سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

دعوت<< منہج<< تحریک

سلسلہ وار کتاب

دعوت کا منہج کیا ہو (دوسری قسط)

"دعوت کا منہج" مکمل کتابی شکل میں شائع  ہوچکا ہے۔ آن لائن پڑھنے یا ڈاؤنلوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

اسلام کے دور اول کی اقتداءکیونکر ہو؟

محمد قطب

اردو استفادہ: كمال الدين

 

محمد قطب عالم اسلام کے اس وقت کے بڑے مفکرین میں سے ایک ہیں۔ آپ سید قطب کے بھائی ہیں اور مصر سے جلاوطن ہو کر اب ایک عرصے سے مکہ مکرمہ میں مقیم۔ ام القری یونیورسٹی مکہ مکرمہ میں استاد ہیں۔ عصر حاضر کے افکار اور نظریات کو اسلام کے آئین میں دیکھنے اور قدیم وجدید کی گتھیاں سلجھانے میں ایک خاص مہارت اور امتیاز رکھتے ہیں۔ فکر مغرب کی درآمدات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ اسلامی تاریخ ان کا خاص موضوع ہے۔ اسلامی بیداری کا عمل ان کی توجہ کا خاص مرکز ہے۔ دعوت، تربیت، جہاد، معاشرتی تبدیلی.... ان کی فکر کا مرکزی نقطہ ہیں۔

محمد قطب دو درجن سے زائد تصنیفات کے مولف ہیں۔ فکری اور تحریکی موضوعات پر ایم اے اور پی ایچ ڈی کی سطح کے بے شمار مقالات اور تحقیقات کے نگران رہ چکے ہیں۔ ان کی جلالت علمی کا اندازہ اس سے ہو جاتا ہے کہ ڈاکٹر سفر الحوالی جیسے نابغہ روزگار ان کے شاگرد ہیں۔ شیخ سفر الحوالی کے ایم اے و پی ایچ ڈی کے مقالے انہی کی نگرانی میں لکھے گئے ہیں۔

اپنے مرحوم بھائی کی طرح محمد قطب بھی ان لوگوں میں سے ہیں جو الاخوان المسلمون کے پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور اخوان سے محبت کو اپنی زندگی کا اثاثہ جانتے ہیں۔ البتہ اخوان کے منہج کو نئی جہتوں سے ہمکنار کرنے کے بھی شدت سے خواہش مند ہیں.... اس کا اندازہ آپ کو ان کی اس تحریر سے بھی ہو جائے گا۔

زیر نظر کتاب ’کیف ندعوالناس‘ ان کی حال ہی میں شائع ہونے والی تصنیف ہے اردو استفادہ کی صورت میں ہم اسے سلسلہ وار پیش کرتے رہیں گے۔ دعوت کے منہج پر اس کتاب میں پیش کئے گئے افکار عصر حاضر کے ’فقہ دعوت‘ میں بلاشبہ ایک بیش بہا اضافہ سمجھے جائیں گے۔

اس سلسلہ کی ایک قسط ایقاظ کے شمارہ جون تا اگست ٢٠٠٢ءمیں شائع ہو چکی ہے۔

اسلام کے دور اول کی اقتداءکیونکر ہو؟

 

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ طریق کار جو صحابہ کی تربیت کیلئے مکہ کے دور ابتداءمیں امت کے مناسب حال تھا وہ ہماری آج کی اس صورتحال پر فٹ نہیں ہوتا۔ لہٰذا مکی دعوت اور اس کے طریق کار کو ایک تاریخی دستاویز کے طور پر تو پڑھنا چاہئے البتہ ایک ایسے اسوہ و نمونہ کے طور پر نہیں جس سے آج بھی باقاعدہ عملی اسباق لئے جائیں اور جس کی روشنی میں ایک عملی طریق اپنایا جائے۔

یہ معاملہ بہت زیادہ وضاحت طلب ہے۔ یہ ایک ایسا نقطہ ہے کہ آج کے اس دور میں اسلام کیلئے کام کرنے والوں کے راستے دراصل یہیں سے الگ ہوتے ہیں۔ چنانچہ جب تک اس معاملے کی حقیقت بہت زیادہ واضح نہیں ہو جاتی اور اس کا پوری دقت سے جائزہ نہیں لے لیا جاتا تب تک یہی ہوتا رہے گا کہ اسلامی افکار باہم الجھتے رہیں اور کوئی مشترک اور ہمہ گیر طریق عمل اختیار نہ کیا جا سکے گا۔ جبکہ اس دین کے دشمن سب کے سب آج ایک مشترک اور یک جہت موقف اختیار کر چکے ہیں اور سب مل کر امت اسلام کو وجود سے ختم کر دینے کیلئے اس پر پل پڑے ہیں۔ ہم نہیں تو ہمارے دشمن باہم ایک دوسرے کی جتنی ہو سکے تعاون اور پشت پناہی کرتے ہیں۔ اس کے مظاہر آپ بوسنیا میں دیکھ لیں، چاہے کشمیر میں چاہے چیچنیا میں یا زمین کے کسی بھی اور خطے میں۔

طریق عمل کا واضح ہونا بے انتہا ضروری ہے۔ اس کے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں۔

کیا ہم مکی مرحلے میں ہیں.... جہاں کا معاشرہ بالکل واضح اور کھلم کھلا مشرک معاشرہ تھا اور جہاں اصل ایمان وہ مٹھی بھر لوگ تھے جو اس نئے دین کے ساتھ ایمان لے آئے تھے اور اس وجہ سے پورے معاشرے میں مظلوم اور اچھوت بن کر رہ گئے تھے؟ کیا ہم ایک ایسے معاشرے میں ہیں جو ہے تو مسلمان مگر اسلام سے منحرف ہے اور ہمیں اس کا نقشہ تبدیل کرکے اسے واپس اسی صورت پر لے آنا ہے جو کہ اسلام کی حقیقی تصویر ہے؟ آخر ہم کس جگہ پر کھڑے ہیں او رکس قسم کی صورتحال سے ہمارا سامنا ہے؟

یہ معاملہ جس قدر نازک اور سنگین ہے، اور جتنی اس پر لے دے ہوئی ہے اور اس بحث وتمحیص نے جس قدر اختلاف آراءاور تفرقہ کو جنم دیا ہے۔ اس سب کے پیش نظر ہم چاہتے ہیں کہ اس مسئلے کا ہر قسم کی جذباتیت اور جلد بازی سے دور رہتے ہوئے نہایت باریک بینی اور غور سے مطالعہ کیا جائے۔ اس سوال کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لینے کے بعد ایک ایسے واضح نتیجے تک پہنچا جائے کہ نہ جذبات اس کے آڑے آئیں اور نہ پہلے سے اختیار کردہ مواقف ہمیں اس نتیجے کو اختیار یا رد کر دینے پر مجبور کریں۔

پکی بات ہے کہ ہم مکی مرحلے میں نہیں! ظاہر بات ہے کہ ہم جو اس وقت دعوت کے میدان میں کام کرتے ہیں اور پورے اسلام پر عمل پیرا ہونے کی سعی کرنے والے لوگ ہیں.... ہم ظاہر ہے روزہ بھی رکھتے ہیں اور حج بھی کرتے ہیں جبکہ ہم جانتے ہیں روزہ اور حج مدینہ آکر ہی فرض ہوا تھا! سب محرمات کو محرمات ہی سمجھتے ہیں اور سب واجبات کو واجبات ہی.... صرف مکہ میں نازل ہونے والے حلال اور حرام ہی کے پابند رہنے کے ظاہر ہے کہ ہم قائل نہیں!

پکی بات ہے کہ ہم مدنی مرحلے میں بھی ہرگز نہیں! ظاہر ہے اسلام کی دعوت کو زمین میں کہیں بھی تمکین حاصل نہیں۔ عالم اسلام کے ایک بے انتہا بڑے حصے میں اللہ کی شریعت کو انسانی زندگی کے فیصلے کرنے کا کہیں حق حاصل نہیں۔ یہی نہیں بلکہ اسلام کی اصل دعوت لے کر اٹھنے والوں کی تواضع کال کوٹھڑیوں سے ہوتی ہے اور یا پھر پھانسی کے تختوں پر۔ اور نہیں تو ان پر دائرہءحیات تو بہرحال تنگ ہے ہی۔

تو پھر آج ہم کس جگہ کھڑے ہیں؟ کونسا منہج اور طریق کار ہمارے دور کے مناسب حال اور ہمارے معاشرے کے مناسب مقام ہے؟کیا وہ منہج جو رسول اللہ کو مکہ میں اختیار کرنے کا حکم ملا تھا؟ یا وہ منہج جو رسول اللہ کو مدینہ میں اختیار کرنے کا حکم ملا تھا؟ یا پھر وہ اس سے مختلف کوئی طریق کار ہے جو بس ہمارے اپنے اجتہاد پر موقوف ہے نہ اس کے لئے کوئی قاعدہ ہے اور نہ ضابطہ!

یہ بہرحال ایک مسئلہ ہے اور بے انتہا اہم مسئلہ ہے جو ہم سے بہت ہی محدود اور متعین قسم کا جواب چاہتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہماری صورتحال اور مکی معاشرے کی صورتحال میں بہت سے پہلوئوں سے کھلا کھلا فرق پایا جاتا ہے۔ اس فرق کی بنا پر بہت سے لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ ہماری صورتحال کی مکی معاشرے سے یکسانیت کا مفروضہ درست نہیں۔

ظاہر ہے کہ مکہ میں لوگ اس بات کے سرے سے اورمطلق طور پر انکاری تھے کہ عبادت صرف اور صرف ایک ہی خدا کی کی جائے، حتی کہ قرآن نے ان لوگوں کا اس بات سے حیران ومتعجب ہونے کا ذکر کیا ہے کہ عبادت اور بندگی کیلئے ایک ہی خدا رہ جائے۔

اجعل الآلھہ الہاً واحداً ان ھذا لشی عجاب (ص:٥)

”کیا اس شخص نے سب خدائوں کا ایک ہی خدا کردیا۔ کتنی عجیب بات ہے یہ“۔

جبکہ ہماری صورتحال یہ ہے کہ پورے عالم اسلام میں ہم اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ اللہ ایک ہے اور یہ اعتقاد نہیں رکھتے کہ اللہ کے ساتھ اور خدا بھی پوجے جائیں۔

ظاہر ہے مکہ میں لوگ موت کے بعد زندگی کا کھلا اور مطلق انکار کرتے تھے۔ حتی کہ قرآن نے عقیدہ آخرت پر بھی مکہ والوں کا حیران ومتعجب ہونا ذکر کیا ہے:

وقال الذین کفروا ھل ندلکم علی رجل ینبئکم آذا مزقتم کل ممزق انکم لفی خلق جدید افتری علی اﷲ کذباً ام بہ جنت (سبا: ٧،٨)

”منکرین لوگوں سے کہتے ہیں: ہم بتائیں تمہیں ایسا شخص جو خبر دیتا ہے کہ جب تمہارے جسم کا ذرہ ذرہ منتشر ہو چکا ہو گا اس وقت تم نئے سرے سے پیدا کر دیئے جائو گے؟ نہ معلوم یہ شخص اللہ کے نام سے جھوٹ گھڑتا ہے یا اسے جنون لاحق ہے“۔

جبکہ ہمارا معاملہ یہ ہے کہ بیشتر طور پر ہم زندگی بعد از موت، جزا وسزا، حساب، جنت اور دوزخ پر ایمان رکھتے ہیں، اگر یہاں کوئی تھوڑی تعداد ایسے ملحد لوگوں کی پائی جاتی ہے تو بہرحال وہ کوئی اتنے نہیں کہ جن کے پیش نظر پورے معاشرے کا حکم بدل جائے....

ظاہر ہے مکہ میں لوگ محمد کی نبوت اور رسالت ہی کے سرے سے منکر تھے، جیسا کہ قرآن نے اس بات کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:

وعجبوا ان جاءھم منذر منہم وقال الکافرون ھذا ساحر کذاب (ص:٧)

”یہ اس بات پر متعجب ہیں کہ ایک ڈرانے والا خود انہی میں سے آگیا، منکرین کہنے لگے کہ یہ ساحر ہے سخت جھوٹا ہے“۔

اور یہ بھی کہ:

ئَ اُنزل علیہ الذکر من بیننا (ص:٨)

”کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص رہ گیا تھا جس پر اللہ کا ذکر نازل کردیا گیا؟“

جبکہ ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ملحد لوگوں کی ایک قلیل تعداد کو چھوڑ کر.... ہم نبی کی نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔ آپ کو اللہ کا رسول مانتے ہیں اور عقیدہ رکھتے ہیں کہ قرآن اللہ کا کلام ہے جو اس نے اپنے رسول پر اتارا ہے، نہ کہ کسی بشر کا کلام اور نہ ہی گزرے بسرے لوگوں کی کہانیاں۔

کوئی شک نہیں کہ یہ سب کی سب باتیں بالکل حقیقت ہیں....

لیکن آئیے ذرا اس معاملے کو ایک اور جہت سے بھی دیکھتے چلیں۔

سوال یہ ہے کہ اسلام دراصل آیا کیوں تھا؟

اسلام آخر اسی لئے تو آیا تھا کہ بندے اور خدا کے درمیان سے سب واسطے ہٹا دیئے جائیں اور بندے اور خدا کے درمیان پرستش اور پکار وبندگی کا براہ راست تعلق قائم کر دیا جائے....

واذا سالک عبادی عنی فانی قریب اجیب دعوہ الداع اذا دعان فلیستجیبوا لی ولیؤمنوا بی لعلہم یرشدون (البقرہ: ١٨٦)

”میرے بندے تم سے میرا پوچھیں تو تبائو میں قریب ہی ہوتا ہوں، کوئی پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں۔ پس وہ بھی میری بات کو گلے لگائیں اور مجھ پر یقین رکھیں.... شاید کہ وہ راہ راست پا لیں“۔

مگر صوفیت نے لوگوں کے عقائد کے ساتھ کیا کیا؟ مرید کے فکر واحساس کی دنیا میں ’شیخ‘ کا ایک مجسمہ کھڑا کر دیا جو بندے اور خدا کے درمیان ایک واسطے کی حیثیت رکھتا ہے مرید اللہ کو اس کے اسماءحسنی میں سے کسی نام کے ساتھ پکارنے تک کی اجازت نہیں رکھتا جب تک کہ اسے شیخ کا اذن نہ ہو! شیخ دلوں کے بھید تک جان لیتا ہے! ہر دل کی حالت دیکھ کر وہ اس کیلئے خدا کا کوئی ایسا نام تجویز کرے گا جو اس کیلئے مناسب ہو۔ یہ فیصلہ بھی شیخ کرے گا کہ اللہ کا کوئی نام جو مرید کو عطا ہو! اللہ کو اس نام سے پکارنے کی میعاد کب ختم ہو جائے گی! شیخ کی بڑائی کا اقتدار دلوں پر قائم رہنا چاہئے چاہے اسے مرے ہوئے ہزار سال کیوں نہ گزر جائیں! دلوں پر شیخ کا اقتدار ایسا لازوال ہے کہ موت بھی اس میں حائل نہیں ہو سکتی۔ اس کی قبر اور درگاہ سے تبرک پانا، اس کے پاس جا جا کر دعائیں کرنا، مدد کی فریاد، حاجت روائی کی التجائیں.... یہ سب مرید کے دل میں شیخ کیلئے پائے جانے والے اخلاص کی محض علامات ہیں.... اور اللہ تک تقرب حاصل کرنے کے یقینی ذرائع بھی!

کیا یہ بات قرآن میں ذکر ہونے والی مشرکوں کی اس بات سے کوئی بہت زیادہ مختلف بات ہے؟

ما نعبد ھم آلا لیقربونا الی اﷲ زلفی (الزمر:٣)

”کہ ہم تو ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کرا دیں“۔

پھر کیا یہ واضح شرک نہیں؟

اسلام دراصل آیا کیوں تھا؟

اسلام آخر اسی لئے تو آیا تھا کہ انسان کا بنایا ہوا ہر قانون اور ہر ضابطہ کالعدم کرکے ایک اللہ کا قانون اور اس کی شریعت قائم کر دی جائے۔ اور یہ بات ظاہر ہے عقیدہ کے اصل الاصول سے تعلق رکھتی ہے:

ومن لم یحکم بما انزل اﷲ فاولئک ھم الکافرون (المائدہ:٤٤)

”اور جو لوگ اللہ کی نازل کردہ شریعت کی رو سے فیصلے نہ کریں وہی لوگ دراصل کافر ہیں“۔

اسلام نے تو نفاق کی بھی یہ علامت مقرر کر دیں کہ کوئی شخص اللہ کے فیصلے سے روگردانی کرنے اور جان چھڑانے کی کوشش کرے:

ویقولون امنا باﷲ وبالرسول واطعنا ثم یتولی فریق منھم من بعد ذلک وما اولئکَ بالمومنین __ واذا دعوا الی اﷲ ورسولہ لیحکم بینہم اذا فریق منہم معرضون__ وان یکن لہم الحق باتوا الیہ مذعنین ___ افی قلوبہم مرض ام ارتابوا ام یخافون ان یحیف اﷲ علیہم ورسولہ بل اولئک ھم الظالمون ___ انما کان قول المؤمنین اذا دعوا الی اﷲ ورسولہ لیحکم بینہم ان یقولوا سمعنا واطعنا واولئک ھم المفلحون (النور: ٤٨، ٥١)

”یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ اور رسول پر اور ہم نے اطاعت قبول کی، مگر اس کے بعد ان میں سے ایک گروہ (اطاعت سے) منہ موڑ جاتا ہے۔ ایسے لوگ ہرگز مومن نہیں ہیں، جب ان کو بلایا جاتا ہے اللہ اور رسول کی طرف تاکہ رسول ان کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو ان میں سے ایک فریق کترا جاتا ہے۔ البتہ اگر حق ان کی موافقت میں ہو تو رسول کے پاس بڑے اطاعت کیش بن کر آجاتے ہیں۔ کیا ان کے دلوں کو (منافقت کا) روگ لگا ہوا ہے؟ یا ان کا یقین اٹھ گیا ہے؟ یا ان کو یہ خوف ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان پر ظلم کرے گا؟ دراصل بات یہ ہے کہ ظالم تو یہ لوگ خود ہیں۔ ایمان والوں کا کام تو یہ ہے کہ جب وہ اللہ اور رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ رسول ان کے معاملات کا فیصلہ کرے تو وہ کہیں ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں“۔

اسلام نے تو صاف صاف یہ بھی ٹھہرا دیا تھا کہ اللہ کی شریعت کی بجائے کسی انسان کے بنائے ہوئے قانون ودستور پر چلنا دراصل اس انسان کو خدا تسلیم کرنا ہے۔ اس میں اور غیر اللہ کی پوجا پاٹ میں ذرہ بھر کوئی فرق نہیں۔

اتخذوا احبارھم ورھبانہم ارباباً من دون اﷲ والمسیح ابن مریم وما امروا الا لیعبدوا الہاً واحداً لا الہ الا ھو سبحانہ عما یشرکون (التوبہ:٣١)

”ان لوگوں نے اپنے احبار اور رہبان کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا ہے اور اسی طرح مسیح بن مریم کو بھی۔ حالانکہ ان کو ایک معبود کے سوا کسی کی بندگی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ وہ کہ جس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں۔ پاک ہے وہ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں“۔

مگر پھر سیکولرزم نے عالم اسلام میں قائم انسانی زندگی کے نظام اور قانون کے ساتھ کیا کیا؟ سرزمین اسلام میں کتنی حکومتیں اور کتنے نظام ایسے ہیں جو آج اپنے فیصلے اللہ کی نازل کردہ شریعت سے کرواتے ہیں؟ سیکولر زبانیں اللہ کی شریعت کے بارے میں کیا کچھ کہتی ہیں؟ کیا یہ واضح شرک نہیں؟

دوبارہ اسی سوال پر آجاتے ہیں؟ اس صورتحال پر کیا حکم لگایا جائے؟

عالم اسلام کی آج جو صورتحال ہے اس پر حکم لگانے میں واقعی ایک بہت بڑا اشکال پایا جاتا ہے۔ اس اشکال کی وجہ دراصل یہ ہے کہ لوگ اپنے جس عقیدے کا اعلان کرتے ہیں اور عملاً جس چیز پر انکا معاشرہ قائم ہے یہ دونوں چیزیں باہم متعارض ہیں اور یہ ایک شدید تعارض ہے۔ اعلانیہ عقیدہ کچھ ہے تو معاشرہ بالکل کسی اور چیز پر قائم۔ اعلانیہ عقیدے اور عملی نظام کے مابین یہ جو تعارض ہے اس تعارض پر حکم لگانے میں بھی اختلاف آراءہے۔ کہ کیا یہ کفر کی وہ قسم ہے جو انسان کو ملت سے خارج کر دینے والی ہے یا اس سے کمتر کفر کی کوئی صورت جو کہ دین سے انسان کو خارج نہیں کرتی؟

البتہ یہ بات طے ہے کہ یہ اشکال صرف اور صرف لوگوں پر حکم لگانے میں پایا جاتا ہے۔

بہت برسوں سے میری یہی رائے رہی ہے کہ لوگوں پر حکم لگانے کا مسئلہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہونا چاہئے جو ہم دعوت کے میدان میں کام کرنے والوں کو مصروف بحث رکھے۔ ہمیں اس مسئلے میں الجھ کر نہیں رہ جانا چاہئے۔ نہ ہی اس مسئلے پر اختلاف اور تفرقے کو ہوا دینی چاہئے۔ اس پر بحث ومناظرہ درست ہے اور نہ اس کی بنا پر گروہ بندی۔ دیانت داری سے کوئی فریق اس مسئلے میں جو رائے اپناتا ہے اسے اپنانے دی جائے اور ہر آدمی اس معاملے میں اپنی راہ چلے۔

ایک تھوڑی تعداد کو چھوڑ کر لوگوں کی ایک بڑی اکثریت شرک میں تو پڑی ہوئی ہے، اس میں تو خیر شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں، چاہے وہ اعتقاد کا شرک ہو، چاہے پوجا اور پرستش کا شرک ہو اور چاہے حاکمیت یعنی نظام اور قانون کا شرک۔ ہاں البتہ یہ بات کہ یہ اکثریت شرک میں پڑنے کی بنا پر مشرک بھی ہو گئی ہے، ایک اور مسئلہ ہے۔ کیونکہ ہر وہ شخص جو شرک میں پڑ گیا ہو اس پر یہ حکم لگانا درست نہیں کہ وہ مشرک بھی ہو گیا ہے تاآنکہ کچھ متعین شروط اس شخص کی بابت پوری نہ ہو جائیں اور کچھ موانع جو کہ اس شخص پر حکم لگانے میں شرعاً رکاوٹ سمجھے جاتے ہیں، ختم نہ ہو جائیں۔

اس ضمن میں امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں!

”میں ان پر یہ بات واضح کرتا رہا ہوں کہ سلف اور ائمہ دین سے اس بارے میں جو کچھ منقول ہے کہ جو آدمی فلاں بات کرے یا کہے وہ کافر ہو جاتا ہے، تو یہ بات بھی بالکل درست اور برحق ہے مگر اطلاق اور تعین میں فرق بھی ضروری ہے (یعنی قاعدہ بیان کرنے کے انداز میں یہ کہنا کہ فلاں بات کہنے یا کرنے سے آدمی کافر ہو جاتا ہے.... اور یہ بات کہ کوئی متعین شخص جس نے یہ بات کہی ہے اس خاص شخص کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ کافر بھی ہو چکا ہے.... ان دونوں باتوں میں فرق ہے اول الذکر کو علماءعقیدہ کی اصطلاح میں کفر مطلق کہا جاتا ہے اور ثانی الذکر کو کفر معین۔ ان دونوں باتوں کیلئے اطلاق اور تعیین کے لفظ بھی مستعمل ہیں.... مترجم) یہ اطلاق اور تعیین بنیادی اور اصولی عقائدی مسائل میں سے وہ پہلا مسئلہ ہے جس میں اس امت کا اولین نزاع ہوا تھا۔ چنانچہ وعید عذاب کی بابت قرآن کی نصوص مطلق ہیں مثلاً قرآن کی یہ آیت:

ان الذین یاکلون اموال الیتامی ظلماً

”کہ وہ لوگ جو ظلم وزیادتی سے یتیموں کا مال ہڑپ کر جاتے ہیں“۔

چنانچہ سب معاملات میں جو کچھ منصوص یا منقول ہوا وہ مطلق طور پر ہی ہوا ہے کہ جو کوئی ایسا کام کرے گا وہ یہ کہلائے گا یا یہ سزا پائے گا۔ یعنی مطلق اور عمومی انداز سے ہی یہ سب کچھ مروی ہوا ہے۔ چنانچہ ایسا ہی معاملہ سلف سے منقول ان اقوال کا بھی ہے کہ جو شخص ایسا کہے گا اس کا یہ حکم ہو گا مگر جہاں تک کسی خاص متعین شخص کا معاملہ ہے تو اس کے حق میں وعید کا حکم کسی بنا پر ٹل بھی سکتا ہے خواہ وہ توبہ کرکے ہو، خواہ ایسا اس وجہ سے ہو کہ زندگی میں اس نے کچھ ایسی نیکیاں کر لی ہوں جو برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ خواہ ایسے ہو کہ اسے کچھ مصائب پہنچے ہوں، جو گناہوں کا کفارہ ہو جاتے ہیں، یا کسی ایسی شفاعت کی بنا پر جسے اللہ قبول کر لے ایسا ہو.... اب تکفیر بھی وعید ہی کے باب سے ہے۔ چنانچہ کوئی شخص اگر کفر کی کوئی بات کرتا ہے تو اگرچہ اس کی وہ بات دراصل رسول کی تکذیب ہے مگر ایسا کہنے والا شخص ایسا بھی ہو سکتا ہے جو ابھی نیا نیا مسلمان ہوا ہو یا کہیں دور دراز کی ایسی بستی میں رہا ہو جہاں اسے علم نہ پہنچا ہو۔ سو ایسا شخص دین کی کسی ایسی بات کا انکار کر دے جس کے انکار سے آدمی ویسے تو کافر ہو جاتا ہے مگر یہ آدمی کافر قرار نہ دیا جائے گا کیونکہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی شخص نے دین کی کوئی نص سن ہی نہ رکھی ہو، یا سنی ہو مگر اس کے نزدیک وہ پایہ ثبوت کو نہ پہنچتی ہو یا اس کے ہاں اس نص کا کسی اور نص سے تعارض لازم آتا ہو جس کی وجہ سے وہ اس نص کی تاویل کرنا ضروری سمجھتا ہو.... اگرچہ رہے گا پھر بھی وہ غلط ہی“۔ [مجموعہ فتاوی ابن تیمیہ، جلد ٣، صفحہ ٢٣٠، ٢٣١]

امام ابن تیمیہ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:

”کتاب اور سنت میں مذکور وعید کی نصوص اورائمہ دین سے منقول تکفیر اور تفسیق وغیرہ سے متعلق نصوص کا کسی خاص متعین شخص کے حق میں ثابت ہو جانا بجائے خود لازم نہیں آجاتا تاآنکہ اس متعین شخص کے حق میں سب شروط پوری اور موانع ختم نہ ہو جائیں.... چاہے اصول کی بات ہو اور چاہے فروع کی“۔ [فتاوی ابن تیمیہ، جلد ١٠، صفحہ ٣٧٢]

ایک تیسرے مقام پر فرماتے ہیں:

”ان کو کافر اور مخلد فی النار قرار دینے کے معاملے بھی علماءکے ہاں دو مذہب پائے جاتے ہیں، جو کہ دراصل امام احمد سے منسوب دو روایات ہیں۔ امام احمد کے یہ دونوں قول خوارج اور حروریہ و رافضہ وغیرہ کے بڑے بڑے بدعتیوں کے بارے میں ہیں۔ صحیح موقف یہی ہے کہ خوارج وغیرہ کے یہ اقوال جو کہ واضح ہے کہ رسول کے لائے ہوئے دین کے صریح منافی ہیں اور اسی طرح ان کے وہ ظالمانہ افعال جو کہ افعال کی اسی جنس سے متعلق ہیں جو وہ مسلمانوں کے ساتھ روا رکھتے ہیں.... ان کے یہ سب اقوال اور افعال کفر ہی ہیں۔ اس بات کے دلائل میں نے کئی اور مقامات پر واضح کئے ہیں۔ مگر ان لوگوں میں سے کسی شخص کو متعین کرکے کافر کہنا اور اسے مخلد فی النار قرار دینا البتہ اس بات پر موقوف ہے کہ آیا اس خاص شخص کے بارے میں تکفیر (کافر قرار دیئے جانے) کی سب شروط پوری ہوتی ہیں اور آیا کوئی ایسی بات تو نہیں پائی جاتی جو اس کے کافر قرار پانے میں مانع ہو۔ [مجموعہ فتاویٰ ابن تیمیہ، جلد ٢٨، ص ٥٠٠، ٥٠١]

”چنانچہ ہم یہی کریں گے کہ وعد و وعید اور تکفیر (کافر قرار پانے) اور تفسیق (فاسق قرار پانے) سے متعلق نصوص کو ہم مطلق ہی رکھیں گے اور اس مطلق اور عمومی حکم کو ایک متعین شخص پر اس وقت تک فٹ نہیں کریں گے جب تک اس کے بارے میں قانون شریعت کے سب تقاضے پورے نہ ہو جائیں اور ان تقاضوں سے متعارض کوئی بنیاد باقی نہ رہے۔ میں نے یہ اصول ’القاعدہ التکفیر‘ میں مفصل انداز سے واضح کیا ہے“۔

چنانچہ آج دعوتی اور تحریکی لائحہ عمل میں ہمیں جو مسئلہ درپیش ہے اس کی کنجی یہیں سے دستیاب ہو جاتی ہے۔

چنانچہ یہ تو واضح ہے کہ آج لوگوں کی ___ ایک چھوٹی تعداد کو چھوڑ کر ___ ایک بڑی اکثریت شرک میں تو پڑی ہوئی ہے اور یہ شرک اسی شرک جیسا ہے جو کہ جاہلیت کے دور میں ہوا کرتا تھا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ان سب لوگوں کا جو شرک میں واقع ہوتے ہیں مشرک قرار پانا البتہ ضروری نہیں۔ ویسے بھی دعوتی عمل میں ہمیں جس بات سے غرض ہے وہ ہے حقیقت ایمان کا بیان، نواقض ایمان (وہ باتیں جن سے آدمی مسلمان نہیں رہتا) کا بیان اور لوگوں کو اس بات کی دعوت کہ وہ جس شرک میں پڑے ہوئے ہیں ___ قطع نظر اس سے کہ وہ حکم شرعی کی رو سے اس کے مرتکب ہو کہ مشرک قرار پاتے ہیں یا غیر مشرک ___ اس شرک سے وہ بہرحال نکل آئیں اور اس بات کی دعوت بھی کہ لوگ صحیح اسلام پر آجائیں اور صحیح اسلام کی ہی دنیائے واقع میں ___ نہ کہ صرف دنیائے آرزو یا محض خواب وخیال کی دنیا میں ___ ترجمانی کریں اور صحیح اسلام پر ہی عمل پیرا ہوں۔

ہمیں اس بات سے کوئی غرض ہونی ہی نہیں چاہئے کہ ہم کسی شخص کو کہیں کہ تم مشرک ہو یا اس کے بارے میں لوگوں کو بتائیں کہ وہ مشرک ہے۔ ہمیں جس بات سے غرض ہے اور جو کہ ہمارا فرض منصبی ہے وہ یہ بتا دینا ہے کہ تم جو کر رہے ہو یہ شرک ہے اور حکمت ودانائی اور موعظہ حسنہ کے ذریعے اسے یہ دعوت دینا ہے کہ وہ اس شرک سے نکل آئے اور اسلام کی حقیقت کو اپنا لے۔

یہ تو ہوا اس صورتحال کے حوالے سے جس سے آج لوگوں کی اکثریت دوچار ہے اور ان فرائض کے حوالے سے جو ہم پر اس صورتحال کی بابت عائد ہوئے ہیں۔

مگر ایک دوسرے پہلو سے دیکھئے تو عالم اسلام کی صورتحال آج جیسی ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ تھوڑی بہت استثنا کے ساتھ عالم اسلام کے بڑے حصے میں قائم نظام آج اسلام کی صحیح دعوت سے برسر جنگ ہیں اور حقیقت اسلام کے داعیوں کو ایمان اور نواقض ایمان (جن باتوں سے آدمی مسلمان نہیں رہتا) کے بیان کی اجازت نہیں دیتے۔ خاص طور پر نواقض اسلام کے بیان کی زد جہاں غیر اللہ کے قانون ونظام کو چلانے پر پڑتی ہو وہاں تو حقیقت اسلام کے بیان کی اجازت تک نہیں۔ حقیقت اسلام کے داعیوں کی راہ میں جگہ جگہ جیلیں، کال کوٹھڑیاں اور پھانسیوں کے تختے نصب ہیں جو ہر ایسے شخص کو اپنی زد میں لینے کیلئے بے چین ہیں جو لا الہ الا اﷲ کی اس حقیقت سے معاشرہ کو آگاہ کرنا چاہتا ہے جس حقیقت کے ساتھ لا الہ الا اﷲ دراصل پہلے پہل اترا تھا۔

تو پھر دعوت کیلئے مناسب لائحہ عمل کیا ہو؟ اور ہم کس چیز کی دعوت دیں؟ دعوت میں کس چیز پر زور دیں اور دعوت میں ہم جس ہدف تک پہنچنا چاہتے ہیں اس تک پہنچنے یا اس کے قریب ہونے کیلئے کونسے وسائل اختیار کئے جائیں؟

اگر ہم اپنے گردوپیش کی صورتحال کا صحیح تصور کر لیتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ہم ان اشکالات سے نکل آنے میں بھی کامیاب ہو جاتے ہیں جو ان اقوام پر حکمت اور موعظہ حسنہ کے ذریعے حجت قائم کرنے سے پہلے بعض شرعی احکام لگانے اور فتوے صادر کر دینے سے لازم آجاتے ہیں.... اگر ہم یہ دونوں کام کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ہم اپنے آپکو اپنے دعوتی فرائض کے حوالے سے ایک ایسی صورتحال کے خاصا قریب پاتے ہیں جو دعوت اسلامی کو مکی مرحلے میں درپیش تھی۔ مکی مرحلے کے قریب نہ کہ مکمل طور پر اس کے مماثل۔ کیونکہ کئی سارے پہلوئوں سے ان دونوں میں بہت سے فرق بھی پائے جاتے ہیں۔

ہمارے واقع اور مکی مرحلے کے واقع میں عملی طور پر جو فرق سمجھا جائے گا ووہ یہ کہ لوگوں پر حکم لگانے اور ان کے خلاف کافر یا مشرک ہو جانے کا فتوی صادر کرنے میں ہمارے اور مکی واقع میں واضح فرض ہے البتہ خود وہ صورتحال جو آج ہمیں درپیش ہے اس کے شرک قرار پانے اور مکی مرحلے کی صورتحال کے شرک سمجھے جانے میں کوئی فرق نہیں۔ چنانچہ فرق افراد کے مشرک قرار پانے میں ہے نہ کہ افراد کے فعل کو شرک سمجھے جانے میں، شرک کا پایا جانا یہاں بھی ہے اور وہاں بھی تھا البتہ لوگوں کا مشرک قرار پانے کا معاملہ ضرور مختلف ہے۔ اب دعوت کے لئے کیا منہج اپنایا جائے، اس کا انحصار شرک کے کسی جگہ پائے جانے پر ہے نہ کہ اس بات پر کہ وہاں لوگوں کو پکارا کیا جائے۔ شرک معاشرے میں اگر بے انتہا پھیلا ہے تو دعوت کا منہج اور لائحہ عمل کی بابت خودبخود یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اسے مکی دعوت سے کتنا قریب ہونا چاہیئے کہ اسی کی روشنی میں دعوتی ہدف تک رسائی کیلئے موثر ترین وسائل اور ذرائع اختیار کئے جانے کی ضرورت بھی آشکار ہو جاتی ہے۔

چنانچہ یہاں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دعوت کے معاملے میں اسلام کی نسل اول کی اقتدا اختیار کرنے کا معاملہ اس سے کہیں وسیع تر ہے جتنا کہ بادی النظر دکھائی دیتا ہے اور یہ کہ بہت سارے پہلوئوں سے فرق ہونے کے باوجود بہت سے بنیادی امور ایسے ہیں جن میں آج بھی اسی دور سے رجوع کرنا لازم آتا ہے۔ لہٰذا مکی دور کا بغور مطالعہ کرنا اور کھلی آنکھوں سے اس کا بار بار مشاہدہ کرنا اب بھی قرض ٹھہرتا ہے۔ اسی سے ہمیں دعوت کی راہ میں آَگے بڑھنے کا راستہ ملے گااور یہیں سے اللہ کے فضل سے دین کے فہم اور بصیرت کی بند گرہیں کھلیں گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج اگر ہم امت اسلام کے احوال دیکھیں ___ جیسا کہ واقعی دیکھنے کا حق ہے ___ تو ہمیں ایسے بے شمار انحرافات نظر آئیں گے جو کہ پچھلے چودہ سو سال کے دوران پیدا ہوئے اور لوگوں کو رفتہ رفتہ حقیقت اسلام سے دور لے جانے کا سبب بنتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اسلام آج دوسری بار اسی غربت و اجنبیت کا شکار ہو چکا ہے جس کی رسول اللہ نے پیشین گوئی فرمائی تھی:

بدا الاسلام غریبا و سیعود غریباً کما بدا (اخرجہ مسلم)

کہ ”اسلام شروع ہوا تھا تو اجنبی تھا۔ عنقریب یہ پھر اسی طرح اجنبی ہو رہے گا جیسا کہ ابتداءمیں تھا“۔

اگر ہم ان انحرافات کا جائزہ لیں اور یہ جائزہ لینا ہمارا فرض بنتا ہے کیونکہ امت کے وجود کو لاحق مرض کی تشخیص کئے بغیر کوئی چارہ کار نہیں اور ایک صحیح تشخیص ہوجانے پر ہی اس بات کا تمام تر انحصار ہے کہ اس کی درستی کیلئے علاج تجویز ہو تو کیا ہو.... سو اگر ان انحرافات کا جائزہ لیں تو یہ بات کھلے گی کہ یہ انحراف صرف کردار اور رویے ہی میں نہیں بلکہ اسلام کے بنیادی مفہومات تک میں آچکا ہے۔ اور یہ کہ اسلام کے سب کے سب مفہومات آج انحراف کا شکار ہو چکے ہیں۔ حتی کہ لا الہ الا اﷲ کا مفہوم بھی۔ بلکہ یہ تو انحراف شروع ہی لا الہ الا اﷲ کا مفہوم غلط ہونے سے ہوا ہے۔ پھر عبادت کا مفہوم، تقدیر اور قضا وقدر کا مفہوم، دنیا اور آخرت کا مفہوم، تہذیب کا مفہوم، تربیت کا مفہوم، جہاد کا مفہوم [اس سلسلے میں محمد قطب کی کتاب ”مفاہیم ینبغی ان تصحح“ ملاحظہ کی جا سکتی ہے] انحراف کا شکار ہونے سے کچھ بھی نہ بچا۔

اب جب ایسا ہے تو پھر ابتداءکہاں سے کی جائے؟ کیا لا الہ الا اﷲ کا مفہوم درست کئے بغیر اور لوگوں پر اس کی حقیقت واضح کئے بنا کوئی چارہ کار ہے؟ کیا کاروبار زندگی کو راست بنیاد پر اور اسلام کی اساس پر قائم کیا جا سکتا ہے جب تک کہ لوگوں کے قلب وذہن اور فکر وشعور میں لا الہ الا اﷲ کا فہم اور ادراک درست نہ کر لیا جائے؟ فکر وشعور میں حق کا ادر اک گہرا اترنا ہے اور پھر اس ادراک کو دلوں میں ایک وجدان اور ایک برقی رو کی صورت دھارنا ہے جو دنیائے واقع میں ہر جامد چیز کو متحرک کر دینے کیلئے کافی ہو اور عملی رویہ وسلوک کو مطلوبہ رخ اور جہت دے سکے.... اصلاح کا یہی طریق کار ہے۔

آئیے ذرا دیکھیں کہ شعور وادراک کی دنیا میں اس لا الہ الا اﷲ کا مفہوم کس خرابی کا شکار ہوا۔

لا الہ الا اﷲ کا مفہوم یوں سمجھئے سکیڑ کر رکھ دیا گیا۔ یہاں تک کہ اب یہ محض ایک کلمہ ہو کر رہ گیا جسے بس زبان سے ادا کر دیا جاتا ہے۔ ایک اندوہناک اکثریت کی زندگی میں اس لا الہ الا اﷲ کو اب کچھ نہیں کرنا۔ حتی کہ اس کلمہ کو اب شرک کے راستے میں رکاوٹ تک نہیں بننا، چاہے وہ عقیدے کا شرک ہو، چاہے پوجا اور پرستش کا شرک اور چاہے حکم وقانون کا شرک۔

ہمارے آج کے اس واقع میں اور بعثت نبوی کے وقت کے جاہلی واقع میں اگر کوئی فرق ہے تو یہی کہ تب لوگ کھلا کھلا شرک کرتے اور یہ کہنے کیلئے بھی تیار نہ تھے لا الہ الا اﷲ کہ ’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں‘۔ مگر ہمارے آج کے اس واقع میں ایک تھوڑی تعداد کو چھوڑ دیں تواکثریت زبان سے کہتی ہے لا الہ الا اﷲ کہ ’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں‘ مگر بعینہ اسی وقت شرک کی کسی ایک قسم میں یا شرک کی سبھی اقسام میں بھی پڑ چکی ہوتی ہے۔

جب ایسا ہے تو آج ہم اس بات کے شدید ضرورتمند ہیں کہ رسول اللہ کے اس منہج سے ملتا جلتا منہج اپنائیں جو آپ نے مکہ میں اس وقت اپنایا تھا جب شرک عام تھا۔ کیونکہ اس بات کی جتنی ضرورت اس وقت تھی اتنی ہی ضرورت آج بھی ہے کہ لوگوں پر لا الہ الا اﷲ کی حقیقت واضح کی جائے اور اس کی حقیقت کو پھر سے لوگوں کی عملی اور معاشرتی زندگی میں ڈھال دیا جائے۔

میں سمجھتا ہوں یہ مہم کوئی آسان اور مختصر مہم بھی نہیں۔ اس مہم کی دشواری اور اس میں جان کھپانے کی ضرورت اس مہم سے کم نہیں جو دور اول میں اسلام کی غربت ختم کرنے کیلئے سر کی گئی تھی۔ بلکہ اسلام کی اس غربت ثانیہ کو ختم کرنے کا چیلنج اس لحاظ سے شاید اس سے بھی کہیں بڑا ہے کیونکہ اسلام کی غربت اولی کو ختم کرنے کیلئے رسول اللہ بنفس نفیس موجود تھے جو کہ اسوہ بھی تھے اور منبع الہام بھی....

دور اول کی مشکل یہ تھی کہ تب ایک اڑیل قوم سے واسطہ تھا جو آباؤ اجداد کی راہ سے ایک انچ ہٹنے کیلئے تیار نہ تھی۔

فانما یسرناہ بلسانک لتبشربہ المتقین وتنذربہ قوماً لداً (مریم: ٧٩)

”پس اے محمد ہم نے اس کلام کو تمہاری زبان پر آسان کر دیا، تاکہ تم پرہیز گاروں کو خوشخبری دو اور ضدی اڑیل لوگوں کو ڈرا دو“۔

واذا قیل لہم اتبعوا ما انزل اﷲ قالوا بل نتبع ما الفنیا علیہ آباءنا اولو کان آباؤھم لا یعقلون شیئا ولا یھتدون (البقرہ:١٧٠)

”ان سے جب کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو احکام نازل کئے ہیں ان کی پیروی کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اسی طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ اچھا اگر ان کے باپ دادا نے عقل سے کچھ بھی کام نہ لیا ہو اور راہ راست نہ پائی ہو تو کیا پھر بھی یہ انہیں کی پیروی کئے چلے جائیں گے؟“

البتہ اس دوسری بار کی غربت اسلام کے خاتمہ کیلئے اصل چیلنج یہ نہیں ہو گا کہ ہم لوگوں سے لا الہ الا اﷲ کہلوا لینے میں کامیاب ہو جائیں۔ یہ تو وہ صبح شام کہتے ہیں! بلکہ اس مہم کی اصل مشکل یہ ہے کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ لا الہ الا اﷲ صرف زبان سے ادا کر دینے سے وہ مسلمان ہو چکے ہیں اور یہ کہ حقیقت اسلام بھی بس یہ لفظ کہہ دینے کے ساتھ ہی خودبخود ان پر چسپاں ہو گئی ہے اب ان کا عملی رویہ کچھ بھی ہو اور اس لا الہ الا اﷲ کو غیر معتبر کرکے رکھ دینے والے خواہ وہ کتنے ہی کام کریں اور عملی زندگی میں اس لا الہ الا اﷲ کے تقاضوں کو جتنا چاہے پائمال کریں بس اب وہ مسلمان ہیں۔ اور اگر آپ ان سے یہ کہیں کہ لا الہ الا اﷲ کے کچھ صاف اور واضح واضح تقاضے ہیں جنہیں پورا نہ کیا جائے تو انسان کا مسلمان ہونا معتبر نہیں ہوتا بلکہ ان تقاضوں کو پورا نہ کرنے کی صورت میں خود لا الہ الا اﷲ کی زبان سے ادائیگی اس کو الٹا پھنسا دیتی ہے اور اسے مرتد تک قرار دلوا سکتی ہے تو وہ کبھی آپ کی بات پر یقین نہ کریں گے اور کہیں گے کہ یہ بات تو ہم نے کبھی سنی تک نہیں۔

لوگوں کی اکثریت آج فکر ارجاء(ایک گمراہ فرقہ کے افکار) کی آلودگی میں پڑ چکی ہے۔ فکر ارجاءجو کہ یہ کہتا ہے کہ جو شخص کلمہ گو ہے پس وہ مومن ہے چاہے اسلام کے اعمال میں سے کسی ایک عمل کی ادائیگی بھی وہ زندگی بھر نہ کر پایا ہو۔ فکر ارجاءجس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایمان بس نبی کی تصدیق کر دینے کا نام ہے یا یہ کہ بس یہ تصدیق اور اقرار سے زیادہ کچھ نہیں۔ اور یہ کہ عمل ایمان کے معنی اور مفہوم میں ہی شامل نہیں اور یہ کہ دین کے منافی اعمال اور اقوال جتنے بھی ہوں اور جس قسم کے بھی ہوں بس وہ صرف ’گناہ‘ کہے جا سکتے ہیں اور یہ بھی کہ :

لا یضر مع الایمان معصیہ

”ایمان ہے تو گناہ جب بھی ہو ہمارا کچھ نہ بگاڑ پائے گا“!

لوگوں کو فکر ارجاءکی اس آلودگی سے پاک اور ان کو ایمان کے اسی صحیح مفہوم پر واپس لے آنا جس پر سلف صالحین رہے ہیں اور جس کی رو سے ایمان قول بھی ہے ایمان اعتقاد کا نام بھی ہے اور ایمان عمل بھی ہے.... یہ کام ہی دراصل اس دور کے ’غربائ‘ کے کرنے کا اصل کام ہے.... وہ غرباءجن کو خود رسول اللہ نے بے پناہ اجر کی خوش خبری دے رکھی ہے۔ چنانچہ فرمایا:

طوبی للغرباء

”خوش خبری ہو آخر دور کے ان لوگوں کو جو اجنبی اور عجیب وغریب نظر آئیں گے“۔

اور یہ بھی فرمایا!

فطوبی للغرباءیصلحون بہا آخر الناس من سنتی

کہ ”خوش خبری ہو اس دور کے ان لوگوں کو جو اجنبی اور عجیب وغریب نظر آئیں گے کیونکہ لوگوں نے میرے راستے کو جس طرح مسخ کر دیا ہو گا یہ اس کو نوارنے اور نکھارنے میں لگے ہونگے“۔

تربیت کے بارے میں ہم ایک علیحدہ فصل میں الگ سے بات کریں گے۔ یہاں ہم یہ طے کرنا چاہتے ہیں کہ اس وقت دعوت کا نقطہ آغاز دراصل یہ ہے کہ آج کے معاشروں پر لا الہ الا اﷲ کی حقیقت واضح کی جائے جس پر کہ اسلام کی غربت ثانیہ کے اس دور میں بے انتہا دھول پڑ چکی ہے اسلام کی وہ حقیقت کہ جس سے جب پردہ اٹھایا جاتا ہے تو لوگ حیران اور متعجب ہونے لگتے ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ اس پر بھی اتفاق ہو جائے کہ لا الہ الا اﷲ کے تقاضوں کی بنیاد پر لوگوں کی تربیت کرنا تو خیر اس سے بھی بڑی بات ہے صرف لا الہ الا اﷲ کی حقیقت لوگوں پر واضح کرنا ہی کوئی آسان اور مختصر مہم نہیں، یہ صرف اتنا کام نہیں کہ لوگوں کو کچھ ’معلومات‘ فراہم کر دی جائیں یہ ایک آدھ خطبے یا ایک آدھ درس اور تقریر یا ایک آدھ کتابچے کے ذریعے ہو جانے والا کام نہیں۔ یہ ایک مسلسل اور پر مشقت کام ہو گا۔ اس کو پورے زور سے بڑے صبر اور استقلال کے ساتھ کیا جاتا رہنا ہو گا۔ اس کو سوچ اور فکر میں گہرا اتارنے کیلئے انسانی نفس کے سبھی گوشوں کا احاطہ کرنا ہو گا۔ ذہن وفکر سے عقیدہ ارجاءکی آلودگی کو کھرچ کھرچ کر اتارنا ہو گا۔ لادین اور سیکولر افکار کی جو دبیز تہیں اسلام پر جم گئی ہیں اس سے اس کا دمکتا چہرہ صاف کرنا ہو گا۔ پرانے دور کا فکر ارجاءاور نئے دور کا سیکولرزم.... یہ دونوں فتنے محض دھول نہیں جو اسلام کے اصل چہرے کو ایک بڑی اکثریت کے فکر وذہن میں چھپا چکی ہے بلکہ یہ زنگ ہے جو فکر وعمل کی دنیا میں بہت گہرا اتر چکا ہے۔ عقیدے کی دیواروں کو کھا چکا ہے۔ عقیدے کے مفہومات کے اندر بہت دور تک جا چکا ہے۔ یہ عقیدے کو اس کی اصل قوت اور فاعلیت سے محروم کر چکا ہے جو اس عقیدے کو معاشرے میں اس وقت حاصل تھی۔ جب یہ اللہ کے ہاں سے نازل ہوا تھا اور جب اس کی حقیقت اجلی اور نکھری نظر آتی تھی.... اس زنگ کو اتارنا محض گرد وغبار کو جھاڑنے والی بات نہیں۔ یہ واقعتا ایک پیچیدہ کام ہے اور ایک بہت بڑی اور زبردست مہم۔

پھر یہ بات طے ہو جانا بھی ضروری ہے کہ اس مہم میں کسی قسم کی جلد بازی.... چاہے وہ جلد بازی اس خیال سے ہو کہ اسلام کی حقیقت ایک بد یہی امر ہے اور خود ہی بہت واضح ہے جس پر کوئی لمبی چوڑی محنت کرنے کی ضرورت نہیں یا یہ جلد بازی یہ سوچ لینے سے آئے کہ اسلام کی حقیقت واضح کرنے پر جتنی کچھ محنت ہو چکی اور جتنا کچھ پڑھا پڑھایا گیا، بس وہ کافی ہے یا یہ جلد بازی اس وجہ سے ہو کہ ہمارے پاس کرنے کے اور بہت سے کام ہیں اور ہمیں اتنے بڑے بڑے چیلنج درپیش ہیں کہ اتنا وقت نہیں کہ لا الہ الا اﷲ کے بنیادی تقاضوں پر لوگوں کی تربیت تو کیا لا الہ الا اﷲ کی حقیقت پڑھانے کیلئے ہی سر جوڑ کر بیٹھ جایا جائے.... غرض یہ جلد بازی چاہے کسی وجہ سے ہو اس سے کچھ ہاتھ آنے کا نہیں.... یہ جلد بازی دعوت کی کوئی خدمت نہ کرے گی اور دعوت کا ثمر آور ہونا بھی اس راہ سے کبھی ممکن نہیں۔

اسلام کی نسل اول اور دور اول کی اقتداءکرنے کا جو مقدمہ ہم نے بیان کیا ہے اس میں دیکھنا یہ ہے کہ وہ مرکزی اور اساسی بات کیا ہے جس کی ہمیں اقتداءکرنی ہے۔ یہ بات واضح ہو جانے کیلئے ایک بہترین ذریعہ خود قرآن بھی ہے۔ اسلام اور لا الہ الا اﷲ کی حقیقت کا بیان ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر قرآن پورا زور صرف کرتا ہے۔ رسول اللہ کی تمام تر توجہ کا محور یہی ایک مسئلہ نظر آتا ہے۔ آپ کے پیش نظر اور خود قرآن کے پیش نظر بھی یہی بات نظر آتی ہے۔ اور پھر اس لا الہ الا اﷲ کی بنیاد پر انسانوں کی تربیت پایہ تکمیل تک پہنچانا تو اس سے بھی بڑی بات ہے۔ زمانہ تنزیل اور خود رسول اللہ کی دعوت کے زیادہ سال یہی ایک مسئلہ لے گیا حتی کہ آپ کی محنت اور جدوجہد پر بھی اسی ایک مسئلے کا حق سب سے بڑھ کر رہا۔

اگر ہمارا یہ خیال ہو کہ قرآن مجید کی مکی سورتوں کی تمام تر ترکیز کا محور اور بار بار تکرار کا موضوع لا الہ الا اﷲ کی حقیقت کا بیان اس وجہ سے تھا کہ ابتدائے اسلام میں قرآن کے مخاطب جو لوگ تھے وہ مشرک تھے.... تو ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ آج جو لوگ اس دعوت کے مخاطب ہیں وہ بھی سب کے سب مشرک نہیں تو ان کی اکثریت کسی نہ کسی انداز سے شرک میں پڑی ہوئی ضرور ہے اور یہ کہ یہ لوگ جس شرک میں پڑے ہیں اس کی نوعیت اس شرک سے بہت مختلف نہیں جس میں عرب کے مشرکین پڑے ہوئے تھے.... خواہ وہ اعتقاد کا شرک ہو، خواہ پوجا اور پرستش کا شرک ہو اور خواہ حاکمیت (حکم وقانون) کا شرک۔

لیکن اس سے بھی بڑھ کر جو چیز ہمیں یاد رکھنی چاہئے وہ یہ کہ اس مسئلے پر ہمیشہ اتنا زور دینے کی ضرورت بس اسی وجہ سے نہیں ہوا کرتی کہ دعوت کے مخاطب لوگ مشرک ہوں یا شرک میں پڑے ہوئے ہوں بلکہ خود مومن بھی اسی مسئلے کی مسلسل اور بار بار یاد دہانی کے ضرورت مند ہوا کرتے ہیں اور اسی کے تقاضوں کی بنیاد ہی ........................ ان کی تربیت ہونا ہوتی ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ قرآن اترنے کے دوران جب مسلم جماعت ایک بھرپور انداز سے وجود پا چکی تھی، اس جماعت کو زمین میں قوت اور تمکین بھی حاصل ہو چکی تھی، بلکہ اس لا الہ الا اﷲ کی خاطر وہ کئی جنگی معرکے بھی لڑ چکی تھی، تب بھی قرآن میں لا الہ الا اﷲ پر بات کی جاتی رہنا موقوف نہ ہوا تھا۔ یہ سورت نساءہے جس میں اللہ فرماتا ہے:

یاآیھا الذین آمنوا امنوا باﷲ ورسولہ والکتاب الذی نزل علی رسولہ والکتاب الذی انزل من قبل ومن یکفر باﷲ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الآخر فقد ضل ضلالا بعیداً (النساء:١٣٦)

”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کی ہے اور ہر اس کتاب پر جو اس سے پہلے وہ نازل کر چکا ہے۔ جس نے اللہ اور اس کے ملائکہ اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور روز آخرت سے کفر کیا وہ گمراہی میں بھٹک کر بہت دور نکل گیا“۔

مدنی سورتوں میں بھی اللہ تعالیٰ نے ایسی آیات بکثرت نازل کیں جو اسلام کی سیاسی، اقتصادی اور سماجی ہدایات کو لا الہ الا اﷲ اور اس کے تقاضوں کے ساتھ جوڑنے کیلئے آتی رہیں:

قل اللھم مالک الملک تؤتی الملک من تشاءوتنزع الملک ممن تشاءوتعز من تشاءوتذل من تشاءبیدک الخیر انک علی کل شی قدیر۔ تولج الیل فی النھار وتولج النھار فی اللیل وتخرج الحی من المیت وتخرج المیت من الحی وترزق من تشاءبغیر حساب۔ لا یتخذ المؤمنون الکافرین اولیاءمن دون المؤمنین (آل عمران: ٢٦، ٢٨)

”کہو! خدایا! ملک کے مالک! تو جسے چاہے، حکم واقتدار دے اور جس سے چاہے، چھین لے۔ جسے چاہے، عزت وتمکنت بخشے اور جسے چاہے، ذلیل کر دے۔ بھلائی تیرے دست اختیار میں۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

رات کو دن میں پروتا ہوا لے آتا ہے اور دن کو رات میں۔ جاندار میں سے بے جان کو نکال لاتا ہے اور بے جان میں سے جاندار کو۔ اور جسے چاہتا ہے، بے حساب رزق دیتا ہے۔

مومنین اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق اور دوست نہ بنائیں“۔

یاایھا الذین آمنوا اطیعوا اﷲ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم فان تنازعتم فی شی فردوہ الی اﷲ والرسول ان کنتم تؤمنون باﷲ والیوم الاخر ذلک خیر واحسن تاویلا (النساء:٥٩)

”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں، پھر اگر تمہارے کسی معاملے میں نزاع ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو اگر تم واقعی اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی ایک صحیح طریق کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے“۔

قرآن میں اس کی بے شمار مثالیں مل سکتی ہیں۔

نتیجہ یہ نکلا کہ لا الہ الا اﷲ کوئی ایسا سبق نہیں جو ایک بار پڑھ لیا تو پھر اور اسباق کی جانب رخ کیا جائے ۔ بلکہ جیسا کہ اس سے پہلے میں اپنی کسی اور کتاب میں کہہ چکا ہوں لا الہ الا اﷲ ایک ایسا سبق ہے جسے پڑھا جائے تو پھر ہر نئے سبق کے ساتھ ہر بار پھر پڑھا جائے اور قیامت تک یہ امت بس اسی سبق کو دہراتی رہے.... کہ اس امت کا ہمیشہ یہی موضوع رہنا ہے!

(جاری ہے)

 

....................................