سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فہرست مضامین۔۔ اپریل 2005

تبصرہ وتعلیق

اِیرانی بَم ھدف اسرائیل یا عرب؟

انتخاب: محمد زکریا

www.almoslim.org

ایران ایٹم بم بنانے میں جس سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہا ہے اُسے بعض عرب پامردی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ ایران پر امریکہ اور مغربی ممالک کے دباؤ پر بھی وہ سیخ پا ہو جاتے ہیں۔ وہ یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ ایران کے پاس ایٹمی طاقت مشرق وسطیٰ میں فوجی توازن کے لئے پیش خیمہ ہوگی اور مضبوط ایران عرب ممالک کے لئے ایک طرح کا سہارا بھی ہوگا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو لوگ ایٹمی ایران سے خوامخواہ خوف زدہ ہیں، ان کا نقطہ نظر تنگ نظری پر مبنی ہے۔

تعجب اس بات پر ہے کہ عرب ممالک میں ایسی شخصیات اعلیٰ سطح پر پائی جاتی ہیں جو مضبوط ایران کے اندر اپنے آپ کو محفوظ سمجھ رہی ہے۔

ایران پر تکیہ کرنے والے عرب ممالک کا حال یہ ہے کہ وہ سنی اکثریت رکھنے والے ملک عراق کے خلاف امریکہ سے بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔ امریکی فوجیں ان کے ہوائی اڈے اور بحری اور بری راستے استعمال کرتی ہیں اور اِن ممالک میں امریکہ کی فوجیں پڑاؤ بھی کئے ہوئے ہیں۔

اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہی عرب ماضی قریب میں عراق کی بڑھتی ہوئی قوت سے تو حد درجہ خائف تھے مگر اب ایران کے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے حصول پر خوشی کا اظہار کررہے ہیں۔ خلیجی ممالک نہ صرف صدام حسین کی طاقت سے خوفزدہ تھے بلکہ عراق کی عسکری قوت کو اتنے مبالغے کے ساتھ پیش کیا کرتے تھے کہ امریکہ نے اِسے دلیل بناتے ہوئے عراق پر قبضہ کرلیا ہے اور اب عراق کی مسلم آبادی، وہاں کی معدنی دولت، عراق کا ماضی اور حال سب داؤ پر لگا ہوا ہے۔ خلیجی ممالک کو یہ بات کس دانا نے سکھائی ہے کہ سنی اکثریت والا ملک عراق اگر مشرق وسطی میں طاقتور ہوتا ہے تو وہ عرب ممالک کے لئے سنگین خطرہ قرار پاتا ہے اور اگر شیعہ اکثریت والا ملک ایران طاقت ور ہوتا ہے تو اس پر اطمینان کا اظہار کرنا چاہیے۔

کیا کسی ملک کا ماضی اُس کے حال سے یکسر فراموش کر دینے والی چیز ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ایران سے پہلے اسرائیل ایٹمی ملک بنا تھا اور ایٹم بم رکھنے کے باوجود نہ صرف یہ کہ اسرائیل نے ١٩٧٣ءمیں مصر سے شکست کھائی تھی بلکہ اُسے ایٹم بم گرانے کی جُرات بھی نہیں ہو سکی تھی، کیا ایران سے ایسی توقع رکھی جا سکتی ہے۔

ایران گزشتہ ١٣٠٠ سالوں سے عرب ممالک میں گھسنے کی آس لگائے ہوئے ہے، اگر کوئی بات قابل اطمینان ہو سکتی ہے تو وہ یہی ہے کہ عرب ممالک بھی ایران کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی قوت میں اضافہ کریں، عرب ممالک کو ایران کے ساتھ تعلقات میں نہایت محتاط رہنا چاہیے۔ ایران نے اپنے مفادات کے حصول کے لئے طالبان کے خلاف امریکہ کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ اور اس کا وہ علی الاعلان اعتراف بھی کرتے ہیں۔ گزشتہ برس ٨ فروری کو تہران یونیورسٹی میں خطبہ دیتے ہوئے اکبر رفسنجانی نے کہا تھا کہ ایرانی فوجیں طالبان کے خلاف لڑائی میں شریک رہی تھیں اور طالبان حکومت کو ختم کرنے میں ایرانی فوجوں نے بھرپور کردار ادا کیا تھا۔ اکبر رفسنجانی نے مزید کہا کہ اگر ایران طالبان کے خلاف امریکہ کی مدد نہ کرتا تو امریکہ کی فوجیں افغانستان کے پہاڑی سلسلوں میں گم ہو کر رہ جاتیں۔

عراق پر امریکہ کے حملے میں بھی ایران نے تعاون کیا ہے اگرچہ سرکاری بیانات عراق کے حق میں دیئے جاتے تھے۔

ابوظہبی میں گزشتہ برس ١٥ جنوری کی شام ایرانی مندوب محمد علی ابطحی نے کہا کہ ا فغانستان اور عراق کے خلاف ایران نے امریکہ کے ساتھ تعاون کیا تھا بلکہ اگر ایران امریکہ کی مدد نہ کرتا تو وہ کبھی بھی اس مختصر عرصے میں کابل اور بغداد پر قبضہ نہ کر سکتے۔

بنا بریں ایران کی ایٹمی طاقت عرب ممالک کے لئے سنگین خطرہ ہے۔ ایران سمجھتا ہے کہ اس خطے میں اُس کا کردار عربوں اور ترکوں سے زیادہ ہونا چاہیے۔ امریکہ اور اسرائیل کی طرح ایران نے بھی عرب علاقے اپنے قبضے میں رکھے ہوئے ہیں۔ عربوں کے ایران کے ساتھ جو سرحدی اختلافات ہیں اُس پر بات چیت کے لئے ایران کبھی آمادہ نہیں ہوا۔

ایرانی روزنامہ جمہوری اسلامی اپنی ٧ مارچ ٢٠٠٤ءکی اشاعت میں لکھتا ہے کہ عرب امارات کا علاقہ ماضی میں ایران کا حصہ ہوا کرتا تھا۔

اخبار نے یہ تاریخی انکشاف اس وقت کیا تھا جب گزشتہ سال متحدہ عرب امارات نے ایران سے اپنے سرحدی اختلافات کو عرب ممالک کی مختلف کانفرنسوں میں پیش کیا تھا۔ اخبار نے لکھا کہ متحدہ عرب امارات علاقے میں کشیدگی پیدا کرنا چاہتا ہے۔ عرب ممالک کو صدام حسین کے انجام سے عبرت پکڑنی چاہیے۔ صدام حسین کے بھی ایران سے سرحدی اختلافات تھے۔

سرحدی اختلافات میں ایران عربوں کو طاقت کے استعمال کی دھمکی دینے میں بھی دیر نہیں کرتا۔

٦ دسمبر ٢٠٠٤ءمیں متحدہ عرب امارات کے نئے حاکم خلیفہ بن زاید آل سلطان نے ایران کے ساتھ طنب کے جزیرے جنہیں جزائر صغری اور جزائر کبری کہتے ہیں واپس کرنے کے لئے بات چیت کی ضرورت پر زور دیا تو وزارت خارجہ کے ترجمان حمید رضا آصفی نے بیان دیا کہ ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ طنب اور ابوموسیٰ کے علاقے ایران کا حصہ ہیں اور ایران کے پاس ہی رہیں گے۔ اس پر کسی شک وشبہے کی گنجائش نہیں ہے۔

ایران عربوں سے اس قدر تعصب رکھتا ہے کہ چند ماہ پہلے ایران نے نیشنل جیوگرافی کا وہ رسالہ جس میں خلیج فارس کے ساتھ خلیج عرب کا لفظ بھی لکھا ہوا تھا نہ صرف تقسیم کرنے سے روک دیا بلکہ اپنے غم وغصے کے اظہار کے طور پر نیشنل جیوگرافی کے عملے اور صحافی کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا۔ بحر ہند کا ذیلی سمندر خلیج عرب بھی کہلاتا ہے اور ایرانی دستاویزات میں اس کے لئے خلیج فارس کا لفظ بھی استعال ہوتا ہے۔ موقر رسالے نیشنل جیوگرافی نے خلیج فارس کے ساتھ خلیج عرب کا لفظ محض اس سمندر کے دو نام ہونے کی وجہ سے لکھا تھا ایران سے رسالے کی کوئی سیاسی چپقلش تونہیں ہے۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ٢٠٠٦ءمیں ایشیائی کھیلوں کا آغاز ہو رہا ہے۔ گزشتہ دنوں دوحہ میں ان کھیلوں سے متعلق معلومات پر مبنی کتابچے میں خلیج عرب کا لفظ استعمال ہوا تھا اس پر ایران نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر ایشیائی کھیلوں میں خلیج عرب کا لفظ استعمال کیا گیا تو ایران کھیلوں میں شریک نہیں ہو گا۔ ایران نے مزید کہا کہ خلیج فارس کی بجائے خلیجِ عرب کا لفظ صہیونی سازش ہے۔

ایران کا یہ سخت لب و لہجہ ایٹمی طاقت بننے سے پہلے ہے۔ جب ایران ایٹمی طاقت بھی بن جائے گا پھر اس لہجے میں بے حد شدت کی توقع رکھنا قرین قیاس ہے۔ دوسری طرف عرب ممالک خواہ سرحدی تنازعات ہوں یا تاریخی جغرافیائی حقائق کسی قسم کا ردعمل اور احتجاج نہیں کرتے جس سے ایران کو مزید شہ ملتی ہے اور اس کے لہجے میں سختی آجاتی ہے۔

ایران عرب ممالک کے لئے اقتصادی لحاظ سے بھی خطرہ ہے کیونکہ معدنی تیل خواہ زمین میں ہو یا سمندر میں خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان متنازع فیہ ہے اسی طرح ایران ثقافتی اور عقیدے کے لحاظ سے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔

ایران سے ہمدردی رکھنے والے بعض زعمائے عرب خطرہ محسوس کر رہے ہیں کہ ایران کے ایٹمی منصوبے کی وجہ سے امریکہ اُس پر حملہ کرے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بعید از قیاس ہے۔ امریکہ اور ایران کے مشترکہ مفادات ان کے درمیان اختلافات سے زیادہ ہیں۔ امریکہ کا دباؤ محض بعض امور میں تخفیف کرانے تک ہی محدود رہے گا۔ امریکہ اور ایران دونوں عرب ممالک میں تبدیلی لانے پر متفق ہیں۔ ایران کے اپنے اغراض ومقاصد ہیں اور امریکہ کے اپنے مگر اس تبدیلی سے مقصود دونوں کا ایک ہی ہے، کمزور اور خوف زدہ عرب!

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔