|
فہرست مضامین ایقاظ۔۔ جولائی 2004 رائج جمہوری نظام
یہ وہی انگریزی نظام ہے مگر اب یہ اسلامی ’بھی‘ ہے!-3 حامد کمال الدین
بنیادی طور پر یہ دونوں شبہے ایک ہی مغالطے سے جنم پاتے ہیں: -1 آیات واحادیث، یعنی شرعی نصوص کا معنی ومراد متعین کرنا، اور -2 شرعی مسائل کے فہم و استنباط میں فقہائے اسلام کے ہاں جو اختلاف ہوا ہے، اس میں قول راجح کا تعین کرنا۔ سوال یہ ہے کہ یہ دونوں کام کون کرے؟ ہمارے جدت پسندوں کا کہنا ہے کہ اس پر پارلیمنٹ کا حق تسلیم کر لیجئے! بلکہ ان کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کا یہ حق تو ازخود ہے۔ شرعی مسائل کے اندر پائے جانے والے ’اختلاف‘ اور ’ابہام‘ کا جو ازالہ ضروری ہے ___ اور جو کہ صرف پارلیمنٹ کر سکتی ہے! ___ اس کو آپ اب اس بات کی دلیل تسلیم کیجئے کہ خدا اور رسول کے بات کر دینے کے بعد بھی بہت کچھ کہنے سننے کی گنجائش ہے اور پارلیمنٹ اگر خدا اور رسول کا فیصلہ ہو جانے کے بعد کوئی فیصلہ کرنے کا حق رکھتی ہے تو یہ کوئی بے وجہ نہیں بلکہ ’قومی وجوہات‘ کے ساتھ ساتھ اس کی بہت سی ’شرعی وجوہات‘ بھی ہیں!! ایک غلط بات کو ثابت کرنے کیلئے آدمی ایک غلط دلیل دے تو بھی وہ کسی وقت قابل عذر مانا جا سکتا ہے مگر یہ تو ’غلط دلیل‘ کا درجہ بھی نہیں رکھتی۔ ’غلط دلیل‘ میں بھی کچھ نہ کچھ وزن ہوتا ہے۔ بے شک یہ ’حجت‘ ہمارے بعض تعلیم یافتہ اور جدت پسندوں کی جانب سے پیش کی جاتی ہے اور یہ کہتے ہوئے ہم واقعتا معذرت خواہ ہیں مگر اس کو ’غلط دلیل‘ ماننا بھی اس گمراہی کی حوصلہ افزائی ہے۔ ایک گمراہ کن حربہ کے سوا اس کو کوئی اور نام نہیں دیا جا سکتا۔ پارلیمنٹ، جیسے ہم پیچھے کہہ آئے، دور حاضر کا ایک باقاعدہ طاغوت ہے۔ ’پارلیمنٹ کا اختیار‘ آج کی اس جاہلی دُنیا کا ایک معروف واقعہ ہے جسے یہ دُنیا ایک بدیہی مسلمہ ماننے لگی ہے۔ جاہلی دُنیا کا یہ معاملہ ہے تو دوسری طرف دین اسلام میں ’اللہ اور رسول‘ کا مقام بہت واضح ہے اور اسلام کی حقیقت کو جاننے والوں کے ہاں سب سے بڑا بدیہی مسلمہ کا درجہ رکھتا ہے۔ ان دونوں میں اتنا واضح تضاد ہے جو سات پردوں میں چھپائے نہ چھپے۔ ایک طرف ’اللہ اور رسول کا اختیار‘ ہے جو دین اسلام میں اس قدر واضح ہے کہ کسی دلیل اور حوالے تک کا محتاج نہیں۔ دوسری طرف ’پارلیمنٹ کا اختیار‘ ایک ایسی عالمی شہرت اور حوالہ رکھتا ہے کہ محتاج بیان نہیں۔ اپنے سمجھداروں نے اس بعد المشرقین کو ختم اور ان دو انتہائوں کو ایک کر دینے کا جب سے فیصلہ فرمایا ہے تب سے یہ ایک بڑے خلجان میں مبتلا ہیں۔ اب یہ سمجھ نہیں پاتے کہ ان میں ’توازن‘ کیونکر قائم کریں۔ بلکہ یوں کہیے ’توازن‘ تو یہ اپنے انداز سے قائم کئے ہوئے ہیں البتہ اس کے ’دلائل‘ دیتے ہوئے یقینا یہ ایک جھنجھلاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ دراصل یہ ایک مکابرہ ہے مگر دُنیا کے کسی مکابر نے بھی آج تک کبھی یہ تسلیم نہیں کیا کہ اس کے پاس اپنی غلط بات کا کوئی ثبوت نہیں۔ اب ان کے سامنے سوال یہ تھا کہ پارلیمنٹ کی اس عالمی حیثیت کو بچانے اور پارلیمنٹ کے عالمی طور پر مانے جانے والے ان باطل اختیارات اور امتیازات کو برقرار رکھنے کیلئے دین اسلام میں رخنہ کہاں تلاش کیا جائے۔ بات بنے نہ بنے البتہ کہنے کیلئے ضرور کچھ پاس ہو۔ ’اللہ اور رسول‘ کا شریعت میں جو مقام ہے اس کو صاف چیلنج کرنا تو صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب آدمی سیدھا سیدھا اسلام کو ’مذہب‘ ماننے تک سے انکار کردے جو کہ اندریں حالات ممکن نہیں۔ اب آدمی ’اللہ اور رسول کے اختیار‘ کا بھی بظاہر انکار نہ کرے اور پارلیمنٹ کے عالمی طور پر (يونيورسلي)مانے گئے اختیار کو بھی عملاً برقرار رکھنا چاہے تو ان دو باتوں میں ’جمع‘ کی کیا صورت ہے؟ اس کی یہ صورت نکالی گئی کہ ’اللہ اور رسول‘ کا مقام تو بہت واضح ہے اور ہر شبہہ سے بالا ہے مگر ’اللہ اور رسول‘ کی بات واضح نہیں! معاذ اللہ۔ لہٰذا اللہ اور رسول نے شریعت کی زبان میں جو کوئی بات کی ہے اس کے معنی ومنشا کا تعین پارلیمنٹ کرے گی! یعنی جس رخنے کی تلاش تھی وہ مل گیا۔ پیر رکھنے کی جگہ چاہیے تھی سو وہ مل گئی۔ اس ’دلیل‘ سے اونٹ کا سر اندر آگیا اب دیکھیے پورا اونٹ کس طرح اندر لایا جاتا ہے .... چونکہ آیات اور احادیث کے معنی ومفہومات میں ایک بڑا تنوع پایا جاتا ہے اور بسا اوقات تو بعض شرعی دلائل کے ثبوت میں ازالہءتعارض تک کی احتیاج ہوتی ہے .... اور یہی وجہ ہے کہ فقہائے اسلام میں بے شمار شرعی مسائل کے ثبوت میں اور ان کے فہم اوستنباط میں ایک بڑا اختلاف پایا گیا ہے .... اور چونکہ نصوص شریعت کے منشا ومفہوم کا تعین ایک انسانی عمل ہے لہٰذا پارلیمنٹ کا یہ استحقاق آپ سے آپ ثابت ہوا کہ وہ ان فقہی اختلافات کے مابین قول راجح کا تعین کرے! اس ’دلیل‘ کا حق تو یہ تھا کہ شریعت کے جن مسائل میں فقہائے اسلام کا کبھی کوئی ’اختلاف‘ نہیں ہوا اور جن مسائل میں شرعی دلائل کے اندر کہنے تک کو کوئی ’تعارض‘ نہیں ___ مثلاً سود کی حرمت یا فحاشی اور عریانی کی ممانعت وغیرہ ___ ان مسائل میں پارلیمنٹ کا ذرہ بھر اختیار تسلیم نہ کیا جاتا بلکہ ایسا اختیار روا رکھے جانے کی صورت میں سیدھا سیدھا پارلیمنٹ کو طاغوت مانا جاتا اور کم از کم ان مسائل میں اللہ اور رسول کی بات آپ سے آپ قانون کا درجہ رکھتی .... مگر نہیں۔ شریعت کے اختلافی مسائل میں پارلیمنٹ کا اختیار ثابت کرنے کا فائدہ ہی کیا۔ اصل مقصد تو پارلیمنٹ کا اختیار ’اختلافی معاملات‘ میں نہیں ’سب معاملات‘ میں ثابت کرنا تھا۔ ’شریعت کے اختلافی مسائل‘ تو اس کیلئے ایک آڑ تھی۔ یہ ’دلیل‘ ہوتی تو اختلافی مسائل تک ہی محدود رہتی مگر یہ دلیل نہیں سہارا ہے۔ حربہ ہے۔ سہارے کیلئے کچھ بھی پکڑا جا سکتا ہے۔ حربہ جو بھی چل جائے۔ آپ خود اندازہ کر لیجئے پارلیمنٹ کے اختیارات کیلئے دلیل ’اختلافی مسائل‘ کی اور ثبوت ’جملہ مسائل‘ کا!!! ہوتے ہوتے اس ’دلیل‘ کا مدعا یہ ٹھہرا کہ چونکہ شریعت کی نصوص میں ’کہیں کہیں‘ اختلافات اور تعارض ’بھی‘ پایا جاتا ہے اس لئے شریعت کے ’سب مسائل‘ پارلیمنٹ کی منظوری کے محتاج رکھے جانے چاہئیں!!! چنانچہ اب جو کوئی پوچھے کہ احکم الحاکمین کے ہاں سے خاتم المرسلین پر جو ایک شریعت اتری تھی وہ کیا ہوئی اور اس کی آپ کے ہاں صرف ’مذہبی‘ حیثیت ہے قانونی حیثیت وہ آپ سے آپ نہیں رکھتی بلکہ قانونی حیثیت پانے کیلئے قرآن کی ایک واضح ترین آیت کو بھی بیسیوں سال تک پارلیمنٹ کی ’منظوری‘ کی احتیاج رہتی ہے؟ تو اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ اس میں قصور پارلیمنٹ کے اختیار کا نہیں بلکہ شرعی نصوص کے اپنے ہی اندر کہیں کہیں پر ’ابہام‘ یا ’تعارض‘ یا ’اختلاف‘ پائے جانے کا جو امکان پارلیمنٹ نے کہیں سے سن رکھا ہے وہی اس بات میں مانع ہے کہ خدا کے اتارے ہوئے کو آپ سے آپ قانونی حیثیت حاصل ہو۔ لہٰذا خدا کے اتارے ہوئے کو آپ سے آپ جو حیثیت حاصل ہوگی وہ اس کی مذہبی حیثیت ہے۔ البتہ شریعت کی کسی بات کا قانون ہونا ___ قطع نظر اس کے کہ وہ اپنے ثبوت اور اپنی دلالت میں کتنی بھی واضح اور قطعی ہے ___ پارلیمنٹ کے فیصلے پر موقوف ہے! شرعی نصوص میں ’ابہام‘ اور ’تعارض‘ اور ’اختلاف‘ !!! گویا اس مسئلہ کا سامنا پہلی بار بس ہمیں ہی ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ صحابہ کے ہاں ما انزل اللہ کی کیا حیثیت تھی؟ شرعی نصوص کے اندر جو ’ابہام‘ یا ’تعارض‘ یا ’اختلاف‘ آج ہمیں نظر آتا ہے کیا وہ آج ہی جا کر پیدا ہوا ہے؟ اور کیا اس ’ابہام‘ یا ’تعارض‘ یا ’اختلاف‘ کے باعث صحابہ کے ہاں بھی ایسا ہی تھا کہ ما انزل اللہ کو صرف ’مذہبی تقدس‘ ہی حاصل ہو البتہ قانونی حیثیت پانے کیلئے اس ما انزل اللہ کو کسی اور ہستی یا مجلس یا ہائوس کی منظوری کا محتاج ہونا پڑے؟! حتی کہ ایک صحابہ کے دور پر ہی کیا موقوف، اموی اور عباسی دور خلافت تک دیکھ لیجئے جو کہ یقینا اسلام کے مثالی ادوار نہیں۔ حکمرانوں کی دھونس اور دھاندلی اور لاقانونیت اور شخصی تجاوزات ومظالم کو ایک طرف رکھ دیجئے قانون عام جس کی عدالتیں پابند ہوا کرتی تھیں اور جس کے مطابق رعایا کے مابین فیصلہ کرنے کے قاضی مکلف ہوا کرتے تھے، کیا تھا؟ اسلام کے ان سب ادوار میں کیا واقعتا ما انزل اللہ کو بس صرف ’مذہبی تقدس‘ حاصل ہوتا تھا اور جب تک کسی مخلوق کی طرف سے ’پاس‘ نہ کردیاجائے تب تک وہ ہر قسم کی قانونی حیثیت سے یکسر محروم رہتا تھا؟؟؟ اسلام کے ان تمام ادوار میںمسلم معاشروں کے اندر ما انزل اللہ کی ’مذہبی‘ اور ’قانونی‘ حیثیت میں کبھی بھی تمیز نہیں کی گئی۔ ایک چیز شریعت سے اگر واضح نہیں یا کسی چیز کا ثبوت اگر شریعت سے نہیں ملتا تو وہ ’مذہبی تقدس‘ بھی نہ پاتی تھی مگر جب وہ ’مذہبی تقدس‘ پالیتی تھی تو اس کی قانونی حیثیت خودبخود مسلم ہوتی تھی۔ ان دو باتوں میں تفریق صرف اسی دن کی گئی جس دن ہمارے معاشروں کو سیکولرزم کی اوپر تلے خوراکیں دی گئیں اور ان معاشروں کی تشکیل مغرب کے دیے ہوئے نقشے پر کرنے کی بنیاد ڈالی گئی۔ رہا یہ کہ ما انزل اللہ کا معنی ومراد اور منشا ومفہوم کا تعین ضروری ہے تو یقینا صحابہ کا معاشرہ اور اموی اور عباسی دو رکے معاشرے ما انزل اللہ کا منشا ومراد متعین کئے بغیر ہی اس پر عمل پیرا نہیں ہو جایا کرتے تھے۔ مگر ہمارے اور ان کے ’نظام‘ میں فرق یہ ہے کہ وہ ما انزل اللہ کا صرف معنی ومراد اور منشا ومفہوم متعین کرتے تھے اور اس کا ___ علمی بنیادوں پر اور علمی مصادر سے___ جو معنی ومراد متعین ہو جائے اس پر ایمان لانا اور اس پر سمعنا واطعنا کہنا ان کے ہاں آپ سے آپ لازم ہو جاتا تھا اور یہی طرز عمل ’اسلام‘ کہلاتا ہے .... البتہ ہمارا نظام اس کو باقاعدہ ’پاس‘ ہونے کا ضرورت مند جانتا ہے اور اگر یہ اس کو ’پاس‘ نہ کرے تو ما انزل اللہ چاہے کتنا بھی واضح ہو بس ’مذہب‘ ہوتا ہے ’قانون‘ نہیں! ما انزل اللہ کو قانون مانتے ہوئے اس کا معنی ومراد متعین کرنا ایک بات ہے اور ما انزل اللہ کا ___ قانون مانا جانے کیلئے ___ پارلیمنٹ کے ہاتھوں ’پاس‘ ہونے کا محتاج رہنا بالکل ایک الگ بات۔ یہ واضح طور پر دو مختلف واقعے ہیں۔ دو مختلف اور متضاد طرز عمل ہیں۔ اس قدر مختلف ہیں کہ ان میں ایک بعد المشرقین ہے۔ مگر دیکھ لیجئے ہمارے یہاں کیسا خلط مبحث ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ خلط مبحث کسی علمی یا فنی نکتے کے روپوش ہو جانے کے باعث نہیں بلکہ ایمان اور تسلیم کی حقیقت واضح نہ ہونے کے باعث ہے۔ کاش کہ یہ لوگ جانتے کہ آسمان سے رسول پر جو نازل ہوتا ہے، جس وحی کیلئے آسمان کے دروازے کھلتے ہیں اور جس وحی کو دے کر زمین کی جانب فرشتے دوڑائے جاتے ہیں اور جس کیلئے رسول کی بعثت عمل میں لائی جاتی ہے اور جس کے آگے سرتسلیم خم کرنے پر جنت اور جہنم کا فیصلہ ہونا ہے وہ کتنی بڑی حقیقت ہے اور اس کا کیا مرتبہ اور مقام ہے۔ جہاں تک کسی معاملہ میں ما انزل اللہ کا معنی ومراد متعین کرنے کی بات ہے تو یہ عشروں اور صدیوں کا کام نہیں۔ انما شفاءالعی السؤال [یہ جملہ حدیث کی ایک عبارت سے ماخوذ ہے: ”لاعلمی کا مداوا، بس یہی تو ہے کہ آدمی کسی سے پوچھ لے“ (مسند احمد و سنن ابی داؤد)]اہل علم سے رجوع اس مسئلہ کا بہت سادہ اور آسان حل ہے۔ مگر جہاں تک ما انزل اللہ کو (معاذ اللہ) ’پاس‘ کرنے کا تعلق ہے تو اس کا حساب ضرور عشروں اور صدیوں میں کیا جا سکتا ہے۔ ہمارا مسئلہ دراصل یہی ہے۔ اللہ اور رسول کی بات کا معنی ومراد سمجھنا ایک خوئے بندگانہ ہے۔ البتہ اللہ اور رسول کی بات کو ’منظوری‘ دینے کا مجاز ہونا ایک سرکش فعل۔ اللہ اور رسول کی بات کا منشا ومراد متعین کرنے میں غلطی تک کا ہو جانا ___ بشرطیکہ غلطی کرنے والا اجتہاد کی اہلیت رکھتا ہو ___ معاف ہے بلکہ ایسی غلطی پر بھی وہ ایک نیکی پانے کا حق رکھتا ہے .... مگر اللہ اور رسول کی بات کو ’پاس‘ کرنا ایک بالکل مختلف طرز عمل ہے جس کا کہ تسلیم وانقیاد اور اذعان و اطاعت سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں۔ ما انزل اللہ کا منشا ومراد جاننا ایک ایمانی رویہ اور ایک فرماں بردارانہ طرز عمل ہے۔ البتہ اس کو منظوری دینے یا نہ دینے کا حق رکھنا ایک خدائی طرز عمل۔ اس خدائی طرز عمل رکھنے کا نام ہی شرعی اصطلاح کی رو سے ’طاغوت‘ ہونا ہے۔ ورنہ شرعی نصوص کا معنی ومراد متعین کرنے پراعتراض ہی کس نے کیا ہے!؟ جس چیز میں غلطی کا ہو جانا خدا کی طرف سے معاف ہے بلکہ اس غلطی پر آدمی کو ___ بشرطیکہ وہ اجتہاد کی اہلیت رکھتا ہو ___ ایک نیکی ملنے تک کا وعدہ ہو اور درستی ہونے پر دو نیکیوں کا .... اس چیز میں اختلاف پھر حرام کیونکر ہو سکتا ہے؟ یہاں سے شرعی نصوص کے فہم و استنباط اور اثبات و استشہاد میں اختلاف ہو جانے کی بھی پوری گنجائش نکلتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شرعی نصوص کے فہم و استنباط میں صحابہ کے اندر اختلاف ہوا۔ بعد کے ادوار میں بھی فقہاءکے مابین اختلاف رہا مگر یہ کبھی بھی اس بات کی دلیل نہ بنی کہ اب اس امر کے باعث شریعت کو ’قانونی حیثیت‘ سے ہاتھ دھونے پڑ جائیں .... اور یہ کہ اس بنا پر شریعت کو صرف ’مذہبی تقدس‘ پر ہی گزارا کروایا جائے!!! اِس بات کا اُس بات سے کیا تعلق!؟ یہ تو سیکولرزم کی دین ہے اور یہی اصل آفت۔ صحابہ اور بعد کے ادوار میں شریعت کی نصوص کا معنی و مراد متعین کرنے کی بھی ضرورت مانی گئی اور شریعت کے منشا ومراد کے تعین میں ان کے مابین کہیں کہیں آپس میں اختلاف آراءبھی ہوا اور بحث بھی ہوئی اس کے باوجود اللہ کی شریعت کے سوا ان کے ہاں کوئی قانون نہ تھا۔ جب یہ طے ہوا کہ اللہ اور رسول کی بات کے سوا کوئی چیز قانون نہیں تو اللہ اور رسول کی بات کی منشا متعین کرنے میں کچھ بھی وقت نہیں لگتا۔ صحابہ نے یہ بات طے کر لی تھی۔ بلکہ یہ طے کرکے ہی وہ مسلمان ہوئے تھے۔ مسلم معاشرے اس کے بعد بھی صدیوں تک ’قانون‘ کے نام سے صرف ایک ہی چیز سے واقف رہے اور وہ تھی شریعتِ اسلام۔ شریعت کی خلاف ورزی جب کبھی حکمرانوں کی طرف سے ہوتی تھی اور جن معاملات میں ہوتی تھی وہ ’لاقانونیت‘ کے زمرے میں آتے تھے۔ ’لاقانونیت‘ (قانون شریعت کی خلاف ورزی) محض فسق ہے البتہ شریعت سے متصادم کسی بات کا بجائے خود ’قانون‘ ہونا کھلا کھلا کفر۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شرعی نصوص میں ’ابہام‘ یا ’تعارض‘ کا دعوی اس بات کی دلیل بنے کہ شریعت ’مذہب‘ تو آپ سے آپ ہو البتہ ’قانون‘ نہیں .... ایسے حربے صرف ان معاشروں میں کامیاب ہوتے ہیں جن پر ’اسلام‘ اور ’بندگی‘ کی حقیقت واضح نہ ہو۔ لے دے کر بات یہیں پر آجاتی ہے کہ اپنے یہاں آپ کو اسلام شناس معاشرے کھڑے کرنے پر محنت کرنا ہوگی۔ اسلام شناس معاشرے جو اللہ اور رسول کا حق جانیں۔ اللہ اور رسول کا ’حق‘ جاننے کے بعد ہی دوسروں کا ’ناحق‘ سمجھ آسکتا ہے۔ جہاں تک دھونس اور زبردستی کی بات ہے تو وہ اسلام شناس معاشروں پر بھی ہوجاتی رہتی ہے البتہ باطل کو ’دلائل‘ سے ثابت کرنے کا واقعہ اسلام شناس معاشروں میں پذیرائی نہیں پا سکتا۔ جس معاشرے میں باطل کو ’دلائل‘ ملنے لگیں، سمجھ لیجئے اس کی تشکیل یا اس کی تعمیر میں کوئی بڑا رخنہ آچکا ہے۔ اسلامی تحریکوں کیلئے کرنے کا کام تب بہت واضح ہو جانا چاہیے۔ بصورت دیگر آپ ایک ’دلیل‘ سے نکل کر دوسری میں پڑیں گے اور دوسری سے فارغ ہوئے بغیر کوئی تیسری ’دلیل‘ آپ کی منتظر ہو گی۔ باطل کے جسم پر جا بجا ’دلائل‘ نمودار ہو جائیں گے۔ معاشرے کو عقیدہ کی تعلیم دینا بہت سے مسائل کا حل ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آسانی مبحث کیلئے ہم اس گفتگو کو دو حصوںمیں تقسیم کر لیتے ہیں۔ ١) شریعت کاا ایک بنیادی حصہ وہ ہے جو اپنی دلالت اور ثبوت میں قطعی ہے اور جس میں فقہاءکے مابین کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔ کسی نظام کو اگر اللہ اور رسول پر ایمان رکھنے کا دعوی ہے تو شریعت کا یہ حصہ تو کسی بھی اضافی وضاحت کے بغیر آپ سے آپ ’قانون‘ ہے اور اس سے متصادم ہر چیز آپ سے آپ ’لاقانون‘ اور کالعدم۔ شریعت کے اس حصہ کو معلوم من الدین بالضرورہ کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ امور جن کا دین ہونا ہر کسی کو لازماً معلوم ہونا چاہیے۔ مثلاً نماز، روزہ، زکوٰت اور حج وغیرہ کی فرضیت۔ جہاد اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا وجوب۔ چوری، زنا یا شراب خوری وغیرہ پر حد کا واجب ہونا۔ قصاص اور دیت وغیرہ کا فرض ہونا۔ سود، جوا (لاٹری) فحاشی، عریانی اور بے حیائی کی حرمت۔ کفار سے دوستی و تحالف اور کافرانہ تہذیب کے نشر واشاعت اور باطل نظریوں اور عقیدوں کی تعلیم عام کرنے کی حرمت وغیرہ وغیرہ۔ شریعت کا یہ پہلو جو اپنے ثبوت اور اپنی دلالت حتی کہ اپنی شہرت میں بے انتہا واضح ہے ___ چاہے قانون کی زبان میں لکھا گیا ہو یا نہ لکھا گیا ہو___ آپ سے دستور ہے۔ ہر آئین سے بڑا آئین ہے۔ سود کا حرام ہونا کسے معلوم نہیں؟ شراب کی حرمت سے کون ناواقف ہے؟ عورتوں کا بے حیا رقص اور فحش ڈانس جس پر مبنی پروگرام، فلمیں، سینما، ٹی وی، تھیٹر ہر طرف دیکھے جا سکتے ہیں .... ان سب کی حرمت اور شناعت سے کون لاعلم ہے؟ کئی ایک ملک آج بھی ایسے ہیں جہاں دستور کے بنیادی مسائل باقاعدہ لکھی ہوئی صورت میں نہیں ملتے مگر ان کی کچھ ایسی مسلمہ حیثیت مان لی جاتی ہے کہ وہ ان کے نظام کی اساس شمار ہوتے ہیں۔ شریعت کے یہ بنیادی مسائل جن کو اصطلاحی زبان میں معلوم من الدین بالضرورہ کہا جاتا ہے، اور جن کی کچھ مثالیں ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں .... شریعت کے یہ بنیادی مسائل ___ قانونی انداز میں لکھے جائیں تب اور اگر نہ لکھے جائیں تب ___ ہر قانون سے بڑا قانون ہیں اور ہر دستور سے بڑا دستور بشرطیکہ آپ کا نظام ’فرماں بردار‘ ہو۔ کسی نظام کے ’مسلم‘ یعنی ’فرماں بردار‘ ہونے کی ترتیب بھی واضح ہو: شریعت کے محکم اور بنیادی مسلمات کا آپ سے آپ قانون تسلیم ہونا ہی وہ چیز ہے جو آپ کے نظام کو ’مسلم‘ کہلانے کا حق دے گا۔ یعنی یہ آپ کا نظام نہیں جو شریعت کے مسلمات کو قانونی حیثیت عطا کرے بلکہ یہ شریعت کے مسلمات کا آپ سے آپ قانون تسلیم ہونا ہے جو آپ کے نظام کو ’مسلم‘ ہونے کی سند دے گا۔ ان دو باتوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ شریعت کے کسی حکم کو ’پاس‘ کرنے کی نوبت اسی فرق کے روپوش ہو جانے سے آتی ہے۔ ’پاس‘ کرنے کامطلب ہی یہ ہے کہ شریعت کے مسلمات کا قانون ہونا تاحال مسلَّم نہیں۔ یعنی دراصل آپ کا نظام ابھی ’فرماں بردار‘ نہیں۔ شریعت کے محکمات اور مسلمات کو اپنی آسانی کیلئے آپ جیسے چاہیں اور جس زبان میں چاہیںاور جتنی بار چاہیں لکھ لیں۔ اس پر کسی کو کیا اعتراض۔ البتہ شریعت کی یہ حیثیت تسلیم کرنا مسلمان ہونے کیلئے شرط ہے کہ شریعت کے یہ محکمات آپ کے لکھنے سے پہلے قانون ہیں۔ جب سے یہ آسمان سے نازل ہوئے اور نبی کی زبان سے ادا ہوئے تب سے قانون ہیں۔ شرعی مسلمات کی اس حیثیت کو مان کر ہی آپ مسلمان ہوتے ہیں۔ پہلے سے جو بات قانون ہے اس کو منظوری دینے کا پھر اب کیا سوال؟ ایک پاس شدہ چیز کو پاس کون کرتا ہے۔ شریعت کے مسلمات خدا کی مقرر کردہ حدیں ہیں۔ ان کو خدا نے پاس کیا ہے۔ آپ اس کی منظوری نہیں دیں گے۔ شریعت کے بعض قوانین کی ’منظوری‘ تو یہاں انگریز بھی دے لیتے رہے ہیں۔ آپ کے دعوائے ایمان کا ثبوت یہ نہیں کہ آپ بھی شریعت کے ان مسلمات کو ’منظور‘ کرتے پھریں۔ قانون تو یہ چودہ سو سال پہلے سے ہے بشرطیکہ آپ مسلمان ہیں۔ اس کی منظوری کا وقت کبھی نہیں آئے گا البتہ اعلان فرماں برداری کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے.... اس کی حد یہ ہے کہ یا روح حلق میں اٹک جائے یا سورج مغرب سے چڑھ آئے .... وقل للذین اوتوا الکتاب والامیین ا اسلمتم فان اسلموا فقداھتدوا وان تولوا فانما علیک البلاغ واللّٰہ بصیر بالعباد (آل عمران: ٢٠) ”پھر اہل کتاب اور غیر اہل کتاب دونوں سے پوچھو: ”کیا تم نے بھی اس کی اطاعت وبندگی قبول کی؟“ اگر کی تو وہ راہ راست پا گئے، اور اگر اس سے منہ موڑا تو تم پر صرف پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی۔ آگے اللہ خود اپنے بندوں کے معاملات دیکھنے والا ہے“۔ اس ترتیب کے واضح ہو جانے سے اگلی بات خودبخود واضح ہو جاتی ہے۔ بجائے اس کے کہ خدا کے اتارے ہوئے قطعی حلال وحرام اور اس کی ٹھہرائی ہوئی محکم بَیِّن حدیں ___ قانون کا رتبہ پانے کیلئے ___ کسی انسانی نظام سے منظوری پانے کی محتاج ہوں .... اصل ترتیب یہ ہو گی کہ آپ کا وہ نظام ہی___ مسلم قرار پانے کیلئے ___ دین کے ان مسلّمات اور قطعیات کو حتمی قانون ماننے کا ضرورت مند ہو۔ چنانچہ سوال مسلّمات دین میں سے کسی بات کے قانون ہونے یا نہ ہونے کا نہیں رہے گا بلکہ سوال اس نظام کے مسلم (فرماں بردار) ہونے یا نہ ہونے کا اٹھے گا۔ اس سوال کا درست ہو جانا سمجھ لیجئے آدھا کام ہو جانا ہے۔ کیا خیال ہے اگر آپ کا معاشرہ آپ کے نظام کو اس بنیاد پر پرکھنے لگے۔ ہمارے معاشرے توحید کی اس حقیقت کو سمجھ لیں تو وہ اپنے نظام سے سوال یہ نہیں کریں گے کہ وہ شریعت کو کب ’پاس‘ کرتا ہے بلکہ یہ سوال وہ پنے برسراقتدار طبقوں سے یوں کریں گے کہ ان کا یہ نظام شریعت کے مسلمات کو بدیہی قانون مان کر مسلمان کب ہوتا ہے۔ تب وہ سوال اس طرح نہیں رکھیں گے کہ شریعت کے کسی معلوم حکم کو ’منظوری‘ ملی یا نہیں بلکہ یہ سوال وہ یوں کریں گے کہ شریعت کے ہر معلوم اور معروف حکم کو قانون تسلیم کرکے یہ نظام مسلمان ہوا یا ابھی اپنے کفر پر ہی مصر ہے۔ ”حاکم اعلیٰ“ ایک چیز کو واضح ترین اندازمیں حرام کر دے .... اس کی حرمت میں کسی کو ابہام تک نہ رہے .... اس کی حرمت کی بابت کسی محدث یا فقیہ نے آج تک کبھی کوئی کلام نہ کیا ہو .... حاکم کیا محکوم، عوام کیا خواص، ان پڑھ کیا پڑھے لکھے سب جانتے ہوں کہ ”حاکم اعلیٰ“ نے ایک بات کو بڑی سختی سے حرام ٹھہرایا ہے حتی کہ اس کو اپنے اور اپنے رسول کے خلاف اعلان جنگ قرار دیا ہے .... یعنی ’مذہب‘ میں اس کی کوئی گنجائش نہیں .... پھر بھی وہ بات ’قانونا‘ جائز ہو، سوچئے تو سہی اس کا مطلب کیا ہے؟ ’مذہبی‘ طور پر ایک چیز کی حرمت ہر شبہہ سے بالا ہو مگر ’قانونی‘ طور پر اسی چیز کا جواز ہر شبہہ سے بالا ہو!! یہ واقعہ اسی چیز کو تو ثابت کرتا ہے کہ مسئلہ ”حاکم اعلیٰ“ کی بات واضح ہونے کا نہیں بلکہ مسئلہ ”حاکم اعلیٰ“ کی حیثیت واضح ہونے کا ہے۔ پس مسئلہ زیربحث یہ ہونا چاہیے نہ کہ وہ۔ ’حاکم اعلیٰ‘ کے نام سے یہ نظام کسی لقب (Title) سے تو ضرور واقف ہے مگر ’حاکم اعلیٰ‘ کے نام سے یہ کسی خدائے مالک الملک سے آگاہ نہیں۔ چنانچہ شرعی نصوص کے حوالے سے جس ’ابہام‘ یا ’اختلاف‘ کا ہوّا دکھایا جاتا ہے اس کا مقصد تو بس یہ ہے کہ لوگ اسی بحث میں الجھ کر رہ جائیں کہ شرعی نصوص تو واضح ہی نہیں۔ یوں اس نظام پر کی جانے والی تنقید بس یہیں پر اٹک کر رہ جائے اور اندر اس کا کفر پوری طرح بچا رہے۔ لوگ اس کی اس ’جحت‘ سے گزر کر اس سے یہ پوچھ ہی نہ سکیں کہ اچھا جہاں ”حاکم اعلیٰ“ کی بات میں کہنے تک کو تم کوئی ’ابہام‘ یا ’اختلاف فقہائ‘ نہیں پاتے وہاں ”حاکم اعلیٰ“ کے فرمائے ہوئے کے ساتھ تمہارا کیا طرز عمل ہوتا ہے؟ اس سوال پر یہ لوگ آپ کو کبھی بھی نہ آنے دیں گے۔ ٢) شرعی احکام کا دوسرا حصہ وہ ہے جو استنباط اور استدلال پر مبنی ہے۔ متعدد احکام ایسے ہیں کہ ایک آیت یا حدیث سے مسئلہ اخذ کرنے کے معاملہ میں فقہاءکے مابین اختلاف ہوا ہے۔ حتی کہ بہت سی احادیث کی تصحیح اور تضعیف اور ترجیح میں محدثین کے ہاں اختلاف پایا گیا ہے۔ اس کی بنا پر شریعت کی بہت سی تفصیلات میں اہل علم کے ہاں تعدد آراءکا پایا جانا ایک معروف واقعہ ہے۔ حتی کہ شریعت کے مسلمات ومتفق علیہ امور ___ مانند نماز، زکوٰت، روزہ وحج ایسے فرائض علاوہ ازیں سود، جوا اور شراب وغیرہ ایسے محرمات ___ کی بہت سی جزوی تفصیلات بھی اسی زمرے میں آتی ہیں۔ تو کیا اس کا یہ مطلب لیا جائے کہ ان مسائل میں، جن میں فقہاءیا محدثین کے مابین اختلاف ہوا ہے، آپ جو چاہیں کر لیں؟ اور کیا ان اختلافات کا ’نبیڑا‘ کوئی بھی کر سکتا ہے؟ حتی کہ پارلیمنٹ بھی ان کی بابت ’اظہار رائے‘ کر سکتی ہے؟ اور ’قول راجح‘ بلکہ ’قول فیصل‘ بھی صادر کر سکتی ہے؟ یا ان مسائل کے طے کرنے میں بھی شریعت کے کچھ ضابطے ہیں؟ شریعت بذات خود ایک ضابطے کا نام ہے۔ پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اس کے اپنے ہی معاملات کسی قاعدے ضابطے کے بغیر چھوڑ دیئے گئے ہوں!؟ خدا نے اپنے بندوں کی ہدایت کیلئے جو کچھ اُتارا ہے اور رسول نے اس کی وضاحت میںجو کچھ ’بیان‘ کیا ہے ___ چاہے یہ اس کا وہ حصہ ہو جو تمام اہل علم کے ہاں مسلّم اورمتفق علیہ ہے اور چاہے یہ اس کا وہ پہلو ہوجس کے سمجھے جانے میں اہل علم کے ہاں تعدد آراءہوا ہے ___ اس سارے کے سارے کی اطاعت ہی بندوں پر اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے اندر فرض ہے اور اس کو واجب اطاعت جاننا ایمان دار ہونے کی شرط۔ خدا نے جو ’اتارا‘ اور رسول نے جو ’بیان‘ کیا اس کی اطاعت اس کو جاننے اور اس کی مراد پانے کے بغیر ممکن نہیں۔ البتہ اس کو جاننے کی بابت انسانوں کی دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ انسانوں کو ان دو قسموں میں اس معاملہ کی بابت خود قرآن نے ہی تقسیم کیا ہے۔ ایک ’جاننے والے‘ اور ایک ’پوچھنے والے‘: فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون (النحل: ٤٣) ”اہل ذکر سے پوچھ لو اگر تم لوگ خود نہیں جانتے“۔ چنانچہ ایک انسان اللہ کے دین کو جاننے کی بابت یا تو ’اھل الذکر‘ میں شمار ہوگا اور یا پھر ’لاتعلمون‘ میں۔ ثانی الذکر پر قرآن ہی کی جانب سے یہ فرض عائد ہو جاتا ہے کہ وہ ’اھل الذکر‘ کے پاس یہ پوچھنے آئیں کہ کسی معاملے کی بابت خدا نے کیا اتارا ہے اور رسول نے کیا بیان کیا ہے؟ اب پارلیمنٹ کے وہ اختیارات جو اس کیلئے موجودہ دور میں عالمی طور پر تسلیم کئے گئے ہیں اور جن کی بنا پر خدا کی ہم سر قرار پاتی ہے اس کے یہ اختیارات ایک لمحہ کیلئے نظر انداز کر دیں اور اس کو ذرا دیر کیلئے خدا کے اتارے ہوئے اور رسول کے بیان کئے ہوئے کے سامنے کھڑا کر دیں .... یہ طے کرنے پر آپ کو کتنا وقت لگے کہ اس (شریعت) کو جاننے کی بابت پارلیمنٹ ’اھل الذکر‘ میں شمار ہوتی ہے یا ’لاتعلمون‘ میں؟ قرآن کی اس تقسیم کی رو سے پارلیمنٹ کو جہاں کھڑا کیا جانا بنتا ہے اس کو وہیں کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس تقسیم کی رو سے پارلیمنٹ کو، خدا کے کسی بھی فرماں بردار انسان کی طرح، اہل علم سے رجوع کرنا ہوگا اور ایک خوئے بندگی رکھتے ہوئے دریافت کرنا ہوگا کہ کسی مسئلے کی بابت خدا اور رسول کی کیا منشا ہے .... الا یہ کہ پارلیمنٹ خدا کی فرماں برداری پر تیار نہ ہو اور خدا کی بجائے خود قانون صادر کرکے اپنی فرماں برداری کرائے۔ پس شریت کے طے شدہ معاملات اور متفق علیہ مسلمات کا مسئلہ تو رہا ایک طرف۔ ان کی بابت تو کسی کا خیر اختیار ہی کیسا۔ وہ مسائل بھی جن کے اثبات یا استنباط میں کہیں کوئی اختلاف ہوا ہے وہاں بھی ’پارلیمنٹ‘ کا اختیار کیسا؟ للّٰہ الامر من قبل ومن بعد۔ کل اختیار خدا کا ہے اور خدا کی بات کا مطلب اور مفہوم متعین کرنے والے اہل علم ہیں نہ کہ وہ جو ’لاتعلمون‘ کے زمرے میں آتے ہیں۔ ہاں اگر پارلیمنٹ کی رکنیت پانے کیلئے آپ نے علم شریعت رکھنے کی شرط لگا رکھی ہے (علم شریعت اس پائے کا جو مہمات دین میں استنباط مسائل کیلئے کفایت کرے) تو وہ ایک اور بات ہے (ہم یہاں اس کا مطالبہ بہرحال نہیں کر رہے!) مگر جب ایسا نہیں تو پھر آپ کی پارلیمنٹ کو ___ اگر وہ ایمان کا دعویٰ رکھتی ہے ___ شریعت کا علم رکھنے والوں سے یہ دریافت کرنا ہے کہ کسی معاملے میں خدا اور رسول کی منشا کیا قرار پاتی ہے۔ البتہ اگر وہ انسانی زندگی کے کسی مسئلے کی بابت اپنی چلانے کا کسی بھی انداز سے اختیار رکھتی ہے ___ چاہے وہ دین کے متفق علیہ مسلمات ہوں یا اختلافی مسائل ___ اور کون نہیں جانتا کہ اس نظام میں پارلیمنٹ یہ حق رکھتی ہے تو پھر اس کے خدا کا شریک ہونے میں کیا شک باقی رہ جاتا ہے؟ رہی یہ بات کہ فقہی اقوال وآراءمیں اختلاف دکھا کر ’پارلیمنٹ کا اختیار‘ ثابت کر دیا جائے .... تو اتنا اندھیرا کر دینے کی اپنے دین میں ہرگز گنجائش نہیں۔ آپ اندھیرا کرنا ہی چاہتے ہیں تو اس میں آپ کو دین اور شرعی دلائل سے مدد لینے کی ضرورت نہیں۔ چنانچہ پارلیمنٹ یا کوئی بھی برسراقتدار مخلوق جب اہل علم سے یہ پوچھے گی کہ کسی معاملے میں خدا اور رسول کی منشاءومراد کیا بنتی ہے تو وہ اپنے حق تشریع سے دستبردار ہوتے ہوئے یہ پوچھے گی اور اس کو ___ بااعتماد اہل علم کی جانب سے ___ خدا اور رسول کے حوالے سے جو بات بتائی جائے گی وہ اس کو ماننے کی پابند بھی ہوگی ورنہ خدا اور رسول کی منشا ومراد پوچھنے کا کوئی مطلب ہی نہیں رہ جاتا۔ چنانچہ خدا اور رسول کی بات ___ چاہے وہ نص ہو یا استنباط کی راہ سے اخذ کی گئی ہو ___ جب اس کو معتمد اہل علم کی جانب سے بتائی جائے گی تو اس کی ’مذہبی‘ و ’قانونی‘ حیثیت آپ سے آپ مسلم ہوگی۔ حتی کہ کسی استنباطی یا اجتہادی مسئلہ میں ___ نہ کہ دین کے مسلمات میں___ اہل علم اگر اپنی اختیار کردہ رائے کے اندر کسی وقت (دلیل کی روشنی میں) کسی تبدیلی کی ضرورت محسوس کریں تو یہ طے کرنا بھی اہل علم ہی کا کام ہوگا۔ غیر اہل علم ___ چاہے وہ پارلیمنٹ ہو یا کوئی اور برسراقتدار مخلوق___ پھر بھی اس معاملہ میں کوئی اختیار نہ رکھے گی۔ بلاشبہ مصالح العباد کا ایک بڑا حصہ ایسا ہے جس میں دین کی جانب سے آپ کو آزادی دی جائے گی کہ آپ اپنی ضرورت اور اپنی صورتحال کو پیش نظر رکھ کر کوئی سا بھی ضابطہ اور قانون بنا لیں۔ مگر اس کا علم بھی آپ کو اہل علم کی وساطت سے ہوگا۔ اس کا فیصلہ بھی آپ خود نہیں کریں گے کہ کہاں آپ کو کوئی ضابطہ یا قانون بنانے کی آزادی ہے اور کہاں نہیں۔ البتہ جہاں اہل علم کی وساطت سے آپ کو معلوم ہو جائے کہ آپ کچھ ’پاس‘ کرنے میں شریعت کی طرف سے آزاد ہیں وہاں واقعی آپ پر کوئی قدغن نہ ہوگی۔ خواہ آپ پارلیمنٹ کہلاتے ہیں یا کوئی اور مقتدر قوت۔ یوں شریعت آپ کی آزادی کا جو دائرہ مقرر کرے گی وہ بھی کوئی چھوٹا نہیں۔ البتہ شریعت سے ___ بوساطت اہل علم ___ آپ کو برابر پوچھتے رہنا پڑے گا کہ آپ کی آزادی کہاں تک ہے اور کہاں آپ کی آزادی ختم ہوجاتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوں شریعت کے معروف مسائل اور دین کے واضح حلال وحرام اور اللہ کی مقرر کردہ واضح حدیں ___ جن کو ہم نے شرعی مسلّمات کانام دیا ہے اور جن کی کچھ مثالیں پیچھے گزر گئی ہیں ___ خودبخود مسلم معاشرے پر واضح رہتی ہیں۔ یہ جب آپ اہل علم سے پوچھیں گے بھی تو وہ آپ کو وہی جواب دیں گے جو کہ دین میں معلوم اور مشہور ہے۔ اس میں جب کوئی اختلاف ہی نہیں تو اس کی بابت آپ کو ہر اہل علم ایک ہی بات بتائے گا۔ مثلاً سود کا حکم، شراب کا حکم، فحش وبے حیائی کی حرمت، چوری یا زنا کا قابل حد ہونا وغیرہ، اس میں کوئی ’اہل علم‘ اگر پوری اُمت کی راہ سے ہٹ کر آپ کو کچھ بتائے گا تو اس کی بددیانتی معلوم ہو جانا ذرہ بھر دشوار نہیں۔ اس میں کوئی آپ کو امت کی راہ سے ہٹ کر فتویٰ دے بھی دے ___ جیسا کہ ’شیخ الازہر‘ کے ہاں سے گاہے بگاہے صادر ہوتا رہتا ہے ___ تو اس کے گمراہی ہونے کی جہاں امت کے ہزاروں علماءبیک آواز شہادت دیں گے وہاں ایک عامی بھی بغیر کسی دشواری کے یہ بات جاننے کی پوزیشن میں ہوگا کہ یہ ایک بددیانت ’فتوی‘ ہے۔ یہاں ___ یعنی مسلمات دِین میں___ ڈنڈی ماری کی ہی نہیں جا سکتی۔ یہ تو رہا دین کے معروف مسائل اور شریعت کے واضح واضح حلال و حرام کا معاملہ۔ یہاں سے آپ کی ایک واضح جہت بن جائے گی۔ معاشی مسائل ہوں یا سماجی یا سول یا فوجداری یا تہذیبی اور ثقافتی .... ہر میدان میں دین کے معروف مسلمات جب آپ سے آپ ’قانون‘ ہوں گے اورا ن کے خلاف چلنا جب آپ سے آپ ’خلاف قانون‘ ہو گا تو بے شک ان مسلمات کی جزوی تفصیلات کے معاملہ میں آپ کو ’تحقیقات‘ یا ’فتاوی‘ کی ضرورت بھی ہوگی مگر ’کلیات‘ کی قانونی پابندی آپ کو خودبخود اس راہ پر ڈال دے گی کہ آپ شریعت کی جزئیات کی بابت اب کہیں نہ کہیں سے ضرور ہدایت لیں۔ ’کلیات شریعت‘ کی قانونی پابندی آپ کے پاس یہ گنجائش ہی نہ چھوڑے گی کہ ’جزئیات شریعت‘ کی بابت آپ اہل علم سے رہنمائی نہ لیں۔ یہی اس شریعت کی خوبصورتی ہے اور اس کی جامعیت بھی۔ اب جزئیات شریعت کیلئے آپ جن اہل علم اصحاب سے بھی رہنمائی لیں گے جب تک وہ ’کلیات‘ کے اندر رہتے ہوئے دی اور لی جائے گی ___ جبکہ کلیات شریعت کے اندر رہنے کا مطلب ہر کس ناکس کو معلوم ہو سکتا ہے ___ تب تک وہ معاملہ ان حدود کے اندر ہی رہے گا جن سے نکلنا خداکے قانون سے کھلی بغاوت نہیں۔ اسی لئے ہم نے عرض کیا ہے کہ جب یہ طے ہو جائے کہ ’کلیات دین‘ ___ جو کہ بے انتہا واضح ہیں اور ہر کس وناکس کو معلوم ہو سکتی ہیں ___ آپ سے آپ قانون ہیں تو ’جزئیات دین‘ ان کے ساتھ خودبخود چلی آئیں گی۔ ان کو آنے سے پھر آپ روک ہی نہ سکیں گے۔ جزئیات دین میں پھر آپ ایک طبقہء علم کی تعبیر پر انحصار کرتے ہیں یا دوسرے طبقہء علم کی تفسیر پر، جب تک اس کا حال ’شیخ الازہر‘ جیسا نہیں ہو جاتا جس کا کہ دین کی کلیات و اساسیات کے خلاف فتوے دینا ہر کسی کو معلوم ہے اور اس کی ہزاروں علماءشہادت دیتے ہیں، غرض فروعی احکام کی بابت کسی بھی ایک طبقہء علم کی تعبیر پر انحصار کرنا پھر آپ کے پاس خدا کے سامنے پیش کرنے کیلئے یقینا ایک حجت ہو سکتا ہے۔ جزئیات و فروع کی حد تک بے شک آپ سب کے سب طبقہ ہائے علم کو خوش نہ کر پائیں پھر بھی کسی ایک قابل اعتماد طبقہء علم سے اگر آپ ایک بے لاگ انداز میں رہنمائی لیتے ہیں تو اس دائرے سے آپ بہرحال نکل آتے ہیں جس میں آپ پر خدا کی کھلی کھلی بغاوت کی فرد جرم عائد ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے شریعت کے احکام میں جو کلیات اور مسلمات پائے جاتے ہیں وہ بے شک تعداد میں بہت زیادہ نہیں مگر اپنی ماہیت میں وہ دین کا ایک بہت ہی بڑا اور بنیادی حصہ ہیں۔ ایمان لانا ہے تو وہ آپ کو ماننا ہی پڑیں گے۔ ان کو نہ جاننے کا کسی کے پاس عذر ہی نہیں۔ اس کے بعد اگلے مراحل پر آپ خودبخود مجبور ہوتے ہیں۔ شریعت کی ’کلیات‘ اگر قانون ہیں تو ’جزئیات‘ کی بابت کہیں نہ کہیں سے رہنمائی لئے بغیر گزارا ہی نہیں۔ چنانچہ کلیات کی قانونی حیثیت کا اعتراف خود ہی آپ کو جزئیات کی کسی نہ کسی تعبیر کا پابند کر دے گا۔ جزئیات کی بابت خدانخواستہ کوئی کتنی بھی بددیانتی کرے گا ___ جس کا حساب خدا ہی کے ہاں جا کر ہوگا ___ پھر بھی جزئیات کی کوئی غلط تعبیر جب تک کلیات کو ملیامیٹ نہیں کرتی ___ جیسا کہ ہم مصر کے معاملے میں مثال دے آئے ہیں ___ تب تک آپ کے خلاف خدا کے قانون سے کھلم کھلا خروج کر لینے کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔ مثال کے طور پر سود کی حرمت دین کا ایک مسلمہ ہے۔ اس پر آپ کو کوئی فتویٰ نہیں چاہیے۔ یہ ’معلوم من الدین بالضرورہ‘ ہے۔ سوائے یہ کہ کوئی کل ہی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوا ہے سود کی حرمت کسی سے روپوش نہیں۔ اب اگر حرمت سود کو ’قانون‘ تسلیم کر لیا جائے تو سودی معاملات خود بخود ’خلاف قانون‘ ہو جاتے ہیں۔ ’سود‘ کا مطلب اور مفہوم ایک حد تک ہر سمجھدار آدمی جانتا ہے۔ ’سودی لین دین‘ کے ذیل میں آنے والا ایک بہت ہی بڑا حصہ تمام فقہاءکے نزدیک متفقہ طور پر معروف اور حرام ہے۔ اس حد تک سود قطعی طور پر ’خلاف قانون‘ ہو جاتا ہے۔ کوئی بھی مقننہ یا ادارہ یا محکمہ اس حد تک سود پر مشتمل قانون سازی کا مجاز نہیں رہتا۔ اس حد تک اگر ’فرماں برداری‘ کا مظاہرہ ہو جاتا ہے تو پھر اس کے بعد بہت سے معاملات ایسے رہ جائیں گے جن کی بابت یہ پوچھا جائے کہ آیا یہ سود بنتا ہے یا نہیں۔ یہاں آپ کو اہل علم سے رہنمائی چاہیے۔ یہ اہل علم طبقہ یا مجلس جس میں شرعی علم کی کم از کم شرط پوری ہونی چاہیے آپ کو ان معاملات میں خدا اور رسول کی منشا بتائے گی۔ اللہ اور رسول کے حوالے سے یہ آپ کو جو بات بتائے گی اس کو رد کرنے کے آپ یا آپ کا کوئی ادارہ یا محکمہ مجاز نہیں ہوگا۔ اب اگر فرعی معاملات میں یہ لین دین (ٹرانسيكشن) کی کسی صورت کو بددیانتی کی بنا پرسند جواز دے دیتی ہے اور یہ سند جواز لینے والے بھی بددیانتی کی بنا پر ایسا کرتے ہیں .... تو جب تک ایسا کسی جزوی معاملے میں ہوتا ہے اور اس کی (غلط) دلیل کیلئے حوالہ بہرحال شرعی مصادر ہی سے دیا جاتا ہے تب تک ہم ان کا معاملہ خدا پر چھوڑے ہوئے اس کے ساتھ صرف جزوی اختلاف ہی کر سکیں گے .... کیونکہ کلیات دین بدستور قانون مانے گئے ہیں اور مرجعیت اصولا خدا کی شریعت کو حاصل ہے اور کیونکہ فقہ اسلامی کے متفق علیہ امور کی تاحال مخالفت نہیں کی گئی۔ اسی طرح مثلاً شراب حرام ہے۔ ’شراب‘ کی قانونی تعریف بھی آپ ضرور کریں اور یہ تعریف کرنے میں آپ کو بہت وقت بھی درکار نہیں مگر شراب کی حرمت ایک عام سمجھ آنے والی چیز بھی ہے (شراب اور سود کی حرمت والی آیات عام لوگوں کو ہی سنائی گئی تھیں اور سب کو سمجھ آگئی تھیں!) اگر لوگ ’شراب‘ کے معنی سے واقف ہی نہیں ہو سکتے تو شریعت ’شراب‘ کو حرام کرکے ان کے علم میں آخر کس چیز کا اضافہ کر رہی ہے؟ چنانچہ ’شراب‘ کا جو مفہوم تمام فقہاءکے ہاں متفقہ ہے اور جس سے کہ معاشرے کا ایک متوسط شخص بآسانی واقف ہو سکتا ہے اس کی حرمت آپ سے آپ واضح ہے۔ رہا یہ کہ مشروب یا نبیذ کی کچھ خاص اقسام کا حکم تو اس معاملہ میں اگر آپ کسی بھی معروف طبقہء علم کی رہنمائی لیتے ہیں تو خطرے کی اس حد سے ضرور باہر آجاتے ہیں جس میں رہنا صاف صاف جاہلیت ہے۔ اسی طرح فحاشی اور بے حیائی کا مسئلہ ہے۔ تھیٹر، سینما، ٹی وی، فلم اورمیڈیا کے دیگر فورموں پر جو کچھ ہوتا ہے اور ان کو آپ کا قانون سند جواز دیتا ہے ایسی بیشتر سرگرمیوں کا ___ جن کے حیا سوز اور اخلاق باختہ ہونے میں ذرہ بھر شک نہیں ___ حرام ہونا اور خلاف اسلام ہونا ایک عام عامی تک سے روپوش نہیں۔ اسلام کا ان بے حیا مظاہر کی بابت جو حکم ہے اور جو کہ ہر شخص کو معلوم ہے اس کو اگر قانون تسلیم کر لیا جاتا ہے اور اس کی خلاف ورزی ’قانون‘ کی خلاف ورزی مانی جاتی ہے تو پھر اس کے بعد صرف وہ معاملات رہ جاتے ہیں جو فقہی اختلاف کے زمرے میں شمار ہو سکتے ہیں۔ مثلاً چہرے کا پردہ واجب ہے یا مستحب، اس پر آپ جس طبقہء علم کی تفسیر پر بھی انحصار کرتے ہیں آپ اس خطرے سے بہرحال نکل آتے ہیںجو خدا کے قانون سے صاف صاف تصادم ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چنانچہ ’فقہی اختلافات‘ کو ’پارلیمنٹ کے اختیارات‘ کیلئے دلیل کے طور پر پیش کرنا ___سوائے اس کے کہ معاشرہ کی حقیقت اسلام سے ناواقفیت کا بدترین فائدہ اٹھانا قرار دیا جائے___ کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتا۔ کوئی ان سے پوچھے فقہاءکا اختلاف کیا پارلیمنٹ کے وہ ممبر چکائیں گے جو سادہ قرآن پڑھ تک نہ سکیں اور جو وضو اور نماز کے بنیادی مسئلوں سے بھی شاید آگاہ نہیں!؟ کیا ’اختلاف فقہائ‘ ان لوگوں کے ’اختیار‘ کیلئے واقعتا دلیل بن سکتا ہے؟؟؟ ذرا اس دلیل کی منطق دیکھیے .... پہلے آپ ’اختلاف فقہائ‘ کو دلیل بنا کر پارلیمنٹ کا اختیار مان لیجئے۔ اس کے بعد یہ خود ہی واضح ہے کہ پارلیمٹ کیلئے اس جھنجھٹ میں پڑنا آسان نہیں کہ کونسے مسئلے میں فقہاءومحدثین کے ہاں اختلاف ہوتا رہا ہے اور کونسے مسئلے پر فقہاءنے اتفاق کر رکھا ہے اور حتی کہ اگر کہیں کسی مسئلہ پر اہل علم میں اختلاف ہوا بھی ہے تو اس اختلاف کی نوعیت اور حجم کیا ہے .... البتہ پارلیمنٹ نے چونکہ ’سن‘ رکھا ہے کہ شرعی مسائل کے اندر علماءشریعت کے مابین کہیں نہ کہیں اختلاف ہو چکا ہے لہٰذا شریعت کے ’سب مسائل‘ ہی اب یہ اپنے ہاتھ میں لے گی اور اکثریت رائے سے ہی اب ان کا فیصلہ کر ڈالے گی۔ شریعت کے جس مسئلے کی قسمت میں اکثریت کے ووٹ لکھے ہوں گے اور جس وقت لکھے ہوں گے وہ ”پاس“ ہو جائیگا ورنہ ’پاس‘ ہونے سے پڑا رہے گا!! کیا عملاً ایسا ہی نہیں؟ خدا اور رسول کی بات کا معنی ومراد متعین کرنا، سیدھی بات ہے، اہل علم کا کام ہے۔ اختلاف رائے کی صورت میں بھی کسی ایک رائے کو اقرب الی الصواب قرار دے کر اختیار کرنا اہل علم ہی کا کام ہے نہ کہ دین سے ناواقف لوگوں کا۔ کیا خدا کے دین میں اس بات کی کوئی گنجائش ہے کہ ’خدا کے فرمائے ہوئے‘ کا معنی متعین کرنے کے معاملے میں دین سے ناواقف ایک جاگیردار بھی باقاعدہ ’رائے‘ دے اور ایک بے دین سرمایہ دار بھی، ایک کرکٹ یا ہاکی سے ریٹائر ہونے والا کھلاڑی بھی، ایک اداکار بھی اور سبزی منڈی میں تھوک کا وہ تاجر بھی جو کہیں سے ’ٹکٹ‘ لے کر پارلیمنٹ کا الیکشن جیت چکا ہے!؟ خدا کے دین کو ان لوگوں نے آخر کیا سمجھ رکھا ہے؟؟؟ اس عذرلنگ کو چھوڑ کر آخر کیوں صاف صاف یہ مان نہیں لیا جاتا کہ پارلیمنٹ کا اختیار دراصل جمہوری دین کا ایک جزولاینفک ہے۔ یہ کسی صورت میں ساقط نہیں ہو سکتا اور یہ کہ اگر پارلیمنٹ کا اختیار ___ جہاں اللہ اور رسول نے کوئی فیصلہ کردیا ہو ___ یکسر ساقط کر دیا جائے تو جمہوریت کی روح چیخ اُٹھے گی!! سیدھی بات جس کا اپنے منہ سے اعتراف کرنا نہیں چاہتے وہ یہی ہے: پارلیمنٹ کا اختیار جمہوریت کا باقاعدہ حصہ ہے اور اس کا ساقط ہونا اس نظام میں محال ہے۔ بلکہ یوں کہیے پارلیمنٹ کا اختیار، جہاں اللہ اور رسول نے کوئی فیصلہ کر دیا ہو، ساقط ہو جانا اس نظام کا خاتمہ ہے۔ بات یہ ہے کہ جس طرح اسلام کے سیاسی نظام کی ایک آخری حد Bottom Line ہے اور وہ یہ کہ خواہ کتنی بھی ظالمانہ اور معصیانہ حکومت ہو ’قانون‘ کے معاملے میں مرجعیت اللہ اور اس کے رسول کو حاصل رہے گیا تاکہ جب بھی ’لاقانونیت‘ چھوڑ کر ’قانون‘ کی طرف آنے کا سوال اٹھے تو اس کیلئے حوالہ صرف اللہ اور رسول کا دیا جائے .... عین اسی طرح جمہوری شریعت کی بھی ایک آخری حد ہے اور وہ یہ کہ حکمرانوں کے رویے اور ہتھکنڈے خواہ کتنے ہی ’غیر جمہوری‘ کیوں نہ ہو لیں ’قانون‘ کے نام سے لوگ بس ایک پارلیمنٹ کی مرجعیت سے ہی واقف ہوں۔ تاکہ جب بھی ’قانونی بے قاعدگیاں‘ اور ’دستوری خلاف ورزیاں‘ چھوڑ کر حالات کو معمول اور دستور پر لائے جانے کی بات ہو تو ’پارلیمنٹ‘ کا ’اختیار‘ اور ’مرجعیت‘ اس کیلئے سب سے بڑا حوالہ ہو۔ جمہوریت کی یہ عالمی شریعت چونکہ ہمارے ہاں بھی درآمد ہوئی ہے اس لئے جمہوریت کے اس دین پر ایمان رکھنے والے آپ کے ساتھ اسلام کے نام پر یا کسی بھی اور مسئلے پر مفاہمت کرتے ہوئے صرف وہاں تک جائیں گے جہاں تک جمہوری شریعت کی یہ آخری حد متاثر نہ ہوتی ہو .... جو کہ ’پارلیمنٹ کا اختیار‘ ہے۔ اس کے لئے یہ کبھی آپ کو ’اختلاف فقہائ‘ کا ہوّا دکھائیں گے۔ کبھی شریعت کے مدوّن حالت میں نہ پائے جانے کی بات کریں گے۔ کبھی ’اجتہاد‘ کی ضرورت واضح کرنے پر زور دیں گے۔ کبھی غیر مسلم اقلیتوں کے جینے کے حق کا واسطہ دیں گے۔ (گویا اسلام کے کئی سو سالہ دور اقتدار میں تو غیر مسلم اقلیتیں شاید مار ہی دی جایا کرتی تھیں!) کبھی یہ عصری تقاضوں کا شور الاپیں گے۔ کبھی اسلامی نظام کے ماہرین کے نہ پائے جانے کا رونا روئیں گے۔ [ملاحظہ فرمائیے: اس مضمون کی پہلی قسط (ایقاظ شمارہ اکتوبر تا دسمبر ٢٠٠٣)] مگر ان سب باتوں کا مدعا ایک ہے اور وہ یہ کہ آج کی یہ ’مہذب‘ (اور خدا سے دور) دنیا روئے زمین پر ہر طرف ’پارلیمنٹ‘ کے نام سے جس چیز کا دم بھرتی ہے اس کی وہ عالمی حیثیت مسلّم رہے۔ ’مفاہمت‘ پر بھی یہ ضرور تیار ہو جائیں گے اور اسلام کی ’کچھ باتوں‘ کو آدھا پونا قبول کرکے یہ معاملہ (ڈيل) کرنا بھی چاہیں گے مگر یہ کہ ’پارلیمنٹ‘ نام کی اس مخلوق کو خدائے مالک الملک کے آگے پورا پورا سجدہ ہی کروا دیا جائے .... یہ خدا کے سامنے باقاعدہ گھٹنے ہی ٹیک دے.... یعنی خدا اور سول جہاں کوئی فیصلہ کر دیں اس کو کوئی اختیار تو کیا چوں وچرا تک کی اجازت نہ ہو.... یہ البتہ بہت بھاری بات ہے۔ ایسا اگر ہو گیا تو شاید انکے خیال میں جمہوریت کے بانیوں اور پارلیمنٹ کی ناموس پہ مرنے والوں کی روحیں قبروں سے نکل آئیں گی اور دُنیا دہل کر رہ جائے گی۔ چنانچہ ’حاکم اعلیٰ‘ کی بات ہے تو تب، ’اسلامائزیشن‘ کا شور ہے تو تب، ’اسلامی دفعات‘ ہیں تو وہ .... ان میں سے ہر چیز کی آخری حد وہی ہے۔ یعنی ’پارلیمنٹ کا اختیار‘ ہر چیز کی حد یہاں ختم ہو جاتی ہے۔ ’حاکم اعلیٰ‘ یا ’اسلامی قانون سازی‘ والی سب دفعات کے درمیان سے جمہوریت اپنے لئے یہ راستہ بہرحال بنا لیتی ہے کہ جمہوری عقیدے کا یہ اصل الاصول باقی وبرقرار رہے۔ پارلیمنٹ کی بالادستی پر کوئی مفاہمت نہیں! چنانچہ یہ نظام اگر کسی چیز کا ’فرماں بردار‘ کہا جا سکتا ہے تو وہ ’پارلیمنٹ‘ ہے۔ حکمران اس میں کتنے بھی غیر جمہوری ہتھکنڈے اپنائیں پھر بھی مجموعی طور پر کسی چیز کے ’قانون‘ ہونے کیلئے اس میں آخری حوالہ ’پارلیمنٹ‘ ہی ہے۔ ایک ’ڈکٹیٹر‘ کو بھی جیسے کیسے اپنے اقدامات کی منظوری پارلیمنٹ سے لینا پڑتی ہے۔ وہ کتنی بھی دھونس دھاندلی کرے آخری حوالہ اس کیلئے بھی ”پارلیمنٹ“ ہے۔ ہاں اگر کسی چیزکے ’قانون‘ ہونے کیلئے آخری حوالہ ’خدا کی تنزیل‘ اور اس کا ’رسول‘ ہو اور کسی چیز کے ’لاقانون‘ ہونے کیلئے بھی آحری حوالہ ’خدا کی تنزیل اور اس کا رسول‘ ہی ہو تو اس نظام کو مجموعی طور پر خدا کا فرماں بردار کہا جائے گا چاہے ذاتی حیثیت میں حکمرانوں کے اندر خدا کی کچھ نافرمانی ہی کیوں نہ پائی جائے۔ کیونکہ حکمرانوں کے ذاتی حیثیت میں خدا کی نافرمانی کر لینے سے ’نظام‘ کی سرکشی لازم نہیں آتی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہے انکے اس عذر کی حقیقت جو ’آخر شریعت کی کونسی تعبیر کو اختیار کیا جائے؟‘ کے شکوہ کی صورت میں یہ پیش کیا کرتے ہےں۔ یہ شکوہ دراصل ’پارلیمنٹ کا اختیار‘ ثابت کرنے کیلئے ہے۔ یہ ’حاکم اعلیٰ‘ سے ایک طرح کی معذرت ہے۔ یعنی ان پر ’حاکم اعلیٰ‘ کی بات کبھی واضح ہی نہیں ہوتی۔ پس اس ازالہء ابہام کی یہی ایک صورت ٹھہری ہے کہ سارا معاملہ پارلیمنٹ اپنے ہی ہاتھ میں لے لے! نتیجہ کیا نکلا؟ خدا اور رسول کی بات کو ’مذہب‘ ہونے کیلئے کوئی اضافی شرط پوری نہیں کرنی۔ بس وہ خدا کے ہاں سے اتری تو وہ ’مذہب‘ ہے۔ مگر ’قانون‘ ہونے کیلئے اس کو بڑے پاپڑ بیلنا ہوں گے۔ قانون ’ہونے‘ کیلئے شریعت کو ’منظوری چاہیے‘۔ یہ ’منظوری‘ وہ کس سے لے؟ اس کا جواب سب جانتے ہیں۔ مسئلہ صرف اتنا ہے کہ ایک بات سیدھی صاف کی نہیںجا رہی۔ قریب قریب پوری دُنیا میں جو ایک جمہوری اصول رائج ہے وہی اپنے ہاں بھی پوری طرح رائج ہے۔ مگر ’خدا اور رسول کے احترام‘ میں اس کا بیان یہاں ذرا مختلف انداز میں کیا جاتا ہے۔ یہ ایک عالمی شریعت ہے جسے دُنیا کے بیشتر معاشرے قبول کر چکے ہیں: ’مذہب‘ کا مصدر ’خدا‘ اور ’قانون‘ کا مصدر ’ناخدا‘۔ معاملے کی آخری حد بس یہ ہے۔ آگے آپ اس کو کس طرح سمجھتے اور کس طرح بیان کرتے ہیں اور اس کے کیا دلائل دیتے ہیں، یہ آپ پر ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسلام کے اصول فقہ میں ایک چیز کے ’مذہب‘ ہونے کیلئے عین وہی علمی شروط نہیں جو کسی چیز کے ’قانون‘ ہونے کیلئے پوری ہونا ضروری ہیں’ یا تو آپ کہیے کہ اسلام بس مذہب ہے قانون نہیں۔ پس اگر اسلام سے کچھ ثابت ہوتا ہے تو اس کو ’مذہب‘ رہنے دیجئے ’قانون‘ خدا کے ہاں سے اترتا ہی نہیں لیکن اگر آپ کو یہ شرک نظر آتا ہے تو پھر اسلام سے جب ایک چیز ثابت ہو رہی ہو اس کے بیک وقت مذہب اور قانون کہلانے میں کیا رکاوٹ رہ جاتی ہے؟ رہی اسلام کی تعبیر اور تفسیر تو یہ رکاوٹ کیا صرف اسلام کو بطور قانون ماننے کے وقت ہی پیش آتی ہے؟ کیا اسلام کو بطور مذہب مانتے وقت اور اسلام کے مذہبی مسائل کے معاملے میں ہرگز کسی تعبیر اور تفسیر کی ضرورت نہیں ہوتی؟ ’اختلاف‘ اگر کوئی ہوّا ہے تو کیا ’مذہبی‘ مسائل میں اختلاف نہیں ہوا؟ نماز کے بے شمار مسائل میں احادیث کے صحیح وضعیف ہونے میں محدثین کا اختلاف نہیں ہوا؟ نماز کے بے شمار مسائل میں فقہاءکے ہاں کیا تعدد آراءنہیں پایا گیا؟ تو کیا پھر ’اختلاف‘ کے پیش نظر نماز پڑھنا اور پڑھانا بھی چھوڑ دی جائے گی؟ روزہ بھی موقوف ہو جائے گا؟ کیا واقعتا جس شرعی معاملے کی کسی جزئیت میں اہل علم کے ہاں اختلاف ہو گیا ہو آپ اس کو کلیتاً چھوڑ دینا یا موقوف کر دینا یا مکمل طور پر اپنی چلانا ہی وہاں مسئلے کا حل سمجھیں گے؟ اختلاف اور تفرقہ دو مختلف چیزیں ہیں۔ مگر جہاں تک تفرقہ کی بھی بات ہے توتفرقہ پیدا کرنے والے تو نماز روزہ ایسے خاص ’مذہبی‘ مسائل میں بھی تفرقہ کو ہوا دینے سے نہیں چوکتے۔ پھر بھی نماز آپ ___ اگر پڑھنی ہو تو ___ پڑھ ہی لیتے ہیں۔ ’نماز کیسے پڑھیں؟‘ کا مسئلہ وہاں کسی نہ کسی طرح آپ حل کر ہی لیتے ہیں۔ طریقہ وہی سادہ طریقہ ہے۔ نماز آپ جس طبقہء علم سے بھی سیکھ کر پڑھیں گے قیام، رکوع، سجود اور تشہد وغیرہ بہرحال کریں گے۔ کیونکہ ہر طبقہء علم ہی آپ کو نماز کے بارے میں یہ بنیادی مسائل لازماً بتائے گا۔ البتہ نماز کے کچھ مسائل میں ___ جو کہ نماز کے اہم ترین مسائل نہیں ___ آپ دستیاب علم کے ایک منتخب حصہ پر عمل کریں گے یعنی دیگر طبقہ ہائے علم سے مختلف روش اختیار کریں گے .... نماز البتہ آپ پڑھ لیں گے۔ گویا جس کو نماز پڑھنی ہو وہ ’اختلافات‘ کے باوجود نماز پڑھ سکتا ہے۔ روزہ بھی رکھ سکتا ہے۔ زکوٰت بھی دے لیتا ہے۔ ’دین کی مختلف تعبیریں‘ یہاں اس کا راستہ روک کر کھڑی نہیں ہو جاتیں مگر سود کی حرمت کے بارے میں، فحاشی اور بے حیائی کی شناعت کے معاملے میں، اجتماعی زندگی کے اندر اللہ کی کھلی کھلی حدوں کے معاملے میں ’اختلاف‘ آپ کے آڑے آجاتا ہے! یہاں آپ کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ خدا کے حکم کو اگر قانون ہونا ہے تو پہلے اس کی جزئیات تک میں ’اختلافات‘ کا خاتمہ ہو بصورت دیگر خدا کے حکم کی جزئیات آپ کے ہاں کوئی حیثیت رکھیں گی اور نہ کلیات!!! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس موضوع کا ایک پہلو شاید ابھی تشنہء وضاحت ہے۔ شریعت کے بعض معاملات میں، اور بعض مواقع پر، بلاشبہ اس بات کی ضرورت پڑتی ہے کہ وہاں شریعت کی متعدد تعبیرات میں سے کسی ایک تعبیر کو ہی ایک وقت میں اختیار کیا جائے۔ یعنی اس پر لوگوں میں ایک وسیع تر اتفاق پایا جائے یا یہ کہ اس کو لوگوں کے مابین مشترکہ طور پر اپنایا جائے۔ یعنی بعض معاملات میں، اور بعض مواقع پر، شرعی حکم کی کسی تفسیر کو اگر متفقہ طور پر نہ اپنایا جا سکتا ہو، وہاں مشترکہ طور پر اپنایا جائے۔ ان دونوں میں کیا فرق ہے؟ شرعی احکام پر سب علمی طبقوں کا اتفاق تو خاص معاملات کے اندر ہے۔ ان کو ہم نے دین کے مسلمات کہا ہے۔ ان میں جب اتفاق ہے تو آپ سے آپ یہاں سب کا اشتراک ہے۔ ان میں کسی چوں وچرا کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ البتہ شریعت کے کسی فرعی مسئلہ کی بابت اہل علم میں اگر کوئی اختلاف ہوا ہے تو معاشرے کے کچھ اجتماعی فورم ایسے ہیں جہاں ایک شرعی مسئلہ کی متعدد علمی تفسیروں میں سے کسی ایک ہی تفسیر کو ایک وقت میں اختیار کیا جا سکتا ہے۔ معاشرے کے بعض فورم ایسے ہیں جہاں سب آراءپر بیک وقت عمل ممکن نہیں۔ ایسی صورت میں ___ اس فورم کی حد تک___ فروع شریعت کی کسی ایک تعبیر کو اختیار کیا جا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں شریعت کی یہ تعبیر اگرچہ ’متفقہ‘ نہیں ہے مگر ’مشترکہ‘ ہو گئی ہے .... اور اس کی سماجی عمل میں پوری گنجائش ہے۔ اس کی کچھ تفصیل اب یہاں دی جاتی ہے: یہ دراصل ’ما انزل اللّٰہ‘ کی تعبیر کے حوالے سے سیکولرزم کے پھیلائے ہوئے کچھ شبہات کا ازالہ ہے اور یہ ازالہ ہمیں بے حد ضروری معلوم ہوتا ہے: کلیات شریعت تو بذات خود واضح اور متعین ہیں جیسا کہ ہم پیچھے ذکر کر آئے ہیں۔ البتہ سماجی زندگی کے بعض فورموں پر جزئیات شریعت کی بھی ایک معین (يونيفائيڈ) تعبیر کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ یہ واقعی سچ ہے۔ کچھ شک نہیں کہ اجتماعی نوعیت کے بعض امور میں جزئیات شریعت کی کسی ایک تعبیر پر وسیع تر اتفاق کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ لین دین اور اسی نوعیت کے دیگر معاملات میں عندالنزاع لوگ شریعت کی کسی ایک متعین تعبیر کی طرف رجوع کر سکیں اور متنازع اطراف اپنے اپنے عالم یا محدث کی تحقیق کا حوالہ نہ دیتے رہیں! اس کا حل اسلامی معاشروں میں یہ اختیار کیا جاتا رہا ہے کہ اجتماعی معاملات کے بعض فورموں پر عند التنازع لوگوں کو شریعت کی متعدد فقہی تعبیروں میں سے کسی ایک تعبیر پر لے آیا جائے۔ البتہ اس کے ماسوا امور میں یا اس کے ماسوا مواقع پر لوگوں کو اپنے اعتماد کے اہل علم سے ہی فروع دین کا فہم لینے دیا جائے۔ اجتماعی معاملات میں ___ جہاں ایک وقت میں کسی ایک ہی فقہی رائے پر فیصلہ ہو سکتا ہے اور متنازعین کے مابین متعدد آراءپر بیک وقت عمل ممکن نہیں ___ شریعت کی متعدد فقہی تعبیروں میں سے کسی ایک تعبیر کو مقرر ٹھہرا دینے سے مراد ضروری نہیں چار مذاہب میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کی فرضیت ہو۔ خلفائے راشدین خود مجتہد تھے۔ بعد کے خلفاءاس کام کو اپنے وقت کے معتمد علمائے شریعت وفقہائے دین پر چھوڑ دیتے رہے ہیں کیونکہ یہ کام اہل علم ہی کے کرنے کا ہے۔ اب یہ علماءجن کو افتاءاور قضاءوغیرہ کی ذمہ داری سونپی گئی اپنے ماتحت عدالتوں اور قاضیوں کیلئے ان امور کا تعین کر دیں گے جو عندالنزاع ان کومدنظر رکھنا ہوں۔ اب یہ افتاءاور قضاءکی مسند پر بیٹھے فقہائے کبار حالات کی رعایت سے کسی ایک مذہب کو اختیار کریں یا متعدد مذاہب سے قول راجح اختیار کریں یا مختلف علاقوں اور خطوںمیں وہاں مقامی طور پر رائج فقہی مذاہب کے جاننے والوں کو قضاءکی ذمہ داری سونپیں .... یا کوئی بھی مناسب حال صورت اختیار کریں .... یہ فیصلہ کرنا ان اہل علم کا کام ہے جن کو ___ خاص اجتماعی و عدالتی امور میں ___ خدا کے اتارے ہوئے قانون کی تعبیر اور تفسیر کی ذمہ داری سونپی گئی ہو۔ صدیوں مسلم معاشروں کے اندر معاملہ یوں ہی چلتا رہا۔ خدا کا اتارا ہوا خود بخود ’مذہب‘ بھی تھا اور ’قانون‘ بھی۔ البتہ وہ معاملات جن میں متعدد اصناف کے فقہی پس منظر رکھنے والے گروہوں کا ایک ساتھ چلنا ضروری ہو وہاں آپ کی مقتدرہ علمی قیادت ___ خواہ وہ امام ہے یا قاضی القضاہ یا کوئی مجلس علماء___ لوگوں کیلئے فروع دین کی کسی ایسی تعبیر کا تعین کر دے گی جس پر عندالنزاع فیصلہ ہو۔ البتہ اس بات سے یہ تاثر لینا درست نہیں کہ ’دیکھا پھر مذہب اور قانون کا فرق نکل آیا‘! یہ انداز فکر صرف اور صرف سیکولرزم کے زیراثر عام ہوا ہے اور یہ ایک بڑی گمراہی اور تباہی کا شاخسانہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ’مذہب‘ کے بہت سے اجتماعی معاملات میں بھی ایک مشترکہ تعبیر کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ بات صرف ’قانون‘ کے ساتھ خاص نہیں۔ ایک ایسی مسجد جس میں متعدد فقہی آراءرکھنے والے لوگ نماز ودیگر فرائض دین کی مل کر ادائیگی کرتے ہیں ___ اور تعدد آراءظاہر ہے نہ تو دین کے ’مذہبی‘ فرائض مل کر ادا کرنے میں مانع ہے اور نہ ’سماجی‘ فرائض ___ تو ایسی ہر مسجد میں اس سوال کا اٹھ کھڑا ہونا ایک طبعی امر ہے کہ بعض متنازع امور میں اجتماعی طور پر کیا طرز عمل اختیار کیا جائے۔ رمضان میں وتر کا معاملہ ہے۔ سب کو مل کر وتر ادا کرنا ہے۔ سنت اور صحابہ کے طرز عمل سے استدلال کرنے میں متعدد فقہی آراءہیں۔ ایک ہی مسجد میں کئی سارے ذہن پائے جاتے ہیں۔ یہاں آپ کیا کریں گے؟ سجود سہو کا معاملہ ہے۔ جمعہ کے کئی سارے مسائل ہیں۔ عید کی تکبیرات کا معاملہ ہے۔ عید کے خطبے دو ہوں یا ایک؟ زکوٰت کے مصارف کا معاملہ ہے۔ حج کے کئی مسائل میں اہل علم کی تحقیق مختلف ہے۔ ان مسائل کی بنیاد پر لوگ ظاہر ہے الگ الگ وتر کی جماعت نہیں کروائیں گے۔ الگ الگ جمعے نہیں پڑھیں گے۔ الگ الگ عید ادا نہیں کریں گے۔ الگ الگ حج نہیں کریں گے۔ یہ سب قانون کے نہیں ’مذہب‘ کے معاملات ہیں۔ یہاں مسلمان کیا طرز عمل اختیار کریں گے؟ مصر، شام، عراق، یمن اور کئی سارے مسلم ملکوں میں ایک سے زیادہ فقہی مسالک پائے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود خدا کا فضل ہے کہ ’فقہی اختلافات‘ کی بنا پر محلوں کی مسجدیں الگ الگ نہیں۔ مختلف فقہی مسالک کے لوگ مل کر بڑے آرام سے ایک ہی مسجد میں نماز پڑھ لیتے ہیں .... باوجود اس کے کہ ہر آدمی فروع دین میں جس فقہی تعبیر پر مطمئن ہے اس پر عمل بھی موقوف نہیں کرتا اور لوگ اکٹھے بھی رہتے ہیں .... سوال یہ کہ کیسے؟ مسئلے کا حل بہت ہی آسان ہے اور عالم اسلام کا ایک بڑا حصہ آج تک اس پر عمل کرتا آیا ہے۔ آپ کو کسی وقت انفرادی طور پر وتر پڑھنا ہے تو اسی طریقے سے پڑھیے جسے آپ اقرب الی الحق سمجھتے ہیں۔ البتہ جماعت سے وتر پڑھتے ہیں تو وہاں آپ کو مسجد میں متعین امام کی اقتدا کرنا ہوگی۔ آپ امام سے اختلاف ضرور کیجئے اور دلائل شریعت کی روشنی میں اس سے اختلاف کا آپ کو پورا حق ہے مگر خاص اجتماعی معاملات میں اوران خاص اجتماعی مواقع پر آپ امام ہی کی اقتدا کریں گے۔ جمعہ کے وہ سب مسائل جن پر آپ کو انفرادی طور پر عمل پیرا ہونا ہے ان میں آپ اپنی تحقیق یا مسلک پر چلیے مگر جمعہ کے خاص اجتماعی امور جن میں سب کو مل کر ہی چلنا ہے اور جن میں ایک وقت کے اندر ایک سے زیادہ مسالک پر عمل ممکن ہی نہیں، ان میںالبتہ آپ امام کی اقتدا کریں گے۔ حج کے سب امور جن پر لوگ فرداً فرداً علیحدہ طرز عمل اختیار کر سکتے ہیں ان میں آپ اپنی تحقیق یا مسلک پر عمل پیرا ہوئے مگر حج کے اجتماعی امور میں آپ حج کے امام کے تابع ہیں۔ [مثلاً یہ کہ اختلاف مطالع یا اتحاد مطالع کی بنا پر آپ کے نزدیک ذوالحجہ کی جو بھی تاریخ بنتی ہے، حج آپ اسی روز کریں گے جس روز حج کا امام حج کرے گا۔ اپنا الگ ’عرفہ‘ آپ نہیں کریں گے بے شک آپ امام کی اختیار کردہ رایت سے اختلاف ہی کیوں نہ کرتے ہوں۔] یورپ اور امریکہ کی بیشتر مساجد میں جہاں دُنیا بھر کے مسلم ممالک سے آئے ہوئے لوگ اکٹھے ہوتے ہیں اور بے حد مختلف Diverse علمی وفقہی پس منظر رکھتے ہیں مگر سمجھدار ہوتے ہیں متنازعہ اجتماعی امور میں ’امام‘ پر مجتمع ہو کر بڑے آرام سے مسئلے کا حل نکال لیتے ہیں۔ خود اپنی تحقیق یا اپنی فقہی پس منظر پر بھی لوگ ذاتی طور پر کاربند رہتے ہیں حتی کہ اپنے دلائل امام کے گوش گزار بھی کرتے ہیں پھر بھی یہ طریقہ اختیار کرکے ان امور کو جو بیک وقت متنازعہ بھی ہیں اور اجتماعی بھی باحسن اسلوب نمٹاتے ہیں۔ حتی کہ آپ جانتے ہیں نکاح، طلاق، خلع، وراثت وغیرہ ایسے امور میں بہت سے فرعی مسائل ایسے ہیں جن میں فہم نصوص کے اندر اہل علم کا اختلاف ہوا ہے۔ یورپ اور امریکہ میں کہیں مسلم عدالتیں نہیں پائی جاتیں۔ عندالنزاع لوگ امام سے فیصلہ کرا لیتے ہیں جو کہ ممکنہ حد تک متنازعین کے فقہی پس منظر کاخیال رکھتا ہے۔ متنازع اجتماعی امور میں یہی طریق کار اختیار کیا جانا ممکن ہے۔ پس اجتماعی معاملات میں ___ خاص مواقع پر ___ فروع شریعت کی ایک متعین تعبیر کی طرف رجوع کیا جانا حرج کی بات نہیں۔ اس کی ضرورت ’مذہبی‘ معاملات میں بھی اتنی ہی پڑ سکتی ہے جتنی کہ ’قانونی‘ معاملات میں۔ یہ ہے ما انزل اللّٰہ کی تعبیر اور تفسیر کا معاملہ۔ رہا ما انزل اللّٰہ کو ’پاس‘ کرنے کا فلسفہ تو وہ باطل ہے۔ اس سے یہ سمجھنا کس قدر مضحکہ خیز ہے کہ چونکہ فروع شریعت میں کہیں کہیں فقہاءکے مابین فہم واستدلال کا اختلاف پایا جاتا ہے (جبکہ اصول شریعت میں یہ مسئلہ سرے سے پایا ہی نہیں جاتا!) اس لئے شریعت کی مذہبی حیثیت تو آپ سے آپ ہے البتہ قانونی حیثیت نہیں اور یہ کہ ’قانونی حیثیت‘ پانے کیلئے ___ خواہ وہ شریعت کے اصول ہوں یا فروع ___ شریعت کو پارلیمنٹ کی منظوری درکار ہے! زیادہ سے زیادہ جو بات کہی جا سکتی ہے وہ یہ کہ خاص اجتماعی نوعیت کے معاملات میں شریعت کے معنی ومراد کے تعین کا اسلام میں ایک خاص طریق کار ہے: -1 خدا کی جانب سے اتری ہوئی شریعت کی ___ مسلم معاشرے میں ___ آپ سے آپ برتری اور بالادستی ایک طے شدہ امر ہے۔ بلکہ مسلم معاشرہ کہا ہی اسے جاتا ہے جس میں ما انزل اللہ کو ہر چیز پر بالادستی حاصل ہو۔ -2 لوگ شریعت کا علم اہل علم سے لیں گے۔ -3 اصول شریعت میں اہل علم اختلاف کر ہی نہیں سکتے۔ پس اصول شریعت کی بابت دو رائیں پائی ہی نہ جائیں گی۔ یہ اسلام کے طے شدہ اور معلوم امور ہیں اور یہی شریعت کا ایک بڑا حصہ ہے۔ -4 رہے فروع شریعت تو ان میں بعض مقامات پر اہل علم کے ہاں تعدد آراءپایا جا سکتا ہے۔ اہل علم کی تبعیت میں یہ تعدد آراءعام مسلمانوں میں بھی سرایت کرے گا۔ اس میں کچھ حرج کی بات نہیں جب تک کہ اصل مرجعیت کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو حاصل رہتی ہے۔ لوگ انفرادی طور پر اپنی تحقیق یا اپنے اختیار کردہ مسلک پر عمل کرنے میں آزاد ہیں۔ -5 البتہ کچھ خاص اجتماعی معاملات کے اندر جہاں ایک وقت میں ایک ہی قول اختیار کیا جا سکتا ہے ___ بات فروع شریعت کی ہو رہی ہے ___ وہاں پر مسلم قیادت یا مسلم قاضی کا اختیار کردہ قول ہی متنازعین کے مابین محکم (آربيٹر) ہو گا۔ مسلم قاضی کو تعینات کیا جاتے وقت یا حتی کہ بعد میں بھی قاضی القضاہ (یا وقت کی مقتدرہ علمی قیادت) کی جانب سے ہدایات دی جا سکیں گی کہ فروع شریعت میں کسی مسئلہ کی بابت عندالاختلاف اس کو کیا طرز عمل اختیار کرنا ہے۔ وقت کی مقتدرہ علمی قیادت (قاضی القضاہ یا جو کوئی بھی ہو) وقتاً فوقتاً اپنے فیصلوں اور اپنے اجتہادات میں اگر کوئی تبدیلی یا ارتقاء(ڈيوليپمنٹ) لے کر آتی ہے تو وہ اپنے ماتحت عدالتوں اور محکموں کو ان کی بابت باخبر (اپ ڈیٹ) کرتی رہے گی۔ غرض اسلامی نظام یہ ہے کہ شریعت آپ سے آپ قانون ہے۔ خواہ اصول شریعت کا معاملہ ہو یا فروع شریعت کا اس کو قانونی حیثیت آپ سے آپ حاصل ہے۔ رہی بات تعبیر (انٹرپریٹيشن) کی تو اصول شریعت امت کے اندر واضح اور متفق علیہ ہیں۔ سو قانون کا یہ حصہ خودبخود واضح ہے یہاں چوں وچرا ممکن ہی نہیں۔ البتہ ’قانون‘ کا ایک حصہ وہ ہے جس میں ماہرین قانون (فقہائ) کے مابین تعدد آراءہو سکتا ہے۔ ’قانون‘ کے اس حصہ کی بابت لوگ خدا سے ڈرتے ہوئے کسی بھی معتبر ’ماہر قانون‘ (فقیہ) سے مدد لے سکتے ہیں۔ البتہ جہاں معاملہ متعدد متنازع اطراف سے متعلق ہو وہاں دفع نزاع کیلئے ’قانون‘ کی وہی تعبیر محکم ہوگی جس کو اسلامی عدالت کے اندر یا مسلم قیادت کے ہاں اختیار کیا گیا ہو۔ جبکہ ’قانون‘ کے ان ’متنازعہ‘ مسائل کی بابت وقت کی مقتدرہ علمی قیادت اپنے ماتحت عدالتوں اور محکموں کو ایک خاص متعین طرز عمل کی پابند کر سکے گی اور وقتاً فوقتاً اپنے اجتہادات کے اندر تبدیلی بھی لا سکے گی۔ چنانچہ اسلامی نظام کے اندر بات شروع ہی یہاں سے ہوتی ہے کہ ’ما انزل اللّٰہ‘ ہر قانون سے بڑا قانون ہے .... اور یہ کہ خودبخود قانون ہے۔ کوئی سوال اٹھ سکتا ہے تو صرف اس کی تفسیر کا۔ رہی اس کی تفسیر تو اس کا معاملہ ’ماہرین قانون‘ (فقہائے دین) سے متعلق ہے۔ جب اس کا قانون ہونا خودبخود مسلّم ہے تو اس کی تفسیر آپ کو ہر حال میں اصحاب علم اور مصادر علم سے لینی پڑے گی۔ اگر یہ قانون ہے اور اس کے ماسوا لاقانون ہے تو اس کی تفسیر حاصل کئے بغیر آپ کے پاس کوئی چارہ ہی نہیں رہتا۔ پھر آپ اس کی تفسیر اِن اصحاب علم سے لیتے ہیں یا اُن اصحاب علم سے البتہ مجموعی طور پر آپ اس کے بہرحال پابند ہو جاتے ہیں۔ البتہ یہ کہ آپ سرے سے اس کو قانون کا رتبہ دینے یا نہ دینے کا حق رکھتے ہوں .... یا جب مناسب سمجھیں یا جب اکثریت رضامند ہو تب اس کو قانونی حیثیت دینے کا حق رکھتے ہوں .... اور کسی وقت ما انزل اللّٰہ کے ماسوا بھی قانون کا رتبہ دے لیتے ہوں تو اس کے کفر ہونے میں کوئی شک ہی نہیں۔ رہا یہ کہ جس نظام کے اندر خدا کی اتاری ہوئی شریعت پارلیمنٹ کی اکثریت سے منظوری پانے کی محتاج رکھی جائے .... اور پارلیمنٹ سے منظوری پانے کی یہ محتاجی اصول شریعت کو بھی اتنی ہی لاحق ہو جتنی کہ فروع شریعت کو .... اور یہ منظوری ملے بغیر شریعت ’مذہب‘ ہو گی نہ کہ ’قانون‘ .... تو یہ ایک کافرانہ نظام ہے اور ان انسانوں کی جانب سے، جو چند برس بعد قبر میں پڑ کر مٹی ہو رہنے والے ہیں اور پھر ان قبروں سے ننگے پائوں اور برہنہ بدن اٹھائے جانے والے ہیں، مالک الملک کے سامنے ایک بڑی ہی جرات کی بات۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |