سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فکر<< معاشرہ

Download in PDF format

الدنیا مزرعہ الاخرہ

 

کیا یہ عقیدہ منفیت اور پسماندگی سکھاتا ہے؟

 

کچھ لوگوں نے عقیدہ آخرت کے بارے میں یہ بات گھڑ رکھی ہے کہ یہ ذہنوں میں کچھ ایسا منفی رویہ پیدا کرتا ہے جس سے لوگ دنیا سے منہ موڑ لیں۔ کاروبار زندگی کو اسکے حال پر چھوڑ دیں اور اس میں اصلاح اور بہتری لانے کےلئے جد وجہد کی ضرورت تک محسوس نہ کریں۔ اور یہ کہ آخرت کی تلاش کےلئے ضروری ہے کہ یہ دنیا طاغوتوں اور ظالموں کے رحم و کرم پر چھوڑ دی جائے کہ وہ جیسے چاہیں اس میں فساد برپا کرتے رہیں!

یہ لوگ دروغ گوئی کے ساتھ ساتھ اپنی جہالت کا ثبوت بھی دیتے ہیں۔ ان کی جہالت یہ ہے کہ یہ عقیدہ آخرت کے اس بگڑے ہوئے تصور کو جو چرچ نے دنیا کو دیا اس صحیح اور خالص عقیدہ کے ساتھ یکجا کر کے دیکھتے ہیں جو اﷲ کی جانب سے نازل ہوا ہے۔ حالانکہ اسلام کے اندر تودنیا ہے ہی آخرت کی کھیتی۔ اسلام کی رو سے تو آخرت کا زاد سفر ہی یہ ہے کہ آدمی اس دنیا کو بدلنے میں اپنی جان کھپا دے اور اصلاح کی سر توڑ کوشش کرے۔ زمین کو شر اور فساد سے پاک کرنے کےلئے جہاد کرے۔ یہاں اﷲ کے حق پر جہاں جہاں ڈاکہ پڑتا ہے اس کا قلع قمع کر دے۔ دنیا میں طاغوتوں اور اﷲ کے سر کشوں کو لگام ڈالے اور انسانیت کے خیر اور عدل و راستی پہ قائم رکھنے کےلئے اپنی پوری جد و جہد کرے۔۔ اسلام کے اندر تو آخرت میں لے جانے کےلئے توشہ ہی یہ ہے۔ دنیا میں کی گئی یہی محنت توآخرت میں مجاہدوں کےلئے جنت کے دروازے کھلواتی ہے۔ یہاں باطل کے ساتھ کشمکش رکھنے میں انکو جو کھونا پڑے اور جو اذیت سہنی پڑے آخرت میں یہ اس کا صلہ تو وصول کرنے جاتے ہیں۔

جس عقیدے میں ایسے سبق ملتے ہوں کیسے ہو سکتا ہے کہ پھر اسی عقیدے کے پیروکار اپنےارد گرد کی دنیا کو اس کے حال پر چھوڑ دیں تاکہ دنیا ساری سٹرانڈ بن جائے اور بد بو سے سب کی ناک میں دم کر دے۔ جیسا مرضی دنیا میں برپا رہے، اس میں ظالم دندناتے پھریں اور سرکشوں کا جیسا مرضی بول بالا ہو۔۔ مگر یہ حضرات دنیا کی تعمیر اور اصلاح سے کنارہ کش ہی رہیں کیونکہ ان کو محض آخرت کی کامیابی درکار ہے اور صرف اﷲ کی خوشنودی کا انتطار !!!

تاریخ کے کسی دور میں اگر کہیں ایسے منفیت زدہ مسلمان پائے جائیں جو دنیا کو اسکے حال پر چھوڑ دینے کا کام ازروئے اسلام کرتے ہوں اور اس بات سے انکو قطعاً کوئی سروکار نہ ہو کہ دنیا میں برائی، فساد، ظلم، سرکشی، پسماندگی اور جہالت کیسے پھل پھول رہی ہے تو یہ اس وجہ سے نہ ہو گا کہ یہ مسلمان اس دین کی حقیقت پر قائم اور اﷲ سے ملاقات پر یقین رکھتے ہوں گے بلکہ اسکی وجہ صرف یہ ہو سکتی ہے کہ اسلام کا جو مطلب اور مفہوم یہ لیتے ہوں وہ خود فساد اور انحراف کا شکار ہو اور آخرت پر انکا یقین متزلزل اور کمزور پڑچکا ہو۔ یہ تو نا ممکن ہے کہ کوئی انسان اﷲ سے ملنے پر یقین رکھے ساتھ اس دین کی حقیقت کا پورا شعور بھی۔۔ اور پھر وہ زندگی میں منفیت اور پسماندگی کا ایسا رویہ اپنائے کہ معاشرے میں جیسا بھی فساد اور سرکشی برپا ہو وہ چین اور آرام سے اپنی نبیڑتا رہے!

مسلمان تو زندگی کے ہنگاموں میں شریک ہوتا ہے۔ ہاں ساتھ یہ شعور ضرور رکھتا ہے کہ وہ اس دنیا سے بلند اور بالا تر ہے۔ وہ دنیا کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو یا زہد اختیار کرے مگر جانتا ہے کہ یہ سب ہے اسی کےلئے۔ یہ لذتیں دنیا میں اسکے لیے حلال ہیں اور آخرت میں تو ان پر حق ہی اس کا ہے۔ وہ دنیا کی تعمیر و ترقی میں اپنی توانائیاں بھی کھپاتا ہے کیونکہ یہ زمین میں اس سے کار خلافت کا تقاضا ہے۔ وہ دنیا میں اپنی آخرت بنانے کےلئے برائی اور فساد کو ختم کرتا ہے۔ ظلم کے راستے میں دیوار بن جانے پر تیار ہوتا ہے حتیٰ کہ اس راستے میں ہر اذیت سہہ لیتا ہے اور ہر قربانی دینا قبول کرتا ہے ۔ اس آخرت کی خاطر تو وہ دنیا میں شہادت کی موت بھی ہنس کر گلے لگا لیتا ہے۔۔

مسلمان کا تو دین ہی اس کو یہ سکھاتا ہے کہ یہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ اور یہ کہ آخرت کے کسی ایسے راستے کا تصور بھی نہیں جو اس دنیا کے عین بیچ سے گزر کر نہ جاتا ہو ! اور یہ کہ دنیا بڑی کمتر اور حقیر ضرور ہے مگر یہ دنیا اﷲ کی وہ نعمت ہے جس سے گزر کر وہ آخرت کی عظیم تر نعمت کو پا سکتا ہے ۔ خلد کی راحت پانے کےلئے تو یہی میدان کارزار ہے!

سید قطب

(اردو استفادہ از فی ظلال القرآن صفحہ ١٠٧٠۔ سورہ انعام آیت ٢٩)