اس دن
(بدرونق اور) اداس ہوں گے اور سمجھتے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ
معاملہ کیا جانے والا ہے''۔
کلا بل ران
علی قلوبھم ما کانوا یکسبون کلا انھم عن ربھم یومئذ لمحجوبون ثم انھم
لصالوا الحجیم۔ ثم یقال ھذا الذی کنتم بہ تکذبون
(المطففین۔ ١٤ - ١٧) ''یوں نہیں۔ بلکہ ان دِلوں پر ان کے بُرے اعمال کا
رنگ چڑھ گیا ہے۔ ہرگز نہیں۔ بالیقین اس روز یہ اپنے رب کی دید سے محروم
رکھے جائیں گے۔ پھر بالیقین یہ لوگ جہنم میں جھونکے جائیں گے۔ پھر کہہ
دیا جائے گا کہ یہی ہے وہ جسے تم جھٹلاتے رہے''۔
ان الأبرار
لفی نعیم علی الأرائک ینظرون
(المطففین: ٢٢،٢٣) ''یقینا نیک لوگ بڑے ہی مزے میں ہوں گے۔ اونچی
مسندوں پر بیٹھے مصروفِ نظارہ ہوں گے''۔
'احسان' یعنی حسن پیدا کرنا، حدیث کی رو سے، یہی ہے کہ آدمی اس ذات
کو جو حسن اور لذت اور راحت اور لطف کی خالق ہے، بندگی کی صورت میں
اپنے دِل کی نگاہ کا مرکز بنائے اور اس کو یہاں پانے کی کوشش کرے۔ یہاں
جو اس کو پانے کی کوشش کرے گا اور بندگی کی صورت میں اس کا طالب ہوگا،
اس کا بدلہ حیاتِ ابدی میں اس ذات کبریائی کی جانب سے پھر یہ ہوگا کہ
اس کا مطلوب ہی اس کو مل جائے:
للذین أحسنوا
الحسنی وزیادۃ ولا یرہق وجوھہم قترولا ذلۃ أولئک أصحاب الجنۃ ھم فیھا
خالدون
(یونس: ٢٦) ''حُسنِ (عمل) کرنے والوں کیلئے حُسنِ (جزا) ہے اور اس پر
مزید بھی۔ ان کے چہروں پر نہ سیاہی چھائے گی اور نہ ذلت۔ یہ جنت کے
اصحاب ہیں اور اس میں خلود پانے والے ہیں''۔
'خدا کا ملنا' وہ لذت ہے جو انسان کو جنت کی نعمتیں بھلا دے۔ کاش
کہ کوئی شخص اس نعمت کا اندازہ کر لے مگر ایک اعلیٰ ذوق کے بغیر کہاں
یہ نصیب ہونے کی۔ حق تو یہ ہے کہ ُاس کی چاہت خود اُسی کی دین ہے اور
وہ خوب جانتا ہے کہ کہاں اِس کو سمانا ہے۔ صرف ایک پاکیزہ دِل ہی اس کی
آماجگاہ بن سکتا ہے۔
ولہ المثل
الأعلی فی السماوات والأرض وھو العزیز الحکیم
(الروم: ٢٧)
''آسمانوں اور زمین میں اس کی صفت اور مقام اعلیٰ ترین ہے اور وہ
زبردست اور حکیم ہے''۔
پس جس طرح شرک کی بنیاد رب العالمین کے ماسوا ہستیوں کی گرویدگی ہے
اسی طرح توحید کی بنیاد جہانوں کے رب کی گرویدگی اور وابستگی ہے۔ شرک
ذرہ بھر قبول نہیں۔ البتہ توحید کے درجے ہیں۔ غیر اللہ کی گرویدگی ذرہ
بھر روا نہیں مگر اللہ کی چاہت اور محبت میں لوگ درجہ بدرجہ مراتب
رکھتے ہیں اور وہ اس لئے کہ خدائے ذوالجلال کی چاہت اور طلب کی کوئی حد
نہیں۔ یہ اپنے اپنے ظرف اور ہمت کی بات ہے اور خدا کے قرب میں تفاوت
ہونے کی یہی اصل بنیاد ہے۔ وفی ذلک فلیتنافس المتنافسون۔ پس آدمی پر
لازم ہے کہ وہ شرک سے تو بہرحال بری و بے زار ہی رہے البتہ توحید میں
محبت اور خوف اور رجاء کے بیچ بندگی کے جتنے زینے چڑھ سکے سانس نکلنے
سے پہلے پہلے چڑھ لے۔
اللہم اجعل
خیر أعمالنا خواتمہا وخیر أیامنا یوم نلقاک
ppppp
جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کی شرک اکبر کی یہ چار قسمیں ذکر کرتے ہوئے
(جو کہ دراصل الوہیت کے باب میں شرک اکبر کی چار قسمیں ہیں) مؤلف نے ہر
جنس کا ایک ایک فرد ذکر کر دیا کہ جنس کے بقیہ افراد خودبخود مفہوم
ہوں۔ گفتگو کے اندر مثال کا اسلوب پرانی تحریروں میں بہت عام ہے۔
مثلاً مؤلف نے سجدہ وقیام یا نذر اور خوف وغیرہ کے شرک کا یہاں
کہیں ذکر نہیں کیا۔ مگر 'دعا کا شرک' ذکر کرکے دراصل جوارح کی سب
عبادات مراد لے لی گئیں۔ اسی طرح اطاعت کا شرک ذکر کرکے شرک کی بہت سی
انفرادی اور سماجی صورتوں کا خودبخود ذکر ہو گیا۔
اب قلبی عبادات میں سے مؤلف نے 'محبت وگرویدگی کا شرک' ذکر کیا تو
دیگر قلبی عبادات کا شرک خودبخود اس میں شامل سمجھا جائے گا۔ اس کا یہ
مطلب نہیں کہ شرکِ اکبر کی اقسام میں مؤلف نے خوف، خشیت، توکل اور رجاء
وغیرہ کا شرک ذکر نہیں کیا تو اس کو شرکِ اکبر ہی نہ سمجھا جائے۔
بلاشبہہ ان امور کے اندر کیا جانے والا شرک بھی شرکِ اکبر ہوگا۔ بعض
قلبی عبادات کے اندر ہونے والے شرک کی بہت ہی اختصار کے ساتھ اب یہاں
کچھ وضاحت کی جاتی ہے۔
غیر
اللہ کا خوف
اور ہول کھانا بھی شرکِ اکبر ہے۔ غیر اللہ کا خوف کس صورت میں شرک اکبر
ہوتا ہے، اس کی وضاحت ہم کتاب التوحید کی شرح فتح المجید میں علامہ
عبدالرحمن بن حسن آل الشیخ کی ذکر کردہ تقسیم میں دیکھتے ہیں۔ شیخ
عبدالرحمن خوف کی تین قسموں کا ذکر کرتے ہیں۔ پہلی صورت شرک اکبر ہے۔
دوسری شرک اصغر اور خوف کی تیسری صورت مومن کے حق میں ممکن ہے۔
''خوف فی نفسہ تین قسم کا ہے:
پہلی قسم: خوفِ سِرّ۔ اور وہ یہ کہ غیر اللہ کوئی بت ہو یا طاغوت
(جھوٹا معبود) ہو تو آدمی اس سے خائف ہو کہ وہ آدمی کو کچھ کر نہ دے۔
مثلاً وہ (ڈراوا) جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قوم ہود کی زبان سے ذکر کیا
]ان نقول إلا
اعتراک بعض آلھتنا بسوء قال انی اشہد اﷲ واشہدوا أنی بریئ مما تشرکون
من دونہ فکیدونی جمیعا ثم لا تنظرون
(ھود: ٥٤، ٥٥) ''ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تو ہمارے کسی معبود کے برے
جھپٹے میں آگیا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور
تم بھی گواہ رہو کہ جن جن کو تم نے شریک بنا رکھا ہے میں ان سے صاف بری
وبے زار ہوں۔ تم بے شک سب مل کر میرے خلاف چالیں چل لو اور مجھے بالکل
مہلت بھی نہ دو''۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی بابت یہ بات نقل کی: ] ویخوفونک
بالذین من دونہ (الزمر: ٣٦) ''یہ تجھے خدا کے ماسوا ہستیوں کے ڈراوے
دیتے ہیں''[ یہی وہ شرک ہے جس میں قبروں اور اسی طرح کے دیگر بتوں کے
پجاری پڑے ہوئے ہیں۔ یہ ان (قبروں میں مردہ پڑے ہوؤں سے) ڈرتے ہیں اور
اہل توحید کو ان کا ڈراوا دیتے ہیں جب اہل توحید ان ہستیوں کی عبادت کا
انکار کرتے ہوئے اللہ کی خالص عبادت کی صدا بلند کرتے ہیں۔ (خوف کی) یہ
(صورت) توحید کے (بالکلیہ) منافی ہے۔
دوسری قسم: یہ خوف کی وہ صورت ہے جس میں انسان لوگوں کے کسی خوف سے
خدا کی طرف سے عائد کسی فرض کو چھوڑ بیٹھے۔ خوف کی یہ قسم حرام ہے اور
ایک انداز کا شرک بھی ہے جو کہ کمالِ توحید کے منافی ہے (نہ کہ اصلِ
توحید کے منافی) (4)
یہی بات اس آیت کا سبب نزول ہے: ]الذین
قال لھم الناس ان الناس قد جمعوا لکم فاخشوھم فزادھم ایمانا وقالوا
حسبنا اﷲ ونعم الوکیل۔۔۔۔۔۔
''وہ جن سے لوگوں نے کہا کہ ''تمہارے خلاف لوگ فوجیں جمع کر لائے ہیں،
ان سے ڈرو''، تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بھی بڑھ گیا اور انہوں نے
جواب دیا ہمارے لئے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے''۔۔۔۔۔۔[
اور یہ حدیث ]ان
اﷲ یقول للعبد یوم القیامۃ: ما منعک اذا رأیت المنکر أن لا تغیرہ؟
فیقول: رب خشیۃ الناس، فیقول: أیاي کنت أحق أن تخشی
''قیامت کے روز اللہ تعالیٰ بندے سے کہے گا: جب تو نے ایک برائی ہوتی
دیکھی تو اس سے روک ٹوک کرنے میں تجھ کو کیا بات مانع ہوئی؟ آدمی کہے
گا: لوگوں کا خوف، اے میرے مالک۔ تب اللہ تعالیٰ فرمائے گا: سب سے بڑھ
کر تو تجھ پر حق یہ تھا کہ تو مجھ سے ڈرے''[۔
تیسری قسم: طبعی خوف۔ مثلاً کسی موذی چیز سے خوف آجانا۔ دشمن سے
خوف لاحق ہو جانا۔ درندے سے خوفزدہ ہوجانا وغیرہ۔ اس پر کوئی مذمت
نہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کے قصے میں ذکر کیا: ]فخرج
منھا خائفا یترقب
''(یہ خبر سنتے ہی) موسیٰ ڈرتا اور سہمتا ہوا وہاں سے نکل کھڑا ہوا''[۔
(دیکھئے فتح المجید، ص ٣٤٤۔٣٤٥)
خوف کی پہلی صورت جو کہ شرکِ اکبر ہے اس کے حوالے سے علامہ سلیمان
بن عبداللہ بن محمد بن عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ کی ایک عبارت بھی لائق
توجہ ہے: ''ویخوفونک
بالذین من دونہ
''یہ تجھ کو خدا کے سوا ہستیوں کے ڈراوے دیتے ہیں'' (خوف کی) یہ جو قسم
ہے یہ آج قبروں کے پجاریوں پر صادق آتی ہے۔ یہ لوگ بعض نیک بزرگوں (کی
روحوں) سے بلکہ اپنے باطل طاغوت معبودوں سے اس طرح ڈرتے ہیں جیسا کہ
خدا سے ڈرا جاتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ چنانچہ اگر آپ ان میں کسی کو
خدا کی قسم دلوائیں تو جتنی آپ چاہیں وہ اتنی قسمیں اٹھانے پر تیار
ہوجائے، چاہے سچ پر ہو یا جھوٹ پر۔ لیکن اگر کسی تربت میں دفن ہستی کی
قسم دلوائیں تو جھوٹا ہونے کی صورت میں یہ ہرگز قسم اٹھانے کی ہمت نہ
کرے۔ وجہ یہ کہ مٹی میں دفن ہستی سے یہ خدا سے بھی بڑھ کر خائف ہے۔
کوئی شک نہیں کہ یہ شرک کی وہ حد ہے جس کو پہلے والے مشرک بھی نہ پہنچے
تھے۔۔۔۔۔۔
ان میں سے کوئی اگر کسی پر ظلم کر رہا ہو اور وہ مظلوم اُس سے خدا
کی پناہ طلب کرے یا خدا کے گھر میں جا کر پناہ پانا چاہے تو تب بھی یہ
اس کو پناہ دینے پر تیار نہ ہو۔ لیکن اگر وہ کسی ''قبر والے'' کا نام
لے کر اُس سے پناہ طلب کرے یا اس کے ''مزار'' میں جاپناہ لے لے تو یہ
اس کو ہاتھ تک لگانے کی جرأت نہ کرے اور اس کا بال بیکا کرنے سے ڈرے''۔
(تیسیر العزیز الحمید، ص ٤٢٧)
ظاہر ہے کہ ایسا آدمی مشرک ہے اور اس کا شرک، شرکِ اکبر۔ جو کہ
جہنم میں ہمیشگی کا مستوجب ہے۔
وعلی اﷲ
فتوکلوا ان کنتم مؤمنین
(المائدۃ: ٢٣) ''اور اللہ پر ہی بھروسہ کرو اگر تم مومن ہو''۔
ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ''یہاں
اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر توکل کیا جانے کو ایمان کیلئے شرط ٹھہرا دیا۔
یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اللہ پر توکل نہ ہونا دراصل ایمان نہ ہونا
ہے''۔
علامہ عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ بن حسن آل شیخ کتاب التوحید کی شرح
میں لکھتے ہیں: ''تَوَکُّل (خدا کے ماسوا کسی پر) کرنا دو طرح سے ہے:
ایک، ان امور میں کسی پر توکل کرنا جن پر اللہ کے سوا کوئی قادر نہیں۔
جیسا کہ وہ لوگ جو مردہ ہستیوں اور اپنے طاغوت معبودوں پر توکل کرتے
ہیں تاکہ جن امور کی یہ خواہش اور اُمید کرتے ہیں مثلاً نصرت وفتح مندی
یا عافیت وسلامتی، یا رزق روزی یا شفاعت وغیرہ۔ ان کی ایسی امیدیں بر
آئیں۔۔۔۔۔۔ یہ شرکِ اکبر ہے۔
دوسرا وہ توکل جو کہ اسبابِ ظاہرہ کے معاملہ میں ہوتا ہے۔ مثلاً
ایک شخص کا کسی امیر یا صاحب اختیار پر، روزی یا امن وسلامتی وغیرہ
ایسے کسی معاملہ میں جس میں خدا نے اس (امیر یا صاحب اختیار) کو قدرت
دے رکھی ہے، سہارا یا بھروسہ کرنا۔ یہ شرک اصغر کی نوع ہے۔ (ملاحظہ
فرمائیے فتح المجید، ص ٣٥٣)
(1)
امام ابنِ قیم اپنی کتاب ”الفوائد“ میں لکھتے ہیں: خدا کی معرفت دو
طریقوں سے بڑھتی ہے: ایک ’آیاتِ
مقروءة‘ کامطالعہ اور ایک ’آیاتِ مشہودة‘
کا،اول الذکر وحی کی آیات ہیںاور ثانی الذکر وہ آیات جو کائنات کے اندر
انسانی مشاہدہ کیلئے بکھیر دی گئی ہیں، دونوں کو قرآن کے اندر ’آیات‘
کہا گیا ہے، کیونکہ دونوں خدا تک پہنچنے کا ذریعہ ہیں.
(2) ہمارے ہاں جہالت کا یہ
حال ہے کہ جب ’پارلیمنٹ کی حاکمیت‘ کا رد کیا جاتا ہے تو ہمارے پڑھے
لکھے طنزیہ سوال کرنے لگتے ہیں تو کیا تم تھیوکریسی لے کر آنا چاہتے
ہو؟ گویا ان کے پاس عین وہی چناؤ Choice ہیں
جو مغضوب علیہم والضالین کے معاشروں کو درپیش رہے ہیں۔ یا تھیوکریسی کا
شرک یا ریاست کی حاکمیت کا شرک۔ یہ اس معاشرے کی فکری قیادت کا حال ہے
جس کو صراط الذین انعمت علیہم کا سبق دیا گیا ہے! صراطِ مستقیم ان کو
بہرحال دکھائی نہیں دیتا۔ یا ایک طرح کی گمراہی اور یا پھر دوسری طرح
کی!!
(3) نعتِ رسول ایک قابل
ستائش عمل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
سے عقیدت اور محبت کا اظہار جزو ایمان ہے۔ مگر حدیث میں جس ”اطراء“
یعنی بڑھا چڑھا کر آپ کی نعت کرنے سے جو ممانعت ہوئی ہے اس کو پیش نظر
رکھنا ہر اس شخص پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
اور آپ کے حکم و حدیث پر ایمان رکھتا ہے، واجب ہے۔ یہاں نعت میں اکثر
وبیشتر شرک ہوتا ہے اور محض ’نعت رسول‘ کے عنوان سے آدمی کو یہ دھوکہ
نہ کھا جانا چاہیے کہ وہ کسی شرکہ عبارت کو آرام سے سہ جائے۔
(4) مراد یہ کہ یہ شرک اصغر ہوا کیونکہ کمال
توحید کے منافی ہے جبکہ پہلی قسم شرک اکبر ہے کیونکہ وہ اصلِ توحید کے
ہی منافی ہی نہ کہ محض کمالِ توحید کے منافی ہے۔