سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ۔۔ جولائی 2004

بیداری<< منہج<< تربيت<< تحریک

Download in PDF Format

"مسلم ہستی کا احیاء" مکمل کتابی شکل میں شائع  ہوچکا ہے۔ آن لائن پڑھنے یا ڈاؤنلوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

حصہ سوم

حصہ دوم

حصہ اول

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

الحمد ﷲ والصلوہ والسلام علی رسول اﷲ

اما بعد ’تبدیلی‘ کا ایک اہم موضوع ....

‘مسلم ہستی’ کی برآمد

(3)

 

واقعہ یہ ہے کہ اسلام کی صورت پر صدیوں سے جو یہ گرد پڑتی آئی ہے لوگوں کی ایک کثیر تعداد گمراہیوں کی اس گرد کو بھی اب اسلامی صورت ہی کا حصہ سمجھنے لگی ہے اور اس میل کو اس پر سے مل مل کر اور کھرچ کھرچ کر اتارنے کو وہ اسلام کا نقصان کرنے بلکہ شاید اسلام کو مسخ کئے جانے پر محمول کریں گے! جن بتوں کو یہاں پوجا جاتے کچھ عرصہ بیت گیا ہے ان کو مسمار کیا جانا ان کو ’مسلم تاریخ‘ اور ’مسلم کلچر‘ کی تباہی نظر آئے گا۔ بہت سوں کیلئے اسلامی عقیدے کی تاریخ منصور الحلاج اور ابن عربی سے اور اسلامی فکر کی تاریخ رومی اور فارابی سے شروع ہوتی ہے۔ بہت سوں کیلئے اسلامی عقیدہ اور اسلامی حقیقت کلام اور تصوف کی بحثوں کا نام ہے۔ بہت سوں کیلئے اسلامی شعائر ’اجمیر شریف‘ اور ’داتا دربار‘ ایسے ’مقامات‘ کا نام ہے۔ مسلم کلچر ’تاج محل‘ ایسی اشیاءکا مجموعہ ہے! آپ جب اسلامی عقیدے اور اسلامی فکر اور اسلامی تہذیب اور اسلامی حقیقت کا آغاز رسول اللہ سے اور مکہ کی وادیوں سے اور مدینہ کے اسلامی ماحول سے ہی کرنے پر اصرار کریں گے، آپ جب اسلام کی حقیقت ابوبکر وعمر، عثمان وعلی، ابن عمر وابن مسعود اور پھر عمر بن عبدالعزیز، زہری، حسن بصری اور پھر ابوحنیفہ، مالک بن انس، شافعی، ابن حنبل، ثوری، ابن عیینہ، اوزاعی، بخاری وغیرہ سے ہی سمجھنے پر اصرار کریں گے اور بعد والوں کے اقوال وآراءکیلئے انہی پہلے والوں کے علم وفقہ اور فہم وفکر میں گنجائش تلاش کرنے کی شرط لگائیں گے تو نہ معلوم آپ کو کس قدر تعجب سے دیکھا جائے!

لوگ یہ تو چاہیں گے کہ اسلام پھر پہلے کی طرح دُنیا کا سب سے بڑا اور سب سے بھاری اور سب سے نمایاں اور سب سے مرکزی واقعہ بنے مگر ساتھ یہ بھی چاہیں گے کہ اسلامی صورت میں کئے گئے وہ سب اضافے اور وہ سب تبدیلیاں بھی ساتھ قبول کی جائیں جو کہ قرون اولی کے بعد ہوتی رہیں یا پھر جن کی قرون اولی میں مذمت اور مخالفت ہوتی رہی اور جو کہ پھر آخرکار ہماری اس ساری لٹیا کے ڈبونے کااصل اور حقیقی سبب بنیں!

کس قدر تعجب کی بات ہونی چاہئے کہ قبروں اور درگاہوں اور آستانوں پر ہونے والی غیر اللہ کی پرستش کی بابت لوگ یہ سمجھیں کہ شاید یہ ہمیشہ سے اسلام کا حصہ رہا ہے! اور اگر آپ غیر اللہ کی عبادت کے ان مظاہر کے ساتھ وہی رویہ اپنانے کی باتیں کریںجو موسیٰ علیہ السلام نے گوسالہء سامری کے ساتھ اپنایا تھا، اور کیا شک ہے کہ اسلام کی اصل صورت کو دُنیا کے سامنے لے آنے کا یہ بنیادی اور براہ راست تقاضا ہے، تو آپ کے بہت سے ہمدرد اور سمجھدار اس سے روکنے کیلئے آپ کو خود اسلام ہی کی بقا اور ترقی کے واسطے دیں!! شرک کو توحید سے الگ کرنے کی بات ہو تو اس میں یہ امت کی وحدت اور یکجہتی کو پارہ پارہ ہوتا دیکھیں!!! سبحان اللہ العظیم!!!

کس قدر حیرت ہونی چاہئے جب آپ وحدت الوجود کے عقیدے کو یعنی خالق اورمخلوق کو یکجا کر دینے کو رب العالمین کے ساتھ واضح ترین شرک قرار دیں اور اسلام کے چہرے سے اس شرک کی پلیدی کو دور کرنا دین کا ایک بنیادی فرض قرار دیں تو اسکے جواب میں آپ کو قرون اولی کے بہت بعد آنے والی شخصیات کے اقوال اور اشعار کسی مقدس نص کی طرح سنائے جائیں اور پچھلی چند صدیوں میں پیدا ہونے والے بیسیوں یا سینکڑوں بزرگوں اور اکابرین کا نام لے لے کر ڈرایا جائے گویا آپ نے سلف صالحین کی راہ سے انحراف کا ارتکاب کر لیا ہے اور اس کے باعث آپ کی آخرت خطرے میں پڑ چکی ہے!!!

یہ ’ہمہ اوست‘ کانعرہ امت میں آخر کب لگا؟؟؟ کیا یہ مکہ میں لگایا گیا جب رسول اللہ پر قرآن کا نزول ہو رہا تھا اور جب اسلام کے ابدی حقائق دلوں کی لوح اور تاریخ کے صفحے پربیک وقت رقم کئے جا رہے تھے؟ کیا یہ ابوہریرہ یا عائشہ، یا انس یا ابوسعید خدری سے مروی ہے؟ کیا ائمہ اربعہ ودیگر جلیل القدر اتباع تابعین اسی کی تبلیغ کرتے گئے ہیں؟ ’کائنات خدا کی عین یا غیر!‘ یہ بحثیں اس امت میں آخر کب جا کر چھڑیں؟ منطق اور کلام کی جدلیات کیا سلف کی یادگار ہے؟ کیا خیال ہے عمر فاروق اپنے دور خلافت میں کسی کو رب العالمین کی بابت ’عین اور غیر‘ یا ’جوہر اور عرض‘ کے نکتے بیان کرتا دیکھ لیتے تو اس کو کس برتائو کا مستحق جانتے!؟

جن متشابہات کی تفصیل میں پڑنے سے سلف اپنے تمام تر علم اور زمانہء نبوت سے اپنی اس قدر قربت کے باوجود ڈر ڈر کر رہتے تھے، بلکہ وہ اپنے علم اور زمانہ نبوت سے اپنی قربت کے باعث ہی مشابہات کی ٹوہ میں جانے سے ڈرتے تھے، یہ بعد والے پوری جرات اور بڑے اعتماد کے ساتھ اور بڑی بے تکلفی سے متشابہات کی یہ ’گتھیاں سلجھاتے‘! قرآن کے جن مقامات کی بابت سلف اپنے پاس سے ایک لفظ بھی کہنے کا اپنے آپ کو متحمل نہ پاتے یہ اس پر ضخیم جلدوں پر مشتمل تصنیفات لکھ دینے کو بھی کم جانتے! نصوص کی تفسیر میں سلف جہاں خاموشی اور عاجزی سے گزر جانا اپنے لئے عافیت جانتے وہاں یہ (خلف) اپنی نکتہ رسی کے کمالات دکھاتے اور ان موضوعات پر پائے جانے والے ’سب اشکالات‘ دور کر دینے بلکہ قول فیصل صادر کر دینے کا بھی اپنے آپ کو مجاز پاتے! وحی کا ادب، قیل وقال وکثرت سوال سے اجتناب، نصوص تنزیل کے آگے دبے دبے رہنا اور انکا ایک وزن اور ایک ہیبت دلوں پر محسوس کرنا، اللہ اور رسول کے آگے بڑھنے سے ہر دم خائف رہنا اور ’اللّٰہ ورسولہ اعلم‘ کہتے ہوئے ایک راحت، ایک اعتماد اور ایک قناعت محسوس کرنا اور اللہ و رسول کے آگے اس انکساری میں ایک لطف اور اطمینان پانا اور اپنی ساری توجہ ایمان اور جہاد اور اطاعت وفرمانبرداری پر رکھنا.... علم اور ایمان کی وہ ایک مجسم صورت جو ہمیں سلف سے ملتی ہے یہ اس کا ایک بہت ہی امتیازی وصف ہے۔ پہلے والوں کی اتباع اور بعد والوں کی ابتداع.... ان دو تصویروں کا یہ وہ فرق ہے جس کو مسلم ذہن اور مسلم شخصیت کی اس تشکیل نو میں بہت واضح ہونا ہے۔

جہان نو میں ’مسلمان‘ کے اپنی اس آب وتاب سے نمودار ہونے کیلئے جس تیاری اور جن اوصاف کے پائے جانے کی ضرورت ہے اس میں ایک اہم ترین بات یہ ہو گی کہ مسلم تاریخ میں بہت پیچھے چلے جایا جائے اور اپنے وجود اور تشخص کو بالکل ابتدائے اسلام سے برآمد کیا جائے۔ اپنی اصل تصویر ہمیں وہیں ملے گی۔ بعد کی صدیوں کو بھی ضرور پڑھا جائے مگر کہیں پر عبرت نگاہی کے ساتھ۔ کہیں پر سبق آموزی اور کہیں پرناقدانہ بصیرت کے ساتھ اورکہیں پر اسوہ ونمونہ کا تعین کرتے ہوئے۔ کہیں سے کچھ قبول کیا جائے گا اور کہیں پرکچھ مسترد کیا جائے گا۔ کوئی چیز جزوی طور پر رد ہو گی اور کوئی چیز جزوی طور پرقبول۔ اور یہ نگاہ پانے کیلئے، کہ بعد والوں سے کیا لیاجائے اور کیا نہ لیا جائے، اعتماد اسی سلف کے منہج پر کیا جائے گا۔ بعد کی صدیوں کا جائزہ وتجزیہ کرنے کیلئے پیمانہ قرون اولی یعنی صحابہ وتابعین واتباع تابعین سے ہی لیا جائے گا۔ اس کے سوا اپنے پاس کوئی پیمانہ ہے ہی نہیں (فان آمنوا بمثل ماامنتم بہ فقد اھتدوا وان تولوا فانما ھم فی شقاق)[ البقرہ: ١٣٧: ”اگر وہ تم جیسا ایمان لائیں تو ہدایت پائیں، اور اگر منہ موڑیں تو وہ صریح مخالفت میں ہیں“۔] اس پیمانے پر جو قبول ہونے کے قابل ہو اس کو بلامضائقہ لیا جائے گا اور جو رد ہونے کے قابل ہو اس کو بلا تردد اور بلا خوف ملامت مسترد کر دیا جائے گا اور جونظر انداز ہونے کے قابل ہو، اس کو کوئی پروا کئے بغیر نظر انداز کردیا جائے گا۔

گویا اس مسلم شخصیت کو، جس کو کھڑا کرنا ہمارا مقصود ہے، دیکھنا بعد کی صدیوں کو بھی ہے۔ صرف قرون اولی کا مطالعہ ہی نہیں کرنا۔ قرون متاخرہ سے اس کو آنکھیں بند کرکے نہیں گزرنا، جیسا کہ بعض دیندار حضرات ضروری خیال کرتے ہیں۔ تاریخ نظر انداز ہونے کیلئے ہے ہی نہیں خواہ اس کا کوئی دور کتنا بھی حسین اور دلفریب ہو یا کوئی دور کتنا ہی خوفناک اور بدنما ہو۔تاریخ تو ہمیں عالم اسلام ہی کی نہیں عالم کفر کی بھی پڑھنی ہے۔ ہر دور اور ہر تاریخی واقعے کو جانچنے اور تولنے کی صلاحیت پانی ہے۔ تاریخ کا کوئی واقعہ نہیں جس سے مسلمان کو فائدہ نہ ملتا ہو اور جس سے وہ اسباق اور نتائج اخذ نہ کرتا ہو۔ جہاں جہاں سے اس کو جو کام کی بات ملے یہ اس کو پہنچ کر لے گا۔ اس مقصد کیلئے یہ عالم کفر کو بھی دیکھنے اور پرکھنے کا برتہ رکھے گا کیونکہ جانچنے اور ماپنے کا ایک زبردست پیمانہ یہ اپنے پاس رکھتا ہے۔

چنانچہ ہماری اس بات کا کہ مسلم شخصیت کی نگاہوں کا مرکز دور سلف ہی کو رہنا چاہئے، یہ مقصد نہیں کہ بعد کی صدیوں کے اچھے اور برے پہلوئوں کو نگاہ میں کئے بغیر آگے گزر جایا جائے....

البتہ یہ کہ ہم پچھلے سو دو سو سال یا اس سے پہلے کی چند صدیوں پر ہی اپنے ’اکابرین‘ کا سلسلہ ختم کر دیں اور ان کے عقیدہ وفہم کو جانچنے اور پرکھنے کیلئے پیچھے سلف کے دور تک نہ جائیں.... اور یہ کہ امت کے آخری ادوار میں معروف ہوجانے والے ناموں اور سلسلوں کو سلف کے منہج پر پیش کئے بغیر چھوڑ دیں.... اور یہ کہ دور آخر کے بزرگوں نے جو کہ دیا، بغیر یہ دیکھے کہ دور اول کے ائمہ سے اس کی تائید ہوتی ہے یا نہیں بس اسی کو حرف آخر جانیں.... تو اگر یہ کوئی منہج ہے تو وہی منہج ہے جس نے ہمیں یہ دن دکھائے اور جس کے جاری رہنے کی صورت میں وہی ہو گا جو آج ہو رہا ہے۔

اُمت کے اندر بعد میں آنے والوں کے اقوال وآراءکی صحت کو پہلوں کی دی ہوئی کسوٹی پر پرکھنا اور اس کے کسی کھوٹ کو سابقون الاولون کی راہ کے احترام میں رد کرنا اگر کوئی گستاخی ہے تو اتنی سی گستاخی ضرور اس مسلم شخصیت کا حصہ ہو گی جو اپنے اس دور پر خالص اسلام کے زور پہ اثر انداز ہو گی۔ ولا تنسوا الفضل بینکم کسی بھی صاحب فضل کی فضیلت کم کرنا اور کسی کی نیکی اور احسان کو بھلا دینا ہمارے دین کی رو سے سخت معیوب ہے۔ کوئی بزرگ کسی غلطی کا شکار ہو جاتا ہے تو بھی اس کی نیکیوں اور خوبیوں کا برملا اعتراف کیا جائے گا۔ اُمت کا اپنے دور میںاس نے کسی طرح کوئی بھلا کیا ہے تو اس کیلئے دُعائے خیر ضرور ہو گی۔ ہم اس کی نیکیوں کی قبولیت اور غلطیوں کی مغفرت ہو جانے کیلئے برابر دُعاگو رہیں گے اور شدید خواہش رکھیں گے کہ اس نیک بزرگ سے کوئی غلط بات اگر منسوب ہے تو خدا کرے اس سے اس قول کی یہ نسبت ہی ثابت نہ ہو اور لوگوں نے اس پر جھوٹ گھڑ دیا ہو۔ اور اگر کسی غلط بات کی کسی سے نسبت ثابت ہو تو بھی ہم کسی گزر جانے والے کا محاسبہ یا محاکمہ کرنے کو غلط جانیں گے۔ اس بزرگ کے کسی ہم عصر بزرگ نے ہی اس پر اس کی پکڑ کی ہو تو درست ورنہ ہم اپنے آپ کو اس منصب سے فروتر ہی جانیں گے۔ ہم اس کیلئے عذر تلاش کرنے میں بھی کمی نہ رہنے دیں گے.... البتہ یہ کہ ایک ایسی بات جو سابقون الاولون کے منہج کی رو سے غلط اور قابل رد ہے وہ محض بعد کے کسی بزرگ سے نسبت کی بنا پر درست مانی جائے تو عقیدت کی یہ اگر کوئی قسم ہے تو ہم اس کو اختیار کرنے سے لازماً معذرت کریں گے اور اس سے ممانعت کی بھی پوری کوشش کریں گے۔ بعد والوں میں سے نیک اور بزرگ حضرات کا بھی یقینا ہم پر بڑا حق ہے مگر پہلے والوں کا حق یقینا اس سے بڑا ہے۔

شخصیات حق کے ساتھ بڑی ہوتی ہیں۔ مگر ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ شخصیات حق سے بڑی ہو جائیں! حق شناسی اس مسلم شخصیت کا لازمہء اول ہو گا۔ حق سے بڑھ کر اس کو کوئی چیز عزیز نہ رہے گی۔ یہ حق کا منصب ہے۔ حق کو اس کا یہ منصب دے کر ہی دُنیا میں ہم کسی منصب کی اُمید رکھیں گے۔ بلکہ حق تو یہ ہے کہ حق کو اس کا اصل منصب دلانا ہی ہمارا اصل منصب ہے اور ’مسلم شخصیت‘ کا ایک بہت ہی اساسی وصف۔

’مسلم شخصیت‘ ایک ایسی نگاہ رکھنے کا نام ہو گا جو صدیوں کے فاصلے پائے جانے کے باوجود قرون اولی کے فہم اسلام پر مرکوز ہو سکے۔ اس کو وہ صلاحیت پانا ہو گی جو درمیان سے صدیوں کے فاصلے سمیٹ لے اور ہر صاحب فضل کو اس کا حق دیتے ہوئے قرن اول تک یعنی صحابہ کرام اور رسول اللہ تک پہنچے۔ نہ کسی کے ساتھ کمی کرے نہ زیادتی۔ نہ افراط سے کام لے اور نہ تفریط سے۔ ہر دور کے اچھے اور برے پہلوئوں کو صاف پہچان لے۔ نہ کسی کی نیکی کی تحقیر کرے اور نہ کسی برائی کی رعایت۔ البتہ اس کی نگاہوں کا مرکز اور پلٹ پلٹ کر لوٹ آنے کا محل صرف وہی ادوار ہوں جن کی بابت وہ رسول اللہ کو یہ کہتے ہوئے پائے:

ای الناس خیر؟ قال: قرنی، ثم الذین یلونھم، ثم الذین یلونھم [بخاری عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، کتاب الایمان والنذور]

”سب سے بہتر میرے دور کے لوگ ہیں، پھر جو انکے بعد آئیں گے اور پھر جو ان کے بعد آئیں گے“....

بہت ساروں کو، جو اپنے فکر وعقیدے کا رشتہ بس چند عشرے یا چند صدیاں پیچھے تک ہی جوڑ سکتے ہیں، ’بار بار کے حوالے‘ دینے کیلئے جن کو دور آخر کے بعض اکابرین کا ہی نام سجھائی دیتا ہے اور اس سے پیچھے ان کی نظر ہی نہیں جا پاتی.... ان بہت ساروں کو یہاں وہاں سے اٹھا کر دور سلف میں لے جانا اور وہاں سے ان کے فہم وفکر کی ساخت کروا کر ان کو ان کے اپنے دور میں لے آنا اور اپنے دور کے حقائق کا سامنا کروانا .... ’مسلم شخصیت‘ کے ایک بڑی سطح پر نمودار ہونے سے ہماری یہی مراد ہے۔

تواضع، انکساری اور حفظ مراتب کے ساتھ ساتھ حق کو حق اور باطل کو باطل کہنے کی جرات رکھنا اور اس پر لومتہ لائم سے بے خوف ہونا اور خدا لگتی بات کہنا.... علم، تحقیق اور انصاف کی بات کر گزرنا اور خدا لگتی بات ہر حال میں کہہ دینا .... اخلاص نیت رکھتے ہوئے اس معاملے میں صرف خدا سے ڈرنا اور کسی طعنہء ملامت سے نہ ڈرنا اور عاقبت تقوی کیلئے جاننا اس شخصیت کا ایک اہم جزو ہوگا۔

یا ایہا الذین آمنوا اتقوا اللّٰہ وقولوا قولا سدیدا یصلح لکم اعمالکم ویغفرلکم ذنوبکم ومن یطع اللّٰہ ورسولہ فقد فاز فوزاً عظیماً (الاحزاب: ٧٠، ٧١)

”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی سیدھی بات کیا کرو۔ (اس سے) اللہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کر لے اس نے بڑی مراد پالی“۔

یاایہا الذین آمنوا من یرتد منکم عن دینہ فسوف یاتی اللّٰہ بقوم یحبھم ویحبونہ اذلہ علی المومنین اعزت علی الکافرین یجاھدون فی سبیل اللّٰہ ولا یخافون لومتہ لائم ذلک فضل اللّٰہ یوتیہ من یشاءواللّٰہ ذوالفضل العظیم (المائدہ: ٥٤)

”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھرجائے تو اللہ تعالیٰ بہت جلد ایسے لوگوں کو لائے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہو گا، جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہوں گے، جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے۔ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا اور زبردست علم والا ہے“۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قل اللّٰہ اعبد مخلصاً لہ دینی ....

دین کو اللہ کیلئے خالص کرنا دو پہلوئوں سے ہو گا:

ایک یہ کہ نفس کو اللہ کیلئے خالص کرنا۔ ہر دوسرے مقصود سے تجرد حاصل کرنا۔ اس دل میں خدا کے سوا کوئی اورمطلوب نہ رہنے دینا اورکردارمیں اسی بات کی جھلک لے آنا۔ نفس میں خدا کی اطاعت اور فرمانبرداری کو، ممکنہ حد تک، کوٹ کوٹ کر بھر دینا اور اس نفس کو اس کے شر سے اور شیطان کے حظ سے، ممکنہ طور پر، پاک کرنا۔ دینی حقائق کو اس میں گہرا اتارنا اور دینی فرائض کی انجام دہی پر اس کو مامور رکھنا اور خدا کی خوشنودی کیلئے اس کو سرگرم کرنا۔ دوسرے لفظوں میں ’ایمان‘ پر محنت کرنا۔ اس بات کو تزکیہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کیلئے تربیت کا لفظ بھی بولا جاتا ہے ”مخلصین لہ الدین“ ایک قرآنی تعبیر ہے۔ جس کا مطلب عبادت کے سب افعال اور بندگی کے سب حرکات وسکنات کو خدا کیلئے خاص کر دینا اور اس کو غیر اللہ کی عبادت اور بندگی اور پرستش سے پھیر دینا اور انسانی نشاط کا رخ بس ایک اللہ وحدہ لاشریک کی طرف کر دینا اور خدا کے احکامات پر نہایت عاجزی اور فرمانبرداری اور ذمہ داری سے عملدرآمد کرنے پر اپنا پورا زور صرف کر دینا.... اور اس انداز سے خدا کا وفادار بن رہنا ہے۔

اخلاص دین کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ خود ان حقائق کو جو دین کہلائیں اور ان فرائض کو جو دین سمجھے جائیں اور ان جملہ امور کو جنہیں دین اسلام کہا جائے، خالص رکھنا اور ہر قسم کی آلائش اور خلط سے پاک رکھنا۔ خدا کی بندگی دراصل صرف ان بنیادوں پر اور صرف اس طریقے سے اور صرف انہی امور کے ذریعے ہو سکتی ہے جو خود اس نے اپنی شریعت میں مقرر ٹھہرا دیے ہوں اور جو اس نے اپنی نبی پر وحی کے ذریعے نازل فرما دیے ہوں اور جن کی نبی نے صحابہ کو تعلیم دی ہو اور جن کو صحابہ نے ’اللہ کے دین‘ کی حیثیت میں بعد کی نسلوں کو منتقل کیا ہو۔ کچھ تاریخی عوامل کے باعث اب دین کے ان حقائق یا ان فرائض یا دین کے ان امور میں جو تبدیلیاں اور اضافے ہوتے رہے اور اس طریقے سے دین کے ’مواد‘ میں جو کمیاں بیشیاں ہوتی رہیں اور اس میں اس وجہ سے جو ناخالص عناصر پائے گئے انکو اصل دین سے الگ کرنا، کھرے کو کھوٹے سے علیحدہ کرنا، بدعات اور انحرافات کو دور کرنا اور یوں اسلام کااصل چہرہ برآمد کرنا.... تاکہ خدا کو صرف وہی چیز پیش کی جائے جواس کی مرضی اور منشا کے موافق ہو اور تاکہ خلوص دل سے ہی سہی آدمی خدا کو کوئی ناخالص چیز پیش نہ کر بیٹھے .... یہ بھی دین کو اللہ کیلئے خالص کرنا ہے۔

چنانچہ دین کو اللہ کیلئے خالص کرنے کے یا یوں کہیے دین (عبادت اور بندگی) کودرست کرنے اور ایک شخص کو اسلام کا مطلوب فرد بنانے کے یہ دو محور ہیں جو اختصار کے ساتھ اوپر بیان کئے گئے۔ اول الذکر کیلئے عرب کے بعض تحریکی حلقوں میں ”التربیہ“ کا لفظ رائج ہے اور ثانی الذکر کیلئے ”التصفیہ“ کا۔ بنیادی طور پر یہ اصطلاح موجودہ دور کے ایک بہت بڑے عالم اور محدث شیخ ناصر الدین البانی کی ہے جو آج کے اس دور کیلئے اپنے تجویز کردہ تحریکی منہج کو دو لفظوں میں بیان کیا کرتے تھے: ”التصفیہ والتربیہ“

”التصفیہ“.... یعنی دین کے حقائق اور دین کے مندرجات اور دین کے ’مواد‘ کو صاف ستھرا کرنا اور باطل سے چھانٹ کرجدا کرنا۔ ”التربیہ“.... یعنی نفوس کو خالص کرنا اور انکو دین پر علی وجہ المطلوب عمل پیرا ہونے کے قابل بنانا۔ نفوس کو بندگی کی مشقت کا عادی بنانا اور اس پورے عمل سے خدا کو ان کا مطلوب ومقصود بنانا۔

شیخ البانی کی یہ اصطلاح ”التصفیہ والتربیہ“ اب کئی تحریکی حلقوں میں معروف ہو گئی ہے۔ بنیادی طور پر اس دور کیلئے جس اسلامی منہج کو دعوتی اور تحریکی عمل میں اختیار کیا جانا ہے اس کی یہ ایک بہترین تلخیص ہے۔

مسلم ہستی کو ان معاشروں کا پھر سے ایک اہم ترین اور زندہ ترین واقعہ بنا دینے کیلئے یہ منہج ناگزیر ہے۔ اس سے محتصر تر راستہ ہماری نظر میں اور کوئی نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام کا ایک تاریخی تسلسل اور مسلم امت سے ایک سماجی وابستگی .... مسلم شخصیت کے یہ بھی دو اہم وصف ہیں۔

نہ صرف اپنے فکری اور نظریاتی وجود کیلئے بلکہ اجتماعی وجود کیلئے بھی.... قرون اولی میں واپس جانا اور اپنی ’ہستی‘ کو دور سلف سے برآمد کرانا۔ یہ دین اسلام کا فہم درست رکھنے کیلئے بھی ہے اور اپنا ایک تاریخی قدوقامت بنانے کیلئے بھی.... اگرچہ اس پر پیچھے کچھ بات ہم کر آئے ہیں۔

مسلم شخصیت ایک بہت ہی اصیل شخصیت ہے۔ اس کی جڑیں بہت گہری اور پیچھے بہت دور تک جاتی ہیں۔ ’ہدایت‘ کی تاریخ جتنی پرانی ہے اس شخصیت کی عمر بھی اتنی ہے۔ امت اسلام بذات خود اس کرہء ارض پر خدا کی خالص بندگی کا ایک تاریخی تسلسل ہے۔ پھر رسول اللہ کی بعثت سے تو اس شخصیت نے کرہء ارض پر ایک بالکل ہی نیا اور ایک زوردار روپ دھارا ہے۔ مسلم شخصیت اپنی درست ترتیب سے اور اپنے پورے اوصاف کے ساتھ وجود پا لے تو پھر اس شخصیت کا حامل فرد اپنی عمر کا حساب سالوں میں نہیں بلکہ صدیوں میں کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا فرد ہے جس کی عمر کم از کم چودہ سو سال ہے اور جس کو ابھی صدیوں زندہ رہنا ہے۔ یہ اپنے آپ کو ایک ایسی ملت میں گم کرتا ہے جو نہ صرف یہ کہ مجسم ہدایت ہے بلکہ صدیوں پر محیط ہے۔ اس کیلئے ’شخصیت‘ بنانا یہ ہے کہ یہ عظیم الشان ملت اب اس ’فرد‘ میں ڈھل جائے۔ ’تربیت‘ کی یہ ایک زبردست جہت ہے۔ شعور اور وجدان کی اس کیفیت کو انسان کے اندر سے برآمد کرنا تربیتی عمل کا ایک اہم حصہ ہے۔

تاریخی تسلسل کے ساتھ امت اسلام سے اس شخصیت کی پھر ایک سماجی وابستگی ہے۔ شخصیت کی یہ جہت بھی ایک فرد کو بہت بڑا کر دیتی ہے۔ امت سے وابستگی.... گویا یہ ایک ہی فرد ایک ارب نفوس پر مشتمل ہے! ایک طرف یہ صدیوں سے یہاں بس رہا ہے اور ابھی صدیوں اس کو یہاں بسنا ہے۔ دوسری طرف یہ زمین کے ایک بڑے حصے کا مالک ہے اور پوری دھرتی پرنظر جمائے ہوئے ہے۔ یہ ایک ایسا فرد ہے جو کئی براعظموں میں بیک وقت رہتا ہے اور زمین کے باقی حصوں میں اپنے وجود کو پھیلانے کی مسلسل فکر کرتا ہے!

امت اسلام سے ایک تاریخی اور سماجی وابستگی اگر ایک تربیت کانتیجہ ہو تو وہ انسان کی شخصیت میں یہی تبدیلی لے کر آتی ہے۔ اندازہ کر لیجئے ’شخصیت‘ کتنی بڑی ہو جاتی ہے۔ کہاں ایک نفس پر مشتمل ایک فرد اور کہاں ایک ارب سے زائد نفوس پر مشتمل ایک فرد۔ کہاں چند سال سے اور چند سال کیلئے پایا جانے والا ایک شخص اور کہاں صدیوں سے اور صدیوں کیلئے رہنے والا ایک شخص۔ کہاں ایک ایسا شخص جو بس حالات کے سہارے جی رہا ہو اور درخت سے ٹوٹنے والے کسی پتے کی طرح ہوا کے دوش پر اڑتا پھر رہا ہو اور کہاں ایک ایسا شخص جو ایک صدا بہار درخت کی صورت زمین میں جڑیں گاڑ کر کھڑا ہو اور شاخیں آسمان سے باتیں کرتی ہوں (کشجرہ طیبہ اصلھا ثابت وفرعہا فی السماءتؤتی اکلھا کل حین باذن ربھا) [سورہ ابراہیم: ٢٤، ٢٥: ”جیسے ایک اچھی ذات کا درخت، جس کی جڑ زمین میں جمی ہوئی ہے اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں، ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے اپنے پھل دیتا ہے“۔]اور جو کہ حالات کے سہارے نہیں بلکہ استحقاق (ميرٹ) کی بنیاد پر یہاں ابتدائے انسانیت سے لے کر ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ کیلئے ہے اور خدا پر اعتماد کے سہارے کھڑا ہے!

ایک انسان کا اپنی ذات میں بڑا ہونا ہی حقیقت میں بڑا ہونا ہے۔ اسلامی تربیت انسان کے احساس اور وجدان کو ’امت‘ میں گم کرکے اس میں سے ایک اتنا ہی بڑا انسان نکال لاتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو زمان اور مکان کو وسعتوں میں دور دور تک پھیلا ہوا پاتا ہے۔ شخصیت کا یہ حجم ہو اور پھر اس میں حق کی طاقت بول رہی ہو! یہ ایک بہت ہی منفرد ہستی ہو جاتی ہے۔ ایسی ہستی کے حامل بہت تھوڑے افراد بھی بہت ہوتے ہیں!

تاریخ اسلام اس شخصیت کی عمر اورعالم اسلام اس کا گھر ہے جسے یہ مسلسل توسیع دینے کی فکر میں رہتا ہے! اپنے دین سے یہ شخصیت پا کر پھر ایک فرد تاریخ کے ہر اہم واقعے کو گویا اپنے ساتھ گزرا ہوا ایک واقعہ سمجھتا ہے۔ ایک عام فرد کو بھی اپنی زندگی کے بہت سے واقعات یاد نہیں رہتے۔ بہت سے واقعات اس کے حافظے سے محو ہو جاتے ہیں۔ کچھ واقعات نیم یاد ہوتے ہیں اگرچہ ان کی تاریخیں اور سال بھول جاتے ہیں۔ کچھ واقعات اور زندگی کے کچھ اہم موڑ اس کے ذہن میں البتہ اس طرح تازہ ہوتے ہیں گویا کل کا واقعہ ہے۔ تاریخ اسلام کی بابت اس شخصیت کے حامل فرد کا بھی یہی معاملہ ہوتاہے۔ اس کو اپنی ’عمر‘ ___ یعنی تاریخ اسلام ___ کے اہم واقعات اپنی ذاتی سوانح کی طرح ازبر اور ہر وقت اس کے ذہن میں تازہ رہتے ہیں۔ دوسری طرف اس کے اپنے دور میں عالم اسلام کے ساتھ بیتنے والا ہر اہم واقعہ گویا اسی کے ساتھ بیت رہا ہوتا ہے۔ تاریخ اسلام میں ہر اہم موقعہ پر اور عالمِ اسلام میں ہر اہم جگہ پر گویا یہ اپنے آپ کو موجود پاتا ہے اور اس موقعہ یا اس مقام کے حسب حال اپنی ایک ذہنی کیفیت کو محسوس کرتا ہے۔ نہ اس کی خوشیاں پھر کوئی عام سی خوشیاں ہوتی ہیں اور نہ عام سے سانحے اس کیلئے سانحے کہلاتے ہیں۔ فخر کرنے کی بات ہو تو اس کیلئے یہ عظیم الشان بنیادیں اپنے پاس رکھتا ہے۔ دُکھ اور افسوس کا معاملہ ہو تو اس کی بھی بڑی بڑی وجوہات کا اس کو سامنا ہوتا ہے۔ نہ اس کی خوشی ایک عام انسان کی خوشی ہے اور نہ اس کا صبر وحوصلہ کوئی عام سا حوصلہ۔ نہ اس کی امیدیں اور آرزوئیں چھوٹی اور نہ اس کے اندیشے کسی ’چھوٹے آدمی‘ کے اندیشے۔

”کونوا مع الصادقین“ [سورہ توبہ: ١١٩: ”سچے لوگوں کے ساتھ ہو رہو“۔]کا یہ ایک براہ راست نفسیاتی اور ایمانی اور وجدانی اثر ہوتا ہے کہ آدمی اہل ایمان کے ساتھ زمان اور مکان کی حدود سے نکل کر شریک ہوجاتا ہے۔ یوں وہ اپنی اس ایمانی اور نفسیاتی تربیت کے بقدر اہل ایمان کے ساتھ ہر جگہ پایا جاتا ہے!

لقد ترکتم بالمدینہ رجالاً ماسرتم من مسیر ولا انفقتم من نفقہ، ولا قطعتم من وادٍ الا وھم معکم فیہ، قالوا: یا رسول اللّٰہ وکیف یکونون معنا وھم بالمدینہ؟ قال: جلسھم العذر (مسند احمد عن انس رضی اللہ عنہ)

”پیچھے مدینہ میں کچھ ایسے مرد صفت لوگ باقی ہیں کہ تم نے (راہ خدا میں) جو فاصلہ بھی طے کیا اور جو کچھ بھی خرچ کیا اور (سعی جہاد میں) جو وادی بھی پار کی وہ ہرجگہ تمہارے ساتھ ساتھ رہے۔ صحابہ نے عرض کی: وہ ہمارے ساتھ کیسے جبکہ وہ مدینہ میں ہیں؟ آپ نے فرمایا: ان کو کوئی عذر مانع رہا“۔

یہی وجہ ہے کہ اس شخصیت کا حامل فرد تاریخ میں اوراپنے زمانے کے اندر اسلام کے حوالے سے اہم سمجھے جانے والے ہر موقعے اور ہر جگہ پر، جسمانی طور پر نہ بھی سہی نفسیاتی اور وجدانی طور پر،اپنے آپ کو شریک پاتا ہے۔ ماضی اور حال کے اچھے اور برے واقعات گویا اسی کے ساتھ گزرے ہیں۔ تاریخ میں قرون اولی کے ابواب سے یہ ایک خاص ذہنی اور نفسیاتی کیفیت کے ساتھ گزرتا ہے۔ رسول اللہ کی سیرت پڑھتے ہوئے تو گویا یہ آپ ہی کے آس پاس کہیں پایا جاتا ہے۔ رسول اللہ کی ہجرت میں گویا یہ ساتھ ہوتا ہے اور اس کے دل کی نبض تیز ہو جاتی ہے۔ مدینہ میں رسول اللہ کا استقبال کرنے والوں میں گویا یہ کھڑا ہوتا ہے۔ غزوات میں اس کا پریشانی سے برا حال ہو جاتا ہے اور رسول اللہ کیلئے یہ شدید طور پر فکر مند ہو جاتا ہے۔ صحابہ وتابعین اور اتباع تابعین کے دور سے یہ ایک خاص وجدانی اور نفسیاتی کیفیت کے ساتھ گزرتا ہے اور اس کی ’یادداشت‘ میں یہ زمانہ گویا گھومتا ہی رہتا ہے۔ بعد کے ادوار سے یہ ذہن کی اور کیفیات سے گزرتا ہے۔ ملی جلی کیفیات اور محسوسات کے ساتھ یہ ہر زمانے سے اپنی کچھ نہ کچھ ’یادیں‘ وابستہ رکھتا ہے۔

دور اول کی اسلامی فتوحات گویا یہ اپنا ہی دیکھا ہوا ایک واقعہ سمجھتا ہے۔ اندلس، ہند اور ترکستان قلمرو اسلام میں آتے اس کو اپنے سامنے کا ایک واقعہ دکھائی دیتے ہیں۔ خالص اسلام کے عالم اسلام سے پسپائی کے عمل کو یہ اپنی صحت پہ گزرا ہوا ایک سانحہ دیکھتا ہے۔ اسلام کی جہاں جہاں اور جیسے جیسے کوئی ترقی ہوئی یہ اس کی یادداشتوںکے خوش گوار حصے کی طرح اس کے لاشعور کا حصہ بن جاتا ہے۔ مسلم سپین عیسائی وحشیوں کے پاس گیا گویا اس کا دل نکل گیا اور یہ اس کو واپس لینے کیلئے دن گنتا ہے۔ بیت المقدس پہلی بار صلیبیوں کے ہاتھ اور دوسری بار صہیونیوں کے ہاتھ لگا تو یہ اس کیلئے ایک ذاتی نوعیت کا واقعہ بن جاتا ہے۔ بغداد پہلی بار تاتاریوں اور دوسری بار امریکیوں کے پائوں تلے روندا گیا تو یہ محسوس کرتا ہے کہ بغداد میں دوبار یہ خود روندا گیا ہے۔ مسلم ہند کا کفر کے قبضے میں جانا مسلسل اس کو لگتا ہے کہ اس کی کوئی خاص چیز ہاتھ سے چلی گئی ہے۔ عالم اسلام پر کفر کی حکمرانی اس کو اپنے گھر پر قبضہ لگتا ہے۔ بہت سوں کے ساتھ اس کو بہت سے حساب کرنے اور بہت سے قرضے چکانے ہیں۔ خود اپنے ساتھ گزرے ہوئے واقعات کوئی کیسے بھول سکتا ہے!؟

اسلام سے ایک تاریخی اور سماجی وابستگی اتنا ہی بڑا فرد پیدا کرتی ہے۔ اتنا بڑا انسان جو پوری زمین پر چل سکتا ہو اور صدیوں جی سکتا ہو.... اور صدیوں کے حساب رکھ سکتا ہو؟

رسول اللہ کو قرآن مجید میں سراج منیر کہا گیا ہے۔ سورج پوری زمین پہ روشنی کرتا ہے۔ رسول اللہ پوری زمین کیلئے نور ہیں۔ سورج کی روشنی جب اور جہاں نہیں پہنچتی رسول اللہ کی رسالت تب اور وہاں کیلئے بھی ہے۔ آپ کے مشن پر ایمان رکھنے والے انسان کے ذہنی افق کو بھی اتنا ہی وسیع ہونا ہے جتنی کہ اس مشن کی پہنچ۔ یہ واقعتا ایک عالمی شخصیت کا حامل فرد ہوتا ہے۔ یہ زمان اور مکان میں اپنے ایمان اور اپنے مشن کی بنیاد پر ایک وسعت پیدا کرنا جانتا ہے اور چھوٹی چھوٹی حدوں سے تو یہ حد درجہ جھنجھلاہٹ محسوس کرتا ہے۔

اس ایسی آفاقی شخصیت کو ’پاکستانی‘ بنانا یا اس کو ’سعودی‘ یا ’اماراتی‘ یا ’افغانی‘ یا ’بنگلہ دیشی‘ شخصیت کا جامہ پہنانا اس کے ساتھ ایک بڑی تضحیک ہوگی۔

قومی ریاست nation state، جیسا کہ سب جانتے ہیں، محض کوئی انتظامی عمل نہیں یہ موجودہ دور میں ’انسان‘ کی تقسیم اور ’انسان‘ کی پہچان کا ایک باقاعدہ فلسفہ ہے۔ یہ محض کسی جگہ کا ’سکونتی‘ ہونا نہیں بلکہ یہ تشخص کی ایک باقاعدہ بنیاد ہے۔ اس تشخص کے ایک حصے کے طور پر گو ’مذہب‘ کو بھی تسلیم (ريكگنائز) کیا جاتا ہے مگر ’دین‘ نہیں بلکہ ’مذہب‘ کے طور پر اور ’کل‘ نہیں بلکہ ’حصے‘ کے طور پر! یعنی ایک ایسی عظیم ہستی جو اس ’قومی ہستی‘ سے زمان اور مکان کے لحاظ سے بھی اور عقیدہ حقانیت کے اعتبار سے بھی ہزاروں لاکھوں گنا بڑی ہے وہ اس اپنے سے چھوٹی چیز میں سمائے اور اس کا بھی محض حصہ بن کر رہے.... محض حصہ!!!

تاہم اس موضوع پر تفصیل سے بات کرنے کا یہ مقام نہیں۔ [تفصیل کیلئے ملاحظہ فرمائیے ایقاظ کے ایک گزشتہ شمارہ میں شائع ہونے والا مضمون: ’قومی ریاستیں یا دارالاسلام؟‘]

ایک اتنی طریق deep-rooted شخصیت کی شان سے یہ فروتر ہو گا کہ اس کی پیدائش سن انیس سو کچھ میں مانی جائے یا پھر اس کو آج کی اس پس استعمار دنیا (پوسٹ كولونيلسلٹ ورلڈ) کی ’آزاد قوموں‘ میں سے ’ایک قوم‘ منوا لانے کے واقعہ کو بار بار حیرت، خوشی اور بے یقینی سے دیکھا جائے اور سند کے طور پر اس کو اقوام متحدہ کی اس اپاہج ’عالمی برادی‘ کی عضویت دی جانا فخر کی بات ہو!

صدیوں پر حاوی اور براعظموں پر پھیلی اس خوددار موحد شخصیت کو ’پاکستانی‘ یا ’ترکی‘ یا ’سعودی‘ یا ’بنگلہ دیشی‘ یا ’کویتی‘ تشخص کا پابند کرنا ویسا ہی ہو گا جیسا شیر کو چڑیا گھر میں رکھا جانا جہاں اس کا شیر ہونا اس کیلئے فخر کی بات نہیں بلکہ عار بن جاتا ہے!

یہ مسلم شخصیت جب ایک علم اور تربیت کا نتیجہ بن کر ___ کسی بڑی سطح پر ___ نمودار ہو گی تو یہ اپنے ساتھ ایسا کوئی مذاق کئے جانے کی ہرگز اجازت نہیں دے گی.... بلکہ کسی کو اس کے ساتھ یہ مذاق کرنے کی جرات بھی نہیں ہوگی۔ خدا نے اس کا بڑا رعب رکھا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ دُنیا کے بیشتر دریوزہ گر اس مسلم شخصیت کے کسی بڑی سطح پر نمودار ہو جانے سے ہی خائف ہیں کہ انکے خیال میں اس شخصیت کے میدان میں آجانے سے الفاظ اور القاب اور بیانات اور ’دفعات‘ اور بلوں، شقوں اور ’قراردادوں‘ سے کھیلنے کا دور جاتا رہے گا۔ لوگ اس شخصیت سے حقائق پر اصرار کرنا سیکھ لیں گے۔ اس شخصیت کے ہاتھ میں اس وقت دُنیا کا کوئی ملک نہیں مگر دُنیا کے سب طاغوت اسی سے خائف ہیں۔ یہ ایک ایسی شخصیت ہے جو کوئی آدھی دُنیا کے حقوق ملکیت تو پہلے سے پاس رکھتی ہے اور باقی آدھی دُنیا کیلئے گلوبلائزیشن کے اس دور میں یہ وہ کچھ اپنے پاس رکھتی ہے کہ اس کو وہاں بھی شاید ہاتھوں ہاتھ ہی لیا جائے۔

یقین کیجئے یہ دُنیا ایک ہوتے ہوتے جہاں تک پہنچ گئی ہے، اور پچھلی دو تین صدیوں میں تو مغرب نے ہی اس امر میں اس کی بہت خدمت کی ہے، کہ اب جب یہ مسلم موحد شخصیت دوبارہ اٹھی اور اس کو ان شاءاللہ اٹھنا ہے، تو یہ دُنیا کا اور تاریخ کا ایک منفرد ترین واقعہ ہو گا۔ دُنیا شاید ہر جگہ محمد کے پھریرے دیکھے گی۔

.... بس ذرا صبر!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ ’مسلم ہستی‘ یا یہ ’اسلامی شخصیت‘ جس قدر بڑی ہے اس کا کچھ اندازہ پیچھے ہم کر آئے ہیں۔ اس ہستی کو ہر مسلمان میں آنا ہے۔ اس شخصیت کو امت کے ہر فرد میں ڈھلنا ہے۔ اسلام کا مطلوب فرد اسی شخصیت کا حامل فرد ہو گا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اتنی بڑی شخصیت ___ جس کا کچھ حال پیچھے ہم جان آئے ہیں ___ ایک ’تنظیم‘ یا ایک ’انجمن‘ میں بھی سمانے والی چیز نہیں۔

تنظیموں یا انجمنوںکے وجود سے ہمیں کوئی شکایت نہیں۔ یہ اسلام کے بعض فرائض کی اس دور میں عملی ادائیگی کی ایک اجتہادی صورت ہے جس کا پایا جانا یقینا مستحسن ہے مگر یہ کہ ’تنظیم‘ کسی انسان کا تشخص اور پہچان بھی بنے، ’تنظیم‘ کسی انسان کی ذہنی اور وجدانی وابستگی کا نمایاں تر محل بھی ہو، ’تنظیم‘ لاشعور میں کسی انسان کیلئے اس کی ’عمر‘ اور ’قامت‘ بھی ہو.... تو یہ بہرحال درست نہ ہو گا۔ تنظیم کا ایک انسان کیلئے کچھ فرائض کی ادائیگی کا عملی ذریعہ ہونا اور محض ایک وسیلہ ہونا حرج کی بات نہیں بلکہ مستحسن ہے کہ یہ انسان کی ایک شرعی ضرورت کو پورا کرنا ہے مگر تنظیم ہی اس کی شخصیت کا عنوان ہوجائے یہ بہرحال ناقابل قبول ہے۔ ایک ایسی تنظیم جو واقعتا کسی بلند مقصد کیلئے بنی ہے اس کی تو اپنی کوشش ہونی چاہئے کہ ’انسان‘ پر اس کی کم از کم چھاپ نظر آئے، کہ خدا نے ’انسان‘ کو ”احسن تقویم“ میں پیدا کیا ہے.... اور یہ کہ ’انسان‘ کی شخصیت کے اندر وہ خود زیادہ سے زیادہ پس منظر میں چلی جائے۔

ہم سمجھتے ہیں ایک انسان کی شخصیت میں ’تنظیم‘ کو یا کچھ ’قائدین‘ یا کچھ ’بزرگوں‘ کو نہیں بولنا چاہئے۔ انسان کی شخصیت میں جس چیز کو بولنا ہے وہ کچھ بہت ہی برگزیدہ حقائق ہیں جن کا مصدر وحی ہے اور رسول اللہ کی ذات اور شخصیت۔ یا پھر اس شخصیت میں خود اس کے اپنے آپ کو بولنا ہے اور یہ بھی بہت ضروری ہے۔ اجتماعی پہلو سے اس شخصیت کی قامت ’امت‘ سے کم ہرگز ہرگز نہیں ہونی چاہئے۔

بعض تنظیموں کی بابت دیکھنے میں آیا ہے کہ ’انسانوں‘ کو تنظیمی اثاثہ جات ثابت کر رکھنے کا اتنا پکا بندوبست کرتی ہیں کہ آدمی کے سینے پر ہر دم اسی کا بیج نظر آئے۔ گاڑی پر نام پینٹ کرنے اور سینے پر بیج لٹکانے میں شاید ہی کبھی فرق کیا گیا ہو! ہر جگہ ’اپنا نشان‘! پنسلوں کاپیوں سے لے کر انسانوں تک پر ’نام‘ کی مہر لگانے کا ایک عام رواج ہے۔ ہر چیز کی پہچان اب ’اسٹکر‘ بن گئی ہے!

بہت سی جگہوں پر انسانی فوٹو اسٹیٹس تیار کرنے کاکام ہوتا ہے۔ فرفر ایک سی عبارتیں، ایک سے میکانکی انداز، ایک سے بیان.... غرض متعدد طریقوں سے انسانی تنوع اور انسانی انفرادیت اور انسانی اصالت کو زیادہ سے زیادہ ختم کر دینے کی کوشش صاف ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ یہاں تک کہ عام معاشرے میں رہتے ہوئے بھی، نہ کہ کسی خاص فوجی ضرورت کے پیش نظر، انسانوں کو کسی نہ کسی انداز میں یا کم از کم بھی علامتی حد تک وردی میں رکھنا مناسب خیال کیا جاتا ہے۔ یہ فرد پر اپنا زیادہ سے زیادہ حق جتانا ہے۔ یہ فرد کو زیادہ سے زیادہ ’اپنی‘ چیز بنا رکھنا ہے جبکہ یہ امت کی چیز ہے، جو کہ بہت بڑی ہے، نہ کہ کسی کی شخصی یا گروہی ملکیت اور جبکہ اس پر صرف اللہ اور رسول کا حق ہے.... ’اللہ اور رسول‘ دو ایسے لفظ جو انسان کی شخصیت کے شایان شان ہو سکتے ہیں اور جن کا پٹہ گلے میں ڈالنے سے انسان کی شخصیت کم نہیں بلکہ بڑی ہوتی ہے بلکہ اسی سے انسان انسان بنتا ہے۔

غرض ’شخصیت‘ کو جکڑنے کے متعدد انتظامات یہاں عمل میں لائے جاتے ہیں اور غالباً اس کو ’شخصیت سازی‘ بھی سمجھا جاتا ہے!

حقیقت یہ ہے کہ زمان اور مکان کی چھوٹی چھوٹی اکائیوں کا پابند ہو جانا ’انسان‘ کا چھوٹا ہو جانا ہے۔ ہمارے دین نے انسان بڑا کرنے کا بہت زیادہ خیال رکھا ہے۔ ’انسان‘ کے شایان شان جو شخصیت ہو سکتی ہے اس کو پیدا کرنے کا ہمارے دین میں پورا پورا انتظام ہے۔ خواہ وہ ان حقائق کے اعتبار سے ہو جو اس شخصیت میں بطور ’مواد‘ بھرے جائیں گے اور خواہ وہ زمان اور مکان کے وہ افق ہوں جنہیں اس شخصیت کو نگاہ میں رکھنا ہو گا۔ ہم سمجھتے ہیں اپنے دین کی اس خاصیت سے ہمیں بھرپور حظ اٹھانا چاہئے۔ یہ دین اپنے مطلوب حجم کی جس شخصیت کو پیداکرے گا وہی اپنے دور پہ اثر انداز ہونے کی قدرت رکھے گا۔ ہم سمجھتے ہیں اپنے دین سے لے کر اتنا ہی بڑا انسان ہم اپنے دور کو فراہم کر سکتے ہیں۔ ہمارا دین بلاشبہ اس بات پر طاقت رکھتا ہے مگر ’طاقت‘ کی افزودگی بہرحال ایک انسانی عمل ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امت سے سماجی وابستگی مسلم شخصیت کا ایک اہم وصف ہے۔ پوری امت گویا ایک ہی فرد کے وجود میں ڈھل جاتی ہے۔ اپنے وجود کا ادراک کسے نہیں ہوتا۔ اپنی صحت اور تندرستی کا خیال کسے نہیں ہوتا۔ اپنی بقا کی فکر کون نہیں کرتا۔ ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کاجذبہ کس میں نہیں ہوتا۔ یہ دین پہلے اس انسان کو بڑا کرتا ہے اور اسے ’امت‘ کی سطح پر لے آتا ہے جس کو پوری زمین اپنے نیچے نظر آتی ہے پھر اس میں زندگی کی لہر دوڑاتا اور ترقی کا جذبہ بھرتا ہے۔ اب جبکہ یہ ایک فرد نہیں رہا بلکہ یہ ایک امت میں ڈھل چکا ہے.... اب اس کا اپنے وجود کا ادراک کرنا، اس کا اپنی صحت اور تندرستی کا خیال اور اپنی بقا کی فکر کرنا اور اس کے اندر اب ترقی کا ایک جذبہ موجزن ہونا ایک ایسے فرد سے، جو محض اپنی ذات یا اپنے خاندان یا اپنے ملک یا اپنے گروہ کیلئے جیتا ہے، بے انتہا مختلف ہو جاتا ہے۔

یہ فرد جو پوری امت کو اپنا وجود سمجھتا ہے جب ’اصلاح‘ کیلئے کوئی قدم اٹھاتا ہے تو گویا وہ اوروں کا نہیں اپنے ہی وجود کا تحفظ کرتا ہے۔ مسلم معاشروں میں بدعات وانحرافات اور فسق وفجور کے خاتمہ کی جب یہ سعی کرتا ہے اور یہاں کی سماجی خرابیوں اور پسماندگی کے مادی ومعاشرتی اسباب کو یہ دور کرتا ہے تو گویا یہ اپنے ہی وجود سے کوئی کانٹا چنتا اور اپنی ہی راحت کا سامان کرتا ہے۔ اس کا دعوت دینا، اس کا امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکی سرگرمیوںمیں مصروف ہونا، اس کا باطل کی سرکوبی کرنا اور گمراہی کے آڑے آنا ایک ایسے شخص سے بہت مختلف ہوتا ہے جو ’امت‘ کو اپنی ’جماعت‘ میں لے آنے یا ’ملت‘ کو اپنے ’فرقے‘ میں فٹ کرنے کے مشن پر ہو یا جو اپنے مناظروں سے ’دوسروں‘ کو لاجواب کر دینے کی تاک میں ہو۔ اس کے لئے امت اس کے اپنے وجود کا نام ہے یہاں ’دوسرے‘ اس کیلئے پائے ہی نہیں جاتے۔ یہ تو اس کے اپنے وجود کا تحفظ ہے اور اپنے وجود کو برقرار رکھنے کا عمل۔ یہ اس کی اپنی ہی تندرستی کا انتظام ہے۔ کوئی کڑوی دوا دی جانا ناگزیر ہے تو اوروں سے پہلے اس کی کڑواہٹ کو یہ خود محسوس کرتا ہے۔

ایک غایت درجہ کی ہمدردی.... اپنائیت.... قربت.... ایثار.... اور وحدت ہے جو اس شخصیت کا حامل فرد پوری امت کے ساتھ محسوس کرتا ہے (الدین النصیحہ قلنا: لمن؟ قال: للّٰہ ولکتابہ ولرسولہ ولآئمتہ المسلمین وعامتھم)[صحیح مسلم عن تمیم الداری: ”رسول اللہ نے فرمایا: ”دین خیر خواہی کا نام ہے“ ہم نے عرض کی کس کیلئے خیر خواہی؟ فرمایا: اللہ کیلئے، اس کی کتاب کیلئے، اس کے رسول کیلئے، مسلم حکمرانوں کیلئے اور عامہ المسلمین کیلئے“۔] امت کے وجود کو تنزل اور انحطاط اور بربادی کے اسباب سے بچانا اس کے لئے اپنی جان بچانے کے مترادف ہے۔ یہاں تک کہ امت کا کوئی فرد، تمام تر اقامت حجت کر لی جانے کے بعد بھی، شرک یاکفر کے کسی فعل پر ہی مصر ہو اور علمی بنیادوں پر اس کی تکفیر ہونا ہی ناگزیر ہو.... تو یہ اس کیلئے ایسا ہی ہے گویا یہ اپنا باقی وجود سلامت رکھنے کیلئے اپنے ہی جسم کا کوئی عضو کاٹ کر پھینک رہا ہے۔

’عامہ المسلمین‘ گویا اس کا اپنا بوجھ ہیں۔ ان کے بغیر وہ خود بھی کہیں کا نہیں۔ ’امت کا حصہ‘ ہونے اور سمجھے جانے کا یہ ایک لازمی تقاضا ہے۔ بس اپنے آپ کو یا اپنے گنے چنے اصحاب کو یا خاص اپنے ’ہم مسلکوں‘ کو ہی ’امت‘ جاننا بربادی کا شاخسانہ ہے۔ ’دوسرے جائیں جہاں جاتے ہیں‘ یا یہ کہ ’دوسرے تو برباد ہوئے کہ ہوئے‘ .... عامہ المسلمین کی بابت یہ انداز فکر بے انتہا مہلک ہے اور وہ فرد جو اپنے اجتماعی وجود کو اپنی امت سے مربوط جانتا ہے ہرگز اس رویے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

اذا قال الرجل: ھلک الناس فھو اھلکھم [صحیح مسلم عن ابی ھریرہ، کتاب البر والصلہ والآداب]

”جب آدمی کہے لوگ برباد ہوئے تو وہ سب سے بڑھ کر برباد ہوا‘۔

اپنی علمی، فکری اور نظریاتی انفرادیت کو قائم رکھتے ہوئے بھی آپ یہاں کے مسلم معاشروں کا سماجی اور شعوری طور پر حصہ بن کر رہ سکتے ہیں۔ لوگوں کی خوشیاں آپ کی خوشیاں اور لوگوں کے دکھ آپ کے دکھ۔ ’عقیدہ درست کرنے‘ کی یہ شرط نہیں کہ آدمی مردم بیزار بن کر رہے۔ لوگوں کے معاملات میں دلچسپی نہ لے اور روزمرہ مسائل کے حل کے معاملے میں معاشرے کے اندر اپنے آپ کو کسی کردار کے اداکرنے کا روادار نہ جانے۔

یہاں کے بعض دینی طبقوں کو یہ یاد دلایا جاتا رہنا بے حد ضروری ہے کہ یہاں ان کے اردگرد میں ’کافر‘ نہیں بستے۔ یہ ان معاشروں میں تقریباً تقریباً ویسے ہی رہتے ہیں جیسے ایک مسلمان سویڈن یا ڈنمارک میں رہے یا یہودیوں کے کسی محلے میںزندگی گزارے! بس اپنے کام سے کام رکھا، اپنے ’ہم مذہبوں‘ سے ہی کل سروکار جانا اور کبھی کبھار کسی ’دوسرے‘ کو بھی ’مسلمان‘ کرلیا! معاشرے کے ساتھ بس ’دنیاوی معاملات‘ میں ہی کوئی واسطہ رکھا تو رکھا، اس سے زیادہ ہرگز نہیں۔ گلی محلے یا عام جگہوں پر کسی ’دوسرے‘ کو سلام تو کیوںکریں گے اس کے سلام کا جواب بھی ’وعلیکم‘ سے دیں گے اور اس پر سوچ میں پڑے رہیں گے کہ کیا یہ اہل کتاب کے مرتبے کو بھی پہنچتا ہے یا نہیں پہنچتا!

بہت زیادہ تعداد میں نہ سہی تھوڑے تھوڑے افراد پر مشتمل دینی طبقے اس ذہن کے بھی پائے جاتے ہیں۔ ان حلقوں میں بھی فرد کا ایک خاص تشخص بنایا جاتا ہے۔ ’مسلم فرد‘ کا یہ بھی ایک تصور ہے۔ لہٰذا اس حوالے سے بھی چند کلمات کہنا ضروری خیال کیا گیا۔

عام مسلمانوں کے مسائل کو اپنے مسائل جاننا.... خواہ وہ سماجی مسئلے ہوں یا اقتصادی اور معاشی.... خواہ وہ سیاسی نوعیت کے ہوں یا بین الاقوامی اور عالمی.... خواہ وہ مسلمانوں کے دین سے تعلق رکھتے ہوں یا مسلمانوں کی دنیا سے.... ان مسائل میں بھرپور دلچسپی لینا، ان کے حل سے اپنی آرزوئیں وابستہ رکھنا، ان کو اپنے تفکرات اور اندیشوں میں جگہ دینا، ان کے حل میں کم از کم بھی شعوری اور وجدانی طور پر شریک ہونا.... یوں مسلمانوں کے احوال سے باقاعدہ غرض رکھنا، ممکنہ حد تک ان کے کام آنا، ان کے دکھ بانٹنے اور ان سے مصائب وآلام کو دور کرنے کی حتی الوسع کوشش کرنا.... اور ان سب امور کو باقاعدہ عبادت کا حصہ جاننا اور اس پر خدا سے اجر کی امید رکھنا....

یہ سب ایک مسلم شخصیت کی ایک زبردست جہت ہے۔

المسلم اخوا لمسلم لا یظلمہ ولا یسلمہ ومن کان فی حاجہ اخیہ کان اللّٰہ فی حاجتہ ومن فرج عن مسلم کربہ فرج اللّٰہ عنہ کربہ من کربات یوم القیامہ۔ ومن ستر مسلماً سترہ اللّٰہ یوم القیامہ [صحیح البخاری عن عبداللہ بن عمر: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ وہ اس پر زیادتی کرتا ہے نہ وہ اس کو بے یارومددگار چھوڑتا ہے اور جو اپنے مسلم بھائی کی حاجت پوری کرے، اللہ اس کی حاجت پوری کرے گا۔ جو کسی مسلمان کو کسی کرب سے نجات دلائے اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے کسی کرب سے نجات دلائے گا۔ جو کسی مسلمان کا پردہ رکھے اللہ قیامت کے روز اس کا پردہ رکھے گا“۔]

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رہی یہ بات کہ سب سے اہم مسئلہ مسلم معاشروں کو اسلام کی حقیقت پر لانا اور اسلام کا مفہوم سمجھانا ہے اور یہ کہ اسلام ان معاشروں میں بالفعل غربت اور اجنبیت کا شکار ہے بلکہ یہ غربت واجنبیت کی ایک اندوہناک صورت کو پہنچ گیا ہے اور یہ کہ اسلام کی اس غربت ثانیہ کو دور کرنا آج کا سب سے بڑا اجتماعی فرض ہے.... اور یہ کہ اس تبدیلی کی بنیاد ایمان کے حقائق کو بننا ہے اور یہ کہ ان معاشروں کو، قرآنی بنیادوں پر، ایک نئے سرے سے تعمیر ہونا ہے اور یہ کہ اسلام کو زندگی کے منہج کے طور پر ایک طرح سے یہاں ازسرنو اپنایا جانا ہے.... جو کہ بالکل حق ہے اور ہماری دعوت ہے....

تو اس کامطلب موجودہ مسلم معاشروں سے ’تنفر‘ نہیں۔ اس سے مقصود ان معاشروں سے برات نہیں۔ یہ ان معاشروں سے کوئی ’انتقامی رویہ‘ نہیں۔ اس بات کا ان مسلم معاشروں کے ساتھ اخوت وبرادری اور پیار ومحبت رکھنے سے کوئی تعارض نہیں۔ یہ بات ’عامہ المسلمین‘ سے تعلق خاطر رکھنے کے منافی نہیں.... اگر ہے تو یہ ایک بڑی خرابی کا نقطہء آغاز ہے اور یہ آپ کی تیار کردہ شخصیت میں ایک بڑے انحراف اور اعوجاج کے پائے جانے پر منتج ہوگا۔

اس معاشرے کو اپنا گھر جاننا اور اس کو اپنے گھر کی طرح سنوارنا حتی کہ اس کی تعمیر نو بھی اس کو اپنا گھر جان کر کرنا.... اس کو اپنی اجتماعی امیدوں کا مرکز بنانا اور اس کے پھلنے پھولنے کیلئے دُعا گو رہنا اور اس کی ترقی وخوشحالی میں مقدور بھر شریک ہونا.... یہ ان معاشروں میں رہتے ہوئے ایک مسلمان کی شخصیت کا ایک اہم گوشہ ہوگا۔

معاشرے کی ترقی میں حصہ لینا اپنے دین کی رو سے باقاعدہ طور پر مطلوب ہے۔ اس میں ذرہ بھر شک نہیں۔ فکر مندی کی بات تب ہو گی جب آپ کی شخصیت کی پہچان ہی یہ ہونے لگے اور شخصیت کے وہ اہم تر جوانب، جن کی بابت ہم اس مضمون کے شروع میں، کچھ بات کر آئے ہیں، نسبتاً پس منظر میں جانے لگیں.... ہاں تب ضرور فکرمندی سے آدمی کے کان کھڑے ہو جانا چاہئیں اور اس پر پریشان ہونے میں لمحہ بھر کی تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔

مسلمانوں کے بعض سماجی یا سیاسی یا فوجی یا معاشی مسئلے ہی آپکی ’نمایاں تر پہچان‘ بننے لگیں اور دین کی اصل بنیادیں آپ کا موضوع بحث ہونے تک کی حسرت کرنے لگیں اور دین کے اسیاسیات ومبادی کبھی آپ کی زبان پر آئیں بھی تو اوپرے محسوس ہوا کریں.... یعنی حقیقت اسلام ’گاہے گاہے‘ ہی کبھی ذکر ہو تو ہو ورنہ جولانی طبع کیلئے موضوعات اور بڑے ہوں.... اصل خطرناک بات یہ ہے نہ کہ محض مسلمانوں کی کسی سماجی ضرورت کی انجام دہی۔

ہاں اگر اس مسلم شخصیت میں ’معاشرتی مسائل‘ ہی بولنے لگیں اور یہ مسلسل ’حالات‘ کا ہی رونا بن جائے، یہ شخصیت ہمیشہ ’حالات‘ کے ہی بکھیڑے لے کر بیٹھی نظر آئے.... جبکہ دین کے بنیادی حقائق اور فرائض پر محنت اس کی سرگرمی تواصی بالحق کا بہت ہی ناقابل ذکر حصہ بن رہے، جیسا کہ افسوسناک حد تک بہت سی جماعتوں اور تحریکوں کا حال ہے.... تو تب معاملہ ضرور غور طلب ہے بلکہ بہت ہی زیادہ غور طلب ہے۔ عام طو رپر ہماری گفتگو مسلم شخصیت کے اسی پہلو کو درست کرنے پر ہوتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسلم مسائل کو، جب تک امت کی تربیت نہیں ہو جاتی!.... مکمل طور پر نظر انداز کر رکھا جائے!

ایک متوازن شخصیت ہماری سب سے پہلی ضرورت ہے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔