پوپ کی ہرزہ سرائی
حصہ اول
جمع وترتیب: محمد زکریا
وما تخفی صدورھم اکبر (آل عمران:118)
اور جو اُن کے سینوں نے (کینے) چھپا رکھے ہیں وہ تو کہیں بڑھ کر ہیں
12 ستمبر 2006ءجرمنی کی جامعہ رجینز برگ (University of Regensburg) میں لیکچر دیتے ہوئے ویٹی کن کے نئے منتخب پوپ بینیڈکٹ نے پیلالو جوس (1350to1425 Manuel II Palaiologos) کے اسلام اورمحمد ﷺ کے بارے میں کہے گئے الفاظ دہرا کر اپنے آپ کو بُش، بلیئر کمپنی میں شامل کرلیا ہے۔
پوپ نے جوش خطابت میں کہا:
Show me just what Muhammad brought that was a new and there you will find things only evil and inhuman, such as his command to spread by the sword the faith he preached. (Twenty-six pialogues with a Persian)
78 سالہ جوزف ریٹ زنگر نے اپنے لئے اعزازی لقب بینیڈکٹ تجویز کیا
ہے، دہری شہریت نے اس بات کو مشکوک بنا دیا ہے کہ ان کی اصل وفاداری کا حق دار
جرمنی ہے یا ویٹی کن لیکن مذکورہ بالا بیان سے عیاں ہوتا ہے کہ اُن کی اصل وفاداری
طاقتور کے ساتھ ہے۔ جوانی میں وہ دوسری جنگ عظیم میں لڑتے ہوئے فوجی قیدی بن کر
جرمنی کی شہریت کا حق تو ادا کر چکے ہیں اگرچہ اس پس منظر کی وجہ سے ویٹی کن کے
آفس کو صراحت کرنا پڑی کہ وہ نازی نہیں ہیں، موجودہ عہدے کی وفاداری اس سے ثابت
ہوتی ہے کہ وہ جوانی میں لبرل رہے ہیں، لبرل ازم کو چھوڑ کر بنیاد پرست عیسائی
عقیدہ کیتھولک اختیار کرکے اس عہدے تک پہنچنے میں انہیں کئی اور چیزوں سے بھی
دستبردار ہونا پڑا ہوگا، لیکن اب کافی عرصے سے وہ صہیونیت اور امریکی خارجہ پالیسی
پر مطمئن ہیں۔ پوپ بینیڈکٹ بلند پایہ مقرر اور الفاظ کے چناؤپر
کامل دسترس رکھتے ہیں۔ بازنطینی بادشاہ کے اقتباس کے انتخاب میں ان کے پیش نظر لفظ
Evil ضرور رہا ہوگا۔ یہ وہی لفظ ہے جسے صدر بش نائن الیون کے بعد مسلسل استعمال کر
رہے ہیں۔ صدر بش کے بیانات اور تقریریں جمع کی جائیں تو اس لفظ کی تکرار ملے گی۔
وارسا (پولینڈ) میں بش نے اسامہ بن لادن کے بارے میں کہا تھا۔
This is an evil man
اکتوبر 11 کو بش نے کہا
تھا:
I think its essential that all moms, dads and citizen tell their children we love them and there is love in the world, but also remined them that there are evil people..
ایک سیاست دان عرصہ دراز سے سیاسی اصطلاحات کی بجائے مذہبی اصطلاحات استعمال کر رہا تھا، اُسے ان الفاظ میں مذہبی شخصیات کی اشیرباد چاہیے تھی، ویٹی کن یہ خدمت 2004ءسے انجام دے رہا ہے۔ قدیم یونان کی طرح آج بھی کلیسا کا اسقف بادشاہ کے دین پر مسیح کی تعلیمات تج دیتا ہے۔
عیسائیت کی ابتدائی تاریخ کے علاوہ کہ جس میں یہودیوں نے ’حواریوں‘ پر بہت ظلم کیا تھا، ابتداءکے چند برسوں کو چھوڑ کر عیسائیت کی پوری تاریخ نئے سماج کے ساتھ اپنی تعلیمات کو تبدیل کر دینے کے بدترین پاپ کی مرتکب چلی آرہی ہے۔ اگر عیسائیت نے کہیں ٹکر لی ہے تو وہ سائنسی اصولوں کی دریافت کے زمانے میں ایک صدی کی کشمکش پر مشتمل ہے۔ نئے زمانے نے بھی عیسائیت کو پچھاڑ کر رکھ دیا ہے۔ بدترین اخلاقیات کا حامل یورپ اور امریکہ کامعاشرہ، اصلاح معاشرت کیلئے پوپ سے کسی وعظ کی اُمید نہیں رکھتا۔ جوزف ریٹازنگر قدامت پرست کہلاتے ہیں۔ اُن کے وسیع مطالعہ نے اُنہیں دُنیا کے اہم ترین عہدے کا اہل بنایا ہے۔ وہ سخت گیر عقائد کی وجہ سے دوسرے عیسائی فرقوں میں معتوب بھی سمجھے جاتے ہیں۔ عورت کیلئے وہ پادری بننا جائز نہیں سمجھتے۔ مغربی فلسفہ حیات کو بھی اضافیت (Relativism) سے تعبیر کرتے ہیں کہ جس کے پاس مطلق حق نہیں ہے۔ اتنی گہرائی سے فلسفے اور تاریخ کو سمجھنے والا شخص پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم کے اسباب نہ جانتا ہو، یہ بہت بعید ہے۔ ساری دُنیا کو ایک تجارتی منڈی سمجھنا اور طاقتور کا اس منڈی پر قابو ہونا، اب تک کی جدید خون آشام تاریخ کا واحد فلسفہ حیات ہے۔ نسل پرستی نے اس دُنیا پر ایک اور جنگ مسلط کی، پوپ تو خود اس میں شریک رہ چکے ہیں، اُس کے باوجود وہ صہیونیت اور سام دشمنی کو ایک سمجھتے ہیں۔
مغرب نے مادہ پرستی سے بہت نقصان اٹھایا ہے اور آئندہ بھی اٹھائے گی مگر پوپ نے جن سماجی بیماریوں پر انگلی اٹھائی ہے وہ صرف ضبط تولید کی ممانعت، اسقاط حمل اور ہم جنس پرستی کو ناجائز قرار دینے پر مشتمل ہے۔ جملہ سیاسی امور میں ان کی زبان وہی ہے جو ایک عرصہ سے بش اور ٹونی بلیئر استعمال کر رہے ہیں۔
اسلام دشمنی میں ویٹی کن سے یہ کوئی پہلا بیان صادر نہیں ہوا ہے۔ ویٹی کن کے ترجمان اخبارات اور میگزین ایسے بیانات سے بھرے ہوئے ہیں۔ اٹلی کا ایک اخبار لکھتا ہے:
What the terrorists want in fact, not Iraq for the Iraqis, but Iraq for the assassins.
اس فقرے میں بھی 'assassins' مذہبی تاریخی پس منظر کا حامل ہے، صلیبیوں کے خلاف مسلمانوں کی طرف سے لڑنے والے مجاہدین۔
اٹلی کا ہی ایک اخبار لکھتا ہے:
In reality islamic terrorism has not changed the goals that it has pursued since its origin until the work of Osama bin Laden..
یورپ کے سنجیدہ اخبارات اِن بیانات کی نزاکت کو سمجھتے ہیں اور وہ بھانپ چکے ہیں کہ ویٹی کن ایک بڑی جنگ برپا کرنا چاہتا ہے۔ لیکن امریکہ اور یورپ میں زیادہ مقبول وہ اخبارات اور چینل ہیں جو بش، ٹونی بلیئر کی فکر کو فروغ دینے والے ہیں جیسے CNN، بی بی سی، Time وغیرہ۔
خود پوپ بینیڈکٹ اور ان کے پیش رو نیٹو کو فعال دیکھنا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے اب نیٹو کے مدمقابل سویت یونین نہیں ہے تو نیٹو کو کس کے خلاف فعال کرنا ہے۔ ویٹی کن کے خیالات عوام تک پہنچانے کا ایک بڑا ذریعہ ویٹی کن کے نمائندہ اخبارات ہیں۔ ایک اخبار لکھتا ہے:
That only an increased military presence including Nato troops, can secure peace.
برطانیہ کے ڈیلی ٹیلی گراف 10 اکتوبر 2004ءنے پے درپے ویٹی کن کے بیانات پر ایک آرٹیکل اس عنوان سے شائع کیا:
Vatican buries the hatchet with Blair and Bush over Iraq.
جوزف ریٹ زنگر تاریخ سے بہت باخبر انسان ہیں۔ ویٹی کن سے دور ’اسلام آف آیات اللہ‘ اور ’اسلام آف طالبان‘ میں انہیں انسانیت کیلئے ایک بڑا بلکہ سب سے بڑا خطرہ نظر آتا ہے لیکن ویٹی کن سے جڑے ہوئے اطالوی چینل کی دستاویزی عکاسی کی اطلاع انہیں نہیں ملتی۔ اٹلی کے صحافی نے اطالوی چینل سے ایک دستاویزی فلم جاری کی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ قابض فوج فلوجہ میں سفید فاسفورس سے شہریوں کو کیمیائی ہتھیاروں کا نشانہ بنا رہی ہے۔ صحافی نے مزید کہا کہ عراق میں یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔
پورے عراق کو محض غیر مصدقہ اطلاعات پر کیمیائی ہتھیاروں کی آماجگاہ بننے سے محفوظ بنانے کیلئے قبضے میں کرلیا جاتا ہے۔ اس پر ویٹی کن کی دبیز دیواروں سے کوئی آواز سنائی نہیں دیتی۔ فلوجہ میں عملاً سفید فاسفورس سے شہریوں کی زندگی دردناک موت کے سپرد کر دی جاتی ہے، ویٹی کن کی دیواریں اگر پتھر کی بھی ہوتیں تو شق ہو جاتیں، مگر وہاں دیواروں کی جگہ صرف کینے بھرے ہوئے ہیں۔
پوپ بینیڈکٹ نے شاہ قسطنطینیہ مینوئل دوم کے جس اقتباس کا حوالہ دیا تھا اُس میں علمی دیانت داری نہیں جھلکتی، ایک تو Twenty-six Dialogue with a Persian کی نسبت شاہ قسطنطینیہ سے یقینی نہیں ہے کیونکہ اس مکالمے کی روایت بہت مضبوط نہیں ہے۔ دوسرا پوپ بینیڈکٹ نے پورا متن دانستہ پیش نہیں کیاکیونکہ اسی مکالمے میں شاہ قسطنطینیہ مزید کہتا ہے۔
God is not pleased by blood and not acting reasonably is contrary to God`s nature. Faith is born of the soul, not the body. Whoever would lead someone to faith needs the ability to speak well and to reason properly Does not need a strong arm, or weapons..
شاہ قسطنطینیہ سکڑتی ریاست کے وارث ہونے کے ساتھ ساتھ ادب خصوصاً مکاتیب، شاعری (نظم) اور الٰھیات (تھیالوجی) میں پوپ بینیڈکٹ کی طرح یدطولیٰ رکھتے تھے۔ اس اقتباس میں مینوئل دوم اپنے دعوے سے خود ہی خیانت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ محمد ﷺ کی دعوت چار سو پھیلی، غیر عرب اقوام نے محمد ﷺ کی دعوت کو بڑھ چڑھ کر قبول کیا۔ ان اقوام میں صرف ترک ہی نہیں ہیں کہ جن کے بارے میں امکان ظاہر کیا جا سکے کہ جہاں بانی کے شوق نے انہیں اسلام قبول کرنے پر اکسایا ہوگا، وسطی ایشیا کہ جن سے علم حدیث کے سوتے پھوٹے اور افریقہ جو اسلام لا کر متمدن دُنیا میں باوقار مقام کا حامل ہوا تھا اور جاوا کے جزیرے اور مشرق بعید جہاںکبھی عرب یا ترک افواج کا رخ ہی نہیں ہوا تھا، جوق درجوق اور شوق برشوق محمد ﷺ کی دعوت پر لپکتے آئے۔ مینوئل دوم کے اپنے اصول کے تحت یہ کام Speak Well اور Reason اور (روح) Soul کو تسخیر کئے بغیر ہوتا نہیں۔ محمد ﷺ کی خطابت کوئی عرب کے فصحاءاور شعراءسے پوچھے، آپ ﷺ کی بعثت کے بعد شاعروں کی زبانیں ہکلانے لگی تھیں، قلم صرف قرآن لکھتا تھا اگر بالفرض محال مستشرقین کے دعویٰ کے مطابق یہ آپ ﷺ کی تصنیف تھی جو معاذاللہ تورات سے ماخوذ تھی، تسلیم کرلیا جائے، علم وراثت، دیوانی اور فوج داری قوانین اور علم اخلاقیات کو کروڑوں انسانوں نے قبول کیا، بڑے بڑے نامور قانون دان اپنی تمام صلاحیتیں صرف محمد ﷺ کے اقوال کی شرح تک محدود کر دیتے ہیں۔ اگر آپ ﷺ کا قول ان کے ہاں صحیح روایت سے پہنچ جاتا ہے تو وہ اپنی آراءسے بہ خوشی دست بردار ہو جاتے ہیں۔ علم نحو، علم بیان، علم تجوید اور لسانیات کے علوم محض اس لئے ابل پڑتے ہیں کہ آپ ﷺ کے اقوال کا غلط مفہوم نہ اخذ کر لیا جائے۔ اور تو اور، آپ ﷺ کا چہرہ مبارک اگر کسی وقوعے پر عنابی ہو جائے یا مسکراتے ہوئے موتیوں کی لڑیاں جگمگا جائیں تو علم فقہ میں فقہاءکرام کیلئے احکام نکالنے میں قرینہ بن جاتے ہیں۔ جس Reasning کا آج تک عیسائیت جواب نہیں دے سکی ہے اُسے غیر عقلی دین کہنا آفتاب کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ عیسائیت کہتی ہے ن اﷲ ثٰلث الثلٰثۃ (اللہ تین میں کا ایک ہے) جبکہ محمد ﷺ (قرآن) کہتے ہیں۔ لو کان فیھما آلھۃ لا اﷲ لفسدتا (اگر زمین وآسمان میں ایک اللہ کے سوا دوسرے خدا بھی ہوتے تو (زمین وآسمان) دونوں کا نظام درہم برہم ہو جاتا۔
یورپ میں سائنٹفک reasoning کرنے والوں کے ساتھ پاپائے روم کے فتوے پر کیا حشر ہوا کرتا تھا، سولہویں اور سترھویں صدی کی مرتّب تاریخ Reasning کرنے والوں کے انجام سے بھری ہوئی ہے۔ کوئی عیسائیوں سے پوچھے کہ عقل عام کا غیر جانبدارانہ فیصلہ کیا ہے۔ عیسائی مذہب کا قریب ترین حلیف مذہب، یہودیت ہے یا اسلام، یہودیوں نے مریم علیہا السلام پر الزام لگایا، اسلام نے انہیں کنواری، پاک دامن اور جنت میں چند برگزیدہ ہستیوں میں شمار کیا۔ یہودی عیسائیوں کے نزدیک یسوع مسیح کو سولی دینے والے ہیںا ور انہیں پیغمبر تو دور کی بات منحرف مذہب کہتے ہیں۔ اسلام انہیں نہ صرف پیغمبر تسلیم کرتا ہے بلکہ اولوالعزم پیغمبر تسلیم کرتا ہے۔ دونوں تھیالوجسٹ حضرات کی منطق کیا کہتی ہے، اسلام میں عیسائی بزرگوں کا احترام پایا جاتا ہے یا یہودیت میں! کیا یہودیت وہی مذہب نہیں ہے جس پر لعنت کرنے کا حکم پاپائے روم سے صادر ہوا کرتا تھا۔ عیسائی مذہب کے ازلی دشمن کس منطق کی رو سے اب آپ کے ہاں دوست شمار ہونے لگے ہیں، اور اُن پر کوئی حملہ، سامی نسل پر حملہ کرنے کے مترادف سمجھا جانے لگا ہے۔
پوپ بینیڈکٹ اور مینوئل دوم میں تھیالوجسٹ ہونے کے علاوہ ایک اور بھی مماثلت پائی جاتی ہے۔ بازنطینی سلطنت مینوئل دوم سے پہلے ہی شکست وریخت کاشکار تھی، خود مینوئل نے اپنے بھتیجے سے اپنی آبائی ریاست ویلندیزیوں کی مدد سے حاصل کی تھی۔ ترک (عثمانی خلافت) سلطنت مشرقی یورپ کو اپنے اندر سموتی جا رہی تھی، مینوئل دوم سلطان بایزید اول کا باجگزار تھا، مینوئل دوم ریاست کا انتظام اپنے ایک اور بھتیجے کو سونپ کر یورپ کے طوائف الملوک حکمرانوں کو اسلام کی غلط تصویر پیش کرکے متحد کرنے کی کوشش میں کئی برس کھپا دیتے ہیں اور اس کا نتیجہ محض یہ نکلا کہ مینوئل دوم کی وفات کے چند ہی برس بعد قسطنطینیہ عثمانی خلافت کے زیرنگیں آجاتا ہے اگلی ہزاری کیلئے۔ بازنطینی سلطنت کا ہزار سالہ دور انجام کو پہنچتا ہے، ہمیشہ کیلئے، سکڑتی اور محصور ریاست کا والی مخالفین کے مذہب کو کس طرح پیش کرے گا، ترکی سے نفرت ہی دونوں اسکالر میں مشترک ہے کیونکہ اب جبکہ ترکی ایک مرتبہ پھر یورپ میں ایک اور ہی انداز سے گھسنے کے پر تول رہا ہے، پوپ بینیڈکٹ کو بازنطینی سلطنت کے زوال کا سماں یاد آجاتا ہے۔ پوپ بینیڈکٹ ترکی کی یورپی برادری میں شمولیت کے سخت مخالفین میں شمار ہوتے ہیں۔
بش بلیئر کمپنی میں شامل ہونے کی ایک اور وجہ بھی ہے۔ امریکہ اور مغرب میں امیگریشن کے قوانین میں نرمی کی وجہ سے مسلم آبادی بہتر روزگار کیلئے وہاں کا رخ کرتی رہی تھی۔ اب جبکہ مسلم آبادی میں اپنے دین کی طرف رجوع کرنے کا رحجان بڑھ رہا ہے اورمغرب ایک مرتبہ پھر Reasoning سے دستبردار ہو رہا ہے تو سخت قوانین کی ضرورت ہے۔ مغربی ممالک میں قانون سازی کا کام انتہائی دشوار اور طویل سمجھا جاتا ہے۔ اسے مختصر اور آسان کرنے کیلئے ایسے بیانات کی ازحد ضرورت ہے جو سینٹ کے سنجیدہ ارکان میں بھی تعصب پیدا کردیں۔ دوسرا قوانین میں تبدیلی کا اطلاق سب مذاہب پر ہوگا۔ خاص مسلم آبادی کو کیونکر نشانہ بنایا جا سکتا ہے، اس کی تدبیر یہ ہے کہ مغربی سماج میں عمومی طور پر مسلم آبادی کے خلاف نفرت پیداکی جائے اور وسائل پر قابض طبقہ انہیں اہلیت کے باوجود ملازمت نہ دے۔
لاطینی امریکہ اور مشرقی یورپ سے مغرب کی طرف نقل مکانی کے بڑھتے ہوئے رحجان نے بھی مسلم آبادی کی اہمیت کو کم کردیا ہے۔ ان ممالک سے آکر بسنے والے کم اجرت پر اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ اسلام کے خلاف تعصب ارباب حل وعقد کو یہ کڑوا گھونٹ پینے پر آمادہ کردے جو نووارد آبادی کی نقل مکانی سے جرائم میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔
ان ممالک سے نقل مکانی کرکے مغرب میں آنے والوں میں ایک اور خوبی بھی پائی جاتی ہے اور وہ یہ کہ ان کے ہاں کوئی ایسی اخلاقی یا روحانی قدر نہیں پائی جاتی جس پر وہ ڈٹ جائیں اور جس سے ’تہذیبوںکے تصادم‘ کا خطرہ بڑھ جائے۔
مغرب میں وار لارڈز اور پوپ ایک زبان استعمال کر رہے ہیں۔ اسلام کے خلاف جو جنگ برپا ہو چکی ہے اس کا تھم جانا قریب قریب ناممکن ہے۔ ہمارے مخلص دانشور تاریخ ساز مغربی فلاسفر، ریاضی دان اور مستشرقین کے وہ اقتباسات ڈھونڈ ڈھونڈ کر لا رہے ہیں جس میں انہوں نے اسلام کو عیسائیت کے مقابلے میں برملا مبنی برعقل مذہب کہا ہے۔ پوپ بینیڈکٹ سے ایسے اقتباسات اوجھل نہیں ہوں گے لیکن ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ عیسائی ایمانیات کی پہلی بنیاد یہ ہے کہ وہ ایمانیات کو ماورائے عقل کہتے ہیں۔
عیسائیوں پر ان کے تصور الہ کو غیر منطقی ثابت کرنے کا ذرا بھی اثر نہیں ہوگا، وہ اس کے پہلے سے قائل ہیں۔ اس نقص کا حل انہیں سمجھ آچکا ہے۔ ایک یہ کہ ایمانیات ماوراءالعقل ہوتی ہیں اور دوسرا یہ کہ طاقت منطق پر غالب آتی ہے۔ کل بھی عیسائیت کے علم بردار طاقت پر ایمان رکھتے تھے آج بھی ان کا ایمان طاقت ہے۔
ہمیں علم الکلام کے اساتذہ سے زیادہ ایک مرتبہ پھر ’متنبی‘ کی ضرورت ہے۔
السیف اصدق انبائً من الکتب
”منطق سے زیادہ تلوار سچ کر دکھاتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭