Download in PDF Format

سازش کے محرکات

ماخوذکتاب گھر:

محمد اسلم لودھی

یہ گزشتہ برس کی بات ہے جب 5 تا 8 مئی تک بلڈر برگ گروپ کی کانفرنس منعد ہوئی۔ بلڈر برگ گروپ کے تعارف کیلئے اس کا لوگو ہی کافی ہے جو خطرے کے اس نشان کے نیچے ایک ہاتھ گلوب کو اپنی ہتھیلی پرگھماتا نظر آتا ہے۔ گلوب پر دُنیا کا آدھا حصہ روشن اور آدھا حصہ تاریک ہے جو بذات خود انتہائی ذومعنی ہے۔

بات ہو رہی تھی گزشتہ برس ہونے والی بلڈر گروپ کی کانفرنس کی جو جنوبی جرمن ریاست بیویریا میں ڈونٹ سی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ توہین رسالت پر مبنی پہلا خاکہ اسی برس ستمبر کے مہینے میں شائع ہوا۔ بلڈر برگ گروپ کی یہ کانفرنس کتنی اہم تھی اس کا اندازہ اس کے شرکاءکے نام پڑھ کر آپ کو خود ہی ہو جائے گا۔ اس میٹنگ میں مائیکل لیڈین بھی تھا، رچرڈ پرلے اور ولیم لتی بھی۔ تینوں پاگل پن کی حد تک فاسشٹ ہیں اور ان کی یہ خوبی باقاعدہ تصدیق شدہ ہے اور پاملے کیس، یلو کیل جعل سازی کے کیس اور لارڈ کونریلڈ بلیک کیس میں عدالتی کارروائی بھگت رہے ہیں۔ یہ شخصیات بلڈر برگ گروپ کی تمام کانفرنسوں میں شرکت کرتی ہیں اس امید پر کہ شاید انہیں انتہائی متوقع سزا سے چھٹکارا مل جائے اس کیلئے وہ کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں، خاص کر عراق کے حوالے سے تو انتہائی بغض کا اظہار وہ سوائے یہودیوں کے دل جیتنے کے اور کسی چیز کیلئے نہیں کر رہے ہیں۔ جیل سے باہر رہنے کی امید میں یہ تینوں ایران کے خلاف بڑی جنگ کی حمایت میں بالکل جنونی ہو گئے ہیں۔ دیگر شرکاءمیں ڈچ، بلجیم اور ہسپانوی اشرافیہ، ٹاپ بیورو کریٹس اور نیٹو کی اعلیٰ شخصیات بشمول نیٹو کے سیکرٹری جنرل ہاپ ڈی شیفر بنفس نفیس موجود تھے۔ جو برسلز سے بیویریا صرف اس کانفرنس میں شرکت کیلئے آئے تھے۔ انٹرنیشنل یہودی بینکار رنیمیا نراک فلر اور روتھس چایملڈ خاندان کے افراد بھی اس کانفرنس میں موجود تھے اور سابق امریکی وزیر خارجہ اور یہودیوں کے ممتاز رہنما ہنری کسنجر کے بغیر تو شاید یہ کانفرنس منعقد ہی نہ ہوتی۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی، ڈنمارک کی مشہور شخصیت اینڈرزا یلڈرپ بھی موجود تھے۔ دُنیا کے سب سے طاقتور مرد اور چند خواتین جو بلڈر برگ کانفرنس میں شریک ہوئے انہیں انتہائی سخت سکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔ خود بلڈر برگ کی ویب سائٹ کے مطابق بلڈر برگز (بلڈر برگ گروپ کے ارکان) کو انگلستان کی ایم آئی 6، امریکی سی آئی اے، اسرائیلی موساد اور جرمنی کی اسپیشل فورسز اور سیکرٹ پولیس تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ اینڈرز ایلڈرپ کے بارے میں آپ کو بتاتے چلیں کہ یہ شخص (Danish Oil and Natural Gas) کا چیئرمین ہے مگر اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ شخص ایلڈرپ نامی عورت کا شوہر ہے جو جیلنڈز پوسٹن اپولیٹکنز نامی اس پبلی کیشن فرم کی منیجنگ ڈائریکٹر ہے جس نے سب سے پہلے توہین رسالت پر مبنی کارٹون شائع کیا تھا۔ بلڈر برگ گروپ جنگ عظیم دوم کے بعد بنا اور اس کے بنانے والے برطانوی شہزادہ پرنس فلپ (جو قاتل شہزادے کے نام سے معروف ہے) اور نازی ایس ایس ہالینڈ کے پرنس برنارڈ تھے۔ یہ گروپ دُنیا کے مالیاتی بڑوں کی نمائندگی کرتا ہے جو امریکی وبرطانوی رہنماﺅں کی سرکردگی میں باہم ملتے ہیں اور بڑے اسٹرٹیجک معاملات پر مشترک لائحہ عمل تیار کرتے ہیں۔ ایک ہی مثال سے آپ کو بات بآسانی سمجھ میں آجائے گی کہ بلڈر برگ گروپ والے کن اسٹرٹیجک معاملات پر مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے کیلئے جمع ہوتے ہیں۔ 1973ءکو سویڈن میں اسٹاک ہوم کے قریب سالٹس جو باڈن کے مقام پر ہونے والی بلڈر برگ کی کانفرنس میں رائل ڈچ شیہل کے 1973ءکے منصوبوں کیلئے مشترکہ طور پر حتمی فیصلے ہوئے۔ یہ منصوبے اکتوبر 1973ءکے مشرق وسطی کی جنگ اور عربوں کی طرف سے تیل کی سپلائی منقطع ہونے کے بعد کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے بنائے گئے تھے۔ جاپان اور یورپ کو لوٹ کر امریکی ڈالر کو استحکام اور اٹلانٹک بینکنگ سسٹم کو دوام دینا اس کانفرنس کا اولین مقصد تھا۔

5 مئی 2005ءکو بلڈر برگ گروپ کی کانفرنس کے حوالے سے ویبسٹر گرفین نے اپنے آرٹیکل میں لکھا ہے ”اس بات کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ (توہین رسالت پر مبنی) گستاخانہ خاکوں کے ذریعے اشتعال پھیلانے کا منصوبہ اس کانفرنس میں شامل کیا گیا تھا، گریفین کا کہنا تھا کہ ”اس اشتعال کا مقصد واضح تھا، اب تک مسلمان امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کیلئے نفرت کے جذبات رکھتے تھے مگر خاکوں کی اشاعت کے بعد ڈنمارک، ناروے، فرانس اور جرمنی مسلمانوں کی شدید نفرت کا ٹارگٹ بن چکے ہیں۔ یوں سیموئیل ہینلسٹن کے تہذیبوں کے تصادم کے نظریے کو ایک حقیقت ثابت کرنے کیلئے راہ ہموار ہو گئی ہے۔ گریفین کے مطابق ”یورپ اب ایران کے خلاف جنگ کرنے کیلئے پہلے کی نسبت زیادہ حمایت فراہم کرنے کی پوزیشن میں آگیا ہے۔ فلسطین میں جمہوری طریقے سے منتخب ہونے والی قیادت حماس کے حوالے سے یورپ کا وہ رویہ بہت کچھ سمجھا رہا ہے جو اس نے فلسطین کو دی جانے والی تمام امداد روک کر اپنایا ہے۔

بحوالہ The Muhammad (PBUH) Cartoon Rerniting Europ for Bush war on Iran by webster griffin)

ویبسٹر گریفین نے ایک اور اہم نقطے کی طرف بھی اشارہ کیا ہے، اس کے مطابق شام، ایران اور لبنان میں ڈنمارک کے سفارت خانے جلائے جا چکے ہیں۔ یہ سب اچانک نہیں ہوا بلکہ کرایوں پر بھرتی کئے ہوئے مظاہرین نے یہ سب کچھ کیا تھا۔ بیروت میں اقوام متحدہ کے اہلکاروں نے سی این این کو بتایا کہ ”ہمیں پرتشدد مظاہروں کا پہلے سے علم تھا“ تمام تر صورتحال یورپی عوام کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گئی ہے کہ مغرب اور مسلم دُنیا کے ساتھ تہذیبوں کا تصادم اب ایک طے شدہ امر بن چکا ہے۔ جرمنی، فرانس، بیلجیئم اور دیگر یورپی ممالک نے 2003ءمیں ایران پر حملے کا بش اور بلیئر کا منصوبہ مسترد کردیا تھا۔ اسی وقت سے امریکی وبرطانوی اٹلانٹک انٹیلی جنس یورپی حکمرانوں کو سبق سکھانے کا تہیہ کر چکی تھی۔ جرمنی چانسلر شیروڈر کی جگہ مسز مرکل لائی گئیں جو وال اسٹریٹ اور سٹی آف لندن کی کٹھ پتلی ہیں۔ فرانس میں صدر شیراک سے یورپی یونین کا آئین تسلیم کرانے جیسی غلطی کرا کے ان کی صدارت کو انتہائی کمزور کردیا گیا۔ صدر شیراک اس حالت پر پہنچ گئے ہیں کہ انہوں نے ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے تک دھمکی دے دی ہے۔ یہ وہی شیراک تھے جو 2003ءمیں ایران پر بش و بلیئر حملے کے سب سے بڑے مخالف تھے اور صرف اکیلے شیراک کی مخالفت حملہ رکوانے کی اکلوتی وجہ قرار دی جا سکتی ہے۔ اب وہ دن گئے کہ جب صدر شیراک تہذیبوں کے تصادم کے نظریے کے پرزور مخالف سمجھے جاتے تھے (بحوالہ: ویبسٹر گریفین، ایضاً)

جیلنڈر پوسٹن نامی ڈنمارک کے اخبار میں توہین آمیز خاکوں کا چھپنا کوئی ایسی غلطی نہیں جو نادانستہ طور پر سرزد ہوئی۔ یہ ایک گہری سازش ہے مسلمانوں کو گھیرنے کی۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمان وہ کون سا راستہ اختیار کریں جو اپنے اثر کے لحاظ سے موثر ترین اور ردعمل کے لحاظ سے اینٹ کے جواب میں پتھر ہو۔ اکثر یہی جواب سننے میں آئے گا کہ مسلمان سوائے چیخنے چلانے کے اور کر بھی کیا سکتے ہیں، نہیں ایسا ہرگز نہیں، مسلمانوں کے پاس ایک دو نہیں کئی ہتھیار ہیں جن کا بہترین استعمال ہی ڈنمارک کے اخبار سے شروع ہونے والی خباثت بھری سازش کا جواب ہے۔ ان میں سے ایک ہتھیار وہ ہے جس کے استعمال کا ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم مہاتیر نے کچھ عرصہ قبل مشورہ دیا تھا۔ مہاتیر محمد کا کہنا تھا ”اب گلے شکوے کرنے کا وقت گزر چکا ہے وہ وقت آچکا ہے کہ ”ڈالر“ کو دفن کردیا جائے“۔ مہاتیر کا یہ مشورہ ان کی دوراندیشی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ حقیقی رہنما آنے والے حالات کو پہلے سے ہی بھانپ لیتے ہیں۔ گریفین کے الفاظ میں ڈالر کا گرنا ہی انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (IMF) اور وولفوٹز کے ورلڈ بینک کا گرجانا ہے جو دُنیا بھر کی سازشوں کو پروان چڑھانے کیلئے عظیم ترین انجمنوں کا کام کر رہے ہیں۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭