احوال

تبصرہ وتعلیق

Download in PDF Format

امریکہ کی ’ڈیمو کریسی‘ اور طالبان کا ’لبرل ازم‘!

نواف قدیمی

میری سمجھ میں آسکتا ہے کہ کیوں سٹالین نے اپنے سرخ عقیدے کو پوری دُنیا پر مسلط کر دینے کیلئے کئی ملین انسانوں کا خون کیا تھا۔

میں یہ بات بھی سمجھ سکتا ہوں کہ ہوٹو اور ٹوٹسی قبیلوں میں خون آشام نسلی فسادات کے اندر ہزاروں لاکھوں انسانوں کی جانیں کیونکر چلی گئیں۔

میں ان وجوہات کا بھی کسی حد تک اندازہ کر سکتا ہوں جو طالبان کے ہاں پائے جانے والے ایک طرح کے دینی تشدد پرمحمول کئے جاتے ہیں۔

شاید امریکہ پر عالمی برادری کے سامنے اپنی اخلاقی بدصورتی دکھانے کی نوبت اس سے بڑھ کر کبھی نہیں آئی جتنی کہ ’بش کے امریکہ‘ پر آج آچکی ہے۔

امریکہ کی ’ڈیمو کریسی‘ کا اعتبار کرنا اب کچھ ایسے ہی ہے جیسے کوئی طالبان کے ’لبرل ازم‘ کو ثابت کرنے کی کوشش کرے!

لیبیا پر حصار ڈال دیا جاتا ہے جو پورے دس سال جاری رہتا ہے۔ تاآنکہ ’لوکربی‘ کے حادثہ کا شکار ہوجانے والے ہر امریکی سر کے بدلے بیس بیس ملین ڈالر کی خطیر رقم بمع دست ذلت امریکہ کو ادا کی جاتی ہے۔ البتہ افغانستان میں ایک عروسی قافلہ کے پچاس افراد کو بم سے اڑانے والی گرد میں یک لخت تحلیل کر دیا جاتا ہے تو اپنی اس ’چوک‘ کے کفارے کے طور پر، ہر متاثرہ خاندان کے ہاتھ پر سو سو ڈالر کے دو میلے کچیلے نوٹ دھر دیے جاتے ہیں.... کہ عالمی حقوق انسانی کے امریکی ایکسچینج ریٹ میں پسماندہ افغانی دیہاتیوں کے خون کی لگ بھگ یہی قیمت بنتی ہے!

عراق پر تیس سال پر مشتمل اپنے اقتدار کے دوران چند ہزار انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دینے والے ایک جابر حکمران سے اس کی قوم کو نجات دینے اور تیل کے کنوؤں پر بیٹھی اس قوم کو آزادی کی نیلم پری کا تحفہ دینے گئی فوج ایک ایسی جگہ جنگ چھیڑ دیتی ہے جس میں صرف تین سال کے عرصے میں ہی ایک لاکھ انسان لقمہء اجل بن جاتے ہیں!

اس جابر حکمران پر دجیل میں اپنے اوپر قاتلانہ حملے کی کوشش میں ملوث 148 اشخاص کو سزائے موت دینے کے الزام کے تحت امریکی ’عدالت‘ اس کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے پر عالمی برادری سے داد چاہتی ہے۔ البتہ یہی امریکی ضمیر فلوجہ کے اندر کچھ ایسے ’دہشت گردوں‘ کی تلاش میں جو بیرونی حملہ آوروں کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں جبکہ وہ بیرونی حملہ آور خود اقوام متحدہ کی تعریف کی رو سے بھی ’قابض‘ ہی شمار ہوتے ہیں.... ان دہشت گردوں کی تلاش میں فلوجہ کے اندر تین ہزار بے گناہوں کو مار کر ختم کر دیتا ہے اور ساتھ یہ یقین دہانی کرانا بھی ضروری سمجھتا ہے کہ یہ ’عمداً‘ نہیں ہوا، مارنا دراصل کچھ اور لوگوں کو تھا!

عین اسی زمانے میں جب گوانٹانامو کے اندر سینکڑوں انسانوں کو کسی قاعدے قانون کے بغیر حیوانوں کی طرح قید رکھا جاتا ہے اور مشرقی یورپ میں بھی کچھ ایسی ہی ماورائے قانون خفیہ جیلیں رکھی جاتی ہیں.... عین اسی زمانے میں اس ملک سے جاری ہونے والی سالانہ حقوق انسانی رپورٹ کے اندر یہ بات البتہ نظر انداز نہیں ہونے دی جاتی کہ دُنیا کے کچھ ملکوں میں عورت کو ’ڈرائیونگ“ کا حق تک نہیں دیا جاتا!

دُنیا میں جو بھی کرنا ہو اس کیلئے اخلاقی جواز حاصل کرنے کی ضرورت مندی خوامخواہ کی مجبوری اور لاچاری ہے۔ وسیع تباہی کے ہتھیار پائے جانے کی کسی ملک میں اگر نشاندہی ہو گئی ہے تو اس پر قبضہ کئے یا اس کو تباہ کردیئے بغیر اب آخر کس طرح پتہ چلے گا کہ خبر صحیح تھی یا غلط!؟ کہیں پر کچھ دہشت گردوں کے پائے جانے کی اگر اطلاع ملی ہے تو اس پورے گاؤں کو بم سے ملیامیٹ کر دینے کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے کہ رپورٹ کی نوعیت کیا تھی! وہاں لقمہء اجل ہو جانے والے بیسیوں بدقسمتوں میں اگر ایک بھی دہشت گرد نہ پایا جائے تب یہ ضرور تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ موصول ہونے والی رپورٹ کچھ بہت ’دقیق‘ نہیں تھی!

ایسی بے شمار مثالیں روز سامنے آتی ہیں جن سے ڈیمو کریسی اور آزادی اور حقوق انسانی کے اصول ’نمایاں‘ ہوتے ہیں!

مگر ان سب باتوں کے باوجود میں ان امریکی رویوں کو سمجھنے کی پھر بھی کچھ نہ کچھ کوشش کر سکتا ہوں۔ صرف ایک بات البتہ ایسی ہے جو میرا خیال ہے مجھے کبھی سمجھ آنے والی نہیں.... اور وہ یہ کہ امریکی دانشور جب کہیں لیکچر دیتے ہوئے یا میز پر بیٹھا کافی کی سرکیاں لیتے ہوئے انتہائی معصومیت سے پوچھ رہا ہوتا ہے: ہمارے خلاف اس بڑھتی ہوئی نفرت کے پائے جانے کا آخر کوئی سبب تو ہو!!!

٭٭٭٭٭٭٭٭