Download in PDF Format

قتال نکایہ.... ابوبصیر کی سنت حسنہ

حامد کمال الدین

 

’قتال نکایہ‘ عموماً ’قتال دفع‘ ہی کے ذیل میں آنے والی ایک صورت ہے مگر یہ قتال کی ایک بہت ہی خاص صورت ہے۔ ’نکایہ‘ کا مطلب ہے زک پہنچانا اور بے بس کردینا۔ یہ فوجوں کی آمنے سامنے کی روایتی جنگ سے ہٹ کر ایک اور انداز کی جنگ ہوتی ہے جس میں ایسی اسٹرٹیجک کارروائی کی جاتی ہے کہ ایک طاقتور دشمن کیلئے اس کے نتیجے میں اپنا ظلم وعدوان برقرار رکھنا دوبھر ہو جائے اور وہ اپنا اور سے اور نقصان کراتا رہنے کی بجائے آپ کو اپنے حال پہ چھوڑ دینا بہتر سمجھے یا کسی وقت مثلاً آپ کے کچھ اسیروں یا آپ کی سرزمین کے کسی حصہ یا آپ کے کسی اور مغصوب حق کو آزاد کر دینے پراپنے آپ کو مجبور سا پائے.... بصورت دیگر اس کا خون اور سے اور رستا رہے۔

’گوریلا جنگ‘ اور hit and run کے نام سے، دُنیا کی کمزور قومیں ایک طاقتور دشمن کو ہوش کے ناخن لینے پر آمادہ کر دینے کے جس اسٹرٹیجک طریقہ کار سے آج واقف ہیں اور ’طیاروں‘ اور ’میزائلوں‘ والی اس دُنیا کے اندر اس کے کچھ بہت کامیاب تجربے ہو چکے ہیں، قتال نکایہ کی ہی ایک بہترین صورت ہے۔

چیونٹی اور ہاتھی میں ویسے تو کوئی مقابلہ نہیں لیکن خدا کی اس دُنیا میں قوتِ ارادی، دلیری، حوصلہ مندی، تدبیر ومنصوبہ بندی اور ایک منظم لگاتار پیہم عمل سے بڑے بڑے ناقابل یقین واقعات ہوجاتے دیکھے گئے ہیں۔

تاریخ اسلام میں جن دو ہستیوں کے ہاتھوں یہ سنت حسنہ پہلی بار عمل میں آئی وہ ہیں حضرات ابو بصیر و ابوجندل۔ عام حدیبیہ واقعتا اس اُمت کیلئے ایک بڑی خیر لے کر آیا۔ یہ ان گنت پہلوؤں سے فتح عظیم تھی اور خدا کی ایک خاص عطاء!

من جملہ بے شمار دیگر فقہی وفنی وعسکری فوائد.... چونکہ ابوبصیر وابوجندل کی یہ کارروائیاں کسی مسلم حکومت سے سند اجازت لئے بغیر اور ’مسلم اقتدار‘ کے ساتھ کسی بھی تنسیق کی غیر موجودگی میں ہوئی تھیں اور واقعتا یہ ان دو صحابیوں اور ان کے رفقائے کار کا اپنا ہی اقدام تھا.... لہٰذا زیادہ امکان یہ تھا کہ ہمارے یہ حضرات جو سیاسی اقتدار کے بغیر قتال کی ہر صورت کو حرام اور فساد کا پیش خیمہ کہتے ہیں ابوبصیر و ابوجندل والی اس روایت کو طرح دے جاتے اور ’درایت‘ وغیرہ پر چڑھا کر یا ’عقل عام‘ سے مسترد کرا کر یا کسی اور ’منطقی اور بدیہی‘ بنیاد پر لا کر اس کی صحت کو ہی سرے سے مشکوک ٹھہراتے.... مگر ہمارے تعجب کیلئے، ان میں سے بعض حضرات اس حدیث کو اپنے موقف کی تائید میں لے کر آئے ہیں!

بہرحال اس کا فائدہ یہ ہے کہ حدیث طرفین کو قبول ہے۔ مسئلہ صرف اس کا معنی ومراد متعین کرنے کا ہے۔

اب آگے چلنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث یہاں نقل کردی جائے۔ یہ حدیث پوری نقل کریں تو کئی صفحوں پہ آئے لہٰذا یہاں ہم اس کے وہ دو حصے جو ابوجندل اور ابو بصیر کے واقعیے سے متعلق ہیں، صحیح بخاری سے نقل کرتے ہیں:

”پھر سہیل (وثیقہ لکھواتے ہوئے) بولا: ”اور اس (شرط) پر کہ تمہارے پاس جو بھی آدمی ہم میں سے آئے اگرچہ وہ تمہارے دین پر ہی ہو تم اس کو ہمیں واپس کر دو گے“ مسلمان کہنے لگے: ”سبحان اللہ! کیسے وہ مشرکین کو لوٹا دیا جائے جبکہ وہ مسلمان ہو کر آیا ہو؟“ ابھی وہ اسی حال میں تھے کہ سہیل کا اپنا ہی بیٹا ابوجندل بیڑیوں میں قید کہ چلا نہ جا رہا تھا وہاں آپہنچا۔ وہ زیریں مکہ سے آیا تھا اور اس نے آکر اپنے آپ کو مسلمانوں کے سامنے ڈال دیا۔ تب سہیل بولا: اے محمد! پہلا شخص تو یہی رہا جسے لوٹنے کا میں تم سے مطالبہ کرتا ہوں۔ نبی نے فرمایا: ”ابھی تو ہم دستاویز کی تکمیل سے فارغ نہیں ہوئے“۔ وہ بولا: ”اچھا تو پھر میرا تم سے کسی بات پر اتفاق نہ ہوا“ تب نبی نے فرمایا: ”اچھا تو پھر اس (ایک شخص) کی بابت تم مجھے چھوٹ دے دو“۔ وہ بولا: میں نہیں تمہیں چھوٹ دینے والا۔ آپ نے فرمایا: ”کوئی بات نہیں دے دو“۔ کہنے لگا: نہیں میں نہیں دینے والا۔ ایک اور شخص مکرز بولا: ہم تمہیں (30) اس کی چھوٹ دیتے ہیں۔ ابوجندل کہنے لگا: مسلمان لوگو! کیا میں مشرکوں کو واپس کردیا جاؤں گا جبکہ میں مسلمان ہو کر آیا ہوں؟ تم دیکھ نہیں رہے میرے ساتھ کیا کچھ ہوا ہے؟ اس نے خدا کے راستے میں بہت تکلیف سہی تھی....

(حدیث کا دوسرا متعلقہ حصہ)

.... پھر نبی مدینہ لوٹ آئے (وہاں) آپ کے پاس ابوبصیر آیا جو کہ قریش (بنو ثقیف) سے تھا اور مسلمان تھا۔ تب قریش نے اسے (واپس) منگوانے کیلئے دو آدمی بھیجے اور کہا: ”وہ عہد جو تم نے ہمارے ساتھ کیا!“ تب آپ نے اسے ان دونوں آدمیوں کے سپرد کردیا۔ وہ اسے لے کر چل دیے۔ راستے میں جب وہ ذوالحلیفہ (مدینہ سے تھوڑی ہی دور ایک مقام) پہنچے تو اپنے سامان سے کچھ کھجوریں کھانے کیلئے اترے تب ابوبصیر ان دو میں سے ایک آدمی کو مخاطب کرکے کہنے لگا: اے فلاں! بخدا یہ جو تمہاری تلوار ہے بڑی اچھی قسم کی لگتی ہے۔ اس دوسرے نے تلوار نیام سے نکالی اور کہنے لگا: ہاں بالکل، بخدا یہ بڑی اچھی ہے میں اس کو بار بار آزما چکا ہوں۔ تب ابوبصیر نے کہا دکھاؤ ذرا میں دیکھوں تو۔ تب ابوبصیر کا اس پر ہاتھ پڑ گیا اور اس نے ایسا اس پر وار کیا کہ اس کو تو وہیں ٹھنڈا کردیا۔ دوسرا بھاگ کھڑا ہوا اور سیدھے مدینہ آکر دم لیا۔ وہ بے تحاشا بھاگتا ہوا مسجد میں داخل ہوا۔ رسول اللہ اسے دیکھتے ہی کہنے لگے ”ضرور یہ کوئی ہول ناک منظر دیکھ آیا ہے“ وہ رسول اللہ کے پاس پہنچ کر رکا اور کہنے لگا: بخدا وہ میرے ساتھی کو مار چکا اور میں بھی اب بچنے والا نہیں۔ اتنے میں ابوبصیر آپہنچا اور بولا: اے خدا کے نبی: بخدا آپ کا ذمہ خدا نے پورا کروا دیا۔ آپ نے مجھے ان کو واپس کردیا اور خدا نے مجھے ان سے رہائی دلا دی۔ آپ فرمانے لگے: ”کم بخت: ایسا بلا کا جنگجو، اگر کہیں اسے ساتھ دینے کو کوئی مل جائے!“ جب اس نے یہ سنا تو سمجھ گیا کہ آپ تو اسے لوٹا ہی دیں گے۔ تب وہ وہاں سے چل دیا یہاں تک کہ ساحل سمندر پہ پہنچ گیا۔ ادھر کیا ہوا کہ ابوجندل بن سہیل بھی نکل بھاگنے میں کامیاب ہو گیا اور ابوبصیرکے ساتھ آملا۔ تب تو یہ ہونے لگا کہ جو بھی مسلمان قریش کے ہاں سے نکلتا وہ سیدھا ابوبصیر سے جا ملتا یہاں تک کہ ان کی ایک اچھی خاصی جمعیت بن گئی۔ تب تو بخدا وہ قریش کے جس قافلے کے بارے میں بھی سنتے کہ شام جا رہا ہے اسی کا راستہ روک کھڑے ہوتے۔ آدمیوں کو مار ڈالتے اور مال اپنے قبضے میں کر لیتے۔ تب جا کر قریش نے رسول اللہ کے پاس پیغام بھیجا جس میں خدا اور رشتہ داریوں کے واسطے دیے گئے تھے کہ حضرت ان کو بلا لیں اور یہ کہ ان میں سے جو آپ کے پاس آجائے اسے (قریش کی جانب سے) جان بخشی ہے۔ تب نبی نے ان کو بلا بھیجا“۔

 (صحیح بخاری، کتاب الشروط باب الشروط فی الجہاد مع اھل الحرب وکتابۃ الشروط، عن المسوربن مخرمۃ ومروان (عن اصحاب رسول اﷲ)

اب یہاں وَیلَ اُمِّہ مِسعَرَ حَربٍ لَو کَانَ لَہ آَحَد (31)کے الفاظ دیکھ کر ابوبصیر کے اقدامات کو نا درست قرار دے دیا گیا! یہی نہیں ان کے اس وہم میں ان کا ہم خیال نہ ہونا ’علم ونظر کا افلاس‘ بھی ہے! ابھی ہم دیکھیں گے کہ لسانِ عرب کے کن کن جہابذہ اور علم حدیث کے کن کن ائمہ کو علم ونظر کا یہ افلاس لاحق ہے! دوسروںکے فہم وعقل کا استخفاف کرنے کی بہرحال کوئی حد ہوتی ہے۔

’شرط اقتدار‘ کی بحث کے ضمن میں ایک فاضل مصنف اپنی تالیف میں ’قانونِ جہاد‘ کے تحت لکھتے ہیں:

اللہ تعالیٰ نے قریش کی طرف سے ظلم وعدوان کے باوجود زمانہ رسالت میں سیاسی اقتدار کی جس شرط (!!!) کے پورا ہوجانے کے بعد مسلمانوں کو اس کی اجازت دی، اس کے بغیر یہ اب بھی کسی مسلمان کیلئے جائز نہیں ہو سکتا“ (اس پر پھر ھامش میں لکھتے ہیں) ”اس زمانے میں بعض لوگ اس کی تردید میں صلح حدیبیہ کے بعد قریش کے خلاف ابوبصیر رضی اللہ عنہ کی غارت گری سے استدلال کرنا چاہتے ہیں۔ یہ محض علم ونظر کا افلاس ہے۔ قرآن مجید نے سورہ انفال (8) کی آیت 72 میں پوری صراحت کے ساتھ فرمایا کہ جو لوگ ہجرت کرکے مدینہ منتقل نہیں ہو سکے، ان کے کسی معاملے کی کوئی ذمہ داری رسول اللہ اور ریاست مدینہ کے مسلمانوں پر عائد نہیں ہوتی۔ پھر یہی نہیں۔ بخاری کی روایت (رقم 2731) کے مطابق خود حضور نے ابوبصیر کے ان اقدامات پر یہ تبصرہ فرمایا ہے کہ ویل امہ مسعر حرب لو کان لہ احد (اس کی ماں پر آفت آے، اسے کچھ ساتھی مل گئے، تو یہ جنگ کی آگ بھڑکا کر رہے گا) اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان اقدامات کے بارے میں آپ کی کیا رائے تھی“۔ (32)

کیا رائے تھی؟ گو یہاں ایک ’غموض‘ چھوڑ دیا گیا ہے مگر مصنف کے آپ کی اس ’رائے‘ کو اپنے موقف کے حق میں لانے کا یہ مطلب بہرحال ہونا چاہیے کہ ابوبصیر کے اقدامات کی بابت آپ کی رائے ہرگز اچھی نہ تھی۔

آج کے جہادی عمل کے جواز پر ابوبصیرکے اقدامات سے استدلال کرنے والوں میں سے شاید کسی نے بھی رسول اللہ اور ریاست مدینہ کے مسلمانوں کو ایسے کسی معاملے کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جو جماعت ابوبصیرکی بابت پیش آیا۔ بلکہ یہی تو ان کا وجہ استشہاد ہے کہ یہ ایک ’غیر برسر اقتدار  تھی۔ اپنی الگ حیثیت کی مالک تھی اور کسی ’مسلمان حکمران‘ کے تفویض کردہ اختیارات رکھے بغیر اپنے ایک جائز حق اور مصالح اسلام کی خاطر قتال کرتی تھی۔ یہ اپنی الگ آزادانہ حیثیت کیوں رکھتی تھی، ایک الگ بحث ہے۔ ’ریاست مدینہ‘ ازروئے معاہدہ اسے اپنی کمان میں لینے کی مجاز ہی نہ تھی لہٰذا اس کے ’آزادانہ‘ رہنے کا سبب خود اس کی جانب سے بہرحال نہ تھا اور نہ اسے اس پر کچھ ملامت ہے۔ شاید خدا کو ایک ایسی صورت پیدا کرنا تھی کہ عہد تنزیل میں ہی ’قتال بغیر اقتدار‘ کا ایک واقعہ پیش آجائے اورمابعد کیلئے ایک نظیر ٹھہرے۔

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جمعیت ابوبصیر’سیاسی اقتدار کی شرط‘ پوری کئے بغیر ایک خود مختار ’جہادی جماعت‘ کی طرح گوریلا کارروائیاں کرتی ہے اور کفار کو مستضعفین مکہ کا راستہ روکنے سے باز آجانے پر گھٹنے ٹکوا دیتی ہے۔ یہ اگر فساد اور ناحق خونریزی تھی کیونکہ سیاسی اقتدار کے بغیر ہوئی تھی اور ’اسلام کے نام پر‘ ہو رہی تھی، اور جو کہ چشم زدن میں تو ختم نہیں ہو گئی کہ اس پر صرف بعد از جنگ تبصرے ہی ہو سکتے ہوں.... جتنا عرصہ قافلہ ہائے قریش ان چھاپہ مار کارروائیوں کا نشانہ بنتے رہے شریعت نے ان پر کوئی نکیر کیوں نہ کی؟ مگر اس پر ہم بعد میں آئیں گے۔

اب کیا ’ویل اُمّہ مِسعر حَربٍ لو کان لہ حدً‘ کے الفاظ ان کار روائیوں کو ’خلاف شریعت‘ ثابت کر دیتے ہیں؟ اس پر کچھ دیر کیلئے رکنا پڑے گا۔

کسی کے مرد میدان ہونے کا ناقابل یقین انداز میں ذکر کرنے کیلئے قدیم عربی میں ’وَیلَ اُمَّہ مِسعَر حَربٍ‘ (33)ایک پورے باقاعدہ محاورے کے طور پر اس قدر مستعمل ہے کہ عربی کے کچھ دوسرے فجائیہ جملوں کے ایضاح کیلئے خصوصاً ’ویلک‘ یا ’ویل امک‘ یا ’ویحک‘ ایسے اسلوب کو ’لفظی معنی‘ میں نہ لیاجانے کیلئے علمائے لغت ’ویل مہ مسعر حرب‘ کامحاورہ بطور مثال بیان کرتے ہیں!

یعنی ایک تو ’ویل امہ‘ خود ہی ایک فجائیہ ہے جو کسی شخص کی ایک غیر معمولی قابلیت سے ششدر رہ جانے کیلئے یا پھر اس کے آسودہ خاطر ہو جانے کی ایک شدید خواہش کے اظہار کیلئے بولا جاتا ہے اور یہ اس قدر بکثرت مستعمل ہے کہ عربوں کے ہاں اس کا اختصار ہو کر ’وَیلُمِّہ‘ بن گیا۔ (34) مگر ’وَیلُمِّہ مِسعَرَ حَرب‘ بھی اپنی اسی پوری ترکیب کے ساتھ ایک باقاعدہ اظہاریہ ہے اور کسی کی دلیری پر دنگ رہ کر بولا جاتا ہے۔

خنساءنے اپنے بھائی کی دلیری اور مکارم اخلاق کا قصید کہا تھا:

دل علی معروفہ وجھہ

بورک ھذا ھادیاً من دلیل

تحسبہ غضبان من عزہ

ذلک خلق لا یَحَّول

ویل امہ مسعر حرب ا ذا

القی فیھا وعلیہ الشلیل (35)

اس کے آخری شعر کی شرح میں مرزوقی کہتے ہیں: وقولھا ”ویل امہ مسعر حرب“ انتصب مسعر علی المتمیز، وقد مَرَّ القول فی ویل امہ۔ والکلام تعجب وتعظیم ”خنساءکے الفاظ ’ویل امہ مسعر حرب‘ مسعر تمیز ہونے کے باعث منصوب ہے۔ ’ویل امہ‘ کی وضاحت پیچھے گزر چکی (خنساءکا یہ) کلام تعجب اور تعظیم کیلئے ہے“ ۔ (36)

یہی نہیں کہ کتب لغت اس محاورے کامطلب کسی کی جنگجوئی پر اظہار پسندیدگی وحیرت واستعجاب بتاتی ہیں بلکہ یہ ان کے نزدیک گویا ایسا طے شدہ امر ہے کہ عربی کے کچھ دیگر الفاظ وتعبیرات کی عقدہ کشائی کیلئے وہ اسے بطور استشہاد لاتی ہیں۔ یہاں اس کی دو مثالیں ذکر کی جاتی ہیں:

لسان العرب:

ھبلتہ امہ ھَبَلاً بالتحریک: ثکلتہ: قال: ھذا ھوالاصل ثم یستعمل فی معنی المدح والاعجاب یعنی ما اعلمہ وما اصوَبَ رَایَۃُ کقولہ علیہ السلام: وَیلُمِّہ مِسعَرَ حرب وقول الشاعر: ھوت امہ (37)

”ھبلتہ اُمُّہ کا مطلب ہے اس کی ماں اسے کھو دے۔ کہا: لفظی مطلب تو یہی ہے مگر یہ مدح اور اعجاب کے معنی میں مستعمل ہے۔ مراد یہ کہ کیسا زبردست کارنامے کرنے والا ہے۔ یا یہ کہ کیسی زبردست چال چل جانے پہ قدرت رکھتا ہے جیسے مثلاً حضور کے قول میں آیا ہے ’ویلُمّہ مِسعَرَ حربٍ‘ اور جیسے مثلاً شاعر کے قول میں ہے: ’اس کی ماں مرے!‘

تاج العروس:

وقد یستعمل ھَبَلَتہُ امہ فی معنی المدح والاعجاب یعنی ما اعملہ وما اصوب رایہ کقولہ علیہ السلام ویلمہ مِسعرَ حرب (38)

”اس کی ماں اسے کھوئے کا لفظ مدح اور اعجاب کے معنی میں بھی مستعمل ہے جس سے مراد ہوتا ہے کیسا یہ کر گزرنے والا شخص ہے یا یہ کہ کیسی زبردست ذہانت کا مالک ہے۔ جیسے مثلاً نبی ﷺ کا فرمانا ’ویلمہ مسعر حرب‘

کثیر احادیث ایسی ہیں جن میں ایک بظاہر بدعا کو اس کے ظاہری معنی میں نہ لینے کیلئے شارحین حدیث اسی حدیث ابوبصیر کو ’بطور مثال‘ بیان کرتے ہیں۔ چند مثالیں:

ابن بطال جو کہ بخاری کے اولین شارحین اور اندلس کے بڑے ائمہ سنت میں سے ایک ہیں عَقرَی حلقیٰ والی حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

”اصمعی کہتے ہیں: رسول اللہ کے الفاظ ’تربت یمینک‘ (خاک تمہارے ہاتھ آئے) یا تربت یداک سے مقصد ہے مخاطب کو موقع سے فائدہ اٹھانے پر ابھارنا۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ’اُن جُ ثکلتک امک‘ (بچ نکلو! تمہاری ماں بین کرے) جبکہ دراصل مراد ہوتی ہے کہ تمہاری ماں کو کہیں تمہارا بین نہ کرنا پڑ جائے!.... (ذرا آگے چل کر لکھتے ہیں) اور اہل علم کا کہنا ہے: یہ ایک کلمہ ہے جس سے مقصد بددُعا کرنا سرے سے نہیں۔ یہ صرف مدح میں مستعمل ہے۔ جیسے کسی شاعر کو بہت اچھا شعر کہتا سن کر کہہ دیتے ہیں ’قاتلہ اﷲ، لقد اجاد‘ (ستیاناس ظالم کا! ارے کمال ہی تو کردیا!) اور جیسے مثلاً کہہ دیتے ہیں ’وَیلَ امِّہ مِسعرَ حَربِ‘ (اس کو جننے والی کا ستیاناس! کیسا یہ جنگ کا سورما ہے) جبکہ کہنے والا اس پر اپنی حیرانگی کا اظہار اور اس کی مدح کر رہا ہوتا ہے۔ (بظاہر) یہ اس کی ماں کیلئے بربادی کی دُعا ہے جبکہ کہنے والے کا مقصد اس کی ماں پر غصہ سے بددُعا کرنا نہیں ہوتا۔ یہ عرب کا عام محاورہ ہے، اسی طرح جس طرح تربت یمینک کا محاورہ“ (39)

ایک اور حدیث کی شرح میں ابن بطال لکھتے ہیں:

”سیبویہ کہتے ہیں: ویلک ایک کلمہ ہے جو کسی تباہ کن صورتحال میں گرفتار شخص کیلئے بول دیا جاتا ہے۔ ویحک (بھی) بمعنی ویل ہے جو کہ کسی کے آسودہ ہو جانے کی خواہش کا اظہار ہو سکتا ہے۔

بعض اہل لغت کا قول ہے: اس سے مراد یہ نہیں کہ مخاطب کو تباہی میں پڑوانے کیلئے بددُعا کی گئی ہو! اس سے مراد ہوتی ہے مدح اور اظہار حیرت جیسے عرب کا محاورہ ہے وَیلَ امِّہ مِسعَر حرب اور یہ اس رواج کے تحت جس کی رو سے عرب، الفاظ کو ان کے لفظی معنی سے ہٹا کر دوسرے معانی میں لے لیتے ہیں جیسے مثلاً ”تمہاری ماں تمہیں روئے“ یا یہ کہ ”خاک تمہارے ہاتھ آئے“ (40)

علامہ عظیم آبادی بھی خطابی کے حوالے سے لفظ ’ویح ابن عباس‘ کی شرح میں اسی ابوبصیر والی حدیث کو بیان معنی کیلئے ’بطور مثال‘ لاتے ہیں:

”خطابی کہتے ہیں: لفظاً تو یہ بددُعا ہے مگر معنیً یہ مدح ہے اور عبداللہ بن عباس کے قول پہ اظہار پسندیدگی۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے رسول اللہ کا ابوبصیر کو کہنا ’ویل امہ مسعر حرب“ (41)

ابوحیان تفسیر البحر المحیط کے اندر اور الوسی تفسیر روح المعانی کے اندر لفظ ویل کی تفسیر میں اصمعی کا یہ قول لاتے ہیں:

”اصمعی کہتے ہیں: یہ اظہار سانحہ کیلئے بولا جانے والا لفظ ہے اور بعض اوقات اظہار شفقت ہوتا ہے، جیسے مثلاً ویل امہ مسعر حرب کے لفظ“ (42)

٭٭٭٭٭

اب ہم حدیث ابوبصیر کے کچھ اہم مقاطع، مشاہیر محدثین سے پڑھیں گے:

ابوجندل نے کہا: مسلمان لوگو! کیا میں مشرکین کو واپس کردیا جاؤں گا؟

ابن حجر (فتح الباری):

”ابن اسحاق نے یہاں اضافہ کیا: ]تب رسول اللہ نے فرمایا: ابوجندل! صبر کرو اور خدا پہ چھوڑ دو، بات یہ ہے کہ ہم وعدہ خلافی نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ لازماً تمہارے لئے اس مصیبت سے رہائی کی کوئی صورت اور چھٹکارے کا کوئی راستہ نکال دینے والا ہے[ ابوالملیح کی روایت میں ہے: ]رسول اللہ نے ابوجندل کو نصیحت کرکے رخصت کیا۔ تب عمر تیزی سے اٹھے اور ابوجندل کے ساتھ ساتھ پہلو سے پہلو ملا کر چلنے لگے۔ عمر اسے کہتے جا رہے تھے: صبر کرو یہ تو ہیں ہی مشرک۔ ان میں سے کسی کا خون کردینا اور کتے کا خون کر دینا ایک سا ہے“ کہا اور اسی دوران اپنی تلوار کا دستہ ابوجندل کے قریب کرتے جا رہے تھے۔ عمر کہتے ہیں: میں چاہ یہ رہا تھا کہ وہ میری تلوار نکال لے اور اپنے (مشرک) باپ کا کام تمام کردے۔ مگر بھلا مانس اپنے باپ پر ترس ہی کھا گیا اور معاملہ جاتا رہا[“

ابوبصیر نے کہا: اے خدا کے نبی! بخدا آپ کا ذمہ خدا نے پورا کروا دیا:

ابن بطال (شرح البخاری):

”یعنی ایک بار مجھے لوٹا کر آپ نے اپنی شرط پوری کردی۔ اب دوبارہ مجھے ان کو مت لوٹائیے۔ مگر آپ معاہدہ پر اپنے پورا اترنے میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش چھوڑنا نہ چاہتے تھے۔ چنانچہ اس بات کا تو آپ نے جواب نہ دیا البتہ اُسے وہ تدبیر سمجھا دی جس سے وہ کفار قریش سے اپنا بچاؤکر سکتا تھا۔ چنانچہ حضور کے یہ الفاظ ”اگر کہیں اسے ساتھ کو کوئی مل جائے“ ایک تعریض (اَن بولا اشارہ) تھی جو آپ نے اس کیلئے کردی۔ مراد یہ کہ اگر اسے نصرت اور منعت دینے کیلئے کوئی ساتھ ہو جائے۔ ابوبصیر بات پا گئے اور ساحل سمندر کی جانب نکل کھڑے ہوئے اور پھر تو اہل مکہ کے سر پر سوار ہو گئے بعد ازاں ابوجندل اور ایک پوری جمعیت ان کے ساتھ آملی جس سے مجبور ہو کر مشرکوں نے آپ ہی اپنی طرف سے اس شرط کو ختم کردیا اور اس بات کو قبول کرلیا کہ نبی ﷺ ہی ابوبصیر کے نکایہ سے کسی طرح ان کی جان چھڑوا دیں“۔

ابن حجر (فتح الباری):

”اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ جو مسلمان جنگ بندی کے زمانے میں دارالحرب سے بھاگ کر آئے مگر (مسلم حکومت) اپنے کسی معاہدے کی رو سے اسے واپس کر دینے کی پابند ہو تو بھی خود اس (مظلوم) مسلمان کو حق ہے کہ جو شخص اسے واپس (گرفتار) کرنے آئے اسے وہ قتل کردے۔ کیونکہ نبیﷺ نے ابوبصیر پہ عامری کو قتل کر دینے کے معاملے میں کوئی نکیر نہ کی“۔

اس کی ماں پر آفت آئے:

ابن بطال (شرح البخاری):

(خنساءکا شعر نقل کرنے کے بعد): ”معنی یہ کہ خنساءکی مراد ماں کیلئے آفت چاہنا نہیں بلکہ اس کی مراد وہی ہے جو کہ عرب کا دستور ہے یعنی الفاظ کو ان کے لفظی معانی سے پھیر کر کسی اور مفہوم میں لینا۔ خنساءکی مراد یہاں اپنی ماں اور اپنے بھائی کی مدح کرنا ہے کہ اس نے کیسا سپوت جنا جو بسالت اور شجاعت کے اس درجہ پر ہے“۔

ابن حجر (فتح الباری):

”ویسے یہ کلمہ مذمت ہے مگر عرب اسے مدح میں استعمال کرتے ہیں اس میں مذمت کا جو پہلو ہے وہ ان کا مقصود نہیں ہوتا“ (ابن حجر اس کے بعد بدیع الزمان ___ جو کہ لغت میں ایک بڑا نام ہیں ___ سے بھی اپنی اس بات کا استشہاد کرتے ہیں)

جنگ جو سورما:

ابن حجر (فتح الباری):

مسعر حرب ”خطابی کہتے ہیں: گویا رسول اللہ اس کے جنگی جرات اقدام اور گرمی کارزار کا وصف بیان کرتے ہیں “

اگر کہیں اسے ساتھ کو کوئی مل جائے:

ابن حجر (فتح الباری):

”یعنی اسے نصرت دے، اس کے بازو مضبوط کرے اور اس کا رفیق بنے۔ اوزاعی کی روایت میں ہے: ]اگر کہیں اسے کچھ آدمی مل جائیں“[ چنانچہ ابوبصیر بات پا گئے۔ اس میں دراصل اس کیلئے اشارہ تھا کہ بھاگ جائے۔ (43) تاکہ آپ کو اسے مشرکین کو پھر نہ دینا پڑے اس میں دوسرے مسلمانوں (جو ’ریاست مدینہ‘ کے تابع نہ تھے) کیلئے بھی ایک اَن بولا اشارہ تھا کہ وہ اس کے ساتھ شامل ہو سکیں۔ شافعیہ اور دیگر مذاہب کے جمہور علماءکا قول ہے کہ ایسے معاملہ میں تعریض (اشارۃً کی گئی بات) جائز ہے مگر تصریح جائز نہیں، جیسا کہ اس قصہ میں ہے۔ واللہ اعلم“

عون المعبود کی شرح میں عظیم آبادی نے کرمانی اور دیگر اہل علم کے جو اقوال نقل کئے ہیں اور اوپر جو ابن حجر کا قول ذکر ہوا ہے، ان سب کو جمع کرکے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ رسول اللہ کے ایک اتنے جملے میں مسلمانوں کی مکی اور مدنی دونوں جماعتوں کیلئے ایک بات کر دی گئی تھی۔ چونکہ مدنی ریاست کے حق میں دوران ہدنہ during the truce ’جنگ‘ ایک غدر اور فتنہ ہوتا لہٰذا یہاں کے مسلمانوں کو ’اگر کہیں اسے ساتھ کو کوئی مل گیا“ کہہ کر اس ”جنگ بھڑکا دینے والے“ کا ساتھ دینے سے متنبہ کردیا گیا۔ البتہ مکہ کے ’بے ریاست‘ مسلمانوں پر جنگ کے معاملہ میں چونکہ اس وقت نہ تو شرع کی جانب سے کوئی قدغن تھی اور نہ عُرف کی جانب سے لہٰذا عین یہی الفاظ کہہ کر ان مکی مسلمانوں کو اپنے ایک جائز شرعی حق کے تحفظ کی خاطر ابوبصیر کے ساتھ ہو جانے کیلئے ایک طرح کی توجہ دلا دی گئی۔ جبکہ خاص ابوبصیر کو یہ اشارہ دے دیا گیا کہ مدینہ میں اس کا اب کوئی کام نہیں.... اور ہر کسی نے جو اس کیلئے بات کی گئی سمجھ لی اور عین وہ کیا جو اسے کرنا چاہیے تھا!

بہرحال مکی مسلمانوں کیلئے اس جملے میں ایسی کوئی بات تھی یا نہیں، یہ کوئی اہم مسئلہ نہیں۔ ہمارا وہ موقف جو ہم نے جماھیر اہل علم سے لیا ہے اپنے ثبوت کیلئے خاص اس بات پر انحصار نہیں کرتا۔ بلکہ کئی اور امور بھی جو ہم نے یہاں استئناساً ذکر کئے ہیں، ایک تو معاملہ کی پوری تصویر دینے کیلئے ہیں اور دوسرا یہ دکھانے کیلئے کہ کبار اہل علم نے اس حدیث کو کس طرح سمجھا ہے اور جماعت ابوبصیر کے اقدام کو مذموم جاننے کی بجائے کیونکر سراہا ہے اور یہ کہ اس حدیث کو اقدامات ابوبصیر کی ’مذمت‘ میں لے کر آنا کس قدر تعجب کی بات ہونی چاہیے۔

اختتام شرح پر ابن حجر اس حدیث سے کچھ مزید فوائد استنباط کرتے ہیں:

”قصہ ابوبصیر کے منجملہ فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ (ایسے) عدوان کے مرتکب مشرک کو چپکے سے قتل کردینے کا جواز ہے۔ ابوبصیر نے جو کیا وہ غدر تصور نہیں ہوتا کیونکہ اس کا شمار ان مسلمانوں میں سے نہ ہوتا تھا جو نبی کے قریش کے سات کئے گئے معاہدے کے پابند ہوں، کیونکہ وہ اس وقت مکہ میں محبوس تھا۔ مگر جب اسے خوف لاحق ہوا کہ وہ مشرک اسے مشرکوں کے سپرکر دے گا تب اس نے اپنے تحفظ میں اس کا قتل کیا اور اپنے دین کو بچا لیا۔ اور نبی نے اس پر کوئی نکیر نہ کی۔

مزید یہ کہ جو شخص ابو بصیر کے فعل جیسا فعل کرے اس پر نہ تو قصاص ہے اور نہ دیت (ذرا آگے چل کر لکھتے ہیں) ....

دور آخر کے بعض فقہاءنے اس سے یہ بھی استنباط کیا ہے کہ مسلمان بادشاہوں میں کوئی اگر اہل شرک بادشاہوں میں سے کسی کے ساتھ متارکہ جنگ truce کر آئے مگر مسلمانوں کا کوئی دوسرا بادشاہ ان پر چڑھائی کردے ان کا جانی نقصان بھی کرے اور ان کا مال بھی غنیمت میں لے آئے تو یہ اس کیلئے جائز ہوگا۔ کیونکہ جس مسلم بادشاہ نے متارکہ جنگ کیا اس کا اتفاق نامہ اس دوسرے مسلم بادشاہ کو شامل نہیں جو کہ اس اتفاق نامہ میں شریک نہ ہوا تھا۔

مگر یہ چیز مخفی نہیں کہ یہ بات اسی صورت میں ہوگی جب (مسلم بادشاہ کے اس متارکہ جنگ میں) سب مسلم بادشاہوں کا اس معاہدہ کے پابند ہونے کا کوئی قرینہ نہ پایا جائے“ (44)

ابن القیم نے بھی ابوبصیر والی اسی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے اس آخر الذکر مسئلہ سے اتفاق کیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ شیخ الاسلام نے ملطیہ malatya کے عیسائیوں کو قیدی بنا لانے کے مسئلہ پر اس مفہوم کا جو فتویٰ صادر کیا تھا وہ ابوبصیر کے مشرکین کے ساتھ واقعہ سے استدلال پر ہی مبنی تھا۔

(دیکھئے زاد المعاد ص 478 فصل فی بعض ما فی قصۃ الحدیبیۃ من الفوائد الفقھیۃ)

٭٭٭٭

ایک مزید بات پر بھی غور فرمائیے۔

گو پیچھے فتح الباری کی عبارت میں بروایت ابن اسحاق، رسول اللہ کا ابوجندل کو دلاسہ دینا مذکور ہو چکا۔ البتہ ایک بات اس سے کہیں زیادہ قوی اور وسیع اور صریح اسلوب میں صحیح مسلم میں آئے وہ تو پھر سونے پر سہاگہ ہوا۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں یہ الفاظ آتے ہیں:

فاشترطوا علی النبی انَّ من جاءمنکم لم نُردّہ علیکم ومن جاءکم منا رددتموہ علینا۔ فقالوا یا رسول اﷲ انکتب ھذا؟ قال: ”نعم۔ انہ من ذھب منا الیھم فابعدہ اﷲ، ومن جاءنا منھم سیجعل اﷲ لہ فَرَجاً ومَخرَجاً (مسلم 3337 کتاب الجہاد والسیر، باب صلح الحدیبیۃ فی الحدیبیۃ)

”مشرکین نے یہ شرط رکھی تھی کہ تم میں سے جو (ہمارے پاس) آیا اسے ہم تمہیں نہ لوٹائیں گے اور جو ہم میں سے تمہارے پاس آیا اسے تم ہمیں لوٹاؤ گے۔ (صحابہ) نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو کیا ہم یہ بات لکھ دیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔ ہم میں سے جو ان کے پاس گیا خدا اسے پھر دور ہی کر دے۔ اور جو ان میں سے ہمارے پاس آیا خدا اس کیلئے کوئی خلاصی اور رہائی کی صورت نکال دے گا“۔

سیجعل اﷲ لہ فَرَجاً وَمَخرَجاً .... یہ واضح طور پر ایک پیشین گوئی (45) ہے جو ہم دیکھتے ہیں کہ حرف بہ حرف پوری بھی ہوئی۔ ”خدا ان کیلئے کوئی مخرج نکال دے گا“ اسلوب واضح ہے کہ یہ ایک پاکیزہ مخرج ہوگا۔ جہاں تک پاکیزگی مخرج کی بات ہے تو اس حدیث میں اور اس آیت قرآنی میں دیکھئے اسلوب کی کیسی یکسانیت ہے ومن یتق اﷲ یجعل لہ مخرجاً (الطلاق: ۲) جو خدا کا تقویٰ اختیار کرتا ہے خدا اس کیلئے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے۔

البتہ آیت کے اندر تقویٰ کی بابت ایک قاعدہ بیان کیا گیاہے اور حدیث میں جیسا کہ مضارع کے سین سے واضح ہے مکی مسلمانوں کی خلاصی کی بابت پیشین گئی کی گئی ہے جیسا کہ اس حدیث کی شرح میں امام نووی نے بھی کہا کہ یہ رسول اللہ کا ایک معجزہ ہوا کہ آپ کی فرمائی ہوئی پیشین گوئی ہوبہو پوری ہوئی۔

اب سوال یہ ہے کہ وہ مخرج جس کی رسول اللہ نے خبر دی کہ وہ خدا کی طرف سے پیدا کر دیا جائے گا.... اس ’مخرج‘ کی پھر کیا صورت رہی جو بالفعل پیش آئی؟؟؟

اس کی ظاہر ہے ایک ہی صورت رہی اور وہ ہمیں معلوم ہے کہ کیا تھی۔ اس کے بعد پھر کیا شک رہ جاتا ہے کہ جماعت ابوبصیر کی وہ کامیاب کارروائیاں ہی خدا کا وہ خاص فضل تھا اور وہ پاکیزہ مخرج تھا جس کی زبان رسالت سے پیشگی خبر دے دی گئی تھی۔

کیا یہ نبوی الفاظ سیجعل اﷲ لہ فرجاً ومخرجاً، جو صحیح مسلم میں وارد ہوئے، اس بات کے متحمل ہیں جو جماعت ابوبصیر کی چھاپہ مار کارروائیوں کی بابت ہمارے یہ حضرات ذہنوں میں بٹھانا چاہتے ہیں؟

٭٭٭٭٭

اور پھر سوال تو یہ بھی اٹھتا ہے کہ رسول اللہ نے ایک اتنا جملہ بول کر اور وہ بھی ایسا جملہ جس سے بڑے بڑے محدثین اور علمائے لغت تک ’غلط فہمی‘ میں پڑ جائیں کہ رسول اللہ نے ابوبصیر کے قتل پر کوئی نکیر نہیں کی (بلکہ استعجاب فرمایا ہے).... ایک اتنا جملہ بول کر اتنا سارا عرصہ مسلمانوں کی اس بے ریاست مکی جماعت ان جنگی کارروائیوں پر کوئی ردعمل ظاہر نہ کیا؟ (46)

آپ لوگ بھی تو ہیں جن پر اُمت کے سب طبقوں کو راہ راست دکھانے کی ویسی ذمہ داری بھی نہیں جیسی رسول اللہ پر تھی۔ اُمت کے سب طبقے آپ کی بات سننے اور ماننے کے شرعاً ویسے پابند بھی نہیں جیسے رسول اللہ کی بات ماننے کے پابند تھے۔ اس کے باوجود آپ حضرات جہادی جماعتوں کو غلط ٹھہرانے اور ان کو اپنے منہج پر نظرثانی کی دعوت دینے پر سینکڑوں کالم اور مضمون لکھ لینے کو بھی شاید کافی نہ سمجھتے ہوں اور اپنی اس بات کو پھیلانے پر اچھی خاصی ابلاغی محنت کرتے ہوں.... کیا یہ بات عجیب نہیں کہ رسول اللہ اپنے دور کی ایک ’جہادی جماعت‘ جو کہ کسی مسلم ریاست کی کمان میں نہیں لڑ رہی تھی اور جن کے ہاتھوں اسلام کے نام پر ’خونریزی‘ کی ایک غلط مثال پڑ رہی تھی، یہ اس تمام تر عرصہ نظرانداز کیئے رہیں؟! کم از کم بھی جہادی جماعتوں پر ’اتنی زیادہ‘ تنقید نہ کرنے کی دلیل تو ضرور ہی اس واقعہ میں ملتی ہے!

کتنی عجیب بات ہے کہ رسول اللہ ہرقل اور پرویز اور مقوقس وغیرہ ایسے ملک ہائے دور دراز بیٹھے بادشاہوں کی ہدایت کیلئے تو بے چین ہوں اور ان کو دعوتِ حق کے نامے ایلچیوں کے ہاتھ دے دے کر روانہ کریںجبکہ اپنے پڑوس میں اسلام کے نام پر ایک ایسا غلط واقعہ ہوتا رہنے دیں کہ جس کی بعد ازاں ہمیشہ کیلئے ریت پڑ جائے اور اپنے ان اصحاب کی ہدایت کیلئے کچھ نہ کریں۔ پھر ایسا بھی نہیں کہ رسول اللہ ان اصحاب کو کوئی نامہ وایلچی بھیجا جانے کے قابل نہ سمجھتے ہوں۔ رسول اللہ کا ایلچی واقعتاً اس جماعت کے پاس گیا، مگر کب؟ اس کا جواب ہم سب جانتے ہیں!

کہا جاتا ہے رسول اللہ کا نامہ مبارک ابوبصیر کے پاس پہنچا تو ابوبصیر پر بیماری مرگ طاری تھی اور موت کے وقت ابوبصیر نے حضور کا وہ نامہ مبارک اپنے ہاتھوں میں تھام رکھا تھا۔ ایک روایت کی رو سے، جو بہت مستند نہیں، ابوجندل نے اس یادگار جگہ پر ایک مسجد کی بنیاد رکھی۔ پھر یہ جماعت مدینہ چلی آئی اور اس کے کچھ لوگ اپنے اپنے ٹھکانوں کو چلے گئے۔ ابوجندل دور عمر میں جہاد شام کے اندر شہید ہوئے۔

جتنے بھی تذکرے آپ کو کتب حدیث وسیرت و تاریخ میں اس جماعتِ پاک طینت کے ملتے ہیں اچھے خاص عقیدت بھرے اور ستائش آمیز ملتے ہیں۔ جبکہ یہ جماعت سوائے اس ایک واقعہ کے، کسی اور حوالے سے تو تاریخ اسلام میں جانی ہی نہیں جاتی! ایسا بھی نہیں کہ صحابہ میں افراد یا جماعتوں سے غلطیاں نہیں ہوئی اور یہ اُمت ایسی نہیں جو عقیدت کی رو میں کسی غلط کو ناغلط کے رنگ میں ہی پیش کرتی جائے۔ کوئی ایک کتاب تو ایسی ہو جو اس کو ایک ناپسندیدہ واقعہ یا ایک غلط فہمی کا شکار جماعت کے طور پر ذکر کرے!

ان حضرات کا یہ کہنا کہ بخاری کی حدیث سے یہ واضح ہے کہ ابو بصیر کے اقدامات کی بابت حضور کی کیا رائے تھی.... سوال یہ ہے کہ حضور کی یہ رائے کیا ابوبصیر کو بھی معلوم تھی یا نہیں؟؟؟ آخر یہ رائے حضور نے ابوبصیر ہی کے سامنے تو ظاہر کی تھی!!!

سلسلہ واقعات کو ذرا تصور میں لائیے.... ایک صحابی مفلوک الحال سینکڑوں میل چل کر حضور کی خدمت میں پہنچ کر ہجرت کی سعادت حاصل کرتا ہے.... چلئے ’پہلا قتل‘ تو وہ جیسے کیسے ’شرعی مغالطے‘ میں پڑ کر کر بیٹھتا ہے، مگر اس کے بعد وہ اپنے اس فعل پر حضور کی ’واضح رائے‘ سنتا ہے مگر یہی نہیں کہ وہ اپنے اس پہلے قتل پر پشیمان نہیں ہوتا بلکہ ’قتل وغارت‘ کا ایک پورا سلسلہ شروع کرنے نکل کھڑا ہوتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ مستضعفین مکہ کی ایک پوری جماعت (47)کو اپنے مشن میں شریک کر لیتا ہے اور تب تک دم نہیں لیتا جب تک طواغیت قریش کا غرور خاک میں نہیں ملا دیتا! اس کے بعد یہ جماعت رسول اللہﷺ کے ایک حکم پر سب کچھ چھوڑ کر مدینہ چلے آنے میں ہرگز کوئی پس وپیش نہیں کرتی!

بجائے اس کے کہ جماعت ابوبصیر کو ہی دین کے کسی اصول یا فروع کی بابت ’مغالطے‘ کا شکار مانا جائے۔ ’مغالطے‘ کا اغلب امکان اپنے ان اصحاب کے منہج کی بابت مان لیا جانا کیا کہیں زیادہ قرین قیاس نہیں جس میں جگہ جگہ صحابہ وسلف کے فہم کو مطعون ٹھہرانا پڑتا ہے اور جس کے کئی ایک مقدمات دورِ اول کے کئی ایک مسلمات کو مشکوک ٹھہرائے بغیر کہیں فٹ ہی نہیں بیٹھتے؟!

 

(1) ضوابط جن کی مسلم اقتدار کے دور سقوط میں مسلح مزاحمت کے حوالہ سے پابندی کی جانا ضروری ہے تاکہ یہ فساد نہ بنے۔

(2) تاسیس اُمت کے ابتدائی نبوی مرحلہ پر قیاس کرتے ہوئے مسلم مقبوضہ جات کی مزاحمت کو ’حرام‘ کہنا کہاں تک درست ہے؟

(3) جماعت ابوبصیر  کی کارروائیوں کی شرعی حیثیت

(4) مزاحمتی عمل کی افادیت کے کچھ واقعاتی شواہد

(5) صبر کے مفہوم کی بابت کچھ ملاحظات

(6) دور حاضر کے چیلنجوں کے حوالے سے ’فقہِ ترجیحات‘ پر کچھ گفتگو

ان میں سے پہلے تین نقاط علیحدہ مضامین کی صورت میں اس بار کے ایقاظ میں شامل ہوں گے۔ باقی تین نقاط اگلے شمارے میں ان شاءاللہ زیر بحث آئیں گے۔

 

حاشیہ

30) مکرز صلح کی شرائط کے وقت موجود تھا اور آپ نے اس کی بابت فرمایا تھا کہ بڑا ہی دھوکے باز ہے (فاجر) چھوٹ دینے سے مراد یا تو آپ کی ہمدردی لینا اُس کے پیش نظر تھا یا پھر بیڑیوںسے ابوجندل کو آزاد کرنا۔ اور فی الواقع انہیں بیڑیوں سے آزاد کرکے ایک خیمے میں بند کردیا گیا تھا۔

(31) مِسعَرَ حَربٍ میم کی زیر، سین کی سکون اور عین کی زبر کے ساتھ۔ بیشتر علماءلغت اور شراح حدیث نے اس کی یہی تشکیل کی ہے یعنی اسم آلہ جس کے آدمی کیلئے استعمال کے باعث اس میں مبالغہ کا معنی آجاتا ہے اور اقدام کے باب میں عرب اس صیغہ مبالغہ کو عام استعمال کرتے ہیں جیسے مِحَشّ، مِکَرّ، مِفَرّ، مِقوَل، مِصقَع (دیکھئے خزانۃ الادب۔ عبدالقادر البغدادی ج ۱ ص 362، باب الحال) صرف چند ایک ہی نے اس کو مُسعِر (فاعل از باب اِفعال) پڑھا ہے۔ ابن اسحاق وغیرہ کی روایت میں لفظ مِحَشَّ کی بھی یہی تشکیل ہے یعنی میم کی زیر، حاءکی زبر اور شین مشدد۔ باعتبار اسم آلہ

بیشتر شارحین لغت وحدیث نے مِسعَرَ اور مِحَشَّ کو منصوب قرار دیا ہے باعتبار تمییز۔ بعض علماءلغت، تمییز کو تفسیر اور تبیین بھی کہتے ہیں۔ یعنی اس سے پہلے یا تو آپ مِن استعمال کرتے ہیں تاکہ آپ اپنی پہلی بات کے مقصود کی ’دقت‘ کے ساتھ تحدید اور تبیین کر دیں اور اگر مِن استعمال نہیں کرتے تو پھر یہی کام آپ اس کلمہ کو منصوب کرکے لیتے ہیں۔ مثلاً یا تو آپ کہیں گے ﷲ درُّک مِنعالمٍ ورنہ کہیں گے ﷲ درُّکَ عالماً (واہ! کیسے زبردست عالم ہو) (دیکھیے شرح ابن عقیل علی الفیۃ ابن مالک ج ۱ ص 668) پس اس جملہ کو نحوی طور پر تمییز مان کر ترجمہ میں اس کا اسلوب فجائیہ رکھنا پڑے گا نہ کہ خبریہ۔ کیونکہ ویلمہ عربی کے اندر دراصل ایک فجائیہ ہے اور استغراب یا استعجاب یا تحسین کیلئے مستعمل ہے اور مِسعَرَ حَربِ اس استغراب یا استعجاب یا اس تحسین کے مقصود کی تبیین (مِسعرَ حربِ) استغراب یا استعجاب میں ایک طرح سے ویل امہ کے مقصود کی تحدید ہے۔ چنانچہ ایک تو اسم آلہ اور پھر تمییز ”جنگ کی آگ، جلد بھڑکا کر رہے گا“ کے بجائے کچھ ایسا اسلوب کہ ”کیسا جنگ کو تاؤ دے دینے کی صلاحیت رکھنے والا ہے“ زیادہ صحیح مفہوم دے گا۔ اﷲ اعلم

مِسعَرَ یا محش لغوی طور پر اس لاٹھی کیلئے مستعمل ہے جو ایندھن کو بھٹی میں جھونکنے کیلئے کام میں لائی جاتی ہے اور جو کہ آگ کو خوب الٹ پلٹ کرتی ہے

(32) میزان تالیف جاوید احمد غامدی(245-244)

(33) دیکھئے القاموس المحیط (ج 3 ص 181 مادۃ ویل)

(34) اس کے تحت فیروز آبادی لکھتے ہیں: وَیلُمِّہ ایک (داھ¸) بہت ہی تیز طرار آدمی کیلئے بول دیتے۔ مستجاد یعنی کمال کی داد دیے جانے والے (شعر) پر بھی ویلمَّہ بولتے ہیں۔

(35) ”اس کی سخاوت اور خوش فعلی تو اس کے چہرے سے ہی عیاں ہے۔ آفرین اس کمال صورت کے جو اپنی دلیل آپ ہے۔ عزت اور وقار ایسا کہ تم سمجھو غضب ناک ہے۔ یہ خوبصورت ادا اس سے کبھی جاتی ہی نہیں ماں رے، یہ سورما! اسے دیکھو جب یہ زرہ پوش جنگ میں لڑتا ہے

(36) دیکھئے لسان العرب (11: 685) مادۃ ویل

(37) دیکھئے شرح دیوان الحماسہ (باب المدح)

(38) دیکھئے تاج العروس (ص 7583) مادہ ھ ب ل

(39) دیکھئے شرح ابن بطال للبخاری حدیث (5691)

(40) دیکھئے شرح ابن بطال للبخاری، کتاب الادب

(41) دیکھئے عون المعبود بہ ذیل کتاب الحدود باب الحکم فیمَن ارتدّ

(42) دیکھئے تفسیر البحر ا لمحیط اور روح المعانی بہ ذیل آیت 79سورہ بقرہ

(43) یعنی ہم تیرے کسی کام نہ آئیں گے (ازروئے معاہدہ)

(44) شرح ابن بطال، فتح الباری، عون المعبود وغیرہ کے یہ سب حوالے مذکورہ حدیث کی شروحات میں دیکھے جا سکتے ہیں

(45) زبان رسالت سے یہ قبل از وقت پیشین گوئی ہو جانے کے باعث ابن حزم ابن العربی اور دیگر اہل علم نے استدلال کیا ہے کہ حدیث ابوجندل وابوبصیر سے کسی مسلم موحد شخص کو غیر مسلم قوت کے سپرد کر دینے کی دلیل لینا قطعی غلط اور باطل ہے۔ کیونکہ رسول اللہ کو بذریعہ وحی خبر دے دی گئی تھی کہ ان مسلمانوں کو خدا کی جانب سے انتظام کرکے صاف بچا لیا جائے گا۔ لہٰذا کوئی بھی مسلم حکمران جسے مستقبل کا علم نہیں نبی کے بعد اس بات کا مجاز نہیں ہو سکتا کہ وہ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ کہنے والے ایک شخص کو بے رحم سنگدل کافروں کے سپرد کردینے کا کوئی معاہدہ کر آئے اور پھر اپنے اس معاہدہ پر حدیث ابوبصیر کو ایک دلیل کے طور پر پیش کرے۔ ملاحظہ کیجئے الاحکام فی اصول الفقہ لابن حزم جلد 5 کی ابتدا میں شروط کا مبحث ص 22، احکام القرآن لابن العرب بہ ذیل آیت 10 سورۃ الممنحۃ مسئلہ نمبر 12)

ابن حزم اور ابن العربی کے اس استدلال کی وجاہت آپ سے آپ واضح ہے البتہ اصل بوالعجبی تو یہ ہے کہ اس حدیث سے اس اندھیرناکی پر دلیل لی جائے کہ مسلم ملکوں کے اندر آج کی طاغوتی حکومتیں مسلم موحد مجاہدوں کے خلاف خود بھی کارروائیاں کرنے لگ جائیں! حدیث ابوبصیر اپنی شرح سمیت اوپر گزر چکی۔ ذرا تصور کیجئے کہ ریاست مدینہ جماعت ابوبصیر پر چھاپے اور شب خون مارنے نکل پڑتی اور ان کو بوریوں میں بند کرکے قریش کے سپرد کرنے کے عوض ڈالر لے کر آتی! خدایا گمراہی سے تیری پناہ

(46) یہ عرصہ آپ غور فرمائیے تو اچھا خاصا بنتا ہے۔ قریش کے قافلہ ہائے تجارت کسی تیز رفتار ڈیزل انجن کے ذریعے مسافت طے نہ کرتے تھے کہ ابوبصیر اور ان کی جماعت کو پل بھر میں اپنی چھاپہ مار کارروائی کو کر دکھانا ہوتا تھا

(47) بیشتر روایات کی رو سے اس جماعت کی تعداد ستر تک پہنچتی ہے، البدایہ والنہایہ میں تین سو تک بتائی گئی ہے