Download in PDF Format

فوائد

 

نماز میں خشوع کیسے پیدا ہو

ابوعبدالرحمن

الحمد ﷲ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی محمد وآلہ وصحبہ اجمعین۔ امابعد:

”نمازمیں خشوع“ کا مسئلہ ایک اہم مسئلہ ہے کیونکہ خشوع نماز کی روح، دلوں کیلئے نفع بخش اور چہروں کا نور ہے اور یہی وہ ”علم“ ہے جو صحیح حدیث کے مطابق اس اُمت سے سب سے پہلے اُٹھا لیا جائے گا۔ (صحیح الجامع:2562)

جامع ترمذی (2/94) اور سنن دارمی (1/75) میں عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں:

”اگر تم چاہو تو میں تمہیں اُس ”علم“ کے بارے میں بتاؤں جو سب سے پہلے لوگوں سے اٹھا لیا جائے گا۔ وہ علم ”خشوع“ ہے، قریب ہے کہ تم جامع مسجد (لوگوں سے بھری ہوئی مسجد) میں داخل ہوگے مگر ایک آدمی کو بھی خشوع سے نماز پڑھتا ہوا نہیں پاؤ گے“۔

بعض علماءنماز کے تمام ارکان میں خشوع کو واجب قرار دیتے ہیں۔ سنن اربعہ میں صحیح حدیث ہے کہ: ”نمازی کیلئے خشوع کے ہونے یا پھر نہ ہونے کی وجہ سے، اس کی نماز کا اجر دسواں، نواں، آٹھواں، ساتواں، چھٹا، پانچواں، چوتھا، تہائی یا نصف حصہ لکھا جاتا ہے“ (یعنی جتنا خشوع زیادہ ہوگا اتنا ہی اجر زیادہ ملے گا ورنہ کم ہوتا جائے گا)۔

ایک حدیث میں آتا ہے کہ ”جو مسلمان فرض نماز کیلئے آئے اور اس کے لئے بہترین وضو کرے اور اس کے خشوع اور رکوع کو پورا کرے تو وہ نماز اس کے تمام گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا ہو اور یہ گناہوں کا دھلنا ہمیشہ ہوتا ہے“۔ (رواہ مسلم۔ المشکاۃ المصابیح 1/38)

صحیحین کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی اکرم نے ارشاد فرمایا: ”جو میرے اِس وضو کی طرح وضو کرے، پھر دو رکعت (تحیۃ الوضو) ادا کرے اور نماز کے دوران اپنے دل کو خیالات سے پاک رکھے تو ایسے شخص کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں“۔ (بخاری ومسلم، المشکاۃ 1/39)

اسی طرح مسلم کی ایک اور حدیث میں آپ نے فرمایا:

”جو مسلمان اچھی طرح وضو کرے اور پھر دو رکعتیں ادا کرے، اپنا رخ اور دل دونوں نماز ہی کی طرف لگائے رکھے، اس کیلئے جنت واجب ہو جاتی ہے“۔ (مسلم، مشکاۃ1/39)

خشوع کے موضوع پر کثرت کے ساتھ احادیث موجود ہیں بلکہ خود قرآن کریم نے اس کو بیان کیا ہے۔ چنانچہ سورۃ موءمنون میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ(الموءمنون:2-1)

”بے شک ان مومنین نے فلاح پائی جو نماز میں خشوع کرتے ہیں“۔

مزید فرمایا: وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلاَّ عَلَى الْخَاشِعِينَ (البقرۃ:45)

”اور یہ (نماز) گراں ہے مگر خشوع کرنے والوں پر گراں نہیں“۔

خشوع ایمان والوں کی صفات میں ایک اہم صفت ہے، چاہے نماز میں ہو یا نماز کے علاوہ۔

والخاشعين والخاشعٰت (القرآن)

”خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے والی عورتیں (جنت کی مستحق ہیں)“۔

تفسیر خازن کے مطابق ”خشوع کرنے والا“ وہ شخص ہے جو گناہوں میں مبتلا ہو جانے کے ڈر سے بعض (مشتبہ) کام ترک کردے۔

اللہ تعالیٰ نے انبیاءکو اِسی وصف (خشوع) سے موصوف فرمایا۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:

کانوا يدعوننا رغبا ورهبا وکانوا لنا خشعين o (القرآن)

”وہ ہمیں خوف اور اُمید سے پکارا کرتے تھے اور ہم سے دبے دبائے رہتے تھے“۔

اسی طرح اہل کتاب کے صالح افراد کا بھی یہی وصف بیان فرمایا:

وان من اهل الکتاب لمن يؤمن باﷲ واليوم الآخر خشعين للّٰه (القرآن)

”بے شک اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیںاور اللہ کی خاطر دبے دبائے رہتے ہیں“۔

خشوع کی علامت:

خشوع کی علامت یہ ہے کہ انسان نماز کی حالت میں اپنے کپڑے یا جسم کے کسی عضو سے نہ کھیلے اور نہ ہی اپنی نگاہیں اوپر کو اٹھائے بلکہ خشوع کا اتنا غلبہ ہو کہ انسان کو یہ بھی معلوم نہ ہو کہ اس کے دائیں اور بائیں کون شخص کھڑا ہے۔ سکون کے ساتھ کھڑا رہے اور اپنی نظریں سجدہ کی جگہ پر رکھے۔

علماءربانی کا اس بات پر اتفاق ہے کہ خشوع کی اصل جگہ ”دل“ ہے۔ خشوع خوف اور اللہ کیلئے اپنے آپ کو پست کر دینے کا نام ہے اور اپنے معبود کی تعظیم کے سوا کسی دوسری طرف متوجہ نہ ہو۔

خشوع پیدا کرنے کے طریقے:

خشوع پیداکرنے کے کئی طریقے ہیں جن میں سے بعض کا ذکر ہم کر دیتے ہیں۔

(1) اپنے دل کو اللہ کے خوف سے معمور کردے۔ کیونکہ جب دل خوف سے بھر جاتا ہے تو خشوع خودبخود پیدا ہوتا ہے۔ یہ ایک ہی طریقہ خشوع پیداکرنے کیلئے کافی ہے۔ سلف صالحین نماز کے دوران اِسی کا التزام فرمایاکرتے تھے۔

(2) ہر اس چیز سے دور رہے جو خشوع میں رکاوٹ پیدا کرتی ہو۔ مثلاً بھوک لگنا، بول وبراز کی حاجت ہونا وغیرہ۔ خود نبی اکرم نے اس جانب اشارہ کرکے فرمایا:

جب رات کا کھانا سامنے ہو اورنماز کی اقامت ہو جائے تو کھانے سے ابتدا کرو (یعنی پہلے کھانا کھا لو) اِسی طرح فرمایا: حاجت (بول وبراز) کو روک کر نماز پڑھی جائے تو نماز نہیں ہوتی۔ (بخاری ومسلم)

لہٰذا انسان کو چاہئے کہ جب وہ نماز پڑھے تو اپنے آپ کو تمام کاموں سے فارغ کرلے۔

(3) نماز میں قرآن مجید کو اونچی آواز سے پڑھے یا کم از کم اتنی آواز تو ضرور ہو کہ وہ خود سن سکے، کیونکہ تلاوتِ قرآن کی آواز دِل پر بہت ہی زیادہ اثر کرتی ہے۔نوٹ: جو شخص ہونٹ ہلائے بغیر نماز پڑھے اس کی نماز درست نہیں۔ اس مسئلہ کی تفصیل کیلئے ہماری کتاب ”الدین الخالص“ (4/48) کا مطالعہ کیجئے۔

(4) اپنی زبان سے ادا ہونے والے الفاظ پر غور وفکر کرے کہ وہ قراءت میں ہے یا ثناءپڑھ رہا ہے یا فاتحہ کی تلاوت کر رہا ہے وغیرہ۔

(5)قراءت قرآن، نماز میں کی جانے والی تسبیح اور ذکر کے معنی بھی سمجھے۔ عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں ”تمہاری نماز کا اتنا ہی اجر تمہیں ملے گا جو تم نے سمجھ کر ادا کی“۔

(6) ایسی آیاتِ کریمہ اور احادیث صحیحہ کا مطالعہ کرتا رہے جو خشوع اور عاجزی پر ابھارتی ہوں۔ یہ طریقہ کافی فائدہ مند ثابت ہوگا۔

(7 اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کرلے کہ جو نماز میں ادا کر رہا ہوں اس کا ثواب بغیر خشوع کے ملنے والا نہیں ہے۔

(8) خشوع پیدا کرنے کی مسلسل کوشش کرے۔ شروع شروع میں ہو سکتا ہے یہ مشکل لگے مگر پھر ان شاءاللہ یہ نمازی کی عادت بن جائے گی۔ انسان کو چاہئے کہ خود اس بات کا تجربہ کرلے کیونکہ جب نمازی یہ چاہے گا کہ نماز کے دوران اُسے دنیاوی خیالات نہ آئیں تو یہ چیز یقینا ایک مشکل کام ہوگا۔ (یہ طریقہ سب سے بہتر ہے)

(9) یہ سوچ کر نماز ادا کرے کہ یہ اس کی آخری نماز ہے جسے وہ ادا کر رہا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ:

”دُنیا چھوڑ کر جانے والے شخص کی طرح نماز پڑھو“۔

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلاَقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (البقرۃ: 46)

”جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملیں گے اور یہ کہ وہ اُسی کی طرف لوٹنے والے ہیں (ان پر نماز ادا کرنا ذرا بھی گراں نہیں)۔

یہ سوچ نمازی کو خشوع بڑھانے میں بہت کارآمد ہوگی۔

(10)پڑھی جانے والی دُعائیں اور اذکار بدل بدل کر پڑھے، یہ چیز بہت اثر انگیز ہے کیونکہ ایک ہی ذکر کو ہمیشہ پڑھنا دِل کو سخت کردیتا ہے اور دِل اس کا عادی ہو جاتا ہے پھر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔

(11)آداب بندگی اور سنت سے ثابت شدہ چیزوں کا بھرپور اہتمام کرے۔ مثلاً ارکان کو تعدیل سے ادا کرنا، کبھی نماز پڑھنا، لمبے سجدے کرنا اور حیوانات سے تشبہ اختیار نہ کرنا وغیرہ۔

(12)لمبی نماز پڑھنا اور طویل قراءت کرنا خشوع پیدا کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔ تجربہ سے یہ بات ثابت ہے کہ چھوٹی نماز میں خشوع کم ہی پیدا ہوتا ہے۔

(13)ایسی آیات، دُعاؤں اور اذکار کو بار بار دہرائے جو ”خوف اور اُمید“ پرمشتمل ہوں جیسا کہ نبی اکرم اپنی رات کی نماز میں یہی ایک آیت ساری رات تلاوت کرتے رہتے تھے۔

إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (المائدۃ:118)

”اگر تو انہیں عذاب دے (تو تُو اِس کا حق رکھتا ہے کیونکہ) وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تُو انہیں بخش دے تو تُو ہے ہی زور آور اور حکمت والا۔

یہی آیت مبارکہ نبی اکرم نے رکوع میں بھی پڑھی اور سجدے میں بھی۔

(انتخاب از ”الفوائد“ موءلفہ شیخ امین اللہ، ص 321 تا ص 364)

ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم، وتب علینا انک انت التواب الرحیم

٭٭٭٭٭٭٭٭٭