|
بیداری<< اصلاح وتجدید<< منہج بسم اﷲ الرحمن الرحیم الحمد ﷲ والصلوہ والسلام علی رسول اﷲ اما بعد صدی کا ربع دوئم شروع ہوتا ہے پندرھویں صدی ہجری کے ربع دوئم کا آغاز ہے۔ ربع اول پورا ہو چکا ہے اور اب ہم اس صدی کے وسط کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہماری چودھویں صدی ’بیداری‘ کا آغاز تھا تو شاید یہ پندرھویں صدی اس ’بیداری‘ کے بلوغ کو پہنچنے کی صدی ہے۔ تجدید کا عمل، جیسا کہ احادیث میں آتا ہے، ہر صدی میں ہی ہوتا رہے گا اور ہر صدی کے اندر ایک منفرد انداز میں ہوگا پھر بھی اس عمل میں ایک تسلسل کا پایا جانا ایک تاریخی واقعہ ہے۔ کسی صدی میں معاملہ مجموعی طور پر آگے کی جانب بڑھا اور کسی صدی میں پیچھے آیا اور کہیں معاملہ بین بین رہا۔ اس اُمت کا کوئی دور ایسی کوششوں سے خالی نہیں رہا جو اس اُمت کے تاریخ میں آگے بڑھنے کے عمل کو عین اسی پٹڑی پر چڑھا دیں، جس پر کہ اس اُمت کو اس کی تاسیس کے وقت چلایا گیا تھا، اور عین اسی رخ پر لے آئیں جو کہ اس کو ابتدا کے اندر ایک بار دے دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود قوموں اور اُمتوں کا معاملہ افراد کی نسبت بہت مختلف ہے۔ ’تجدید‘ ایک کوشش، ایک عمل اور ایک جدوجہد کا نام ہے جس کو کہ قوم اور معاشرے سے ہی تفاعل کرنا ہوتا ہے۔ اس تفاعل کا نسبت تناسب کسی صدی میں کچھ رہا ہے تو کسی صدی میں کچھ اور۔ کسی دورمیں اس کے معاشرتی اور واقعاتی اثرات بہت اونچی سطح تک گئے اور کسی دور میں نسبتاً نیچے رہے۔ پھر اُمت کے اس اتنے بڑے پھیلاؤ کے تناظر میں خطوں اور علاقوں کا اختلاف بھی اس عمل پر اپنا اثر دکھاتا رہا۔ کہیں معاملہ اصلاحی اثرات کے معاملہ میں بہت اچھا دیکھا گیا اور کہیں اچھا نہیں بھی رہا۔ یہ ایک عجیب سانحہ رہا ہے کہ لوگوں کو تجدیدی عمل سے اصل سروکار رکھنے کی بجائے اپنی صدی کا ’مجدد‘ نامزد کرنے اور اس نامزدگی کی بابت اختلافات کرنے اور اس پر دلائل دینے سے ہی زیادہ دلچسپی رہی ہے۔ اس عمل نے ان کے وقت کا اچھا خاصا حصہ لیا۔ اب حال یہ ہے کہ مختلف طبقے گزشتہ صدی کیلئے اپنا اپنا ’مجدد‘ رکھتے ہیں اور آئندہ صدی کیلئے اپنے اپنے مجدد کے منتظر! گزشتہ کی ستائش اور آئندہ کا انتظار، ’مجدد‘ سے ہوتے ہوتے یہ انداز فکر آخر ’مہدی‘ پہ پہنچ جاتا ہے اور پھر چونکہ ’دجال‘ کا موضوع بھی اسی سے متصل ہے لہٰذا اس کے خروج کی بحثیں بھی ساتھ ہی عروج کو پہنچ جاتی ہیں .... گویا اس سب معاملے کی ہمیں بہت جلدی ہو رہی ہے! ’تجدید‘ کی نسبت ’مجدد‘ اصل موضوع بن جانا اور تبدیلی کے عمل پر پورا زور صرف کر دینے کی بجائے ’واقعات‘ اور ’پیشین گوئیوں‘ کی تطبیق پر ہی اُمت کی توجہ مرکوز کرا دینے کا یہ طرز عمل دراصل ایک انداز کا اعتراف شکست ہوتا ہے اور عملاً ایک بند گلی پہ پہنچے ہونے کا احساس .... جبکہ ہمیں اس وقت ایک عزم عمل کی ضرورت ہے اور آگے بڑھنے کیلئے ایک قابل اعتماد منہج کی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تیرھویں صدی یعنی گزشتہ سے پیوستہ صدی، ہمارے، انحطاط کو آخری حد تک پہنچ جانے کی صدی تھی۔ یہ ایک بھیانک ترین رات تھی جس میں سب کچھ ہمارے ہاتھ سے نکل گیا تھا۔ پورا عالم اسلام مغرب کے لشکروں کیلئے اپنے پھاٹک کھول کر کھڑا تھا اور مزاحمت کی قریب قریب سب قابل ذکر کوششیں موت کی نیند سلادی گئی تھیں۔ پھر یہ شہروں کے پھاٹک ابھی بند نہ ہونے پائے تھے کہ ذہنوں کے کواڑ کھول دیئے گئے۔ تب ہمارے ناعاقبت اندیش طبقوں کے ہاں ’تجدید‘ شاید اس بات کا نام ہو گیا تھا کہ بیرون کی اس فکری یلغار کے آگے دماغ ڈھیر کر دیئے جائیں اور ذہن کرایے پر اٹھا دیئے جائیں۔ دوسری طرف ایک بڑی سطح پر ’استقامت‘ کا یہ مطلب جانا گیا کہ ہم جمود اور رکود کی عین اسی کیفیت کو برقرار رکھیں اور دین کی اپنی محدث تعبیرات کو اب بھی مرجع بنا رکھیں اور اپنی ان معاشرتی اور سماجی روایات کو اب بھی سند جانیں جو کچھ آخری صدیوں میں ہمارے ہاں پرورش پا چکی تھیں اور جو کہ اس بیرونی فکری یلغار کا مقابلہ تو خیر کیا کرتیں درون میں پائی جانے والی پسماندگی اور بند ذہنی کا سدباب کرنے میں بھی کئی صدیوں سے ناکام چلی آئی تھیں۔ ان دو جہتوں میں آگے بڑھنے کے سوا تب ہمارے پاس تقریباً کوئی راہ نہ تھی۔ یہ ہے برصغیر کی سطح پر ہماری وہ کیفیت جس پر ہم تیرھویں صدی میں پہنچ کر کھڑے تھے۔ جو تھا سب ہاتھ سے چلا گیا اور آگے بڑھنے کا راستہ تقریباً ناپید۔ اس سے برا وقت ہم پر شاید کبھی نہ آیا تھا۔ سوا سو سال پہلے پھر جب ہم چودھویں صدی میں داخل ہوئے تو ہم میں نئے سرے سے ایک بیداری کروٹ لے رہی تھی۔ ایک سوئے شخص کا یکدم بیدار ہونا بلکہ باہر سے پے در پے ضربیں لگنے بلکہ ہتھوڑے برسنے کے باعث بیدار ہونا کئی ایک حادثات کا باعث ہو سکتا ہے۔ سو یہ ایک ایسی بیداری تھی جس کی کوئی خاص جہت نہ تھی۔ چنانچہ ہماری چودھویں صدی جہاں بیداری کی صدی تھی وہاں یہ ’تجربات‘ کی صدی بھی تھی۔ بہت کچھ پرکھا اور آزمایا گیا۔ جس کے باعث کہیں حوصلہ بڑھا اور کہیں مایوسیوں سے سامنا ہوا البتہ بیداری کی ایک مضبوط تر بنیاد کی ضرورت ذہنوں میں آخرکار اپنا آپ منوانے لگی .... اور اب خدا کا شکر ہے یہ پختہ تر ہوتی جا رہی ہے اور سنجیدہ ذہن ’راستے‘ کی بابت اب پہلے سے کہیں زیادہ سنجیدگی سے سوچنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔ تبدیلی کا ایک وہ نقشہ ہو سکتا ہے جو تیرھویں صدی کے اواخر یا چودھویں صدی کے اوائل کیلئے آج ہم تجویز کرکے دے سکتے ہیں کہ اس وقت اگر یہ اور یہ کام کیا جاتا اور یہ اور یہ راستہ اپنایا جاتا تو زیادہ بہتر نتائج تک پہنچا جا سکتا تھا مگر تبدیلی کا ایک نقشہ وہ تھا جو یہاں عملاً اپنایا گیا اور جس میں ہر شخص نے اور ہر طبقے نے اپنی اپنی سمجھ بوجھ سے کام لیتے ہوئے اور اپنے اپنے بس کے مطابق اور اپنے حالات کی مناسبت سے حصہ ڈالا .... خدا ہر کسی کو اس کی محنت کا صلہ دینے والا ہے البتہ آج جو ضروری ہے وہ یہ کہ ہم ا س عمل کا ایک بغور جائزہ لیں اور اس کی روشنی میں جو ترمیم اور جو تبدیلی ضروری ہو اس پر سنجیدگی سے غور کریں۔ پچھلی صدی میں لوگوں نے اگر اپنے حالات کے مطابق اور اپنی سوجھ بوجھ سے کام لیتے ہوئے اور اپنے بس کے مطابق معاملے کو حل کرنے اور آگے بڑھنے کی راہ بنانے پر محنت کی تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے حالات کے مطابق اور اپنی سمجھ بوجھ سے کام لے کر اور اپنی ہمت کے بقدر اپنے لئے راستہ تجویز کریں نہ یہ کہ وہ رخنے جو پہلوں سے پُر نہ ہو پائے اس ’تسلسل‘ کے احترام میں ہم بھی ان کو پُر کرتے ہوئے حرج محسوس کریں! آخر یہ ضروری تو نہیں کہ ہماری یہ صدی ہماری پچھلی صدی کا ہی ایک ہو بہو تسلسل رہے اور اسی کا ایک پرتو نظر آئے اور یہ کہ اس صدی میں بھی ہماری وہی جہت رہے جو کہ پچھلی صدی میں رہی!؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بے شک بہت سی اصول پسند دینی جماعتوں کا منہج عمل اپنا امتیاز قائم کئے رہا مگر چودھویں صدی میں ایک بڑی اور عوامی سطح پر جو ایک ہلچل دیکھنے میں آئی اور جس کا دائرہ محض برصغیر نہیں بلکہ شاید پورا عالم اسلام تھا .... وہ استعمار سے آزادی کا مشن تھا۔ باوجود اس کے کہ اس کا وہ رنگ جو ہماری قوم پرست قیادتوںنے باندھا اور جس کو کہ ہمارے قومی مطالعہ کے نصاب اب تک ہمارے ذہنوں میں بلکہ ہماری گھٹی میں بٹھاتے ہیں وہ ایک جعلی رنگ ہے اور یہ تاریخ کی روایت کا بھی کوئی قابل اعتماد انداز نہیں .... دو عالمی جنگوں نے، جس میں کہ یورپ کے لاکھوں فوجی لاشیں بنے، استعمار کی اس بُری طرح کمر نہ توڑ دی ہوتی اور ظالموں کی اپنی ہی ہڑبونگ سے دنیا کی قیادت میں یہ اکھاڑ پچھاڑ نہ ہوئی ہوتی جس سے کہ عالمی منظر نامے پر تبدیلیوں کا ایک تانتا بندھ گیا .... یہ سب نہ ہواہوتا تو ہم دیکھتے کہ ہمارے قومی ہیرو اس پُرامن انداز میں اور محض کچھ اخلاقی اپیلوں اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے کیونکر ہمیں یہ آزادی لے کر دیتے اور کیونکر وہ اس استعمار کو یوں گھر سے باہر کرتے جو توپ اور آہن کے سوا کسی زبان سے واقف نہیں، اور جس کا کہ جب بھی اسے موقع ملا آج تک وہ ثبوت دیتا آیا ہے۔ بہرحال دو عالمی جنگوں کا پیدا کردہ یہ منظر نامہ جس نے کہ استعمار کی ایک طرح سے کمر توڑ کر رکھ دی عالم اسلام کیلئے رحمت بن کر آیا (گو یہود نے بھی اس بہتی گنگا میں خوب خوب ہاتھ دھوئے)۔ جسم کی یہ آزادی جو ہمیں ملی کوئی شک نہیں کہ یہ بھی بہرحال ایک نعمت ہے اور پھر واقعتاً یہ ہمیں بہت ہی سستی ملی بلکہ ایک حد تک یوں کہیے کہ مفت ملی اور کچھ شک نہیں کہ استعمار نے ہمیں یہ ہنسی خوشی نہیں دی اور وہ ہمیں یہ ہنسی خوشی دیتا بھی کیوں جس پر کہ اس کی کئی صدیاں صرف ہوئیں؟ قوموں کی زمین اور وسائل ہڑپ کرلینے میں کامیابی کے جس نقطے پر یہ استعمار پہنچ گیا تھا اس پر اس کی بے رحم فوجوں کا بے حد خون بہا تھا اور اس کے ذہین دماغوں کا بے حد وقت صرف ہوا تھا اور یہ ساری تکلیف اس نے محض اس وجہ سے نہ کی تھی کہ وہ یہاں کی اقوام کو اپنے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھا کر اور آزادی اور جمہوریت کے مہنگے شوق سکھا کر، ان کو آزادی کی قومی جمہوری جدوجہد شروع کردینے کی راہ پر ڈال دے اور پھر آخرکار اس جدوجہد کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنی کئی صدیوں کی اس خون آشام اور ظلم سے پُر محنت پر آپ ہی پانی پھیر دے .... یوں بالآخر اس شرافت اور خوش اخلاقی سے وہ یہاں انتقال اقتدار (ٹرانسفر آف پاور) کا مصافحہ(ہينڈ شيك) کرے اور الوداع کہتا ہوا سات سمندر پار لوٹ جائے! اس کا انتظام یہاں بہت پکا تھا اور ارادے بہت لمبے۔ اس کا بنایا ہوا فرنیچر آج تک آپ یہاں ریلوے سٹیشنوں کی فرسٹ کلاس انتظار گاہوں میں دیکھ سکتے ہیں جو کہ شاید ابھی سو سال اور چل سکتا ہے! اب تک اس نے یہاں پہنچنے کیلئے جو محنت کی تھی وہ تو اس کے آئندہ منصوبوں کیلئے محض ایک مقدمہ تھا اور جو تعلیمی اور ثقافتی بندوبست اس نے یہاں پہنچنے کے بعد کیا وہ اس کی اپنی ہی مصنوعات کی تیاری کا ایک پلانٹ تھا اور اگر بیچ میں یہ حالات پیدا نہ ہوتے اور استعماری قوتوں کے اپنے مابین اقوام عالم کی بندربانٹ کا کوئی پرامن فارمولہ طے پایا رہتا تو یہ سب قومی قیادتیں تو ___ منصوبے کی رو سے ___ دراصل کسی اور ہی کام آتیں۔ آزادی لے کر دینا ان قیادتوں کی فکری تیاری کے پیچھے کوئی اصل مقصد نہ تھا.... کیونکہ آزادی دینا ___ اس وقت جب اس تعلیمی اور تربیتی نظام کی داغ بیل ڈالی گئی___ کہیں وہم وگمان ہی میں نہ تھا۔ جس منصوبہ کی رو سے کئی صدیاں ’فتوحات‘ میں بسر ہوئیں وہ اتنی جلدی اور اس دھڑا دھڑ انداز میں ملکوں کے ملک ’آزاد‘ کرنے کا روادار کب ہو سکتا تھا!؟ بہرحال یہ مظلوموں پر خدا کی ایک رحمت تھی کہ ظالم ایک دوسرے کی کمر توڑنے پر تل چکے تھے۔ پہلے ان کی دو عالمی جنگیں ہوئیں اور پھر باقی صدی ایک سرد جنگ میں گزری جس کے دوران کہ دنیا کے مظلوم نہتوں کو کچھ نہ کچھ سانس آجانے کا بندوبست ہوا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ سرد جنگ کا یہ خاتمہ دنیا کی مظلوم اقوام کو، جن میں کہ مسلمان سرفہرست ہیں، بہت مہنگا پڑا اور یوں دنیا ایک طرح سے اب استعمار کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ تیل کے کنویں، زمین دوز وسائل اور دولت کے مخفی (پوٹينشل) مراکز دنیا میں جہاں کہیں ہیں وہ اس استعمار کیلئے، جس نے خصلت نہیں صرف چہرہ بدلا ہے، اب پھر سے ایک کھلی دعوت ہے۔ یہاں تک کہ دنیا کے مظلوم اب خواہش کرتے ہیں کہ مظلوم نہیں تو کاش دنیا میں کوئی اور ظالم ہی سر اٹھا لے۔ سچ ہے کہ ایک ہی ظالم کے رحم وکرم پر رہنا اور یا پھر ظالموں کا آپس میں سمجھوتہ ہو جانا غریب کے حق میں ایک ناقابل اندازہ مصیبت ہے۔ خدایا دنیا کے ظالم کبھی اکٹھے نہ ہوں اور ایک ہی ظالم کے آگے بے بس بھی نہ ہوں۔ خدایا جب تک یہ ہیں لڑتے رہیں اور گلہ کاٹیں تو غریبوں کا نہیں اپنے ہی ایک دوسرے کا۔ اللھم اھلک الظالمین بالظلمین واخرجنا منھم سالمین غانمین۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہرحال پچھلی صدری ہمارے لئے ایک ہنگامی صدی تھی۔ ہماری بیداری کی کوئی متعین جہت نہ تھی۔ حتی کہ آزادی بھی شروع میں ہمارا مشن نہ تھی۔ کیونکہ اس کی، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، کوئی گنجائش ہی نہ تھی۔ یہ تو شروع میں ایک بہت ہی مخلصانہ اور فدویانہ انداز میں عرضیاں پیش کرنے کی ایک تحریک تھی اور ’بادشاہ یا ملکہ کا سایہ ہمارے سروں پہ ہمیشہ سلامت رہنے‘کی دُعائوں کے درمیان اپنے کچھ حقوق کا تذکرہ تھا اور کچھ ان غلط فہمیوں کا ازالہ جو چند عشرے پیشتر ہمارے بڑوں کے ’غدر‘ اور ’خیانت‘ نے ہماری قوم کی بابت ’صاحب‘ کو کروا دی تھیں جس کے باعث وہ ہم سے ’بددل‘ سا ہو گیا تھا اور جس کے باعث ہندو اس کے ہاں اپنی ’وفاداری‘ ثابت کرنے میں ہم سے پہل کر گئے تھے اور اسی کے باعث ’حقوق‘ پر ایک بڑا ہاتھ مار گئے تھے! پس یہ محض ایک ’حقوق‘ کی جدوجہد نہ تھی۔ یہ ’حقوق‘ کی ایک ایسی جدوجہد تھی جو ’وفاداری‘ کی زبان زیادہ سے زیادہ بہتر بولی جائے تو پروان چڑھتی ہے۔ ہمارے لئے یہ ’حقوق‘ اہم تھے تو استعمار کیلئے یہ ’زبان‘ اہم تھی جس کے ایک ایک لفظ سے ’وفاداری‘ کی مہک آئے۔ سو ہمارے لئے ایک ہی چینل کھلا رکھا گیا اور یہ وہی تھا جو ہمارے نمائندوں کا آپ سے آپ تعین کردے اور نمائندگی اور قیادت کیلئے ’نااہل‘ طبقوں کا بھی آپ سے آپ تعین کردے! سماجی سطح پر ہماری اس ’کامیابی بشرط وفاداری‘ کا معاملہ اس سے بھی ابتر تھا۔ آپ کو اپنا حلیہ اور چہرہ مہرہ تک بدلنا تھا اور اپنے گھر کا اندرونی نقشہ تک اس نئے ڈیزائن پر لانا تھا جو کہ ’فلاح‘ کی بنیاد مان لیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ ہماری شریف زادیاں تک، ضروری تھا کہ، برہنہ سر باہر آئیں اور ان سڑکوں اور بازاروں میں نکل کر ذرا اعلان کریں کہ اب یہ غزنوی اور عالمگیر کا ملک نہیں ہے بلکہ یہاں ملکہ برطانیہ کا سکہ چلتا ہے۔ یہ تھی وہ اندوہناک صورت اور ایک خوفناک مستقبل جس کے دہانے پر ہم چودھویں صدی کے آغاز میں کھڑے تھے۔ یہ صدی خدانخواستہ اگر عین اسی ڈگر پہ گزرتی تو نہ معلوم ہم بربادی کے کس نقطے پر پہنچتے۔ ہماری وہ قیادتیں جو ہمیں خدا کے راستے میں لے کر آگے بڑھ سکتی تھیں اول تو پائی ہی نہ جاتی تھیں اور اگر تھیں تو وہ اس سطح سے بہت نیچے تھیں جہاں وہ کوئی قافلہ تشکیل دے سکتیں اور اس بات کا تو خیر امکان ہی نہ تھا کہ ہمارے لوگ ان کو کسی درجہ میں درخور اعتنا جانیں۔ اس امر نے معاملہ کی اندوہناکی اور بھی بڑھا دی تھی۔ چودھویں صدی میں ہمارے برصغیر کے اندر اسلامی بیداری کے بھی بہت اچھے اچھے پھول کھلے۔ بلاشبہ ان کی خوشبو سے ہمیں پورے برصغیر کی فضا معطر نظر آتی ہے۔ یہ اسلام کی طرف ایک پورے اعتماد کے ساتھ اور ایک بصیرت کے ساتھ واپس آنے کی تحریکیں تھیں جو وقفے وقفے سے اور تھوڑے تھوڑے فرق کے ساتھ یہاں منظر عام پر آئیں اور لوگوں کے کئی ایک طبقوں کو متاثر کرتی رہیں۔ اصل امید کچھ ہو سکتی تھی تو وہ بیداری کے اسی ٹھوس عمل سے تھی مگر اس کو ابھی بہت کچھ کرنے اور تیاری کے بہت سے ابتدائی مراحل سے گزرنا تھا اور جب تک یہ قوم کی قیادت کی صلاحیت پاتا اور درست راستے میں قوم کی صفیں درست کراتا، تباہ کن معاشرتی رحجانات کا یہ معاملہ کہیں سے کہیں پہنچ چکا ہوتا۔ استعمار کو دلجمعی اور طویل منصوبہ بندی سے کام کرنے کا یہاں کچھ اور موقعہ مل گیا ہوتا تو ہمارے ان معاشروں کا حال بھی کم از کم وہ ہوتا جو بعض افریقی کالونیوں کا ہوا جہاں لوگ اپنی زبان تک بھول گئے اور اپنی پہچان تک سے بیگانہ ہو گئے۔ ہماری دینی تحریکوں کی اس حالت پر لگتا ہے خدا نے ترس کیا اور ان معاشروں کو استعمار کے چنگل سے آزاد کرا دینے کا آپ ہی اپنی طرف سے انتظام کرا دیا۔ دنیا کے وسائل کو اس بری طرح نگلتے جانے کا عمل استعمار کو راس نہ آیا اور شکار کے حصے بخرے کرنے کے مسئلے پر درندے شکار کو بھول کر آپس میں لڑ پڑے۔ ’شکار‘ کی جان چھڑوانے کا یہ ایک خدائی انتظام تھا۔ یہ شکار عین اس وقت چھوٹ گیا جب اس میں زندگی کی ابھی کچھ رمق باقی تھی بلکہ زندگی پانے کیلئے اس میں حسرتوں اور ولولوں کے نئے نئے طوفان بھی اٹھنے لگے تھے! بے شک یہ ایک جسم کی آزادی تھی مگر ذہن اور روح کو مسخ کر دینے کا عمل اب مزید جاری رہنا یا کم از کم اسی رفتار سے جاری رہنا بہرحال دشوار ہو گیا تھا۔ یہ خدا کا فضل تھا کہ ایک طرف چودھویں صدی کا آغاز تھا (انیسویں صدی عیسوی کا نوواں عشرہ) جہاں ہماری دینی اٹھان کا عمل نیند سے اٹھ کر ابھی آنکھیں مل رہا تھا اور اپنے سامنے ایک ایسے پہاڑ کو دیکھ رہا تھا جس کا ہل جانا قریب قریب ناممکنات میں شمار ہو سکتا ہو .... اور دوسری طرف استعماری دنیا کے اپنے افق پر ایک خون آشام چپقلش کے آثار دھیرے دھیرے انداز میں نمودار ہونے لگے تھے۔ تین عشرے بعد یہ چپقلش استعماری قوتوں کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی۔ اسلحے کے اتنے بڑے بڑے ڈھیر جن سے اب تک ہماری شامت آئی رہی تھی اب ان کے اپنے آپس میں برتے جا رہے تھے۔ اس سے پہلے بارود چلنے کا اس سے بڑا مظاہرہ کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ درست ہے کہ پہلی عالمی جنگ کی زد میں ہماری عثمانی خلافت بھی آئی جس کے باعث چودھویں صدی ہجری کا پانچواں عشرہ شروع ہوتے ہی خلافت ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم ہو گئی۔ مگر بات یہ ہے کہ بڑی دیر سے اس عمارت کا ڈہ جانا اب ٹھہر گیا تھا۔ عالمی جنگ نے کچھ کیا تو وہ زیادہ سے زیادہ یہ کہ ’مرد بیمار‘ کی اجل قریب کردی۔ تاہم اس واقعہ کا ہو جانا کسی کیلئے بھی غیر متوقع نہ تھا .... البتہ اس عمارت کے ڈھا دیے جانے نے اس بارہ میں اُمت کے ہمدردوں کی رہی سہی شک بھی دور کر دی کہ اس اُمت کو اب ایک نئی عمارت کی تعمیر کا مسئلہ درپیش ہے۔ آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ چودھویں صدی کے پانچویں عشرے کے آغاز میں سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوتا ہے تو اسی عشرہ کے اختتام تک پہنچتے پہنچتے عالم اسلام کی دو منفرد ترین تحریکوں کی داغ بیل رکھ دی جاتی ہے: مصر میں حسن البنا کی الاخوان المسلمون اور ہندوستان میں سید مودودی کی جماعت اسلامی! دیکھنے والوں پر واضح ہو رہا تھا کہ یہ اُمت ختم ہو جانے کیلئے نہیں بنی اور یہ کہ اس میں اب بھی خدا کے فضل سے بڑا دم خم ہے اور یہ کہ اس کے افق پر ایک سورج اب بھی طلوع ہو سکتا ہے اور اُمید کی نئی گھٹائیں اب بھی اس کی سرزمین سے دور نہیں۔ بہرحال پہلی عالمی جنگ کے بعد کے دو عشرے کچھ یوں گزرے کہ استعماری ممالک ایک دوسری جنگ عظیم کی تیاری کر رہے تھے۔ جنگ تھم گئی تھی اور بھیڑیے سستا رہے مگر یہ سکوت ایک نئے طوفان کا پیشہ خیمہ تھا۔ ظالموں کو ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار بنانے کے مشن پر گویا قدرت کی طرف سے مامور کردیا گیا ہو۔ اب تک ایٹم بم بھی بن چکے تھے۔ دو عشرے جنگ کی تیاری ہوئی اور پھر تیسرا عشرہ خوب جنگ ہوئی۔ لوٹے تو جنگ سے چور تھے اور اب کی بار زخم چاٹنے کیلئے ان کو ایک طویل آرام کی ضرورت تھی۔ چودھویں صدی کے ساتویں عشرہ کے وسط میں ’تیسری دنیا‘ بڑی حیرانی سے اپنے آپ کو آزاد دیکھ رہی تھی! کچھ شک نہیں کہ اس جسمانی آزادی کی نوبت بھی بڑی مشکل سے آئی تھی۔ قدرت کے کچھ کرشمے دیکھنے میں نہ آتے تو اس کا بھی سوال اٹھنے والا نہ تھا۔ البتہ یہ آزاد دنیا ایک اپاہج دنیا تھی۔ خود اس کے اپنے لئے اس معاملے کو سنبھالنا کوئی آسان نہ تھا۔ سب کچھ بہت جلدی میں اور ایک غیر طبعی انداز میں ہوا تھا۔ منصوبہ سازوں کے اپنے منصوبے تھوڑی تھوڑی دیر بعد بدلتے رہے تھے اور ہر چند برس بعد اصلاحات کے نئے نئے پلان بن کر آرہے تھے۔ سن انیس سو بیس اور تیس (عیسوی) کے عشرے میں بار بار پینترے بدلے جا رہے تھے۔ یہ بڑی حد تک ’حالات‘ تھے جو سب کچھ کرا رہے تھے۔ حالات تھے گویا سب کو لشتم پشتم بھاگنا تھا۔ ’حالات‘ کا ساتھ دیے بغیر اب کسی کو چارہ نہ تھا۔ یہ ظالموں کی بساط الٹنے کا وقت تھا مگر ہمیں زندگی کے اسباب خود اپنے ہی اندر تلاش کرنا تھے! تیسری دنیا کا اپاہج پن ہرگز اتنی آسانی سے جانے والا نہ تھا۔ یہاں کے سب معاشرتی خدوخال اس ایک صدی میں تبدیل ہو کر بلکہ مسخ ہو کر رہ گئے تھے۔ استعمار کے قبضے میں آنے سے پہلے یہ معاشرے جیسی کیسی بنیادوں پر چلتے رہے تھے اب وہ سب کچھ ایک بڑی سطح پر تہس نہس ہو چکا تھا۔ البتہ وہ نئی بنیادیں جو ان کو فراہم کی گئی تھیں فکری اور سماجی معنوں میں وہ کوئی ایسی بنیادیں نہ تھیں جو کچھ خود مختار اور خود کفیل معاشروں کی ہوا کرتی ہیں۔ ان معاشروں کی بنیادیں دراصل ’کالونیوں‘ کی طرز پر اٹھائی گئی تھیں۔ ’کالونی‘ ایک طرح کی چھاؤنی ہوتی ہے جس میں ’منتظم‘ کی حیثیت مسلمہ ہوتی ہے اور افسر شاہی کا جال ایک اسی کے قابو کرنے کا ہوتا ہے اور طفیلی ذہنوں کو بھی اس کے دست شفقت کی ضرورت رہتی ہے۔ ’صاحب‘ کی طویل عرصہ تک ایک جسمانی انداز کی غیر موجودگی اس کے نظام کو درہم برہم کر دیتی ہے۔ چنانچہ یہ ایک طبعی بات تھی کہ آزاد ہوتے ہی ہم کاسہء گدائی اُٹھا کر دنیا میں پھرنا شروع کردیں۔ بہت ساروں کو ہم صرف امدادیں اور قرضے مانگتے ہی معیوب لگے مگر ہماری سوچ اور فکر تک اپنی نہ تھی۔ ہم ایک صحیح معنی میں طفیلی تھے۔ اپنے اس روگ کی تشخیص خیر بہت کم لوگ کر پائے اور اس کے علاج کی فکر کرنے والے اس سے بھی کم۔ یہاں ہم اپنے ان دینی طبقوں سے شدید طور پر اختلاف کریں گے جو ’آزادی‘ سے پہلے کے چند عشروں کو کارناموں (اچيومنٹس) کے ایام گنتے ہیں اور اس مرحلہ کی صحت پر پورا اطمینان اور شرح صدر پاتے ہیں البتہ آزادی کے مابعد عشروں کو ناکامیوں کے تحت درج کرتے ہیں۔ اپنی قوم کا اپاہج پن دور کرنے کیلئے ہمارے ان طبقوں نے ___ بڑی حد تک___ نہ آزادی سے پہلے کچھ کیا اور نہ آزادی کے بعد۔ چنانچہ فی نفسہ معاملے میں کوئی فرق نہ آیا البتہ ’آزادی‘ ایک ایسا واقعہ ہے جس کے پیش آجانے کے بعد بطور قوم آپ کو اب اپنی اہلیت دکھانے کا چیلنج درپیش تھا، جبکہ یہ چیلنج آپ کے اپنے ہی فرمائش کرنے پر ملا تھا۔ اب یہ اہلیت آپ کو قوم میں خود ہی پیدا کرنا تھی اور دراصل یہ امامت کامنصب ہے جو کہ ہمیشہ دینی قیادتوں کا ہی منتظر رہا ہے .... نہ کہ ’قومی‘ قیادتوں کا۔ بنیادی طور پر یہ ایک ہی قوم تھی، آزادی سے پہلے بھی اور آزادی کے بعد بھی۔ البتہ اس کی اہلیت نظر آنے کا موقعہ ابھی جا کر پیدا ہوا تھا۔ یہیں سے اس غلط فہمی نے جنم لے لیا۔ یہی غلط فہمی چنانچہ پھرآگے چل کر مایوسی میں تبدیل ہوئی۔ چودھویں صدی کے آخری دو عشرے یوں ایک گونہ مایوسی میں گزرے۔ آزادی کے خواب ادھورے رہ جانے کے شکوے عام سنے گئے۔ سب سے زیادہ تعجب کا باعث ان شکووں کا یہاں کے دین دار طبقوں کی زبان سے سنا جانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ہرگز ہمارا کسی ’عروج‘ سے ’زوال‘ کی جانب آجانے کا واقعہ نہیں۔ یہ زوال صرف اسی شخص کے نقطہء نظر سے ہے جس کو وہ پہلا واقعہ ’عروج‘ نظر آتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ کچھ غیر محسوب و قائع تھے جو ہماری کسی تیاری کے بغیر پیش آئے۔ اس کا سارا الزام چند وزیروں مشیروں پر ڈال دینا اور ابھی تک ڈالتے چلے آنا معاملے کی بے انتہا غلط تفسیر ہے اور اصل کام سے صرف نظر کر لینے کی ایک نادانستہ کوشش بھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خلافت کے خاتمہ کے بعد جو ایک اتھاہ مایوسی کی فضا چھائی تھی اور پھر اس صورت حال کے شایان شان جو تحریکی کروٹ اُمت کے دینی طبقے یہاں لینے لگے تھے اور اس سے پھر آگے بڑھنے کیلئے امیدوں کی جو ایک نئی جہت نظر آنے لگی تھی اس کا مزاج ’حالات‘ اور ’وقتی کارروائیوں‘ کی نسبت بہت مختلف تھا۔ یہ ایک جامع بنیادی تبدیلی کی تحریک تھی اور اس کا مزاج بڑی حد تک آفاقی تھا۔ اس میں گو بہت کچھ کمیاں اور کوتاہیاں رہی ہوں گی جن کی جانب اشارہ کرنا یہاں اس سیاق میں ممکن نہیں مگر یہ تبدیلی کی ایک ایسی صدا تھی جس کے اثرات کو بہت دور رس ہونا تھا۔ اس تحریکی عمل کے اپنے ہی مزاج کا تقاضا تھا کہ یہ اپنی اسی مدہم رفتار سے آگے بڑھے اور اپنی معاشرتی تاثیر میں ابھی اور بھی گہرا چلا جائے اور اپنے افراد میں فکری پختگی کو اس سے بھی بلند تر سطح پر لے جائے بلکہ خود اپنے فکر کو بھی ’تحریک‘ کے ساتھ ساتھ ’علم‘ کی جہت دے اور جاہلیت کے ساتھ مقامی اور عالمی سطح پر ایک زیادہ بنیادی نوعیت کا اختلاف کرے تاکہ لوگ جاہلی قیادت کو ایک اصولی بنیاد پہ رد کریں نہ کہ ایک سیاسی بنیاد پر۔ مگر اس مابعد استعمار دور نے مقامی طور پر ایک اتنے بڑے خلاکو جنم دیا کہ اسلامی تحریک کو اپنے فکری اور اصولی مطالب سے نیچے آکر وقتی ہنگاموں میں شریک ہوجانے کی شدید ضرورت محسوس ہوئی .... یہیں سے پھر اس کے منہج میں ’حالات‘ کا آہنگ بلند ہونا شروع ہوا اور تبدیلی کے بنیادی موضوعات رفتہ رفتہ پس منظر میں جانے لگے تاآنکہ یہ ایک سیاسی تبدیلی کی صدا محسوس ہونے لگی جبکہ اس سے پہلے یہ ایک فکری، نظریاتی اور سماجی تبدیلی کا بھی بھرپور ایجنڈا رکھتی تھی۔ یوں سیاسی عمل پر اپنی توجہ زیادہ تر مرکوز کر دینے کے بعد تحریک کا نظریاتی افق اپنی وہ وسعت، جو اس کو اپنی تاسیس کے پہلے دو عشرے حاصل رہی۔ رفتہ رفتہ کھونے لگا اور پندرھویں صدی شروع ہونے تک (گزشتہ دو دہائیاں) لوگ اس سے وہ مقدمہ وصول نہیں کر پا رہے تھے جو نصف صدی پیشتر آپ سے آپ اس کی دعوت سے پھوٹا پڑ رہا تھا۔ تب تلک (عیسوی اسی اور نوے کی دہائیاں) مذہبی مسالک بھی سیاست میںا پنی اپنی نمائندگی آپ ہی کرنے لگے اور اپنے اپنے ووٹ بینک کو اپنے ہی سیاسی ایجنڈے کیلئے وقف کررکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہوئے جس سے سیاست کے اندر ’اسلامی تحریک‘ کی بجائے ’مذہبی جماعتوں‘ کا فنامنا دیکھنے میں آیا۔ اس سے جاہلیت کے خلاف تحریک کا مقدمہ اور بھی مبہم ہو گیا۔ مگر اس تحریک نے اپنی تاسیس کی پہلی دو دہائیاںایک ایسی بنیادی اور اصولی جہت اختیار کر لی تھی کہ مابعد کی تبدیلیوں کے باوجود اس کا دھارا آپ سے آپ چلا۔ تحریک میں موجود ایک بڑا عنصر اپنی اسی پہلے والی پہچان کو ہی اپنا اصل سرمایہ مانتا رہا۔ پھر وقفے وقفے سے بہت سی شخصیات، بہت سے گروہ، بہت سی جماعتیں بھی کم یا زیادہ منظر عام پر آتی رہیں جو تحریک اسلامی کے اسی ابتدائی دور کی یاد تازہ کر دینے کی شدید متمنی نظر آئیں اور اس کیلئے انہوں نے اپنی سی کوشش بھی کی۔ گو ہر ایک نے اس کے ابتدائی منہج میں کچھ ترمیمات اور کچھ اضافے بھی تجویز کئے ہونگے مگر مجموعی طور پر اس کا تسلسل برقرار رکھنے پر اصولی انداز میں ایک شدید اتفاق پایا گیا۔ [ اس معاملہ کا افسوسناک پہلو بس یہ رہا کہ ان جماعتوں کی ’تنظیمی‘ ضروریات ایک دوسرے کے آدمی توڑنے اور اپنے ساتھ ’کارکن‘ جوڑنے کے عمل میں شدت لانے کا باعث بنیں۔ یوں یہ ایک صحت مند اختلاف ہونے کی بجائے ’تنظیمی‘ اور ’شخصیات کے گرد گھومنے والا‘ اختلاف بن جاتا رہا۔ یوں ان کا وہ اصل مقدمہ جو اس معاملے کو کسی صحیح جہت میں آگے بڑھا سکتا تھا بڑی حد تک ’ٹوٹنے‘ اور ’جڑنے‘ کے واقعات میں اور آپس کی تنقید کی رو میں روپوش ہو جاتا رہا۔] چنانچہ یہ ہمارے نزدیک ایک ایسی مشترک بنیاد ہے جس پر آج بھی یہاں کے بہت سے تحریکی حلقوں کو اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔ بے شک یہ تحریکی حلقے اپنے اپنے منہج عمل کو بھی اپنی حد تک برقرار رکھیں مگر ایک فکری اور نظریاتی یکجہتی لانے کیلئے اور ایک ٹھوس مگر وسیع تر تحریکی بنیاد پر مل کر معاشرے میں آگے بڑھنے کیلئے ان کو ایک ’مشترک زمین‘ بھی حاصل ہے جو کہ تحریک کی وہ بنیاد ہے جو چودھویں صدی کے وسط دوئم کے ابتدائی عشروں (١٩٣٠۔١٩٥٠ء) میں رکھی گئی۔ یہ ایک لمحہء فکریہ ہے۔ کچھ سیاسی مہمات ہمیں سیاسی اتحاد کر لینے پر آمادہ کر سکتی ہیں تو معاشرتی تبدیلی کے اساسی اور بنیادی مطالب ہمیں معاشرے میں ایک فکری اور نظریاتی محاذ تشکیل دے لینے پر کیوں تیار نہیں کرسکتے؟ آج سے سات عشرے پیشتر برصغیر میں مولانا مودودی کے ہاتھوں جس فکری اور تحریکی عمل کی اساس رکھی گئی اس میں بلاشبہ مولانا مودودی کی بصیرت کو اور ان کے فکر زرخیز کو اور ان کی بے مثال محنت وجدوجہد کو ایک کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے باوجود یہ عمل اس سے پیشتر انجام دیئے گئے ایک فکری، عقائدی، نظریاتی اور روحانی عمل کا ایک تسلسل بھی تھا۔ ’قرآن‘ پر کام ہونا برصغیر کے اندر اس سے بہت پہلے شروع ہو چکا تھا اور اس پر بعض طبقوں نے اور بعض شخصیات نے بہت محنت کی تھی۔ ’عقیدہ‘ کی جکڑ بند تعبیر اور بدعات محدثات کے خلاف ایک اصلاحی انداز کی تحریک اس سے پہلے کوئی صدی بھر چلتی رہی تھی۔ بلکہ ’عقیدہ‘ کی اصلاح کی تاریخ برصغیر میں اس سے بہت پیچھے تک جاتی ہے۔ گمراہیوں کے کچھ پہاڑ ایسے تھے جو اب تک کچھ نہ کچھ ہلائے جا چکے تھے۔ ’حدیث‘ کے نشر واشاعت پر کئی طبقے اس سے پہلے بہت محنت کر چکے تھے۔ فقہی جمود کو توڑنے کے کئی مرحلے اس سے پہلے سر ہو چکے تھے اور ان سب باتوں کا سہرا تحریک اہلحدیث کو ملتا ہے اور پھر تحقیقی روش کے حامل علمائے احناف کو۔ ’شرعی علوم‘ کی تجدید پر کئی سنجیدہ کوششیں اس سے پہلے ہو چکی تھیں جن میں کہ ’ندوہ العلماء‘ ایک علمی تحریک کی صورت میں سرفہرست نظر آتا ہے۔ ’مغرب فہمی‘ کا عمل بہت سے ضروری مرحلے طے کر چکا تھا اور اس باب میں ’اقبال‘ کا فکری اثاثہ بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ البتہ ایک جامع تبدیلی کی صدا برصغیر کے اطراف واکناف میں چودھویں صدی کے نصف دوئم کے آغاز پر ہمیں سید مودودی کی تحریک میں ہی سننے کو ملتی ہے معاشرے میں باطل کے خلاف مسلمانوں کی صفیں درست کرانے کا اس سطح کا منظم تحریکی عمل، جس کی جڑیں عوام اور خواص میں بیک وقت گہری لے جانے کی کوشش کی گئی ہو، صدی میں اس سے پہلے ہمیں نہیں ملتا.... گو اس میں بھی کچھ اہم پہلوؤں کی کمی ہمیں شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ تاہم جس تحریک کے پس منظر میں بہت سی تحریکوں کا خون پسینہ شامل ہو اس کا افق بے حد وسیع رکھے جانے کی ضرورت مسلم تھی۔ اس کا انتظام رہتا تو وقت کے ساتھ ساتھ اس میں بے حد قیمتی اضافے ممکن تھے۔ اس لحاظ سے ہم اس بات میں حرج محسوس نہیں کرتے کہ ’تحریک‘ کو ’جماعت‘ سے وسیع تر معنی میں لیا جائے اور تحریک کا دائرہ بھی وسیع تر رکھا جائے جس میں مختلف طبقے اپنا اپنا طرز فکر برقرار رکھتے ہوئے بھی ایک وسیع تر محاذ تشکیل دیں .... ایک طرف معاشرے کو فکری راہنمائی دیں اور دوسری طرف جاہلیت کے خلاف مل کر صف آرا ہوں۔ اس ’وسیع تر معنی‘ میں ’تحریک‘ کا جو مفہوم ہم نے یہاں لیا ہے اس کی رو سے دیکھا جائے تو اس تحریک کا کام پچھلے سات عشروں میں کچھ بہت پیچھے نہیں گیا بلکہ مختلف صورتوں میں کچھ نہ کچھ آگے ہی بڑھا ہے۔ البتہ اس میں ہم آہنگی شدید حد تک ضرور مفقود رہی۔ اس کے فکری پس منظر کو تازہ کرنے کا عمل زور وشور سے شروع کردیا جائے اور اس کا افق بھی اسی طرح وسیع کرنے کی کوشش کی جائے اور اس کا دائرہ بھی ایک خاص حد تک کھلا رکھا جائے تو ہمیں امید ہے اس ’تحریک‘ کا معاملہ ایک بہترین جہت اختیار کر سکتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پچھلے چار پانچ عشروں میں برصغیر کے اندر ایک اور پیشرفت بھی ہوئی ہے جو کہ ہمیں امید ہے کہ بہت سے دور رس اثرات لے کر آئے گی۔ یہ برصغیر میں احناف اور اہل حدیث کے مدارس کے پڑھے ہوئے ہزاروں نوجوانوں کا عرب کی جامعات میں خصوصاً جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں پڑھ پڑھ کر واپس آنا ہے۔ حجاز کی جامعات کے ہزاروں فارغ التحصیل اس وقت برصغیر کے دینی اداروں میں تعلیم اور راہنمائی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ باوجود اس کے کہ اس واقعہ نے یہاں کے دینی عمل پر اثر انداز ہونے کی وہ جہت اختیار نہیں کی جس کی کہ امید ہونی چاہیے تھی اور اس کے کئی ایک اسباب ہیں پھر بھی ایک بہت سست رفتار میں اور ایک غیر محسوس انداز کی تبدیلی بہرحال آئی ہے .... البتہ آئندہ کے کسی دعوتی عمل میں اس کا ایک بہترین استعمال کیا جا سکتا ہے۔ محمد بن عبدالوہاب کی موحد تحریک کے اثرات پہنچنا یہاں بہت ابتدا میں ہی شروع ہو گئے تھے۔ یہاں کا اصلاحی عمل ہمیشہ ہی اس سے راہنمائی پاتا رہا ہے۔ ’وہابیت‘ برصغیر کا ایک پرانا ظاہرہ ہے۔ البتہ برصغیر کے نوجوانوں کو ایک باقاعدہ تلمذ اختیار کرنے کا موقعہ پچھلے چند عشروں میں ہی ملا۔ جب سے حجاز کی جامعات نے بیرونی طلباءکیلئے تعلیمی سہولیات فراہم کیں تب سے نجد کی دعوت یہاں ایک زیادہ باقاعدہ انداز میں منتقل ہونے لگی۔ ہمارا خیال ہے کہ برصغیر میں عقیدہ کی دعوت کا راستہ صاف کرنے کی جانب یہ ایک زبردست پیشرفت ہے اور اس کی بدولت آئندہ مرحلے میں ’تحریک‘ کو ’علم‘ سے بہرہ ور کرنے کی بابت ہم ایک بہترین پوزیشن میں ہوں گے۔ یہاں کے تحریکی افکار کو تبدیلی کی جن کئی ایک جہتوں سے گزارا جانا بھی ہمارے خیال میں بہت ضروری ہے ان میں سے ایک جہت ایسی ہے جو اس امکان کو بھی بروئے کار لانے کی شدت سے متقاضی ہے۔ یہ واقعتا ایک زبردست امکان (پوٹينشل) ہے جس سے برصغیر کی تحریکی دنیا میں فائدہ لیا جانا ابھی باقی ہے۔ موجودہ دور کے کئی ایک مفکرین اس اعتبار کو درست قرار دیتے ہیں کہ اخوان اور سنوسی دعوت اور عبدالحمید بادیس کی جمعیتہ العلماءوغیرہ جزیرہء عرب میں اٹھنے والی وہابی تحریک کی ہی ایک طرح سے صدائے بازگشت ہیں۔ بلاشبہ برصغیر کا تحریکی عمل بھی اس صدائے بازگشت سے کچھ ایسا غیر مانوس نہیں۔ مگر اب اس کا آہنگ اوربھی بلند کیا جا سکتا ہے.... اور ہمیں اُمید ہے کہ یہ ہوگا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈھائی عشرے پیشتر جب پندرھویں صدی کا آغاز ہوا تو ’سرد جنگ‘ اپنے آخری مرحلے کو پہنچ رہی تھی۔ سرد جنگ کا آخری اکھاڑا افغانستان بنا اور اس میں کفر کے دونوں معسکر اپنا اپنا زور لگا دینے پر آخری حد تک چلے گئے تھے۔ چنانچہ پندرھویں صدی کا پہلا تحفہ اس امت کو افغان جہاد کی صورت میں ملا۔ مسلم نوجوانوں کیلئے جہاد کے دروازے کھول دینا کفر کے ایک معسکر کی شدید ترین ضرورت بن گئی تھی۔ یوں کفر کے دونوں معسکر بالواسطہ اس امر میں متعاون ہوئے کہ اس امت میں پائی جانے والی بیداری ایک بڑی سطح پر اب ایک جہادی رخ بھی اختیار کرے اور آئندہ کے کچھ مرحلوں کی جانب زیادہ بہتر انداز میں اور زیادہ اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔ افغان جہاد غالباً ایک نئے مرحلے کا آغاز تھا۔ اس کے ساتھ ہی اُمت کو درپیش کئی اور عسکری محاذوں پر بھی تیزی آئی اور اُمت کے نوجوانوں میں ایک نیا ولولہ پیدا ہوا۔ یوں پندرھویں صدی کے ربع اول میں یہاں بلکہ عالم اسلام میں ہر جگہ ’جہادی تحریکوں‘ کا ظاہرہ رونما ہوا جس نے کہ چودھویں صدی کے آخری دوعشروں میں اسلام پسند تحریکوں پر مایوسی اور یکسانیت کی سی جو ایک کیفیت طاری ہو چکی تھی، اس کو ایک اور انداز کی اُمید سے بدلا اور خود یہاں مقامی طور پر معاشرے کے بہت سے طبقوں کو متاثر کیا اور خصوصاً نوجوانوں کو دینداری کی جانب متوجہ کیا۔ طالبان کا تجربہ اب تک کے جہادی عمل کا شاید نقطہء عروج تھا۔ طالبان کے سقوط کے بعد جو کہ گیارہ ستمبر کے واقعہ سے متصل ہے جہادی عمل کو اب کچھ نئے چیلنج درپیش ہیں، جو کہ ہمیں امید ہے کہ خدا کے فضل سے اس میں مزید پختگی لے آنے کا ہی باعث بنیں گے۔ جس طریقہ سے پیچھے ہم ’تحریک‘ کو ’علم‘ سے مسلح کرنے اور اس پر ’عقیدہ‘ و ’فکر‘ کی چھاپ گہر ی کرنے کی ضرورت پر زور دے آئے ہیں عین وہی ضرورت ہم ’جہادی عمل‘ کیلئے بھی سمجھتے ہیں۔ آئندہ عشروں میں اس رخ پر کچھ اچھی پیشرفت ہو جائے تو ’بیداری‘ کے عمل کو بہت سی نئی جہتوں سے ہمکنار کیا جا سکتا ہے۔ وما ذلک علی اللّٰہ بعزیز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پندرھویں صدی کا دوسرا عشرہ عمل کی ایک اور جہت بھی ہمارے سامنے لے کر آیا گو ہمارا دینی طبقہ اس میں ابھی بہت پیچھے ہے مگر یہ بھی اپنے اندر کامیابی کے بے پناہ امکانات رکھتا ہے .... اور یہ ہے ’انفرمیشن‘ کا انقلاب۔ واقعہ کچھ یوں رہا ہے کہ ابلاغ کے سبھی فورم عالمی جاہلیت کی دسترس میں رہے ہیں۔ حتی کہ ابلاغ کے سب مقامی فورم بھی اسی کی نوکری کرتے ہیں۔ یہ ٹی وی ہے تب، ریڈیو ہے تب، اخبارات ہیں تب سب کچھ جاہلیت کی زبان بولتا ہے۔ تحریکی اسلام کو یہاں ابلاغ کا کوئی فورم حاصل نہیں رہا ہے اور دراصل منصوبہ یہی رہا ہے کہ تحریک اسلام کو آج کی اس بھری دنیا میں گونگا رکھ کر مارا جائے۔ جاہلی میڈیا اس کا جیسا رنگ بنانا چاہے بنائے اور جاہلی طاقتیں اس کو جس طرح مارنا چاہیں ماریں مگر اس کی اپنی زبان سے کسی کو کچھ نہ سنے۔ انٹرنیٹ اس تناظر میں اب ہمارے لئے نئے امکانات لے کر آیا ہے۔ بے شک انہوں نے کچھ اپنے ہی مقاصد کیلئے اسے شروع کیا اور دنیا میں خباثت کا ایک نیا طوفان اٹھانے کیلئے وہ اس کو سامنے لائے اور بے شک اس نے اب تک انہی کے زیادہ تر مقاصد پورے کئے ہیں مگر اس عمل نے ہمارے لئے بھی کام کے بے پناہ امکانات روشن کئے ہیں۔ انٹرنیٹ کو اسلام کیلئے مسخر کرنے کے کئی ایک تجربے اب تک کامیابی کی بہت اعلیٰ سطح کو چھو بھی چکے ہیں۔ دنیا اب جہاں کھڑی ہے اس کو یہ گلوبلائزیشن کا نام دیتے ہیں۔ دنیا کی نفسیات کو جاننا اس وقت ہماری تحریکوں کیلئے بے پناہ اہمیت کا حامل ہو گیا ہے۔ مسئلہ انٹرنیٹ پر زیادہ سے زیادہ ویب پیج کھولنے کا نہیں۔ مسئلہ مواد کی کثرت اور قلت کا بھی نہیں۔ مسئلہ اصل یہ ہے کہ دنیا میں علوم اور معارف جہاں ایک طرف اس قدر وسیع ہو رہے ہیں وہاں دوسری طرف خود یہ دنیا سمٹ کر ایک بستی بن رہی ہے۔ ایک ایسی دنیا میں اصل سوال یہ نہیں کہ آپ بولیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آپ کس طرح بولیں؟ زمانے کے ساتھ پورا اترنے کے معاملے میں ہمارے دینی طبقے پہلے ہی بہت پیچھے ہیں مگر اب جس جگہ ہم کھڑے ہیں وہ تاریخ کا ایک بے انتہا نازک مقام ہے۔ اب جو بھی تبدیلی یہاں لائی جانی ہے وہ ہرگز کسی خطہ میں مقامی تبدیلی نہ ہوگی۔ ہمیں اب ایک ایسی زبان کی ضرورت ہے جو تبدیلی کی سب جہتوں سے واقف ہو۔ عقیدہ سے لے کر عمل تک اور فکر سے لے کر سماج تک اور علم سے لے کر جہاد تک اور قدیم روایات سے جدید رجحانات تک سب کچھ اس زبان میں سمویا ہونا چاہیے جس کو کہ گلوبلائزیشن کے دور کی یہ دنیا اسلام کے نام پر سننے کی منتظر ہے۔ گویا ہمیں تبدیلی کے ایک زوردار عمل سے ___ سب سے پہلے اندرونی طور پر___ گزرنا ہے۔ آئندہ جو وقت آرہا ہے اس کا ایک ایک لمحہ شاید برسوں پہ بھاری ہو۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عوامی سطح پر چودھویں صدی اگر استعمار سے ___ جسمانی طو رپر ___ آزاد ہونے کی صدی تھی تو یہ پندرھویں صدی، ہمیں امید ہے، دین استعمار سے ایک فکری اور روحانی اور سماجی آزادی حاصل کرنے کی صدی ہوگی۔ اس صدی میں اگر یہ ہدف حاصل کر لیا جائے تو معاشرتی سطح پر یہ کوئی چھوٹی پیشرفت نہ ہوگی۔ واللّٰہ غالب علی امرہ!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’ایقاظ‘ میں کچھ تبدیلیاں قارئین! اس سہ ماہی سے، جو کہ ربیع الاول ١٤٢٦ھ سے شروع ہو رہی ہے، ہم ایقاظ کے فارمیٹ میں کچھ تبدیلیاں لا رہے ہیں۔ موجودہ شمارہ آپ کے سامنے ہے آپ کی آراءکو جاننا ہمارے لئے ایقاظ کی اشاعت کو مفید جہت میں بڑھانے کیلئے ہمیشہ ہی ممد رہتا ہے۔ ’ایقاظ‘ دراصل ایک سہ ماہی ’نشست‘ ہے اور اس کے شرکاءہمارے سب دینی وتحریکی دلچسپی رکھنے والے احباب ہو سکتے ہیں۔ علم کا مذاکرہ کرنا اور مل بیٹھ کر ایک دوسرے کو مقصد زندگی یاد دلانا اور فرائض و واجبات کو ذہنوں میں تازہ کرنا ہمارے دین میں بے حد مستحسن ہے۔ اسی لئے ہم نے اس کو ایک ’نشست‘ کا نام دیا ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ کچھ عرصہ تک یہ ’نشست‘ ماہانہ ہونے لگے، جس سے امید ہے ہمارے اس ’مذاکرے‘ میں بہتری آئے گی اور ہمارے اس تعلق میں ایک مربوط تر تسلسل آئے گا۔ ’ایقاظ‘ کے ماہانہ ہو جانے میں ایک بڑی رکاوٹ اس کی ترسیل کا تاحال شدید محدود ہونا ہے۔ آپ حضرات اس معاملہ میں اگر تعاون فرمائیں اور اس کو ان حلقوں تک پہنچانے میں ممد ہوں جو اس انداز کے دینی مباحث میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو اس کا دورانیہ کم کرنے میں کچھ پیش رفت ہمارے لئے بھی ممکن ہوگی۔ ایقاظ کے مضامین وغیرہ کے معاملہ میں دراصل ایک خاص ترتیب ہمارے پیش نظر ہے۔ ایقاظ پڑھنے والوں کے ذہن میں اٹھنے والے بہت سے سوالات ہم سے فوری جواب نہیں پاتے تو اس کی ایک بڑی وجہ مضامین کی وہ ترتیب بھی ہے جو کہ ہمارے مدنظر رہتی ہے۔ ایقاظ کے دورانیہ کا طویل ہونا بھی پھر اس کا ایک سبب ہے۔ مزید یہ کہ بعض سوالات کا ذہنوں میں اٹھایا جانا بذات خود بھی مطلوب ہوتا ہے۔ بہرحال اپنے خیالات وآراءسے ہمیں مطلع کیا جانا ان موضوعات کو ایک مفید رخ دینے میں آپ کا ایک زبردست تعاون ہو سکتا ہے۔ ایقاظ کے ساتھ تحریری تعاون پر بھی ہم آپ کے شکر گزار ہوں گے۔ تحریری مشارکت کیلئے ہرگز ضروری نہیں کہ ہمارے مابین کسی موضوع پر کلی اتفاق پایا جائے۔ ہمارا خیال ہے کہ خطوط عریضہ (براڈ لائينز) میں ہمارے اور آپ کے مابین ایک ذہنی قربت کا پایا جانا بھی اس سلسلہ میں بہت کافی ہوگا۔ ایقاظ کا زیادہ تر مواد وقتی نہیں ہوتا۔ لہٰذا اس کا بیشتر حصہ ہمیں امُید ہے رفتہ رفتہ کتابی صورت اختیار کرے گا اور تب ہمارا ایک قاری ہمارے فکری پس منظر اور ہمارے دعوتی اہداف کو سمجھنے میں زیادہ آسانی پائے گا۔ ایقاظ کے فارمیٹ میں جن تبدیلیوں کا ہم نے ذکر کیا ہے ان میں اس بار سے کچھ نیم نصابی semi-academic قسم کے موضوعات کا دیا جانا بھی شامل ہے۔ دراصل اصولِ سلف کو وقت کی زبان میں سمجھنا سمجھانا ہمارا ایک بڑا مقصد ہے اور ہماری یہ عاجزانہ کوشش اسی جانب کو ایک قدم ہے۔ ایسی کوششوں کی ہماری نگاہ میں اس وقت شدید ضرورت ہے اور یقینا ایسی کوششیں اس وقت جابجا ہو بھی رہی ہیں جو کہ اُمید ہے اُمت کے اندر ’دین کے کام‘ یا ’دعوت‘ یا ’تحریک‘ یا ’جہاد‘ یا ’تبدیلی‘ وغیرہ کو ’علم‘ سے جوڑنے بلکہ ’علم‘ سے برآمد کرنے پر منتج ہو سکیں گی۔ وہ لوگ جو ایقاظ کو سہ ماہی دروس یا ایک ’سہ ماہی بیٹھک‘ کا درجہ دینے پر متفق ہیں ان کے لئے ہماری تجویز ہوگی کہ وہ ان ’نصابی‘ انداز کے موضوعات کو بھی بطور خاص توجہ دیں اور ان کو اپنی علمی استعداد بڑھانے کیلئے، یا پھر اپنے ’علم‘ کو ’منہج‘ میں ڈھالنے کیلئے ، اور یا پھر ’منہج‘ کو ’علم‘ سے آراستہ کرنے کیلئے، کام میں لائیں۔ یہ ایک ایک مسئلے پر چھوٹے چھوٹے مضمون ہوں گے البتہ جمع ہو کر یہ ہمیں منہج کی ایک علمی وفکری بنیاد فراہم کر سکیں گے۔ یہ دروس ہم خود ائمہء دین سے، ان کے علمی مراجع کی وساطت، لیتے ہیں۔ اس میں ہمارا اپنا حصہ عموماً بس اتنا ہے کہ ایک تو ہم نے ان مباحث کو آپ کیلئے ائمہ کے ذخیرہ ہائے علم سے چنا یا اکٹھا کیا ہوتا ہے۔ دوسرا ، ان کو یہاں کے فکری وتربیتی حلقوں کی ضرورت سے ہم آہنگ کیا ہوتا ہے۔ اور ’تیسرا‘ اپنے تحریکی نوجوانوں کیلئے ان کو ذرا آسان کر دینے کی کوشش کی ہوتی ہے۔ یہ دعویٰ تو بہت بڑا ہے کہ ان مباحث کو ہم اپنے دور کی زبان دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ البتہ ہماری خواہش یہی ہوتی ہے .... اور مکلف ہونا تو بہرحال استطاعت سے مشروط ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر پرچہ کو کسی حلقہ میں تنقیدی نگاہ سے پڑھا جاتا ہے۔ کہیں پسندیدگی کی نگاہ سے۔ کہیں ’شر‘ سے مطلع ہونے کی خاطر اور کہیں ’خیر کی کوئی بات‘ لینے کی نیت سے .... اور کہیں کسی اور ارادہ سے۔ مگر یہ سب طبقے دراصل اس پرچہ کے محسن ہوتے ہیں۔ اصل زیادتی آپ اس پرچہ سے اسی صورت میں کر سکتے ہیں جب آپ اس کو کسی معنی میں بھی درخور اعتنا نہ سمجھیں۔ کوئی پرچہ واقعتا اس ’زیادتی‘ کا حق رکھتا ہے اور کوئی، نہیں بھی۔ ایقاظ کو آپ کس درجہ میں شمار کرتے ہیں، یہ آپ پر ہے البتہ ہماری کوشش یہی ہوگی کہ ہم اپنے ساتھ یہ آخری صورت کی ’زیادتی‘ نہ ہونے دیں! کسی وقت اگر اس کی نوبت آجانے کا امکان ہو تو ہم اس کو خود پر ایک بڑی مہربانی شمار کریں گے اگر آپ اس کی وجوہات سے ازراہ کرم ہمیں بھی مطلع فرما دیں۔ البتہ وہ حضرات جو اس پرچہ کو مفید پاتے ہیں .... دوبارہ، ہماری ان سے درخواست ہوگی کہ وہ اس کو پھیلانے میں بھی ہمارے ساتھ متعاون ہوں۔ ہمیں آپ کے تعاون کی واقعتا شدید ضرورت ہے۔ خدا آپ کو جزائے خیر دے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|