Download in PDF Format

اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے

 

صومالیہ میں القاعدہ کی تلاش

محمد زکریا

افغانستان میں نوزائیدہ امارت اسلامی کو کابل سے بے دخل کرنے کے بعد امریکہ کی توجہ کا مرکز مشرق وسطی بنا رہا، مشرق وسطی کی ’تشکیل نو‘ کی امید پر امریکہ کے شرپسند عناصر (وار لارڈز) اسرائیل کو لبنان کی حزب اللہ سے بھڑا کر جو نتائج حاصل کرنا چاہتے تھے وہ تو حاصل نہ ہو سکے البتہ خفت اور رسوائی کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے ممالک (وینزویلا) بھی اب امریکہ کے منہ کو آنے لگے ہیں۔ گھٹتی آبادی کا شکار امریکہ ایک وقت میں چند محاذوں پر ہی اپنی توجہ مرکوز کر سکتا ہے، جب صومالیہ میں خفیہ اداروں کو اپنی مستعدی دکھانے کا موقع ملا تو اس وقت تک ڈھیروں پانی سر سے گزر چکا تھا۔ ایک عرصہ سے اسلامی عدالتیں اپنے اپنے قبائلی دائرے میں رہتے ہوئے عوام الناس کے فوج داری اور دیوانی تنازعات شریعت کے مطابق حل کر رہی تھیں۔ اغوا بالجبر کے ایک واقعے نے انہیں متحد کر دیا اور چند ہی ہفتوں میں صومالیہ کے شہر ’جوہر‘ میں سرگرم عمل اسلامی عدالتوں کا والہانہ استقبال صومایہ کے دارالحکومت ’موغادیشو‘ میں ہو رہا تھا۔ موغا دیشو کا انتظام سنبھالنے میں انہیں زیادہ مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ جلد بازی میںامریکہ نے صومالیہ کے شرپسندوں (وار لارڈز) کی جو ایک متحدہ تنظیم (ARPTC (1 بنائی تھی اس کے کرائے کے غنڈے نہتے اور غیر متحد عوام کو بھنبھوڑنے کا فن تو جانتے تھے، ایمان، جذبے اور صالح قیادت نے جب انہیں تحریک کا رخ دے دیا تو اُن کے سامنے کرائے کے غنڈے تو کیا خود وار لارڈز نے ہتھیار پھینک دئیے۔ وار لارڈز میں سے جن کے دلوں پر مہر نہیں لگی تھی انہوں نے عوام کے سامنے اپنے جرائم کی معافی مانگی اور شیخ شریف نے سیرت یوسفی کی طرح انہیں خندہ پیشانی سے معاف کردیا متحدہ اسلامی عدالتوں کے سربراہ نے اپنے پہلے بیان میں کہا کہ صومالیہ میں مستقل حکومت کی تشکیل کا فیصلہ صومالیہ کے عوام کریں گے، اسلامی عدالتیں پہلی فرصت میں ملک میں امن قائم کرنے کا عزم لے کر آئی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ صومالیہ میں متنازع فریق پہلے بھی اسلامی شریعت کے مطابق فیصلے کرواتے تھے، آئندہ بھی اسلامی شریعت ملک کا قانون ہوگا تاہم عرصہ دراز سے قحط سالی کی وجہ سے ’حدود اللہ‘ حالات کے سازگار ہونے تک موقوف کی جاتی ہیں۔

نئی انتظامیہ کے اقتدار سنبھالنے تک پڑوسی ملک اتھوپیا اپنی افواج کو صومالیہ کی سرحدوں کی طرف کوچ کرنے کا حکم دے چکا تھا، ادھر امریکی بحری بیڑے نے بھی بحر ہند میں ارتعاش پیدا کردیا تھا، خلیج عدن وہاں سے زیادہ دور نہیں تھی۔

واقعات کی ترتیب:

اقتدار کی رسہ کشی کی وجہ سے جنرل محمد سیاد بری کو 1991ءمیں موغادیشو چھوڑنا پڑا، مرکزی حکومت کی غیرموجودگی میں شرپسند عناصر کو غنڈہ گردی کا موقع مل گیا، مشرقی افریقہ (Harn of Africa) میں قحط سالی کی وجہ سے پانی اور خوراک کم یاب تھی، جس کی وجہ سے اقوام متحدہ کو وہاں امدادی کیمپ لگانے پڑے۔ اِس موقع سے امریکہ نے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور اقوام متحدہ کی طرف سے امریکہ نے انسانی ہمدردی کے نام پر وہاں سیاسی مداخلت شروع کردی۔ افغان جہاد میں اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ دوش بدوش جہاد میں شریک عناصر اپنے ملک کی طرف متوجہ ہوئے اور امریکہ کو رسوائی کے ساتھ وہاں سے نکلنا پڑا۔ دور بیٹھ کر بھی امریکہ شرپسند عناصر کی سرپرستی کرتا رہا، اس سے پیشتر غلط اعداد وشمار کو بنیاد بنا کر امریکہ، پڑوسی ملک اتھوپیا میں عیسائی حکومت تشکیل دے چکا تھا۔ انارکی پسند امریکہ اور اتھوپیا کا مفاد اِسی میں تھا کہ صومالیہ میں مرکزی حکومت قائم نہ ہو۔ اتھوپیا ایک ایسا ملک ہے جس کی بندرگاہ کی ضرورت صومالیہ سے پوری ہوتی ہے۔ سودے بازی پر قادر حکومت ظاہر ہے چند شروط پر ہی اپنی بندرگاہ کے استعمال کی اجازت دے گی، دوسرا صومالیہ کے شمالی سرحدی علاقے بھی اتھوپیا کے قبضے میں ہیں، مضبوط حکومت کی صورت میں وہ اپنے سرحدی علاقوں کی بازیابی کی بھی کوشش کرے گی اس لئے اتھوپیا کا مفاد صومایہ کی خانہ جنگی میں ہے۔

عوام الناس کے روزمرہ مسائل اور تنازعات کیلئے محکمہ پولیس اور عدلیہ غیر مؤثر تھے۔ صومالیہ کی بیشتر آبادی قبائل پر مشتمل ہے۔ صد فیصد سنی مسلمان، دل وجان سے اسلام کو پسند کرتے ہیں۔ قبائلی غیر جانبدار سرکردہ شخصیات بدامنی کے طویل عرصے میں اسلامی شریعت کے مطابق تنازعات کا فیصلہ کرتے تھے۔ جنوبی صومالیہ کا شہر ’جوہر‘ بڑی آبادی پر مشتمل ہے اس لئے یہاں اسلامک کورٹس کی سرگرمیاں نمایاں تھیں۔ شیخ شریف شیخ احمد اُن دنوں پہلے لیبیا اور پھر سوڈان میں اپنی تعلیم مکمل کر رہے تھے۔ شریعہ اینڈ لاءمیں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ جوہر میں ابتدئی تعلیم کے مدارس میں تدریس کے فرائض انجام دیتے تھے۔ تدریس کے علاوہ سماجی مسائل میں بھی وہ صدق دل سے شریک ہوتے تھے۔ پورے شہر میں اُن کیلئے احترام پایا جاتا تھا۔ جوہر میں ایک نوجوان اغوا ہو گیا تو شیخ نے اُسے اغوا کاروں سے رہائی دلانے کا عزم کیا اور معززین شہر کی مدد سے جلد ہی مغوی کو رہا کرا لیا۔

ہر قبیلے میں تنازعات چکانے کیلئے الگ الگ اسلامی عدالتیں پہلے سے سرگرم عمل تھیں۔ ان میں سرکردہ گیارہ عدالتیں شہریوں میں اپنی ساکھ بنا چکی تھیں۔ عدالت سے وابستہ ذمہ داران کے مشاہرے اور عدالتی کارروائی کے اخراجات متنازع فریق اٹھاتے تھے، اس لئے کسی پر بھی اسلامی عدالتوں کا مالی بوجھ نہیں تھا۔ غنڈوں سے نبرد آزما ہونے کے بعد معززین شہر نے یہ فیصلہ کیا کہ شہر کی سرکردہ گیارہ عدالتوں کو متحد کردیا جائے۔ اگلے روز معززین شہر شیخ شریف سے کہہ رہے تھے کہ اہلیان ’جوہر‘ نے آپ کو گیارہ عدالتوں کا سربراہ منتخب کیا ہے۔

غنڈہ گردی نے شہر کی تجارت پر بہت بڑا اثر ڈالا ہوا تھا۔ سوائے غیر ملکی تجارتی اداروں کے مقامی تاجر اور صنعت کار آئے روز کی غنڈہ گردی سے تنگ آچکے تھے۔ مقامی تاجروں نے بازار کی رونق کو بحال کرنے کیلئے الامر بالمعروف والنھی عن المنکر کو بنیاد بنا کر شہر کے امن کی ذمہ داری بھی شیخ شریف کو سونپ دی۔ اپنے حقوق کیلئے لوگوں کو مسلح رہنا پڑتا تھا۔ خانہ جنگی نے انہیں لڑنا بھی سکھا دیا تھا۔ ایک بڑی تعداد افغانستان میں جہاد میں بھی شریک رہ چکی تھی اور نظم میں رہ کر اسلامی احکام پر چلنا سیکھ چکی تھی۔ فعال ملیشیا امریکی افواج کو بھی خلیج عدن تک دھکیل چکی تھی، صرف دانا قیادت کی کی کمی تھی، شیخ شریف کے چناؤ نے یہ پوری کردی۔ دیکھتے ہی دیکھتے پورے مشرقی افریقہ میں جوہر مثالی شہر بن گیا۔ قحط سالی اور مرکزی حکومت کے انخلاءکی وجہ سے درس گاہیں غیر فعال اور طلبہ کی روز بروز گھٹتی تعداد کا شکار تھیں۔ شعبہ تعلیم شیخ شریف کا ویسے ہی پسندیدہ میدان تھا۔ جس شعبے کی سربراہی پر وہ تہہ دل سے خوش تھے وہ یہی شعبہ تھا۔ بازار کے ساتھ ساتھ درس گاہوں کی رونق سے شہریوں کے مرجھائے چہروں کی بشاشت بحال ہوئی۔ قحط سالی سے خوراک کی کمی تو دو رنہیں ہوئی تھی مگر روحانی غذا نے انہیں موغا دیشو کی سمت اپنے دوسرے بھائیوں کی مدد کیلئے آمادہ کرلیا تھا۔ دارالحکومت کے سرکردہ لوگ پہلے ہی آس لگائے ہوئے تھے۔ شرپسندوں نے کرائے کے غنڈے بھرتی کر رکھے تھے، امریکہ کی پوری پشت پناہی انہیں حاصل تھی، مگر دارالحکومت میں کسی بھی غیر جانبدار شہری کی انہیں حمایت حاصل نہ تھی، بلکہ وار لارڈز شہریوں کیلئے باعث نفرت تھے۔ معمولی مزاحمت کے بعد، جسے مغربی ذرائع ابلاغ نے بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ موغا دیشو کا انتظام متحدہ اسلامک کورٹس سنبھال چکے تھے۔ مئی 2006ءمیں ہارن آف افریقہ نئے آفتاب کو طلوع ہوتا دیکھ رہا تھا۔ اپنے زیرانتظام علاقوں میں اسلامک کورٹس منشیات کی تجارت، اسلحے کی فروخت، جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی، بھتہ، جوئے اور فحاشی کے اڈوں پر مکمل طور پر پابندی لگا دیتے، وار لارڈز کی آمدنی کے ذرائع علاوہ امریکی امداد کے یہی ہوتے تھے۔

ثمرات:

متحدہ اسلامک کورٹس (ICU) کو تمام قبائل اور گنجان آبادی والے جنوبی صومالیہ کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ شمالی علاقے اور کینیا کے ساتھ متصل سرحدی علاقوں میں بھی اسلامی کورٹس کی مخالفت نہیں پائی جاتی۔ امید ہے کہ جنوب میں مکمل استحکام حاصل کرنے کے بعد پورے صومالیہ میں متحدہ اسلامی کورٹس کی انتظامیہ اقتدار سنبھال لے گی۔ اس مضمون کی تکمیل کے دوران (ستمبر کے تیسرے ہفتے) میں تیسری اور آخری بندرگاہ اور تجارتی شہر کیسمایو بھی متحدہ اسلامک کورٹس کے بلامزاحمت اور اپنی مرضی سے زیرانتظام آگیا ہے۔ متحدہ اسلامک کورٹس کی انتظامیہ میں تمام قبائل کی نمائندگی موجود ہے۔

انتقال پذیر حکومت Transitional Government کے اس مطالبے کو متحدہ اسلامک کورٹس نے پورے زور سے مسترد کردیا ہے کہ ملک میں بین الاقوامی امن فورس کو لایا جائے۔ اسلامک کورٹس کے اس فیصلے کی دارالحکومت موغا دیشو میں شہریوں نے بھرپور حمایت کی ہے۔

اسلامک کورٹس، متحد ہونے سے پہلے تمام فیصلے شریعت کے مطابق کرتے تھے بشمول ’حدود اللہ‘ از قسم زنا، سرقہ اور سرعام کوڑے۔ ملک عرصہ دراز سے قحط سالی کا شکار ہے۔% 14 قابل کاشت اراضی بنجر ہو چکی ہے۔ یونیسف کے سروے کے مطابق مزید %68 اراضی کے بنجر ہوجانے کا قوی امکان ہے۔ بعض علاقوں میں %70 سے %80 گھریلو آمدنی، صرف پینے کے میٹھے پانی کے حصول پر اُٹھ جاتی ہے۔

ہارن آف افریقہ میں پندرہ لاکھ بے گھر افراد کی خوراک کیلئے روزانہ تیس ہزار مویشی ذبح کرنے پڑتے ہیں۔ قحط سالی اور خانہ جنگی کی وجہ سے صومالیہ کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں سے نقل مکانی سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ پڑوسی ملک یمن میں نوے ہزار صومالی مہاجرت کی زندگی گزارنے پرمجبور ہیں۔ ان حالات کو سامنے رکھتے ہوئے متحدہ اسلامک کورٹس نے ’حدود‘ حالات کے معمول پر آنے تک موقوف کردی ہیں۔ حدود کی بجائے قاضیوں کو تعزیرات لگانے کا حکم دیا گیا ہے۔

پڑوسی ملک کینیا نے نئی انتظامیہ کا اثر ونفوذ دیکھ کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ وار لارڈز میں سے کسی شخص کو پناہ نہیں دے گا۔ فی الواقع کینیا نے ایک شخصیت کو نیروبی ائیر پو رٹ سے واپس کردیا تھا۔

سوڈان نے بین الاقوامی امن فورس کی دارفور میں ضرورت سے انکار کردیا ہے۔

عرب لیگ کو پہلی مرتبہ فعال ہونے کا موقع ملا ہے۔ عرب لیگ کی کوششوں سے سوڈان میں اسلامک کورٹس اور انتقال پذیر حکومت کے مرکزی نمائندوں کے درمیان کامیاب مذاکرات ہوئے ہیں۔ انتقال پذیر حکومت جو اب تک مذاکرات سے پس وپیش کر رہی تھی، اُسے بلا شروط ان کوششوں سے مذاکرات کی میز پر آنا پڑا ہے۔

اسلامی ابلاغ عامہ پوری دیانت داری سے حالات کو عکس میں اُتار رہا ہے اور سرکردہ مذہبی شخصیات رہنمائی بھی کر رہی ہیں۔ کُل عالم اسلام متحدہ اسلامک کورٹس کیلئے ہمہ تن دُعاگو اور اُن کیلئے کچھ کرنے پر آمادہ نظر آتا ہے۔

یہ درست ہے کہ اتھوپیا کیلئے نئی تبدیلی ناقابل یقین اور ناقابل برداشت ہے۔ لیکن سرحدی علاقوں میں معمولی فوج کشی کے علاوہ اُسے آگے بڑھنے کی جراءت نہیں ہو سکی ہے۔ اُمید کی جا سکتی ہے کہ اتھوپیا کی طالع آزمائی سے صومالیہ کے دوسرے خطے جلد ہی موغادیشو کی انتظامیہ کو بہ خوشی قبول کرلیں گے۔

امریکہ کے بحری بیڑے کی ارتعاش سے موغادیشو کے ایوانوں میں بھونچال نہیں آیا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ بین الاقوامی امور پر نگاہ رکھنے والے یہ بات بھانپ چکے ہیں کہ امریکہ کیلئے نیا محاذ کھولنا آسان نہیں ہے۔ اگر امریکہ کی ناعاقبت اندیش قیادت فوج کشی کا ارادہ کرتی ہے تو صومالیہ کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جسے وہ کھو کر پچھتائے۔ اگر صومالیہ کے مسلمان افغانستان میں اسلام کیلئے خون دے سکتے ہیں تو اپنے ملک میں وہ اسے بہ خوشی اسلام پر قربان کر دیں گے۔

حکمت عملی:

دُنیا کے کسی خطے میں اسلام آتا ہے تو سارے مسلمان اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ بہت سوں کی خواہش ہوتی ہے کہ اسلام کی چھاؤں میں زندگی گزاریں بھی اور لٹائیں بھی، لیکن بین الاقوامی صورتحال کبھی تو ہجرت کی متقاضی ہوتی ہے اور کبھی اپنی اپنی سرحدوں میں رہتے ہوئے اسلام کیلئے اپنی توانائیاں صرف کرنے کی متقاضی۔

اب تک امریکہ اس الزام کو ثابت نہیں کر سکا ہے کہ نئی تبدیلی میں غیر صومالی عناصر کا کوئی کردار ہے۔ متحدہ اسلامک کورٹس کی قیادت نے مسلمانوں سے ہجرت کی اپیل نہیں کی ہے، اس لئے غیر صومالی مسلمانوں کا وہاں سرگرم ہونا بجائے فائدے کے نقصان کا باعث ہوگا۔

اگر مسلم صومالیہ پر کفار امریکہ کی شہ پر حملہ آور ہوتے ہیں، یا امریکہ خود ایک مرتبہ پھر طالع آزمائی پر اتر آتا ہے تو صومالیہ کے مسلمانوں پر جہاد تو فرض ہوگا ہی جس کی نہ صرف بین الاقوامی قوانین میں صراحت ہے بلکہ انسان کی انسان کی فطرت بھی اپنے بچاؤ کی ہر تدبیر اختیار کرتی ہے اور اسلام چونکہ فطرت کی آواز ہے اس لیئے وہ ہر ایسے اقدام کو جہاد قرار دیتا ہے جو اپنے دفاع میں اسلامی شریعت کے تابع علماءکرام کی قیادت اور رہنمائی میں سرانجام دیا جائے، علاوہ اس کے اسلامی اخوت کے تحت مسلط کردہ جنگ کی صورت میں غذاءکی فراہمی طبی امداد اورمہاجر خاندانوں کی نگہداشت کیلئے مسلم اُمہ کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینا پڑے گا۔

متحدہ اسلامک کورٹس کے زیرانتظام شہروں میں مکمل امن ہے اور سرمایہ کاری کے وافر مواقع موجود ہیں۔ جب صومالیہ میں بدامنی تھی تو اس وقت بھی نجی ائیر لائن Daallo Air Line کے مالک نے کہا تھا کہ بعض دفعہ مرکزی حکومت کا نہ ہونا کاروبار کیلئے سودمند ہوتا ہے۔ مجھے اپنی ائیر لائن کیلئے کہیں رشوت نہیں دینا پڑتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت نہیں ہے!

غیر ملکی سرمایہ کاری پہلے بھی وہاں محفوظ تھی۔ وائرلیس فون اور Cellular کمپنیاں بہت کم چارجز پر بھی وہاں نفع کما رہی ہیں (ایک سینٹ فی منٹ) محدود طور پر ہندوستانی اور پاکستانی خاندان وہاں عرصہ دراز سے آباد ہیں۔ اس لئے صومالیہ کی بنیادی ضروریات کی بحالی کیلئے وہاں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ صومالیہ کے لوگ گلہ بانی میں کافی مہارت رکھتے ہیں، دودھ، گوشت اور ان کی مصنوعات کیلئے صومالیہ، سرمایہ کاری کے لئے ایک پرکشش جگہ ہو سکتا ہے۔

قحط زدہ علاقوں میں غذا اور علاج معالجے کی سخت ضرورت ہے۔ درس گاہوں میں کتب، کاغذ اور اسٹیشنری کی سخت قلت ہے۔

معالجین بھی آبادی کے لحاظ سے بہت کم پائے جاتے ہیں۔

گھانڈ، مکئی، مچھلی کی پیداوار اور سُرغو Sorghum (جوار کی ایک قسم) میں صومالیہ خودکفیل ہے۔ ذرا سی فنی مہارت سے اس پیداوار کو وافر پیدا کرکے برآمد کیا جا سکتا ہے۔

امداد فی سبیل اللہ کے علاوہ جہاز رانی، ماہی پروری، ائیر لائن، ٹیلی کمیونیکیشن، ڈیری کی مصنوعات، گوشت کی پیداوار اور انفراسٹرکچر کی بحالی کیلئے سرمایہ کاری کا میدان کھلا ہے۔

جس طرح حج کے دوران تجارت کرکے دوہرا فائدہ لینا ہمارے دین میں مباح ہے، اُسی طرح صومالیہ میں بنیادی ضروریات کی فراہمی میں سرمایہ کاری کرکے دوہرا اجر لیا جا سکتا ہے۔

صومالیہ میں اسلام کو جس طرح وہاں کے مسلمانوں نے تہہ دل سے قبول کرلیا ہے اُس نے ایک مرتبہ پھر ثابت کردیا ہے کہ مسلمان کی بے قراری اسلام کے سمندر میں غوطہ زن ہو کر ہی پرسکون ہوتی ہے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اضافی مطالعہ

مختصر تعارف اور تاریخ جدید

دارالحکومت: موغا دیشو نیز سب سے بڑا تجارتی مرکز، ہوائی اڈا اور بندرگاہ

آبادی: اسی لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ اعداد وشمار کے حصول میں دشواری کے اسباب: متعلقہ سرکاری محکموں کا نہ ہونا، نقل مکانی، اموات، خانہ جنگی، موسمی دشواریاں، شاہراہوں کی کمی

زبان: صومالی (سواحلی زبان کا ایک لہجہ) عربی، دفتری (سابق) اطالوی، انگریزی

ہوائی اڈے: (پختہ رن وے کے ساتھ Paved)

آٹھ اہم بندرگاہ: موغا دیشو، باربیرا (Berbera) اور کیسمایو (Chisimayo)

شاہراہیں، ریلوے: شاہرایں محدود ہیں، ریلوے نہیں ہے

سرحدی تنازعات:ا تھوپیا، کینیا

تبدیلی سے متاثر ہونے والے ممالک: سوڈان، اتھوپیا، کینیا، مصر، جبوتی

دریا: دو، اتھوپیا سے نکل کر جنوبی صومالیہ کے ساحل میں گر جاتے ہیں

آزادی: 1960ء کچھ علاقے برطانیہ سے اور کچھ اٹلی سے آزاد ہوئے۔ فرانس سے آزاد ہونے والا چھوٹا سا ملک جبوتی بھی صومالیہ کا حصہ رہا ہے۔ کچھ سرحدی علاقوں پر اتھوپیا اور کینیا کا آزادی کے وقت سے برطانیہ کی شہ پر قبضہ چلا آرہا ہے۔ استصواب رائے کے نتیجے میں عوام نے صومالیہ کے الحاق پر رائے دی۔ مگر کینیا نے برطانیہ کی مدد سے مظاہرین پر گولی چلا دی، ہزاروں لوگ مارے گئے، کینیا کی تاریخ میں یہ بدترین داغ ہے۔

اتھوپیا کے ساتھ بھی صومالیہ کی جنگ اپنے سرحدی علاقوں کو واگزار کرانے کیلئے ہو چکی ہے لیکن اشتراکی ممالک (سویت یونین) کی مداخلت کی وجہ سے صومالیہ کو اس حملے میں کامیابی نہیں ہو سکی تھی۔

متحدہ اسلامک کورٹس کے سربراہ شیخ شریف احمد نے تمام مغربی ممالک کے مبصرین کو امن عامہ کی صورت کا جائزہ لینے کی دعوت دی ہے۔ اس طرح وہ دُنیا پر ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ صومالیہ میں بین الاقوامی امن فورس کی بجائے ترقیاتی کاموں کی ضرورت ہے۔

اسلامک کورٹس کے زیر انتظام علاقے مکمل امن کا گہوارہ ہیں۔ موغادیشو کا ہوائی اڈا کھل چکا ہے۔

نجی ائیر لائنز کا کاروبار نفع بخش ہے Daallo Air Line پہلے سے کام کر رہی ہے۔

نجی ٹیلی کمیونی کیشن کمپنیاں: Netco، Telecom، Global، Somtel، Golis

حوالہ جات / مصادر

مجلہ العصر، الجزیرہ چینل، وکی پیڈیا، المسلم ویب سائیٹ، اسلام ٹوڈے ویب سائیٹ، ایمنسٹی انٹرنیشنل، بی بی سی، یونسیف، (سروے رپورٹ) CIA

(1) ARPTC (Allience for the Restoralion of Peace and Counter-Terrorism