|
فہرست مضامین ایقاظ۔۔۔اپریل 2003 ماخوذ از مجلہ ’بیان‘
شیخ سفر الحوالی کا ایک اہم انٹرویو جو مجلہ بیان نے شائع کیا ہے
س کہا جاتا ہے کہ اسلامی تنظیمیں بسا اوقات غیر منظم اور آناً فاناً قسم کے اقدامات اور یہ کہ اسلامی گروہ ایک دوسرے کے ساتھ تنگ نظری سے پیش آتے ہیں کیا آپ کی نظر میں ایسا ہی ہے؟ اسلامی بیداری کے موجودہ عمل میں پختگی لانے کیلئے آپ کی کیا تجاویز یا نصائح ہیں؟ ج شیخ سفر: یہ بات درست ہے، اگرچہ اسلامی بیداری اب بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے مگر ہنوز اس میں پختگی لانے کی ضرورت ہے۔ موجودہ تیاری کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ اسلامی بیداری جاہلی قوتوں کے مدمقابل ابھی ضعیف اور ناتواں ہے، کیونکہ جاہلی قوتیں علم اور سائنس کے پردے میں لادینیت کو پروان چڑھانا چاہتی ہیں۔ منصوبہ بندی میں کوتاہی رہ جاتی ہے، دوسرے کو سمجھنے میں اور اس کے ساتھ شرعی ضوابط کے تحت قربت یا بعد اختیار کرنے میں افراط وتفرظ سے کام لیا جاتا ہے۔ تبدیلی لانے کیلئے اللہ تعالیٰ کے خاص ضابطے ہیں جنہیں سنن اللہ کہتے ہیں، ان سے پوری طرح آگاہی نہیں ہے۔ میری اس بات سے ہرگز یہ مطلب نہ لیا جائے کہ اسلامی بیداری میں اخلاص کی کمی یا قربانی دینے کے جذبے کا فقدان ہے۔ مگر بات یہ ہے کہ اخلاص اور قربانی کے جذبے کے علاوہ کچھ دوسرے اہم عوامل بھی ہوتے ہیں۔ میں یہ بھی نہیں کہتا کہ اسلامی تنظیموں میں شرعی علم کا فقدان ہے۔ دراصل شرعی علوم سے فارغ التحصیل ہونا .... اور ان علوم کا ادراک، انکی تطبیق اور شرعی علم کو بطور منہج اپنانا .... دو مختلف چیزیں ہیں۔ ہماری تحریکیں اور ہمارے لیڈر بسا اوقات بڑی ضخیم کتابیں بھی شائع کر لیتے ہیں مگر اس میں اپنے دور کے واقع اور اشخاص کو سمجھنے میں سطح بینی پائی جاتی ہے، اس طرح موجودہ حالات جو نہایت پیچیدہ ہیں سرسری نظر سے ان کا تجزیہ کر لیا جاتا ہے۔ یہ مایوسی یا ہمت چھوڑنے کیلئے میں نہیں کہ رہا کیونکہ بفضل تعالیٰ اس بیداری میں امید کی روشنی بنسبت مایوسی کے کہیں زیادہ ہے۔ اپنے دور اور واقع سے کس طرح پیش آیا جاتا ہے، اس کی مثالیں ہمیں نبی کی سیرت میں مل جاتی ہیں اور انہیں اپنے لئے نمونہ بنانا ہو گا۔ برسبیل مثال نبی جب کسی قبیلے سے غزوے کا ارادہ کرتے تو ایسا تاثر قائم کرتے کہ کسی اور قبیلے پرحملے کا گمان ہوتا تاکہ جاسوسی کرنے والے غلط اندازہ قائم کریں۔ آج اُمت جن مشکلات کا شکار ہے، اس سنت پر عمل کرنا دراصل سیاست شرعیہ کا منہج اپنانا ہے۔ س گیارہ ستمبر کے حادثے پر اسلامی ابلاغ عامہ نے یکساں موقف اختیار نہیں کیا، کیا اس کی وجہ منہج کی غیر پختگی ہے؟ اس کی تلافی کی کیا صورت ہو سکتی ہے؟ ج گیارہ ستمبر کے واقعات کی جو تعبیر ہمارے ذرائع سے ہوئی ہے وہ ہمارے غیر منظم ہونے کی بھی تعبیر ہے۔ اس حادثے سے خود ہماری کوتاہیاں واضح ہوئی ہیں، مگر یہ اس درجے کی نہیں ہے کہ جس کی اصلاح نہ ہو سکتی ہو۔ گیارہ ستمبر کا حادثہ قطعی غیر متوقع اور لرزاں کر دینے والا تھا، مگر اس کے باوجود اسلامی ذرائع ابلاغ نے جو تاثر قائم کیا ہے اُسے غیر سنجیدہ نہیں کہا جا سکتا، اور بہت حد تک بیانات ملتے رہے، کچھ بیانات غیر ذمہ دارانہ بھی تھے مگر ان کی تعداد اتنی کم ہے کہ اُسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ اُس کی وجہ اہل سنت والجماعت کے منہج کا پورا علم نہ ہونا ہے۔ یا پھر عمل کیلئے جو اسباب درکار ہوں انہیں اختیار نہ کرنا اس کی وجہ تھی۔ اہل سنت والجماعت کا ایک واضح اور دوٹوک اصول ہے کہ کسی شخص، گروہ، جماعت یا پوری اُمت میں ایمان اور نفاق، نیکی اور بدی، سنت اور بدعت، عمل صالح اور بے عملی، اطاعت ومعصیت ساتھ ساتھ جمع ہوتے ہیں اور اسی تناسب سے اُس سے محبت یا دوری رکھی جاتی ہے جس تناسب سے نیکی یا بدی پائی جائے۔ اِس اصول پر سورہ آل عمران کی وہ آیات دلالت کرتی ہیں جن کا شان نزول جنگ احد تھی اور احادیث کی کتابوں میں اُس شخص کا واقعہ موجود ہے جو مئے نوش تھا مگر اللہ اور اس کے رسول سے شدید محبت بھی رکھتا تھا۔ اس طرح تین صحابہ کا واقعہ ہے جو جنگ تبوک میں بلاعذر شریک نہ ہوسکے تھے۔ اہل سنت والجماعت کا ایک اور اصول بھی بسا اوقات نظر انداز ہوجاتا ہے اور وہ اصول ہے اختلاف رائے کی صورت میں مومنین کا طرز عمل کیا ہونا چاہئے! مسلمان کے ساتھ اختلاف رائے کی صورت میں یہ اصول ہے کہ دوسرا مسلمان بھائی ہے غلط رائے پر ہے یا صحیح رائے پر، دونوں صورتوں میں اس سے حسن ظن رکھنا، اس کی نیت اور اخلاص پر شبہ نہ کرنا، نیز اُسے بدعتی یا کافر بھی نہیں کہا جائے گا۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں۔ اہل سنت والجماعت دوسرے مسلمان کی غلطی کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں لیکن اُسے بدعتی یا کافر نہیں کہتے۔ سوائے ایسے شخص کہ جو واقعی بدعت کا پرچار کرتا ہو، کفریہ کام کرتا ہو اور اُس کی پہچان اُس کی بدعت یا کفر ہی بن گئی ہو۔ کیونکہ آئمہ کرام سے غلطیاں سرزد ہوئی ہیں اور کسی مسئلے میں ایک امام اور ایک بدعتی کی رائے ایک جیسی بھی ہوجاتی ہے مگر اس جزوی موافقت کے باوجود اُن کا شمار ائمہ میں ہوتا ہے گمراہ فرقوں میں نہیں ہوتا۔ جس طرح کہ قضا وقدر، اسماءوصفات ایسے مسائل میں کبھی کسی مقام پر ایک عالم امام اور ایک گمراہ فرقے میں جزوی موافقت مل جاتی ہے۔ اسی طرح کسی سے دوستی اور دشمنی رکھنے کے معاملے میں بھی مسلمان مختلف الخیال ہو سکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ مسلمانوں کا ایک گروہ منافقین کا دفاع کرے یا پھر مشرکین کے ساتھ نرم رویہ رکھے، اس کے باوجود وہ صالح مسلمانوں میں گنا جاتا ہے، کیونکہ کسی کے امام ہونے کی اہل سنت والجماعت میں یہ شرط نہیں ہے کہ وہ معصوم عن الخطا ہو۔ اگر یہ شرط امام کے لئے نہیں تو عام مسلمان کے لئے بالاولی نہیں ہے۔ اس سلسلے میں قاعدہ یہ ہے کہ اُس مسلمان کا راستہ اہل خیر والا ہے یا نہیں اور اس کی شخصیت کا نمایاں پہلو سنت کی ترویج ہے یا بدعت اور کفر کی۔ اہل سنت والجماعت کا یہ اصول ان کے باہمی تعلقات اور محبت و دوری ایسے مسائل سے تعلق رکھتے ہیں جہاں تک دشمن کے مقابلے میں اہل سنت والجماعت کے طریقے کا تعلق ہے تو وہ دشمن کے مقابلے میں متحد ہوتے ہیں اور نیک وبد دونوں مل کر اس کا مقابلہ کرتے ہیں، اسی طرح سنت پر کاربند اور بدعتی، منصف اور ظالم سب کی متحدہ قوت سے مقابلہ ہوگا۔ نبی نے فرمایا: المسلمون تتکافا دماؤھم وھم یدعلی من سواھم ”مسلمانوں کی تمام جانیں ہم مرتبہ ہیں اور وہ اپنے دشمن کے مقابلے میں مل کر متحد ہوتے ہیں“۔ ایک طرف اُمت مسلمہ کو جمع کرنے والا جھنڈا اسلام ہو اور دوسری طرف خالص کفر ہو، تو اِس صورت میں اتحاد سب سے اہم ہوتا ہے۔ یہی صورت ہمیں غزوہ احد، غزوہ خندق اور غزوہ تبوک اور دوسرے غزوات میں نظر آتی ہے۔ یعنی گناہ گار، صاحب بدعت اور منافق سب اسلام کے پرچم تلے جمع ہو کر کافروں کا مقابلہ کیا کرتے۔ اس بڑی نیکی (جہاد) سے اللہ تعالیٰ گناہگاروں کی خطائیں معاف فرما دیتا یا گناہ جھڑ جاتے، مزید براں اس طرح وہ تربیت اور تزکیے کے مراحل سے بھی گزرتا رہتا جو بالآخر اُسے گناہ سے نیکی اور بدعت سے سنت کی طرف کھینچ لاتی۔ اگر یہ اصول بنا لیا جائے کہ کفر سے دفاع کے لئے پابند سنت ہونا شرط ہے اور وہ پکا عبادت گزار ہو تو یہ بھی ایک قسم کا افراط ہے۔ اسی طرح کسی شخص کی گمراہی یا گناہ سے اس وجہ سے صرف نظر کیا جائے کہ وہ دشمن کے مقابلے میں قوت فراہم کرتا ہے تو یہ بھی دین سے انحراف ہے اور جس طرح ایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے اور ایمان کے درجات ہوتے ہیں تو اسی طرح اس کے ساتھ دوستی اور دوری رکھی جائے گی کیونکہ اصل ایمان باقی ہوتا ہے اور اس سے ایک مومن کے دوسرے مومن پر جو حقوق ہوتے ہیں وہ واجب آتے ہیں۔ یہ اصول ثابت شدہ نصوص سے ماخوذ ہے اور کسی کے مومن نہ ہونے کا یقین اُس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک قطعی دلیل اور شہادت نہ مل جائے۔ س مغرب کے ساتھ ہمارے تعلقات کی نوعیت میں مختلف قسم کی آراءپائی جاتی ہیں۔ بعض مفکرین نظریاتی اور سیاسی میدان میں مغرب کے ساتھ مباحثہ چاہتے ہیں۔ ان مفکرین کے نزدیک اصل مسئلہ طرفین کے مابین غلط فہمیاں ہیں جو بات چیت سے حل ہو سکتی ہیں۔ دوسرے فریق کے نزدیک مغربی ممالک استعماری ملک ہیں جو کمزور ممالک میں دخل اندازی کرتے رہتے ہیں اور وہ صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں، ان سے کوئی مباحثہ محض وقت کا ضیاع ہے۔ آپ کے خیال میں مغرب کے ساتھ ہمارے تعلق کس نوعیت کے ہونے چاہئیں؟ ج ان دونوں اقوال میں افراط وتفریط ہے۔ کیا ایسا ممکن نہیں ہے کہ مغرب سے جہاد بھی ہوتا رہے اور علمی مباحثے بھی ہوتے رہیں۔ کسی ایک پہلو پر ضرورت سے زیادہ ترکیز کرنے سے بسا اوقات غلط نتیجہ نکلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ومن الذین قالو انا نصری اخذنا میثاقھم فنسوا خطا مما ذکروا بہ فاغرینا بینھم العداوہ والبغضاءالی یوم القیامہ وسوف ینبئھم اﷲ بما کانوا یصنعون (المائدہ: ١٤) ”اسی طرح ہم نے ان لوگوں سے بھی پختہ عہد لیا تھا جنہوں نے کہا تھا کہ ہم ”نصاری“ ہیں مگر ان کو بھی جو سبق یاد کرایا گیا تھا، اس کا ایک بڑا حصہ انہوں نے فراموش کر دیا۔ آخرکار ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کیلئے دشمنی اور آپس کے بغض وعناد کا بیج بو دیا اور ضرور ایک وقت آئے گا جب اللہ انہیں بتائے گا کہ وہ دنیا میں کیا بناتے رہے ہیں“۔ ایک سبب تو یہ ہے جو ہم نے اوپر بیان کیا اور دوسرا سبب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات میں جو طرح طرح کی صلاحتیں پیدا کرتا ہے، اس کا عدم استعمال ہے۔ عین ممکن ہے کہ ایک شخص بات چیت کے فن کو اچھا نبھائے اور دوسرا عسکری میدان میں اپنے جوہر دکھائے۔ بسا اوقات ایک ہی حق کے مختلف پہلوئوں میں سے کسی ایک پہلو پر زیادہ ترکیز کرنے سے اس کے کئی پہلو پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ اس لئے کسی معاملے کے تمام پہلوئوں کو اپنی اپنی اہمیت کے لحاظ سے مقام دینا چاہئے۔ مثلاً امریکہ عوامی جمہوریہ چین سے مذاکرات پر اس لئے مجبور ہوا ہے کہ چین ایک مضبوط عسکری قوت بھی ہے۔ اس طرح اگر پاکستان کے پاس ایٹم بم نہ ہوتا تو ہندوستان حملے سے نہ چوکتا۔ اسی طرح سوویت یونین کا سقوط بھی علمی اور عسکری دونوں سطحوں پر ہوا ہے۔ اہل سنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ ایمان کے درجات ہوتے ہیں۔ ان تمام درجات میں پورے اترنا اور اس کے لئے تربیتی مراحل طے کرنا بہت مشکل یا ناممکن ہدف ہے۔ لہٰذا اس کی عملی صورت یہی ہے کہ اُمت کی موجودہ توانائیوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایک قابل عمل طریقہ کار وضع کیا جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ توحید باری تعالیٰ کے بعد ایمان کے جس پہلو پر ترجیحاً توجہ دینی چاہئے وہ جہاد اور زہد ہے۔ میں اس کیلئے موجودہ دور میں جہاد فلسطین، اریٹریا، چیچنیا، کشمیر اور فلپائن کی مثال دوں گا کہ وہ اپنے مدمقابل دشمن سے عسکری اعتبار سے بہت کمزور ہے دوسری طرف اُن کے دشمن کو بین الاقوامی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔ تیسری طرف یہ برسرپیکار مجاہدین مسلمانوں کے بھی پوری طرح حمایت یافتہ نہیں ہیں۔ اس کے باوجود اُنہوں نے دشمن کو زک پہنچا دی ہے۔ ہماری اصل طاقت ہمارا عقیدہ ہے اور اسی کی بدولت ہم غالب ہوتے ہیں اور دشمن کے دل اور ان کے ممالک میں جگہ بناتے ہیں۔ لہٰذا حصول علم، دعوت کا اسلوب اور اسلام کے محاسن کھول کھول کر بیان کرنا اصل قوت ہے، اور اللہ کی نصرت کو جلد لانے والی چیز ہے اور زمین پر اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند کرنے میں دعوت کا اسلوب اور جہاد دونوں کارآمد ہوتے ہیں۔ محض علمی مباحثے کرتے جانا اور جہاد کو کالعدم قرار دے دینا یا صرف جہاد کرنا اور ابلاغ عامہ کے طریقوں سے ناواقف رہنا دونوں طریقے درست نہیں ہیں۔ بلاشبہ دشمن کے کسی افسر کا مارے جانا ہمارے لئے مسرت ہوتا ہے مگر ان کا کوئی یا عالم یا پوپ مسلمان ہو جائے تو یہ مسرت زیادہ ہونی چاہئے۔ بنا بریں ہمیں حصول قوت میں کوتاہی نہیں کرنی ہے۔ مغرب اور دوسرے دشمنان اسلام قوت کی زبان سمجھتے ہیں اور دلیل کے میدان میں غالب آنا بھی قوت کا نام ہے۔ اسی طریقے سے دوطرفہ تعلقات میں بھی حکمت، دانائی اور تحمل ضروری ہے۔ ہم مفید مکالمے کی ضرورت کا انکار نہیں کرتے لیکن یہ اسلامی دائرے کے اندر ہو اور خوشامد پسندی سے دور ہو۔ اسی طرح ہم جہاد کرنے کو بھی درست سمجھتے ہیں لیکن اس کی شروط اور نتائج کو سامنے رکھ کر۔ طاقت اور دلیل دونوں ایسے کام کریں جیسے انسان کے دونوں ہاتھ۔ جہاں تک مغرب کا تعلق ہے تو وہ کوئی ایک فکر کا نام نہیں ہے، خود امریکہ میں قسم قسم کی آراءپائی جاتی ہیں۔ یہ سمجھنا کہ تمام امریکہ تشدد پسند ہے یا وہ سب کے سب لوگ دانشور ہوتے ہیں، درست نہیں ہے۔ امریکہ مغرب کی بدترین شکل ہے۔ ہنگامہ پسند اور اسلحہ کے استعمال کا رسیا، مگر اس کے ساتھ ان میں انصاف پسند لوگ بھی پائے جاتے ہیں۔ لہٰذا حکمت کا تقاضا ہے کہ دونوں فریقوں کے ساتھ معاملات کرنے میں ان کی طبیعت کو پیش نظر رکھا جائے۔ دونوں کے ساتھ معاملے کی نوعیت مختلف ہو گی اور ہمیں ہر میدان میں اس کے مناسب حال تربیت حاصل کرنی ہوگی۔ کہیں تحمل سے کام لینا ہو گا تاکہ متعدل افراد بھی متشددین کے ساتھ شامل نہ ہو جائیں۔ افغانستان پر امریکا کے موجودہ حملے کے نتیجے میں ابلاغ عامہ کی سطح پر ہماری کمزوری واضح ہو گئی ہے۔ بلکہ یہ کمزوری عسکری قوت سے کہیں زیادہ ہے۔ س امریکہ نے دہشت گردی کے عنوان سے جو جنگ چھیڑی ہے اس کے درپردہ کیا عوامل ہیں۔ اسے اِسلام کے خلاف صلیبی حملہ کہا جا سکتا ہے یا قائدین سے صلیبی جنگوں کا لفظ سہواً نکلتا ہے؟ ج اصطلاحات کی پیچیدگیوں میں پڑے بغیر سادہ لفظوں میں اگر کہا جائے تو جنگ موتہ سے لے کر آنے والی بڑی جنگوں تک ہر مغربی حملہ صلیبی حملہ ہی ہوتا ہے۔ یہ کہنا کہ مغرب اپنی عیسائیت سے دستبردار ہو گیا ہے قطعی غلط ہے۔ صلیبی ذہنیت پر مبنی عداوت ہے، جس کا محرک ان کے عقائد اور ثقافت دونوں ہیں۔ یہ بغض ان کی مذہبی شخصیات اور غیر مذہبی شخصیات دونوں میں پایا جاتا ہے۔ امریکا کی سیاست میں مذہبی عنصر کہیں زیادہ ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ فوجی اپنے عیسائی شعارات نہ اپناتے ہوں مگر امور سیاسیات میں مغربی عنصر روز بروز بڑھ رہا ہے۔ ہر منتخب ہونے والا امریکی صدر اپنی انتخابی مہم میں اپنے مذہبی لگائو کا برملا اظہار کرتا ہے، خواہ وہ ڈیمو کریٹک پارٹی کا سربراہ بل کلنٹن ہی کیوں نہ ہو جو آزاد خیال شخص ہے۔ امریکا کی سیاسی تاریخ میں آج تک نہ کوئی ملحد سربراہ بنا ہے نہ یہودی۔ تمام سربراہان پروٹسٹنٹ فرقے سے تعلق رکھتے تھے۔ سوائے جان کینڈی کے جو کیتھولک تھا۔ ایک عام آدمی بھی یہی نتیجہ نکالے گا کہ امریکا کی اصل دشمنی اسلام سے ہے، البتہ اس مرتبہ اس صلیبی حملے میں یہودی بھی پیش پیش ہیں۔ جو امریکا کے چالاک اور شاطر ہونے کی دلیل ہے۔ س کیا ایسے چالاک اور زور آور دشمن کے ساتھ ہم اپنی کمزوریوں کے ساتھ مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ج سب سے پہلے مقابلے کی نوعیت اور دشمن کی نفسیات کو سمجھنا چاہئے۔ اگر مقابلے کا میدان دعوت، معیشت، عسکری قوت اور ثقافتی یلغار ہوتو یقینا ہم اس سے نبردآزما ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کے جو اُصول کائنات میں چلتے ہیں، اُن کو سامنے رکھتے ہوئے یعنی گر کر سنبھلنا اور پھر پوری طرح اپنے پیروں پر کھڑا ہو جانا۔ اپنے پیروں پر پوری طرح کھڑے ہونے میں طویل وقت بھی درکار ہے اور مسلسل محنت بھی۔ زمین پر صلیب وہلال کا یہ معرکہ قیامت سے پہلے ختم ہونے کا نہیں۔ ہم فتح کی طرف گامزن ہیں، وہ اس طرح کہ امریکہ میں اخلاقی قدروں کا دیوالیہ ہو گیا ہے، یہاں تک کہ خود امریکی چیخ چیخ کر اپنی اخلاقی گراوٹ پر چیخ اٹھے ہیں۔ جہاں تک امریکا کے حکومتی اداروں کا تعلق ہے، جہاں صہیونی چھائے ہوئے ہیں تو اس کا مقابلہ تمام دنیا کو کرنا چاہئے، کیونکہ یہ ادارے اسلام کے ہی نہیں انسانیت کے بھی دشمن ہیں۔ جہاں تک عوام کا تعلق ہے تو ان کا ایک بڑا طبقہ اور انصاف پسند ماہرین دعوت اسلام کیلئے بہترین ہدف ہو سکتے ہیں۔ عوام کے اس بڑے طبقے کو متاثر کرنے کیلئے ہماری قوت ہو گی علم اور ایمانی کردار اور دلیل برہان ہمارا ہتھیار ہوگا۔ اس بات کو پیش نظر رکھیں کہ گیارہ ستمبر کے بعد امریکا کے دانشوروں نے مسلمانوں سے امریکا کے غیر منصفانہ طرز عمل پر سخت تنقید کی ہے اور ایسے لکھنے والوں کی تعداد اتنی ہے جتنی مسلمان دانشوروں کی ہے۔ لہٰذا معرکے کے تمام جوانب کو سامنے رکھتے ہوئے حکمت عملی مرتب کرنی چاہئے۔ س امریکی حقوق انسانیت اور اخلاقی قدروں کی اہمیت پر بہت زور دیتے ہیں، کیا ان کی حکومت بھی کمزور قوموں کے ساتھ معاملات کرتے ہوئے حقوق انسانیت اور اخلاقی قدروں کو پیش نظر رکھتی ہے؟ ج پہلی جنگ عظیم تک امریکا کی سیاست میں دو بنیادی عناصر متوازن طور پر کارفرما رہے ہیں۔ ان میں ایک عنصر دینی اور دوسرا حصول نفع کا تھا۔ لیکن جنگ عظیم کے بعد امریکا گوشہ تنہائی سے نکل کر عالمی سیاست میں دخل انداز ہوا اور اخلاقی یا دینی قدروں سے بتدریج اپنا دامن چھڑاتا گیا۔ یہاں تک کہ اب وہ کسی اخلاقی قدر کو درخور اعتنا نہیں سمجھتا۔ لیکن امریکا کے عوام بدستور سابقہ بنیادوں پر مصر رہے، بلکہ انسانی اور اخلاقی قدروں پر وہ ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کبھی سائنسی معلومات عالم انسانی سے چھپائی نہیں ہیں۔ امریکا میں درآنے والی اخلاقی کمزوریوں کی نشاندہی انہی کے دانشوروں نے کی ہے اور وہ امریکا کے مستقبل سے بھی مایوس ہیں۔ امریکی تالیفات میں اس پہلو پر تنقید کرنے والی کتب کی کثیر تعداد ہے۔ جان کینڈی کے قتل سے یہ اخلاقی دیوالیہ ثابت ہو گیا اور واضح ہو گیا کہ امریکی اسلحہ ساز فیکٹریاں ہتھیاروں کی فروخت سے کسی صورت میں باز آنے والی نہیں ہیں۔ امریکا کے غیر اخلاقی طرز عمل پر جو کتاب روشنی ڈالتی ہے (انکل سام کیا چاہتے ہیں؟) اس کے مؤلف چومسکی کی زبان میں یہ ہے کہ امریکا کو حصول مفاد کیلئے ہر طریقہ اختیار کرنا چاہئے خواہ وہ مسلح کارروائی ہی کیوں نہ ہو۔ وہ لکھتا ہے کہ اس اصول کو امریکا نے اقوام عالم کے کم از کم نصف ممالک پر آزمایا ہے اور اس کیلئے بہانہ اشتراکی انقلاب کو بناتا رہا ہے۔ سوویت یونین کے بکھرنے کے بعد اس کی جگہ اب وہ اسلام کا نام لیتا ہے اور اس کا عنوان ہے دہشت گردی کے خلاف جنگ۔ صہیونیت کی طرف امریکا کا مسلسل جھکائو اس کے اخلاقی دیوالیہ پن کی مثال ہے۔ اس طرح خاندانی نظام کا ٹوٹ پھوٹ کر ختم ہو جانا اور امریکی معاشرے میں بازاری رویے عام ہونا بھی اس اخلاقی دیوالیہ پن کی وجہ سے ہے۔ یہاں تک کہ اباحیت کو رواج دینے میں چرچ کے زعما اور جدید نسل پیش پیش ہیں اور انٹرنیٹ پر %٩۔٤ سائیٹس فحاشی پر مبنی ہیں۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکی معاشرہ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے اور امریکا کا بڑے سے بڑا دشمن جو کام نہیں کر سکتا تھا وہ اس کے اپنے زعما کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کے لحاظ سے بھی یہ ایک قسم کی فتح ہے۔ مگر اس کے باوجود ان ممالک میں دعوت کے کام کو جاری رہنا چاہئے تاکہ وہاں کی اقوام کو گمراہی اور جہنم سے بچایا جا سکے کیونکہ اِسلام کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی۔ قیدیوں سے بھری امریکی جیلیں اس بات کی شہادت دیتی ہیں کہ جرائم کا تناسب وہاں بہت زیادہ ہے۔ اگر اِسلام کی دعوت وہاں پہنچ جائے تو وہاں کے تمام ذرائع اسلام کی خدمت کیلئے فراہم ہو سکیں گے۔ س امریکی اداروں میں دینی قوتوں اور لادینی قوتوں کا کیا تناسب ہے؟ ج امریکا میں لادینیت ایک خاص قسم کی پائی جاتی ہے جو دوسرے مغربی ممالک سے مختلف ہے۔ امریکا میں لادینی عناصر کو دینی قوتوں کی پوری حمایت حاصل ہے جو اگرچہ لادینیت کا خاصہ تو نہیں ہے مگر امریکا میں یہی واقعہ ہے۔ مجھے اس بات سے پوری طرح اتفاق ہے کہ امریکا دینی امور میں بھرپور دلچسپی لیتا ہے۔ لیکن اس سے یہ مراد نہیں کہ وہ مذہبی رسومات بھی بجا لاتے ہیں۔ ممکن ہے کہ امریکا کا صدر یا اس کی بیٹی کسی بدکاری میں ملوث پائی جائے یا وہ کبھی چرچ میں بھی نہ گیا ہو۔ کبھی انجیل کا ایک صفحہ بھی نہ پڑھا ہو مگر ان باتوں کا وہ کبھی برسر عام اقرار نہیں کر سکتا، امریکی معاشرے کا اخلاقی دبائو اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو پاک دامن ہی پیش کرے۔ لادینیت کو سیاسی امور میں اپنانے کی گنجائش تو خود ان کے دین میں موجود ہے۔ حکومت اپنے بجٹ میں نہ دینی مدارس کیلئے کوئی رقم مختص کرتی ہے اور نہ ہی نصاب کو تشکیل دینے میں، مگر چرچ اور مشنری اداروں کیلئے جو چندہ ہوتا ہے وہ حکومت کی آمدنی سے کچھ کم نہیں ہے اور مشنری اداروں میں کام کرنے والے ملازمین اتنی ہی تنخواہ پاتے ہیں جتنا حکومت کے کسی ادارے میں ملازمت کرنے سے مل سکتی تھی اور انہیں ہر قسم کا مالی تحفظ فراہم ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ خفیہ ادارے کا سربراہ امریکا کا صدر چن لیا جائے مگر انتخابات کی مہم میں وہ اپنے تمام جرائم کی پردہ پوشی کرے گا۔ اِن کی کوئی انسانی قدر کے لحاظ سے توجیہ کرے گا۔ اپنے آپ کو دین پسند کہلوائے گا، حالانکہ امریکا کے خفیہ ادارے دُنیا بھر میں جرائم کی سرپرستی کرتے ہیں۔ لادین اور دائیں بازو کی جماعتیں دونوں ہی صہیونیت کی پشت پناہی مذہب کی وجہ سے کرتی ہیں۔ عیسائی اور یہودی دونوں کو متحد کرنے والی چیز بھی مذہب ہے۔ یہ اس بات کی شہادت ہے کہ دینی عقائد امریکی سیاست میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا کے اسرائیل سے تعلقات صرف اقتصادی حوالے سے نہیں ہیں بلکہ ان تعلقات کی بنیاد دین، ثقافت اور مشترکہ تاریخ ہے جبکہ اقتصادی اور سیاسی مفاد اس کے علاوہ ہیں۔ امریکہ کی سیاسی پالیسی میں یہ عقائد اور مفادات دونوں کارفرما ہوتے ہیں۔ جہاں تک عقیدے کا تعلق ہے تو وہ اسے برحق سمجھتے ہیں اور اپنے آپ کو کسی اصل پر قائم سمجھتے ہیں اور سیاسی معاملات میں مفادات کو سامنے رکھتے ہیں۔ س کیا فلسطین کے مسئلے میں اسلام پسند عناصر اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں اگر ایسا نہیں ہے تو اس کا کیا طریقہ کار آپ تجویز کرتے ہیں؟ ج ہرگز نہیں۔ مسئلہ فلسطین تو ایک چبھن ہے جو ہر مومن کے دل میں درد پیدا کر رہی ہے۔ اِسلام پسند سیاست دان اپنے داخلی مسائل کو اتنی اہمیت دے دیتے ہیں کہ وہ مستقبل کے خطرات سے بھی صرف نظر کر لیتے ہیں۔ انہیں اپنے وطن کی مشکلات پر قابو پانا غریب الدیار فلسطینیوں سے زیادہ عزیز ہے۔ ہمیں اس بات کا اعتراف کر لینا چاہئے کہ ہم اس مسئلے میں مسلسل کوتاہی برت رہے ہیں۔ جہاں ممکن ہو فسلطین کی حمایت کرنی چاہئے۔ مسئلہ فسلطین صرف تنظیم حماس یا اس میں شامل نوخیز بچوں کا ہی مسئلہ نہیں ہے کہ وہ کنکریوں کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں۔ ایک طرف تمام مغربی ممالک اسرائیل کی پشت پناہی ببانگ دہل کرتے ہیں اور اس کے ہر ظلم پر لب بستہ ہو جاتے ہیں، دوسری طرف ہمارے سہمے ہوئے اسلام پسند ہیں! تمام مسلمانوں کو اس معرکے کی اصل بنیاد جان لینی چاہئے اور اس کے مقابلے کیلئے ہر قسم کی قوت میسر کرنے کی سبیل فراہم کرنی چاہئے۔ یہ مسئلہ جہاد کے علاوہ اور کسی طریقے سے حل نہیں ہوگا۔ شہادت کی طرف دوڑتے چلے جانا ہماری عسکری حکمت عملی ہو جس سے ہمیں اکتانا نہیں چاہئے۔ کیا ایک ایسے دشمن سے امن کے معاہدے کی پاسداری کی توقع کی جا سکتی ہے، جس کی تاریخ غداریوں سے بھری ہو اور جو ہر نازک موقع پر پشت میں خنجر گھونپنے سے باز نہ آتا ہو؟ ایسے امن کی تلاش کے نتیجے میں سراب ہاتھ آتا ہے۔ مغربی ممالک نے امن معاہدے کا ڈول ڈال کر ہمیشہ ہی اسرائیل کیلئے تجاوزات کا موقع فراہم کیا ہے۔ میں اپنے کمزور فلسطینیوں بھائیوں کو امید دلاتا ہوں کہ صہونیت انتشار کا شکار ہے۔ حصول امن بھی اس کیلئے تباہی ہے۔ رابین کے قتل کا واقعہ اس کی مثال ہے۔ کیونکہ وہاں کے متشدد یہودی ہر قیمت پر جنگ چاہتے ہیں اور دوسرا فریق ہر صورت میں سلامتی چاہتا ہے اور کوئی بھی اکثریت میں نہیں ہے۔ یہودی خود سخت مشکلات کا شکار ہیں۔ تقریباً پوری اُمت مسلمہ نے فلسطین کے حل کا طریقہ جہاد کو سمجھ لیا ہے اور دشمن سے مقابلہ کرنے کا ایک بڑا مرحلہ طے پا گیا ہے۔ اور عنقریب ایک آخری معرکہ ہونے والا ہے۔ اس پر مفصل بحث کے لئے میری کتاب یوم غضب کا مطالعہ مفید ہے۔ س کیا ہم واقعی آخری معرکہ لڑنے والے ہیں؟ ج اس آخری معرکے کی شروعات نبی کی پیدائش اور آپ کی وفات ہے۔ آپ کا آخری نبی ہونا خود اس بات کی دلیل ہے کہ آخری زمانہ اب قریب ہے جیسا کہ بہت سی صحیح حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے۔ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ ہم آخری زمانہ میں رہ رہے ہیں۔ البتہ اس آخری معرکے کا ظہور دجال یا نزول مسیح سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جیسا کہ میں اپنی کتاب میں وضاحت کر چکا ہوں۔ اگر مسلمانوں میں سے کوئی اس قسم کی خلط مبحث رکھتا ہے تو وہ قابل التفات نہیں ہے۔ واقعات خود اس کی تردید کر دیں گے۔ احادیث مبارکہ سے بصراحت ملتا ہے کہ دجال کا ظہور یورپ کے ساتھ پے درپے کئی بڑے معرکوں اور روم کی فتح کے بعد ہو گا اور مسلمانوں نے ابھی تک یورپ فتح نہیں کیا اور نہ ہی اس کا امکان ہے۔ اس لئے موجودہ حالات بڑی جنگوں کی تمہید ہی ہو سکتے ہیںجو مسلمان اور عیسائیوں کے درمیان ہو گی اور اس میں آخری فتح مسلمانوں کی ہوگی۔ س مغربی ابلاغ عامہ بذریعہ نشر واشاعت واقعات کی من مانی توجیہ کرتا ہے، اس طرح وہ لوگوں کے ذہنوں میں جو بات بٹھانا چاہے اس میں بہت حد تک کامیاب ہوجاتا ہے، کیا اُمت مسلمہ کو باشعور کرنے کا کوئی مسلمانوں کے پاس جدید ذرائع ابلاغ ہونے چاہئیں؟ ج صلیبی حملے میں ذرائع نشر واشاعت وہی کردار ادا کر رہے ہیں جو ہتھیاروں میں میزائل اور راڈار کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں ایسے لوگوں کو منافق کہا گیا ہے جو اسلامی لشکر میں افواہیں پھیلاتے ہیں دشمن کی طاقت کو بڑھا چڑھا کر اور اسلامی لشکر کو گٹھا کر پیش کرتے ہیں۔ تاکہ مجاہدین کا مورال گر جائے۔ مدینے میں بھی یہودی یہی کام کرتے تھے۔ جنہوں نے اب جدید ذرائع ابلاغ پر دسترس حاصل کرلی ہے۔ جدید ابلاغیات میں تمام نفسیاتی پہلوئوں کو سامنے رکھ کر ایسی عکاسی کی جاتی ہے کہ جھوٹ بھی سچ لگے۔ ہمیں دستیاب وسائل سے اس جھوٹ کا توڑ بھی کرنا ہے اور اس ترقی بھی دینی ہے۔ اس ایمان کے ساتھ کہ اللہ کبھی فساد پھیلانے والوں کو کامیاب نہیں کرتا اور نہ ہی خیانت کرنے والوں کو درست سمت نظر آتی ہے۔ امریکی میڈیا کو غلط بیانی کی ضرورت اس لئے پڑتی ہے کہ اسے اپنے زوال کا اندیشہ لاحق ہے۔ اس لئے وہ درست معلومات کو عام نہیں ہونے دیتا۔ س اُمت کے اندر مختلف الخیال جماعتیں اور تنظیمیں پائی جاتی ہیں، تو کیا یہ افتراق کے باوجود لادینیت کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟ ج اسلامی جماعتوں اور تنظیموں کی موجودہ صورتحال پہلے سے بہت زیادہ بہتر ہے۔ نہ صرف اُمت کا بلکہ اسلامی جماعتوں کا شعور بھی بہت بلند ہو چکا ہے۔ ان کا اثر ونفوذ اپنے ملک کے علاوہ دوسرے مسلم ممالک میں بھی ہے۔ اور ذرائع نشر واشاعت میں بھی ان کا کردار نمایاں ہے۔ دنیا بھر میں پڑھی یا سنی جانے والی خبروں کا ٨۔٦ فیصد تعلق اسلام یا مسلمانوں سے ہوتا ہے۔ لادین عناصر بتدریج اپنی آواز دھیمی کر رہے ہیں۔ اخلاقی قدروں کو اپنانے، دین داری کو رواج دینے اور نظام خاندان کی بحالی کی آواز اب دنیا میں شناسا ہو چکی ہے۔ہر روز انٹرنیٹ پر یا دوسرے ذرائع نشر واشاعت میں اسلامی جماعتیں یاگروہ دعوتی یا معلوماتی چینل کھولتے ہیں۔ اور عقلی دلائل سے واضح کرتے ہیں کہ اسلام ہی دین فطرت ہے اور سر بہ سر حق ہے اور اسلام کے علاوہ ہر نظریہ یا مذہب بالکل باطل ہے یا بگڑ چکا ہے اور قابل اتباع نہیں رہا۔ بیشتر اسلامی ذرائع ابلاغ نہ صرف لادینیت کا بھرپور مقابلہ کر رہے ہیں بلکہ جہاد کے احیاءاور اپنے اپنے ممالک میں شریعت اسلامی کے مکمل نفاذ کا مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے۔ مغربی دانشوروں کی اکثریت کا یہ خیال ہے کہ اگر مسلمانوں سے آزادانہ رائے لی جائے تو وہ سوائے اسلامی شریعت کے نفاذ کے کسی اور قانون کو اپنے ملک میں نہ چلنے دیں۔ اور اگر جہاد کا دروازہ کھل جائے تو مسلمان دوڑے چلے آئیں گے اور کم ہی پیچھے رہیں گے۔ یہ سب کچھ انہی اسلامی جماعتوں کی محنت سے ہی حاصل ہوا ہے۔ س لادینیت کے مقابلے کیلئے سب سے پہلا مرحلہ آپ کیا تجویز کرتے ہیں؟ ج لادینیت کا مقابلہ کرنا ہو یا کسی اور گمراہی کا، اس کیلئے دلوں میں ایمان کو راسخ کرنا ہوگا۔ شرعی علم سے بہرہ مند ہونا، تزکیہ نفس اور نیک اعمال میں بڑھتے چلے جانا سب سے پہلا مرحلہ ہے۔ وہ اعمال بجا لانا جو اللہ کو پسند ہوں۔ جنت کی طرف رغبت رکھنا اور دنیا سے زہد رکھنا اور اس کیلئے صحابہ اور سلف صالحین کو نمونہ بنانا اور بدعات سے بچناہوگا۔ اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت ہمارا اوڑھنا بچھونا ہو۔ اس میں نہ زیادتی کریں نہ کمی، اس مسئلے کو قرآن وحدیث میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اسے مجمل نہ کریں اور جو مسائل اجمالاً ذکر ہوئے ہیں ان میں موشگافیاں نہ نکالیں۔ جس چیز سے اللہ بہت زیادہ ڈراتا ہے ہم اسی سے ڈریں۔ اور جن چیزوں سے صرف نظر کیا گیا ہے، ان کی کھوج میں نہ لگے رہیں۔ موجودہ دور کے علماءکی کتابیں بھی پڑھنے کے لائق ہیں۔ مگر ان پر ہی اکتفا نہیں کرنا۔ کیونکہ ہر عالم اپنے دور کے انحرافات اور بدعات کی تردید میں مشغول ہوتا ہے اور اپنے دور سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مثلاً ایک زمانے میں غلط تصوف اُمت میں رواج پا گیا تھا تو اس زمانے میں آپ کو اسی موضوع پر تصینفات ملیں گی۔ اس لئے پہلے زمانے کی تصنیفات کی اہمیت مسلمہ ہے۔ آئمہ کرام کے طریقوں کو چھوڑ کر نئے نئے فقہی استدلال کرنا بھی درست نہیں۔ کچھ اُمور بنیادی نوعیت کے ہوتے ہیں یا اصولی بحثیں ہوتی ہیں جیسے ارکان اسلام اور ایمان یا حجیت حدیث ان امور میں سلف صالحین کو ہی نمونہ بنایا جائے گا۔ مسائل کا درجہ بہرحال ان کے بعد ہے۔ فروعی مسائل میں اجتہاد کی غلطی بھی ہو سکتی ہے، ایسی صورت میں نہ دوسرے کو کم علم سمجھا جائے گا اور نہ ہی اس سے نفرت کی جائے گی۔ ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر جو حقوق ازروئے شریعت ہیں وہ باقی رہیں گے۔ میں اس بات پر اس لئے زور دیے رہا ہوں کہ اگر طریقہ کار کی اصلاح ہو جائے تو باقی مسائل ثانوی حیثیت کے ہیں۔ حصول علم کا کیا ذریعہ ہو، عبادت میں کیا طریقہ ہو، جہاد کا کیا طریقہ ہو اور اپنے مخالف کے ساتھ کس طرح پیش آنا ہے اگر اسے پوری طرح سمجھ لیا جائے اور اپنا لیا جائے تو تربیت کا ایک بنیادی مرحلہ طے پا جائے گا۔ اس سے میری مراد ہے نبی کے تمام اخلاق کو اپنالینا۔ برسبیل مثال قرآن مجید نے دل کی عبادت پر بہت زیادہ زور دیا ہے۔ دل کی عبادت ہے تقویٰ، یقین، بھروسہ، اخلاص، شدید خوف اور اللہ سے شدید محبت اور اس طرح کی دوسری قلبی عبادات۔ عبادت کا پہلو جو قرآن کا اصل مقصود ہے اسے بسا اوقات قائدین نظر انداز کر دیتے ہیں، کارکنان کی بات ہی الگ ہے۔ اسی طریقے سے حسد، بغض سے دل کا صاف ہونا بھی عبادت ہے۔ لیکن اس پر بھی تربیت کے مرحلے میں توجہ نہیں دی جاتی۔ یہ عین ممکن ہے کہ کسی مسلمان میں کوئی بدعت پائی جائے مگر وہ اپنے مخالف گروہ کے مسلمانوں کے عام گناہ کو بھی لوگوں میں اچھالتا پھرے۔ جب تک دل پوری طرح راہ راست پر نہیں آتے اور دلوں کی اصلاح نہیں ہو جاتی اس وقت تک دوسرے معاملات غیر مستقیم ہی رہیں گے۔ سلف صالحین کا اس بات پر اجماع ہے کہ ایمان، قول اور عمل کا نام ہے اور عمل سے ان کی مراد ہوتی ہے دل کے افعال جیسے اخلاص، خوف، امید، یقین، توکل جن کی عدم موجودگی میں ظاہری اعمال کی کوئی قیمت نہیں رہتی۔ عملی عبادات کا بھی تب اعتبار ہے جب ان کے پیچھے دل کے افعال شامل ہوں۔ جیسے خلوص نیت اور عبادت کا صرف اللہ کیلئے ہونا اوردکھلاوے سے پاک ہونا۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ دل عبادت کر رہا ہو اور بدن جھکنے پر تیار نہ ہو۔ اس لئے اہل سنت والجماعت ایمان کے پورے مفہوم کو بنیادی حیثیت دیتے ہیں اور ہمیں بھی اسی کو بنیادی حیثیت دینی ہوگی۔
.................................... |