Download in PDF Format

تاسیس اُمت کے ابتدائی نبوی مرحلہ پر قیاس کرتے ہوئے آج مسلم مقبوضہ جات کی مزاحمت کو حرام کہنا کہاں تک درست ہے؟

حامد کمال الدین

 

ایک بات اس باب میں آپ ائمہ علم کے ان تمام حوالوں میں ملاحظہ فرمائیں گے خواہ وہ ’نسخ‘ کی بحث کے دوران ہو، یا سیرت کے وقائع کے بیان میں، خواہ آیات صبر اور آیات قتال کی تفسیر میں اور خواہ کسی اور سیاق میں.... کہ ’ضعف اور قوت‘ یا ’قلت اور کثرت‘ یا ’عجز اور قدرت‘ وغیرہ تو مناطِ مسئلہ کے طور پر اس باب میں اہل علم کے زیر بحث آئے ہیں اور حالات کی مناسبت وعدم مناسب بھی ان کا موضوع بنی ہے مگر ’سیاسی اقتدار‘ قائم ہو جانے کی ’شرط‘ اس ضمن میں شاید کسی ایک عالم نے بھی بیان نہیں کی۔

یہ دعویٰ گو ابتدائً ایک قول محدث innovation ہے مگر مابعد ادوار پر اس قطعیت کے ساتھ اس شرط کے لاگو ہو جانے کو واجب اور شریعت بنا دینا تو اس سے بھی بڑا محدث ہے، جس کی رو سے قیامت تک کیلئے کسی بھی وقت مسلمانوں کی حکومت کا سقوط ہوتے ہی ’مکی حالت‘ کے نفاذ کا اعلان ہو جائے!

مختصراً .... مناط مسئلہ قتال پر قدرت یا عدم قدرت ہے اور یا پھر قتال کا کسی دیے گئے حالات میں، بوجوہ، مناسب حال ہونا یا نہ ہونا۔ جس کا فیصلہ وقت کے میسر اہل علم و اہل حل وعقد کریں گے نہ کہ مناط مسئلہ سیاسی اقتدار کا پایا جانا یا نہ پایا جانا.... یاد رہے موضوع بحث قتال دفع ہے۔

ضوابط جن سے جہاد فساد نہ بننے پائے، پر پیچھے بات ہو چکی اور وہاں ہم یہ بھی ذکر کر آئے کہ کئی ادوار میں جب ’اقتدار‘ کی شرط پوری ہوتی تھی، کئی ایک مفاسد تب بھی پائے گئے اور اب جب یہ ’شرط‘ پوری نہیں ہو رہی، ان مفاسد پر مسلم قوتوں کا کہیں بہتر قابو ہے۔ لہٰذا یہ اگر کوئی مسئلہ ہے تو اس کا تو حل مناسب حد تک ممکن ہے اور اس کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے لیکن ’اقتدار‘ اگر شریعت کی جانب سے قتال کیلئے ایسی کوئی شرط ہے جیسی نماز کیلئے وضو پھر ایک اور بات ہے اور تب ہم پوچھیں گے کہ شریعت نے یہ ’شرط‘ کہاں لگائی ہے؟ بہرحال یہاں ہم اس پر کچھ بات کریں گے۔

آگے چلنے سے پہلے اور علمائے شریعت کے اقوال نقل کرنے سے پیشتر.... ایک لفظی الجھاؤ کا امکان ختم کر دیا جانا ضروری ہے۔

مفسرین کا استعمال کردہ لفظ ’قدرت‘ اور ہمارے ان احباب کے ذکر کردہ ’سیاسی اقتدار قائم ہو جانے‘ کی تعبیر اپنے مفہوم میں نہ تو ایک ہیںاور نہ حتی کہ لازم وملزوم۔ فرق واضح ہے۔ ہو سکتا ہے آپ قتال پر قدرت رکھتے ہوں جیسا کہ جماعت ابوبصیر کو قدرت تھی یا جیسا کہ ویتنامیوں کو امریکیوں کے خلاف قتال پر قدرت حاصل ہوئی یا جس طرح افغانیوں کو روسیوں کو نکال دینے پر قدرت ہوئی اور ان شاءاللہ امریکیوں کو نکال دینے پر بھی ہوگی.... بغیر اس کے کہ یہ اپنی ’حکومت‘ رکھتے ہوں۔ چنانچہ ہو سکتا ہے آپ کسی وقت ’قتال پر قدرت‘ رکھتے ہوں مگر ’اقتدار‘ نہ رکھتے ہوں۔ دوسری طرف ہوسکتا ہے آپ ’اقتدار‘ رکھتے ہوں مگر دشمن سے ’قتال پر قدرت‘ نہ رکھتے ہوں جیسے مثلاً کوئی ڈیڑھ عشرہ پیشتر کویتی ’حکومت‘ صدام کی افواج کے بالمقابل ’قدرت قتال‘ نہ رکھتی تھی اور اسی وجہ سے وہ راتوں رات سعودیہ میں جا بیٹھی اور اگر اس وقت امریکہ نہ ہوتا تو سعودیہ بھی شاید اسی حکم میں آتا۔ یا مثلاً اندلس میں آخر عہد کی وہ مسلم حکومتیں جو ایک عرصہ عیسائیوں کی باجگزار رہیں اور پھر آخرکار مفتوح ہو گئیں وغیرہ.... چنانچہ مفسرین کے کلام میں اس مغالطہ کی گنجائش نہیں خصوصاً جبکہ وہ ’عدم قدرت‘ سے متصل ’قلت عدد‘ کا لفظ بھی عموماً استعمال کرتے ہیں۔

اب ہم قیام اُمت کے اس ابتدائی مرحلے پر کچھ گفتگو کریں گے جب ابھی اُمت پر قتال فرض نہ ہوا تھا بلکہ اسلام کے بہت کچھ شرائع ابھی نہ اترے تھے اور جب اس صفحہ ہستی اور کتاب تاریخ میں جنم لینے والا ایک نیا حسین واقعہ اپنی اٹھان کے کچھ طبعی مراحل سے گزر رہا تھا۔

٭٭٭٭٭

دفع شر انسانی جبلت کا حصہ ہے اور شاید خیر کی طلب سے بڑھ کر طاقتور جذبہ ہے۔ جو چیز آپ کے ہاتھ کبھی نہیں آئی اس کو پانا بھی انسان کی طبیعت ہے مگر ایک ہاتھ آئی چیز کو چھن جانے دینا تو اسے ہرگز قبول نہیں اور اس کیلئے بہت کچھ کر گزرنے پر تیار ہو جانا ایک نارمل اور صالح فطرت انسان میں ہرگز اچھنبے کی بات نہیں۔ یہ ایک ایسا معلوم انسانی واقعہ ہے اور صرف شرعی نہیں بلکہ ایک ایسا عقلی مسلمہ ہے کہ دُنیا کی سب قومیں اس پر اصولاً متفق ہیں۔ آج ہر قوم کا یہ حق تسلیم کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی جان مال اور زمین کے تحفظ میں کسی غاصب کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔ (20)

’دفع صائل‘ چنانچہ اسلام میں ہرگز مذموم نہیں بشرطیکہ یہ ردِ عدوان کی حدود سے تجاوز نہ کرے۔

اسلام نے انسان کے جائز جذبوںکو دبایا ہے اور نہ غلط ٹھہرایا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہ ان جذبوں کے عمل میں آنے کیلئے کچھ ضوابط ٹھہرا دیئے ہیں تاکہ یہ کسی فساد اور انتشار کا سبب نہ بنیں۔ مزید یہ کہ بعض عظیم مقاصد کے حصول کیلئے کچھ جائز جذبوں کی قربانی کا بھی کسی وقت تقاضا کر لیا جاتا ہے۔

جہاں تک اول الذکر کا تعلق ہے یعنی ایک جائز انسانی جذبہ بھی ہو تو اس کے روبہ عمل آنے کیلئے کچھ ضوابط کا ہونا، تو اس پر پیچھے کچھ بات ہو چکی ایک بڑی فوج سے چند آدمیوں کا الجھ پڑنا چاہے وہ جان مال اور زمین کے تحفظ کیلئے ہو ایک نادرست کارروائی ہے الاَّ یہ کہ وہ کسی وسیع اور منظم منصوبے کا ایک چھوٹا سا حصہ ہو اور اس کے باقی حصے اپنی اپنی ترتیب سے اور اپنے اپنے وقت پہ آنے والے ہوں مسلم جماعت کے امور کو چند افراد کا اپنے ہاتھ میں لے لینا اور اُمت کو متاثر کرنے والے مسائل میں کسی ایک آدھ شخص کے ’فتوی‘ پر کارروائیاں ہونے لگنا ایسی چیزیں ہیں جن کی اجازت بہرحال نہیں دی جا سکتی۔ دفع شر جائز بھی ہے تو ایک چھوٹے شر کو دفع کرتے کرتے ایک بڑے شر کو دعوت دے آنا ناجائز ہی رہنا چاہیے۔ البتہ یہ کہ کونسا شر چھوٹا ہے اور کونسا بڑا، کونسا شر یقینی ہے اور کونسا محتمل اور اگر کوئی شر آپ کے نزدیک بڑا ہے تو وہ کسی اس سے بھی بڑے شر کو روک دینے کیلئے اختیار کر لینا ضروری ہے یا نہیں؟ ان سب باتوں کا تعین ___ خلافت کی غیر موجودگی میں ___ اُمت کے اہل علم، اہل اختصاص وتجربہ اور اہل حل وعقد کا کام ہے۔

جہاں تک ثانی الذکر کا تعلق ہے یعنی کچھ عظیم مقاصد کیلئے بعض جائز جذبوں کی قربانی تو یہ بھی کئی ایک صورتوں میں واجب متعین ہو جاتا ہے۔ رشتے ، ناتے، مال، دولت، بہت سے جائز حقوق کچھ بلند وبہ اشرف اہداف کے حصول کی خاطر کسی وقت چھوڑنے پڑ جاتے ہیں۔

٭٭٭٭٭

تاسیس اُمت کا ابتدائی مرحلہ:

کچھ ایسا ہی معاملہ وحی کے ابتدائی دور میں جماعت مسلمہ کو درپیش تھا۔ منجملہ متعدد امور.... اعداءکے ظلم وتشدد کا جواب دینے کی بھی ایک عرصہ تک وہ جماعت مجاز نہ تھی۔ یہ جماعت دراصل تاریخ اُمت کے اخص الخاص مرحلے سے گزر رہی تھی۔ کائنات کی ایک بہت بڑی حقیقت کچھ مقدس نفوس کے اندر جنم لے رہی تھی۔ گنتی کے یہ چند نفوس تھے اور شاید خدا کی حکمت تھی کہ بہت ابتدا میں یہ ایک دم سینکڑوں میں نہ ہوں تاکہ مربی اعظم ان میں سے ایک ایک پر وقت صرف کرے اور یوں اس کے ہاتھوں ایک چیز ایک خاص انداز اور خاص ترتیب اور خاص رفتار سے تیار ہو۔ شاید خدا کی حکمت تھی کہ ان میں جو اضافہ ہو وہ بھی بہت دھیرے دھیرے ہو تاآنکہ کچھ سالوں کے اندر یہ ایک خاص صورت اختیار کرلے۔

”جیسے ایک کھیتی ہو جس نے پہلے کونپل نکالی، پھر اس کو سہارا دیا، پھر گدرائی، پھر اپنے تنے پر کھڑی ہو گئی، کاشتکاروں کے دلوں کو موہتی ہوئی تاکہ وہ ان سے کافروں کے دل جلائے“ سورۃ الفتح: 29

ایک ایسی فصل کاشت کی جا رہی تھی جس کے صحیح صحیح اُگ آنے پر بنی نوع آدم کی قیامت تک کی باقی ماندہ نسلوں کے حقیقت ایمان پانے کا انحصار تھا۔ ایک ایسے دور کا حجر اساس رکھا جار ہا تھا جس میں انسانی عقل ودانائی کو ترقی کے ساتویں آسمان تک پہنچنا تھا۔

قرآن کا انسانی پیکروں میں ڈھلنے کا واقعہ تاریخ میں پہلی بار ہو رہا تھا اور اس کو کچھ اس شان سے ہونا تھا کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ایک معیار ٹھہرے کہ سب اپنے آپ کو پھر اسی سے ماپیں۔

دارالارقم بن ابی الارقم کی فضاؤں میں گویا کائنات تھم گئی تھی کہ پھر اس کو کسی اور ہی سمت چلنا تھا۔ وہ سب کچھ جو وہاں ہو رہا تھا الفاظ میں آہی نہیں سکتا، چشم تصور میں کسی حد تک اس کی ایک تصویر بنائی جا سکتی ہے۔

اس سطح کی ایمانی حقیقت کو انسانی وجود سے برآمد ہونے کیلئے ایک آخری درجے کی یکسوئی درکار تھی۔ اس کیلئے نماز اور زکوٰۃ کی بہت سی تشریعات تک موخر رکھی گئیں۔ روزہ اور حج ایسے ارکان اسلام تک مابعد مراحل کیلئے اٹھا رکھے گئے۔ تفاصیل احکام اور جزئیات مسائل میں جانے سے گریز کرایا گیا۔ ہر طرف سے ان کی توجہ کم کرا کر اس مرحلہ میں لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ کی حقیقت پر ہی مرکوز کر دی گئی اور طویل سجود وقیام اور مواسات مسکین اور مکارم اخلاق کا ہی عرصہ تک ان کو پابند رکھا گیا۔

شاید کچھ دیر کیلئے ضروری تھا کہ صبح شام کی محنت کیلئے صرف قرآن ہو، سابقین اولین کے قلوب ہوں اور پڑھانے والا نبی خاتم المرسلین ہو اور کئی سال یونہی گزرجائیں!

بیج ’ڈالا‘ نہیں بلکہ ’تیار‘ کیا جا رہا تھا۔ اُمت کی آئندہ سینکڑوں ہزاروں نسلوں کے قلب وذہن اور شعور وادراک کیلئے ایک درست ترین سمت اور گوشت پوست پر مشتمل ایک صاحب ایمان کا دائمی انسانی معیار تشکیل دیا جا رہا تھا۔ تاریخ کے صالح ترین اور زور دار ترین ریلے کو اس کی دقیق ترین جہت دی جانا تھی اور اس کا وقت ابھی تھا.... کہ فکر وعمل اور روح وتہذیب کے اس دھارے کو پھر صدیوں کی فاصلہ پیمائی پر روانہ ہو جانا تھا۔ خط کی سیدھ اپنے زاویے سے پھوٹتے وقت ہی تشکیل پاتی ہے اور جس قدر اس کو بعد ازاں طول ملنا ہو اُسی قدر اہم یہ ہوتا ہے کہ اس کا زاویہ ابتدا میں نہایت دقت کے ساتھ گھڑا گیا ہو۔

لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ کی حقیت نفوس میں تشکیل پا رہی تھی اور بعد کے جملہ انسانی نشاط کو اسی لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ سے برآمد کرنے کیلئے اور عبادت کے ہر فعل میں اسی لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ کی کیفیت بھر دینے کیلئے ’اعمال‘ کو ایک ایک کرکے ہی آنا تھا۔ اس کیلئے ایک خاص فضا چاہیے تھی.... جو بیک وقت بہت سی سرگرمیوں کی متحمل نہ تھی۔

یہ تو اس دین کے مٹھی بھر حاملین کا معاملہ تھا۔

دوسری طرف عرب کا جاہلی ماحول تھا جسے لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ کی دعوت سے پہلی بار واسطہ پڑا تھا۔ قرآن جیسی کتاب انہوں نے کبھی دیکھی نہ سنی۔ مر کر جی اٹھنے اور خدا کے آگے جواب دہ ہونے کا ان کے ہاں تصور تک نہ تھا۔ طاغوتوں کی پیروی چھوڑ کر خدائی شریعت کا پابند ہو رہنے کی دعوت ان کیلئے ایک اچھنبا تھی۔ وہ اس کو اپنے معاشرتی ڈھب کے حق میں ایک خطرہ محسوس کررہے تھے اور صدیوں سے چلتے آئے باپ دادا کے راستے کیلئے اس میں موت کا پیغام صاف پڑھ رہے تھے۔ یہ دعوت ’عسکری‘ طور پر ضرور اس وقت پُرامن تھی مگر ’نظریاتی‘ طور پر یہ ان کے معاشرے پر بُری طرح حملہ آور تھی اور قریب قریب ہر گھر میں گھس چکی تھی اور وہ اس کے مدمقابل اپنے اچھے اچھے لوگ کھو رہے تھے۔ اس کامقابلہ کرنے کیلئے وہ ظلم وتشدد کے سوا کوئی راہ نہ پاتے تھے اور اس میں آخری حد تک چلے جانے پر تیار تھے۔ مگر اس دعوت کو ابھی تک قلتِ تعداد کا مرحلہ درپیش تھا۔ اس کو بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ ابھی ان میں سے اور آدمی کھینچنے تھے تاآنکہ یہ دعوت ایک خاص حجم کو پہنچ جائے۔ تشدد کرنے والوں میں سے نہیں تو آس پاس کے دیگر قبائل سے کچھ صالح لوگ اس کے ہاتھ آجائیں جس کے نتیجے میں اس دعوت کا وزن صرف مکہ میں نہیں پورے جزیرہ عرب میں محسوس کیاجانے لگے.... تاآنکہ قدسیوں کی اس منفرد ترین جماعت کے ذریعے خدا کو انسانی دُنیا میں جو کرانا ہو وہ روبہ عمل ہو جائے.... مزید برآں یہ کہ گردوپیش میں سب پر خدائی حجت قائم ہو جائے۔

یوں ایک طرف ایک نئی اُمت کی پیدائش ہو رہی تھی جس کو ایک مختصر ترین عرصے میں اپنا ابتدائی وجود مکمل کرکے پھر کرہ ارض میں ہر سو پھیل جانا اور عالم انسان کا سب سے مرکزی واقعہ بن کر قیامت کیلئے ناقابل تسخیر ہو جانا تھا.... اور دوسری طرف جاہلی معاشرے میں ایک بالکل نئی حقیقت کو پہلی بار متعارف کرانے کیلئے وہ وقت دیا جا رہا تھا جو کہ ایک اتنی بڑی تبدیلی کیلئے معاشروں کو بالکل ابتدا میں بہرحال درکار ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ کئی اعتبارات considerationsاور ہو سکتے ہیں جو متقاضی ہوں کہ ان مٹھی بھر نفوس کو ازروئے وحی پابند کردیا جائے کہ ان پر تشدد وزیادتی ہو تو بھی یہ اپنا حق جانے دیں اور کچھ دیر اپنے جائز انسانی جذبوں تک کی قربانی کریں تاکہ وہ خدائی منصوبہ جس کا صرف خدا کو علم تھا اپنی اس نوبت کو پہنچے جب ان کو ظلم کے خلاف اقدام کی کھلی اجازت دے دی جائے بلکہ خصوصی خدائی نصرت کے ذریعے پچھلی سب کسریں تک نکلوا دی جائیں.... اور پھر یہ جماعت دنوں میں زمین کے مشارق ومغارب پر چھا جائے۔

اس بات کی صحت پر کہ یہ ایک خاص خدائی منصوبہ تھا جس کا علم رسول اللہ تک کو شاید نہ تھا، متعدد شواہد ملتے ہیں۔

رسول اللہ جو بات یقینی طور پر جانتے تھے وہ یہ کہ اس مشن میں آپ کو جو کوئی بھی اقدام کرنا ہے خواہ وہ ’قتال‘ تو کیا آپ کا یا آپ کے اصحاب کا ’ہجرت‘ (22) کرنا کیوں نہ ہو اس کا آپ کو حکم دے کر یا اجازت دے کر ’بتا دیا‘ جائے گا۔ یہاں تک کہ بعض مفسرین نے یہ تک ذکر کیا کہ جب تک آپ کو کہا نہیں گیا آپ نے دعوت دینا تک شروع نہیں کی! یعنی ابتدائے اسلام کا ایک عرصہ ’قتال‘ تو کیا ’دعوت‘ کے بھی بغیر گزرا ہے۔

تھوڑے بہت ردعمل کی بابت صحابہ  کی جانب سے کبھی کسی جوابی اقدام کی اجازت طلب کی بھی گئی تو رسول اللہ کی جانب سے صرف اتنا کہا گیا لم او مر بھذا (23) ”مجھے اس بات کی ہدایت نہیں کی گئی“۔ ’سیاسی اقتدار قائم ہو جانے‘ کی قطعی اور حتمی ’شرط‘ پوری نہ ہوئی ہونا، اس صراحت کے ساتھ جو ہمارے ان اصحاب کے ہاں ٹیپ کے مصرعے کی طرح ذکر ہوتی ہے اور شریعت کے مسلمّات کی طرح بیان ہوتی ہے، واقعتا اور اسی انداز سے ’شریعت‘ میں ہوتی تو معلّم شریعت کو تعلیمِ شریعت کا ایک زبردست موقعہ تھا۔ تب آپ کو یہ فرما دینے میں کیا مانع تھا کہ خدا کے بندو ابھی کیا ہمارے پاس اقتدار ہے جو جوابی اقدام کریں! ہمارے ان اصحاب پر آج جو ’شرط‘ آسانی سے واضح ہو گئی اس کو یوں مبہم رکھا جانے کی تب کیا وجہ ہو سکتی تھی! حتی کہ اذن قتال مل جانے کے بعد بھی یہ ’راز‘ نہیں کھولا گیا کہ معاملہ دراصل ’اقتدار‘ نہ ہونے کے باعث موخر تھا! جبکہ ہمارے یہ بھائی ایک تسلسل کے ساتھ اس کو ابجدیات شریعت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں معاملہ نہ صرف ’اقتدار‘ نہ ہونے کے باعث موخر تھا بلکہ ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے یہ اس بات کو بھی ’قانون شریعت‘ ٹھہراتے ہیں کہ اسلام کے کسی خطے میں ’اقتدار‘ کے اندر انقطاع آجائے تو معاملہ باقاعدہ ’یوٹرن‘ ہو رہے گا! اور یہ کہ مسلمانوں کو اس خطے میں فی الفور مکی حالتِ ضعف نافذ ہو رہے گی۔

چنانچہ ہمارے لئے یہ تو ایک درست اور محتاط طرز عمل ہو سکتا ہے کہ جماعت صحابہ کی تشکیل کے ابتدائی سالوں میں قتال کی جو ممانعت تھی ہم وہ خدائی حکمتیں تلاش کریں جو اس وقت اس ممانعت کے پیچھے کارفرما ’ہو سکتی‘ تھیں اور پھر ان کی روشنی میں اس زبردست خدائی منصوبہ کی ستائش کریں جو اس اُمت کو برپا کرتے وقت عمل میں آیا۔ البتہ یہ درست نہیں کہ جب شریعت نے صراحت سے اس بارے میں کچھ نہیں کیا ہم ایک بڑے ہی حتمی اور قطعی انداز میں ایک بات اپنے ہی اندازے سے کر ڈالیں اور قیامت تک کیلئے ___ اُمت کے جان، مال، آبرو، دین اور سرزمین کے تحفظ میں ہتھیار اُٹھانے کے ممانعت میں اپنے اس ’اندازے‘ کو ’شریعت‘ کی عائد کردہ صریح ’شرط‘ قرار دیں۔

علاوہ ازیں یہ بھی ایک درست اور محتاط طرز عمل ہو سکتا ہے کہ ہم اس سے جس قدر اسباق اور فوائد کشید کر سکتے ہوں کریں اور دعوت، تعلیم، تربیت اور تعمیر معاشرہ کے عمل میں ان سے بھرپور کام کرلیں مگر یہ کہ شریعت کو اپنے اندازے سے کوئی ایسی بات اٹھوانے لگیں جو کہ شریعت نے اس دور اور اس مرحلے کی بابت جو جماعت مسلمہ کو ابتدائے وحی کے ایام میں درپیش تھا، نہیں کی.... درست طرز عمل نہیں۔

اس شدت اور جزم کے ساتھ کہ گویا یہ شریعت میں حتمی اور طے شدہ قانون ہے جس میں ’اختلاف‘ اور ’تعدد آرائ‘ تک کی گنجائش نہیں رہ گئی.... اس شدت اور جزم کے ساتھ سلفِ اُمت نے ایک بات نہیں کی یا یوں کہیے سلف اُمت نے اس فیصلہ کن اسلوب میں ایک بات ’سرے لگائے‘ بغیر چھوڑ دی تو اس کا سبب شریعت کی بابت ان کا ’علم‘ تھا نہ کہ کم علمی اور وحی کے ساتھ تعامل کا ’ادب‘ اور ’درست طریق کار‘ تھا نہ کہ قلتِ تحقیق یا نقصِ تفکیر یا عدم توجہ!

جب آپ کسی چیز کو شریعت میں ’قانون‘ اور ’قاعدہ کلیہ‘ کے طور پر ذکر کرتے ہیں تو اس سے پہلے یہ دیکھ لینا بہت ضروری ہے کہ سلف اُمت نے اسے کس طرح لیا ہے اور تاریخی طور پر جماہیر اہل علم کے ہاں وہ بات کس انداز اور کس حیثیت میں ’معروف‘ رہی ہے۔ ’حدیث‘ پر تو ’سنت‘ کا اسٹیٹس پانے کیلئے کڑی شرطیں عائد کر دی جائیں اور آپ کے ’اندازوں‘ پر ’قانونِ جہاد یا قانونِ دعوت‘ کا رتبہ پانے کیلئے سوائے آپ کے اپنے ہی ’اندازے‘ کے کوئی شرط نہ ہو!

٭٭٭٭٭

مسئلہ قتال کا ’دار‘ کے ساتھ تعلق:

’دار‘ (territory) کا مسئلہ ابھی پورے کا پورا باقی ہے....

ایک خطہ ارض کا باقاعدہ طور پر اہل اسلام سے منسوب ہو جانا بھی ’مسئلہ مزاحمت‘ کے ساتھ اچھی خاصی حد تک متعلق ہے۔ ایک خطہ پر مسلمانوں کا حق ابھی معروف ہی نہیں تو وہاں ’مزاحمت‘ کا تصور کیونکر کیا جا سکتا ہے؟ مکہ میں ابھی یہ صورتحال پیدا نہ ہوئی تھی البتہ مدینہ کو ’دارالاسلام‘ یعنی ’سرزمین اسلام‘ کی حیثیت مل گئی تھی (جیسا کہ آگے چل کر آپ ابن کثیر کے کلام میں دیکھیں گے)

’دار‘ یعنی خطہ ارضی جو آپ کے وجود اور آپ کی بالادستی اور آپ کے شعائر دین اور آپ کے دستور وآئین سے منسوب ہو جائے.... بھی قتال کے حوالے سے فقہا کی ایک کثیر تعداد کے اقوال میں مذکور ہوا ہے۔ جماعت صحابہ کو اذن قتال ملنے کے حوالے سے بھی ’دار‘ کا ذکر کچھ پیشگی لوازمات کے طور پر واقعتا ائمہ سنت کے کئی ایک اطلاقات میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ پس یہ بھی اس ضمن میں ایک صالح اعتبار ہوسکتا ہے۔

شاید یہاں یہ دیکھ لیا جانا فائدہ مند ہو کہ ’دار‘ اور ’اقتدار‘ آیا ہم معنی وہم اطلاق ہیں؟

’دار‘ اپنی مثالی حالت میں یقینا ’اقتدار‘ کو بھی شامل ہے۔ یعنی اول الذکر بہ نسبت ثانی الذکر ایک وسیع تر تصور ہے اور یہ دونوں ’ہم معنی‘ بہرحال نہیں۔ یوں سمجھئے جیسے ایک ’ملک‘ ہوتا ہے اور ایک ’حکومت‘۔ باوجود اس کے کہ ’ملک‘ میں اس کی اپنی ہی ‘حکومت‘ ہونا ’بھی‘ ضروری ہے مگر کسی وقت ہو سکتا ہے ’ملک‘ تو ہو مگر ’حکومت‘ نہ ہو جیسے مثلاً صومالیہ کئی سال بغیر حکومت کے رہا مگر اس کے ایک ’ملک‘ ہونے پر اس وجہ سے حرف نہیں آیا۔ پھر کسی وقت ہو سکتا ہے ایک ’ملک‘ پر کسی دوسرے کی ’حکومت‘ ہو جیسے مثلاً ’ملک‘ الجزائر پر خاصا عرصہ فرانس کی ’حکومت‘ رہی اور اول الذکر اس بات کا جواز بنا کہ ثانی الذکر کا خاتمہ ہو یعنی ’ملک‘ الجزائر پر فرانس کی ’حکومت‘ کا خاتمہ کرنے کیلئے ’قوم‘ الجزائر ’آزادی‘ کی جنگ لڑے چاہے اس’بیرونی اقتدار‘ پر سو سال کا عرصہ کیوں نہ بیت گیا ہو! پس ’دفاع‘ کیلئے بنیاد اور دلیل ’ملک‘ بنا نہ کہ ’حکومت‘۔ اسلام کی اصطلاحات ’قومی‘ ہونے کی بجائے ’نظریاتی‘ ہیں مگر اسلامی قاموس میں ’دار‘ اور ’امام‘ کے مابین اس پہلو سے عین وہی فرق ہے جو علمِ سیاسیات میں ’ملک‘ اور ’حکومت‘ کے مابین پایا جاتا ہے۔

چنانچہ ’دار‘ جب اپنی مثالی حالت پہ قائم ہو تو اس وقت یقینا یہی فرض ہے کہ وہاں جنگ وامن کے جملہ معاملات ’مسلم اقتدار‘ کی سرکردگی میں ہی انجام دیے جائیں مگر سوال یہ ہے کہ کسی وقت کسی خطہ اسلام میں مسلمانوں کا ’اقتدار‘ نہ رہے تو اس خطہ سے ’دارالسلام‘ کی صفت کیا ساقط اور کالعدم ہو جائے گی اور کیا کسی خطہ ارض کا دارالاسلام مانا جانا وہاں مسلم اقتدار کے قائم رہنے سے مشروط ہے؟ شاید کوئی بھی اس کا جواب ہاں میں نہ دے۔ (24)

حقیقت یہ ہے کہ ائمہ دین ہی نہیں ائمہ سیکولرزم بھی مسئلہ ’سرزمین‘ کی بابت ایسے کسی سوال کا جواب ہاں میں نہیں دیں گے۔

جہاں تک فقہائے سیکولرزم کے اعتبارات کا تعلق ہے تو جیسا کہ ہم ابھی کہہ چکے ایک خطہ ارض اگر ایک قوم اور دستور سے منسوب ہے تو خواہ کچھ بھی ہو جائے وہ اسی کی سرزمین مانا جائے گا۔ مثال کے طور پر ویتنام پر امریکیوں کا ناجائز قبضہ ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں ویتنامیوں کا ’اقتدار‘ بھی جاتا رہتا ہے.... تب بھی دُنیا کے سب سیکولر معیاروں کی رو سے ’سرزمین ویتنام‘ کی صفت اس سے ساقط نہ ہوگی۔ ایسی حالت میں ’اقتدارِ ویتنام‘ کی ’غیر موجودگی‘ ویتنامیوں کے اٹھ کھڑے ہونے میں ’مانع‘ نہیں ہوگی بلکہ یہ تو الٹا اس بات کا ’جواز‘ ہوگی کہ ویتنامیوں کو اپنا دستور اور اپنا قبضہ اور اپنا اقتدار اور اپنی بالادستی بحال کرانے کیلئے ہتھیار اٹھانے پڑیں تو ہتھیار اٹھا لیں۔

یہ ہے فرق ’سرزمین‘ اور ’اقتدار‘ کا.... سیکولر اعتبار سے۔

جہاں تک فقہائے اسلام کے اعتبارات کا تعلق ہے تو کوئی خطہ اگر ایک بار اسلام کی سرزمین تصور ہو جاتا ہے اور اس میں شعائر اسلام کی بالادستی ہو جاتی ہے تو وہاں کسی بیرونی جارحیت کے باعث مسلم اقتدار کا سقوط تو کیا اگر وہاں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے تو بھی اس سے ’دارالاسلام‘ کی صفت سلب نہ ہوگی اور اُمت اسلام کو اس کا ایک ایک چپہ واگزار کرانے کیلئے اور وہاں اسلام کے دستور اور اسلام کے اقتدار کو بحال کرانے کیلئے ___ کچھ متعین ضابطوں کا پابند رہتے ہوئے ___ آخر دم تک لڑنے کا حق ہے۔ یہ بات اہل کفر کے خلاف ہتھیار اٹھانے کیلئے ایک ’شرعی جواز‘ ہوگی نہ کہ ایک ’شرعی مانع‘!

یہ ہے فرق ’دار‘ اور ’اقتدار‘ کا.... اسلامی فقہی اعتبار سے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک بہت بنیادی فرق ہے۔

ہجرت سے پہلے کی آپ جو بات کر رہے ہیں وہاں تو ابھی دارِ اسلام یعنی سرزمین اسلام کا قیام ہی عمل میں نہ آیا تھا۔ وہاں زندگی اجیرن ہو جانے کی صورت میں مکہ سے مسلمانوں کا ہجرت کر جانا ہی بنتا تھا نہ کہ مکہ کا کنٹرول لینے کیلئے ہتھیار اٹھا لینا! (جہاں تک ’جہاد دفع‘ کا تعلق ہے) البتہ تاریخ اُمت کے دور زوال میں زیادہ سے زیادہ کچھ ہوا تو وہ مسلم ’اقتدار‘ کا خاتمہ تھا نہ کہ مسلم ’دار‘ کا خاتمہ۔ خاص اس پہلو سے بھی دیکھیں تو آج دارِ اسلام میں جو محض سقوط اقتدار کی حالت درپیش ہے اس کو آپ مکہ کی اس ابتدائی حالت پر کیسے قیاس کر سکتے ہیں جب ابھی دارالاسلام یعنی سرزمین اسلام ہی وہاں وجود میںنہ آئی تھی؟ پھر جبکہ آپ تو اسے ’قیاس‘ بھی نہیں شریعت کی قطعیات وکلیات کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اس کو سکہ بند’قانون جہاد‘ بتاتے ہیں۔

اس کو اگر آپ اپنے چند اصحاب کا ایک قیاس یعنی اندازہ کہیں تو یہ کہیں بہتر ہو، اگرچہ ہے یہ قیاس مع الفارق۔

کسی مسلم خطے میں مسلم اقتدار کی غیر موجودگی وہاں دارالاسلام کی ایک ناقص اور معیوب حالت ضرور شمار ہوگی مگر اس کے باعث دارالاسلام وہاں کالعدم تصور نہ ہوگا۔ اسلام کے کئی ایک خطوں میں کوئی صورتحال آج اس وقت درپیش ہے تو زیادہ سے زیادہ وہ ایک ’ناقص اور معیوب دارالاسلام کا پایا جانا‘ ہے نہ کہ ’دارالاسلام کا کلیتاً غیر موجود ہونا‘۔ یعنی آج ہمیں اول الذکر صورت درپیش ہے جبکہ مکہ کے اندر ثانی الذکر صورت درپیش تھی.... کہ وہاں ’اقتدار‘ تو کیا ’دار‘ ہی نہ تھا۔

پس ’دار‘ کے حوالے سے بھی یہ دونوں صورتیں ایک سی نہیں۔ جبکہ اُمت اسلام کی آج کی حالت اور مکہ کی ابتدائی حالت میں فرق پائے جانے کی کئی اور جہتیں اس سے پہلے بیان کر دی گئیں اور کچھ ابھی آگے بیان ہوں گی۔

بے شک آپ فقہاءکے ہاں پائے جانے والے ’دارالاسلام‘ کے تصور ہی کو تسلیم نہ کرتے ہوں (جبکہ ہمارے نزدیک یہ حق ہے) مگر الزامی طور پر بھی آپ یہ نہیں کر سکتے کہ فقہاءکے کلام میں ’دار‘ کا لفظ دکھا دینے کو ’اقتدار‘ کی شرط کا ثبوت سمجھیں۔ اس سے کوئی چیز ثابت ہوگی تو وہ آج کی صورت حال کے مکی صورت حال پر قیاس کا مع الفارق ہونا ہے۔

٭٭٭٭٭

’اجتہاد‘.... نہ کہ ’توقیف‘:

مناطِ مسئلہ پس ’استطاعت‘ اور ’مصالح‘ ہیں نہ کہ کچھ اور۔ ہاں ان دو بنیادوں پر قتال آج بھی کسی وقت ممنوع ٹھہر سکتا ہے۔ جماعت مسلمہ کی مکی صورتحال پر قیاس کیلئے ’یہ‘ البتہ کسی وقت ایک درست اعتبار ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ ہم ائمہ سنت کے اقوال میں ملاحظہ کریں گے۔

حالت ماقبل قتال پر علمائے اسلام کی گفتگو میں عام طور پر آپ یہ دیکھتے ہیں کہ کہیں اس کو ضعف اور قلت عدد کے تحت تفسیر کیا گیا ہوتا ہے اور کہیں حالات کی عدم مناسبت یا عدم احتیاج کے تحت۔ ان دونوں ہی بنیادوں پر اسلامی قیادت آج بھی کسی جگہ کفوا ایدیکم (25) کا حکم لاگو کر سکتی ہے اور کسی جگہ اذن للذین یقاتلون بنہم ظلموا (26) کا اور کہیں فقاتلوا ائمۃ الکفر (27) کا۔

یہاں البتہ احکام صبر واعراض اور احکام قتال و ردِ عدوان کے حوالے سے مسئلہ نسخ کی وضاحت ضروری ہو جاتی ہے جسے جہادی طبقوں میں پائے جانے والے کچھ انتہا پسند رحجانات نے الجھا دیا ہے۔ اس طوالت پر ہماری معذرت....

حقیقت یہ ہے کہ ’الجھاؤ‘ جب بھی آتا ہے وہ اُمت میں فہم دین کے تاریخی تسلسل سے ہٹ کر دین سمجھنے کی کوشش کے باعث ہوتا ہے خواہ وہ جہادی طبقوں میں پائی جانے والی انتہای پسندی کے زیراثر ہو اور خواہ جہاد گریز طبقوں میں پائی جانے والی انتہا پسندی کے زیر اثر.... مگر اس پر ابتدا میں ہم کچھ بات کر آئے ہیں۔

اس الجھاؤ کی گنجائش یہاں سے پائی گئی کہ ’نسخ‘ کی تعریف دراصل علمائے متاخرین کے ہاں عین وہی نہیں جو متقدمین کے ہاں رہی، جس میں کہ حرج کی کوئی بھی بات نہیں۔ لامشاحۃ فی الاصطلاح۔ حقائق میں اختلاف نہ کیا جا رہا ہو تو تعبیرات اور اصطلاحات کا فرق نقصان دہ نہیں.... بشرطیکہ مسئلہ اہل علم میں رہے اور ناپختہ لوگوں کے ہاتھ نہ چڑھے۔

متقدمین کے ہاں شریعت کے ایک مسئلہ میں کسی قسم کی ’پیشرفت‘ development آجانے پر لفظ نسخ کا اطلاق ہو جاتا ہے خواہ وہ پہلے حکم شرعی کو مکمل طور پر ہٹا کر اس کی جگہ ایک نیا حکم شرعی لانا ہو (جو کہ متاخرین کی تعریف کی رو سے ’نسخ‘ شمار ہوتا ہے) اور خواہ وہ ایک عام کی تخصیص ہو یا ایک مطلق کی تقیید یا ایک مجمل کا بیان وتفصیل۔ جبکہ متاخرین کے ہاں ’تخصیص‘ یا ’تقیید‘ اور ’تفصیل‘ وغیرہ مستقل بالذات اصطلاحات ہیں اور ’نسخ‘ کی اصطلاح ان کے ہاں صرف اور صرف اس بات کیلئے مستعمل ہے کہ ایک حکم کو ہٹا کر اس کی جگہ ایک نیا حکم لے آیا گیا ہو۔

امام ابن القیم فرماتے ہیں:

”ناسخ اور منسوخ سے عامۃ السلف کی مراد کسی وقت تو یہ ہوتی ہے کہ پہلا حکم بالکلیہ زائل کردیا گیا ہے ___ جو کہ متاخرین کی اصطلاح ہے ___ اور کسی وقت یہ کہ ایک عام یا ایک مطلق کی دلالت (اپنے پہلے حال پر) نہ رہنے دی گئی جس کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ایک عام کی تخصیص کر دی گئی ہو یا ایک مطلق کی تقیید عمل میں لا کر اسے مقید پر محمول کرتے ہوئے (پہلے کی نسبت) زیادہ کھول کر بیان کردیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ وہ لوگ کسی حکم کے اندر استثناءآجانے یا اس میں کسی شرط کے لاگو ہونے یا اس میں کسی وصف کا اضافہ ہوجانے تک کو ’نسخ‘ کہہ دیتے تھے“۔

(اعلام الموقعین ج 1 ص 28، فصل: کراھۃ العلماءالتسرع فی الفتوی، المراد بالناسخ والمنسوخ)

امام شاطبی ___ جو کہ امام شافعی کے بعد علم اصول میں ایک بہت بڑا نام مانے جاتے ہیں___ لکھتے ہیں:

”متقدمین کے کلام سے جو بات ظاہر ہوتی ہے وہ یہ کہ نسخ جب ان کے ہاں مطلق ذکر کیا جاتا ہے تو اس میں اصولیوں کی تعریف کی نسبت کہیں زیادہ عمومیت پائی جاتی ہے۔ کیونکہ متقدمین ایک مطلق کی تقیید کر دینے کیلئے بھی نسخ کا لفظ استعمال کرتے تھے اور ایک عام کی تخصیص کر دینے کو بھی نسخ بول دیتے تھے ___ چاہے وہ دلیل متصل کے ساتھ کی گئی ہو یا دلیل منفصل کے ساتھ ___ اور ایک مبہم مجمل کے کھول دیے جانے کو بھی نسخ کہہ دیتے تھے اور ایک حکم شرعی کو دلیل متاخر لا کر ختم کر دینے کو بھی نسخ بولتے تھے۔ کیونکہ یہ سب صورتیں ہی ایک خاص معنی میں آپس کے اندر مشترک ہیں“۔

(الموافقات ج3 ص 81 فصل فی الاحکام والنسخ، المسئلۃ التالتہ: النسخ عندالسلف)

چنانچہ ہمارے کچھ جذباتی اصحاب نے متقدمین اہل علم کی عبارتوں میں جہاں کہیں یہ دیکھا کہ ’آیت السیف (28) نے کفار کے ساتھ صبر واعراض کا حکم دینے والی آیات کو منسوخ کردیا ہے‘ بلکہ یہ بھی کہ ’آیت السیف نے قتالِ دفاع والی آیات تک کو منسوخ کردیا ہے، تو انہوںنے اس سے یہ سمجھا کہ صبر و اعراض اب ہمیشہ کیلئے ’منسوخ‘ ہے اور یہ کہ قتالِ دفع کا حکم بھی دین میں اب بالکل باقی نہیں رہا صرف جہاد طلب باقی ہے۔ لہٰذا ’صبر و اعراض ‘ تو اب ہو گا ہی نہیں ’دفاع‘ بھی اگر ہوگا تو وہ ’طلب‘ کے باب سے ہوگا!

چنانچہ ان لوگوں نے عبارتیں متقدمین سے لیں اور اصطلاحیں متاخرین سے۔ گویا زید کی بات کو بکر کی زبان میں لیا۔ اول الذکر کی عبارت کو ثانی الذکر کی اصطلاح میں سمجھا اور ایک بڑا مغالطہ پیدا کرکے ہمارے کچھ مخلص جہادی نوجوانوں کو تھما دیا.... جو کہ جہاد گریز طبقوں کے ہاں پھر ایک اور بھی بڑے ردعمل کا سبب بنا۔

ہونا یہ چاہیے تھا کہ متقدمین کی اس عبارت کو، کہ آیت السیف نے صبر وبرداشت والی آیات کو یا قتال دفع والی آیات کو منسوخ کردیا ہے، یہ لوگ متقدمین ہی کی اصطلاح میں سمجھیں جس کی رو سے ’منسوخ‘ کا لازماً یہ مطلب نہیں کہ اس کا حکم اب کسی بھی صورت میں باقی نہیں رہا بلکہ اس کا مطلب ان کے نزدیک یہ ہو سکتا ہے کہ اس حکم میں بعد ازاں ایک ’پیشرفت‘ development کردی گئی ہے اس معنی میں کہ بعد ازاں یا تو اس کو کچھ متعین حالات کے ساتھ خاص کردیا گیا ہے اور اس سے مختلف حالات کیلئے اب یہ باقی نہیں رہا۔ یا یہ کہ اس کی بابت کچھ زیادہ مفصل ہدایات دے دی گئیں یا یہ کہ اس کو اب ویسے پہلے کی طرح مطلق نہیں رہنے دیا گیا بلکہ کسی اور بات سے مقید کردیا گیا ہے وغیرہ وغیرہ.... اس سے یہ مراد ہونا ضروری نہیں کہ آیاتِ صبر کا حکم مکمل طور پر اور قیامت تک کیلئے شریعت میں ختم کردیا گیا ہے۔

یعنی متاخرین کی تعریف کی رو سے یہ سرے سے نسخ نہیں کیونکہ متقدمین کی اصطلاح اس امر میں مانع نہیں کہ کچھ خاص صورتوں اور حیثیتوں میں پہلی آیات کا حکم باقی رہے۔

اس بنا پر فقہاءکے نزدیک قتالِ طلب کی آیات آنے کے باوجود نہ تو آیات صبر اس معنی میں منسوخ ہیں کہ ان احکام کی میعاد اب ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جاتی رہی اور نہ ہی قتال دفع والی آیات۔ سب کا حکم اپنی اپنی جگہ باقی ہے اور بدلتے حالات میں جو صورتحال جس حکمت عملی کا تقاضا کرے وہی اس وقت قرآن کا مطلوب ہوگی۔ کسی وقت صبر کرنا پڑے تو آیات صبر اس معاملہ میں لاگو ہوں گی اور کسی وقت رد عدوان کیلئے لڑنا پڑے تو قتالِ دفع والی آیات لاگو ہوں گی اور کسی وقت قتالِ طلب ضروری ہو تو قتالِ طلب والی آیات لاگو ہوں گی۔

مقصد یہ کہ صبر وبرداشت اور پھر قتال و صف آرائی کے باب میں نازل ہونے والی آیات ایک دوسرے کو اس طرح منسوخ نہیں کرتیں جس طرح مثلاً سود یا شراب کے موضوع پر پائی جانے والی آیات جن میں کہ بعد والے حکم نے پہلے والے حکم کو بالکل ہی ختم کردیا ہے اور اب صرف اس موضوع پر نازل ہونے والا آخری ترین حکم یعنی سود اور شراب کی قطعی تحریم ہی ہمیشہ کیلئے باقی رہ گیا ہے جبکہ آیات صبر و قتال کا تعلق حالات اور مصالح سے ہے اور اہل علم کسی دی ہوئی صورتحال میں اس کے مناسبِ حال حکم تجویز کرکے اُمت کو دے سکتے ہیں۔

بنا بریں جب بھی اُمت کے اہل علم اور اہل حل و عقد قتال کے بجائے مسلمانوں کے پرامن رہنے کو ہی کہیں پر اقتضائے مصلحت سمجھیں تو اس بات کی دلیل سنت وجماعت کے مکی دور سے اور قرآن کی آیاتِ صبر واعراض سے لینا ایک درست اعتبار ہوگا۔

پس یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے۔ نہ تو صرف اور صرف ’صبر‘ کیئے رہنا شریعت کی توقیف ہے جیسا کہ ایک طرف کے انتہا پسند سمجھتے ہیں اور نہ صرف اور صرف ’قتال‘ کرنا شریعت کی توقیف جیسا کہ دوسری طرف کے انتہا پسند سمجھتے ہیں۔ لہٰذا مزاحمت یا عدم مزاحمت کا فیصلہ کرنا کسی دور یا کسی خطہ میں اب اہل علم کا کام ہے۔

’اجتہادی مسئلہ‘ کہنے سے البتہ بعض لوگ کوئی ’نفلی‘ قسم کی چیز سمجھتے ہیں! اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں، اجتہادی مسئلہ کہنے سے ہماری مراد یہ ہے کہ ہر خطے کے صرف اہلِ علم کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ کسی جگہ ’صبر‘ کرنا شریعت کا منشا سمجھتے ہیں اور اُسے واجب قرار دیتے ہیں یا قتال ہی کرنا اُن کے ہاں واجب ٹھہرتا ہے۔ چنانچہ یہ سب باتیں اور یہ سب اعتبارات ہم ائمہ علم کی نقول میں دیکھیں گے عمومی طور پر مناطِ مسئلہ ground for determining the relevent rule حالات (جن میں استطاعت بھی آتی ہے) ہیں اور مصالح۔ جن کا تعین کرنا اجتہاد کہلائے گا۔ البتہ خاص اس تعین کے کرنے میں غلطی بھی ہو سکتی ہے اور صواب بھی۔ غلطی کی صورت میں مغفرت کا وعدہ ہے اور ساتھ ایک اجر کا بھی اور صواب کی صورت میں دو اجر کا۔

اب یہاں ہم اہل علم کی چند نقول ذکر کریں گے۔

البرھان فی علوم القرآن کے مولف امام زرکشی لکھتے ہیں:

”(نسخ کی) تیسری قسم: اور وہ یہ کہ ایک چیز کا حکم دیا جانے کا کوئی سبب ہو اور بعد ازاں وہ سبب باقی نہ رہے۔ مثال کے طور پر جس وقت (مسلمانوں کو) ضعف اور قلت تعداد لاحق تھی اس وقت صبر کا اور اس بات کا حکم دیا جانا کہ خدا کی ملاقات پر ایمان نہ رکھنے والوں سے درگزر کرتے رہیں۔ اسی طرح امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا (اول) واجب نہ ہونا، جس کو کہ بعد ازاں ان چیزوں کے وجوب نے منسوخ کردیا۔ یہ چیز حقیقت کے اندر نسخ نہیں۔ یہ ہے نسئ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اوننسئھا (”یا ہم اس کو مواخر رکھتے ہیں“) چنانچہ مَنسَا (یعنی جو حکم کسی اور قسم کے حالات کیلئے موخر رکھا گیا) وہ تھا قتال کا حکم تاآنکہ مسلمان قوت پکڑ لیں۔ جبکہ حالتِ ضعف میں اذیت پر صبر کرنے کا ہی حکم رہے گا۔

اس بات کے تحقیق ہو جانے کے بعد اس رائے کا کمزور ہونا بخوبی واضح ہو جاتا ہے جسے کہ کئی ایک قرآن کی تفسیریں کرنے والے اپنا بیٹھتے ہیں اور وہ یہ کہ جن آیات میں (اعداءکے ساتھ) نرمی برتنے کا حکم دیا گیا ہے وہ آیت سیف سے منسوخ ہیں۔ جبکہ یہ بات درست نہیں۔ درحقیقت یہ منسا ہے۔ اس معنی میں کہ ہر وہ حکم جو آگیا ہے وہ کسی نہ کسی وقت واجب العمل ہو سکتا ہے اپنی اس خاص علت کی بنیاد پر جو اس حکم کے عمل میں آنے کی مستوجب ہے۔ البتہ جب وہ علت ہی اس حال سے کسی اور حال میں بدل جائے گی تو وہ حکم بھی اس حال سے کسی دوسرے حال میں بدل جائے گا، جو کہ نسخ نہیں۔ نسخ وہ ازالہ ہوگا جس کی رو سے کبھی کیلئے بھی اس حکم پر عمل جائز نہ رہے۔

اسی اصول کی جانب امام شافعی نے اشارہ کیا ہے کہ قربانیوں کے گوشت ذخیرہ کر لینے سے ممانعت اس واسطے تھی کہ ان سالوں میں مدینہ کے اندر باہر سے آئے ہوئے (بھوک کے ماروں) کا ازدھام ہوتا تھا۔ مگر پھر ذخیرہ کا اِذن دے دیا گیا۔ سو یہ نسخ نہیں بلکہ زوالِ حکم بہ زوالِ علت کے باب سے ہے۔ یعنی بعد ازاں کبھی پھر یہ صورت ہو جائے کہ بستی میں حاجتمندوں کی یکدم آمد ہونے لگے تو (قربانیوں کے گوشت کے ذخیرہ) کی ممانعت اس بستی والوں کے حق میں پھر لاگو ہو جائے گی“۔

(البرھان فی علوم القرآن ج 2، ص 42)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے ان دو اقتباسات میں بھی آپ یہی بات پائیں گے:

”اہل ایمان جس خطہ میں مستضعف پائے جائیں یا جس زمانے میں مستضعف پائے جائیں اس آیت پر عمل کریں گے جو اللہ اور رسول کو ایذا دینے والے اہل کتاب اور مشرکین سے صبر اور درگزر کر رکھنے کا حکم دیتی ہے۔ رہے وہ اہل ایمان جو قوت رکھتے ہوں تو وہ ائمہ کفر سے قتال والی آیت پر عمل کریں گے“۔

(الصارم المسلول ج  2ص 43)

”علاوہ ازیں کوئی اہل علم اسے نسخ کا نام دیتا ہے کیونکہ حکم تبدیل کردیا گیا تھا اور کوئی اہل علم اسے نسخ کا نام دینے کا قائل نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو (مدینہ میں اہل کتاب کی بابت) عفو وصفح کا حکم یہ کہتے ہوئے دیا تھا الی ان یاتی اﷲ بامرہ ”جب تک اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ نہ لے آئے“۔

چنانچہ کچھ اسے نسخ کہتے ہیں اور کچھ اسے نسخ نہیں کہتے۔ اور یہ لفظی اختلاف ہے۔

کچھ اہل علم کا قول ہے کہ درگزر کا حکم جس وقت اس کی حاجت ہو (شریعت میں) بدستور باقی ہے اور وہ اس صورت میں کہ جب بھی مسلمان قتال کے معاملہ حالت ضعف میں ہوں یعنی وہ کسی ایسے خطہ میں ہوں یا کسی ایسے زمانے میں کہ وہ قتال کی قدرت نہ رکھتے ہوں۔ پس یہ منسوخ نہیں کہلاتا کیونکہ منسوخ دراصل وہ ہے جو مستقبل کے سب زمانوں کیلئے بالکلیہ ختم کردیا جائے“۔

(الصام المسلول ج 2 ص 443۔444)

امام طبری سورہ انفال کی آیت: وان جنحوا للسلم فاجنح لھا کی تفسیر کے تحت لکھتے ہیں:

”ہم اپنی اس کتاب میں اور دیگر مقامات پر بھی اس پہلو پر دلائل لا چکے ہیں کہ ناسخ نہیں ہوتا سوائے جو منسوخ کے حکم کو ہر پہلو سے ختم کردے مگر جس حکم کا معاملہ ایسا نہ ہو وہ ناسخ نہیں بن سکتا“۔

(دیکھیے تفسیر طبری بہ ذیل آیت 61 سورۃ الانفال)

٭٭٭٭٭

چند نقول اہل علم کی قتال کی مشروعیت سے پہلے اور بعد کے فرق کی بابت:

ابن کثیر ’کفوا یدیکم‘ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

”اہل ایمان ابتدائے اسلام کے اندر جبکہ وہ مکہ میں تھے صلوٰۃ اور زکوۃ کے ہی مامور تھے۔ اگرچہ زکوٰۃ کے نصاب ومصارف وغیرہ ابھی مقرر نہ ہوئے تھے البتہ اس وقت وہ اس بات کے مامور تھے کہ وہ اپنے ناداروں اور تنگ دستوں کے ساتھ اپنے مال کا ایک حصہ بٹائیں۔ وہ لوگ ایک عرصہ تک مشرکوں کے ساتھ عفو ودرگزر اور صبر اختیار کر رکھنے کے ہی پابند رہے۔ اس پر وہ تکلیف محسوس کرتے اور خواہش کرتے کہ کہیں ان کو لڑ لینے کی اجازت مل جائے تو یہ دشمنوں (سے لڑ کر) اپنی تشفی کریں۔ مگر صورتحال اس وقت ہرگز مناسب نہ تھی جس کے کئی اسباب تھے ان میں سے ایک یہ کہ دشمن کی تعداد کے مقابلے میں ان کی تعداد ہی کم تھی۔ پھر یہ کہ وہ اپنے شہر میں تھے جو کہ بلد حرام ہے اور زمین کا سب سے مقدس بقعہ ہے۔ چنانچہ اس کے اندر یہ حکم دے دینا کہ قتال کی یہی پہل کرلیں، لائق نہ تھا۔ چنانچہ جہاد کا حکم نہ دیا گیا مگر مدینہ میں جب ان کے پاس دار (territory) آگئی۔ مَنعت (حفاظت کی صورت) میسر آگئی اور مددگار مل گئے۔ البتہ جب ان کو اس بات کا حکم دے دیا گیا جس کی وہ (پہلے) چاہت کیا کرتے تھے تو تب ان میں سے کچھ لوگ لگے دل چھوڑنے اور لوگوں (دشمن) کے ساتھ معرکہ کرنے سے خائف ہونے اور لگے کہنے: ”خدایا یہ ہم پر لڑائی کا حکم کیوں لکھ دیا؟ کیوں نہ ہمیں کچھ اور مہلت دے دی“۔

(تفسیر ابن کثیر بہ ذیل آیت 77 سورۃ النساء)

اذنِ قتال والی آیت کی تفسیر میں ابن کثیر لکھتے ہیں:

”اللہ تعالیٰ نے قتال کو اس کیلئے جو لائق ترین وقت ہو سکتا تھا اس وقت جا کر مشروع ٹھہرایا۔ کیونکہ جب وہ مکہ میں تھے تو مشرکین ان سے تعداد میں کہیں زیادہ تھے۔ اگر کہیں اللہ تعالیٰ نے (تب) مسلمانوں کو حکم دے دیا ہوتا، جبکہ وہ دسویں حصہ سے بھی کم تھے کہ باقیوں سے قتال کریں تو ان کیلئے یہ بہت مشکل ہو جاتا۔ چنانچہ شب عقبہ جب اہل یثرب نے رسول اللہ کی بیعت کی جبکہ وہ اسی (80) سے کچھ اوپر تعداد میں تھے، کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! کیا منیٰ کی ان راتوں میں ہم منیٰ والوں پر نہ ٹوٹ پڑیں اور ان کو قتل کر ڈالیں! رسول اللہ نے جواب دیا: ”مجھے یہ ہدایت نہیں کی گئی“ سو جب یہ ہوگیا کہ مشرکوں نے بغی کی حد کردی۔ رسول اللہ کو اپنے یہاں سے نکال دیا، اور آپ کو جان سے مار دینے کے بھی درپے ہوئے، پھر آپ کے اصحاب کو بھی یوں دربدر کردیا کہ اصحاب کا شیرازہ ہی بکھر کر رہ گیا تھا۔ ان میں سے کچھ حبشہ چلے گئے تھے۔ دوسرے مدینہ منتقل ہونے لگے۔ اب جب وہ مدینہ میں مستقر ہوئے، اور پھر رسول اللہ بھی ان سے آملے، اب یہ آپ کے جلو میں مجتمع ہوئے اور آپ کی نصرت پہ کمربستہ، ان کو ایک دارِ اسلام میسر آگیا، ایک ٹھکانہ بن گیا جہاں یہ پناہ لے سکیں، تب اللہ تعالیٰ نے دشمنوں سے جہاد مشروع ٹھہرا دیا۔ چنانچہ یہ آیت اس معاملہ میں اترنے والی پہلی وحی ہے: اذن للذین یقاتلون بانہم ظلموا وان اﷲ علی نصرھم لقدیر“

(تفسیر ابن کثیر بہ ذیل آیت 39 سورۃ الحج)

’تربیتی اعتبارات‘ کے حوالے سے، جس پر کہ مکی دور پر گفتگو کے بالکل آغاز میں ہم کچھ بات کر آئے ہیں، امام فخر الدین رازی کا ایک اقتباس، جو کہ کفوا ایدیکم والی آیت کی تفسیر کے تحت آیا ہے:

”دوسرا مسئلہ: یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ صلوٰۃ اور زکوٰۃ کا وجوب جہاد کے وجوب پر مقدم رکھا گیا۔ یوں بھی یہ ’ترتیب‘ عقول میں آنے والی بات کے بالکل مطابق ہے۔ کیونکہ صلوٰۃ عبارت ہے اس بات سے کہ خدا کے امر کی (غایت درجہ) تعظیم ہونے لگے اور زکوٰۃ عبارت ہے اس بات سے کہ خلق خدا کیلئے (دلوں میں) شفقت آجائے اور یہ دونوں ہی باتیں جہاد پر مقدم رکھی گئیں“۔

(تفسیر مفاتیح الغیب آیت 77سورۃ النساء)

ابتدائے اسلام کے کچھ عرصہ میں قتال مشروع نہ تھا۔ اس خدائی حکم کی حکمتوں کو سراہنا ہو تو اس کیلئے آئیے سید قطب سے چند خوبصورت پیرائے مستعار لیتے ہیں، الفاظ گو ہمارے اپنے ہیں:

یہ بات کہ اس کے   پیچھے کیا حکمت کار فرما تھی.................... تو ہم اس پر قطعیت کے ساتھ کوئی بات کر دینے کے تو مجاز نہیں کیونکہ ایسا کرتے ہوئے ہم خدا پر تَاَلِّی کر بیٹھیں گے درآں حالیکہ اس نے اپنی اس حکمت کی بابت ازخود کوئی بات بیان کرکے ہمیں نہیں دی۔ اگر ہم ایسا کریں تو خدائی احکام کو ہم اپنے سے کچھ اسباب اور وجوہات اٹھوا دیں گے جو کہ ہو سکتا ہے ان خدائی احکام کے اسباب اور حکمتیں در فعل ہوں ہی نہ۔ یا پھر چلیں ہوں بھی، مگر ان اسباب اور وجوہات کے پیچھے کچھ اسباب اور وجوہات ہوں، جو ہم پر نہ کھلی ہوں اور ان میں جو خیر اور مصلحت ہو وہ صرف خدا کے علم میں ہو۔

حقیقت تو یہ ہے کہ مومن کو جس بات کا بھی پابند کردیا گیا ہو اس کو لے کر چلنے کی بات مومن کی یہی شان ہوا کرتی ہے۔ خدائی شریعت کا جو بھی حکم ہو اگر اس کا سبب ایک صریح متعین انداز میں اور بالجزم طور پر اسے نہ بتا دیا گیا ہو تو اس کا یہی وتیرہ ہوتا ہے چاہے کتنے ہی اسباب اور حکمتیں آدمی کے خیال میں آئیں کہ ایک خدائی پابندی اختیار کئے جانے یا اس کیلئے ایک خاص طریقہ اختیار کئے جانے کے پیچھے کار فرما ہیں۔ جتنی بھی باتیں ایک خدائی پابندی کے پیچھے کارفرما حکمتوں کے حوالے سے مومن کی عقل اور ادراک میں سما سکتی ہوں ان کو بہرحال ’احتمال‘ ہی کی حد تک تسلیم کیا جانا چاہیے۔ خواہ آدمی کو اپنے علم اور اپنی عقل اور خدائی احکام پہ اپنے تدبر کر لینے پر کتنا ہی اعتماد کیوں نہ ہو اس کو بالجزم یہ بات نہ کر دینی چاہیے کہ بس عین یہی حکمت ہے اور یہ کہ ایک خدائی حکم کے پیچھے جو کوئی خدائی منشا ہو سکتی ہے تو بس وہ یہی ہے.... یوں کہ وہ اسے ایک ’نص‘ بنا کر رکھ دے جس سے نہ کم کوئی بات اس کے خیال میں ممکن ہے اور نہ زیادہ!

وحی کے رو برو مومن کی یہ ’جھجھک‘ باقی رہنا دراصل وہ تقاضائے ادب ہے جو خدا کے ساتھ اختیار کر رکھنا درحقیقت مومن کے شایان ہے.... اس ’اندیشہ‘ کا برقرار رہنا اس وجہ سے بھی ضروری ہے کہ وہ فرق عظیم جو خدا کے علم کے مابین اور انسان کے علم کے مابین حقیقت اور نوعیت کے اعتبار سے پایا جاتا ہے، اسی بات کا متقاضی ہے۔

اسی ادب کا پابند رہتے ہوئے.... ہم ان خدائی حکمتوں کو سمجھنے کی ایک کوشش کریں گے جو جہاد کے مکے میں فرض نہ ہونے اور پھر مدینہ میں جا کر فرض ٹھہرا دیے جانے کے پیچھے کار فرما رہی ہوں گی.... اس وضاحت کے ساتھ کہ جو بھی حکمت اور سبب ہم بیان کر پائیں گے وہ محض ایک احتمال ہوگا.... اس سے بڑھ کر کچھ ہے تو وہ خدا ہی جانے ہم اس کے حکم پر اپنے پاس سے اسباب اور وجوہات نہیں ٹھونس دیں گے، جبکہ اس معاملہ میں آخری حقیقت کا علم اس نے اپنے پاس رکھا ہے اور جبکہ اس کی تعین کردہ ’وجہ‘ اس ضمن میں کسی نص صریح کی صورت ہمارے علم تک نہیں پہنچی ہے۔

پس یہ اسباب ہمارا اجتہاد ہیں۔ کہیں غلط ہو سکتے ہیں تو کہیں درست۔ کہیں ان میں کمی ہوگی تو کہیں بیشی، ہمارا مقصود البتہ اس سے، سوائے اس کے کہ سیرت کے زمانی تسلسل کو سامنے رکھ کر خدائی احکام پر غور وفکر اور تدبر کریں، کچھ نہ ہونا چاہیے (29) :

الف: شاید اس بات کا سبب یہ ہو کہ یہ مکی مرحلہ ابھی تربیت وتیاری کا مرحلہ تھا، جو کہ ایک خاص ماحول ومعاشرہ کے اندر اور ایک خاص قوم کے حق میں اور ایک خاص قسم کے احوال میں درپیش تھا۔

تربیت اور تیاری کے تعلق سے جو کئی سارے اہداف ہو سکتے ہیں وہ سب کے سب تو اپنی جگہ تھے ہی.... ان میں سے ایک خاص ہدف اس خاص ماحول کے اندر البتہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ ایک عرب انسان اپنی نخوت پہ قابو پانا سیکھ لے اور جن چیزوں پر صبر کر لینا اس نے کبھی سیکھا ہی نہیں مثلاً یہ کہ اس پر یا اس کے زیر پناہ لوگوں پر ظلم اور دھونس ہو تو وہ اسے برداشت کر جائے.... ایسی باتوں کو کچھ اعلیٰ مقاصد کی خاطر پی جانے کی صلاحیت پائے۔ یوں عرب جاہلیت سے آیا ہوا ایک انسان اپنی ’ذات‘ سے نکل آئے۔ اپنے ’نفس‘ کے حصار سے رہائی پائے۔ اپنی ’انا‘ سے بلند ہو جائے۔ نہ کہ اس کا ’اپنا آپ‘ اور اس کے ’اپنے‘ ہی اس کی زندگی کا محور اور اس کی گرمجوشی عمل کا محرک بنے رہیں۔ عرب کے ایک انسان کو یہ تربیت دی جانا تھی کہ وہ ضبط نفس کی صلاحیت پائے اور اس کی طبیعت میں سے وہ شوریدگی چلی جائے جب وہ ہر بات پر فوری ترین ردعمل ظاہر کرتا تھا اور کسی کے طیش دلانے سے پہلے بھڑک اٹھتا تھا۔ یوں وہ ایک خوئے اعتدال اور ایک مستقل مزاجی سے آراستہ کر دیا جائے اور اس کے عمل اور نشاط میں ایک دوام اور ٹھہراؤ آجائے۔ اور جاہلیت کے روبر وہ اپنا ایک بہت باوقار اسلوب متعارف کرائے۔

عرب کے ایک انسان کو یہ تربیت دی جانا تھی کہ وہ ایک منظم معاشرے کا ایک منظم فرد بننا سیکھے جہاں ایک باقاعدہ قیادت ہو اور وہ اپنی زندگی کے ہر ہر معاملے میں ہدایات لینے کیلئے اپنی اسی قیادت سے رجوع کیا کرے جہاں وہ کسی پیش آمدہ صورت احوال میں’ازخود‘ تصرف کرنے کی بجائے اپنی قیادت کی ہدایات پر چلے اور سختی کے ساتھ اپنی اسی قیادت کا پابند ہو چاہے عرب دستور کے لحاظ سے یہ بات اس کیلئے کتنی ہی ’نئی‘ اور ’عجیب وغریب‘ کیوں نہ ہو۔

یوں ایک شخص کو ’عرب انسان’ سے اٹھا کر ’مسلم معاشرے کی اکائی‘ بنا ڈالنا ایک طویل دشوار گزار منصوبہ تھا اور یہ بات جو اوپر بیان ہوئی اس منصوبے کا یوں سمجھئے کہ ایک حجرِ اساس تھی۔ یہاں ایک ایسا انسان درکار تھا جو ایک منظم قیادت کا پابند ہو۔ یہاں ایک ایسے فینا مینا کی تشکیل مطلوب تھی جس میں ایک جانگلی قبائلی معاشرہ روپوش ہو کر اپنے اندر سے ایک اعلیٰ منظم مہذب ترقی یافتہ معاشرہ برآمد کرڈالے۔

ب: شاید سبب یہ بھی ہو کہ قریش ایسے اکڑباز کج کلاہ ماحول میں ایک پرامن دعوت ہی زیادہ موثر اور کارگر رہنے والی ہو، جہاں غیرت اور ناموس وشرف آدمی کیلئے ایک بڑا مسئلہ تھا اور اس کا پندار ___ ایک ایسے ابتدائی مرحلہ میں ہی ___ قتال شروع ہو جانے کی صورت میں اور بھی چیلنج میں آتا اور اس سے بھی کہیں زیادہ بڑھ کر عناد دکھاتا۔ یوں ابتدا ہی کے اندر خون کے بدلے اتارنے اور چڑھانے کا ایک سلسلہ لامتناہی اٹھ کھڑا ہوتا جس کی مثالیں عربوں کے اندر اس سے پہلے ہی کوئی کم نہ تھیں۔ خون در خون کی وہ انتقامی قبائلی داستانیں جو داحس و غبراءاور بسوس ایسی جنگوں کے نام سے جانی جاتی ہیں اور جو کہ برس ہا برس چلتی رہی تھیں اور جس نے کہ قبیلوں کے قبیلے مٹا کر رکھ دیے تھے ایسے ہی قتل کے کسی چھوٹے سے سانحے سے شروع ہوئی تھیں۔ مگر اب اگر ان قبائل میں انتقام در انتقام کے یہ خونیں سلسلے اٹھ کھڑے ہوتے تو عرب کے ذہنوں اور یادداشتوں میں اب یہ اسلام کے تعلق سے ہی جاگزیں ہوتے۔ اور یہ بھی ایک بار شروع ہو کر کبھی تھمنے نہ پاتے۔ نتیجتاً اسلام ایک ’دعوت‘ سے تبدیل ہو کر ’خون کی بازیاں چڑھانے اور اتارنے کا ایک قبائلی سلسلہ‘ بن جاتا اور وہ اصل بات اور اصل حقیقت جس پر اسلام اس پورے معاشرے کی توجہ مرکوز کرا دینا چاہتا تھا، کہیں روپوش ہی ہو رہتی جبکہ اسلام عین ابھی ابتدا میںہوتا۔ یوں آغاز ہی کے اندر اسلام کا اصل مقدمہ میدان سے غائب پایا جاتا اور اس پر عرب میں کوئی بات اور بحث تک نہ ہوتی!

ج: شاید سبب یہ بھی ہو کہ ایک ایسی صورتحال سے بچنا مقصود ہو کہ ہر گھر کے اندر تلواریں نکل آئیں اور گھرانے کے افراد اپنے ہی آپس کے اندر خونی معرکے شروع کرلیں یوں ہر گھر، میدان جنگ بنے اور ہر چار دیواری مقتل، وہاں کوئی ایسی ’مرکزی حکومت‘ تو تھی نہیں جو کسی ’سرکاری انتظام‘ کے تحت اہل ایمان کو تعذیب اور ایذا رسانی کرتی ہو۔ یہ تو ہر فرد کے اپنے ہی ورثا تھے جن پر اسے یہ تعزیت اور ایذا پہنچانے کا کام چھوڑ رکھا گیا تھا کہ جس طرح مناسب سمجھیں اس کی ’تادیب‘ کریں۔ اب یہاں اس صورت میں اذن قتال کا مطلب یہ ہوتا کہ ہر گھر ایک رزم گاہ ہو اور ہر چار دیواری میدان جنگ.... اور تب یہ کہا جاتا کہ ’یہ ہے اسلام‘! یہ بات تو تب بھی کہہ دی گئی تھی جب اسلام نے اپنے پیروکاروں کو حکم ہی لڑائی بھڑائی سے قطعی طور پر دستکش رہنے کا دے رکھا تھا۔ عربوں کے ان سالانہ اجتماعات میں جہاں ملک بھر کے عرب حج اور تجارت وغیرہ کیلئے اکٹھے ہوتے تھے تب قریش ہر طرف یہی کہتے پھرا کرتے تھے کہ محمد آدمی کو اس کے کنبے قبیلے سے ہی کاٹ کر رکھ دیتا ہے اور تو اور باپ اور بیٹے میں جدائی کرا دیتا ہے۔ ذرا تب تصور کیجئے اگر اسلام نے ہر گھر اور محلے کے اندر بیٹے کو باپ کی گردن اڑا دینے کا حکم دے دیا ہوتا اور غلام کو آقا کو قتل کردینے کا!

د: شاید سبب یہ بھی ہو کہ خدا کو علم تھا کہ وہ بہت سے لوگ جو عناد میں آکر مسلمانوں کے اس ہراول کو ان کے دین سے پھیر دینے کیلئے آج طرح طرح کی آزمائشوں میں ڈال رہے ہیں اور ہزارہا انداز سے ان کو تکلیفیں اور اذیتیں پہنچا رہے ہیں کل یہی اسلام کے مخلص جانباز سپاہی ہوں گے بلکہ قیادت کی صف میں کھڑے ہوں گے۔ عمر بن خطاب ایسے لوگ کیا انہی میں نہ تھے؟!

ھ: شاید سبب یہ بھی ہو کہ عربوں کی نخوت اور جمعیت، بالخصوص ایک اس طرح کے قبائلی ماحول میں، فطرتاً ایک ستم رسیدہ انسان کی حمیت پہ تل جاتی جو ان کے سامنے تمام تر ظلم سہہ رہا ہے مگر اپنی بات چھوڑ دینے پر تیار نہیں۔ خاص طور پر اگر وہ دیکھیں کہ یہ ظلم بڑے بڑے معزز اور اونچے گھرانوں کے افراد پر ڈھایا جا رہا ہے۔ ایسے کثیر واقعات عرب کے اس ماحول میں بالفعل پیش آئے بھی جو کہ اس نظریہ کی صحت کو ثابت کرتے ہیں۔ مثلاً آپ دیکھتے ہیں کہ ابن الدغنہ یہ برداشت نہ کر سکا کہ ابوبکر ایسا معزز بلند نسب آدمی مکہ سے تارک وطن اور بے خانما ہو کر کہیں پردیس چلا جائے۔ ابن الدغنہ کو یہ بات عربوں کیلئے باعث ننگ نظر آئی۔ چنانچہ اس نے ابوبکر کو یہ پیشکش کی کہ وہ اس کی پناہ اور تحفظ میں اپنے ہی وطن کے اندر رہ سکتے ہیں۔ ایسے واقعات کی آخری قابل ذکر مثال اس دستاویز کی تنسیخ سے جس کی وجہ سے بنو ہاشم شعب ابی طالب میں محصور کر دیئے گئے تھے جہاں فاقوں اور آزمائشوں کا ان پر ایک طویل دور گزرا تاآنکہ عرب نخوت یہ گوارا نہ کر پائی کہ یہ وثیقہ ستم یونہی برقرار رہے.... مگر قبائلی نخوت کے اس ماحول سے باہر چلے جائیے کوئی بھی ایسی جگہ جہاں صدیوں کے عمل نے معاشروں کو ’تہذیب‘ کے اس قدر تاؤ دے دیے ہیں کہ ذلت لاچاری اور بے بسی انسانوں کا خاصہ بن کر رہ گئی ہے وہاں معاملہ اس کے برعکس تھا۔ وہاں ظلم پر خاموش رہنا اپنے لئے لوگوں کے تمسخر اور استہزاءکو دعوت دینا تھا اور ماحول کی نظروں میں حقیر اور گھٹیا بن رہنا اور ظالم معتدی کی عظمت شان میں کچھ اور ہی اضافہ کر جانا باور کیا جاتا تھا۔

و: شاید سبب یہ بھی ہو کہ تب مسلمانوں کی تعداد بھی کم تھی۔ پھر وہ مکہ میں محصور تھی باہر مسلمان شاید ہی خال خال کہیں پایا جاتا ہو۔ اسلام کی دعوت جزیرہ عرب کے باقی حصوں تک ابھی پہنچی ہی نہ تھی۔ یا اگر پہنچی تھی تو محض ایک سرسری انداز میں۔ کسی کو اس کی اڑتی اڑاتی کوئی بات پہنچی ہوگی تو کسی کو کوئی دوسری۔ قبائل اسے جس طرح دیکھ رہے تھے وہ یہ کہ یہ قریش کے اور اس کے اپنے ہی فرزندوں کے مابین ایک جنگ ہے جس میں غیر قریشی قبائل غیر جانبدار تھے کہ دیکھیں ان کا یہ داخلی معاملہ کس کروٹ بیٹھتا ہے.... اس صورتحال میں قتال مشروع ٹھہرا دیا جاتا تو یہ جنگ جو مکہ کی گلیوں میں ہی اپنے اختتام کو پہنچ جاتی اس سے بعید نہ تھا ان چند مٹھی بھر مسلمانوں کا صفایا ہو جاتا جن کو درحقیقت پورے جزیرۃ عرب تک بلکہ پوری دُنیا تک اسلام پہنچانا اور سکھانا تھا، بے شک ان میں کا ایک ایک فرد اپنے سے کئی کئی گنا کافروں کو جہنم رسید کرکے جاتا۔ یوں مسلمانوں کی اس بنیادی جمعیت کا خاتمہ ہو جاتاجبکہ زمین میں اسلام کا ابھی کوئی نظام اور نمونہ ہی قائم نہ ہوا ہوتا جبکہ اسے تو دنیائے واقع کے اندر اسلام کے اجتماعی وجود کی صورت میں ابھی پنپنا تھا۔

یوں ملک عرب سے برآمد ہونے کیلئے مکہ میں صرف شرک رہ جاتا.... جبکہ اسلام وہ دین ہے جو دنیائے انسان کیلئے ایک منہج حیات بننے آیا ہے اور جو کہ اس لئے اترا ہے کہ وہ عالم انسان کے اندر ایک جیتا جاگتا واقعہ بن کر رونما ہو اور انسانی نشاط کیلئے ایک پورے کا پورا نظام۔

ز: ہرچند کہ ضرورت بھی وہاں کوئی ایسی شدید اور فوری اور ناگزیر نہ ہو گئی تھی کہ اوپر ذکر کی گئی ان تمام کی تمام رکاوٹوں کو نظرانداز کرکے حکم قتال دینے کی کوئی ایسی ہی جلدی کی جاتی۔ کفار کی اذیت رسانی کو برسر جنگ ہٹا دینے کی کوئی ایسی ناگہانی صورت تب مناسب تھی اور نہ ضرورت۔

(1) ضوابط جن کی مسلم اقتدار کے دور سقوط میں مسلح مزاحمت کے حوالہ سے پابندی کی جانا ضروری ہے تاکہ یہ فساد نہ بنے۔

(2) تاسیس اُمت کے ابتدائی نبوی مرحلہ پر قیاس کرتے ہوئے مسلم مقبوضہ جات کی مزاحمت کو ’حرام‘ کہنا کہاں تک درست ہے؟

(3) جماعت ابوبصیر  کی کارروائیوں کی شرعی حیثیت

(4) مزاحمتی عمل کی افادیت کے کچھ واقعاتی شواہد

(5) صبر کے مفہوم کی بابت کچھ ملاحظات

(6) دور حاضر کے چیلنجوں کے حوالے سے ’فقہِ ترجیحات‘ پر کچھ گفتگو

ان میں سے پہلے تین نقاط علیحدہ مضامین کی صورت میں اس بار کے ایقاظ میں شامل ہوں گے۔ باقی تین نقاط اگلے شمارے میں ان شاءاللہ زیر بحث آئیں گے۔

 

(دیکھئے فی ظلال القرآن از سید قطب۔ بہ ذیل سورۃ النساءآیت 77)

حاشیہ

(20) اگرچہ یہاں ’قتال جائز‘ اور ’قتال فی سبیل اﷲ‘ میں فرق کی بحث ہو سکتی ہے اور جس وقت ’رایہ‘ اسلامی نہ ہو تب اس کو ’قتال فی سبیل اللہ کہنے کے معاملہ میں کچھ ملاحظات اہل علم کے ہاں رکھے جاتے ہیں مگر دفاع نفس کا حق کسی فرد یا جماعت سے بہرحال نہیں چھنتا۔

(22) حقیقت تو یہ ہے کہ ’ضوابط‘ کے حوالے سے صرف قتال ہی کے معاملے میں وقت کی دستیاب اسلامی قیادت سے ’ہدایات‘ اور ’فتوی‘ لینا ضروری نہیں ہجرت اور کچھ دیگر ایسے اجتماعی امور کی بابت بھی ضروری ہے۔ ’شخصی معاملہ‘ ہو تو الگ بات ہے وگرنہ ’اجتماعی‘ سطح پر ’ہجرت‘ تک کی بابت وقت کے اہل علم ہی کسی علاقہ کے مسلمانوں کو ایک عمومی پالیسی طے کرکے دیں گے۔ مثلاً فلسطین کی بابت علاقہ کے علماءکا فتوی ہے کہ مسلمان جہاں تک ہو سکے فلسطین میں اپنے گھروں کو نہ چھوڑیں اور خاندان کے کچھ نہ کچھ لوگ بہرحال وہاں پائے جائیں اور یہ کہ کچھ بھی ہوجائے اپنی کوئی جائیداد یہودیوں کو بیچ کر نہ جائیں بیچنی ہی ہو تو کسی مسلمان کو بیچیں اور اگر کوئی یہودی کو جائیداد بیچ دے تو پوری مسلمان برادری اس سے قطع تعلق کرنے تک چلی جاتی ہے کیونکہ اسلام کے ڈیمو گرافک مصالح اس وقت ایک چیلنج کی حد تک فلسطین میں یہی تقاضا کر رہے ہیں باوجود اس کے کہ یہودی ایک ایک مرلے کیلئے لاکھوں ڈالر دینے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ علماءکا کہنا ہے فلسطین میں صابر رہنے والا، ایک مسلم مرد یا عورت حالت رباط میں ہے۔

(23) مثلاً دیکھئے تفسیر طبری (سورۃ النساءآیت 77) رسول اللہ کا جواب عبدالرحمن بن عوف وغیرہ کو۔

(24) ہندوستان کی تاریخ میں گو ضرور ایسا ہوا ہے کہ کچھ مسلمانوں نے کسی ایک آدھ فتوی پر عمل پیرا ہو کر نہ کہ ایک اتنے بڑے اجتماعی مسئلہ میں اجتماعی فتوی پر چلتے ہوئے انگریز کا ہندوستان پر قبضہ ہو جانے کے بعد افغانستان ہجرت کر جانے کا عزم کیا کیونکہ ہندوستان ان کے خیال میں اب ’دارالاسلام‘ نہ رہا تھا! مگر فتوائے عام ان کے اس خیال کا موید نہیں۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا ’فتوائے ماردین‘ اس ضمن میں مشہور ہے جو انہوں نے ’مار دین‘ کے تاتاریوں کے قبضہ میں چلے جانے کے بعد اس شہر کے شرعی حکم کی بابت دیا تھا۔

(25) (النساء: 77) ”اپنے ہاتھ روکے رکھو‘

(26) (الحج: 39) ”اذن دیا جاتا ہے ان لوگوں کو جن سے جنگ کی گئی، اس لئے کہ ان پر ظلم ہوا“

(27) (التوبۃ: 12) ”پس قتال کرو ائمۃ کفر سے“

(28) سورہ توبہ، آیت : 5

(29) اس کے بعد کا حصہ سید قطب نے فی ظلال القرآن سے لے کر اپنی کتاب معالم فی الطریق میں بھی دیا ہے جو کہ اُردو میں جادہ ومنزل (ترجمہ خلیل حامدی مرحوم) اور نشانات راہ (ترجمہ معروف شاہ شیرازی حفظ اللہ) کے نام سے دستیاب ہے۔ اس مضمون کا عنوان ہے ’جہاد فی سبیل اللہ‘

 

٭٭٭٭٭