فاسئلوا اہل الذکر/اَحکام
حاملہ عورت کیلئے
نماز پنجگانہ کے احکام
(یحی بن عبدالرحمن)
تمام اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ بالغ خواہ مرد ہو یا عورت
اُس پر نماز پنجگانہ کی ادائیگی واجب ہے بشمول حاملہ عورت کے۔ بنا بریں
حاملہ عورت کیلئے یہ بات ازروئے اجماع درست نہیں کہ وہ حمل کی وجہ سے
نماز ترک کردے، نماز پنجگانہ کا حمل کی شدت کی وجہ سے ترک کا کوئی جواز
ہماری شریعت میں نہیں ہے، تاہم حمل کی نوعیت کے لحاظ سے ہر نماز کی
ادائیگی وقت مقررہ پر ادا کرنا ہی ہر صورت میں واجب ہے یا ان نمازوں کو
ایک وقت میں جمع کرنے کی گنجائش پائی جاتی ہے کہ جن نمازوں کو بعض
حالات میں جمع کرنے کا جواز ازروئے شریعت موجود ہے۔ اگلی سطور میں ہم
اہل علم کے اقوال اس مسئلے کی وضاحت کیلئے پیش کریں گے۔
اس مسئلے کا حکم بیان کرنے سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ نمازیں
جمع کرنے میں تکلیف کی شدت اورجسمانی کمزوری سبب بن سکتی ہے یا نہیں۔
بلاشبہ حمل کی کیفیت عورت کیلئے ایک تکلیف دہ حالت ہے اور اس کے
بدن میں کمزوری (ضعف) پیدا کرنے کا ایک جلی سبب بھی ہے۔ نماز پنجگانہ
کی اپنی وقت مقررہ پر ادائیگی، پھر پانچوں نمازوں کیلئے (اگر ضرورت ہو)
ہر بار طہارت حاصل کرنا، عورت کی تکلیف میں اضافے کا موجب بھی ہے۔ عین
ممکن ہے کہ اس طرح حاملہ کیلئے فرائض کی ادائیگی ایسی صورت اختیار
کرجائے کہ اس پر پورا اترنا اس کے بس میں نہ رہے۔
جہاں تک حالت حضر (جہاں کوئی مسلمان حالت سفر میں نہ ہو بلکہ مستقل
سکونت پزیر ہو) میں تنگی اور ضعف کی حالت میں نمازیں جمع کرنے کا مسئلہ
ہے تو اس کی بابت اہل علم کے دو گروہ پائے جاتے ہیں: حنفیہ کے اکثر اہل
علم، اسی طرح مالکی اور شافعی علماء کرام اور بیشتر فقہاء کرام حالت
حضر میں مشقت (تنگی) اور ضعف (بدنی کمزوری) کو ایسا شرعی عذر تسلیم
نہیں کرتے کہ جس کی بنیاد پر نماز کی ادائیگی میں وقت کی پابندی کو
ملحوظ خاطر نہ رکھا جائے۔
علماء کے دوسرے گروہ میں نمایاں ترین حنابلہ کا مذہب ہے، اسی طرح
قاضی حسین رحمۃ اللہ علیہ اور ایک بڑا گروہ محدثین کرام کا بھی ہے جو
چند ضروری شروط کے ساتھ حالت حضر میں مشقت اور ضعف کو نماز جمع کرنے کا
عذر تسلیم کرتے ہیں۔ اس کے جواز کی صورت میں وہ یہ شرط لگاتے ہیں:
(الف) نمازیں جمع کرنے کو معمول نہ بنایا جائے۔ (ب) مشقت اور تنگی شدید
نوعیت کی ہو اور محض ایسی مشقت جو روز مرہ زندگی میں ہر شخص کو اپنے
سماجی مرتبہ اور حیثیت سے اٹھانا ہی ہوتی ہے، ایس مشقت البتہ قابل عذر
نہیں ہے، اس لئے کہ شرعی احکام میں یہ صفت تو پائی ہی جاتی ہے کہ ان کی
ادائیگی میں مشقت اٹھانا پڑتی ہے بلکہ جملہ عبادات کو شرعی اصطلاح میں
تکلیف ہی کہتے ہیں ۔یعنی مشقت، عبادات کی ایک ازلی صفت ہے لہٰذا عام
نوعیت سے زیادہ غیر معمولی مشقت ہی جمع کا سبب بن سکتی ہے۔
اول الذکر قول کو اختیار کرنے والے درج ذیل دلائل کو سامنے رکھ کر
اپنے مؤقف کو ثابت کرتے ہیں۔ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم جابر بن
عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز پنجگانہ کی نسبت بیان کرتے ہوئے نبی
صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:حضرت جبرئیل
علیہ السلامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو مرتبہ اور دو مسلسل دنوں
میں امامت فرمائی۔ جبریل علیہ السلامنے پہلے روز (پانچوں) نمازیں اپنے
اپنے وقت کے آغاز میں پڑھائیں اور اگلے روز اختتام وقت پر پانچوں
نمازیں پڑھائیں اور ارشاد فرمایا کہ (پانچوں نمازیں جن میں دو مختلف
اول اور آخر وقت میں پڑھائی گئی ہیں ان کے درمیان پائے جانے والے وقفے
میں جس وقت نماز ادا کی جائے گی تو وہ نماز گویا اپنے وقت میں ادا
سمجھی جائے گی) ان دو انتہاؤں کے درمیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کیلئے نماز کی ادائیگی کا وقت مقرر کردیا
گیا ہے۔
قول اول کے مؤیدین حدیث کے ان الفاظ سے اپنے اصول کو ماخوذ سمجھتے
ہیں: ''تبین ھذین الوقتین وقت'' پس ثابت ہوا کہ نمازوں کے مقرر شدہ
اوقات اول وقت اور آخر وقت میں پائے جانے والے وقفے کے اندر ہیں۔
وہ فرماتے ہیں کہ یہ جملہ اسمیہ ہے جس میں خبر متقدم ہے اور اس طرح
عبارت میں حصر پیدا ہو گیا ہے جو نمازوں کو حضر کی حالت میں جمع کرنے
کے امکان کے منافی ہے۔
اگلی سطور میں ہم اس دلیل کا ضعف بیان کریں گے: آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے دو صحابیات کو رحم کی بیماری کی وجہ سے نمازیں جمع کرنے کی
اجازت دی تھی۔ حضرت سہلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت سہیل اور حمنہ رضی
اللہ تعالیٰ عنہا بنت جحشٍ کو سیلان رحم کا عارضہ تھا۔ آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ان دونوں بیبیوں کیلئے نمازیں جمع کرنے کی اجازت دی تھی
(گو کہ نمازیں جمع کرنے کی کیفیت مختلف فقہاء کے ہاں الگ الگ بیان کی
جاتی ہے) اس اجازت کی بناء پر اول الذکرگروہ کی رائے کو اختیار کرنے
والے علماء کرام کا حصر کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔
چند شرائط کے ساتھ حالت حضر میں نمازیں جمع کرنے کی اجازت دینے
والے علماء کرام درج ذیل دلائل پر اپنے موقف کی بنیاد رکھتے ہیں:
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کی نمازیں مدینہ منورہ میں قیام کے دوران میں
جمع کیں اور اسی طرح مغرب اور عشاء کی نمازیں بھی ایک وقت میں جمع کیں۔
نہ ہم حالت خوف میں تھے اور نہ (شدید) بارش ہو رہی تھی۔
لوگوں نے(حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے) پوچھا کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی
اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اُمت کو
دشواری میں ڈالنا (پسند) نہیں کرتے تھے۔ (صحیح مسلم)
علماء کرام کے اس گروہ نے خوف اور بارش کے سبب کے علاوہ بیماری اور
بیماری کے حکم میں جو کچھ اور عوارض ہو سکتے ہیں سب کو شامل کیا ہے۔
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہی قول امام احمد بن حنبل
رحمۃ اللہ علیہ کا ہے اور حدیث کے ظاہری مفہوم کے موافق بھی یہی قول
ہے۔
علاوہ اس کے عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اس حدیث کے
ظاہری مفہوم پر عمل تھا اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی
اس رائے کے موافقت ثابت ہے۔
مذکورہ بالا دلائل کو سامنے رکھ کر حالت حضر میں معتبر عذرات کی
صورت میں نمازیں جمع کرنے کا جواز نکلتا ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ
اللہ علیہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے تھے، بیمار اور دودھ پلانے والی
اگر چاہے تو نمازیں جمع کر لے (یہ حدیث ان کی آسانی کیلئے دلیل بن سکتی
ہے) ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ، مغنی میں لکھتے ہیں: مریض اور دودھ
پلانے والی کی طرح ایسی دوسری تکلیف زائدہ میں بھی یہی حکم آسانی کا
رہا ہے۔
بنا بریں اس دوسرے اور راجح قول کی بناء پر ایسی حاملہ عورتوں
کیلئے جمع کرنے کی سہولت پر عمل درست ہوگا جنہیں حمل کی حالت میں شدید
تکلیف رہتی ہے اور ہر نماز کیلئے وضو اور طہارت حاصل کرنا ان کیلئے حد
درجہ تکلیف کا باعث ہوتا ہے۔
علماء اصول الشریعہ کایہ عام کلیہ اور قاعدہ ہے کہ المَشَقّۃُ
تَجْلِبُ التَّیْسِیر ہر تنگی کی حالت آسانی کی متقاضی ہوا کرتی ہے ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وما جعل علیکم فی الدین من حَرَجٍ ''اس دین میں
تمہارے لئے تنگی نہیں رکھی گئی ہے''۔
ماہ رمضان کے احکام
حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کے روزے کے مسائل:
اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حاملہ اور دودھ پلانے والی
عورتیں ماہ رمضان میں اِن دو صورتوں میںروزے چھوڑ سکتی ہیںجبکہ:
(اول)روزے رکھنے سے حاملہ یا دودھ پلانے والی کو(جان یا صحت کے شدید
طور پر گرنے کا)اندیشہ ہو۔ (دوم) دودھ پیتے بچے یا پیٹ والے بچے کو بھی
خطرہ ہو اور اُس کے ساتھ اِن دونوں کو بھی خطرہ ہو۔ ان میں سے ہر دو
صورت میںوہ بالاتفاق روزے چھوڑ سکتی ہیں،ایسے ہی جیسے مریض کے احکام
ہیں جسے روزہ رکھنے سے ضرر پہنچتا ہے۔ مذکورہ بالا سبب کی وجہ سے ماہ
رمضان میں فرض روزے چھوڑنے سے ان پر صرف قضاء ہے اور انہیں ہر روزے کے
بدلے کفارہ بہ صورت روزے یا طعام مسکین میں سے کچھ بھی ان پر سوائے
چھوڑے گئے روزوں کی قضاء کے کچھ بھی واجب نہیں ہے۔
مذکورہ بالا صورت کہ جس میں بچے کو ضرر پہنچنے کے ساتھ حاملہ یا
دودھ پلانے والی عورت کو بھی ضرر پہنچتا ہو سے تعلق تھا اگر صورت کچھ
یوں ہو کہ روزہ رکھنے سے صرف دودھ پینے والے بچے یا پیٹ والے بچے کو
ضرور پہنچتا ہو لیکن حاملہ یا دودھ پلانے والی عورت کو ضرر نہ پہنچتا
ہو تو اس صورت میں البتہ علماء کرام کے اقوال تفصیل طلب ہیں۔
جہاں تک ضرر پہنچنے کا معیار ہے تو وہ عورت کی اپنی حالت پر منحصر
ہے ، جیسے روزہ رکھ کر دیکھ لیا اور گمان غالب یہ ہوا کہ ضرر پہنچنے کو
ہے یا پھر کوئی ماہر امراض نسواں یا جو ایسے ماہر نسواں کے حکم میں ہو
اور مسلمان ہو تو اس کا مشورہ یہ ہو کہ عورت کو روزے نہ رکھنا چاہیں،
تب بھی روزے چھوڑنا درست ہوگا۔ جہاں تک خود ضرر کا تعلق ہے تو وہ محض
وہم پر مبنی نہ ہو بلکہ فی الواقع روزہ رکھنے سے بچے کی طبعی یا ذہنی
بڑھوتری میں ضعف آتا ہو یابچے کی جان جانے کا اندیشہ ہو یا بیمار ہونے
یا بیماری کے بڑھ جانے کا اندیشہ ہو۔ محض نفسیاتی خوف اور وہم کی بناء
پر روزے چھوڑ دینا درست نہ ہوگا۔
صرف بچے کو ضرر پہنچنے کی صورت میں تفصیلات کچھ یوں ہیں: شافعی
مذہب میں معتبر قول اور اکثر شافعیہ کا یہی قول ہے کہ عورت روزے بھی
رکھے گی اور مزید (مسکین کو کھانا کھلا کر فدیہ) بھی دے گی۔ یہی مذہب
حنابلہ کا بھی ہے اور یہی مجاہد کا بھی قول ہے۔ یہی مذہب عبداللہ بن
عمر، عبداللہ بن عباس اور عطاء سے منسوب کیا جاتا ہے۔
ایک رائے یہ پائی جاتی ہے کہ حاملہ عورت جبکہ روزے سے صرف پیٹ والے
بچے کو نقصان پہنچتا ہو تو صرف قضاء دے گی اور اُس پر فدیہ نہیں ہے
۔ یہی صورت اگر دودھ پلانے والی عورت کو پیش آئے تو وہ قضاء بھی
دے گی اور فدیہ بھی دے گی۔ یہ مالکیہ کا
مذہب ہے اور لیث رحمۃ اللہ علیہ سے بھی یہی قول مروی ہوا ہے۔
(1)
ایک تیسری رائے یہ ہے کہ حاملہ عورت اور دودھ پلانے والی عورت پر
صرف فدیہ ہے اور روزوں کی قضاء نہیں ہے (جیسے حائضہ عورت فرض نمازوں کی
قضاء نہیں دیتی۔ مترجم) یہ قول عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ
اور تابعین کی ایک جماعت سے منسوب کیا جاتا ہے۔
چوتھی رائے یہ ہے کہ دونوں پر نہ قضاء ہے اور نہ فدیہ، یہ رائے
امام ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ کی ہے۔
پانچویں رائے یہ ہے کہ قضاء یا فدیہ میں سے جسے چاہے عورت اختیار
کر سکتی ہے۔ اگر اُس نے قضاء دینے کا فیصلہ کیا تو فدیہ نہیں اور اگر
فدیہ دینے کا فیصلہ کیا تو قضاء نہیں دے گی یہ قول اسحاق بن راھویہ
رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔
چھٹی رائے یہ ہے کہ اُن پر صرف روزوں کی قضاء واجب ہے اور فدیہ
دینا واجب نہیں ہے۔ یہ رائے حنفیہ کی ہے۔ یہ قول شافعیہ کا بھی ہے اور
شافعی مذہب کے جلیل القدر امام، المذنی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی قول
ہے، حسن بصری، ابراہیم النخعی، اوزاعی، عطائ، زہری، سعید بن جبیر،
ضحاک، ربیعہ، ثوری، ابوعبید اور ابوثوررحمہم اللہ کی بھی یہی رائے ہے۔
بیشتر اصحاب الرائے اور ابن المنذر رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے،
امام لیث رحمۃ اللہ علیہ سے ایک یہ قول بھی منسوب ہے جسے طبری رحمۃ
اللہ علیہ نے بیان کیا ہے۔
پہلی رائے اختیار کرنے والے اہل علم کے دلائل یہ ہیں: وعلی الذین
یطیقونہ فدیۃٌ طعامُ مِسکین ''اور جو لوگ روزہ رکھنے کی قدرت رکھتے ہوں
(پھر نہ رکھیں) تو وہ فدیہ دیں۔
آیت کے عموم میں حاملہ اور مرضعہ(دودھ پلانے والی) دونوں شامل ہیں۔
اہل علم کا یہ گروہ اس آیت کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ
کا قول بھی نقل کرتے ہیں کہ یہ آیت خورد سال بوڑھے مرد اور بوڑھی عورت
کی آسانی کیلئے نازل ہوئی ہے۔ وہ روزہ رکھنے کی قدرت رکھتے ہوئے بھی
اگر چاہیں تو روزہ چھوڑ دیں اور اُس کے بدلے میں ایک مسکین کو کھانا
کھلائیں۔ ہاں ''حاملہ اور مرضعہ بھی اِس آسانی(رخصت) سے فائدہ اٹھا
سکتی ہے''(کفارے کی یہ صورت کہ ایک مسکین کو کھانا کھلائیں اِس لیے ہے
کہ اِن حضرات نے ماہ رمضان میں روزے نہیں رکھے ہوتے البتہ جو روزہ یا
روزے انہوںنے چھوڑے ہوتے ہیں تو کیونکہ وہ شریعت کے مخاطب ہیں اِس لیے
فرض روزوں میں سے جو چھوڑے گئے تھے وہ لازماً ماہ رمضان کے بعد جب بھلے
چنگے ہو جائیں رکھنے ہوں گے، اس لیے اِن اصحاب کے نزدیک وہ کفارہ بھی
دیں گی اور جب خطرے سے نکل جائیں تو روزہ بھی رکھیں گی۔ ) واوین میں
ترجمہ کی گئی عبارت کی تشریح کرتے ہوئے ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے
ہیں کہ جبکہ (انہیں اپنے نفس کے کمزور پڑ جانے کا خطرہ تو نہ ہو البتہ)
وہ بچے کو ضرر پہنچ جانے کا اندیشہ رکھتی ہوں، وہ کہتے ہیں کہ اس صورت
میں وہ فدیہ دے گی۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی یہی قول منسوب ہے۔
اصحاب علم کا یہ گروہ کہتا ہے کہ یہ دونوں جلیل القدر صحابہ جب کوئی
رائے دیتے تو وہ اہل علم میں شہرت پا جاتی تھی، اگر اس رائے کے مخالف
صحابہ کا دوسرا قول ملتا تو پھر ہم اِس قول کو دلیل نہ بناتے۔ چونکہ
اُن کا کوئی مخالف اُس زمانے میں نہیں پایا جاتا تھا تو یہ عدم مخالفت
ہماری رائے کی مؤید ہے۔
مذکورہ بالا رائے پر تبصرہ بیشتر صحابہ اور مفسرین اس آیت کو سورہئ
بقرہ کی ایک دوسری آیت: فمن شہد منکم الشھر فلیصمہ جو شخص اس مہینے کو
پائے، اُس کو لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے۔
واقعہ یہ ہے کہ ابتداء میں روزے جیسی پُرمشقت عبادت کی عادت ڈالنے
کیلئے اہل اسلام کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ روزہ یا فدیہ میں سے
جو چاہیں اختیار کرلیں، دونوں طرح جائز تھا، بعد میں پورے رمضان کے
روزے رکھنا ہی فرض قرار پا گیا تھا۔
تیسری رائے یہ ہے کہ جو بھی صورت ہو۔ جو بھی صورت ہو سے مراد ہے
اگر عورت کو صرف اپنی صحت کے گر جانے کا اندیشہ ہو اور بچہ کمزور نہ
پڑتا ہو، یا عورت بھی کمزور پڑ جاتی ہو اور اس کا بچہ بھی خواہ دودھ
پینے والا ہو یا پیٹ میں ہو، یا عورت کے روزہ رکھنے سے وہ خود تو کمزور
نہیں ہوتی مگر بچہ کمزور پڑتا ہو دونوں (حاملہ اور مرضعہ) پر صرف فدیہ
ہے اور روزوں کی قضاء نہیں ہے اس کی تائید میں ابن عباس رضی اللہ
تعالیٰ عنہ کی تفسیر اور قراءت کا فرق دونوں پیش کئے جاتے ہیں۔
یُطِیقونَہ، کو عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ یُطَوِّقُونَہ
پڑھتے تھے اور اس کی تفسیر یہ بیان کرتے تھے: یُکلّفونہ مع المشقۃ
اللاحقۃ لھم: ایسے لوگ کہ جو اگر روزہ رکھ سکتے ہوں مگر وہ روزہ رکھ کر
شدید مشقت اٹھاتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس قراءت کی رو
سے مذکورہ بالا آیت منسوخ نہیں رہتی اور اُس کا حکم باقی ہے کہ قدرت
رکھتے ہوئے اگر بہت زیادہ مشقت اٹھانا پڑتی ہو تو وہ روزہ چھوڑ کر محض
فدیہ دے سکتے ہیں۔ یہ اصحاب علم فرماتے ہیں کہ حاملہ اور مرضعہ میں یہ
صفت اکثر پائی جاتی ہے اس لئے وہ اس آیت کے حکم میں شامل ہیں۔
مذکورہ بالا دلیل کی کمزوری:
(1) صحابی رسول عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قراءت
(یُطَوِّقونہ : واو کی تشدید کے ساتھ) قرآن مجید کی معتبر قراءت میں
شامل نہیں کی جا سکتی کیونکہ یہ قراءت متواتر نہیں ہے۔ قراءت کے معتبر
ہونے کیلئے اس کا متواتر ہونا شرط ہے جبکہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ
عنہ کی یہ قراءت شاذ (جسے معدودے چند یا صرف ایک سچا اور عادل راوی
بیان کرے) قراءت میں شمار ہوتی ہے۔
(2) دوسری دلیل یہ ہے کہ جمہور صحابہ کرام اور مفسرین کے نزدیک
متواتر قراءت 'یُطِیقُونَہ' منسوخ ہے تو پھر شاذ قراءت سے اس آیت کو
مخصوص کرنا کس طرح درست ہو سکتا ہے۔ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے
ہیں: ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس آیت کو منسوخ نہیں سمجھتے تھے
مگر (اہل علم کا جو گروہ) اُن کے مخالف پایا جاتا ہے وہ بہت بڑی اکثریت
میں ہے۔
بنا بریں اوپر والی رائے جسے ہم نے اصحاب علم کی تیسری رائے کے
عنوان سے پیش کیا ہے ہمارے نزدیک درست نہیں ہے۔
جہاں تک ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ کی رائے کا تعلق ہے تو وہ اس کی
دلیل یہ دیتے ہیں کہ فقہاء اُمت کا روزوں کی قضاء کے وجوب پر تو ویسے
ہی اتفاق نہیں ہے اور اسی طرح فدیہ پر بھی وہ متفق نہیں ہے، دوسری طرف
کوئی نص بھی نہیں پائی جاتی جبکہ کسی چیز کے واجب ہونے کیلئے یا اجماع
کا ہونا دلیل ہوتا ہے یا نص کا ہونا، یہاں دونوں مفقود ہیں اس لئے
حاملہ اور مرضعہ (جب وہ روزہ رکھنے میں ہلکان ہوتی ہوں) پر نہ روزوں کی
قضاء دینا واجب ہے اور نہ فدیہ ہی دینا واجب ہے۔
ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ کے استدلال کی کمزوری:
اہل علم کا کسی بات پر اتفاق نہ ہونا تمام ادلہ کو منسوخ نہیں کرتا
بلکہ مضبوط دلیل پر عمل ایک درست رویہ ہے، تصور کیا جا سکتا ہے کہ اہل
علم کی دلیلیں اگر متعدد ہو جائیں اور اس بناء پر کوئی حکم بھی ماخوذ
نہ سمجھا جائے تو شریعت کے اکثر احکام معطل ہو جائیں گے کیونکہ ایسا
کبھی کبھار ہی ہوتا ہے کہ تمام اہل علم کسی ایک بات پر اتفاق کرتے ہوں
اور اکثر احکام تو مضبوط دلیل اور راجح ہونے کے سبب ہی تسلیم کیے جاتے
ہیں لہٰذا ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ کی رائے اور اصول دونوں سے اتفاق
نہیں کیا جا سکتا۔
چھٹی رائے پر تبصرہ:
حنفیہ اور دوسرے مذاہب نے یہ رائے اختیار کی تھی کہ حاملہ اور
مرضعہ صرف روزوں کی قضاء دیں گی اور اُن پر فدیہ دینا واجب نہیں ہے
خواہ روزے ترک کرنے کی وجہ عورت کا اپنا ضعف ہو یا بچے کا یا دونوں کا،
اس رائے کو اختیار کرنے میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
اس حدیث کو پیش کرتے ہیں۔
اِنّ اﷲ وضع عن المسافر
الصوم وشطر الصلوٰۃ وعن الحامل أو المرضع الصوم أو الصیام۔ رواہ احمد
ونسائی
(ہمارے دین میں یہ اچنبھے کی بات نہیں کہ) اللہ نے مسافر سے تو (حالت
سفر میں پائے جانے والے تمام) روزے (رکھنے میں) رعایت کر دی (اور ساتھ
ہی اس کیلئے یہ سہولت بھی پیدا کر دی کہ وہ) نماز میں تخفیف کرکے (چار
رکعت والی نماز) آدھی ہی پڑھ لیا کرے، (دوسری طرف یہی سہولت) روزے کی
حد تک حاملہ اور مرضعہ کو بھی روزہ یا روزے نہ رکھنے کی رعایت کی صورت
میںحاصل ہے۔
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی بابت کہتے ہیں کہ یہ حدیث
حسن درجے کی ہے اور اسی پر اہل علم کے ہاں عمل کیا جاتا ہے۔
وہ آگے لکھتے ہیں کہ حدیث کا ظاہری مفہوم تو یہی ہے اور اس پر اہل
علم کا عمل بھی ثابت ہے البتہ قرآن مجید سے یہ مفہوم بھی نکلتا ہے کہ
جو شخص روزہ رکھنے سے شدید مشقت میں پڑ جاتا ہو وہ قضاء نہ دے اور صرف
فدیہ دیا کرے۔ مذکورہ بالا تشریح امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کی ہے۔
راجح قول:
ہمارے نزدیک حاملہ اور مرضعہ کو اگر روزہ چھوڑنا پڑ جائے تو اُن پر
صرف روزے کی قضاء ہے اور اُن پر فدیہ واجب نہیں ہے۔ یہ قضاء کا حکم اُس
صورت میں ہے جب حاملہ اور مرضعہ بھلی چنگی ہو کر روزے کی قضاء دے سکتی
ہوں۔ اگر ان کے ضعف یا بیماری کی صورت مسلسل باقی رہتی ہے تو پھر وہ
قضاء کے بدلے میں فدیہ دیں گی اس طرح کہ ایک دِن کے بدلے ایک مسکین کو
کھانا کھلانا۔ اگر انہیں روزہ رکھنے سے معمولی مشقت اٹھانا پڑتی ہے تو
پھر روزہ رکھنا ہی ان کے حق میں واجب ہوگا۔
(جاری ہے)
(1) (بعض اہل علم حاملہ اور مرضعہ میں یہاں فرق کرتے ہیں۔ دودھ پلانے
والی دوسری عورت سے جسے کسی وجہ سے روزے نہ رکھنے ہوںاپنے بچے کو دودھ
پلوا سکتی ہے بر خلاف حاملہ کے جس نے ہر وقت بچے کو اپنی کوکھ میں اٹھا
رکھا ہوتا ہے