سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فہرست مضامین - ایقاظ اکتوبر 2004

بیداری<< منہج

Download in PDF Format

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

الحمد ﷲ والصلوہ والسلام علی رسول اﷲ

اما بعد

حامد کمالدین

"آپ کے فہم دین کا مصدر کیا ہے" مکمل کتابی شکل میں شائع  ہوچکا ہے۔ آن لائن پڑھنے یا ڈاؤنلوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

آپ نے دین کہاں سے سمجھا ہے؟

 

’مرجعیت‘ اس وقت تحریکوں کا ایک بڑا اہم مسئلہ ہے۔ تحریکی نوجوانوں کی حیرانی اور سرگردانی کا ایک بڑا باعث ہے۔ خود قیادتوں کیلئے یہ ایک پریشان کن اور غور طلب بات ہونی چاہیے بلکہ بعض کے ہاں ہے بھی۔ ’تبدیلی‘ کے موضوعات میں یہ بھی ایک بڑا موضوع ہے:

آپ کے فہم دین کامصدر کیا ہے؟

ہمارے یہاں بیشتر دینی وتحریکی طبقے مجموعی طور پر الحمدللہ اہلسنت کے دائرہ سے وابستہ ہیں۔ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی آئینی وشرعی حیثیت ان کے ہاں کبھی محل نظر نہیں رہی۔ فہم کی بات الگ ہے، کتاب اللہ یا سنت رسول اللہ کو رد کر دینے کا رحجان البتہ ان کے ہاں نہیں پایا گیا۔ ’مصدریت‘ ان بیشتر طبقوں کے ہاں قطعی طور پر نصوص وحی کو ہی حاصل ہے۔ سب کے نزدیک ہی دین دراصل قرآن اور حدیث ہے۔

کسی گفتگو کو آگے بڑھانے سے پہلے یہ واضح کر دیا جانا ضروری ہوتا ہے کہ یہ کس طبقے کے ساتھ مخصوص ہے۔ ہماری یہ ساری گفتگو اس تحریکی اور تربیتی اور فکری عمل کے حوالے سے ہے جو مجموعی اور اصولی طور پر اہلسنت کے دائرہ سے وابستہ ہے اور جس کے ہاں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ہرگز کوئی اختلافی حیثیت نہیں رکھتے۔ مذاہب اربعہ، اہل الحدیث، اہل الظاھر (حتی کہ زیدیہ وغیرہ تک جو اگرچہ ہمارے برصغیر میں نہیں پائے جاتے) مصادر دین کی بابت کوئی بہت بنیادی اختلاف نہیں رکھتے۔ پس اپنی گفتگو میں ہم اس دائرے سے باہر نہیں نکلیں گے۔ رہے وہ طبقے جو ہمارے ساتھ اس اصل پر ہی متفق نہیں اور جن کے لئے مرجع کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ اس طرح نہیں جس طرح کہ اہلسنت کے ہاں ہے مثلاً روافض، خوارج، معتزلہ، صوفیا کے باطنی مذاہب، نیچرسٹ اور سیکولر وغیرہ ایسے افکار کے پیروکار تو وہ ہماری اس گفتگو کے بنیادی مخاطب نہیں کیونکہ ہمارے اور ان کے مابین ایک اصولی اور بنیادی اختلاف کی دیوار حائل ہے اور کسی ایک فریق کو اس کو پار کئے بغیر مفاہمت ممکن نہیں۔ اس طبقہ کے ساتھ گفت وشنید بھی ضرور ہونی چاہیے اور بلاشبہ اس طبقہ میں بھی بہت سے مثبت سوچ رکھنے والے اصحاب پائے جا سکتے ہیں مگر اس کیلئے کوئی اور موقعہ درکار ہے اور ایک مختلف اپروچ۔

آپ کے فہم دین کا مصدر کیا ہے؟

اس کا سیدھا جواب کچھ طبقوں کی طرف سے یہ ملتا ہے کہ: ”قرآن اور حدیث“۔ قرآن اور حدیث سے بڑھ کر حق بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ قرآن وحدیث کے سوا حق کا کوئی پیمانہ اپنے پاس اور رہتی دنیا تک پوری انسانیت کے پاس کوئی نہیں۔ دین کے حقائق وحی کی انہی نصوص میں محفوظ ہیں اور قیامت تک محفوظ ہیں۔ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کے سوا علم حقیقی کا کوئی مصدر نہیں۔

مگر مسئلہ سوال کی نوعیت کا ہے۔ سوال کا مقصود متعین کئے بغیر جواب دے دیا جانا بسا اوقات الجھن بڑھا دینے کا سبب ہوتا ہے نہ کہ الجھن کا حل۔ اس سوال کے ساتھ بھی بعض طبقوں کی جانب سے یہی معاملہ ہوتا ہے۔ ’دین‘ اور ’قرآن و حدیث‘ دو الگ الگ چیزیں نہیں۔ یہ ایک ہی چیز ہے۔ آپ نے دین ’قرآن وحدیث‘ سے سمجھا ہے تو زیادہ واضح ہونے کیلئے ہم یہ سوال یوں رکھ لیتے ہیں کہ: ”آپ نے قرآن اور حدیث کو کہاں سے سمجھا ہے؟“۔

یہ سوال البتہ واقعتا غور طلب ہے اور توجہ طلب۔

مرجعیت آج تحریکوں اور دین سے دلچسپی رکھنے والوں کا واقعتا ایک اہم مسئلہ ہے۔

’قرآن اور حدیث‘ تو خودبخود واضح ہیں۔ اس کو ’کہیں‘ سے سمجھنے کا کیا سوال؟‘ یہ ایک انداز فکر ہے اور اس کی تہہ میں جانا کسی حد تک ضروری ہے۔ اس کے بعد ہم بعض دیگر انداز ہائے فکر پر بھی کچھ گفتگو کریں گے۔

قرآن اور حدیث دین کا اصل مصدر ہیں۔ بلکہ دین ہیں۔ یہ بات ہر بحث اور ہر شبہہ سے بالاتر ہے۔ اس کے سوا خدا نے انسانوں کی ہدایت کیلئے اپنے رسول پر کچھ نہیں اتارا۔ دین کا یہ منبع محکم ہے اور اپنے آپ میں بے انتہا واضح۔ مگر پھر بھی اس کی تفسیر ایک باقاعدہ علم ہے اور اس علم کو درست طور پر جاننے اور سمجھنے والے تاریخی طور پر کچھ متعین لوگ ہیں۔

یوں تو خدا کی یہ کائنات بھی ایک کھلی کتاب ہے۔ ان کو بھی کتاب اللہ میں خدا کی آیات کہا گیا ہے۔ بلاشبہ یہ ایک واضح کتاب ہے۔ ہر کوئی اس کو پڑھ سکتا اور اس سے فوائد کشید کر سکتا ہے۔ کتاب کائنات سے فوائد کشید کرنے کے بے شمار پہلو ہیں۔ کچھ ایمانی ہیں اور کچھ واقعاتی۔ کائنات کو واقعاتی انداز میں پڑھنے کا ایک پہلو ’سائنس‘ کہلاتا ہے۔ سائنس کائنات کی بابت کئے گئے انسانی تجربات اور مشاہدات کا نام ہے۔ مگر ’کائنات‘ سے ’سائنس‘ کی کشید کے معاملے میں بھی کیا سب لوگ برابر ہیں؟ کیا اس کا علم کچھ مخصوص مصادر سے لیا جانا ضروری نہیں؟ تجربے اور مشاہدے کی بابت کچھ خاص متعین اصول نہیں؟ سائنس کی وادی میں آکر کیا ہر کسی کو اپنا ”پہیہ“ ایجاد کرنا ہوتا ہے یا ’پہیے‘ کی بابت پہلے سے قائم تصور کو لے کر ہی آگے بڑھانا ضروری ہوتا ہے؟ سائنس کی بابت آدمی کو کیا کسی تاریخی تسلسل کا حصہ بننا ہوتا ہے یا اس سے الگ تھلگ رہ کر ہی کائنات کے حقائق کو دیکھنا اور پرکھنا ہوتا ہے؟ کائنات تو وہی کائنات ہے جو دس ہزار پہلے تھی۔ مگر کائنات کو پڑھنے کا عمل ایک تاریخی تسلسل ہے اور اب اس کے کچھ خاص قواعد وضوابط ہیں اور کچھ متعین مراجع جن سے منقطع رہنا ہرگز کوئی علمی رویہ نہیں۔

ضروری نہیں یہ مثال ’دین کے علم‘ کے معاملہ سے سوفیصد مطابقت رکھتی ہو۔ مگر یہ اس سے سوفیصد متعارض بھی نہیں۔ ان دونوں معاملوں کا مشترکہ پہلو ہی دراصل اس مثال سے ہمارا مقصود ہے۔

بنا بریں یہ بات کہ قرآن وحدیث اپنے آپ واضح ہیں، اس بات سے متعارض نہیں کہ قرآن اور حدیث کو پڑھنے اور سمجھنے کا درست طریق کار اختیار کیا جائے اور اس کے فہم کے معاملہ میں صرف اور صرف درست مراجع پر ہی انحصار کیا جائے۔ یہ ’درست مراجع‘ ہی چنانچہ ہماری اس گفتگو کا اصل موضوع ہے۔ ’مرجعیت‘ آج کے تحریکی اور اصلاحی عمل کی راہ میں واقعتا ایک اہم سوال اور ایک وضاحت طلب مسئلہ ہے اور اس سے صرف نظر کرنا ایک بہت بڑے فرض کو تشنہءتکمیل چھوڑ دینا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس مضمون میں دراصل ہم ایک اہم موضوع متعارف کرانا چاہ رہے ہیں۔ گو یہ ایقاظ کا ایک مستقل موضوع رہے گا بلکہ خدا نے چاہا تو ایقاظ کی پہچان بھی۔ یہ ہے دین کے فہم کے معاملہ میں اصول اہلسنت پر اعتماد۔ یہ موضوع آگے چل کر ہمیں نہ صرف یہ کہ اہلسنت کا ایک تاریخی اور واقعاتی تسلسل بن جانے میں مدد دے گا بلکہ یہ ہمیں وحدت اُمت کا ایک درست اور متوازن تصور بھی دے گا اور عملاً اس راہ پر بھی ڈال دے گا۔

وحی کی طرف رجوع کس طرح؟ دین کی تفسیراور تعبیر کے معاملہ میں بے شمار انداز اور طریقے اپنائے گئے ہیں۔ ان میں غلط اور درست کے تعین کا کیا ہمارے پاس کوئی ذریعہ ہے؟ مگر اس سے بھی پہلے سوال یہ ہے کہ ہر آنے والے شخص کو دین کی تعبیر اور تفسیر کیا خود کرنی ہے اور اس عمل کا ازسرنو آغاز کرنا ہے یا پہلے سے موجود کسی تسلسل کا حصہ بننا ہے جس کا مطلب ہے کہ اس کو پہلے سے کی گئی دین کی کسی تعبیر اور تفسیر کو ہی اپنانا ہے؟ اور پھر اس کیلئے کسوٹی کیا ہے؟ دین کے حقائق اور فرائض کے فہم میں اگر لوگوں کا کچھ فرق ہو گیا ہو، اور کسی حد تک تو یہ ایک انسانی واقعہ ہے، تو لوگوں کے اس اختلاف یا تنوع کے ساتھ کیونکر پیش آیا جائے؟ کیا ذرہ بھر اختلاف کی گنجائش نہ دی جائے؟ یا اختلاف کے دروازے چوپٹ کھول دیے جائیں؟ توازن کی کیا صورت ہو؟

اس معاملے میں کسی کسوٹی کی ضرورت ہے تو کیا ہر آدمی خود تجویز کرے گا؟ کسوٹی اگر ہر آدمی خود تجویزکرے گا تو کیا سب سے پہلے کسوٹی کے تعین میں ہی اختلاف نہ ہوجائے گا؟ پھر وہ کسوٹی کیا ہوئی؟ کیا کہیں آملنے کی کوئی صورت ہے؟ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ سے لئے جانے والے فہم واستنباط کی صحت جانچنے کیلئے لوگوں کے مابین آخر کوئی تو حوالہ refering point ہو!

اس معضلہ کو مناسب انداز میں حل کئے بغیر لوگوں کو اکٹھا کرنے کیلئے چل پڑنا ایک بڑے انتشار کو برقرار رکھنا اور حل کئے بغیر چھوڑ دینا ہے۔کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ سے درست رہنمائی لینے کا عمل اُمت میں ایک تاریخی واقعہ رہا ہے جس کا اب آپ کو خود اپنے دور میں تسلسل بننا ہے۔ اس میںاگر کچھ تنوع پایا گیا تو اس کی بھی کچھ حدود ہیں۔ اس طرح کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی غلط تاویل اور باطل تشریح بھی اُمت کی تاریخ میں ایک واقعہ رہا ہے جس سے آپ کو دامن بچا کر رہنا ہے۔ اور اس کا تاریخی تسلسل بننے سے خدا کی پناہ مانگنی ہے۔ وحی سے رہنمائی لینا چنانچہ ایک مسلسل عمل رہا ہے۔ یہ کام اُمت کی تاریخ میں آپ پہلی بار نہیں کریں گے۔ باطل میں آپ کچھ یکسر نیا متعارف کرائیں تو اس کا ضرور امکان ہے کیونکہ باطل کسی خاص متعین صورت میں محصور نہیں۔ البتہ حق کے معاملہ میں وہ جو آپ سے پہلے ہیں آپ کو انہی کے پیچھے کھڑا ہونا اور انہی کے پیچھے چلنا ہے۔ والذین اتبعوھم باحسان [(التوبہ: ١٠٠) ”اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں“ (ترجمہ: مولانا محمد جونا گڑھی) اتبعوھم یہاں ضمیر ملاحظہ ہو۔ یہاں یہ ضمیر خدا اور رسول کی طرف نہیں جاتی بلکہ ان لوگوں کی طرف جاتی ہے جو نئے آنے والوں سے پہلے وحی کے متبع اور دین کے پیروکار تھے۔]۔ ایک پہلے سے چلے ہوئے راستے پر ہی آپ کو چلنا ہے۔ اس راستے میں اگر کچھ تنوع ہے تو یہ انسانی فطرت ہے اور اس کی گنجائش ہونا خدا کی مہربانی .... مگر مجموعی طور پر آپ اسی راستے پر رہنے کے مکلف ہیںاور دوسری طرف اہل زیغ وانحراف سے دور رہنے کے پابند۔ حتی کہ اہل زیغ کا تعین بھی اہل اتباع کے تعین اور حوالہ (ريفرنس) سے ہوگا۔

واتبع سبیل من اناب الی [سورہ القمان (١٥) ”پیروی اس شخص کے راستے کی کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے“ (ترجمہ مولانا مودودی)]

درست ہے کہ اُمت پر اس بار جو زوال آیا اور جس کی کہ پہلے کبھی کوئی مثال نہیں ملتی، امت کی صفوں میں ایک بڑے خلا کا باعث بنا۔ اس کے باعث اہل اتباع کا وجود شدید حد تک متاثر ہوا اور اس انحطاط کے ان پر طرح طرح کے اثرات مرتب ہوئے۔ یہاں تک کہ اب وہ نشانات راہ جس پر یہ مجتمع قافلہ صدیوں تک کامیابی کے ساتھ چلتا اور علم وشعور، فکر وبصیرت اور تہذیب ومعاشرت کے سب میدانوں میں دنیا کو متاثر کرتا رہا .... اس کے یہ نشانات راہ اب ایک بڑی حد تک اور ایک بڑی سطح پر ازسرنو متعارف کرائے جانے کی ضرورت مند ہیں اور اس کے وابستگان کو اس راہ پر چلانا اب ایک محنت طلب کام ہے۔ یوں بھی زوال سے نکل کر عروج کی جانب بڑھنے کا یہ تقاضا ہونا ہی چاہیے ورنہ ہم اس کو زوال مانیں ہی کیوں؟ .... کہ دور زوال کی اپنی یادگاریں ہوا کرتی ہیں اور دور عروج اپنی مثالیں رکھتا ہے....

چنانچہ اس بحران کا اعتراف کرنے میں ہرگز ہمیں تامل نہیں بلکہ یہ بھی ہمارے مقدمے case کا ایک حصہ ہے مگر یہ کہ ہمیں اس تسلسل کا حصہ بننے کی اب ضرورت نہیں جو اُمت کے بھلے دنوں میں عالم اسلام کی روح رواں تھا اورمشرق تا مغرب علم، ایمان اور عمل کا ایک حسین ترین اور متوازن ترین نمونہ پیش کرتا رہا تھا، جو نصف کرہء ارض پر خدائے وحدہ لاشریک کی عین اس بندگی کا نقشہ پیش کرتا تھا جو کہ اس کی جانب سے اتری ہوئی وحی کا تقاضا تھا .... سو یہ کہ اتباع کا یہ نمونہ اور تالیف و وحدت اُمت کا یہ نقشہ اور اندرونی وبیرونی سطح پر باطل کی سرکوبی کا یہ اسوہ اپنانا اور اس کا ایک باقاعدہ تسلسل بننا اب ہماری ضرورت نہیں اور یہ کہ اپنا راستہ اب ہم اس تاریخی تسلسل سے بے نیاز رہ کر بھی بنا سکتے ہیں .... تو یہ سوچ اور ذہنیت دراصل اس دور انتشار ہی کی عکاس ہے اور اس بحران کا ہی ایک تسلسل۔

سلف کی راہ ہمیں اس دور میں بھی بلکہ ہر دور میں ہی ایک ایسی بنیاد فراہم کرتی ہے جو مستحکم ہے اور جس پر اہلسنت کے مختلف گروہ اپنی انفرادیت برقرار رکھتے ہوئے بھی مل کر اور جم کر کھڑے ہو سکتے ہیں۔ اصول اہلسنت کی صورت میں یہ راہ ہمارے لئے ہمیشہ کیلئے محفوظ ہے۔ اس میں وحدت ویگانگت کے خدوخال بھی بہت واضح ہیں، اختلاف کی حدود بھی اور باطل کے ساتھ اندرونی وبیرونی کشمکش کا میدان بھی۔ علم، ایمان، عبادت، تزکیہ، تربیت، معاشرہ، تہذیب، سیاست، خلافت، جماعت، وحدت، اصلاح، جہاد، دعوت، امر بالمعروف، اہل بدعت سے تعامل، اُمت پر آنے والے مختلف ادوار اور تغیر حالات کی مطابقت میں مختلف احکام اور مسائل، اصول اور ضوابط .... اصول اہلسنت میں ہمیں سب کچھ ملتا ہے۔

اُمت کے دور اول (یعنی دور سلف) کی اتباع کرنے کی دعوت دیتے ہوئے اور پھر ہر دور میں دور اول کی اتباع کرتے رہنے والوں (جن کو کہ متبعین سلف یا اہلسنت کہا جاتا ہے) کی راہ پر چلنے اور اسی کا تسلسل بننے کی دعوت دیتے ہوئے.... ہمارا مقصد یہ نہیں کہ اب ہر نئی بات اور ہر نئے کام پر پابندی لگ جائے گی اور یہ کہ اپنے دور کے مطابق کوئی لائحہ عمل تجویز کرنے پر سرکھپانا یا اپنے دور کے کسی مسئلے کا حل پیش کرنا غلط ہو جائے گا۔ یا حتی کہ اپنے دور کے مطابق لائحہ عمل اختیار کرنے یا وقت کے کسی مسئلے کا حل پیش کرنے کے معاملہ میں اجتہاد کرنا ممنوع ہوگا یا کسی دوسرے کو اجتہاد کا حق دینا یا حتی کہ اجتہاد میں غلطی کر لینے پر کسی کو عذر دینا ممنوع ٹھہرے گا۔ ہماری اس دعوت کا ہرگز یہ مطلب نہیں، جیسا کہ بعض ذہنوں میں یہ غلط فہمی جنم لے سکتی ہے۔ بلکہ یہ بات خود اصول اہلسنت سے ہی متصادم ہے۔ خود صحابہ نے رسول اللہ کے چھوڑے ہوئے کتاب وسنت کے اصولوں کی بنیاد پر اور اپنے دور کے مسائل اور تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے علم اور تطبیق کو زبردست توسیع دی۔ تابعین نے پھر اس کو بنیاد بناتے ہوئے اپنے زمانے کے مطابق طرز عمل اختیار کیا۔ اتباع تابعین (جن میں کہ ائمہء اربعہ آتے ہیں اور جن کے دور میں فقہ کا پھیلاؤ ہوا اور علوم کی تصنیف اپنے عروج کو پہنچی) نے پھر اسی چیز کا تسلسل بنتے ہوئے اپنے دور کی ضروریات پوری کیں اور نسل درنسل پھر یہ سلسلہ چلتا رہا .... البتہ یہ ایک سلسلہ تھا۔

ایک عدالت میں آنے والا ہر کیس اپنی نوعیت میں گو دوسرے ہر کیس سے مختلف ہو سکتا ہے اور اس کے باعث ہر نئے کیس کا فیصلہ دوسرے سے مختلف اور نیا ہونا متوقع ہو سکتا ہے اور اس لحاظ سے حاضر وقت عدالتوں اور قاضیوں کا کردار کسی بھی وقت حاشیائی نہیں ہو سکتا پھر بھی نئے آنے والے مقدمات کی بابت عدالتیں گزشتہ عدالتوں اور مقدموں کے فیصلوں کو مدنظر رکھنے کی پابند ہوتی ہیں جن کو کہ نظائر (پريسيڈينس) کہا جاتا ہے۔ قانون کتابوں میں بے شک موجود ہو مگر عدالتی نظام اس مفروضہ کو درست نہیں سمجھتا کہ کوئی جج دنیا میں آج پہلی بار عدل قائم کرے گا اور یہ کہ کوئی شخص آج پہلی بار ہی قانون کا صحیح فہم پائے گا۔ عدالتی نظام جج کا تعین بلکہ کرے گا ہی اس صورت میں جب وہ اس میدان میں اپنے سے پہلوں (پريڈيسيسر)کی حیثیت کا اعتراف کرے .... ورنہ وہ عدالتی نظام ’نظام‘ نہیں کہلائے گا۔ اس کو ’سلسلہ‘ نہیں کہا جائے گا۔

’نئے‘ کا امکان بھی ختم نہ ہو اور ’پرانے‘ کی حیثیت اور اہمیت بھی مسلم رہے، ایک ’تسلسل‘ سے ہماری یہی مراد ہے۔

اب یہ ’سلف‘ جس چیز کانام ہے وہ Predecessors کا ہی لفظی ترجمہ ہے۔ ایک سلسلہ کو جو چیز سلسلہ بناتی ہے وہ ريڈيسيسر) کا ہی التزام ہے۔ قانون تو ہمارے لئے اور رہتی دنیا تک کے مسلمانوں کیلئے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ہے مگر ہر دور میں سلف کی راہ پر چلتے آنے والوں کی راہ پر چلنا اور ان کے فہم و فقہ کا التزام کرنا دراصل نظائر( پريڈيسيسر) کی اتباع ہے جو کہ بعد والوں کو پہلوں کے ساتھ جوڑ دیتی ہے اور سب کو ایک ہی حقیقت کا مجموعی تسلسل بنا دیتی ہے۔

والسابقون الاولون من المھاجرین والانصار والذین اتبعوھم باحسان رضی اللّٰہ عنہم .... (التوبہ: ١٠٠)

”اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا....“ [ترجمہ مولانا محمد جونا گڑھی]

کیا یہ بات بے انتہا قابل توجہ نہیں کہ تاریخ اسلام میں ایک پوری نسل کا نام ’تابعین‘ رکھ دیا جاتا ہے اور قیامت تک ہم ان کو اسی نام سے یاد کرتے ہیں اور پھر اس کے بعد کی نسل کو ’تبع تابعین‘ کہتے ہیں؟ کیا اپنے دین کی فطرت اور مزاج کو سمجھنے کیلئے یہ ایک بہت کافی بنیاد نہیں؟

کتاب وسنت کو سمجھنا بلاشبہ ہم نے بھی ہے، کہ اس کو سمجھے بغیر ہدایت پانا ممکن نہیں۔ مقصد یہ نہیں کہ کتاب وسنت کو پہلوں نے سمجھ لیا تو اب ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔ ہم خیر سے کوئی اور کام کریں۔ دین کا فہم لئے بغیر ہرگز کوئی چارہ نہیں مگراس کا فہم ہمیں سلف سے اور سلف کی راہ پر چلتے آنے والوں سے لینا ہے۔ انہی کے اصولوں سے مدد لینی ہے اور اُمت کے اندر انہی کے تسلسل کا حصہ بننا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تعجب کی بات یہ ہے کہ ہمارے وہ طبقے جو قرآن اور حدیث کے فہم کیلئے کسی خاص مراجع اور ضوابط کا اپنے آپ کو ضرورت مند نہیں جانتے، کیونکہ ’قرآن اور حدیث کے خودبخود واضح ہونے‘ سے ان کے ہاں یہی مراد لی جاتی ہے.... یہ کسی دوسرے کو اپنے سے مختلف استدلال کرتا دیکھیں ___ گو وہ قرآن اور حدیث سے ہی استدلال کر رہا ہو ___ تو اس کو شدت سے مسترد بھی کرتے ہیں!

برصغیر میں خصوصاً پچھلی پانچ سات دہائیوں سے یہ انداز فکر خاصی تیزی سے پروان چڑھا ہے۔ یعنی ہر شخص قرآن اور حدیث کو خود اپنی تحقیق کرکے سمجھے گا اور اس کے نتیجے میں چاہے پھر وہ جہاں بھی پہنچے! قرآن اور حدیث کے بے انتہا واضح ہونے کا اس کے ہاں یہی مطلب ہے کہ وہ ان کو خود سمجھ سکتا ہے۔ جس کیلئے سوائے عربی زبان کے (بلکہ شاید تراجم کتب کے) وہ کسی چیز پر انحصار کا پابند نہیں۔ اب جو اس کو سمجھ آئے اس کو حق ماننے کا بھی وہ اپنے اس انداز فکر کی رو سے خودبخود پابند ہوتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ دوسرے اس قرآن اور حدیث کو اس سے مختلف انداز میں سمجھیں تو ان کو غلط جاننے کا بھی پابند ہوتا ہے؟

پس اس انداز فکر کی رو سے ہر شخص قرآن اور حدیث کو خود سمجھنے کا جس قدر پابند ہے اپنے سے مختلف سمجھنے والوں کو غلط جاننے کا بھی اتنا ہی پابند ہے!

کیا سب لوگ قرآن اور حدیث کو ایک ہی طرح سمجھ سکتے ہیں؟ کہ جب بھی ان کے سمجھنے میں فرق آئے تو ایک تنازعہ اٹھ کھڑا ہو؟؟؟ بلکہ درست مراجع اور صحیح ضوابط نہ ہوں تو کیا قرآن اور حدیث کو سرے سے سمجھ بھی سکتے ہیں؟؟؟ الا یہ کہ ایک چیز کا ’آپ کو حق ہے اور دوسرے کو نہیں‘! یعنی عین وہ چیز جو ایک کبھی نہ ختم ہونے والے تنازع کی جڑ ہوا کرتی ہے! ایک چیز آپ کیلئے جائز ہے تو دوسرے کیلئے ناجائز کیوں؟ اور اس بات کی آخر کیا ضمانت ہے کہ قرآن اور حدیث سے آپ نے یا آپ کی جماعت نے جو سمجھا وہ ضرور ہی درست ہے اور دوسرے نے یا اس کی جماعت نے جو سمجھا وہ ضرور ہی غلط ہے؟ معاملہ اگر اس کے برعکس ہو تو!!؟

جس امت کو ایک بڑی سطح پر داخلی یکسوئی حاصل نہ ہو وہ اپنے دشمن کے مدمقابل کونسا معرکہ سرانجام دے سکتی ہے؟ چنانچہ اب ایک عرصے سے ہمارے آپس کے معرکوں کا ہی بازار گرم ہے اور اس میں روزبروز تیزی آرہی ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ دشمن کے مدمقابل ہمارا اصل ہتھیار ہمارا فکر وعقیدہ ہی تھا اور ہمارے دین کے بنیادی تصورات۔ یہی ہمارا اصل میدان تھا اور اسی میں ہم دشمن کو بآسانی مات دے سکتے تھے۔ مگر یہی میدان ہمارا آپس کا کارزار بنے تو دشمن کے مدمقابل ہم کس کام کے! یہی وجہ ہے کہ پچھلی دو صدیوں میں کسی بڑی سطح پر ہم نے کچھ محنت اور ہمت کرکے دشمن کے خلاف بندوق اٹھائی ہو تو اٹھائی ہو مگر فکر کے ہتھیار کسی بڑی سطح پر استعمال نہ کر سکے۔ جبکہ معاملہ کیا ہے؟ دشمن اپنے وجود کے لحاظ سے ہم سے دور ہو تو ہو مگر اپنے فکر کے لحاظ سے وہ ہمارے اندر بیٹھا ہے بلکہ ہماری جڑوں میں بیٹھا ہے۔ ایک فکری یکسوئی اس لحاظ سے ہماری سب سے پہلی ضرورت تھی مگر ہم اس سے روز بروز دور ہو رہے ہیںاور اس بات پر ہی مصر ہو رہے ہیں کہ یہ معرکہ زیادہ سے زیادہ کوئی بندوق اور توپ کا معرکہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اتفاق اور اختلاف کے ضوابط اور مراجع اس لحاظ سے ہماری ایک بہت بڑی اور بنیادی ضرورت ہے۔ دین کے فہم کی بابت ایک ایسی بنیاد جو درست بھی ہو اور امت کے ایک معتدبہ طبقے کے مابین مشترک بھی ہو سکے، اس کو اپنی سب سے پہلی ضرورت کہیں تو شاید غلط نہ ہو۔

ضوابط یہاں ہمارا موضوع نہیں اور درحقیقت اس کا انحصار بھی بڑی حد تک مراجع پر ہی ہے۔ مراجع درست ہو جائیں تو ضوابط کا صحیح ہونا آپ سے آپ ممکن ہو جاتا ہے اور توفیق تو ہر معاملہ میں بہرحال خدا سے ہی طلب کرنا ہوتی ہے۔

حتی کہ فہم و استدلال کے ضوابط ہی نہیں بلکہ فہم و استدلال کی بابت اتفاق واختلاف آراءکے ضوابط کا درست ہونا بھی درست مراجع اختیار کر لینے کے بعد ہی ممکن ہے۔

اس لحاظ سے یہ مسئلہ بے انتہا اہم ہو جاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اللہ تعالیٰ نے یہ دین نازل کیا تو ’افراد‘ کیلئے نازل نہیں کیا۔ یہ دین ’جماعتوں‘ کیلئے نازل نہیں ہوا۔ یہ ایک امت بنانے اور ایک امت کو چلانے کیلئے اترا ہے۔ اس کا یہی قد کاٹھ ذہن میں رہنا ضروری ہے۔ اس کا یہی مرتبہ دلوں میں جانشین کرایا جانا چاہیے۔

یہاں ایک آدمی اٹھے۔ وہ اپنا ’حاصل مطالعہ‘ لوگوں کے سامنے پیش کرے۔ ’گہرے غور وخوض‘ کے بعد وہ اسلام کی ایک تعبیر متعارف کرائے۔ قرآن اور حدیث سے اس کے ثبوت دے۔ کچھ لوگوں کو وہ ’ثبوت‘ نظر آئیں اور وہ اس کے ساتھ ہو لیں اور اس کی دعوت کو قرآن اور حدیث کا تقاضا سمجھیں۔ کچھ کو وہ ثبوت نظر نہ آئیں اور وہ اس کو رد کر دیں اور باطل پر سمجھیں۔ یہ اپنے اس فہم اسلام کو لوگوں سے منواتا اور اس کے ثبوت دیتا اور لوگوں کو اور اطراف سے توڑ توڑ کر اپنے ساتھ شامل کرتا دنیا سے رخصت ہو جائے اور پسماندگان کو ”مشن جاری رکھنے‘ کی وصیت کر جائے۔ کچھ اس کو جاری رکھ پائیں اور کچھ ہمت چھوڑ جائیں اور کچھ ذرا عرصہ بعد کسی اور ’زندہ‘ دعوت میں حق کے ثبوت دیکھنے لگیں.... عالم اسلام کے ہر خطے اور ہر علاقے میں سینکڑوں کے حساب سے بیک وقت ایسے ’سلسلے‘ چلیں اور ہر لمحہ یہ چراغ جلتے اور بجھتے رہیں.... غرض امت کے اندر توڑ پھوڑ کا یہ عمل مسلسل اور پورے اخلاص کے ساتھ جاری رہے اور بالآخر کوئی ’جماعت‘ بھی ’امت‘ کو فتح نہ کر سکے، گو ہر جماعت ہی اس تاک میں ہو اور نیک نیتی کے ساتھ امت کا بھلا کرنے کی یہی ایک صورت جانتی ہو.... تو ’دین کے کام‘ یا ’دین کی دعوت اور تفہیم‘ یا ’دین کے قیام‘ کا یہ تصور اسلام کی فطرت سے بالکل ہی بیگانہ ہے۔ اس کی ضرر رسانی کے عملی شواہد بھی اب دیکھنے ہوں تو جگہ جگہ دیکھے جا سکتے ہیں۔

ضروری ہے کہ دین کے فہم کی بابت کچھ ایسے مستند مراجع اختیار کئے جائیں جو نہ صرف صحیح ہوں بلکہ وہ ’امت‘ کی سطح کے ہوں۔ صرف ایک ’فرد‘ یا ایک ’جماعت‘ کو کام دینے والے نہ ہوں بلکہ ایک فرد یا ایک جماعت کسی وقت اپنی بات چھوڑ کر اور اپنے فہم واستدلال سے دستبردار ہو کر ان پر آنے کا پابندہو۔ ان کو اپنا کر ایک جماعت امت کی سطح پر آئے نہ کہ امت کو ’جماعت‘ کی سطح پر لانے کی کوشش کرے۔ ایک بڑی چیز اپنے سے چھوٹی چیز میں فٹ نہیں ہوسکتی۔ یہ کوشش درحقیقت عبث ہے۔ بڑا ہونے کی صرف یہی صورت ہے کہ جس طرح ایک فرد سے اس کا اپنا آپ ’جماعت‘ میں گم کرایا جاتا ہے اور اس کو اس بات کے بے پناہ فضائل بتائے جاتے ہیں ویسے ہی اور اتنے ہی اخلاص کے ساتھ ’جماعت‘ اپنا آپ ’امت‘ میں گم کر دے۔ اس عمل کے جہاں اور بہت سے تقاضے ہیں وہاں فہم دین کیلئے کچھ ایسے مراجع کا اختیار کیا جانا بھی جو بیک وقت مستند بھی ہوں اور مشترک بھی، ازحد مطلوب ہے اور امت بننے اور بنانے کا ایک لازمی تقاضا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک مجمع جہاں بہت سارے لوگ اپنی اپنی سناتے اور بیک وقت بولتے ہوں، کسی مثبت سمت میں حرکت نہیں کر سکتا۔ چھوٹی چھوٹی ٹولیاں اپنے اپنے انداز سے جو طریق اپنائیں گی بے شک اپنے حساب سے کسی ٹولی کا عمل کتنا ہی منظم کیوں نہ ہو مگر مجمع کے لحاظ سے اس کو ایک بے ہنگم عمل ہی کہا جائے گا۔ ایسے مجمع کو اگر کوئی افتاد پڑے تو وہ اپنی اس ہیئت ترکیبی کے باعث بھاری نقصان اٹھانے پر مجبور ہوتا ہے۔

کسی مجمع کو اگر ایسی صورت پیش آچکی ہے اس میں اگر کچھ سمجھدار ہیں تو بھی اس کا کچھ نہ کچھ نقصان ہو جانا تو بہرحال یقینی ہے۔ آپ کچھ کر سکتے ہیں تو یہ کہ اس نقصان کا عرصہ دراز ہو جانے کی راہ میں پوری سنجیدگی سے حائل ہوںاور معاملے کو رفتہ رفتہ بہتری کی جانب لانے کیلئے کوشاں ہو جائیں۔ جس کی صورت یہی ہو سکتی ہے کہ آپ کوئی ایسی چیز سامنے لائیں جس کی جانب ہر فرد اور گروہ کا رجوع کرلینا ایک معقول ترین بات ہو جو کہ ظاہر ہے آپ کی اپنی بات یا اپنا ایجنڈا نہیں ہونا چاہیے ورنہ آپ بھی ٹولیوں میں سے ایک ٹولی ہوں گے اور عین وہی کام کر رہے ہونگے جو اپنی اپنی جانب دعوت دے کر مجمع کو بے ہنگم رکھنے کا باعث بنتا ہے۔ یہ آپ کی اپنی تفسیر اور اپنا فہم نہیں ہونا چاہیے جس کا کہ اصولاً سب کو ہی برابر حق ہے۔ یہ آپ کی اپنی بات سے کوئی بڑی چیز ہونی چاہیے جس پر سب لوگوں سے اتفاق کرلینے کا تقاضا کرنا واقعتا ایک معقول تقاضا کہلا سکے۔ جس کے ماننے اور منوانے میں کوئی فاتح اور مفتوح نہ ہو۔ کوئی بڑا اور چھوٹا نہ ہو۔ پھر یہ کہ لوگوں کو اپنی سمجھ پر چلنے کیلئے اس میں ایک حد تک آزاد بھی چھوڑا گیا ہو۔ لوگوں کا آپ کی اس بات کو سمجھ لینا اور مان لینا پھر بھی گو ضروری نہیں کیونکہ لوگوں کے مان لینے کا تعلق خود لوگوں سے ہے اور اس بات سے ہے کہ خدا کو ان کی بھلائی کہاں تک اور کب تک منظور ہے۔ البتہ ایک ایسا تقاضا جو بیک وقت درست بھی ہو اور سب کو ایک مشترک بنیاد پر بھی لا سکتا ہو اور جس میں کسی ایک کی فتح اور دوسرے کی جیت نہ ہو اور جو کہ لوگوں کو اس بحران سے نکال لانے اور کامیابی کی جانب گامزن کر دینے کیلئے بالفعل لازم ہو اُن کے سامنے رکھ دینا اور اس پر انکو قائل کرنے کیلئے آخری حد تک جان کھپا دینا بہرحال لازم ہے۔ خدا کو اگر منظور ہوا اور جب منظور ہوا لوگوں کی ایک معقول تعداد کو وہ بات سمجھنے اور تسلیم کرنے کی توفیق مل جائے گی جو مجمع کو بالآخر بحران سے باہر لے آسکے اور بحران سے باہر لانے کی امکانی (پوٹينشل) صلاحیت رکھتی ہو۔ خدا کو منظور نہ ہو گا یا جب تک منظور نہ ہوگا تب تک افراتفری کی یہ صورتحال بہرکیف باقی رہے گی۔

صورتحال کو بالفعل بدل دینے کی ضمانت خدا کے سوا کوئی نہیں دے سکتا۔ کسی انسان کو نتائج کی یقین دہانی بہرحال نہیں کرائی جا سکتی۔ البتہ اجتماع کا وہ درست طرز عمل اختیار کرنا جو اصول اہلسنت ہمارے لئے فراہم کرتے ہیں اور جو کہ موجودہ دور کے اہلسنت طبقوں کو یا ان کی ایک معتدبہ تعداد کو مجتمع کرنے کی واقعتا اور معقول ترین حد تک صلاحیت رکھتی ہے، اور اس کی تبلیغ کرنا اور آخر تک کرتے رہنا البتہ ضرور انسان پر فرض ہے۔ اس سے بڑھ کر اس معاملہ میں انسان کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ ایک مجمع کا خجل ہوتے رہنا جتنی دیر تک خدا نے لکھ رکھا ہے ___ گو اس کے اسباب اہل مجمع کے اپنے پیدا کردہ ہوا کرتے ہیں ___ تب تک صبر اور محنت کے سوا کچھ چارہ نہیں۔ لیکن اگر انسان اس کا حصہ بن کر اپنا فرض ادا کر رہا ہے اور اپنی استطاعت کی حد تک عین وہ کام کر رہا ہے جو اس مجمع کو مجتمع اور یکسو کر دینے کی راہ میں کر دیا جانا اس سے مطلوب ہے تو مجمع پھر درست ہوتا ہے یا بدستور خراب ہوتا چلا جاتا ہے وہ شخص بہرحال ضائع نہیں۔ عبداللہ بن مسعود کا قول مشہور ہے:

الجماعہ ماوا فق الحق ولو کنت وحدک

”جماعت وہ ہے جو حق کے تابع ہو چاہے تم اکیلے کیوں نہ رہ گئے ہو“۔

اب جس مجمع کو ایک بڑے بحران سے بلکہ ایک عدیم النظیر بحران سے نکال لانے کا چیلنج ہمیں درپیش ہے ___ جیسا کہ مضمون کی ابتدا میں ہم ذکر کر آئے ___ وہ طبقہ ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو اپنے لئے حجت مانتا ہے۔ اس کو طبقہ ہائے اہلسنت کہا جاتا ہے اور اس میں مذاہب اربعہ، اہل الحدیث اور اہل الظاہر وغیرہ سبھی آجاتے ہیں۔ کیا ہمارے پاس کوئی ایسے ضوابط ہیں جو ان سب طائفوں اور ان طائفوں کے ذیل میں آنے والی سب جماعتوں اور گروہوں کو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی جانب رجوع کرنے اور دین کو لیکر ایک ساتھ چلنے کے اس عمل میں مدد دے سکیں؟ ان کیلئے اجتماع کی ایک معقول بنیاد فراہم کر سکیں اور ان کے اتفاق اور اختلاف ہر دو کو ایک ضبط میں لا سکیں اور یوں اس عمل کے نتیجہ میں وحدت کے تصور کو ایک عملی جامہ پہنا سکیں؟ ’اصول اہلسنت‘ میں درحقیقت ہمارے ان سب سوالات کا جواب موجود ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’اجتماع‘ کیلئے ’اتفاق‘ کی شرط لگانا نہ تو نقل کا تقاضا ہے اور نہ عقل کا۔ یہ لوگوں سے ایک غیر طبعی مطالبہ ہے۔ شریعت نے یہ بات کہیں فرض نہیں کی۔ البتہ شریعت میں اور اصول اہلسنت کے اندر اس کی کچھ حدود اور قیود ہیں۔ اختلاف ایک انسانی واقعہ ہے۔ درست ترین بات یہی ہو سکتی تھی کہ اس کی ممانعت نہ ہو بلکہ اس کی حدود متعین کر دی جائیں۔

پس نہ تو ہر امر میں اتفاق لازم ہے اور نہ ہر معاملے میں اختلاف کی اجازت۔ البتہ اجتماع کا حکم ہے اور افتراق کی ممانعت۔ ’اجتماع‘ دراصل ’اتفاق‘ سے ایک وسیع تر چیز ہے۔ اسی طرح ’افتراق‘ محض ’اختلاف‘ سے ایک مختلف واقعہ ہے۔ نہ تو ہر معاملے میں اتفاق کا ہونا اجتماع کیلئے شرط ہے اور نہ اختلاف کا بعض معاملات میں ہو جانا افتراق کا موجب۔

البتہ وہ معاملات بے حد واضح ہو جانے چاہئیں جن پر اتفاق ہو جانا فرض ہے اور اجتماع کیلئے ایک پیشگی شرط۔ اسی طرح ان معاملات کا بھی واضح ہو جانا ضروری ہے جن میں اختلاف قطعی طور پر حرام اور ناقابل قبول ہے اور اجتماع کے راستے کی ایک قطعی رکاوٹ۔ ان دونوں کے مابین پھر وہ معاملات خود بخود واضح ہو جاتے ہیں جن میں نہ تو اتفاق شرط ہے اور نہ اختلاف رکاوٹ۔

جب ایسا ہے .... یعنی نہ تو اختلاف کی کھلی چھٹی ہے اور نہ اتفاق کی کلی شرط .... تو پھر آپ کے پاس کوئی ایسا متوازن ضابطہ ہوناچاہیے جس میں ان دونوں کی حدود طے کر دی گئی ہوں اور جس میں ہر دور اور ہر خطے کے لوگوں کیلئے بھانت بھانت کی بولیاں بولنے کی گنجائش نہ رہنے دی گئی ہو۔

ایک بے قابو مجمع کو یکسوئی کی راہ پر ڈال دینا بے حد محنت طلب اور وقت طلب کام ہے۔ اور سب سے بڑھ کر اس میں خدا کی توفیق درکار ہے۔ اس پر وقت اور محنت صرف ہو، یہ ہرگز باعث تعجب نہ ہونا چاہیے اور ایک سمجھدار کو تو ہرگز اس سے جی نہ چرانا چاہیے۔ اس پر محنت نہ ہوگی تو اور کس بات پر محنت ہوگی۔ امت کے بکھرے ہوئے شیرازہ کو مجتمع کرنے سے بڑھ کر کیا نیکی ہو سکتی ہے؟ البتہ جو چیز دیکھنے کی ہے اور اس معاملہ میں بے انتہا اہم اور فیصلہ کن حیثیت رکھنے والی ہے وہ یہ کہ اجتماع کا وہ نسخہ جس پر ایک منتشر مجمع کو لایا جانے کیلئے ایک طویل محنت ہونا ہے کہاں تک اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ آپ کے وقت اور محنت کا عین صحیح مصرف ہے اور یہ کہ کہاں تک وہ اجتماع کا واقعتا ایک درست طریقہ ہے اور کہاں تک وہ اتفاق اور اختلاف کے درست اور متوازن ضوابط پر مبنی طرز عمل ہے۔

’اصول اہلسنت‘ دراصل ان سب باتوں کا ایک صحیح ترین جواب ہے۔ یہ نہیں تو پھر آپ کے پاس اجتماع کی کوئی بنیاد نہیں سوائے اس کے کہ ہر آدمی ’اجتماع‘ کیلئے ایک ہی شرط رکھے اور وہ یہ کہ سب دوسرے لوگ بس ایک اسی کے یا اسی کی جماعت یا اسی کے بڑوں کے فہم دین پر آجائیں اور یہ کہ قرآن اور حدیث سے جس طرح خود اس کو یا اس کے بڑوں کو دین کے سب مسائل سمجھ آئے ہیں عین اسی طرح سب دوسروں کو سمجھ آنے لگیں!

طرفہ یہ کہ کچھ لوگ دوسروں پر اپنی یا اپنے مذہب کی تقلید کی شرط بھی نہیں لگاتے مگر یہ بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ لوگوں کودین کے سب اصولی اور فرعی مسائل قرآن وحدیث سے ویسے ہی سمجھ آئیں جیسے خود ان کو یا ان کی جماعت کو سمجھ آئے ہیں بصورت دیگر لوگ انما ھم فی شقاق کی حالت سے باہر نہیں اور وہ خود آنک علی الحق المبین کا مصداق۔ کیونکہ اپنے تئیں یہ کتاب وسنت کے متبع ہیں اور دوسرے لوگ اپنی باطل خواہشات کے پیروکار! اب جس بات کا یہ اپنے تئیں حق رکھتے ہیں عین اسی بات کا اتنا ہی حق اگر دوسروں کو بھی حاصل ہو تو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو حق کا مصدر ماننے والوں کے مابین اجتماع کی کیا صورت باقی رہ جاتی ہے؟

اسی طرح وہ لوگ جو کتاب وسنت کے فہم واستنباط کی بابت خود اپنی یا اپنے بڑوں کی تقلید کی شرط لگاتے ہیں وہ درحقیقت امت کو اپنی شروط پر مجتمع کرنا چاہتے ہیں۔ ہر شخص اگر دوسروں پر یہ شرط لگانا شروع کر دے تو امت کا اجتماع کہاں گیا؟

لامحالہ آپ کو کوئی ایسا طریقہ کار درکار ہے جو لوگوں کو کسی بات کا حق دے تو سب کو ایک سا حق دے اور اگر کسی بات کی پابندی لگائے ___ ظاہر ہے کہ پابندیوں سے بالکل آزاد اجتماع کا کوئی تصور نہیں ___ تو سب پر ایک سی پابندی لگائے۔ اس کے اس ’حق دینے‘ اور ’پابند کرنے‘ میں کچھ ایسا توازن اور حکمت ہو کہ لوگ مجتمع بھی رہیں اور مصادر دین سے فہم واستنباط کرنے اور اپنے فرائض دین کا تعین کرنے میںایک خاص حد تک آزاد بھی رہیں۔ یگانگت بھی ہو اور سوچ اور فہم کا ایک تنوع بھی برقرار رہے۔ نہ یہ ہو کہ اختلاف کی کھلی چھٹی ہو اور دین کی کسی بھی بنیاد کو کوئی بھی شخص کسی بھی وقت چیلنج کر لینے کا مجاز ہو اور یہ کہ فروع دین کے ہر ہر مسئلہ میں لاکھوں کرڑوں لوگ نسل درنسل اور صدیوں تک ایک ہی طرح سوچنے اور عمل کرنے کے پابند ہوں چاہے علم کی روشنی میں کسی کو اس سے کتنا ہی اختلاف ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہاں ایک دوسری انتہا کا ذکر کر دیا جانا بھی بے حد ضروری ہے۔

امت کے اس دور انتشار میں اس انداز فکر نے بھی بے انتہا ترقی کی ہے۔ اس کو زیادہ تر دانشور طبقہ کے ہاں پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور آج یہ اپنے معاشرے میں ایک ترقی یافتہ اور ’علمی‘ طرز فکر کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ میڈیا اس چیز کی تبلیغ کا موثر ترین فورم ہے۔ مذہبی جماعتوں کا سیاسی نشاط بھی اس سوچ کے مقبولیت پانے میںمساعد ہوا ہے۔

اس طرز تفکیر کا لب لباب یہ ہے کہ ہر آدمی اور ہر طبقے کو دین کی تفسیر کے معاملے میں اپنی رائے رکھنے کی کھلی چھٹی ہو۔ اختلاف رائے کی قطعی آزادی ہو۔ اختلاف رائے کا یہ حق لوگوں کو اصول دین کے اندر بھی اتنا ہی ہو جتنا کہ فروع دین کے اندر! بس کسی کو اس کے نظریہ یا عقیدہ کی بنا پر غلط نہ کہا جائے! مخالفت کسی کی نہیں ہونی چاہیے! ہر معاملہ میں آدمی زیادہ سے زیادہ بس ایک ’علمی‘ اور ’تحقیقی‘ نوعیت کا اختلاف کر سکتا ہے اور اختلاف کے وہ سب آداب جو اہلسنت کے ہاں فرو ع دین کے اندر ملحوظ رکھے جاتے ہیں وہ ان کے نزدیک اصول دین کے معاملہ میں بھی فرض ہیں ۔ کسی کو باطل پر جاننا اور گمراہی کا پیروکار ماننا ان کے نزدیک ایک پسماندہ اور غیر علمی رویہ ہے خواہ وہ دین کا کتنا ہی بنیادی مسئلہ کیوں نہ ہو۔ ’جذبات‘ میں آنا، کسی بھی معاملہ میں، ان اصحاب کے نزدیک حد درجہ معیوب ہے۔ کوئی رافضی ہے اور اپنے اماموں کی عصمت کا معتقد ہے۔ دوسری طرف صحابہ کیلئے ایک لفظ اچھا بولنے تک کا روادار نہیں (یہ ظاہر کا معاملہ ہے سینے میں جو چھپائے بیٹھا ہے وہ تو صرف خدا کو معلوم ہے) اور بخاری ومسلم سے لے کر محدثین اہلسنت کی مروی کسی ایک بھی حدیث کو قابل اعتنا نہیں جانتا الا یہ کہ اس کی تائید اس کے نزدیک ائمہ معصومین سے ہوتی ہو .... تو بھی اس پر تشنیع جائز نہیں۔ آپ مصر ہی ہیں تو اس سے ایک ’دوستانہ‘ اور ’محققانہ‘ اختلاف کیجئے اور خود اپنی رائے اس سے مختلف رکھیے مگر ’الجھنے‘ کی ضرورت نہیں۔ ایسے اختلافات کے باوجود باہم مل کر اور ہاتھوں میں ہاتھ دے کر اُمت کی وحدت اور یکجہتی کا پروگرام سرے چڑھایا جا سکتا ہے! کوئی شخص شرک کا داعی ہے۔ وحدت الوجود کا مبلغ ہے۔ کوئی شریعت کو طریقت سے الگ کر دینے پر اعتقاد رکھتا ہے۔ کوئی معتزلہ کا پیروکار، وحی کو اپنی عقل کی سان پر کستا ہے۔ کوئی دین کو سیاست سے جدا کرتا ہے اور خدا کو صرف مذہبی معاملات میں معبود مانتا ہے .... ان سب رحجانات کے ساتھ آپ زیادہ سے زیادہ ’اختلاف‘ رائے رکھیے۔ اس کو ’نقطہ نظر‘ کا فرق سمجھیے البتہ ایسے کسی معاملہ میں جہنم اور ہلاکت کی وعید سے کسی کی سمع خراشی کرنا ایک غیر علمی طرز عمل سمجھا جانا چاہیے اور وحدت اُمت کے منافی۔

یہ اس معاملہ کی ایک دوسری انتہا ہے۔ مختلف طبقے مختلف انداز سے اس اپروچ کو اپنائے ہوئے ہیں۔ دانشور اس حد کو چھونے میں اپنا انداز رکھتے ہیں۔ سماجی کارکن اپنا اسلوب رکھتے ہیں۔ میڈیا اپنی وجوہات رکھتا ہے۔ سیاسی سرگرمیوں میں مشغول بعض مذہبی جماعتوں کے ہاں اس کی کچھ اور بنیاد ہے۔ البتہ خلاصہ اس انداز فکر کا یہی بنتا ہے۔ اس کی رو سے وحدت اُمت کیلئے دائرہ اتنا ہی وسیع کرنے کی ضرورت ہے جتنا کہ کسی دور کے اندر اسلام کے نام لیوا طبقوں کے ہاں پائی جانے والی گمراہیاں، معاشرے میں برقرار رہنے اور ہرگز نہ چھیڑے جانے کا تقاضا کریں! انحرافات اور گمراہیوں کو باہر نکالنے کی کیا ضرورت ہے آپ وحدت اُمت کا دائرہ ہی اتنا کھلا کر لیجئے کہ ہر چیز اس میں آپ سے آپ آجائے اور کسی کو کسی کے سر آنے کی احتیاج ہی باقی نہ رہے!

چنانچہ یہ منہج جو کہ اساسیات دین تک میں ہونے والے اختلاف پر مٹی ڈالنے اور اس کو نظر انداز کروانے کی تلقین کرتا ہے، معاشرے کے پڑھے لکھے طبقے کے ہاں اس وقت خوب پذیرائی پا رہا ہے۔

دین اور عقیدہ کی بنیادوں کے اندر ہونے والا اختلاف شدید مہلک ہے۔ اس کو کسی صورت مسلم معاشرے میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ کم از کم بھی یہ کہ ایک گمراہی کو صاف گمراہی کہا جائے۔ معاشرے میں اس کی شدید حوصلہ شکنی اور مذمت ہو اور اس کے پرچار کے صاف صاف آڑے آیا جائے۔ گمراہی کا شکار ہو جانے والے کسی شخص کو گمراہ کہنے سے احتراز کرنا کسی وقت مصلحت کا تقاضا ہے تو ضرور اس سے احتراز کر لیا جائے البتہ یہ کہ گمراہی کو گمراہی ہی نہ کہا جائے، یہ ناقابل تصور ہے۔ انحراف کی بیخ کنی معاشرے میں کسی وقت موقوف نہیں ہونی چاہیے۔ مسلم معاشرے میں باطل کا چلن ہونے دینا بہرحال روا نہیں۔

دین کے بنیادی امور ومعتقدات میں پیدا کئے جانے والے انحرافات کے ساتھ محض اس وجہ سے رواداری برتنا کہ لوگوں کی کچھ تعداد اب ان کی معتقد ہے ہرگز کوئی علمی رویہ نہیں۔ باطل عقائد اور افکار کا یہ کالا دھن کثیر اور بے قابو ہو جانے کے باعث بہرحال سفید نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کوئی انتظامی معاملہ نہیں۔ نہ مسئلہ خدا کے دین کا ہے۔ یہ ایک انتشار کو وجہ جواز دینا اور افتراق کو سند فراہم کرنا ہے۔ یہ شریعت کے ثابت اور معلوم حقائق پر ثبات سے دستبردار ہونا ہے اور حق وباطل کے معاملہ میں مصالحت (كمپرومائزيشن) پر اتر آنا اور خدا کی نصرت کا استحقاق کھو دینا .... جس سے کہ قرآن میں اہل ایمان کو بار بار تنبیہیں ہوئی ہیں۔ [واحذرھم ان یفتنوک عن بعض ما انزل اللّٰہ الیک (المائدہ: ٤٩) ”ان سے ہوشیار رہیے کہ اللہ نے آپ پر جو اتار اس کے کسی ایک حصہ سے بھی یہ آپ کو منحرف نہ کرنے پائیں“۔

ولئن اتبعت اھواءھم بعد الذی جائک من العلم مالک من اللّٰہ من ولی ولا نصیر (البقرہ: ١٢٠)

”اور اگر علم آنے کے بعد تو ان کی خواہشوں پر چلے تو اللہ سے تیرا حمایتی اور بچانے والا کوئی نہیں ہے“۔] اس کو علمی رویہ تسلیم کرنا کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ پر ایمان رکھنے والوں کے حق میں ایک غیر علمی رویہ ہے۔

یہ رویہ .... یعنی اصول دین میں اختلاف کو برداشت کرنا۔ مثلاً غیر نبی کی عصمت یا صحابہ یا اہل بیت کے احتقار کے معاملہ کو یا شرک وزندقہ کے نظریاتی وعملی رحجانات کے معاملے کو یا وحی کو عقل اور فلسفہ کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے معاملہ کو یا کسی بھی اور گمراہی کو آدمی ایک انداز بے پرواہی سے لے اور ان امور میں غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بس ’اپنے کام سے کام‘ رکھے .... اس منہج کو علمی رویہ ماننا مستشرقین کے ہاں روا ہو تو بات سمجھ آتی ہے۔ ان کو صرف افکار مشرق کا مطالعہ کرنا تھا۔ کیا حق ہے اور کیا باطل، ان کو اس سے واقعی کچھ سروکار نہیں ہونا چاہیے۔ مگر یہی رویہ قرآن پڑھنے والے معاشرے کی فکری قیادت کے ہاں بھی قابل قبول ہو بلکہ قابل فخر ہو تو یہ بات مسترد ہونے کے لائق ہے۔

مگر واقعہ کیا ہے؟ ہماری یہ یونیورسٹیاں جو ہمارے مسلم دانشوروں کی مادر ہائے علمی رہی ہیں کس کے زیرسرپرستی اور کس کے زیرانتظام پروان چڑھیں؟ کس کے دیے ہوئے نقشے پر ان علمی اداروں کی اٹھان ہوئی ہے؟ ’مستشرقین‘ کے سوا اس کے جواب میں آپ کس کا نام لے سکتے ہیں؟ سب جانتے ہیں عالم اسلام پر قبضہ سے بہت پہلے استشراق کا شعبہ مغرب میں اپنے مطلوبہ حجم اور استعداد کو پہنچ چکا تھا۔ یورپ کی فوجوں کے حرکت میں آنے سے بہت پہلے یورپ کے مستشرقین اپنے حصے کا کام کر چکے تھے اور اب وہ لوگ عالم اسلام کو صرف ’فزکس کیمسٹری‘ نہیں بلکہ ’اسلامیات‘ تک پڑھانے پر دسترس رکھتے تھے! اب وہ ’اسلامیات‘ جو ہم نے مستشرقین سے پڑھی اور آگے مستشرقین کے ولایت پلٹ تلامذہ سے اور پھر ان کے پڑھائے ہوؤں سے نسل درنسل پڑھی۔ اسی نے بڑی حد تک ہمارے یہاں کے جدت پسند دینی طبقہ کی ذہنی تشکیل کی۔ ابتدائی طور پر یہاں کے کورس اور تعلیمی سلسلے وضع ہوئے تو انہی کے ہاتھوں۔ اسکے بعد پھر جتنے بھی تعلیمی ادارے اور منصوبے بنے ان کی تہہ میں بڑی حد تک وہی ذہنیت کام کرتی رہی، جس کی شروع میں ایک بار ایک جہت بنا دی گئی تھی اور آج تک کر رہی ہے۔ پھر کیا تعجب کہ استشراق کے دیے ہوئے بعض فیشن شعوری طور پر نہ بھی سہی لاشعوری طور پر ہمارے جدید تعلیم یافتہ اور دانشور اسلام پسند طبقہ کے ذہنی پس منظر میں کام کریں؟

آگہی کا مصدر source of inspiration انسان کے ذہن کی تشکیل کرنے میں بہرحال ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سے جان چھڑانا ہرگز اتنا آسان نہیں۔ دین کو محدثین اور فقہاءوائمہ اہلسنت سے پڑھنا اور دین کو مستشرقین سے یا مستشرقین کے ترتیب دیے ہوئے سلسلہ ہائے تعلیم سے پڑھنا شدید حد تک متضاد نتائج کے پیدا کرنے کا باعث ہو تو اس میں تعجب کی کیا بات؟ استثناءات کا پایا جانا ہر جگہ ممکن ہے مگر ایک سلسلہء تعلیم اور ایک مصدر دانش  کی مسلمہ حیثیت کچھ استنثاءات کے باعث مشکوک نہیں ہوتی۔

آج کا یونیورسٹی سے لے کر کالج اور اسکول تک پایا جانے والا جو ایک ظاہرہ phenominon ہے وہ اپنی پشت پر کچھ متعین اسباب اور ایک معلوم پس منظر رکھتا ہے۔ اس سے صرف نظر آپ یوں بیٹھے بٹھائے کس طرح کر سکتے ہیں؟ کوئی اسلامیات ’لازمی‘ پڑھے یا ’اختیاری‘ .... مطالعہء اسلام کی یہاں جو ایک اپروچ ہے اور ’مذہب‘ کو پڑھنے کی یہاں جو ایک جہت ہے وہ بہرحال کچھ تاریخی اسباب کی مرہون منت ہے۔ نصابوں کے اندر کچھ تھوڑی بہت تبدیلیاں کر بھی لی جاتی رہی ہوں مگر اپروچ اور جہت کو تبدیل کرنے پر یہاں کون کھپا ہے؟

اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں اسلامیات پڑھائی جانا ایک بے حد مستحسن امر ہے مگر وہ ذہنیت جو دین کے حقائق کا علم لینے کے پیچھے یہاں اس نظام میں کام کر رہی ہے وہ بلاشبہ جاہلیت کی تشکیل کردہ ہے۔ اس کے بارے میں کم از کم بھی یہ کہا جائے گا کہ ایک دیندار شخص تک کے حق میں یہ شدید آلودہ(انٹينسو پولیوٹڈ) ہے۔ بہت تھوڑی استثناءات کو چھوڑ دیجئے تو عملاً یہاں ’اسلامیات‘ کا ہر طالب علم ’مطالعہ اسلام‘ کے اسی نظام کا ہی بڑی حد تک ایک تسلسل ہے جس کی یہاں کوئی ڈیڑھ دو سو سال پہلے بڑی سوچ سمجھ کر داغ بیل ڈالی گئی تھی۔

پس یہ سوال کہ آپ نے اسلام کا فہم کہاں سے لیا ہے، ایک بہت بنیادی سوال ہے۔ اسلام کچھ معلومات کا نام نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے جو سب سے پہلے دل میں جاگزیں ہوتی ہے اور انسان کو خدا کے حق کیلئے پوری دنیا کے مدمقابل کھڑا ہو جانے پر تیار کر دیتی ہے اور جس کی زد پھر انسان کے ہر ہر رشتے اور ہر ہر تعلق پر پڑ سکتی ہے۔ دین کا ہر معاملہ ایک ’دوستانہ اور برادرانہ اختلاف رائے‘ کا متحمل نہیں۔ الا یہ کہ دین محض ’معلومات‘ کا نام ہو یا زیادہ سے زیادہ بس حسن اخلاق کا ایک بے ضرر درس۔ نہ کہ ’لا‘ سے شروع ہونے والی ایک واضح اور دو ٹوک اور متعین حقیقت جس کیلئے انبیاءجہاد کرتے رہے اور قتال بھی اور ہجرت بھی۔ دوستی بھی اور دشمنی بھی اور جس کو ہر تغیر سے بچا رکھنے کیلئے صحابہ وتابعین نے اہل بدعت وانحراف سے درشت ترین رویہ اپنا لینے سے گریز نہ کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ تو جدید اسلام پسند طبقہ کا معاملہ تھا جس میں بلاشبہ اچھے اچھے نمونے بھی پائے گئے مگر ان اچھے نمونوں کو استثناءکا ہی درجہ دیا جا سکتا ہے۔ البتہ اس طبقہ میں پایا جانے والا ذہن عمومی طور پر وہی ہے جس کی جانب اوپر ہم نے اشارہ کیا۔ یہاں دین کے اساسی مسائل اور عقیدہ کے بنیادی امور کی بابت بھی اسی ’وسعت نظر‘ اور اسی ’فراخدلی‘ کا ثبوت دیا جاتا ہے جس کی کہ اہلسنت کے ہاں صرف اجتہادی مسائل میں گنجائش ہو سکتی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ دین کے اندر ہونے والے بنیادی انحرافات اور عقیدہ میں در آنے والی گمراہیوں کی بابت ایک انداز بے پروائی اختیار کرنا ان حضرات کے نزدیک مستحسن جانا جاتا ہے۔ حمیت کو کسی معاملہ میں دخل نہیں۔ اسی کو ان کے ہاں انٹليكچول اپروچ کہا جاتا ہے!

الا من رحم ربک

دوسری طرف ہمارا روایتی دیندار طبقہ ہے جس کی بابت ہم پیچھے کچھ بات کر آئے ہیں۔

یہاں شدت ہے۔ تمسک ہے۔ حمیت ہے۔ مگر بسا اوقات یہ سب کچھ اپنے محل پر نہیں ہوتا بلکہ وہاں پایا جاتا ہے جہاں یہ قابل ستائش ہونے کے بجائے معیوب ہونے لگے۔ بالکل اسی طرح جس طرح یہ دوسرے فریق کے ہاں وسعت نظر اور اختلاف رائے کو قبول کرنے کا انداز پایا جاتا ہے مگر وہ بھی چونکہ اپنے محل پر نہیں لہٰذا قابل ستائش ہونے کی بجائے معیوب ہو جاتا ہے۔

ہر چیز اپنے محل پرنہ ہو تو خوش نما نہیں رہتی۔ ظلم کی تعریف بھی یہی کی گئی ہے کہ ایک چیز کو اس کی جگہ پر نہ رہنے دیا جائے۔

پس ہمیں کوئی ایسا پیمانہ درکار ہے جس میں ہر چیز کی جگہ متعین کر دی گئی ہو اور جس کے باعث ایک اچھی چیز ہمیشہ خوشنما ہی لگے اور بدنمائی اس کے قریب نہ آنے پائے اور جس کی بدولت مسلم نوجوان کے فکر وکردار میں ایک حسن اور توازن آئے۔ شدت کے مقام پر واضح شدت ہو اور وہاں مصالحت (كمپرومائزيشن) خارج از امکان ہو۔ جبکہ نرمی کے مقام پر نرمی ہو اور وہاں مفاہمت و رواداری پائی جائے، یہاں تشدد کا گزر نہ ہو۔ کوئی چیز بڑھ کر دوسری کی جگہ نہ لے۔ جہاں سختی اور مواجہت (كنفرنٹيشن) ضروری ہو وہاں وسعت نظر کا سوال نہ اٹھ کھڑا ہو اور جہاں دوستانہ و برادرانہ اختلاف رائے رکھا جانا چاہیے وہاں ’رزم حق وباطل‘ نہ برپا ہونے لگے۔

ایسا پیمانہ ظاہر ہے کہ بنایا نہیں جائے گا بلکہ دیکھا جائے گا کہ ہمارے دین نے ہمیں کسی ایسے پیمانے کی طرف رہنمائی کی ہے یا نہیں اور آیا ہمارے پاس پہلے سے کوئی ایسا دستور موجود ہے جس میں اس توازن کی صحیح ترین مساوات (ايكويشن) ہمیں بتا دی گئی ہو اور اس کی عملی تطبیق کرکے ہم کو دکھا دی گئی ہو؟ اصول اہلسنت دراصل اسی سوال کا جواب ہے۔ ہمیں اس سلسلہ میں ایک پیمانہ اور ایک کسوٹی بلاشبہ حاصل ہے۔ بنانے کی بات ہے تو پیمانے بنائے کہاں جاتے ہیں؟ ہر پیمانہ اپنے بننے کیلئے ایک پیمانے کا ضرورت مند ہوتا ہے۔ حق کا پیمانہ مطلق طور پر وحی ہے۔ اس سے پھر آگے سب پیمانے چلتے ہیں۔حتی کہ عقل کی حدود تک اسی سے ماپی جاتی ہیں۔ رہا اس وحی کا فہم تو اس کا پیمانہ ’سلف‘ ہیں۔ اس کا پیمانہ وہ انسانی واقعہ ہے جس کو صاحب وحی نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا اور مِن مِن کر اور تراش تراش کر ربع صدی میں اس کو تیار کیا اور اس کے عین مطابق وحی ہونے کی خوب خوب تسلی کی اور بعد والوں کو کرائی۔ اور قیامت تک آنے والوں کو اسے پیمانہ تسلیم کرنے کی تاکید فرمائی۔ ”ما انا علیہ واصحابی“ [ترمذی: حدیث نمبر ٢٥٦٥] اس کا مجموعی تسلسل پھر تابعین اور اتباع تابعین رہے۔ ان تین نسلوں کو سلف کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد فتنوں اور انحرافات نے امت کے اندر گو بڑی بڑی سطح پر مقبولیت پائی اور حق کا معاشرے میں پھر اس طرح بول بالا نہ رہا جس طرح کہ قرون ثلاثہ میں۔ مگر بعد والوں کو ایک پیمانہ اور کسوٹی دے دینے کیلئے یہ بہت کافی تھا۔ اس کے بعد اس بڑی سطح پر نہ سہی مگر کسی نہ کسی سطح پر اور تاریخ کے بعض ادوار میں تو خاصی اچھی سطح پر یہ تسلسل ہمیشہ باقی رہا اور اُمت کے جسم پر حملہ آور امراض وانحرافات کے خلاف مسلسل برسرپیکار رہا .... اس تسلسل کا نام اہلسنت تھا۔ اس کو پسپائی بھی ہوئی۔ یہ ہم مانتے ہیں۔ خصوصاً آخری صدیوں میں۔ دلچسپ بات یہ کہ اس کی پسپائی اُمت کے زوال کا پیمانہ ٹھہرا۔ پس یہ ہر معاملے میں ایک پیمانہ رہا۔ اُمت کا عروج بھی اسی سے ماپا جا سکتا ہے اور زوال بھی۔

پس یہ درست ہے کہ اصول اہلسنت کو آج آپ کسی بڑی سطح پر قائم نہیں دیکھتے اورموجودہ صورتحال میںاس کو بڑی حد تک غائب پاتے ہیں مگر یہ اس صورتحال کے درست ہونے کی دلیل نہیں۔ یہ بات اصول اہلسنت سے بے نیاز رہ سکنے کاجوازنہیں۔ بلکہ یہ اس زوال کی تفسیر ہے جو ہمیں پچھلی کچھ صدیوں سے لاحق ہے اور جو کہ ایک بے قابو مجمع کی صورت میں اب ہمارے سامنے ہے اور ایک ایسے پیمانے کا شدت سے ضرورت مند ہے جو اسے اس انتشار اور اس بحران سے نکال کریکسوئی کی راہ پر گامزن کرسکے۔

ہم ایک خود کفیل اُمت ہیں۔ اس بنا پر یکسوئی ہمارا حق ہے۔ تجربے اور ٹامک ٹوئیاں مارنے سے ہمیں بچا لیا گیا ہے الا یہ کہ ہم خود ہی اس پر اصرار کریں اور اس نعمت کا اندازہ کرنے سے انکاری ہوں جو خدا نے ہم پر کر رکھی ہے۔ ہمارے دین میںاور سلف کے راستے میں ہمارے لئے سب خیر رکھ دی گئی ہے۔ ایک پورے اطمینان اور تسلی کے ساتھ اس کو بنیاد بنا کر ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔ کن باتوں میں ہم کو یک آواز ہونا ہے اور کن امور میں اپنی آوازوں اور لہجوں کا تنوع باقی رکھا جا سکتا ہے، ہمیں اس معاملے میں رہنمائی بالفعل حاصل ہے۔ اس لحاظ سے ہم دنیا کی ہر قوم سے بڑھ کر پیداور (پروڈکٹيو) قوم ہو سکتے ہیں۔ کسی قوم کواپنے تمام تنوع کے ساتھ مجتمع رہنے کی بہترین بنیاد حاصل ہو اور مل کر آگے بڑھنے کیلئے اس کا راستہ سرے تک روشن ہو اور پھر یہ کہ اول سے آخر تک اس کا حق ہونا ثابت ہو اور وہ اس کی دنیا ہی نہیں آخرت کی بھی ضمانت ہو، اس سے بڑھ کر اس کو کیا چاہیے؟ ہم اس کی تمنا کریں؟ بطور امت ہمیں یہ چیز بالفعل دے دی گئی ہے!

عبداللہ بن مسعود کہا کرتے تھے:

اتبعوا ولا تبتدعوا فقد کفیتم (سنن دارمی، حدیث نمبر ٢١٠)

”اپنے سے پہلوں کی راہ پر چلو اور اپنی اپج مت لڑاؤ۔ کیونکہ تمہیں (اس ساری زحمت سے) کفایت کر دی گئی ہے“۔

ایسی یکسوئی کیا کسی قوم کو حاصل ہو سکتی ہے؟ اپنے یہاں اگر اس کا فقدان ہے تو ہمیںا پنے فہم کے ان مراجع پر جو دین اور عبادت کا مقصود پانے کے معاملے میں ہمیں آج تک متاثر کرتے رہے ہیں، ایک نظر ثانی کر لینی چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پس اس سوال کا جواب دے لینا بہت ضروری ہے کہ آپ نے دین کا فہم لیا کہاں سے ہے؟ دین کو جاننے کیلئے آپ کا مصدر فہم  یہاں کے درسی نصاب ہیں؟ تنظیمی لٹریچر ہے؟ اسٹال پر فروخت ہونے والی کتب اور رسائل ہیں؟ جلسے اور پروگرام ہیں؟ تقریر اور تحریر کے مناظرے ہیں؟ ’ذاتی مطالعہ‘ ہے؟ تراجم کتب ہیں؟ ریڈیو اور ٹی وی کی ’مذہبی‘ نشریات ہیں؟ اخبارات کے ’روحانی‘ ایڈیشن ہیں؟ .... اور یا پھر اصول اہلسنت کے مصادر؟

کسی لٹریچر یا پروگرام یا تقریر وغیرہ کی افادیت کم کرنا ہمارا مقصود نہیں یہ سب کچھ بجا مگر یہ کس حد تک آپ کو سلف کے منہج سے جوڑتا اور اصول اہلسنت سے وابستہ کرتا ہے اور کہاں تک آپ کو یہ خود اپنے ساتھ یا اپنے سلسلے کے ساتھ وابستہ کرتا ہے؟ یہ لٹریچر، یہ نصاب، یہ پروگرام اور یہ تقریریں وغیرہ کہاں تک یہ آپ سے اپنے اوپر انحصار کرواتے ہیں اور کہاں تک یہ آپ کو سلف تک پہنچا کر آتے اور سلف کے دستر خوان کا خوشہ چین بناتے ہیں؟ کہاں تک یہ آپ کا سلف پر انحصار کرواتے ہیں؟ دیکھنے کی بات صرف یہ ہے وگرنہ تحریر اور تقریر کی سرگرمی کسی دور میںبھی بُری نہیں۔

آئندہ شمارہ میں ہم اس موضوع پر کچھ مزید پہلو زیر بحث لائیں گے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔