|
بیداری<< فکر<< جوابات<< منہج<< قتال اشکالات ہمارے ہاں چھپنے والے مضامین، تراجم اور تبصروں کے حوالے سے اس بار ہمیں متعدد سوالات موصول ہوئے ہیں: ایک طرف ہم اُمت کے فہم وعمل کی تشکیل نو کے بارے میں ایک بہت ہی بنیادی نوعیت کے عقائدی، فکری اور تربیتی عمل کے داعی ہیں۔ دوسری طرف جہاد اور قتال کے بارے میں جاری اُمت کے کچھ حالیہ منصوبوں کی حمایت میں بات کرتے ہیں۔ عمومی طور پر یا تو یہاں ’جہاد‘ ہوتا ہے اور یا پھر ’فکری اصلاح‘ ....آخر ہم کس ’کیمپ‘ میں ہیں!؟ یعنی ’فکری اصلاح‘ اگر ایک عمل کی ابتدا ہے تو ’جہاد‘ اس کے ’کوہان کی چوٹی‘۔ ان کے مابین پایا جانے والا ’فاصلہ‘ یوں کیسے سمیٹ دیا جا سکتا ہے۔ یوں ہمارا ان دونوں سمتوں کو بیک وقت لے کر چلنا ہمارے ہاں پائے جانے والے مضامین کو ’مختلف الخیال‘ بنا دیتا ہے اور ہمارے لہجے کی ’دوئی‘ کو ثابت کرتا ہے! یہاں تک بات رہتی تو فکرمندی کی کوئی اتنی بڑی بات نہ تھی۔ مگر بدقسمتی سے یہاں برصغیر میں ’جہاد گریزی‘ ایک خاص تاریخ رکھتی ہے اور ایک خاص قسم کا فکری پس منظر۔ یہاں ایک طبقہ ایسا ہے جسے ’جہاد‘ کی بابت پسپائی کرتے کرتے اتنا بہرحال ماننا پڑ جاتا ہے کہ اسلام میں ’دفاع‘ کیلئے ہتھیار اٹھانا جائز ہے۔ مگر ان کا ’مسئلہ‘ ’دفاع‘ کو مان کر بھی ختم نہیں ہو جاتا۔ کوئی ایسی ’شرط‘ ہونی چاہیے کہ عملاً یہ بھی نہ ہو! اس کیلئے ایک طریق کار یہ اپنایا گیا کہ استعمار نے مسلمانوں کا جو ’اقتدار‘ ختم کردیا ہے خود وہی اس بات کی دلیل بنا دی جائے کہ اہل اسلام سے ’دفاع‘ کا حق بھی اتنی دیر کیلئے لے لیا جائے جتنی دیر یہاں استعمار ’برسراقتدار‘ ہے! چونکہ اخبارات کے اندر پچھلے دنوں کالم نویسوں کی اس موضوع پر نوک جھونک ہوتی رہی.... اس تعلق سے ہمیں موصول ہونے والے یہ سوالات اور بھی اہم ہو جاتے ہیں اور ایک درجہ پیچیدگی واشکال کا باعث بھی۔ ہمارے کچھ اسلام پسند طبقوں کے یہاں گاندھی کو ’پرامن مزاحمت‘ کیلئے ایک کامیاب اور قابل تقلید مثال کے طور پر بیان کیا جانے میں تردد نہیں کیا جاتا۔ یہاں تک کہ ان کی تحریروں سے متعدد بار یہ تاثر ابھرتا ہے کہ انبیاءکی ’ماقبل اقتدار‘ جدوجہد اگر کسی درویش یا کسی فلسفی کی جدوجہد نہیں تو پھر بڑی حد تک وہ گاندھی کی جدوجہد سے ملتی جلتی کوئی چیز تھی جبکہ انبیاءکا ’مابعد اقتدار‘ مرحلہ اگر کوئی ’استثنائی‘ قسم کی حالت نہیں تو پھر وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی پابند ایک ’قومی ریاست‘ قسم کی چیز تھی! ہمارے مضامین میں ’جہاد‘ کے موضوع پر جو کوئی بات کی جاتی ہے وہ ’ترجیحات‘ کے حوالے سے ہے اور یا پھر اس حوالے سے کہ قتا ل کے معاملہ میں کچھ ’قومی‘ اور ’وطنی‘ جذبوں کو ’عقیدہ‘ کے ساتھ مدغم نہ ہونے دیا جائے۔ البتہ ’جہاد گریزی‘ کی وہ سمت جو برصغیر کے اندر ایک بہت باقاعدہ انداز میں اور ایک پورے تسلسل کے ساتھ کوئی ڈیڑھ صدی پیچھے تک جاتی ہے ہمارے نزدیک ایک واضح انحراف ہے، بے شک کچھ اچھے اور مخلص لوگ بھی کہیں کہیں اس کی زد میں آئے ہوں۔ عصری فتنوں سے بچنا بہرحال کوئی آسان کام نہیں خصوصاً جب ایک فکری طوائف الملوکی کا دور دورہ ہو اور اس باعث.... شاہراہِ سنت پہ چھا جانے والی دھند میں ’شخصی‘ کاوشوں اور ’انفرادی‘ تعبیروں کے ہی نمایاں ہو رہنے کا رحجان بڑھ گیا ہو۔ لہٰذا ’ترجیحات‘ وغیرہ کے حوالے سے ہم اپنا مقدمہ اس مضمون کے آخر میں لائیں گے۔ ہماری اصل ترکیز اس مضمون میں ان حقائق کو واضح کرنے پر ہی رہے گی کہ: ٭ انبیاء اور ان کے پیروکاروں کا مشن، خصوصاً نبی آخر الزمان اور آپ کی اس اُمتِ بیضاءکا مشن ایک خاص مشن ہے اور شیاطین جن وانس کی اس کے ساتھ عداوت کی بھی ایک خاص نوعیت اور کیفیت ہے لہٰذا زمین میں اس کے عمل اور کردار کو جاننے اور سمجھنے کیلئے اُمت کے ایک تاریخی تسلسل کا ہی حصہ بننا ہے نہ کہ اس کیلئے کہیں باہر سے پیرائے مستعار لینے ہیں اور نہ ہی عصری رحجانات کو اس حد تک سر چڑھانا ہے کہ فہم اسلام کی بابت فقہاءومحدثین اُمت کے ہاں چلتے آئے ایک تاریخی تسلسل کی صحت ہی مشکوک ٹھہرائی جانے لگے.... جس کی بنا پر ہر جگہ اسلام کی ایک ’تعبیر نو‘ کی مشق ہونے لگے اور ہر نیا آنے والا اس میدان میں ہی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔ ٭ آج اگر یہ ڈر پیدا ہو گیا ہے کہ قرون اولی سے چلتے آئے مسلّمات میں سے کوئی بھی معروف مسلّمہ کسی بھی دن ’چیلنج‘ ہو جائے گا اور اس کی جگہ لینے کیلئے کوئی جدید ’نظریہ‘ سامنے لے آیا جائے گا اور اس پر ’دلائل‘ اور ’بحثوں‘ کا ایک سلسلہ اٹھ کھڑا ہو کر اُمت کے وقت اور محنت کا ایک خاصا بڑا حصہ لے جائے گا .... تو اس کا سبب ہمارے نزدیک اُمت کے اسی فقہی وفکری تسلسل کا روپوش ہو جانا ہے جس کا اوپر ذکر ہوا، گو اس تسلسل کو فہم اور استیعاب اور تاصیل کی بجائے ’جمود‘ کی شکل دے دی جانا اور خصوصاً اہلسنت کے ہاں معروف رہنے والے ’فقہ اختلاف‘ اور ’فقہ اجتہاد‘ کا ذہنوں سے روپوش ہو جانا اس فکری طوائف الملوکی کے پھیل جانے کا ایک بڑا باعث رہا ہے۔ ٭ اس مدخل کے بعد ہم ’جہاد‘ کے موضوع پر آئیں گے اور خصوصاً اس ’شرط‘ کا جائزہ لیں گے جو آج کے دور میں ہمارے ان اصحاب کی طرف سے جہاد پر ’ازروئے شریعت‘ عائد کر دی گئی ہے اور جو کہ نہ صرف یہ کہ شریعت کی کسی نص میں مذکور نہیں اور نہ ہی کبھی فقہاءکے بیان کرنے میں آئی بلکہ وہ اتنی ’معنی خیز‘ بھی ہے کہ استعمار کا ہم پر ’اقتدار‘ ہونا ازخود اس بات کی ’دلیل‘ ہو کہ اس کے خلاف ہتھیار اٹھانا ’حرام‘ ہے! یعنی استعمار کے راج کے اندر یہ ’شرط‘ کبھی پوری ہی نہ ہو! چنانچہ استعمار آپ کے گھر پہ قابض ہو کر اگر سب سے پہلا کام یہ کرے، اور ظاہر ہے یہی کرے گا، کہ وہ گھر کے ’اقتدار‘ کا چراغ گل کردے تو اس سے اگلے لمحے مسلمانوں پر اس کے خلاف ’مزاحمت‘ حرام ہو جائے گی اور اس کی پرامن رعایا بن کررہنا فرض .... پھر جتنی دیر وہ آپ کے ہاں قیام پسند فرمائے یا کسی میر صادق ومیر جعفر یا کسی کرزئی و مالکی کو آپ کا ولی امر بنا رکھے اتنی ہی دیر آپ کو صابر وشاکر رہنا ہوگا .... زیادہ سے زیادہ یہ کہ کسی ’عالمی جنگ‘ وغیرہ ایسے انہونے واقعے کا انتظار کرنا ہوگا جس کے باعث اقتدار استعمار کی بساط آپ سے آپ ہی الٹ ہو جائے اور تب آپ ’گاندھی‘ بن کر اور ’گاندھی‘ ایسے مکر اور حیلے اپنا کر استعمار پر پُرامن ’فتح‘ پالیں! (1) ٭ رہ گیا کہ یہ ’علم‘ اور ’شعور‘ کی دُنیا میں جو ایک ’تجدید‘ کی ضرورت ہمارے یہاں بیان کی جاتی ہے اور ’تربیت‘ اور ’دور حاضر کے مناسب حال مسلم ذہن اورمسلم کردار کی صورت گری‘ کی جو اہمیت وغیرہ ذکر ہوتی ہے، اس کے اور ’جہاد‘ و ’عملیت‘ کے مابین ہم کیونکر ایک ربط اور توازن قائم کرتے ہیں، تو اس پر کچھ بات مضمون کے آخر میں ہوگی۔ کوئی شخص اگر اپنا قیمتی وقت صرف کرکے ہماری کوئی غلطی ہمیں لوٹاتا ہے تو اس پر اُس کا ممنون ہونا اور اس کیلئے دُعا گو رہنا ہم پر اس کا حق ہوگا اور اس کے اعتراف میں ان شاءاللہ ہم ہرگز تردد نہ کریں گے۔ خدائے بزرگ وبرتر سے دُعا ہے کہ وہ ہمیں سیدھی راہ دکھائے اور سیدھی راہ پر ہی یہاں کے سب مسلم طبقوں کی شیرازہ بندی کا اپنی جناب سے کوئی انتظام کردے۔ انہ سمیع قریب مجیب الدعوات (1) پوچھنے والے تو یہ بھی پوچھتے ہیں کہ گاندھی کی ’فتح‘ سرے سے استعمار کے بالمقابل تھی یا مسلم مفادات کے!! ہمارا زیادہ تر موضوع اس مضمون میں یہی نقطہ نظر رہے گا |