سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

اصلاح وتجدید<< جوابات<< قتال

Download in PDF Format

تحریک مجاہدین اور تحریک طالبان

حامد کمال الدین

ایک اعتراض اور ہماری وضاحت

ایقاظ کا گزشتہ سے پیوستہ اداریہ جو ایک طویل مضمون پر مشتمل تھا اور جو ”جہاد افغانستان کے تناظر میں“ کے عنوان سے شائع ہوا تھا اس پر ہمیں ایک اعتراض موصول ہوا ہے۔ اس پر شکر گزار ہونا ہم اپنے لئے یقینا باعث سعادت سمجھتے ہیں کیونکہ اس کا مطلب یہی ہے کہ کسی کو ہماری اصلاح کس قدر مطلوب ہے۔ ہماری درستی کیلئے کوئی اپنا قیمتی وقت صرف کرتا ہے تو اللہ اسے بہت بہت جزائے خیر دے۔

بہرحال یہ اعتراض اور اس کے جواب میں ہماری وضاحت ذیل میں دی جاتی ہے۔

 

اعتراض:

صاحب مضمون نے تحریک طالبان کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اس پر جو تعمیری تنقید اور منصفانہ جائزہ پیش کیا ہے وہ یقینا اس فکر سلیم کا لازمی تقاضےٰ ہے جسے وہ اپنی اس تحریر میں اجاگر فرما رہے ہیں مگر سید احمد بریلوی اور ملا عمر اور ان دونوں تحریکوں کو ایک دوسرے سے حد درجہ مماثل قرار دینے میں ان کے ہاتھ سے دامن انصاف چھوٹ گیا ہے۔ حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ ایک کی فکری قیادت کی تہہ میں گمراہ کن باطنیت (تصوف) اور دوسری میں صاف وشفاف عربی سلفیت کار فرما تھی، اس اعتبار سے صاحب تحریر نے خود مذہبی رواداری کے رسمی انداز کو اپناتے ہوئے اسی غلطی کا ارتکاب کیا ہے جس کی نشاندہی کے لئے وہ یہ سب کچھ لکھ رہے ہیں۔

جوابی وضاحت:

ہمارے مضمون میں سید احمد بریلوی کی تحریک مجاہدین اور ملا محمد عمر کی تحریک طالبان کے درمیان ایک شدید مماثلت کا ذکر ہوا ہے۔ مگر مضمون میں وجہ مماثلت بھی واضح کر دی گئی ہے جس کا لب لباب یہ تھا کہ دونوں تحریکوں میں یہ چیز مشترک ملتی ہے کہ بے انتہاءاخلاص، جذبہ نیکی، جوش عمل، روایتی دینداری، رد بدعات ومنکرات، ترک رسوم ورواج، دلیری، بہادری، فدائیت، جذبہ شہادت وغیرہ کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی دونوں میں مشترک ہے کہ جس دور میں یہ دونوں تحریکیں اٹھائی گئیں، اس دور کیلئے یہ تحریکیں تھیں نہیں۔ اپنے دور کو سمجھنے اور اپنے دور کے انسان کو خطاب کرنے میں دونوں تحریکوں کے اندر شدید کمی رہ گئی تھی۔ مضمون کی عمومی فضاءسے یہ بات بآسانی واضح ہو جاتی ہے کہ مماثلت کا اصل پہلو یہی ہے جس کا ذکر کرنا ہمارے پیش نظر ہے۔

سید احمد اور ملا عمر کی شخصیتوں میں بھی ایک مماثلت پائی جاتی ہے۔ دونوں علم وفقہ کے مرد میدان نہیں مگر اہل علم وفقہ کو اپنے گرد اکٹھا کر لینے میں دونوں کامیاب رہے۔ اپنے سے بہت زیادہ علم رکھنے والی شخصیات کی قیادت کر لینے اور ان میں حد درجہ پذیرائی پا لینے میں انہیں کوئی مشکل پیش آئی اور نہ ان علمی شخصیات کو ان کی رہنمائی قبول کر لینے میں کچھ پس وپیش ہوئی۔ دونوں شخصیتوں میں مقصد سے لگن اور نشاط عمل کوٹ کوٹ کر بھرا نظر آتا ہے۔ پھر دونوں میں یہ بات بھی مشترک نظر آتی ہے کہ کچھ اقدامات قبل از وقت اور صحیح تیاری کے بغیر کر لینے میں دونوں نے کچھ غلطیاں کیں۔

یہ ہے ان دونوں تحریکوں اور دونوں شخصیتوں میں وجہ مماثلت۔ مگر لفظ مماثلت سے یہ سمجھ لینا درست نہیں کہ ان کی ہر ہر بات آپس میں ملنی چاہئے۔ ظاہر ہے کئی لحاظ سے ان میں فرق بھی ہو سکتا ہے۔ سید احمد بریلوی کا دور نسبتاً زیادہ علمی قسم کا دور تھا۔ آج کل تنظیموں کا دور ہے۔ آج کل محنتی اور ذہین قسم کے بعض کارکن بھی اخلاص عمل کی بنیاد پر تنظیم میں آگے بڑھتے بڑھتے قیادت تک پہنچ جاتے ہیں۔ غالباً سید احمد بریلوی کے دور میں ایسا نہیں تھا۔ اس دور کا ایک درمیانہ سا علم رکھنے والا شخص بھی موجودہ دور کے تنظیمی رہنماؤں کی نسبت خاصا بڑا عالم قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے علمی، فقہی اور عقائدی معاملات میں سید احمد بریلوی سے بہت سے مسائل منسوب ہیں۔ ان مسائل کی ان سے نسبت ثابت ہو یا نہ مگر اتنا اس سے ضرور واضح ہے کہ وہ علمی، فقہی اور عقائدی مسائل میں باقاعدہ طور پر صاحب موقف تھے۔ ملا عمر میں یہ بات نظر نہیں آتی۔ یہ ایک نیک اور صالح نوجوان ہیں جو دینی مدارس کے پڑھے ہوئے یا دینی مدارس کو درمیان میں چھوڑ آنے والے مخلص نوجوانوں کی قیادت کا باحسن انداز فریضہ سرانجام دیتے رہے۔ علمی اور عقائدی معاملات میں ملا عمر کو کوئی ایسی شہرت نہیں کہ وہ باقاعدہ کوئی مواقف اختیار کرتے ہوں۔ اس پر بحث وتمحیص کرنے کے عادی ہوں۔ کسی شرعی مسئلے پر کوئی تالیفات رکھتے ہوں۔ علمی اور عقائدی معاملات میں ان کا کسی سے اختلاف ونزاع چلتا رہا ہو، ایسی کوئی بات ہمارے علم میں نہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ملا عمر ایک مخلص مجاہد نوجوان ہیں جن میں قیادت کی بہت اچھی صفات بھی بدرجہ اتم پائی گئیں اور علماءکی توقیر واحترام کی صفت بھی ان کو خوب ملی۔ علماءکا کام انہوں نے کبھی اپنے سر نہیں لیا اور اپنا کام علماءکے سر نہیں ڈالا۔

چنانچہ یہ ایک بات ضرور ایسی ہے جس میں سید احمد اور ملا عمر کا موازنہ درست نہ ہو گا۔ اب ایک ایسا قائد جو علمی اور عقائدی معاملات میں صاحب موقف نہ ہو، ظاہر ہے مختلف طبقے اس سے علمی اور عقائدی اختلاف کرنے کی گنجائش بہت کم پائیں گے اور مخلف مکاتب فکر کی اس سے خوش فہمی کا امکان بھی اتنا ہی بڑھ جائے گا۔ ہم خود اس بات کے قائل ہیں کہ ملا عمر کو اس بات کا فائدہ دیا جانا چاہیئے اور خواہ مخواہ یہ فرض کر لینا درست نہیں کہ عقیدہ کے بہت سے روایتی اختلافی مسائل میں ان کا موقف یہ ہے یا وہ۔ فقہی قاعدہ ہے (لا ینسب لساکت قول) ”کہ جو آدمی خاموش ہو اس سے کوئی بھی قول منسوب نہیں کیا جا سکتا“ اب سوال یہ ہے کہ ایک مسئلہ پر خاموش رہنے والے کسی شخص سے جب کوئی قول تو منسوب نہیں ہو سکتا تو پھر اس کے بارے میں سمجھا کیا جائے؟ ظاہر ہے دوسرا شرعی قاعدہ مسلمان کے بارے میں حسن ظن کا ہے! ظن المومنؤن والمؤمنات بانفسھم خیرا اس کا تقاضا ہے کہ آپ یہی گمان رکھیں کہ اس کا موقف یا مسلک اچھا ہی ہو گا۔

مگر اس ضمن میں کچھ مزید وضاحت بھی درکار ہے۔

پہلی بات یہ کہ اس حسن ظن کا حق ہر طبقے اور ہر فریق ہی کو حاصل رہے گا۔ آپ جو موقف رکھتے ہیں، آپ کے حسن ظن کی رو سے آپ گمان یہ رکھیں گے کہ ان صاحب کا مسلک ”امید ہے یہی یا اس سے قریب قریب ہو گا“۔ جبکہ آپ سے مختلف موقف رکھنے والے کا حسن ظن اس سے بالکل مختلف تقاضا کرے گا۔ نتیجتاً حسن ظن تو متعلقہ شخص سے سب کا برقرار رہے گا مگر بالفعل اس کا موقف کیا سمجھا جائے۔ اس مسئلہ پر ہر فریق کا ’اندازہ‘ ظاہر ہے مختلف ہو گا .... پاکستان میں بیشتر دینی طبقوں میں ملا محمد عمر کو ایک خاص پذیرائی حاصل رہی ہے تو ہم سمجھتے ہیں یہ ایک بالکل طبعی اور درست بات ہے۔ ابھی ہم پیچھے کہہ چکے ہیں کہ یہ فرض کر لینا درست نہیں کہ عقیدہ کے بہت سے روایتی اختلافی مسائل میں ملا عمر کا موقف یہ ہے یا نہیں ہے .... بلکہ ہمارا تو خیال ہے کہ ملا صاحب ان مسائل میں شاید پڑتے ہی نہیں جن میں ہم ان کو اپنا طرفدار یا کسی اور کا مخالف فرض کر لیتے ہوں۔ ان کا میدان ہمارے خیال میں بالکل کوئی اور ہے اور بہت مشکل میدان ہے۔

دوسری بات یہ کہ حسن ظن کے قاعدہ کی رو سے آپ کا کسی مسلمان سے نیک گمان رکھنا ایک اور چیز ہے مگر کوئی موقف باقاعدہ طور پر اس سے منسوب کر دینا بالکل ایک اور چیز۔ آپ کے پاس اس بات کی کیا دلیل ہے کہ ملا عمر اور تحریک طالبان کی اٹھان عرب کی خالص سلفیت پر ہوئی ہے یا پاک وہند کی ملی جلی دیوبندیت پر؟ خوش فہمی اور حسن ظن نہایت درجہ مطلوب ہے مگر کسی بات کو کسی کا باقاعدہ موقف اور مسلک قرار دے دینا بالکل ایک اور چیز ہے۔

ان دو قواعد (لا ینسب لساکت قول) اور (ظن المؤمنون والمؤمنات بانفسھم خیرا) کے بعد کسی کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنے کیلئے ایک تیسری بنیاد بھی ہے اور وہ ہے قرائن کی شہادت۔

قرائن کسی پر حکم لگانے اور اس کی قطعی ادانت اور مذمت کیلئے تو درست نہیں البتہ کسی کے بارے میں اندازہ قائم کرنے کی حد تک یقینا قابل اعتناءہیں۔

علاوہ ازیں .... ایک الزام کو ثابت کرنے کی بہ نسبت اس کے ازالہ کیلئے قرائن کی شہادت زیادہ معتبر ہوتی ہے۔

ملا محمد عمر سمیت طالبان عمومی طور پر پاکستان میں دیوبندی مدارس میں پڑھے ہیں۔ دیوبندی اساتذہ کے آگے زانوئے تلمذ طے کرتے رہے ہیں۔ انہی مدارس میں ان کی فکری تربیت ہوئی ہے۔ پھر یہ تحریک آخر وقت تک پاکستان میں علماءدیوبند کو ہی عموماً اپنے اکابر کے طور پر پیش کرتی رہی ہے۔ سبھی کو یہ بات معلوم ہے کہ یہاں کچھ علماءدیوبند اس تحریک کی سرپرستی کے فرائض انجام دیتے رہے ہیں جبکہ انکی دامے درمے سخنے مدد تو یہاں کے بیشتر قابل قدر علمائے احناف کرتے رہے ہیں اور ان سے بے انتہاءقربت بھی محسوس کرتے رہے ہیں۔ برصغیر کے مکتب دیوبند سے طالبان کی عمومی وابستگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ جہاں تک برصغیر کے مکتب دیوبند کا تعلق ہے تو اس کے عقائد کسی سے مخفی ہیں اور نہ اس کے اکابرین۔ حتی کہ سید احمد بریلوی کی تحریک مجاہدین کو بھی یہ علماءدیوبند اپنا تاریخی حصہ سمجھتے ہیں اور تحریک مجاہدین کی بہت سی شخصیات کا اپنے اکابرین میں باقاعدہ شمار کرتے ہیں۔

قرائن کی شہادت آپ کے ہاں کسی درجے میں اگر معتبر ہے تو وہ تو طالبان کی بابت یہی کہتی ہے کہ یہاں عرب کی سلفیت کی بجائے پاک وہند کی دیوبندیت کا امکان ہی راجح ہے۔ البتہ کسی کی اسلام کیلئے خدمت اور قربانی کا اعتراف کرنا اس بات کو مستلزم نہیں کہ پہلے آپ اسے اپنے میں سے مانیں تو تب اس کی کسی نیکی کو تسلیم کریں۔ اس دین کی نصرت اللہ ہر کسی سے لے سکتا ہے۔ خود مسلمانوں میں بھی سبھی طبقوں پر آپس میں ایک دوسرے کی نصرت فرض ہے۔ چاہے وہ کسی فکری اور مذہبی پس منظر میں سے ہوں۔ رہا صاحب مضمون کی بابت یہ کہنا کہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ”ایک کی فکری قیادت کی تہہ میں گمراہ کن باطنیت اور دوسری میں صاف شفاف عربی سلفیت کار فرما تھی“ تو صاحب مضمون کو اپنی کم علمی کا برملا اعتراف کرنے میں ہرگز کوئی تامل نہیں لیکن اگر یہ واقعی ایک واقعہ ہے کہ ”تحریک مجاہدین اور تحریک طالبان میں سے ایک کی فکری قیادت کی تہہ میں گمراہ کن باطنیت اور دوسری میں صاف شفاف عربی سلفیت کارفرما تھی“ تو بخدا صاحب مضمون اس واقعہ سے ابھی تک لاعلم ہے۔

میرے ناقص علم میں نہ تو ایک طرف ”گمراہ کن باطنیت“ سے یوں قطعی اور مطلق طور پر نسبت کر دینا درست ہے اور نہ دوسری طرف ”صاف شفاف عربی سلفیت“ کا سرٹیفکیٹ ہی اتنی آسانی سے دیا جا سکتا ہے.... صاحب مضمون ان دونوں مقدمات سے متفق نہیں۔

طالبان کے بارے میں ہم بات کر چکے۔ رہی تحریک مجاہدین یا اس کی قیادت تو وہ دو صدی پیشتر کا ایک واقعہ ہے۔ ہم ان کے ہم عصر نہیں کہ ان کے عقائد کا فیصلہ کر سکیں۔ ہمیں اس بات کی ضرورت بھی نہیں۔ کسی آدمی کی ادانت اور مذمت کرنے کیلئے اس کے حالات سے پوری طرح واقف ہونا اور اس کے بیانات سے دو اور دو چار کی طرح آگاہ ہونا ضروری ہے۔ امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ کسی شخص کو فاسق یا بدعتی قرار دینا بھی اسی قدر احتیاط کرنے کا مسئلہ ہے جتنا کہ کسی کو کافر قرار دینے کا مسئلہ۔ البتہ کسی گزرے بسرے شخص کی تحسین کیلئے یہ شرط نہیں کہ اس سے منسوب اچھی باتیں بھی اسی طرح دو اور دو چار کی طرح اس سے ثابت ہوں۔ اب سید احمد بریلوی وغیرہ سے بہت اچھی اچھی اور موحدانہ باتیں بھی باقاعدہ منسوب ہیں اور تصوف کی بعض ناروا اور فرسودہ ترین باتیں بھی۔ بری باتوں سے ان کی نسبت ثابت ہونے کیلئے جس تیقن کی ضرورت ہے وہ کم از کم میں اپنے پاس نہیں رکھتا۔ البتہ اچھی اور موحدانہ باتوں کی ان سے نسبت کیلئے اس درجے کا تیقن اور قطعی ثبوت ہونا ضروری نہیں۔ چنانچہ ایسی حالت میں یہاں بھی حسن ظن والا قاعدہ باقی رہ جاتا ہے اور اسی پر عمل کرنا ہمارے خیال میں درست ہے۔

ہاں یہ وضاحت ضروری ہے اور ایقاظ کے صفحات ان شاءاللہ اس بات کا عملی اظہار رہیں گے کہ ایک غلط بات بہرحال غلط ہے چاہے وہ کتنے بھی اچھے سے اچھے آدمی سے منسوب کیوں نہ کی جاتی ہو۔ اور یہ کہ کسی کے بارے میں کوئی محتاط رائے رکھنا اس چیز میں مانع نہیں کہ باطل عقائد کو تو بہرحال باطل ہی قرار دیا جائے اور گمراہی کی ترویج کے ہر طرح اور باحسن انداز آڑے آیا جائے، چاہے وہ گمراہی، غلط یا درست، کسی بڑے سے بڑے آدمی سے کیوں نہ منسوب کی جاتی ہو۔ اور یہ کہ حق کا پرچار کیا جائے چاہے وہ کسی سے منسوب نہ ہو۔

البتہ ماضی بعید پر حکم لگانا ایک گھمبیر مسئلہ ہے۔ گزری بسری شخصیات جو آپ کی ہم عصر نہیں، جن کے حالات سے آپ پوری طرح آگاہ نہیں، جن کی زندگی میں جو جو اور جس جس ترتیب سے کوئی علمی اور فکری موڑ آتے رہے ہونگے ان سے آپ واقف نہیں، ان پر ان کے اپنے دور میں حجت قائم ہوئی ہونا آپ کے علم میں نہیں اور ان پر خود حجت قائم کر دینا آپ کے بس میں نہیں اور ان پر کوئی حکم لگانے کی آپ کو کوئی احتیاج نہیں.... ایسی گزری بسری شخصیات کو کسی باطل عقیدہ کا مورد الزام ٹھہرانے کے ضمن میں موضوع بحث بنانا ہمارے خیال میں درست ہے نہ ضروری۔ یہ شخصیات اب تاریخ کا حصہ ہیں اور اللہ کے سپرد۔ ایسی شخصیات کی بابت جو چیز معتبر ہو سکتی ہے وہ ہے علم مستفیض۔ یعنی کسی شخص کا وہ عقیدہ اور عمل جو تاریخ میں زبان زد عام ہو چکا ہو۔ مثال کے طور پر امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ مسلمان اس دور میں عمر بن عبدالعزیز، حسن بصری اور اس طرح کے دیگر اہل عدل اور حاملین دین کے بارے میں ایسی شہادت صرف علم مستفیض (شہرت) کی بنا پر دیتے ہیں۔ اسی طرح حجاج بن یوسف کا ظالم وسفاک ہونا یا منصور حلاج، ابن عربی، جہم بن صفوان، جعد بن درہم اور عبداللہ بن سبا ایسے گمراہوں کا داعی ضلالت ہونا بھی علم مستفیض (زبان زد عام) ہونے کی بنا پر بیان کیا جا سکتا ہے۔

مراد یہ ہے کہ اس بات کا فیصلہ کسی گزرے بسرے شخص کی کچھ عبارتیں یا چند اقتباسات نہیں بلکہ اس کا فیصلہ یہ بات کرے گی کہ تاریخ میں وہ شخص کس حوالے سے جانا پہچانا جاتا ہے۔

یہ چونکہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ہمیں آئندہ بھی پیش آسکتا ہے اس لئے اس کے حوالے سے یہ اصولی باتیں جان لی جانا ضروری ہیں۔ اگر ہم پر اس پالیسی کا غلط ہونا واضح کر دیا جائے تو ہم ان شاءاللہ اس کو بدلنے میں دیر نہیں کریں گے۔

تاریخی شخصیات سے منسوب بعض ایسی تحریروں کے حوالے سے بات کرنا جن میں بعض باطل امور اور عقائد پائے جاتے ہوں، دو صورتوں میں درست ہو سکتا ہے:

پہلی صورت یہ کہ اگر یہ کسی علمی اور تحقیقی قسم کے مقالے کا موضوع ہو۔ جس سے عوام الناس کا کوئی خاص تعلق نہ ہو اور نہ ہی وہ ایسی باتوں کو عوام میں اچھالنے کا باعث بنے۔ ایسی علمی تحقیق کا مقصد کسی تاریخی شخصیت پر حکم لگانا نہیں بلکہ افکار وعقائد کی تاریخ جاننا ہو اور امت میں افکار وعقائد کے تاریخی ارتقاءکا مطالعہ کرنا ہو کیونکہ اپنے دور کے فکری رحجانات کا صحیح جائزہ بھی گزشتہ اور گزشتہ سے پیوستہ دور کے فکری رحجانات اور تاریخی عوامل کو مدنظر رکھ کر ہی کیا جا سکتا ہے اور اسی کی روشنی میں یہ رائے قائم کی جا سکتی ہے کہ امت میں فکری ارتقا کا گراف اوپر جا رہا ہے یا نیچے۔

اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ ایسی کتب جن میں باطل امور بکثرت درج ہوں اور وہ تاریخی طور پر موحدانہ شہرت کی حامل شخصیات سے درست یا غلط منسوب ہوں.... ایسی کتب عوام الناس میں اگر بکثرت متداول ہوں (جبکہ مسئلہ زیر بحث میں درحقیقت ایسا نہیں) اور یہ کتب پڑھ پڑھ کر عوام گمراہ ہوئے جا رہے ہوں تو اس صورت میں ان کتب کے باطل مندرجات سے عوام کو خبردار کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔ اگرچہ تب بھی یہ درست نہیں کہ ساتھ میں ان شخصیات کا، جن سے یہ کتب منسوب کی جاتی ہوں۔ برا چرچا کیا جائے۔ ایسی صورت میں بھی یہ ضروری نہیں کہ کتب میں موجود باطل مواد کے رد کا کام ان شخصیات کو متہم ٹھہرا کر ہی کیا جائے۔ بلکہ جہاں تک ان شخصیات کا تعلق ہے، تو چونکہ ان سے اچھی اچھی موحدانہ باتیں بھی منسوب ہیں، لہٰذا ان اچھی باتوں کا بھی ان کے حوالے سے ساتھ ساتھ ذکر ہونا چاہئے۔ بہرحال بری باتوں کا رد جہاں تک ممکن ہو شخصیات کا ذکر کئے بغیر کیا جائے۔ ہاں البتہ کسی شخص کی تاریخی طور پر وجہ شہرت ہی اگر ایسا چہرہ رکھنا ہو جو داعی شرک اور گمراہی کے سرغنہ کے طور پر معروف ہو اور اس کے معاصر اہل حق اسے اسی چہرے کے ساتھ شناخت کرواتے ہوں، جیسا کہ ہم پیچھے ابن عربی، منصور حلاج اور جہم بن صفوان وغیرہ کے حوالے سے مثال دے چکے ہیں، تو تب اس کے لئے کسی خیر کے لفظ کی کوئی گنجائش نہیں رکھی جانی چاہیئے۔

چنانچہ ماضی کی کسی شخصیت کا فکر وعقیدہ فی الواقع کیا تھا، اس کے متعلق بحث کرنا درحقیقت ہمارا کام نہیں۔ اللہ اس کا حال خوب جانتا ہے اور اسے اس کے ہر قول اور عمل کا بدلہ دینا اس کا کام ہے۔ (علمہا عند ربی فی کتاب لا یضل ربی ولا ینسی .... طہ ٢٥) رہا ہمارا معاملہ تو تاریخ کا حصہ بن رہنے والی کسی شخصیت کی بابت ہمارے دیکھنے کی بس دو ہی چیزیں ہیں اور انہی دو بنیادوں پر عوام میں اس کا اچھا یا برا چرچا کیا جا سکتا ہے۔

الف تاریخی طور پر اس کی وجہ شہرت کیا ہے۔

ب اس کے معاصر اہل حق اور اہل علم نے اس کی بابت کیا شہادت دی ہے۔

ان دو باتوں کے سوا عوام میں ذکر کرنے کیلئے ایسی کسی شخصیت کے متعلق کسی بات سے ہمیں کوئی غرض وغایت نہیں ہونی چاہیے۔

رہا گزری بسری شخصیات سے منسوب بعض تحریروں کے محض صفحات نمبر کا حوالہ دے کر ان کا گمراہ ہونا ثابت کرنا، جبکہ ان شخصیات کے ہم عصروں سے لے کر بعد کے ادوار تک علم مستفیض سے اس بات کی تائید نہ ہوتی ہو.... بلکہ ان کے ہم عصروں سے لے کر بعد کے ادوار تک میں اہل توحید کے ہاں ان کے لئے نیک جذبات اور اچھے خیالات بھی بکثرت پائے جاتے ہوں.... حتی کہ خود ان سے بھی اچھی باتوں کا منسوب ہونا بہرحال ایک واقعہ ہو.... محض کچھ تحریروں پر اعتماد کرکے عرصہ دراز پہلے گزری ہوئی شخصیات پر گمراہی کا حکم لگانے کا یہ طریق کار ہم بہرحال درست نہیں سمجھتے۔ ہاں البتہ ان کے ہم عصر علمائے حق کی اگر ان کے خلاف شہادت پائی جاتی ہو اور اس کا کوئی حوالہ آپ دے سکیں تو اسے جاننے میں ضرور ہمیں دلچسپی ہو گی۔ بصورت دیگر حسن ظن برقرار رکھتے ہوئے ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دینا ہمارے حق میں کہیں بہتر اور محتاط طریق کار ہو گا۔

یہ تو کچھ اصولی باتیں تھیں۔ ریکارڈ درست رکھنے کیلئے اپنے مذکورہ مضمون کے متعلق یہ ذکر کر دینا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ سید احمد بریلوی اور ملا محمد عمر کی تحریکوں میں حد درجہ مماثلت کی بات جس مضمون میں کی گئی اور جس کے حوالے سے ہمیں یہ اعتراض موصول ہوا، اسی مضمون میں ایک بات جو سید احمد بریلوی کی تحریک مجاہدین کی بابت تو کی گئی مگر ملا عمر کی تحریک طالبان کی بابت نہیں کی گئی وہ تصوف ہی کے حوالے سے ہے! ملاحظہ فرمائیے مضمون کی اس عبارت میں، جو ان دونوں تحریکوں میں موازنہ سے متعلق ہے، خط کشیدہ جملے!

چنانچہ برصغیر میں انگریزی اقتدار کے قیام کا سانحہ رونما ہو جانے کے بعد جو احیاءاسلام کا عمل شروع ہوا وہ بڑی حد تک ’اعمال‘ کی دعوت تھی نہ کہ عقیدہ و فکر کی تاسیس نو۔ بدعات کے رد کا کام بھی اگر کیا گیا تو وہ انہی بدعات کا رد تھا جو مسلمانوں میں صدیوں پہلے پائی گئیں۔ شرک کی بھی وہی اقسام زیر بحث آئیں جو عرصہ دراز سے مسلمانوں میں رواج پکڑ چکی تھیں۔ گو ان بدعات میں سے بھی کچھ بدعات ___ مانند تصوف کی بعض ناروا اشکال ___ ایسی تھیں جو پورا علاج کئے بغیر اب بھی چھوڑ دی گئیں لیکن پھر بھی بدعات وخرافات کے حوالے سے جن چیزوں کا رد کیا گیا وہ سب کی سب تقریباً وہی تھیں جو مسلمانوں میں سینکڑوں سال پہلے سے جگہ پا چکی تھیں۔ اس میں نئے دور کے حوالے سے کچھ نہ تھا۔ پوری انسانی دنیا جس نئی فکری یلغار کے منہ میں آنے کو کھڑی تھی (ہم تحریک مجاہدین کے دور کی بات کر رہے ہیں) اور اس کا ایک حصہ اس طوفان کے زیر آب آبھی چکا تھا اس کا سامنا کرنے کیلئے ’احیاءاسلام‘ کے اس عمل میں تقریباً کچھ نہیں تھا۔

(ایقاظ جون تا اگست ٢٠٠٢ء)

برصغیر میں تحریک مجاہدین نیکی کی تلقین، اصلاح اعمال، رد بدعات، ترک رسوم اور کفار سے قتال کی دعوت لے کر اٹھی تھی۔ یہ سب کام بہترین تھے مگر یہ ایسے کام تھے کہ اگر اس سے تین چار صدی پہلے ہوتے، جب اسلامی معاشرت کی اصل عمارت کمزور سہی مگر قائم تھی اور محض اصلاح اور توسیع کی ضرورت مند، تو یہ کام بہترین ہوتا۔ مگر اب جبکہ اسلامی معاشرے کی تاسیس نو کا مرحلہ درپیش تھا تو اس کے لئے یہ سب نیک اعمال ناکافی ہی نہیں شاید قبل از وقت بھی تھے۔

کچھ ایسے ہی اچھے جذبے اور نیک انداز کی تحریک طالبان لے کر اٹھے۔ تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ان دو تحریکوں میں ناقابل یقین حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔ اس دعوت کے بنیادی عناصر بھی شاید آپ اسی طرح شمار کر سکتے ہیں: بے دینی کا خاتمہ، نیک کاموں کا حکم، برائیوں کا قلع قمع، رد بدعات، ترک رسوم ومنکرات، شرعی احکام کا بزور نفاد اور امن وامان کی بحالی۔ حتی کہ غور کرنے پر آپ سید احمد بریلوی اور ملا عمر کی شخصیت میں بھی کئی پہلوؤں سے شدید مماثلت پائیں گے۔ طالبان نے جو نیک کام انجام دیئے وہ ہرگز معمولی نہ تھے۔ یقینا اس جماعت نے جرات اور ہمت کے غیر معمولی جوہر دکھائے اور اسلامی مظاہر اپنا کر امت کی کھوئی ہوئی امیدیں نئے سرے سے بحال کر دی تھیں۔ مگر تحریک مجاہدین ہی کی طرح اس تحریک کی مشکل بھی یہی تھی کہ جس دور میں یہ تحریک اٹھائی گئی اس دور کے لئے یہ تحریک تھی نہیں۔ اپنے دور کے تقاضوں سے مطابقت رکھنے میں یہاں بھی خاصی کمی رہ گئی تھی۔

اس وقت پوری دنیا ہر طرف سے سمٹ کر ایک بستی بن چکی ہے۔ اس میں اب ایسی فصیلیں کھڑی کی جانا ممکن نہیں، جن سے افکار وخیالات اور نظریات ورحجانات کا گزر مشکل ہو۔ اب اسلام کا حقیقی احیاءوہی تحریک کر سکتی ہے جو دنیا میں اسلام کا مقدمہ پیش کر سکتی ہو، جو کرہء ارض کے ہر انسان کیلئے اپنے اندر ایک پیغام رکھتی ہو اور جو کسی فکر پر معاشرے کی تعمیر کرنا جانتی ہو۔ طالبان افغان معاشرے کی فکری تعمیر کر سکے تھے اور نہ تربیت۔ بہت تھوڑے عرصے میں کسی تحریک کا اقتدار تک پہنچ جانا جہاں خوشی کی بات ہو سکتی ہے وہیں یہ اندیشوں کا باعث بھی ہے۔ امن وامان اور لاقانونیت کا خلا پر کرنا درست مگر فکر وتربیت اور معاشرتی گیرائی کا خلاءپر کرنا اس سے کہیں اہم تھا۔ معاشرے میں اس تحریک کا بنیادی کام نہ ہونے کے باعث اور ایک فکری وتربیتی پہچان نہ رکھنے کی وجہ سے شاید کچھ ناپسندیدہ امور کا سہارا بھی لینا پڑا۔ یہ بات کسی سے چھپی ہوئی نہیں کہ اقتدار تک آنے کیلئے طالبان تحریک آئی ایس آئی سے مدد لیتی رہی تھی اور آئی ایس آئی بھی اپنے بعض مقاصد کیلئے، نہ کہ طالبان کی محبت میں آکر، طالبان کو مدد دیتی رہی اور ان کیلئے منصوبہ بندی بھی کرتی رہی۔ اور شاید طالبان کا کوئی راز ایسا نہیں تھا جو آئی ایس آئی کے پاس نہ ہو۔ طالبان کے نقصان پر دل خون کے آنسو روتا ہے مگر حقیقت سے صرف نظر کرنا پھر بھی درست نہیں۔ ایک غیر طبعی اٹھان کا ایک غیر طبعی نتیجہ برآمد ہونا کچھ اتنا باعث تعجب نہیں۔

(نفس مضمون)

 

....................................