سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ۔۔۔۔جولائی 2003

جوابات

آراءوافکار

جناب سید وصی مظہر ندوی صاحب کا ایقاظ کے نام ایک خط

 

مکرمی!

السلام علیکم ورحمتہ اللہ

 

میں آج کل کینیڈا میں مقیم ہوں۔ ذاتی کاموں کے سلسلہ میں فروری کے تیسرے ہفتے میں پاکستان آیا تھا۔ یہاں آپ کا فکر انگیز سہ ماہی ”ایقاظ“ جلد (١) شمارہ (١) ہم دست ہوا۔ میں نے اداریہ اور کچھ دیگر مضامین پر نظر ڈالی تو محسوس ہوا کہ تحریک اسلامی یا احیائے اسلام کی جدوجہد مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اور شیخ حسن البناء شہید کے بعد جن نظریاتی اور فکری بحثوں میں الجھ کر رہ گئی ہے اور جن کو درست انداز میں حل کئے بغیر اس قافلے کی صحیح سمت میں پیش قدمی بالکل رک گئی ہے۔ چنانچہ ’تحریک‘ کے مختلف ’ایڈیشن‘ جو عالم اسلام میں سرگرم ہیں آگے کا راستہ بند پا کر داہنے، بائیں کی انجانی راہوں میں ٹھوکریں کھاتے ہوئے نامعلوم منزل کی طرف بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔

یہ دیکھ کر اطمینان ہوا کہ آپ کا یہ مجلہ ان تمام نظریاتی اور فکری بحثوں کا نہ صرف یہ کہ سامنا کرنے پر کمربستہ ہے بلکہ بڑی حد تک اچھوتے مگر دلنواز انداز میں ان بحثوں میں صحیح صحیح رہنمائی کا فریضہ ادا کر رہا ہے۔ اس سلسلہ میں آپ کا اداریہ اور جناب مدیر کے قلم سے نکلے ہوئے دیگر مضامین بالخصوص لائق توجہ ہیں۔ مختلف فکری تحریروں کا انتخاب اور ترجمے بھی خاصے مفید ہیں۔

بعض باتوں پر اپنی اختلافی رائے کا بھی اظہار کرنا چاہتا تھا۔ لیکن فی الحال دو مختصر باتوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔

(i قرآن حکیم ان حقائق کو جن پر اسلام کے عملی نظام کی بنیاد قائم ہے، دل ودماغ میں جاگزیں کرنے کیلئے ”ایمان“ کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔ عقیدہ کی اصطلاح علم کلام کی ایجاد ہے۔ دونوں اصطلاحوں میں جو لطیف فرق میرے خیال کے مطابق ہے، وہ یہ ہے کہ ”ایمان“ خواہ سچے حقائق پر ہو یا باطل افکار ونظریات پر مگر ”ایمان رکھنے“ والا ان کی سچائی کو خود اپنے فکری عمل سے معلوم کرتا ہے۔

لیکن ’عقیدہ‘ اپنے دل ودماغ میں کسی بھی شئی کو جاگزیں کر لینے اور گرہ کی طرح باندھ لینے کو کہتے ہیں خواہ اس جاگزیں کرنے کی بنیاد محض تقلید آباءیا کسی اور کی اندھی تقلید۔ اس لئے اسلام کی ایمانیات کو عقائد سے تعبیر کرنا زیادہ مناسب نہیں ہے۔

(ii دوسری بات عربی نصوص کے ترجمے کے بارے میں آپ کے نقطہ نظر سے متعلق ہے۔ میری ناچیز رائے یہ ہے کہ کم از کم قرآنی نصوص کا ترجمہ اس طرح کرنا درست نہیں ہے۔ قرآنی نصوص کے ترجمے میں اگر مطلب کو کھولنے کیلئے مترجم کچھ الفاظ کا اضافہ ضروری سمجھے تو یہ اضافہ بہرحال قوسین (بریکٹ) میں لکھا جائے۔ کیونکہ قرآنی مطالب کی وسعت تو لامحدود ہے۔ اس لئے جو مطلب میں نے سمجھا ہے ہو سکتا ہے کہ وہ درست ہو لیکن مگر قرآنی نص اسی مطلب تک تو محدود نہیں۔

آخری بات یہ ہے کہ آپ کی نظری بحثیں شاید ایک عبوری دور کی ضرورت ہیں۔ مگر اسلام سے محبت کرنے والا ہر کارکن ان کو بخوبی سمجھنے بلکہ ان کے اندر دلچسپی لینے سے بھی قاصر ہے۔ تاہم ان بحثوں سے جب آگے بڑھنے کی شاہراہ روشن ہو جائے گی۔ اور عملاً کوئی قافلہ کسی قائد کی سربراہی میں اس شاہراہ پر گامزن ہو جائے گا تب یہ بحثیں اچھی طرح سمجھ میں آنے لگیں گی۔ موجود الوقت حالات میں ان نظریاتی بحثوں کو سمجھنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں۔

والسلام

سید وصی مظہر ندوی

جناب سید وصی مظہر ندوی صاحب

وعلیکم السلام رحمہ اﷲ وبرکاتہ!

آپ جیسے گرامی قدر اصحاب کا ایقاظ کے مضامین پسند فرمانا ہمارے لئے باعث صد مسرت ہے۔ خط لکھنے کا بے انتہاءشکریہ۔ اپنی آراءکا اظہار کرکے آپ نے ہمیں بہت ہی ممنون فرمایا ہے۔

جن اور نقاط پر بھی آپ اظہار خیال فرمانا چاہیں ان پر ہم آپ کا نقطہ نظر جاننے کی شدید خواہش رکھیں گے۔

امید ہے آئندہ بھی آپ ہمیں توجہ کے لائق جانیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ایمان اور صحت کی بہترین حالت میں رکھے۔

والسلام

كمال الدين

٣٠ ربیع الاول ١٤٢٤ھ