خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی!
گاندھی کا مذہب؟
چہ نسبت بہ ہدی محمد ﷺ ؟
حامد کمال الدین
زمانے کے رجحانات اور وقت کے نظریاتی دھارے اسلامی فکر کے شعبے سے وابستہ لوگوں کیلئے ایک زبردست امتحان رہے ہیں، خصوصاً آج کے دور میں جب اُمت کے اس لٹے ہوئے قافلے کو پھر سے صف آراءکیا جانے کا چیلنج درپیش ہے۔
اس امتحان سے کامیاب گزر جانا خدا کی ایک بہت ہی خاص رحمت ہے اور ہمیشہ کی طرح آج بھی یہ انہی لوگوں کو بقدر وافر نصیب ہوئی ہے جو اپنے علمی اور فکری وجود کو اصول اہلسنت کے شجر سے پیوستہ رکھتے ہوئے اپنے دور کی فضاؤں کے ساتھ ایک صحت مند تفاعل کرتے ہیں۔ جتنا کوئی اس شجر سے پیوستہ رہا اتنا ہی وہ وقت کی آندھیوں کی نذر ہو جانے سے بچا رہا اور جتنی کسی کے ہاں یہاں کمزوری رہی اتنا ہی وہ زمانے کی ہواؤں سے متاثر ہوا۔
درخت کیلئے دھوپ اور فضا
سے تفاعل کرنا جتنا ضروری ہے اس سے کہیں زیادہ ضروری یہ ہے کہ وہ ایک مضبوط تنا
رکھے اور زمین میں جڑیں گاڑ کر کھڑا ہو۔ ’تنا‘ درخت کی عمر اور بلوغت و پختگی کا ایک
زبردست مظہر ہوتا ہے۔ یہ اس کے عمل کے زمانی تسلسل کا بھی ایک ثبوت ہوتا ہے۔ اُمت
کے علمی ورثے سے وابستگی ہی چنانچہ آپ کے اپنے دور کے ساتھ پورا اترنے کیلئے ایک
صحیح ضمانت ہو سکتی ہے۔
یہ ایک دُہرا امتحان
ہے۔ کچھ لوگ دین میں رسوخ کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ آدمی اپنے دور کے فکری رجحانات
کو طرح دے کر گزر جائے اور اپنے زمانے کے نظریاتی دھاروں کا درک تک نہ رکھے۔ یعنی
درخت صرف ’جڑوں‘ سے کام لے۔ ’فضا‘ اور ’پتوں‘ کے مابین جو ایک لین دین ہوتا ہے وہ
اس کے عمل میں بڑی حد تک غیر متعلقہ رہے۔ یہ لوگ ظاہر ہے زمانے کو متاثر کریں گے
اور نہ زمانے سے متاثر ہوں گے! ان کیلئے دین ’نصوص‘ کا ایک اعادہ ہوگا اور ان پر
ایک لگے بندھے انداز کا عملدرآمد۔ جبکہ کچھ لوگ اپنے زمانے کی ہواؤں میں تو سانس
لیں گے اور موسموں کی تبدیلی سے بھی سروکار رکھیں مگر اس سے متاثر ہوئے بغیر بھی
نہ رہیں گے اور پھر اسی کے بقدر دین کی ایک تفسیر نو کی ضرورت بھی شدت سے محسوس
کریں گے۔ ’جڑوں‘ سے رشتہ کمزور ہونے کا یہ ایک طبعی مظہر ہوگا ’اجتہاد‘ برحق ہے
اور ہمیشہ کی طرح آج بھی مطلوب۔ مگر اس کی صدا جب ان طبقوں کی جانب سے آئے جن کا
اصول سنت سے تمسک تاحال ایک سوالیہ نشان ہو تو وہ وقت خدا سے عافیت کے سوال کا
ہوتا ہے۔
ٹھیٹھ دین پہ قائم رہتے
ہوئے اپنے دور کے ساتھ ایک صحت مند تفاعل کر لینا کسی دور کے ارباب دانش کا ایک
زبردست امتحان ہے۔ دونوں پہلوؤں سے اس سے کامیاب گزر جانا خدا کا بہت بڑا فضل ہے
اور وہ جسے چاہے اور جتنا چاہے دیتا ہے۔ فاللّهم انا نسئلک الهدیٰ۔
چنانچہ جہاں ہمارے سامنے ___ خصوصاً برصغیر میں ___ جمودی رجحانات کی ایک طویل فہرست ہے اور ان کے تباہ کن مضمرات کی ایک طویل داستان، وہاں ’اجتہاد‘ کے نام پر دین کو نئے معانی پہنانے اور ’تحقیق‘ کے نام پر ندرت خیال سے نیم دین پڑھے لوگوں کی بوریت دور کرنے اور جابجا ائمہ سنت کو کوسنے اور موقعہ بہ موقعہ فقہائے سلف کو دقت فہم سے محروم ثابت کرنے والے رجحانات بھی ایک ایک کرکے یہاں کی فکری دُنیا میں ظہور کرتے رہے اور شاید ابھی کرتے رہیں گے۔ نہ وہ ’جمود‘ کا سلسلہ کہیں رکا ہے اور نہ یہ ’تحقیق‘ کا فنامنا کسی کنارے لگا ہے۔ البتہ مجموعی طور پر لوگوں کا اصول اہلسنت سے تمسک بڑھا ہے۔ دو انتہاؤں میں کھینچا تانی کا یہ ایک فائدہ ہے جو وسط کی راہ کو خودبخود حاصل ہو جاتا ہے بشرطیکہ اس پر کام کرنے والے کسی ماحول میں بروقت پائے جائیں۔ ’وسطیت‘ اہلسنت کا ایک زبردست خاصہ ہے۔
کسی عرب مفکر نے ان دو فکری سمتوں پر بہت برجستہ تبصرہ کیا ہے۔ اُمت کے علمی اور فقہی تراث heritage کے ساتھ معاملہ کرنے کی بابت ایک اسلوب ’جمود‘ rigidity کا ہے تو ایک اسلوب ’جحود‘ negation کا۔ جمودی طبقے درجہ بدرجہ متفاوت ہیں تو جحودی طبقے بھی درجہ بدرجہ ہی متفاوت ہیں۔ جبکہ وہ دانشور جو دین کے سلفی اصل پہ قائم ہیں مگر اپنے زمانے میں بھی باقاعدہ ’پائے‘ جاتے ہیں اور یوں وہ تجدید کی اس اصل روح کو قائم رکھتے ہیں جو کہ اس توازن کا نازک ترین نقطہ ہے، آج وہ ہیں جن کو خدا نے اس جمود اور جحود دونوں سے بچا رکھا ہے۔ وگرنہ کسی کو جمود سے کچھ حصہ ملا تو کسی کو جحود سے۔
یہ ایک برمحل تبصرہ ہے۔ مگر ہمارے خیال میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب ایسے طبقے بھی پائے جانے لگے ہیں جو ’جحود‘ میں ہی ’جمود‘ لا چکے ہیں اور جو ’تحقیق‘ کی رو میں ’تقلید‘ اور ’گروہی رجحانات‘ کی قریب قریب سب گرمجوشیاں پیدا کرنے لگے ہیں!
’جمود‘ اور ’تقلید‘ دراصل کوئی ’موقف‘ نہیں، جیسا کہ بہت سے ’غیر مقلدین‘ کا خیال ہے۔ یہ ایک ’نفسیات‘ اور ایک ’طرز عمل‘ ہے اور ہر کسی کے ہاں پایا جا سکتا ہے۔ چنانچہ برصغیر کے وہ کئی ایک طبقے جو فکری اور علمی امور میں اُمت کے پہلوں سے اپنا راستہ الگ کرتے ہوئے دین کی تفسیر نو کی کوشش کرتے رہے، خواہ یہ وہ طبقے ہوں جو نیچر اور میٹافزکس کے معاملہ میں اہل اسلام کے روایتی فکری تسلسل سے ہٹ کر ’کلام‘ کرتے رہے، خواہ وہ طبقے جو اتباع قرآن میں غلو کرتے ہوئے کلی نہیں تو جزوی انکار حدیث کی صورت اُمت کے پہلوں سے اپنا راستہ ’کچھ نہ کچھ‘ الگ کرتے رہے، اور خواہ وہ طبقے جو قرون سلف اور فقہائے اُمت کے ہاں پائے جانے والے فہم اور تفقہ کو نظر انداز کرکے، بلکہ اسے کمتر جانتے ہوئے، نصوص دین کے فہم و استیعاب کی بابت اپنی ’اَقُول‘ سنانے پر یقین رکھتے تھے، یا کچھ اور طبقے.... یہ سب ابتدا میں اپنی دعوت ’جمود‘ کے خلاف لے کر اٹھے مگر بہت جلد ان کو وہ پیروکار ملے جو ان کے اقوال و آراءکو قریب قریب اتنی ہی عقیدت سے لیتے اور پھیلاتے رہے جتنی عقیدت ان کو ’دوسروں‘ میں جمود نظر آتی تھی؟ پہلوں کی کتب پر بسیرا کرنا ان کو جمود نظر آتا تھا اور آج کے پچاس ساٹھ سال پیشتر کے ’ائمہ‘ کے اقوال لفظ بہ لفظ نقل کرنا اور ان کا نشر واعادہ کر کر کے نہ تھکنا حرکت اور عدم جمود!
ذرا غور کیجئے تو یہ سب افکار جو بظاہر جمود کے خلاف برپا ہوئے اپنے زمانے کے بعض بیرون اُمت فکری رجحانات اور خارج سے آئے ثقافتی ونظریاتی فیشنوں کا نتیجہ تھے.... یعنی یہ ابتدائً بھی ایک ’تقلید‘ تھے اور ’تحقیق‘ کا یہ داعیہ کسی نہ کسی سطح پر بیرونی اثرات کے زیر اثر پرورش پا رہا تھا۔
دراصل یہ ایسا وقت تھا جب عالم اسلام پر مغرب کی ’افواج‘ کا ہی حملہ نہ ہوا تھا مغرب کے ’افکار‘ کی یورش بھی انتہا پر تھی۔ افواج کا کام بہت تھوڑی دیر میں ختم ہو جاتا تھا تو افکار کی یلغار کبھی تھمنے میں نہ آتی تھی، اس کے نتیجے میں یہاں ایک اجنبی ثقافت وجود پا چکی تھی اور ایک اجنبی ذہن alien mindset پرورش پا چکا تھا۔ اس ذہن کا حامل ایک حصہ تو سرے سے دین سے دستبردار ہو چکا تھا اور اس کو کسی ’فتویٰ‘ کی ضرورت سرے سے نہ تھی، سوائے یہ کہ وہ کسی وقت اقتدار میں ہو یا معاشرے کی رہنمائی کے کسی اہم فورم پر ہو جہاں اپنے مسلمان ہونے کا بھرم رکھنا بوجوہ ضروری ہوا کرتا ہے۔ البتہ اس کا دوسرا حصہ جو دین سے تو تعلق برقرار رکھنا چاہتا تھا اور اس میں مخلص بھی تھا مگر دین کی ایک ایسی تفسیر کے ساتھ جس میں اس نئے فکری اور ثقافتی منظرنامے کیلئے بہت زیادہ گنجائش رکھی گئی ہو اور اس کی جاہلی ضروریات کو بڑی حد تک ’دلیل‘ سے پُر کر دیا گیا ہو۔
یہ ’ضرورت‘ ظاہر ہے صرف ان جمودی رجحانات کے خاتمہ سے پوری نہ ہو
سکتی تھی جو اُمت کے دورِ زوال کی پچھلی تین چار صدیاں یہاں سر چڑھ کر بولتے رہے
اور جن کا خاتمہ ہمارے نزدیک ضروری بھی تھا۔ البتہ دور حاضر کی یہ ’ضرورت‘ پوری
ہونے کیلئے قرون اولیٰ کے فقہی اتفاقات میں بھی جابجا غلطیوں کی نشان دہی کرنا
ضروری تھا اور دور سلف کے معروف علمی رجحانات میں کہیں کہیں کم علمی، کوتاہ فہمی
اور سطح بینی (جسے دور قدیم کے معتزلہ ’حشویت‘ کہا کرتے تھے) کی جانب اشارہ کر
دینا بھی۔ چنانچہ آج کے ان ’تحقیقی‘ رحجانات میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی ’ہمت‘ اور
’جرات‘ کے بقدر یہ کام کیا۔ یہ ہم مانتے ہیں کہ ان سب طبقوں کا معاملہ ایک سا
نہیں۔ کسی کا اصول سنت سے فاصلہ کم تھا اور کسی کا زیادہ۔
٭٭٭٭٭٭
بلاشبہ یہ سب طبقے ’قرآن‘ سے ہی استدلال کرتے رہے بلکہ ان میں سے بہت سے طبقے اپنے اپنے اصولوں کے پابند رہتے ہوئے ’سنت‘ سے بھی دلیل لیتے رہے، باوجود اس کے کہ یہ طبقے ایک دوسرے پر ’قرآن اور سنت‘ ہی کی روشنی میں تنقید کرنے پر بھی اپنے آپ کو مجبور پاتے رہے!
حدیث کے قبول کرنے کیلئے ان میں تقریباً ہر طبقے نے ’گہرے‘ غور وخوض کے بعد ایک معیار قائم کیا جس کی بنیاد قریب قریب ان سب کے ہاں ’عقل سلیم‘ اور ’قرآن کی حکمرانی‘ تھی مگر اس کے باوجود کسی ایک متعین معیار پر ان سب کا اتفاق نہ ہو پایا!
خود قرآن کے فہم کے معاملے میں بھی ’عقل سلیم‘ ان میں سے ایک طبقے کیلئے ایک چیز پر ’قطعی دلالت‘ کرتی رہی تو دوسرے کیلئے کسی دوسری چیز پر، ایک کی ’عقل سلیم‘ دوسرے کے ہاں بسا اوقات ’غیر سلیم‘ ٹھہری۔ یہ ایک دوسرے کے فقہی استدلالات اور علمی استنباطات کو ہی نہیں ایک دوسرے کے اصولِ فہم اور مبادیِ تفسیر تک کو مطعون ٹھہراتے رہے۔
قرآن کی فرقانیت ان میں سے کسی کے ہاں محل بحث نہ تھی (نہ ہمارے ہاں ہے) منطق وبدیہیات کی مسلمہ حیثیت بھی ان میں سے کسی کے ہاں مشکوک نہ تھی (اور نہ ہمارے ہاں ہے) اس کے باوجود ان گروہوں میں دین کے بہت بنیادی امور کی بابت اختلافات ہو جاتا رہا اور ’بحثیں‘ بہت طول بھی کھینچ جاتی رہیں۔ فرقان کے ’متن‘ میں کسی کو اختلاف نہ تھا۔ اختلاف جتنا ہوا اس کے ’فہم‘ میں ہوا جو واضح دلیل تھی اس بات کی کہ مسئلہ دراصل ’فہم‘ کے معیاروں کا ہے۔ ہر گروہ کیلئے اپنی سمجھی ہوئی بات اس قدر ’واضح‘ اور ’منطقی‘ تھی اور دوسرے کی سمجھی ہوئی بات اس قدر ’غلط‘ اور ’عقل عام سے متعارض‘ کہ ’فرقان‘ کا اپنا ہی فیصلہ اس فریق کے اپنے حق میں تھا اور ’فرقان‘ کا فیصلہ ہو جانے کے بعد ظاہر ہے کس بات کی گنجائش رہ جاتی ہے!
نصوصِ فرقان کے فہم میں چنانچہ جہاں دو عقلوں کا تعارض ہوا بلکہ بے شمار عقلوں کا تعارض ہوا اس اختلاف اور تعارض میں فیصلہ کرنے کیلئے ان کے ہاں کوئی ’فرقان‘ نہ تھی سوائے ہر فریق کے اپنے اپنے ’فہم فرقان‘ کے! ’فہم‘ کا مسئلہ بہرحال ایک مسئلہ ہے۔
چنانچہ ہر فریق کے عقیدت مندوں کے ہاں نصوص شریعت کی تلقی کے معاملہ میں ’فہم سلف‘ تو قابل اعتنا نہ تھا مگر ’فہم خلف‘ (’فہم اساتذہ‘) ایک بڑا ’مرتبہ‘ اور ’مقام‘ رکھتاتھا۔ ’فرقان‘ کی تلقی کیلئے کسی نہ کسی کا ’فہم‘ تو بہرحال چاہیے، سلف نہیں تو خلف! اگر آپ کو محض ایک ’فرد‘ نہیں رہنا تو یہ بہرحال آپ کی مجبوری ہے۔ ’مجموعہ‘ اس کے بغیر وجود میں آہی نہیں سکتا۔ پتنگے تک جو کہ ’انتشار‘ کے موضوع پر ضرب المثل ہیں، یہاں مل کر ایک دھارے میں آگے بڑھتے دیکھے گئے ہیں۔ ایک انسانی مجموعہ میں کچھ امور کا ’طے شدہ‘ مان کر ان سے فارغ ہوچکے ہونے کا تصور ناگزیر ہے۔ اس کے بغیر وہ ’مجموعہ‘ نہیں ہو سکتا۔ ایک انسانی گروہ کو صرف ’متن‘کے حوالے سے نہیں ’فہم‘ کے حوالے سے بھی ایک مشترک بنیاد چاہیے، مقرراتِ سلف نہیں تو ’مقرراتِ اساتذہ‘۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ’گروہوں‘ کے مابین پایا جانے والا امتیاز ’متن‘ کے حوالے سے نہیں بلکہ ’فہم‘ اور ’فقہی مراجع‘ کے حوالے سے ہے۔ کچھ بے رحم انسانی حقائق آپ اپنا ثبوت ہیں!
چنانچہ ’مکتب فکر‘ کہلانے یا سمجھا جانے سے بھی ان میں سے کسی فریق نے پرہیز لازم نہ جانا۔ فہم دین کے معاملے میں ’اپنے‘ علمی مراجع بھی جاری کئے اور باقاعدہ متعارف کرائے۔ پیروکاروں میں ان علمی مراجع کا ’تداول‘ بھی اچھے خاصے عقیدت واحترام سے ہوا۔ ’اپنی‘ تفسیروں کے جا بجا حوالوں کا التزام بھی غیر معمولی طور پر ہوا۔ ’ائمہ‘ (اساتذہ) کے قول سے نکلنا بھی ایک بڑی ہمت کا کام اور نادر صورتوں میں مناسب جانا گیا۔ یوں ایک ’تسلسل‘ کا تاثر بھی ایسے ہر طبقے کے ہاں بھرپور طور پر ابھرا۔ ’فرقان‘ کے فہم کیلئے ان سب امور کی حیثیت مسلَّم مانی گئی۔ غرض وہ سب ’تعظیم‘ اور اصولِ دین کی بابت ’بار بار‘ کے حوالوں کا وہ پورا فینامِنا جو اہلسنت کے ہاں ’ائمہ‘ سلف، سے وابستہ ہے اور قرون اولیٰ میں پائے جانے والے علم کے بلند کوہستانوں تک پہنچتا ہے اور پھر فروع کی بابت ایک علمی دھاک کا وہ تصور جو اہلسنت کے فقہی مذاہب (1) میں سے ہر مذہب کے مجتہدین اپنے سابقین خصوصاً دور تابعین واتباع تابعین کی بابت طبعی طور پر اور پھر ازراہ تواضع اپنے ہاں محسوس کرتے ہیں.... قریب قریب یہ پورا فینامنا ہمارے ان طبقوں کے یہاں چودھویں صدی کے کچھ اکا دکا ’ائمہ‘ پر شروع ہو کر انہی پر ختم ہو جاتا ہے!
پھر قبولِ حدیث کے معیار بھی ہر شخص کے الگ الگ نہیں ہو سکتے۔ یہ بھی ایک ’گروہ‘ کی سطح کے ہوں گے۔ پورا ’گروہ‘ مل کر اور ’صلاح‘ کرکے یا ’رائے دہی‘ کے ذریعے وہ معیار مقرر نہیں کرے گا۔ اس کے کچھ سربرآوردہ لوگ اس کیلئے یہ کام دیں گے اور پھر پورا گروہ اپنے لیئے اسی کا حوالہ چلائے گا۔ اس پر بھی ہمارے اور ان کے مابین قولاً نہیں تو عملاً اتفاق ہے۔ البتہ ہمارے لئے یہ کام دورِ اول کے ائمہ حدیث کر گئے اور ہم اس سے بہت دیر کے فارغ ہو چکے البتہ ’تحقیق‘ کے اس تصور کو لے کر چلنے والے ان گروہوں کا کام صدیوں ادھورا پڑا رہا اور پچھلے کچھ عشروں میں ہی جا کر ’انجام‘ پایا۔ چودھویں صدی کی ایسی ایک ایک دو شخصیات جو بار بار کے حوالوں کیلئے خود بخود زبان پہ آئیں اور دل کو باغ باغ کر جایا کریں، نہ جانے کیا اسباب ہوئے کہ کچھ اسی دور آخر میں جاکر پیدا ہوئیں اور صدیوں سے چلتے آئے ’ابہام‘ اور ’غموض‘ اور ’قیل وقال وکثرتِ سوال‘ کا ایک لامتناعی پراگندہ سلسلہ ان کی ’تحقیق‘ سے یکدم اور ہمیشہ کیلئے چھٹ گیا۔ یہ شخصیات اگر اسی دور میں پیدا ہو جاتیں جب محدثین نے ’غلطیاں‘ مارنے کی ابھی ابتدا ہی کی تھی اور فقہا نے بھی ابھی تازہ تازہ ’مغالطے‘ کھانے شروع کئے تھے۔ (2) تو کیا معلوم ابتدا میں ہی اُمت کا یہ نقصان ہونے سے رک جاتا!
’تحقیق‘ کے اس تصور کو لے کر چلنے والے ہر گروہ نے یہاں اپنے اپنے اصول حدیث وضع کیئے۔ ’حدیث‘ پر آتے ہوئے ان آزاد منش نفوس کی جان جاتی اکثر دیکھی گئی جو صرف اھواءکی قید پسند کرتے ہیں۔ ہر فریق کو ضرورت ہوئی کہ وہ ’اصول حدیث‘ کو اپنے اپنے فکری پس منظر اور اپنی اپنی سوچ کا ماپ لے کر گھڑے اور اس کا جو کوئی کونا نکلتا اور ’عقل‘ کو چبھتا محسوس ہو تراش دے۔ کسی نے ہاتھ ’ہلکا‘ رکھا اور کسی نے ’زوردار‘۔ نتیجتاً ہر طبقے نے اپنے وضع کردہ اصول حدیث کو ہی اپنے لئے حجت جانا۔ ہر گروہ کے اصول حدیث بھی دراصل اس کا اپنا ’فہم‘ تھے اگرچہ وہ اسے ’قرآن‘ اور ’عقل سلیم‘ کی براہ راست اور قطعی دلالت باور کرتا ہو! ان گروہوں کا اس پر خود اپنا اختلاف ہو جانا واضح دلیل تھی اس بات کی کہ اس موضوع پر قرآن اور عقل سلیم کی دلالت متعین کرنے میں متخاصم گروہوں کے مابین اختلافات کا کوئی ’محدد نقطہ اختتام‘ نہیں۔ بنا بریں مناسب ترین بات یہ ہو سکتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے منسوب ایک بات کی صحت متعین کرنے کیلئے اسی معیار کو قرین صواب مان لیا جائے جو صحابہ اور تابعین کے زیرتربیت و زیرسرپرستی ائمہ حدیث کے ہاں پروان چڑھا اور جو کہ ایک باقاعدہ معیار standard کے طور پر قرون سلف میں معلوم اور معروف رہا.... مگر یہاں ہر فریق یہ سمجھتا رہا کہ یہ کام ابھی ہوا نہیں اور یہ کہ اب جب اس نے آکر یہ کام کردیا ہے تو اب یہ ’ہو‘ گیا ہے!
ہر فریق کو دوسرے کے وضع کردہ اصول حدیث کہیں بہت ’بودے‘ لگے اور کہیں
ضرورت سے زیادہ’شدید‘۔ کوئی ’مشترک‘ حوالہ arbiterary point سوائے
ہر فریق کے اپنے
ہی صوابدیدی فصلے کےمیسر آسکتا تھا اور نہ آیا۔
مسئلہ تو یہ ہے کہ کتنے ہی اور فریق ہیں جن کو ہماری اس عجمی دُنیا میں ابھی ظہورکرنا ہے اور قرآن کی ’قطعی دلالات‘ کو ان پہلے سب فریقوں سے ہٹ کر اور ایک انوکھے غیر مسبوق unprecedented انداز میں سمجھنا ہے اور اصول حدیث کی بابت بھی ایک ’صحیح تر کسوٹی‘ وضع کرنا ہے.... اور خدا معلوم قیامت تک کتنی بار ایک چیز کو بننا اور ٹوٹنا ہے۔ کیا ہر نئے فریق کے ساتھ بحث آرائی ہوگی؟ ہمیں یقین ہے خود ان میں سے کئی فریق اپنی کتب میں بات ’واضح‘ کر دینے کو اس چیز کیلئے بہت کافی سمجھیں گے کہ ’جس کو سمجھنا ہے اس کو ’کفایت‘ کر دی گئی ہے اور جس کو اختلاف کرنا ہے وہ سو بار کرے البتہ بات جتنی ضروری تھی وہ ’کتب‘ میں کردی گئی‘۔ہر گروہ پر ایک وقت ضرور آتا ہے جب وہ اپنی بات کی وضاحت سے ’ذہنی طور پر‘ فراغت پا چکتا ہے۔ یہ بھی ایک انسانی واقعہ ہے۔ اس پہلو سے یہ حیثیت ہمارے ہاں اصول سنت کو حاصل ہے اور اس کی تاسیس وتبیین کے مرحلہ سے ہم دور سلف میں ہی گزرچکے۔ تھوڑا بہت کہیں ازالہ شبہات ہو یا ایک تعلیمی عمل درکار ہو یا کسی پیش آمدہ بدعت کا بطلان کردینے کی کچھ ضرورت ہو تو اور بات ہے ورنہ دور سلف کے بعد سے لے کر ہم اہلسنت کو نہ تو ’تاسیسی کتب‘ وضع کرنے کی کبھی کوئی ضرورت پیش آئی جن کے پیر پیر پر حوالے دینا بہرحال ناگزیر ہوا کرتا ہے اور نہ کسی ایسے ’بحث وجدل‘ کی کوئی احتیاج جو کہ ہر نئے فکر کی، جب تک کہ وہ ایک ’سلسلے‘ میں نہ ڈھل جائے، ایک لازمی ضرورت رہتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ یکسوئی ہر دور میں اصول اہلسنت سے متمسک طبقوں کا ہی انعام رہی اور اس یکسوئی کی بدولت یہی طبقے کسی بھی دور میں عمل اور جہاد کے میدانوں میں سرگرم رہ سکے۔ باقی فریق اپنے آپ سے فراغت نہ پا سکے وہ یا کچھ ’بنا‘ رہے تھے اور یا کچھ ’توڑ‘ رہے تھے۔ حتی کہ آج بھی جب صدیوں کے تعطل کے بعد ایک نئی صف آرائی کا مرحلہ درپیش ہے ایک جاندار تحریکی عمل اہلسنت سرزمین میں ہی نمودار ہوا اور اپنے آئندہ مراحل کیلئے اسی کے بھاری بھر کم وجود میں کروٹیں لے رہا ہے۔ مراکش تا انڈونیشیا سب اندرونی وبیرونی محاذوں پر ___ چند استثناؤں کو چھوڑ کر ___ اہلسنت دُنیا میں باطل کے خلاف برسرپیکار ہے اور کچھ علمی اور فکری احیاءہو جانے کے بعد، جس کی کرنیں الحمدﷲ اب ہر طرف پھوٹنے لگی ہیں، عالم اسلام کی متاع گم گشتہ واپس لے آنے پر یہی طبقے خدا کے فضل سے قدرت رکھنے لگیں گے۔
جدل ایک عقیم مسلک ہے اور اصل سنت سے وابستہ تحریکیں تو خدا کے فضل سے ہرگز اس کی ضرورت مند نہیں۔
٭٭٭٭٭
بہرحال اصول استدلال اور مبادی فہم یہاں ہمارا موضوع نہیں۔ یہاں اس پر کچھ بات کر دینے کا باعث یہ ہے کہ ہماری آئندہ گفتگو کے ساتھ ’اصول استدلال‘ کا ایک حیثیت میں بہرحال کچھ تعلق ہے۔
٭٭٭٭٭
جیسا کہ ہم نے عرض کیا، آج یا پہلے کسی زمانے میں، اُمت کی تاریخ میں جتنے بھی ’نئے‘ افکار بظاہر ’جمود‘ اور ’حشویت‘ کے خلاف برپا ہوئے اور دین کی ایک تفسیر نو کی کوشش کرتے رہے وہ اپنے زمانے کے ___ خصوصاً بیرون سے آئے ___ بعض فکری رجحانات اور ثقافتی ونظریاتی فیشنوں سے ہی متاثر ہونے کا نتیجہ تھے .... خواہ وہ پرانے زمانے میں فلسفہ ہائے یونان سے متاثر ہونے والا علم کلام اور فکر اعتزال ہو یاموجودہ دور میں مغرب کی فکری یلغار سے متاثرہ رجحانات جدت پسندی۔
آخر کوئی تو وجہ ہونی چاہیے کہ ہمارے برصغیر میں، اور عالم اسلام کے کچھ دیگر حصوں میں بھی، خاص انیسویں صدی میں ہی جا کر ملائکہ، معجزات، جنات اور دیگر غیبیات کی ایک طبیعاتی تفسیر ہوئی، بے شک دلیل کیلئے اسی قرآن کا ہی سہارا لیا گیا جو اتنی صدیاں عین اپنی اسی حالت میں دستیاب رہا تھا اور اس کے ساتھ ’عقل‘ کا سہارا لیا گیا جسے لے کر انسان اس سے پہلے بھی پیدا ہوتے رہے تھے!
آخر کوئی تو وجہ ہونی چاہیے کہ اسلام کا ’بغور‘ مطالعہ کرنے والے بہت سے ذہین دماغوں پر ’قرآن وسنت‘ سے ’اشتراکیت‘ ایک پوری تصویر ابھر آنے کا واقعہ خاص بیسویں صدی کی ابتدا اور وسط کے عشروں میں جا کر ہوا اور اب کچھ عشروں سے اس میں غیر معمولی حد تک کمی آتی دیکھی گئی!
کوئی تو وجہ ہونی چاہیے کہ نصوص شریعت میں پائی جانے والی ’جمہوریت‘ اور ’حاکمیت عوام‘ کا ایک پورا خاکہ اس باقاعدہ انداز میں پچھلی صدی سے پہلے کسی محقق کے عکس خیال نے محفوظ نہ کیا! مسئلہ ’تحقیق‘ اور ’دِقتِ فہم‘ کا تھا یا ’دستور دُنیا‘ کا اور ’نوعیت طلب‘ کا؟!
تقریب ادیان کے دلائل ’قرآن وسنت‘ سے لوگوں پر آج ہی کیوں منکشف ہونے لگے؟!
عورت کے برہنہ سر نکل آنے(3) کی شریعت میں ’ہرگز کوئی ممانعت‘ نظر نہ آنے کا واقعہ اس جلی انداز میں آج اسی دور میں ہی کیوں رونماہونے لگا؟ یہ ’فتویٰ‘ کی اس قسم سے ہے جس کے صادر ہونے سے پہلے ہی اس پر جوش وخروش سے عمل ہوتا ہو! ’تحقیقی‘ عمل کے یہ رخ اختیار کر جانے کو مغرب سے اٹھنے والے بے قابو ثقافتی جھکڑوں سے کیا ہرگز کوئی علاقہ نہیں!؟
موسیقی، آرٹ اور شوبز کی ’شرعی بنیادیں‘ دریافت ہونے کا زمانے کی ’فرمائش‘ سے کیا ہرگز کوئی واسطہ نہیں!
حدود کو طرح دے جانے کے ’شرعی دلائل‘ کا اس زمانے میں ایک تانتا بندھ جانا کیا ان فکری اہواءسے کوئی تعلق نہیں رکھتا جن کے زیراثر ہمارے کچھ اعلی تعلیم یافتہ طبقے اسلام کی کئی باتوں پر زمانے کے ساتھ ’شرم ساری‘ سی محسوس کرنے لگتے ہیں!؟
جہاد کو نہ صرف قومی ریاستوں
کے فلسفہ میں مدغم بلکہ اب تو نئے عالمی منظر نامے سے بھی ہم آہنگ کر دینے کی فکری
کوششیں خاص ہمارے اس دور استعمار ہی میں جا کر ہوتی ہیں اور یوں جہاد کے ’مفہوم‘
سے لے کر جہاد کے ’وقت‘ تک پر ایسی ایسی ’تحقیقات‘ سامنے آتی ہیں جن کی رُو سے
استعمارکے جیتے جی مسلمانوںکے گھر میں وہ نو من تیل کبھی اکٹھا ہونے ہی نہ پائے جب
استعمار کے خلاف ہمارے جہاد کے ’شرعی‘ ہونے پر یہ لوگ صاد کردیں گے ، عملاً تب بھی
کوئی ’خنجر اٹھے گا یا تلوار ان سے‘ خدا ہی جانے .... یوں جہاد کے موضوع پر
استدلال واستنباط کی ایسی ایسی جہتیں برآمد ہوتی ہیں کہ اُمت کی سب نسلوں کو ان
’انکشافات‘ کے حوالے سے نصوصِ شریعت کے کچھ ’جلی ترین‘ مفہومات سے نابلد مانے بغیر
کوئی چارہ نہیں رہتا .... تو اس بات کا ’زمانے کی ریت‘ سے کیا ہرگز کوئی تعلق
نہیں!؟
ہر دور کی اہل اسلام سے کچھ اپنی
فکری اور نظریاتی اور ثقافتی فرمائشیں ہوتی ہیں
وَاحْذَرْهُمْ أَن يَفْتِنُوكَ عَن بَعْضِ مَا أَنزَلَ
اللّهُ إِلَيْك (مائدہ 49)
ہشیار رہیو یہ تجھے (کسی فتنہ میں ڈال کر) اس ہدایت سے جو خدا نے تم پر نازل کی، ذرہ بھر منحرف نہ کر پائیں“ ہر دور کا ایک خاص مزاج اور فکری پس منظر ہوتا ہے جو خودبخود اس دور کے پڑھے لکھوں کی ایک ذہنی ساخت کر دیتا ہے۔ کچھ ذہین اور مخلص اور اسلام سے ہمدرد لوگ اپنے زمانے سے متاثر ہونے کے بعد جب قرآن وسنت کو ’براہ راست‘ اور بڑی مصیبت یہ کہ خود ’اپنے ہی اخذ کردہ مبادی فہم‘ کی بنیاد پر اور خصوصاً اتباع سنت کے ایک تاریخی تسلسل کا حصہ بنے بغیر سمجھنا چاہتے ہیں تو لاشعوری طور پر ان کے مطالعہ دین اور ان کی تحقیق میں ان کے دور کی وہ فکری فرمائشیں آپ سے آپ ایک خاموش انداز میں بولنا شروع کر دیتی ہیں جن سے بچا رہنا شجر سلف سے پیوستہ رہے بغیر ناممکن ہوا کرتا ہے۔ (4)
اس کام کوگو ’اجتہاد‘ اور ’تحقیق‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ مگر دراصل یہ ان لوگوں کی، جو اپنے دور کی جاہلیت کے آگے فکری طور پر ہتھیار ڈال بیٹھے ہوتے ہیں اور لاشعوری طور پر اس سے ایک سازگاری چاہ رہے ہوتے ہیں، اپنی اس پسپائی کے شرعی دلائل لے آنے کی ایک بے ساختہ ذہین کوشش ہوتی ہے۔ ان کے اخلاص کو مشکوک ٹھہرانا ہم درست نہیں سمجھتے.... حالات اور زمانے کے پس منظر سے نکل آنا ایک بے حد مشکل کام ہے۔ فہم دین کے ایک تاریخی تسلسل کا حصہ بن رہنا البتہ اس خطرے سے بچاؤ کی ایک بہترین ضمانت ہو سکتی ہے اور اصل بچانے والا تو بہرحال اللہ رب العالمین ہے۔
اس مقدمے کے ساتھ اب ہم اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں۔
٭٭٭٭٭
تاآنکہ ہم کسی خلط مبحث میں نہ پڑیں ’قتالِ طلب‘ (5) اس پورے مضمون میں ہمارا موضوع نہ ہوگا۔ ہماری گفتگو ’قتال دفع‘ کے حوالے سے ہوگی۔ عملاً عالم اسلام میں پچھلی دو صدیوں سے اُمت کی جو جہادی کوششیں ہوتی رہیں یا جو اس وقت ہو رہی ہیں یا شاید ایک عرصے تک ہوتی رہیں گی جہاد دفع ونکایہ (6) ہی کے ضمن میں آئیں گی، جہاد طلب کی نہ تو اس وقت کوئی عملی صورت ممکن ہے اور نہ ابھی اس کا کوئی موقعہ۔ لہٰذا کوئی ضرورت نہیں کہ اس بحث کو ہم خواہ مخواہ الجھنے دیں۔ (7)
تو یہ ساری تنقید جو جہادی گروہوں پر دور استعمار کا تمام تر عرصہ ہوتی رہی اور پچھلی دو صدی سے کسی وقت رکنے میں نہیں آئی .... اور یہ سب بے تحاشا مذمت جو ہمارے دانشوروں کی جانب سے اُمت کے ان دلیر نوجوانوں کا صلہ ٹھہری جو اپنے گھروں میں گھس آنے والے دشمن کے خلاف دُنیا کی کسی بھی باعزت قوم کی طرح ہتھیار اُٹھا لینا اور اُمت کا سر اونچا رکھنے کیلئے شہادتیں پیش کرنا اپنی جوانیوں کا ایک صالح مصرف جانتے ہیں.... اس ساری تنقید اور مذمت اور مخالفت کا تعلق اس ’جارحانہ‘ جہاد سے نہیں جس کے متعلق ہمارے جدت پسند محققین کا کہنا ہے اس کا وقت ہمیشہ کیلئے ختم ہو چکا۔ یہ سب تنقید اور حوصلہ شکنی جو کوئی دو سو سال سے جاری ہے جہاد کی اس قسم کے خلاف ہے جس کو ’دفاعی جہاد‘ کہا جاتا ہے۔ یعنی یہ بھی اس وقت قبول نہیں۔
کیوں؟
اس کے جواب میں کئی اپروچ اختیار کئے جاتے ہیں۔ ہم یہاں دو کا ذکر کریں گے۔
٭٭٭٭٭
کچھ مفکرین کا کہنا ہے کہ یہ دور جدید ہے جس میں اقوام پہلے کی نسبت کہیں زیادہ مہذب ہیں۔ تہذیب نے ناقابل یقین حد تک ترقی کرلی ہے۔ ظلم کے خلاف عالمی ضمیر اس قدر بیدار ہو گیا ہے کہ آپ کے ساتھ ایسی کوئی زیادتی ہو جانے کا اب امکان ہی نہیں رہ گیا کہ ظلم کو پسپا کرنے کیلئے آپ کو ہتھیاروں کا سہارا لینا پڑے اور اگر کچھ تھوڑا بہت ہو تو اس کے بے شمار پرامن طریقے ایجاد ہو چکے ہیں اور آپ کو سیاسی بلکہ زیادہ بہتر تو یہ ہے کہ غیر سیاسی قسم کی جدوجہد کرنی چاہیے اور سب سے بہتر تو یہ کہ صبر ہی کریں۔ مہاتما گاندھی اس منہج عدم تشدد کی کامیابی کی ایک زبردست مثال کے طور پر بیان کئے جاتے ہیں جن کے یقین محکم اور طرزِ پرامن نے دیکھتے ہی دیکھتے ظلم کی طویل سیاہ شب ختم کردی اور استعمار کی افواج ان کے صبر وتحمل کے ہاتھوں شرمسار ہو کر ہندوستان سے لشم پشم بھاگ جانے پر مجبور ہو گئیں!
ان میں سے کچھ لوگ اس عالمی تبدیلی کی تاریخ اس دن سے شروع کرتے ہیں جس دن اليوم اکملت لکم دينکم آیت رسول اﷲ ﷺ پر نازل ہوئی۔ آیت میں مذکورہ الفاظ فلا تخشوهم واخشون (8) کا مطلب وہ یہ لیتے ہیں کہ دراصل یہ زمانہ بدل جانے کا اعلان ہے (یہاں پر ’ھُم‘ کی ضمیر البتہ خاص ان مشرکوں کیلئے نہیں لیتے جو بیت اللہ کے پروہت تھے یا جو ’جزیرۃ عرب‘ میں پائے جاتے تھے!) اور یہ کہ قیامت تک کیلئے اب ایک طرح سے انسان کی سرشت بدل گئی ہے جس کا باعث انسانوں کا ظلم اور فتنہ persecution کم از کم اب اس نوعیت کا نہ ہوگا جس کے خلاف ہتھیار ہی اٹھا لئے جانا ناگزیر ہوں۔ چنانچہ ’دین کامل‘ کے عنوان سے ہندوستان کے ایک فاضل مسلم مفکر، جن کی کچھ دیگر تصنیفات خصوصاً الحاد کے موضوع پر ان کے تحریری کام کی ہم دل سے قدر کرتے ہیں، نے باقاعدہ ایک تصنیف پیش کی ہے جس کا لب لباب یہ ہے کہ یہ دین خود ہی اپنی سچائی کی بنا پر اپنے آپ کو کفایت کرتا ہے لہٰذا اس کے ماننے والوں کا کام صرف اتنا ہے کہ اس کی سچائی کو ہی نمایاں کریں البتہ ظلم کی قوتوں سے اس کو ایسا اب کوئی خطرہ نہیں رہ گیا ہے جس کو دفع کرنے کیلئے اس طریقے سے ہتھیار اٹھانے پڑیں جس طرح اس سے ماقبل ادوار میں اٹھانے پڑتے رہے تھے۔ ان کے خیال میں یہ آیت ’دور جدید‘ کی نوید ہے جس میں انسان بات چیت، گفت وشنید اور صبر جمیل سے اپنے مسائل حل کر لیا کرے گا!
اسلام کے ’دین کامل‘ ہونے کا خاص یہ مطلب جو کہ دراصل ’دور کامل‘ کہلانا چاہیے! ان سے پہلے اُمت کے اندر غالباً کسی نے بیان کیا اور نہ کسی صاحب علم کی نظر سے گزرا .... مگر شاید یہ ان کے نزدیک ضروری بھی نہیں۔
اس نظریہ پر وارد ہونے والے سب اشکالات سے ایک چٹکی میں جان چھڑانے کیلئے اس نظریہ کے ایک تتمہ کی بھی ضرورت تھی!
یہ ’تتمہ‘ اس مختصر سے نظریے پر مشتمل تھا کہ آج مسلمانوں پر ظلم وستم کی جو صورتحال ’بظاہر‘ دیکھنے میں آرہی ہے اور اس کی کچھ واضح مثالیں آج ہر طرف ملاحظہ کی جا سکتی ہیں .... غیر مسلم قوتوں کی ان باقاعدگیوں کا بڑا سبب ان کے نزدیک کچھ غیر ذمہ دار مسلم گروہوں یا افراد کی اپنی ہی شرارت ہے (جس سے ہمیں بھی کچھ مخصوص واقعات کی حد تک انکار نہیں) (9)لہٰذا مطلق طور پر ان کے نزدیک یہ لازم ہے کہ ’تصادم‘ نام کا کوئی بھی کام کسی بھی صورت میں اور کسی بھی قیمت پر کیا ہی نہ جائے۔ شاید ان کا خیال ہے اگر آپ کفار کو جو وہ آپ کے ساتھ کرنا چاہیں کر لینے دیں اور مزاحمت سے مکمل اور یکطرفہ طور پر دستکش رہیں تو اس ظلم وستم سے ان کا دل کہیں جلد بھر جائے گا بہ نسبت اس سے کہ آپ ’مزاحمت‘ کرتے رہیں۔ یعنی جو آدمی آپ کو مار رہا ہے آپ ہلیں گے تو وہ آپ کو اور مارے گا! مگر چونکہ مسلمان ’مزاحمت‘ سے باز ہی نہیں رہتے اور اس پوری صورتحال کا تسلسل ہی بگاڑ دیتے ہیں لہٰذا ’دین کامل‘ کے نام سے قائم کردہ ان کے اس نظریے کو بھی ثابت کرنے کا پورا موقعہ نہیں ملتا!
یہ حضرات روس کے افغانستان میں گھس آنے اور افغانستان سے بھی آگے کے عزائم رکھنے، فلسطین میں یہودیوں کی خونریزی جسے مغرب کی کھلی کھلی پشت پناہی حاصل رہی ہے، عراق پر امریکہ کے قابض ہو کر ظلم مچانے، کشمیر پر بھارت کا ظلم وستم جاری رہنے، بوسنیا اور کوسوا میں مسلم خون بہایا جانے، چیچنیا، ارٹریا، فلپائن.... ہر جگہ مسلمانوں کے ساتھ زیادتی ہونے، دہرے معیار برتے جانے، مسلم مفادات اور مسلم نسلوں اور مسلم مستقبل کو برباد کر دینے کے منظم ترین حربے آزمائے جانے وغیرہ کی بابت اول تو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ مبالغہ آرائی پر مبنی حکایتیں ہیں اور پھر یہ کہ ان زیادتیوں کا بہانہ خود مسلم قوتوں کی جانب سے ہی فراہم کیا جاتا ہے۔ یعنی اگر مسلم حکومتوں اور جماعتوں کی جانب سے مکمل استسلام surrender کا مظاہرہ ہو تو یہ واقعات رونما ہونے سے رک جائیں.... یا یہ کہ ایک ’خاص‘ نقطے پر جا کر رک جائیں۔
ان لوگوں کی مصیبت یہ ہے کہ یہ ’چند واقعات‘ کو بنیاد بنا کر ’سب واقعات‘ کی بابت ایک رائے قائم کرتے ہیں اور پھر بہت جلد اس کو ایک ’کلی قاعدہ‘ بنا دیتے ہیں۔
بلاشبہ ’شرارت‘ کے کچھ واقعات بعض غیر ذمہ دار عناصر سے سرزد ہوتے ہیں۔ بلکہ اس حوالے سے بھی.... یہ امکان رد نہ ہونا چاہیے کہ ایسے بعض واقعات کے پیچھے سرے سے کسی مسلمان کا ہاتھ نہ ہو بلکہ مار دھاڑ کا ’بہانہ‘ حاصل کرنے اور روح فرسا واقعات کا ایک سلسلہ شروع کردینے کیلئے ایسی کئی پراسرار حرکتیں خود دشمن ہی کی شرارت ہوں جس کی ایک مثال شاید پچھلے دنوں ہونے والا ممبئی ٹرین دھماکہ ہو اور ایسے پراسرار واقعات کی تاریخ واقعتا بہت پرانی ہے جس کا کچھ تذکرہ ایک ریٹائرڈ بیورو کریٹ قدرت اللہ اپنے شہاب نامہ میں انگریز دور کی اپنی اسسٹنٹ کمشنری اور مسلم پسماندہ علاقوں میں اپنی تعیناتی کے ایام کے اپنے کچھ چشم دید وقائع کی صورت میں کرتے ہیں.... بہرحال پھر بھی یہ مانا جا سکتا ہے کہ ایسے کچھ واقعات بعض مسلمانوں سے سرزد ہوتے ہیں اور اس کے باعث بعض مواقع پر مسلمانوں اور غیر مسلموں میں بے ہنگم فسادات بھڑک اٹھتے رہے ہیں اور اس سلسلہ میں کچھ ضوابط پر ہم آگے چل کر بات کریں گے بھی۔ مگر ان حضرات کا یہاں سے ایک ’کلی قاعدہ‘ برآمد کرلانا اور اسی کو ’آخری سچائی‘ کے طور پر پیش کرنا درحقیقت عالم وہم میں رہنے کے مترادف ہے۔
جو لوگ ___ مثلاً ___ سرد جنگ کی تاریخ سے واقف ہیں اور کمیونسٹوں کے خون آشام فلسفے کا علم رکھتے ہیں اور بے رحم کمیونسٹ روس کے توسیع پسندانہ منصوبوں سے کچھ بھی آگاہ ہیں وہ روس کے افغانستان پر چڑھ آنے اور پاکستان بلکہ خلیج تک اپنے جبڑے کھول رکھنے ایسے وقائع کا کوئی تعلق ہمارے ان حضرات کے ’نظریہ شرارت‘ سے قائم نہ کر سکیں گے۔ اس کی کوئی تفسیر اس کے علاوہ کی ہی نہیں جا سکتی کہ انسان کسی وقت ایک منظم حیوان ہوتا ہے جس کا طاقت کے ساتھ منہ توڑ کر نہ رکھ دیا جائے تو اس کے شر سے محفوظ رہنے کی کوئی بھی صورت نہیں۔ وَلَوْلاَ دَفْعُ اللّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الأَرْضُ وَلَـكِنَّ اللّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ (10)
جو لوگ فاشسٹ صہیونیت کی تاریخ اور فلسفے سے آگاہ ہیں اور دُنیا کی اس منظم ترین تحریک کے نازیوں سے بدتر نظریات خصوصاً اس تحریک کے بانیوں کے افکار وخیالات اور ان کے برہنہ عزائم سے واقف ہیں اور جس طریقے سے وہ یورپ میں بیٹھے سر جوڑ کر عرصہ دراز تک منصوبے بناتے رہے کہ کس طرح وہ ایک ہنستی بستی قوم کے گھر اجاڑ کر اور ان کو دربدر کرکے ان کے وطن کے ملبے پر اپنی قومی یہودی ریاست کھڑی کریں گے.... یہ سب کچھ جن لوگوں کے علم میں ہے وہ ہرگز اس خیال کی تائید نہ کریں گے کہ سوئٹزر لینڈ، روس، پولینڈ، آسٹریا، فرانس اور امریکہ میں بیٹھے نیلی آنکھوں والے گورے یہودیوں کے اس نیٹ ورک کو ’طیش دلا کر‘ اپنے وطن پہ چڑھا لانے والے وہ بے خبر فلسطینی تھے جو ایک عرصہ تک بیچارے اس منصوبے کی حقیقت سے ہی لاعلم رہے، جس کو کہ اس وقت برطانیہ کی پشت پناہی حاصل تھی اور جس کے نتیجے میں ایک زبردست چال چل کر یہودیوں کی وہ قومی ریاست قائم کر دی گئی جس کا خواب ان کے ہاں گو دو ہزار سال سے دیکھا جا رہا تھا مگر عملاً پچھلے دو سو سال سے اس کیلئے باقاعدہ مہرے چلائے جا رہے تھے۔ سب جانتے ہیں مسلمانوں کو ارض مقدس سے مار مار کر بھگا دینا قیام اسرائیل کے منصوبے کا ایک باقاعدہ حصہ تھا اور ایک پہلے سے طے شدہ امر۔
پھر ’نیل سے خیبر تک‘ کا اسرائیلی خواب، جسے فلسطینی انتفاضہ نے اب چکنا چور کردیا ہے، یہودی دماغوں میں سمانے کیلئے کسی ’مسلم مزاحمت‘ کا مرہون منت نہ تھا۔ اس صہیونی خواب کی بنیادیں صہیونی ذہنیت کے باہر تلاش کرنے والے، اپنے دور کو سمجھنے کا دعویٰ کرنے کے باوجود، نہ جانے کس دور میں رہتے ہیں!
جو لوگ آئندہ کچھ عشروں میں متوقع تیل کے عالمی بحران کی کچھ خبر رکھتے ہیں اور بڑی طاقتوں کے تیل کے سرچشموں پر قابض ہو جانے اور اس راستے میں دُنیا کو تہس نہس کر دینے ایسے عزائم اور عشروں پر محیط ان کی اس دوڑ سے کچھ بھی آگاہ ہیں وہ عراق پر امریکی قبضے کا سبب صدام کے ’وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار‘ یا اس طرح کا کوئی اور ’ھوّا‘ بتائے جانے پر شاید قہقہہ لگائیں.... اور پھر اب تو یہ پول خود ہی کھل گئے! خلیج کے کنوؤں پر کھلا کھلا امریکی قبضہ کا کام تو روس کے گرنے کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا اور اس کیلئے دوڑ تو اس سے پہلے بھی کبھی نہ رکی تھی۔ ’بہانوں‘ اور ’ھوّوں‘ کا تذکرہ تو ہم ’اخبار‘ پڑھنے والوں کیلئے تھا!
البتہ عراق میں قبضہ کاروں کے دانت یوں کھٹے نہ ہو گئے ہوتے تو شاید کچھ اور ’ھوّوں‘ کا بھی اب تک خاتمہ کردیا گیا ہوتا۔ ’ارادے‘ اب بھی نہیں بدلے گئے صرف حکمت عملی بدل سکتی ہے الاّ یہ کہ ’مزاحمت‘ کا خطرہ حد سے زیادہ ہو۔ ’طاقت‘ کے سوا کوئی زبان اس کوچے میں نہیں سمجھی جاتی۔
’تیل‘ کے علاوہ.... ’مشرق وسطی‘ میں اب پچھلے کوئی ایک عشرہ سے ’اسرائیل‘ پر نحوست و ادبار کی پرچھائیاں دیکھ کر امریکہ کے کچھ بااثر حلقوں کے یہاں دلوں پر ہول پڑ رہے ہیں اور اس بچے کی ’جوانی‘ سے پہلے ہی مرگ ہو جانے کا خدشہ اب روز بروز بڑھ رہا ہے جو خود اس بات کا تقاضا ہے کہ دولت صہیون کے پشتبان مشرق وسطی میں اب بنفس نفیس موجود ہوں۔ وگرنہ گوری اقوام اتنی ’سیدھی‘ بہرحال نہیں کہ محض ’طیش دلانے‘ سے اپنا جانی مالی اور شہرت کا نقصان کرانے کیلئے یوں اٹھ کھڑی ہوں!
اٹھارویں اور انیسویں صدی میں برطانوی، فرانسیسی، اطالوی، پرتگالی اور ولندیزی استعمار پورے عالم اسلام پر چڑھ آیا، اور اس کا ہمارے سب تہذیبی خدوخال بدل کر یہاں ہمیشہ رہنے کاارادہ تھا۔ اس کی آپ کیا تفسیر کریں گے؟ سوائے اس کے کہ ’مغربی انسان‘ تہذیب کے اس ’درخشندہ دور‘ میں دنیا کی کمزور و لاغر قوموں اور ان کی زمین و وسائل کی بابت ’یہی‘ رائے رکھتا ہے اور یہ کہ انسان کسی وقت ایک ایسا درندہ بن جاتا ہے جو صرف ’بھوک‘ کے ہاتھوں مجبور ہو کر شکار نہیں مارتا بلکہ ’سیر‘ ہو کر شکار مارنے میں ایک اور ہی لطف لیتا ہے۔ ہوس کی یہ سب بہیمانہ وارداتیں ’تہذیب‘ کے اسی دور میں ہوئیں بلکہ حق تو یہ ہے کہ ’تہذیب‘ کے پردے میں ہوئیں۔ دور حاضر کو نہ ’سمجھ پانے‘ والے اس ’پردے‘ کے اندر سے جھانک بیٹھتے ہیں تو ’غیر شائستہ‘ لگتے ہیں اور کسی وقت ’شکی مزاج‘ اور ’شدت پسند‘ بھی!
خود امریکیوں نے برطانوی استعمار کے خلاف ویسے ہی ہتھیار اٹھائے تھے جس طرح مسلم مزاحمتی تحریکوں کو اٹھانے پڑے!
سترھویں اور اٹھارویں صدی میں استعمار کو یہاں چڑھ آنے کیلئے ظاہر ہے کہ کسی نے ’طیش‘ نہیں دلوایا تھا اور نہ ہی اپنے آپ کو ’محفوظ بنانے‘ کیلئے وہ ہماری ہر چیز پر قابض ہو جانے پر ’مجبور‘ ہوا تھا۔ یہ وہی ’استعماری انسان‘ ہے اور وہی ’تہذیب‘۔ اس کی سرشت کیا پھر آج بدل گئی ہے جو اس کی گھناؤنی حرکتوں کی تفسیر ہم صرف اور صرف ’مسلم مزاحمت‘ میں جا کر تلاش کریں؟
یوگوسلاویا میں صلیبی کینہ جس طریقے سے بوسنیا اور کوسوا میں بے گناہ مسلمانوں کی نسل کشی کی راہ پر چل رہا تھا اس کے ڈانڈے تاریخ میں بہت پیچھے جا کر ملتے ہیں۔ وقتی وقائع کے اندر ان کی تفسیر تلاش کی جانا بے حد سطحیت ہوگی۔
ذرا اور پیچھے چلے جائیے.... اندلس میں مسلم وجود کا جس طرح صفایا کر دیا گیا اس سے بڑا سانحہ ہم پر اس سے پہلے شاید کبھی نہ گزرا ہو۔ ایک پوری مسلم قوم زبردستی عیسائی بنا دی گئی سوائے ان خوش قسمتوں کے جو اسلام کی حالت میں قتل ہوئے یا جو اپنا دین بچا کر بھاگ جانے میں کامیاب ہوئے۔ فرڈیننڈ اور ازابیلا کی کلیسائی عدالتیں acquisition courts آج تک یورپ اور کلیسا کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہیں۔ کیا ’مذہبی تشدد‘ کا یہ روح فرسا واقعہ جو چند افراد تک محدود نہ تھا بلکہ ایک ملک عظیم اس کی لپیٹ میں آیا اور نسلوں تک جاری رہا.... یہ واقعہ کیا فلا تخشوھم واخشون الیوم اکملت لکم دینکم کے نزول کے بعد کی تاریخوں میں پیش نہیں آیا؟! ’نظریہ شرارت‘ کو آپ کہاں تک کھینچ کر لے جاسکتے ہیں؟
ابھی کوئی ایک عشرہ پیشتر یہودیوں نے ترکی کے اندر اپنی ترکی ہجرت کی پانچ سو سالہ تقریب منائی۔ جس کی کہانی یہ ہے کہ سپین میں یہودی آبادی مسلم اقتدار کے تحت بڑے امن چین سے رہتی آئی تھی۔ مگر آج سے کوئی پانچ سو سال پہلے ہسپانوی صلیبیوں کا اقتدار قائم ہو جانے کے بعد جب مسلمانوں پر مذہبی مظالم ڈھائے جانے لگے تو یہودی بھی اس میں حصہ بقدر جثہ سے محروم نہ رہنے دیے گئے۔ مسلم سپین سے بھاگ کر یہودیوں کو جو جائے پناہ ملی وہ مسلم ترکی تھا! کیا یہودیوں نے بھی عیسائی بنیاد پرستوں کو اس مذہبی تشدد کا آپ اپنے ہاتھوں ’موقعہ‘ دیا تھا؟
سورۃ مائدہ کی اس آیت کی ’قطعی دلالت‘ کیا واقعتا یہی ہے کہ مذہبی تشدد religions persecution کا زمانہ ہمیشہ کیلئے لد گیا ہے؟
اس سے پیشتر.... پہلے میلینیم کے اختتام پر جب پوپ اربن دوئم نے یورپی اقوام کو ’مقدس جنگیں‘ شروع کردینے کا ’شرعی‘ پروانہ جاری کیا تھا، جس کے ساتھ صلیبی راجواڑوں کے کچھ اپنے مفادات بھی وابستہ تھے، اور اس کی تعمیل میں صلیبی لشکر ارض شام ومصر پر حملہ آور ہوئے اور جس دن پھر وہ بیت المقدس پر قابض ہوئے تو تاریخ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس دن اَسی ہزار مسلمان کھیت ہوئے اور یہ کہ بیت المقدس میں اس دن گھٹنوں گھٹنوں تک خون تھا۔ کیونکہ صلیبی کینہ کو اس دن ’باہر‘ آنے کا موقعہ مل گیا تھا۔
ان صلیبی لشکروں نے مسلمانوں کا وجود تو کیا، مشرقی کلیسا کو ماننے والوں کا وجود برداشت نہ کیا۔ خود مشرقی کلیسا کے عیسائیوں نے صلیبی خونریزی کے اس دور میں مسلمانوں کو ہی کئی مواقع پر اپنے لئے ایک بہتر حلیف سمجھا۔
مذہبی تشدد کے اس قدر بڑے بڑے اور بے شمار واقعات ظاہر ہے الیوم اکملت لکم دینکم کے نزول کے بعد ہی ہوتے رہے۔ ’نظریہ شرارت‘ کہاں تک ان سب خون آشام واقعات کی تفسیر بن سکتا ہے؟
انسان پہلے بھی ’انسان‘ تھا اور آج بھی ہے۔ اس میں اچھائی کے سب پہلو جو اسے فرشتوں سے نسبت دے دیں آج بھی اسی طرح باقی ہیں جس طرح پہلے تھے۔ اس میں ظلم وعدوان اور غارت گری کے وہ سب محرکات آج بھی ہزاروں سال پہلے کی طرح باقی ہیں جو اسے درندوں سے بدتر کردیں، ’تہذیب‘ نے زیادہ سے زیادہ اسے کچھ ملمع کاری اور لمبا چلنے کی حکمت عملی سکھا دی ہے۔ اس میں خوبیوں کی افزودگی کے آج بھی وہی اصول ہیں جو اس سے پہلے تھے۔ اس کے عدوان و سرکشی سے نمٹنے کیلئے آج بھی وہی طریقے ہیں جو پہلے تھے.... گو ہر صورتحال اپنی نوعیت کا ایک الگ واقعہ ہے جس کے مناسب حال طرز عمل کا تعین کرنا وقت کے صالح اہل علم کا کام ہے۔ اس معاملے میں کوئی ایک ’قاعدہ‘ یا کوئی ایک ’قانون‘ ہمیشہ کیلئے جاری کردینا اور اس کے سوا باقی سب امکانات کو مسترد کر دینا البتہ کوئی علمی رویہ نہیں۔
٭٭٭٭٭
دوسری اپروچ جو قتال دفع کو زمانہ حال میں ممنوع ٹھہرانے والے طبقوں کے یہاں، اپنے اس موقف کی شرعی بنیادیں متعین کرنے کے معاملہ میں اختیار کی جاتی ہے، یہ ہے کہ شریعت نے اس چیز کو اقتدار کے ساتھ مشروط کیا ہے اور یہ کہ جس وقت تک مسلمانوں کے پاس سیاسی اقتدار نہیں اور اس اقتدار پہ فائز مسلم حکمران ہی جب تک کسی دفاعی کارروائی کا حکم جاری نہیں کرتا، چاہے اس حکمران کے وجود میں آنے کو سو سال لگیں یا ہزار سال یا چاہے ایسا کبھی بھی نہ ہو، مسلح مزاحمت کی ہر صورت فساد ہے یا پھر فساد کا پیش خیمہ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے مزاحمت گریز اصحاب کے ہاں، مزاحمت کی بحثوں میں ’اقتدار‘ ہونے کی شرط جہاں اس وقت کا ایک گرم موضوع ہے وہاں کچھ ’انقلابی‘ جماعتوں کے ساتھ بحث ومباحثہ میں (’تعبیر کی غلطی‘ کے ضمن میں) انہی کی جانب سے کئی بار یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ ’اقتدار‘ کی ایسی ضرورت بھی کیا ہے!؟ بہرحال یہ ایک جملہ معترضہ تھا۔
معلوم نہیں شریعت کی کونسی نص ہے جس میں قتال دفع کیلئے ’اقتدار کی شرط‘ عائد کر دی گئی ہے۔ البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ان لوگوں کا فہم ہے جس پر یہ اگر عمل پیرا ہوتے ہیں تو بھی یہ اپنی حد تک اُس پر کاربند رہیں، اس کو ’شریعت‘ بنا دینا اور اس موضوع پر کوئی دوسری رائے رکھی جانے کی گنجائش نہ چھوڑنا البتہ ایک فوجداری رویہ ہے۔
چنانچہ یہاں ہم اگر تنقید کریں گے تو وہ اس فوجداری رویے پر ہوگی جو اپنے ایک فہم کو، اور بسا اوقات تو اپنے ایک وہم کو، شریعت بنا دینے کے سوا تفسیر دین کے کسی اور اسلوب سے واقف نہیں۔ جہاں تک خود اس فہم کا تعلق ہے تو اس سے زیادہ سے زیادہ ہم اختلاف کریں گے نہ کہ اس پر تنقید اور مذمت۔ فہم کی نسبت پھر اگر اُمت کے کچھ معتبر راسخ اہل علم سے ثابت ہو جائے تو اس پر ان کے عمل پیرا ہونے میں ہرگز بھی کوئی حرج نہ جانیں گے بلکہ اخلاص کے ساتھ اُس پر عمل پیرا ہونے میں ان کیلئے ایک اجر ضرور ہوگا۔
ہمارے ہاں اس موضوع پر پس اگر کہیں کوئی تنقیدی اسلوب ملے تو اس کی بابت ہماری یہ وضاحت پیش نظر رہنا چاہیے۔
٭٭٭٭٭
بلاشبہہ مسلم اقتدار اُمت کے سر پر اگر قائم ہے تو آپ اسی کی قیادت اور امارت میں چلنے کے پابند ہیں اور اقوال اہل علم میں حج اور جہاد (11) وغیرہ کا امراءکے ساتھ کیا جانا چاہے ان میں فسق اور جور کیوں نہ ہو، ایک معلوم امر ہے۔ اسلامی امارت کے ہوتے ہوئے جنگ و امن ایسے سب امور کی بابت مسلمانوں کے کسی بھی اقدام وفیصلہ کا واحد شرعی فورم یہی ہے۔ مسلمانوں کے اجتماعی امور کے معاملہ میں جس وقت جو فورم متعین ہو جائے اس سے عدولی واقعتا جرم بھی ہے اور باعث فساد بھی۔
اور چونکہ اس اُمت کو اپنی تاریخ کا ایک طویل ترین عرصہ خدا کے فضل سے مملکت واقتدار حاصل رہا ہے لہٰذا یہ تمام تر عرصہ اس کے زیادہ تر اجتماعی معاملات اسی فورم کے ذریعے اپنی جہت پاتے رہے۔ مسلم خلیفہ یا سلطان کے ساتھ، چاہے وہ کسی وقت جائر بھی ہو، اس کے اس حق پر سوائے اہل بدعت کے کسی نے منازعت نہ کی۔ الامام جنۃ یقاتل من ورائہ کا نبوی حکم ہر اُس ھویٰ پرست کو باطل قرار دینے کے معاملہ میں واضح تھا جو مسلم سلطان کے ہوتے ہوئے اس کو بائی پاس کرے۔
چنانچہ معاملات صلح وجنگ کو امام ہی کی جانب لوٹائے جانے کی بابت فقہائے اسلام کے اطلاقات دراصل اسی سیاق میں صادر ہوئے ہیں۔ باوجودہ اس کے کہ قتال دفع کی بابت خاص حالات میں اذن امام کی شرط نہ ہونے کی بھی الگ سے فقہاءنے صراحت کی ہے.... لہٰذا ان اطلاقات کو اس دور پر بے جا لاگو کرنا جب امام ہی نہ پایا جائے خصوصاً قتال دفع کی بابت، فقہاءکا مقصود ہی نہیں۔
کوئی فقیہ مثلاً اگر یہ کہے کہ اضطرار قسم کی صورتحال درپیش نہ ہو تو عورت کا خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے نکل کر کسب معاش کرنا جائز نہیں (خاص اس مسئلہ پر فقہی بحث یہاں مقصود نہیں) تو اس اطلاق سے اس کا یہ مقصد بہرحال نہ ہوگا کہ اگر اس کا شوہر مثلاً وفات پا چکا ہے یا وہ سرے سے کوئی شوہر نہیں رکھتی تو بھی ’شوہر کی اجازت‘ کی یہ شرط اس سے ساقط نہ ہوگی اور یہ کہ اس حالت میں اس کے گھر سے نکل کر کاروبار دُنیا میں شریک ہونے کی کوئی بھی صورت باقی نہیں رہی! ہر اطلاق کا ایک عمومی اور واقعاتی سیاق ہوتا ہے اور اس کو اسی سیاق میں سمجھا جائے گا۔
اب سوال یہ ہے کہ اُمت کے کسی دور میں یا کسی خطے پر ایسا وقت آئے کہ کفار کے عدوان کے نتیجے میں وہ مسلم اقتدار ہی جاتا رہے جو اگر ہوتا تو یقینا اسی کی قیادت تلے صلح وجنگ کے یہ سب امور انجام پاتے اور اُمت کے مفادات کے تحفظ کی کوئی مناسب حکمت عملی اپنائی جاتی.... تو خاص ایسی حالت میں کیا کیا جائے؟
اُمت کے اہل علم کی ایک بہت بڑی تعداد، ہم دیکھتے ہیں کہ ایسی حالت میں بھی اُمت کو بعض محاذوں پر کفار کے خلاف ہتھیار اٹھوانے کا اجتہاد کرتی ہے، اور بعض محاذوں کی بابت ان کے اجتہادات ایک دوسرے سے مختلف ہو جاتے ہیں تو بھی ایک دوسرے پر تشنیع نہیں کرتی بلکہ آپس میں مختلف اجتہاد رکھنے کے باوجود ایک دوسرے کیلئے توفیق اور غلبہ ونصرت کیلئے متمنی ودُعاگو رہتی ہے۔ یعنی علمائے اُمت کا اختلاف بعض محاذوں کی بابت ہو سکتا ہے، اصولی طور پر اُن میں اس پر کوئی اختلاف نہیں کہ اقتضائے مصالح کے پیش نظر آج جب خلیفہ یا امام موجود نہیں، یہ اُمت قتال کی مجاز ہے۔
البتہ ہمارے یہ معدودے چند اصحاب جن کے علمی رسوخ کی بابت اہل علم کی کوئی شہادت بھی ہمارے علم میں نہیں اس مسئلے کو اجتہادی مسئلہ ماننے پر تقریباً تیار نہیں۔ چنانچہ یہ اس مسئلے پر اپنے ہی اختیار کردہ موقف کو بلکہ شاید ہر مسئلہ میں اپنے ہی اختیار کردہ موقف کو دین کی قطعیات میں شمار کرتے ہوئے اس کے سوا سب مواقف کو دین، قرآن، عقل، منطق سب سے متعارض اور بسا اوقات تو نظر کا افلاس قرار دیتے ہیں۔ بہرحال ان کے بارے میں ہمارا علم کوئی حجت نہیں اگر وہ اجتہاد کی اہلیت رکھتے ہیں تو بھی اسے ایک اجتہادی رائے کے طور پر پیش کریں اور دوسروں کو اپنے اپنے اجتہاد پر چلنے دیں بغیر اس کے کہ ان پر اس شدت سے تشنیع کریں اور ہر ہر موقعہ پر ان کو ہدف تنقید بنائیں بلکہ سب سے بڑا محاذ انہی کے خلاف کھڑا کرلیں۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ اگر یہ اپنے تئیں مجتہد ہیں تو بھی یہ اپنے اجتہاد پر عمل کریں اور دوسروں کو اپنے اجتہاد پر عمل کرنے دیں؟
فقہ اجتہاد اور فقہ اختلاف وائتلاف سب اہلسنت کی تراث ہے۔ اصولِ اہل سنت سے آپ کن کن امور میں بے نیاز رہ لیں گے؟ اس قدر ثمین اور وسیع تراث آپ کہاں سے لائیں گے؟
اپنے گھروں پر چڑھ آئے دشمن کے خلاف اس وقت ہتھیار اٹھا لینا چنانچہ ___ بغرض محال___ اگر ایک غلط اجتہاد بھی ہے اور بلاشبہہ معاصر اہل علم کی ایک بڑی تعداد اُمت کے کئی ایک محاذوں پر قتال کے جواز کا فتویٰ دے چکی ہے.... تو بھی یہ لوگ لڑتے تو ان کفار ہی کے خلاف ہیں جو جارحیت پر مصر ہیں، خود قتال سے دستکش رہتے ہوئے ہی سہی اپنے ان بھائیوں کیلئے نیک جذبات رکھنے اور دُعائیہ کلمات کہتے رہنے اور کم از کم دشمن کے خلاف ان سے ہمدردی ظاہر کرنے میں یہ بات مانع تو نہیں! غلط اجتہاد کی بنا پر طائفہ معاویہ خلیفہ وقت کے خلاف ہتھیار اٹھا لیتا ہے، یعنی اس مسلم اقتدار ہی کے خلاف جس کی غیر موجودگی کا ہم سب کو آج اس وقت رونا ہے، اور بلاشبہہ یہ ایک بہت غلط اجتہاد تھا.... تو بھی طائفہ معاویہ کے بارے میں جماھیر اُمت کیا رائے رکھتے ہیں؟ یقینا ان کو خوارج کی صف میں کھڑا نہیں کیا جاتا حالانکہ حضرت علی کے خلاف قتال دونوں نے کیا۔ تو کیا غاصب ہندوؤں، صلیبیوں اور صہیونیوں کے خلاف، چلیں ’غلط اجتہاد‘ کے ساتھ ہی سہی، ہمارے مجاہدوں کا قتال کرنا ایسی بری بات ہے کہ ہم ان پر صبح شام برسیں؟ ان کو عذر دینے اور خدا سے ان کیلئے نیک اجر کی اُمید رکھنے میں کیا حرج ہے؟ اور دشمن کے خلاف جس کی خباثت اور ظلم کی بابت ہمیں اختلاف ہے نہ آپ کو، ان مسلم قوتوں کی نصرت وکامیابی کیلئے دُعا کرتے رہنے میں کیا بُرائی ہے؟
تالیف کلمہ اور جمع شیرازہ کیلئے کیا یہ اسلوب کہیں بہتر نہیں؟ کیا یہ اس سے کہیں بہتر نہیں کہ میڈیا میں آپ اسی دشمن کی ہی ہاں میں ہاں ملاتے (کم از کم تاثر ملنے کی حد تک) اور اچھا خاصا اسی کا کیس مضبوط کرتے نظر آئیں؟
قتال وہ بھی کرتا ہے قتال یہ بھی کرتا ہے۔ ایک کافر ہے اور غصب کرنے آیا ہے اور صاف ظلم وجارحیت پر ہے۔ دوسرا مسلمان ہے اور اپنا دفاع کرنے اٹھا ہے اورمحض اجتہاد پر ہے۔ آپ کی تحریر وتقریر کا زور ان دونوں میں سے کس کے خلاف ’زیادہ‘ صرف ہوتا ہے؟؟؟
اس پر خاصا سوچنے کی ضرورت ہے۔
٭٭٭٭٭
باقی گفتگو کو اب ہم چھ حصوں میں تقسیم کریں گے:
(3) جماعت ابوبصیر کی کارروائیوں کی شرعی حیثیت
(4) مزاحمتی عمل کی افادیت کے کچھ واقعاتی شواہد
(5) صبر کے مفہوم کی بابت کچھ ملاحظات
(6) دور حاضر کے چیلنجوں کے حوالے سے ’فقہِ ترجیحات‘ پر کچھ گفتگو
ان میں سے پہلے تین نقاط علیحدہ مضامین کی صورت میں اس بار کے ایقاظ میں شامل ہوں گے۔ باقی تین نقاط اگلے شمارے میں ان شاءاللہ زیر بحث آئیں گے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
(1) مانند مذاہب اربعہ ودیگر
(2) ان حضرات کے ہاں یہ عام لکھا ملتا ہے ’فقہا کو یہ غلطی لگی‘.... جی ہاں یوں مطلق فقہا، نہ کہ کوئی متعین محدث یا فقیہ۔
(3) جہاں تک عورت کے صرف ہاتھ اور چہرے کے ڈھانپنے یا نہ ڈھانپنے کا تعلق ہے تو اس پر اختلاف ائمہ سنت کے ہاں معروف ہے اور اپنے اپنے فہم کے مطابق ہر دو پر عمل کی گنجائش ہے۔ اس طرح کے مسائل جن میں فہم ادلہ کی بابت سلف اُمت کے مابین تعدد آراءرہا ہو ان میں ایک دوسرے پر تشنیع کرنا اور اختلاف کو برداشت نہ کرنا کوئی علمی رویہ نہیں اور ان امور کو ’کفر اسلام‘ کا مسئلہ بنا دینا بھی ہرگز درست نہیں۔ اوپر ہماری اس گفتگو کا ان فقہی بحثوں سے ہرگز کوئی تعلق نہیں۔ ہم نے ’سر برہنہ‘ کی بات کی ہے نہ کہ چہرے کے ڈھانپنے یا نہ ڈھانپنے کی۔
(4) اگرچہ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض لوگ ایک خاص نقطے پر پہنچ کر اس سے عین الٹ سمت بھی اختیار کر لیتے ہیں اور عصری رجحانات کے خلاف ___ بہت پڑھے لکھے ہونے کے باوجود ___ ایک شدید ردعمل کے خط میں چلتے ہیں اور پھر اس سمت میں غلو اختیار کرتے ہیں۔ شجر سنت کا ہاتھ سے چھوٹنا ہر صورت میں نقصان دہ ہے۔
(5) اس کا مطلب یہ نہیں کہ جہاد فی سبیل اللہ کی کوئی صورت، سوائے دفاعی قتال کے، اللہ کے دین میں باقی نہیں رہی۔ یہ دعویٰ کہ دین اللہ کے قیام کیلئے جہاد طلب رسول اللہ ﷺ کے دور کے ساتھ خاص تھا، مغالطوں کا ایک پلندہ ہے۔ مگر چونکہ ایسی کوئی مہم اس وقت مجاہدین اُمت کو فوری درپیش نہیں لہٰذا اس پر بحثوں کی فی الوقت اشد ضرورت نہیں۔
(6) یہ فقہاءکی مشہور اصطلاحیں ہیں۔ جہاد طلب: وہ جہاد جو آپ دشمن کے پیچھے جا کر خود اس کی سرزمین میں کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں اس کو مفتوح کرتے ہیں۔ جہاد دفع: دشمن جب آپ کے گھر پر چڑھ آئے تو اس کو دفع کرنے کیلئے ہتھیار اٹھاتے ہیں۔ جہاد نکایہ: دشمن کو کوئی ایسی زک پہنچانا کہ وہ ہوش کے ناخن لے اور اپنے ظلم وجارحیت کو روکنے یا اس میں کمی کرنے یا جارحیت کے اس سے وسیع تر منصوبے بنانے سے رکنے پر مجبور ہو جائے۔
(7) ’خروج‘ کی بحثیں بھی اسی لیے ہم یہاں نہ کریں گے کہ امت کی علمی قیادت ایسے کسی منصوبے کے زیربحث آنے کی اس وقت کوئی فوری ضرورت محسوس نہیں کرتی۔
(8) (المائدۃ: 3) ”پس تم ان کا ڈر مت رکھو، بس مجھ سے ڈرو“۔
(9) اس پر کچھ گفتگو آگے آئے گی، خصوصاً ’ضوابط‘ کے ضمن میں
(10) (البقرۃ: 251) ”اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض سے دفع نہ کرتا تو زمین میں فساد پھیل جاتا، لیکن اللہ تعالیٰ دنیا والوں پر بڑا فضل وکرم کرنے والا ہے“۔
(11) العقیدہ الواسطیہ، لابن تیمیہ، ص 47، شرح الطحاویہ 445